بزم رأفت - انجمن شعر و ادب اردو زبان
جامعـه المصطفی(ص) العالمیه واحد مشهد مقدس
قالب وبلاگ

غدیر کی اہمیت و عظمت

مقالہ نگار:سید محمد حسن رضوی(الہ آبادی)  

حجة الوداع

                پیغمبر اسلامۖ نے  ١٠ ھ میں لوگوں کے درمیان یہ اعلان کرایا کہ سب لوگ حج بیت اللہ کی زیارت کے لئے آمادہ ہوجائیں۔لوگوں کی ایک بڑی جماعت گروہ در گروہ مدینہ پہنچ گئی۔ حضورۖ اکرم بھی اس میں شامل ہوگئے۔رسولۖ خدا نے نہ تو اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کوئی حج انجام نہیں دیاہے،یعنی یہ آپ کا پہلا اور آخری حج تھا اور اس حج کو تاریخ میں:''حجة الوداع''،''حجة الاسلام''،''حجة البلاغ''، ''حجة الکمال'' اور''حجة التمام'' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بعض تواریخ کے مطابق سر کار دو عالمۖ نے سنیچر کے دن ٢٣ یا ٢٤ ذیقعدہ کو احرام کے دو ٹکڑوں کو زیب تن فرمایا اور احرام باندھنے کے لئے مدینہ کے نزدیک ،''مسجد شجرہ'' تک آئے، پھر مدینہ سے پا پیادہ باہر آئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ اللہ کے گھر کی زیارت کی غرض سے چل پڑے اور اس سفر میں مہاجرین و انصار کے علاوہ دیگر علاقہ کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔

بعض کتب میں ملتا ہے کہ اس زمانہ میں ٹائیفائڈ اور چیچک وغیرہ کی بیمار ی پھیلی ہوئی تھی،اسی وجہ سے بہت سے لوگ اس قافلہ میں شریک نہیں تھے۔لیکن اس کے باوجود ایک بڑی جماعت پیغمبرۖ اکرم کے ساتھ حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہوگئی،جس کی تعداد کے بارے میں علمائے تاریخ کے نزدیک اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ ٩٠ہزار یا ایک لاکھ چوبیس ہزار یا اس سے زیادہ کی تعداد میں مسلمان پیغمبرۖ اکرم کے ہمراہ اس سفر کیلئے روانہ ہوئے،جس کی صحیح تعداد سے خدا ہی واقف ہے۔لیکن آپ کے ساتھ حج کو انجام دینے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔اس لئے کہ خود مدینہ سے ٨٠ ہزار افراد نے موسم حج میں شرکت کی تھی۔(منزلت غدیر٢٠) مکہ اور یمن کے لوگ ،جو ابو موسیٰ اور حضرت علی  کی سر براہی میں آئے تھے سارے مسلمان سرکار دوعالمۖ سے جاملے۔ چنانچہ آپ صبح کے وقت''یلملم''پہنچے،جہاں سے احکام اسلام کے مطابق یمن والے احرام باندھتے ہیں ۔

سرکار دوعالمۖ غروب کے وقت''شرف الیبالہ''میں تھے،لہٰذا مغربین کی نماز وہیں پڑھی۔دوسرے دن صبح کی نماز''عرق ظبید''میں پڑھی اس کے بعد''روحائ''نامی مقام پر پڑاؤ ڈالا۔پھر وہاں سے کوچ کرکے نماز عصر''منصرف''میں اور مغربین''متعشیٰ''میں بجا لائے اور وہیں رات میں کھانا کھا کر آرام کیا اور پھر دوسرے دن صبح کی نماز کو''اثابہ''میں ادا کی،یہاں تک کہ اگلے دن بروز سہ شنبہ کو''عرج''نامی مقام پر پہنچے۔اس کے بعد''الحی الحمل''نامی مقام پر حجامت کروائی اور مقام''سقیا''پر قیام کیا۔

اگلے دن یعنی پنجشنبہ کو صبح کی نماز ''ابوائ'' نامی مقام پر بجا لائے۔یہی وہ مقام ہے، جہاں آپ کی والدۂ ماجدہ حضرت آمنہ کی قبر ہے الغرض وہاں سے جمعہ کے دن ''جحفہ'' اور وہاں سے'''قریہ'' پہنچے اور شنبہ کو وہاں پر قیام فرمایا یکشنبہ کو''عسفان'' پہنچے اور''غمیم''کی طرف کوچ کرگئے۔

واضح رہے کہ یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں لوگوں نے شکایت کی کہ یا رسول ۖاللہ!ہم تھک گئے ہیں۔پیغمبرۖ نے فرمایا:دوڑنے کا سہارا لو،جب لوگوں نے ایسا کیا تو تھکن بالکل کافور ہوگئی اور تمام لوگوں میں دوبارہ تازگی آگئی۔آخر کار اللہ کے رسول بروز سہ شنبہ مکہ میں وارد ہوئے اور اعمال حج انجام دیئے اور حج پورا کرنے کے بعد مدینہ سے لوٹتے ہوئے، تمام مسلمانوں اور حجاج کے ساتھ ١٨ذی الحجہ کو مقام''جحفہ'' پر پہنچے، جہاں سے مدینہ، مصر وعراق اور دیگر ممالک کے راستے جد اہوتے تھے۔

 اسی مقام پر جبرئیل امین ،اللہ کے پیغام کو لے کر نازل ہوئے اور پیغام خدائے عزوجل کو آیت کی صورت میں پہنچایا:

''یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ ِنَّ اﷲَ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ''

اے رسولۖ وہ پیغام پہنچا دو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوچکا ہے اور اگر آپ نے یہ کام نہیں کیا تو گویا رسالت ہی انجام نہیں دیا۔ تمہارا خدا تمہیں لوگوں کے شر سے بچائے گا۔بیشک خدا کافروں کی ہدایت نہیں کرتا۔

وا ضح رہے کہ یہ آیت حضرت علی کی شا ن میں نا زل ہو ئی ہے اور وا قعہ غدیر سے متعلق ہے ۔جن صحا بہ کرام سے یہ روایت نقل کی گئی ہے ان میں زید بن ارقم ،ابو سعید حذری،ابن عبا س جا بر ابن عبدا للہ انصا ری ، ابو ہریرہ اور برا ء بن عا زب شا مل ہیں ۔

(١)  فخر را زی نے اپنی تفسیر ج١٢ص٤٢میں ابن عبا س ، برا ء بن عا زب اور اما م محمد با قر سے روا یت کو نقل کیا ہے ۔

(٢)ابن کثیر دمشقی روا یت کرتے ہیں۔ (بدا یہ و نھا یہ ابن کثیر ج٥ص١٨٣،١٨٩)

(٣) شیخ محمد عبدہ اپنی تفسیر میں آیت بلا غ کے ذیل میں ابی سعید حذری سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت غدیر خم کے دن علی ابن ابی طالب کی شا ن میں نا زل ہو ئی ہے وہ مسند احمد سے برا ء بن عا زب و برید سے اس طرح تر مذی و نسا ئی و ضیا ء کے ذریعہ زید بن ارقم سے اور ابن ما جہ کے ذریعہ برا ء سے نقل کرتے ہیں کہ حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ رسو ل خدا نے ارشا د فر ما ئی تھی ،اس حدیث میں اللھم وا ل من والاہ و عاد من عاد اہ کا بھی ذکر ہے ۔ (تفسیر المنا ر ج٦ص٤٦٣،٤٦٥)

(٤) علا مہ سیو طی الد رالمنثو ر میں آیت شریفہ ابلا غ کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ ابو سعید حذری نے کہا یہ آیت حضرت علی کی شا ن میں غدیر خم میں نا زل ہو ئی ، ابن مر دو یہ ابن مسعو د سے نقل کرتے ہیں کہ انھو ں نے کہا کہ ہم رسو ل خدا کے زما نہ میں اس آیت کو یو ں پڑھتے تھے یا یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ(تفسیر در المنثور ج٢ ص٢٩٨)

پھر جبرئیل نے کہا :اے اللہ کے رسول خدا کا فرمان ہے کہ علی  کا تعارف امام اورولی کے عنوان سے کرائیں اور اعلان کردیں کہ علی  کی اطاعت تمام لوگوں پر واجب ہے اور پھر اس کے فوراً بعد پیغمبرۖ اکرم نے اعلان کیا کہ جو آگے بڑھ گئے ہیں وہ پیچھے آجائیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کا انتظار کیا جائے۔ اس طرح سے پیغمبرۖ کے حکم سے مجمع ایک جگہ پر جمع ہوگیا،جس کو غدیر خم کے نام سے جانا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ جہاں پیغمبرۖ نے مجمع کو روکنے کا حکم دیا تھا، وہاں ایک تالاب تھا،جس کو عربی میں''غدیر''کہتے ہیں اور اس کے صحیح محل وقوع میں تاریخ وحدیث کی زبان میں خم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔(معجم البلدان،ج٢،ص٣٨٩)

رسولۖ اکر م نے اونٹوں کے کجاوؤں کا منبر تیار کیا اور جب یہ سارا انتظام مکمل ہوچکا ،یہاں تک کہ ظہر کا وقت آپہنچا تو بلال نے اذان کہی اور سرکار ختمی مرتبتۖ اپنی جا نماز کی طرف بڑھے، اپنا مصلیٰ درست کرکے نماز شروع کردی اور ختم نماز کے بعد حبیب الٰہی نے حیرت سے مجمع کی طرف نگاہ کی اور اس کے بعد ایک انوکھے اور تاریخی منبر کی طرف رخ کرنے سے پہلے یادگار انبیاء صحف آدم ونوح وابراہیم علی نبینا وعلیہم السلام، تورات،انجیل ، اعصائے موسیٰ وانگشتر سلیمان علی نبینا اورباقی تمام انبیاء کی میراث، جس کے محافظ سرکار دوعالمۖ۔حضورۖ نے علی  کو بلایا اور انبیائے ماسبق کی میراث کو علی  کے سپرد کیا جو آپ کے بعد گیارہ ائمہ  تک منتقل ہوتی رہی۔گویا پیغمبرۖ اکرم مجمع کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انبیائے کی میراث اس کے وصی کو ہی ملتی ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملتی ۔

اب میرا ایک سوال ان لوگوں سے ہے جو غدیر کے بعد حضرت علی  کی خلافت کے منکر ہوگئے،آیا وہ لوگ مسئلہ میراث سے واقف نہیں تھے؟اگر وہ میراث کے رموز اور شرائط سے واقف تھے تو پھر علی  کی خلافت میں انکار کیسا؟کیا انہوں نے گذشتہ انبیاء کی میراث کو مد نظر نہ رکھا کہ میراث انبیاء میں جہاں ساری چیزیں، اس کے وصی کو ملتی ہیں وہیں جانشینی بھی ملتی ہے ۔پس اگر لوگ علی  کی ولایت وخلافت کے منکر ہوگئے گویا وہ لوگ انبیاء کے بھی منکر ہوگئے اس لئے کہ جہاں پر وصی کو انبیاء نے جس میراث سے نوازا ہے،اس میں مسئلہ خلافت بھی ہے یعنی میرے بعد تم ہی وصی ہوگے۔لہٰذا اگر ایک علی  میں سارے انبیاء کی وراثت منتقل ہوجائے تو بدرجہ اولیٰ خلافت کے حقدار حضرت علی  ہی قرار پائیں گے اس لئے کہ ہر نبی کو اللہ نے اس کے زمانہ میں معجزہ دے کر بھیجا اور کتابیں دیں،نیز اس نبی کے ایک وصی کا انتظام کیا،جو تبلیغ دین میں نبی کی مدد کرے پس علی  وہ ہیں ،جن کو پیغمبرۖ اکرم نے صحفِ آدم و نوح وابراہیم اور آسمانی کتابوںسے نوازا ۔

 حضرت سلیمان کی انگوٹھی اور انبیاء کی میراث کے مطابق خلافت ووصایت سے نوازا تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے،جو لوگ علی  کی بلا فصل خلافت کے قائل نہیں ہیں،ان کا جواب یوم غدیر پیغمبرۖ اکرم کا یہ جملہ دے رہا ہے۔''من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ''حضرت علی  کی خلافت بلا فصل ہے۔

اس قول پر دلیل یہ ہے کہ پیغمبرۖ اکرم کے اس جملہ میں جو حرف''ف'' موجود ہے وہ عربی ادب کے قواعد کے مطابق ترتیب اور فوراً بعد کے لئے آتا ہے۔ایسی صورت میں اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ میں جس کا مولا ہوں،پس بلا فاصلہ علی  اس کے مولا ہیں۔لیکن اگر(ف)کی جگہ پر ثم کو پیغمبرۖ اکرم اپنے جملہ میں لائے ہوتے یعنی''من کنت مولاہ ثم ھذا علی مولاہ'' اس جملہ کا انداز یہ بتا رہا ہے کہ میں جس کا مولا ہوں علی  اس کے مولا ہیں چاہے جب بھی ہوں۔ پس اس خلافت میں فاصلہ ہے اس لئے کہ حرف ثم ترتیب اور مہلت کے لئے استعمال ہوتا ہے، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ علی  کی خلافت بلا فصل ہے اور قابل غور بات یہ ہے کہ ہمارے عقیدہ کے مطابق حدیث''من کنت مولاہ فعلی مولاہ ''لفظ مولا سے مراد علی  کی امامت ورہبری و خلافت ہے۔ اہل سنت علماء نے لکھا ہے کہ چونکہ مولا کے مختلف معنی ہیںلہٰذا اس حدیث میں مولا حکومت، ولایت اور رہبری کے معنی میں نہیں آیا ہے بلکہ دوست اور ناصر کے معنی میں آیا ہے۔

ابن صباغ لکھتے ہیں :''من کنت ناصرہ او حمیمہ وصدیقہ فان علیاً یکون کذالک''جس کا میں ناصر، رشتہ دار اور دوست ہوں اس کا علی بھی ناصر ودوست،رشتہ دار ہے۔(الفصول المھمہ،ص٤٣)

کیا حدیث کا اس طرح معنی کرنا درست ہے؟

اہلسنت کے مشہور عالم نے اس موضوع کے ساتھ انصاف سے کام لیا ہے۔وہ'' الست اولیٰ بالمومنین من انفسھم''کے قرینہ کو مد نظر رکھتے ہوئے حدیث غدیر میں موجود کلمہ مولا کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :''ھذا نص صریح فی اثبات امامتہ وقبول طاعتہ''علی  کی امامت کے اثبات اور قبول اطاعت کے لئے یہ نص صریح ہے۔(تذکرة الخواص ابن جوزی حنفی،ص٢٠)

درج بالا مقدمہ کو مد نظر رکھتے ہوئے حدیث غدیر میں موجود لفظ مولا سے جو پیغمبر اکرمۖ کی مراد ہے وہ پوری طرح واضح ہے ۔

اور اس سلسلہ میں دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت علی  سے تمام مومنین کی دوستی کوئی مخفی اور پیچیدہ چیز نہ تھی کہ جس کے لئے اس قدر تاکید اور بیان کی ضرورت ہوتی،اور اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس بے آب وگیاہ اور جلتے ہوئے بیابات میں اس عظیم قافلہ کو دوپہر کی دھوپ میں روک کر ایک طویل ومفصل خطبہ دیا جائے اور سب لوگوں سے اسی دوستی کا اقرار لیا جائے۔جبکہ قرآن مجید نے پہلے ہی وضاحت کے ساتھ یہ اعلان فرما دیاہے :'' ِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ ِخْوَة''(حجرات١٠)ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:''وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ َوْلِیَائُ بَعْضٍ''(توبہ٧١)

خلاصہ یہ کہ اسلامی اخوت اور مسلمانوں کی ایک دوسرے سے دوستی اسلام کے سب سے واضح مسائل میں سے ہے جو پیغمبر اکرمۖ کے زمانہ سے چلی آرہی ہے،اور خود آنحضرتۖ نے ا س بات کو بارہا فرمایا ہے اور اس مسئلہ میں تاکید فرمائی ہے ،اور یہ کوئی ایسا مسئلہ نہ تھا جس سے آیت کا لب ولہجہ اس قدر شدید ہوجاتا،اور پیغمبر اکرمۖ اس راز کے فاش ہونے سے کوئی خطرہ محسوس کرتے(غور کیجئے)

تیسری دلیل یہ ہے کہ خدا وند عالم قرآن مجید میں تاکید کے ساتھ فرماتا ہے :''اگر اس امر کو لوگوں تک نہ پہنچایا تو گویا کار رسالت انجام نہیں دیا۔''یہ تاکید ولہجہ ثابت کرتا ہے کہ آیت کسی فرعی اور جزئی حکم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ مسئلہ بہت اہم ہے یعنی رسول خداۖ کی جانشینی اور خلافت کا مسئلہ درپیش ہے لہٰذا مولا کے معنی یہاں صاحب اختیار اور امیرامام ہے تاکہ سارے مسلمان اس بات سے آگاہ ہوجائیں کہ بعد از پیغمبر اسلامۖ جانشین کون ہے۔جانشین کے تعین کا حکم اگر چہ کافی پہلے حضور اکرمۖ پر نازل ہوچکا تھا مگر اس کے ابلاغ کا دقیق وقت معین نہ ہوا تھا، چونکہ بعض نئے مسلمانوں کے کچھ کافر رشتہ دار حضرت علی  کے ہاتھوں جنگوں میں فی النار ہوگئے تھے اسی بناء پر حضور اکرمۖ کو علی  کی امامت کے اعلان پر کسی شدید رد عمل کا خدشہ تھااسی لئے خداوند عالم نے فرمایا:''وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ'' خدا تمہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ 

چوتھی دلیل رسول خداۖ نے حدیث''من کنت مولاہ''سے پہلے فرمایا:''الست اولیٰ بالمومنین من انفسھم'' کیا میں تم پر تمہارے نفسوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں سب نے حضور اکرمۖ کی تصدیق کی اس کے بعد حضورۖ نے فرمایا:''من کنت مولاہ فعلی مولاہ''  پہلے جملہ سے یہ قرینہ ملتا ہے کہ یہاں پر مولا کے معنی صاحب اختیار ہیں۔

پانچویں دلیل رسول خدا ۖنے جب حضرت علی  کی ولایت کا اعلان فرمایا تو اس کے بعد مسلمانوں نے کہا:''سلموا علیہ بامرہ المومنین''۔(بحار الانوار،ج٣٧،ص١٤١۔تفسیر قمی،ج١،ص٢٧٧)

اگر حضورۖ مولا سے مراد دوست لیتے تو فرماتے کہ علی  کو بعنوان اظہار دوستی سلام کرو،اسی طرح حضرت ابو بکر اور عمر کا یہ قول''اصبحت مولای ومولا کل مومن ومومنہ''  حضرت علی کی ولایت وامامت پر دلالت کرتا ہے۔

چھٹی دلیل امامت علی  کے ابلاغ کے بعد رسول خداۖ نے دست دعا بلند کرکے فرمایا:اللھم وال من والاہ وعاد من عاداہ۔

ساتویں دلیل مولا کے جتنے بھی معنی بیان ہوئے ہیں ان میں اولیٰ بالتصرف اور صاحب اختیار حقیقی معنی میں ہیںباقی سب مجازی ہیںجوکہ قرینہ کے محتاج ہیں۔یہ بات واضح ہے کہ حقیقی معنی ہمیشہ مجازی معنی پر مقدم ہوتا ہے۔لہٰذا حدیث غدیر میں لفظ'' مولا'' صاحب اختیار اور اولیٰ بالتصرف کے لئے آیا ہے۔

آٹھویں دلیل حسان ابن ثابت نے غدیر خم میں پیغمبر ۖخداکے سامنے جو قصیدہ پڑھا اس میں حضرت علی  کو بعنوان امام ورہبر تعارف کرایا گیا ہے۔تو اگر یہ معنی مراد نہ ہوتے تو رسول ۖخدا اسے منع فرمادیتے۔علاوہ از این عرب کے شعراء نے''من کنت مولاہ'' میں جو مولا آیا ہے اسے امامت وولایت اور حکومت کے طور پر اپنے اشعار میں پیش کیا ہے نہ کہ دوست و مددگار کے معنی میں۔

حضرت علی  کے بارے میں حضرت محمدۖ کی دیگر احادیث بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ مولا بمعنی صاحب اختیار اور رہبر کے ہیں۔ 

                ''علی منی وانا منہ''علی  مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔''علی مع الحق والحق معہ''علی  حق کے ساتھ ہیں اور حق علی  کے ساتھ ہے۔''علی مع القرآن والقرآن معہ''علی  قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی  کے ساتھ ہے۔''انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی''میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوںکتاب خدا اور عترت،اہلبیت ۔

نویں دلیل لوگ اس حدیث غدیر سے امامت ورہبری ہی سمجھے نہ کہ دوستی اور نصرت۔لہٰذا جب غدیر خم کا واقعہ دوسرے شہروں میں پہنچا تو نعمان بن حارث فہری یہ واقعہ سن کر یہی سمجھا کہ رسول ۖ خدا نے علی  کو اپنا جانشین منسوب کردیا ہے لہٰذا وہ فوراً مدینہ آیا اور اس نے نبی اکرمۖ سے کہا:''آپ نے ہمیںوحدانیت خدا کا حکم دیا ہم نے آپ کی تصدیق کی ،آپ نے اپنی رسالت کا حکم دیا ہم نے اس کی تصدیق کی،آپ نے نماز ،روزہ،حج ،جہاد اور زکوٰة کا حکم دیا ہم نے سب قبول کرلیا۔آپ اس کے باوجود راضی نہ ہوئے اور اس(حضرت علی  کی طرف اشارہ کیا)کو اپنا جانشین منسوب کردیا۔کیا یہ حکم آپ نے خدا کی جانب سے دیا ہے یا اپنی طرف سے دیا ہے۔رسولۖ نے فرمایا:اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے یہ حکم خدا کی طرف سے ہے۔نعمان نے کہا:''اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارة من السمائ''خداوند عالم اگر یہ بات سچ ہے تو آسمان سے مجھ پر پتھر گرادے۔وہ یہ بات کہہ کر ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ ناگہاں آسمان سے اس پر ایک پتھر گرا اور وہ ہلاک ہوگیا۔اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی''سأل سائل بعذاب واقع للکافرین لیس لہ دافع''(معارج١)''ایک سوال کرنے والے نے خدا سے اپنے عذاب کا سوال کیاجو کافروں کے لئے واقع ہوتا رہتا ہے اور اس کو دفع کرنے والا کوئی نہیں ہوسکتا ۔

لہٰذاان تمام اعترافات کے بعد ولایت علی  کا انکار در اصل اسلام اور قرآن کا انکار ہے اور عالم اسلام مساجد میں اس کا اعلان کرے یا نہ کرے منزل ایمان میں اس کا اقرار کرنا اسلام وایمان کا فرض ہے۔ جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

پھر آپۖ نے فرمایا:''ایھا الناس اجیبو داعی الی اللّٰہ انا رسول''

''اے لوگوں خدا وند عالم کی طرف دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرو میں اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں۔''کہہ کر آپۖ نے حمد وثنائے پروردگار کی اور ایک فصیح وبلیغ خطبہ ارشاد فرمایا اور پھر مولائے متقیان کو بلند کرنے کے بعد فرمایا:''ان اللّٰہ مولای وانا مولیٰ المومنین و انا اولیٰ بھم من انفسھم فمن کنت مولاہ فھذا علی مولاہ''۔

''بیشک خدا میرا مولا ہے اور میں مومنین کا مولا ہوںاور میں ان کے نفسوں پر ان سے زیادہ اولیٰ ہوں۔پس میں جس کا مولا ہوں اس کے یہ علی  مولا ہیں۔''

واضح رہے کہ تاریخ نگار کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمۖ نے اس جملہ کو تین بار دہرایا ہے اور پھر حضور نے اپنا خاص عمامہ حضرت سرکار ولایت مآب علی ابن ابی طالب علیہم السلام کے سر پر باندھا اور ارشاد فرمایا:''یا علی العمامة تیجان العرب''''اے علی  عمامہ عرب کا تاج ہے۔''اسی وجہ سے نور الابصار کے مصنف علامہ شیخ محمد شبلنجی تحریر کرتے ہیں کہ حضور اکرمۖ کا ایک لقب تاج ولایت بھی تھا اور اس کی توضیح کرتے ہوئے مصنف مذکور لکھتے ہیں کہ تاج سے مراد عمامہ ہے کیونکہ اس کی سند حضرت رسول خداۖ کی حدیث سے ملتی ہے کہ حضور ۖ نے جو عمامہ حضرت علی کے سر پر لگایا تھا اس کا نام ''سحاب'' تھا۔(نور الابصار،ص٣٠ مطبوعہ بیروت١٩٧٨ئ)

تاج گذاری کے بعد آنحضرتۖ نے فرمایا:''اے علی  ذرا پیچھے تو مڑو''علی  نے رسول اکرمۖ کے حکم کی تعمیل کی پھر ارشاد ہوا:''اب میری طرف رخ کرلو''امامت کے چاند نے اپنا چہرہ آفتاب رسالت کی طرف موڑ لیا۔رسول اکرمۖ  نے محبت بھرے انداز میں علی  کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور پھر حضورۖنے خلوص سے سجے ہوئے لہجے میں فرمایا:''ھکذا تکون تیجان الملائکة''ملائکہ کے تاج بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔(کنز العمال،علی متقی ہندی، ج١٥، ص٤٨٣، ح٤١٩١٣، طبع بیروت)

لوگوں کے متفرق ہونے سے پہلے جبرئیل امین نے خدا کے پیغام کو حضورۖ کی خدمت میں پیش کردیا:

''الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی''

 ''آج میں نے تمہارے دین کو کامل کردیا اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کردیا۔''(مائدہ٣)

اس کے بعد لوگوں نے امیر المومنین حضرت علی  کو مبارکباد پیش کی۔ ابو بکر وعمر،ان پہلے صحابہ میں سے تھے،جنہوں نے حضرت علی  کو ان الفاظ میں مبارکباد پیش کی:''بخ ٍ بخ ٍ لک یابن ابی طالب اصبحت وامسیت مولای ومولا کل مومن ومومنةٍ''''مبارک ہو مبارک ہو اے فرزند ابو طالب آپ نے ایسی حالت میں صبح وشام کی کہ میرے اور تمام مومنین ومومنات کے مولا ہوگئے۔''

(الغدیر،ج١،ص١٠۔تفسیرمجمع البیان،ج٣،ص٢٢٣۔تفسیرالمنار،ج٦،ص٤٦٣۔تفسیردر المنثور،ج٢،ص٢٩٨ ۔تفسیرفخررازی،ج١٢،ص٤٢۔مستدرک حاکم،ج٣،ص١١٨۔الفصول المھمہ،ص٤٠ـ٤٣۔سیرۂ حلبی،ج٣،ص٣٣٦ ۔مناقب ابن مغازلی،ص١٦ـ١٧۔بدایةونہایةابن کثیر،ج٥،ص١٨٤۔ارشادمفید،ج١،ص١٧٥۔بحارالانوار، ج٣٧، ص١٨٤۔الفصول المأہ،ج٢،فصل٢٧۔)

آخر میں حافظ عبد اللہ مر زبانی(متوفی٣٧٨)مرقات الشعر میں صحابی رسول ابو سعید خدری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب سرکار دوعالم ولی عہدی کا اعلان فرما چکے تو حسان ابن ثابت نے عرض کی کہ''اے خدا کے رسول ۖمیں علی  کی مدح میں چند شعر پیش کرنا چاہتا ہوں ''نبی کریمۖ نے فرمایا:''ہاں! پڑھو اجازت ہے''حسان نے شعر سنانا شروع کردیا مطلع تھا:

ینادیھم یوم الغدیر نبیھم

بخم واسمع بالرسول منادیا

شاعر دربار رسالت کی یہ برفی البدیہ نظم٣٨ مستند اور معتبر علمی ذرائع سے ہم تک پہنچی ہے اور آخر میں حسان ابن ثابت کہتے ہیں:

فقال لہ قم یا علی فاننی

 رضیتک من بعدی اماما وھادیا

فمن کنت مولاہ فھذا ولیہ

فکونوالہ انصار صدق موالیا 

ترجمہ:پھر رسول ۖ مقبول نے فرمایا:اے علی ! اٹھو میں نے اپنے بعد کے زمانہ کے لئے تمہیں امت کا امام اور ملت کا راہنما بنایا ہے۔لہٰذا جس کا میں حاکم ہوں یہ علی  بھی اس کا فرمان روا ہے۔لوگو!تم سب علی  کے سچے حامی اور تابع دار رہنا۔(کفایة الطالب محمد بن یوسف کنجی الشافعی،١٧) اور پھر آخر میں رسول خداۖ نے حسان کے حق میں دعا فرمائی کہ جب تک تم اپنی زبان سے ہماری مدح کرتے رہوگے روح القدس تمہاری مدد کرتے رہیں گے۔(ارشاد مفید،ج١،ص١٧٧۔فرائد السبطین،ج١، ص٧٣،ح٣٩٩۔امالی الصدوق مجلس٨٤،ج٣)۔

غدیر کے دن متعدد واقعات کا رونما ہونا

سال کے دنوں میں سے جو بھی دن غدیر سے مقارن ہوا اس دن عالم خلقت اور عالم تکوین وکائنات میں متعدد واقعات رونما ہوئے،جس طرح انبیاء  نے بھی اس دن اپنے اہم پروگرام انجام دیئے ہیں یہ اس اہمیت کے مد نظر ہے جو حضرت امیر المومنین  نے اس دن کو بخشی ہے اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تاریخ عالم میں اس سے اہم کوئی واقعہ رونما نہیں ہواہے جس وجہ سے یہ کوشش کی گئی ہے کہ تمام واقعات اس سے مقارن ہوں اور اس مبارک دن میں برکت طلب کی جائے۔

انبیاء علیہم السلام کی تاریخ کے حساس ایام

(١)غدیر وہ دن ہے جس دن حضرت آدم  کی توبہ قبول ہوئی ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢١٢)

(٢)غدیر حضرت آدم کے فرزند اور ان کے وصی حضرت شیث کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢٠٩)

(٣)غدیر حضرت ابراھیم  کے لئے آتش نمرودکے گلزار بننے کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢١٢۔٢٢٢)

(٤)غدیر وہ دن ہے جس دن حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون کو اپنا جانشین معین فرمایا۔ (عوالم،ج١٥٣،ص٢١٣)

(٥)غدیر حضرت ادریس  کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢٠٩)

(٦)غدیر حضرت موسیٰ کے وصی حضرت یوشع بن نون کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢١٢)

(٧)غدیر حضرت عیسیٰ کے وصی شمعون کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢٠٩۔٢١٣) 

مندرجہ بالا بعض موارد میں کچھ ایام مبھم طور پر ذکر ہوئے ہیں اور اس دن کے واقعات بیان نہیں کئے گئے ہیں یہ حدیث کے پیش نظر ہے اور اس سے مراد احتمالاً ان کا مبعوث با رسالت ہونا ہے یا ان کے وصی و جانشین منسوب ہونے کا دن ہے۔اہلبیت کی ولایت کا مقام مخلوقات کے سامنے پیش کرنا جس طرح غدیر کے دن''ولایت''تمام انسانوں کے لئے پیش کی گئی اسی طرح عالم خلقت میں تمام مخلوقات پر بھی پیش کی گئی ہے۔حضرت امام رضا  ایک حدیث میں غدیر کے روز ان امور کے واقع ہونے کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:ولایت کا اہل آسمان کے لئے پیش ہونا،ساتویں آسمان والوں کا اسے قبول کرنے میں سبقت کرنا اور اس کے ذریعہ عرش الٰہی کا مزین ہونا۔ ساتویں والوں کے بعد چوتھے آسمان والوں کا ولایت قبول کرنا اور اس کا بیت مامور سے سجایا جانا۔چوتھے آسمان کے بعد پہلے آسمان والوں کا ولایت قبول کرنا اور اس کا ستاروں سے سجایا جانا۔زمین کے بقعوں پر ولایت کا پیش کیا جانا اس کو قبول کرنے کے لئے مکہ کا سبقت کرنا اور اس کو کعبہ سے زینت دینا۔ مکہ کے بعد مدینہ کا ولایت قبول کرنا اور اس(مدینہ) کو پیغمبرۖ اکرم سے مزین کرنا۔ مدینہ کے بعد کوفہ کا ولایت قبول کرنا اور اس کو امیر المومنین  کے وجود مبارک سے مزین کرنا۔پہاڑوں پر ولایت پیش کرنا، سب سے پہلے تین پہاڑ:عقیق ، فیروزہ اور یاقوت کا ولایت قبول کرنا،اسی لئے یہ تمام جواہرات سے افضل ہیں،عقیق، فیروزہ اور یاقوت کے بعد سونے اور چاندی کی(معادن)کان کا ولایت قبول کرنا،اور جن پہاڑوں نے ولایت قبول نہیں کی ان پر کوئی چیز نہیں اگتی ہے یعنی ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔

پانی پر ولایت پیش کرنا، جس پانی نے ولایت قبول کی وہ میٹھا اور گوارا ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہ تلخ(کڑوا) اور کھارا(نمکین)ہے۔

 نباتات پر ولایت پیش کرنا،جس نے قبول کی وہ میٹھا اور خوش مزہ ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہ  تلخ ہے۔

پرندوں پر ولایت پیش کرنا،جس نے قبول کیا اس کی آواز بہت اچھی اور وہ فصیح بولتا ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہ الگن(اس کی زبان میں لکنت ہے،ہکلا ہے)ہے۔ 

اور اس کے ساتھ ساتھ ایک عجیب اتفاق یہ ہے کہ خداوند عالم کے الطاف میں سے ایک لطف عظیم ہے کہ عثمان ١٧ذی الحجہ کو قتل ہوا اور لوگوں نے خلافت غصب ہونے کے ٢٥ سال بعد حضرت علی  کے ہاتھوں پر بیعت کی اور دوسری مرتبہ آپ کی ظاہری خلافت روز غدیر سے مقارن ہوتی ہے۔(اثبات الہدایت،ج٢، ص ١٩٨،بحار الانوار،ج١٣،ص٤٩٣)

آسمانوں میں جشن غدیر

آسمانوں میں جشن غدیر متعارف ہے اور اس دن جشن منایا جاتا ہے ہم اس سلسلہ میں چار احادیث نقل کرتے ہیں۔

غدیر،عہدو معہود کا دن

                حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:عید غدیر کو آسمانوں میں عہد ومعہود کا دن کہا جاتا ہے۔غدیر آسمان والوں پر ولایت پیش کرنے کا دن ہے۔حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:خداوندعالم نے آسمان والوں پر غدیر کے دن ولایت پیش کی تو ساتویں آسمان والوں نے اس کے قبول کرنے میں دوسرے سے سبقت کی اسی وجہ سے خداوند عالم نے ساتویں آسمان کو اپنے عرش سے مزین فرمایا۔اس کے بعد چوتھے آسمان والوں نے غدیر کو قبول کرنے میں دوسروں سے سبقت لی تو خدا وند عالم نے اس کو بیت مامور سے مزین فرمایا۔اس کے بعد پہلے آسمان والوں نے اس کو قبول کرنے میں دوسروں سے سبقت لی تو خدا وند عالم نے اس کو ستاروں سے مزین فرمایا۔

جشن غدیر میں ملائکہ

                حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:غدیر کا دن وہ دن ہے کہ جس دن خدا وند عالم جبرائیل امین کو بیت مامور کے سامنے اپنی کرامت کی تختی نصب کرنے کا حکم صادر فرماتا ہے۔اس کے بعد جبرائیل اس کے پاس جاتے ہیں اور تمام آسمانوں کے ملائکہ وہاں جمع ہوکر پیغمبرۖ اکرم کی مدح وثنا کرتے ہیں اور امیر المومنین اور ائمہ علیہم السلام اور ان کے شیعوں اور دوستداروں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ 

جشن غدیر شہزادیٔ کائنات کا نچھاور

                حضرت امام رضا(ع)اپنے پدر بزرگ امام موسیٰ ابن جعفر علیہم السلام سے وہ اپنے جد حضرت امام جعفر صادق سے نقل فرماتے ہیں کہ روز غدیر زمین والوں سے زیادہ آسمان والوں میں مشہور ہے۔

خداوند عالم نے جنت میں ایک قصر(محل)خلق فرمایا ہے جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ہے،جس میں ایک لاکھ کمرے سرخ رنگ کے اور ایک لاکھ خیمہ سبز رنگ کے ہیں اور اس کی خاک مشک وعنبر سے ہے اس محل میں چار نہریں جاری ہیں:ایک نہر شراب کی ہے دوسری پانی کی ہے،تیسری دودھ کی ہے اور چوتھی شہد کی ہے ان نہروں کے کناروں پر مختلف قسم کے پھلوں کے درخت ہیں، ان درختوں پر وہ پرندے ہیں جن کے بدن لولو کے ہیںاور ان کے پر یاقوت کے ہیں اور مختلف آوازوں میں گاتے ہیں۔

جب غدیر کا دن آتا ہے تو آسمان والے اس قصر میں آتے ہیں تسبیح وتہلیل وتقدیس کرتے ہیںوہ پرندے بھی اڑتے ہیں اپنے کو پانی میں ڈبوتے ہیں اس کے بعد مشک وعنبر سے لوٹتے ہیں،جب ملائکہ جمع ہوتے ہیں تو وہ پرندے دوبارہ ملائکہ پر مشک وعنبر چھڑکتے ہیں ،ایک دوسرے کو ہدیہ دیتے ہیں ،غدیر کے دن فاطمہ زہراۖ کی نچھاور کے دن کا اختتام ہوتا ہے تو ندا آتی ہے اپنے اپنے درجات ومراتب پر پلٹ جاؤ کہ تم محمد وعلی علیہم السلام کے احترام کی وجہ سے اگلے سال آج کے دن تک ہر طرح کی لغزش اور خطرہ سے امان میں رہوگے۔

                آخر میں خدا وند کریم سے یہ دعا کرتا ہوں کہ خدایا! ہمیں واقعہ غدیر کی صحیح معرفت عنایت فرما اور توفیق فرما کہ غدیر کے حقیقی پیغام کو دنیا میں نشر کرسکیں۔

منابع ومآخذ

١۔قرآن کریم،٢۔تفسیر المنار،٣۔تفسیر در المنثور،٤۔تفسیر فخر رازی،٥۔تفسیر قمی،٦۔بدایہ ونھایہ،٧۔معجم البلدان، ٨۔الفصول المھمہ،٩۔تذکرة الخواص،١٠۔نور الابصار،١١۔کنز العمال،١٢۔مستدرک حاکم،١٣۔سیرۂ حلبی،١٤۔مناقب ابن مغازلی،١٥۔ارشاد مفید،١٦۔بحار الانوار،١٧۔الفصول مأہ،١٨۔فرائد السبطین،١٩۔امالی الصدوق،٢٠۔عوالم۔

                                                                                 


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 6 (نشريه بزم رأفت)، پيام رأفت نمبر 7 (نشريه بزم رأفت)
[ سه شنبه سی ام مهر 1392 ] [ 12:57 ] [ انجمن ] [ ]
حدیث کسا
موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن
[ سه شنبه پانزدهم فروردین 1391 ] [ 10:49 ] [ انجمن ] [ ]
[ پنجشنبه پنجم آبان 1390 ] [ 8:56 ] [ انجمن ] [ ]

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زیر سر پرستی حضرت بقیة اللہ الاعظم صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف

مجلس ادارت

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا الفت حسین جویاصاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا تحریر علی  نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا حسن عسکری نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط محمد رضوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا فیروز رضا نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا محمد حسین بہشتی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانانیر عباس رضوی صاحب

کمپوزنگ و ڈزائننگ:  ادارہ

نوٹ:  بزم رأفت ایک ایسا ادارہ ہے جو مفت خدمت کرنے پر فخر کرتا ہے لہذا کوئی صاحب بھی اس ادارہ کے نام پر کسی کے ساتھ بھی مالی تعاون نہ فرمائیں۔

پیام رأفت

سال ٣ ۔ شمارہ ٤ـ٥

محرم  الحرام سے شعبان المعظم تک  ١٤٣١ھ

صاحب امتیاز:

بزم رأفت

انجمن شعر و ادب اردو زبان

مدیر

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولاناسبط حیدر زیدی صاحب

معاونین

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانامجاہد حسین نقوی صاحب

حجة الاسلام  جناب مولانااکبر حسین جعفری صاحب

حجة الاسلام  جناب مولاناجابر علی انصاری  صاحب

حجة الاسلام  جناب مولاناعارف حسین صاحب

جناب مولاناسیدسجاد حسین اطہرکاظمی صاحب

جناب مولاناحافظ غضنفر عباس صاحب

Web: www.urdu.blogfa.com  E-mail : alhaq110@yahoo.co.in 

Tel : 0098-511-2563085 Mob: 09359750753

فہرست مطالب

ردیف                         اثر                                                 صاحب اثر                       صفحہ

١                             - اداریہ           ( مصداق ذبح عظیم           ( مدیر                          ٣

٢ - دشت کربلا کا عظیم ترین سیاح                        جناب سبط حیدر زید ی صاحب           ٨

٣ - آئینہ شعرو ادب ،عکس کربلا وحسین             جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب           ٣٤

٤ -تاریخ مجالس حضرت امام حسین                  جناب حسن عسکری نقوی صاحب         ٨١

٥ -  حصہ نظم                                بزم رأفت کی محافل سے اقتباس                          ١١٣

٦ – جشن غدیر                                                شعراء  بزم رأفت                               ١١٤

٧-  جشن نورین                                               شعراء  بزم رأفت                               ١٢٤

٨ - جشن میلاد کوثر                                        شعراء  بزم رأفت                                ١٢٨

٩ - جشن مولود کعبہ                                       شعراء  بزم رأفت                                ١٣١

١٠ - جشن عشق و وفا و صبر                        شعراء  بزم رأفت                                    ١٣٤

١١ - جشن محفل نور                                    شعراء  بزم رأفت                                  ١٣٨

١٢ - ذبح عظیم سیمنار کی مختصر رپورٹ               ادارہ                                            ١٤١

١٣ -  تنویر غدیر سیمنار                                         ادارہ                                          ١٤٤

١٤ - رؤف مولا نے اپنے قدموں میں کیا سجائی ہے بزم رأفت     ادارہ                              ١٤٥

١٥ - بزم رأفت تصویر کے آئینہ میں                                        ادارہ                              ١٤٧

 

باسم رب الشہدائ

اداریہ

مصداق ذبح عظیم

وفدیناہ بذبح عظیم وترکنا علیہ فی الآخرین  (صافات ، آیت١٠٦ـ١٠٧)

ذبح بکسر ذال، ذبح بفتح ذال کا حاصل مصدرہے کہ جو ذبیح و مذبوح جیسے قتیل و مقتول کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی عظیم قربانی ۔

 ٦١ھ میں فرات کے ساحل اور کربلا کی سرزمین پر تین دن کا بھوکا پیاسا ایک قافلہ اعلائے کلمہ حق کی پاداش میں تہ پیغ کردیا گیا ، قاتل مسرور کہ ایک عظیم معرکہ سرکرلیا لیکن اس سے بے خبر کا معمار کعبہ خلیل خدا حضرت ابراہیم کے خواب نے صدیوں کے بعد وہ تعبیر آج پائی ہے کہ جس کا اشارہ قرآن کریم میں موجود ہے شاید ذبح عظیم کی سند ١٠ ذی الحجہ کو جناب اسماعیل کے نام درج ہوچکی ہوتی لیکن مشیت کو یہ منظور نہیں تھا کہ اس راہ میں پیش کی جانے والی قربانیوں میں سے کسی ایسی قربانی کو عظیم کہا جائے جس میںقدرت کا اشارہ پانے کے باوجود عمل میں پہلے شمہ برابر بھی بے یقینی کی کیفیت پائی جائے اور اس میں کسی طرح کے پس و پیش ، غور و فکر اور تردد کی گنجائش موجود رہ جائے اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ آزمائش کی کڑی گھڑیوں میں جناب ابراہیم پورے اترے انہوں نے اپنے سینے میں ایک باپ کا دردمند دل دھڑکتے رہنے کے باوجود خوشنودی معبود میں اپنے عزیز ترین فرزند جناب اسماعیل کے گلوئے مبارک پر اپنے ہاتھوں سے چھری رکھ دی ، اپنے خواب کو سچ کردکھا یا ۔

محسنین کی فہرست میں آپ کا نام نامی امتیازی حیثیت کا حامل قرار پایا ، یقینا اس امتحان سے اس استقامت کے ساتھ گذر جانا خلیل اللہ ہی کا کام تھا ، قدرت نے بھی اس عمل کی بہت قدر فرمائی اور تا قیام قیامت اس کی یاد گار کو قائم فرماکر اپنے دوست کو اجرعظیم سے نوازا ۔مگر ذبح عظیم کے لقب سے نوازنے کے لیے قدرت کو ایسے نفس مطمئنہ کا انتظار تھا جو مشیت کا اشارہ پاتے ہی بطیب خاطر کبھی اپنے بھائیوں کو تیغوں کے حوالے کردے، کبھی اپنے بھتیجوں کو قتل گاہ کی نذر کردے کبھی اپنے بھانجوں کی جان کا نذرانہ پیش کردے ، کبھی اپنے جوان فرزند کے سینے کو برچھی کی انی کے سامنے کردے اور کبھی اپنے کمسن بچے کے حلقوم کو تیر سہ شعبہ کے حوالے کردے اور اس کے بعد بھی جب جذبہ قربانی کی پیاس نہ بجھے تو اپنے گلوئے خشک کو بے رحم قاتل کے خنجر کی دھار سے ملادے ۔ نگاہ قدرت دیکھ رہی تھی کہ ایسا حوصلہ رکھنے والی شخصیت اس کے حبیب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی کے گھر میں جلوہ گر ہونے والی ہے وہ گھرانا کہ جو تمام فضائل و کمالات کی آماجگاہ تھا ۔ اشاعت حق کے سلسلے میں انبیاء کرام کی قربانیاں بہت زیادہ ہیں تاریخ انبیاء  کا ورق ورق خونچکاں ہے ان قربانیوں میں جناب یحی کی قربانی دل خراش قربانی بھی ہے لیکن کسی قربانی کو ''ذبح عظیم '' کی سند نہیں ملی ، یہ امتیاز تو مخصوص ہو کررہ گیا تھا آخرین میں سے اس شہید اعظم کے لیے جس کی قربانی بجاطور پر'' مصداق ذبح عظیم '' تھی جو نواسہ ٔ  محمد مصطفی دلبند علی مرتضی جگر گوشہ فاطمہ زہرا تھا جسے اہل عرفان سید الشہداء کے مناسب ترین لقب سے یاد کرتے ہیں      جس سورما کا اسم گرامی حسین ہے ۔

مصداق ذبح عظیم، حسین ابن علی یہ وہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جو نہ فقط تفاسیر و احادیث بلکہ دنیائے ادب میں بھی روز روشن کی طرح واضح ہے جیسا کہ شاعر مشرق زمین یگانہ روزگار علامہ اقبال نے منظوم فرمایا ۔

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر

معنی  ذبح عظیم  آمد پسر

مصداق ذبح عظیم، حسین ابن علی ، معبود کی بارگاہ میں پیش کی جانے والی منفرد قربانی ہے جس کی عملی مثال کا تو کیا سوال ماضی و مستقبل میں کسی ایسی دوسری قربانی کا تصور بھی ناممکنات میں سے ہے، جب یہ ذبح عظیم تاریخ قربانی کا ایک یگانہ و یکتا کارنامہ ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ احسانات کا بہترین بدلہ دینے والی ذات احدیت نے اس قربانی کے سلسلے میں کیا کیا ؟سنت الٰہی میں تبدیلی نہیں ہوتی لہذا جب اس کی یہ سنت رہی ہے کہ اس کے لیے خلیل اللہ اگر اپنے بیٹے کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار ہوجائیں تو عید قربان کی شکل میں ان کی قربانی کی یاد کو بقا عطا کی جائے اور اس قربانی کے سلسلے میں باعتبار نسبت جس چیز کی جتنی قربت ہو اس کی یاد کو بھی اتنی ہی اہمیت کے ساتھ باقی رکھا جائے ، وہ دن جس دن جناب ابراہیم نے قربانی پیش کی ، وہ جگہ جہاں قربانی پیش کی ، ان سب کو امت مسلمہ کے لیے یادگار کی شکل دیدی گئی یہاں تک کہ اگر جناب اسماعیل کے لیے دنبہ آیا تو اس ایک قربانی کی یاد میں کروڑوں قربانیاں ہوگئیں اور ہوتی رہیں گی تو جب اس کمترین کا قربانی کا یہ صلہ ہے تو عظیم قربانی کا قدرت نے کیا صلہ دیا ؟

اگر واقعۂ کربلا قبل از نزول قرآن ہواہوتا تو اس خونین داستان کا گواہ قرآن کریم کا ہر پارہ ہوتا مگریہ واقعہ سلسلہ ٔ وحی ختم ہونے کے بعد ظہور پذیر ہوا لیکن پھر بھی رطب و یابس کا احاطہ کیے قرآن اس واقعہ کے ذکر سے خالی نہیں ، حقیقی مفسرین قرآن صاحبان عصمت نے واقعہ کربلا سے نسبت رکھنے والی آیات کی نشاندہی فرمادی ہے ، انہیں واقف رموز و اسرار الہٰی ہستیوں نے بشمولیت حضرت خاتم الانبیاء اپنی احادیث میں امام حسین  اور ان کی قربانی کو غیر معمولی اہمیت دی ہے ۔ یہاں تک کہ کربلا کے کشتگان ظلم و ستم پر رونے رلانے کے بے انتہا فضائل بیان فرمائے ہیں جن سے عظمت قربانی حسین کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بات پوشیدہ نہیں رہتی کہ معبود نے امام حسین کو کیا کچھ نہیں عنایت فرمایا۔

یہ ہم سے نہ پوچھیے بلکہ واقعہ کربلا سے لیکر اب تک کے حالات کا تجزیہ خود بتائے گا کہ حسین و حسینیت کو معبود کی کتنی زبردست پشت پناہی حاصل ہے ، دنیا میں ابھر نے والے انقلابات میں ایسے انقلاب بھی ہیں جنہیں طاقت کے بل پر اس طرح کچلا گیا کہ پھر وہ ابھر نہ سکے۔

 اور حسینی انقلاب کے خلاف جس قدر طاقت کا استعمال ہوا اتنا کسی انقلاب کے خلاف نہیں ہوا ، بعد قتل حسین دربارکوفہ وشام میں جس اعلی پیمانہ پر جشن منایاگیا وہ اس بات کی علامت تھا کہ ظالم اپنے کارنامے سے مطمئن ہوگیا ہے ، کسے خبر تھی کہ اب کوئی امام کا حامی سر اٹھاسکے گا یا عالم میں دین محمدی کا چرچا ہوسکے گا ۔ لیکن خون حسینی جب رنگ لایا تو عالم کو رنگین بنادیا انتقام خون حسین کا دریا چڑھا اور یزید کا فلک بوس محل اس میں غرق ہوگیا ، مظلوم کے ماتم پر پابندی لگی لیکن آہستہ آہستہ پوری دنیا پر سوگواری کے بادل چھاگئے ، زائرین قبر حسین کو قتل کیا گیا اور ان کے اعضا ء کاٹے گئے لیکن ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا ۔ اور آج حسینیت کا ماہ درخشان اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ تابندہ ہے یہ سب کیا بغیر تائیدالٰہی کے ہوگیا ؟ نہیں ہر گز نہیں یہ انعام خدا وندی ہے کہ جس سرزمین پر نواسہ رسول نے جان دی اس زمین کو ہر زمین سے فضیلت دیدی جن اصحاب نے حسین پر جان دی ان کے سروں پر بے انتہا فضیلتوں کا تاج رکھ دیا ۔ انصار حسین کو جو انعام ملا یہ اس کا ایک نمونہ ہے کہ

     معصوم پر فدا ہوئے ممتاز بن گئے               سر خدا سے مل گئے خود راز بن گئے

سجدے کیے کچھ ایسے سرافراز بن گے              مٹی میں مل کے سجدہ گہ ناز بن گئے

  قدر  آپ  ان  کی سید مظلوم کرتے تھے

                       سجدے خود ان کی خاک پر معصوم کرتے تھے   (جناب ضیاء فیض آبادی (

اس راہ میں بے انتہا اخلاص سے پیش کی جانے والی قربانی کا یہ صلہ ہے کہ جو مظلوم کربلا کا حامی ہوا اسے بھی فراموش نہیں کیا گیا اور جو ان کی مظلومی پر گریہ کرے اسے بے انتہا اجرو ثواب کا مستحق قرار دیا گیا ۔ ہم اپنے پروردگار کے تہ دل سے شکرگزار ہیں کہ اس نے ہمیں قوم گریہ کناں قرار دیا تاکہ غم حسین میں بہنے والے آنسوؤں کو ہم رومال سیدہ تک پہنچانے کا شرف حاصل کرسکیں ۔ مصداق ذبح عظیم کی عظیم المرتبت سرکار میں روح کی گہرائیوں سے ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے رحیم وکریم پالنے والے کی بارگاہ میںعاجزانہ گزارش پیش کرتے ہیں۔

 کہ جب حسین بن علی کے تصد ق میں وہ ہمیں ان انعامات سے سرفراز فرمارہا ہے جو ہم چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے مظلوم آقا کے ایسے غلام بننے کی توفیق مرحمت فرمائے جیسے وہ چاہتے ہیں کہ جب منتقم خون حسین حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی معیت میں ہم دشمنان حسین سے مصروف جہاد ہوں تو معصیت کے دھبے ہمیں خجالت میں مبتلا نہ کریں ۔

بزم رأفت (انجمن شعر وادب اردو زبان )مشہد مقدس اسی یادگا رکو تازہ کرنے کی خاطر اور اپنا وظیفہ بندگی نبھانے کے لیے اہل بیت علیہم السلام کی بارگاہ میں ناچیز نذرانہ عقیدت پیش کرتی رہتی ہے کہ ان میں سے ایک نمونہ بین الاقوامی سیمینار بعنوان'' ذبح عظیم'' بھی تھا جو بہت ہی عظیم الشأن پیمانے پر منعقد ہوا جس میں مختلف ممالک کے طلاب عزیز وعلماء کرام نے شرکت فرمائی جس کی مکمل رپورٹ آخرمجلہ میں مرقوم ہے یہ مجلہ چونکہ ماہ محرم سے ماہ شعبان المعظم تک کے عرصہ سے مربوط ہے لہذا اس میں جشن غدیر سے لیکرآخرشعبان المعظم کے تمام پروگرامزکے مختصر گوشے پیش کیے جائیں گے اس امید کے ساتھ کہ انشاء اللہ خدمت دین و مسلمین انجام دیتے ہوئے بارگاہ احدیت میں شرف قبولیت عطا ہو اور حضرات معصومین علیہم السلام کے حضور سرخرو ہوسکیں ۔آمین

و السلام

سیدسبط حیدر زیدی 

مدیر

بزم رأفت

انجمن شعر و ادب اردو زبان


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 4 (نشريه بزم رأفت)، پيام رأفت نمبر 5 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن
[ چهارشنبه بیست و هفتم مهر 1390 ] [ 18:3 ] [ انجمن ] [ ]

دشت کربلا کا عظیم ترین سیاح

بقلم : سیدسبط حیدر زیدی

مقدمہ

                 عمر گذری ہے اسی دشت کی سیاحی میں

                    پانچویں پشت ہے  شبیر کی مداحی میں

میر ببر علی انیس کو ''دشت کربلا کا عظیم ترین سیاح ''کے خطاب سے نوازنے کی بہت سی وجوہات ہیں مثلا'' عظیم ترین ''ہونے کی وجہ تو یہ ہے کہ کسی بھی صنف شعر میں کوئی بھی شاعر اس منزل تک نہیں پہنچا کہ اس صنف میں اس شاعر کے کلام کو حرف آخر کہا جاسکے نہ یہ کہ صرف اردو زبان میں بلکہ دنیا کی ہر زبان اور ہر صنف شعر میں طرح طرح کے شاعر وادیب گذرے ہیں لیکن کسی کوبھی یہ حق حاصل نہیں ہوسکا سوائے صنف مرثیہ میں میرانیس کے ،جب کہ میرانیس سے پہلے بھی مرثیے لکھے گئے اور بعد میں بھی آج تک لکھے جارہے ہیں لیکن جو میرانیس کے مراثی کو مقام حاصل ہے وہ کسی کو نہ مل سکا۔

مرزاغالب نے لکھنئو کے ایک مجتہد عباس صاحب کے کہنے پر ایک مرثیہ کہنا شروع کیا۔ لیکن تین بند کہنے کے بعد یہ کہکر قلم رکھدیا کہ مرثیہ کہنا میرے بس کی بات نہیںیہ حق صرف میر انیس کا ہے ۔ (یاد گارِ غالب۔واقعاتِ انیس(

ظاہر ہے کہ شعر کی متعد د اصناف ہیں اور ہر صنف میں مختلف شعراء نے طبع آزمائی کی ہے لیکن کسی بھی صنف شعر میں خود شاعر نے یا کسی اور نے یہ دعوی نہیں کیا کہ بس اس صنف کا حق ادا ہوچکا ہے اور اس سے بڑھ کر اب کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔

'' دشت کربلا کا عظیم ترین سیاح ''ہونے کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کسی بھی شاعر کو یہ شرف نہیں ملا کہ مکمل عزاداری اس کے کلام پر موقوف ہو کربلا سے مربوط یوں تو دنیا کی ہر زبان میں کلام لکھے گئے لیکن سب سے زیادہ کلام عربی ، فارسی اور اردو زبانوں میں ہیں۔

مذکورہ زبانوں میں کوئی سی بھی زبان و صنف شعر ایسی نہیں ہے کہ مکمل عزاداری اس پر موقوف ہو حقیر نے عربی زبان ادباء و شعراء کے کلام دیکھے اور اساتید سے دریافت کیا اسی طرح فارسی زبان شعراء حضرات سے مسلسل رابطہ ہے جہاں محتشم کاشانی جیسے عظیم مرثیے نگار گذرے ہیں کہ جن کے متعلق ملتاہے کہ بہت سے بیت جب نامکمل رہ جاتے تھے تو معصومین علیہم السلام کی تائیدو مدد حاصل ہوتی اور مصرعہ الہام یا حالت خواب میں دریافت ہوتاتھا ، اور وہ بھی انہیں کے مرثیے کے اشعار و ابیات ہیں کہ جو ایام عزا میں ایران کے ہر شہرکی گلی و کوچہ میں نصب ہوتے ہیں لیکن کہیں ایسا نہیں ہے کہ مکمل عزاداری ان کے کلام پر موقوف ہو جب کہ میں نے ہند وستان کی بہت سی بستیاں دیکھیں کہ جہاں مکمل عزاداری یعنی ابتداً سوزو سلام و مرثیے کی جگہ بھی میرانیس ہی کا کلام اور مجلس و تقریر کی جگہ پر بھی میر انیس کا مرثیہ تحت اللفظ میں پڑھاجا تا ہے اور پھر نوحے کی جگہ بھی میر انیس ہی کے مرثیوں پر ماتم ہوتا ہے ۔

ایک اور وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ میرانیس کو مرثیے کا فن وراثت میں ملا تھا ان کے دوسرے دو بھائی میر انس اور میر مونس بھی مرثیہ گو تھے۔ انیس کے بعد ان کی اولاد میں بھی یہ فن پھلتا پھولتا رہا اور ان کے صاحب زادے میر نفیس اور پھر ان کے صاحبزادے، پوتے اور پر پوتے سب مرثیہ گوئی میں اپنے اپنے وقت میں استاد مانے جاتے تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے آخری دور تمدن کا یہ بھی ایک زمانہ ہے جو معجزہ سے کم نہیں کہ ایک ہی نسل سات آٹھ پشتوں تک مسلسل شعر و شاعری کے اعلی سے اعلی معیار تک قائم رہی۔ غالبا دنیا کے کسی تمدن میں اس کی دوسری مثال نہیں مل سکتی۔

اور اس کے علاوہ بھی بہت سی وجوہات ہیں کہ جن کی وجہ سے میر انیس کو ''دشت کربلا کا عظیم ترین سیاح'' کے خطاب سے نوازا جاسکتا ہے ہمارے ان جملات کی تائید شاعر بزرگوار جناب جوش ملیح آبادی کے اس کلام سے ہوتی :  

اے دیار لفظ و معنی کے رئیس ابن رئیس

اے امین کربلا، باطل فگار و حق نویس

ناظم کرسی نشین  و شاعر یزداں جلیس

عظمت آل محمد کے مورخ اے انیس

تیری ہر موج نفس روح الامیں کی جان ہے

تو مری  اردو  زباں  کا  بولتا  قرآن ہے

جناب جوش ملیح آبادی          

زندگینامہ

میر ببر علی انیس۔ اردو مرثیہ گو۔ میر مستحسن خلیق کے صاحبزادے ۔ اتر پردیش میں فیض آباد کے محلے گلاب باڑی میں پیدا ہوئے ۔ خاندانِ سادات سے تعلق تھا۔ انیس کے والد میر خلیق اور دادا میر حسن مثنوی سحر البیان اور بدر منیر کے خالق اور پر دادا میر ضاحک اپنے عہد کے معروف شعرا ء میں شمار ہوتے تھے ۔ مولوی حیدر علی اور مفتی حیدر عباس سے عربی ، فارسی پڑھی۔ فنون سپہ گری کی تعلیم بھی حاصل کی ۔ فن شہسواری سے بخوبی واقف تھے۔ شعر میں اپنے والد سے اصلاح لیتے تھے ۔ پہلے حزیں تخلص تھا۔ شیخ امام بخش ناسخ کے کہنے پر انیس اختیار کیا۔ ابتدا میں غزل کہتے تھے ۔ مگر والد کی نصیحت پر مرثیہ کہنے لگے اور پھر کبھی غزل کی طرف توجہ نہیں کی۔

زندگی کا وہ پہلا شعر جو انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں اپنے والد کے دوست معروف شاعر ناسخ کے سامنے سنایا جس پر ناسخ ششدر رہ گئے اور پیشنگوئی کر دی کہ یہ بچہ سلطنت شعر کا بادشاہ بنے گا۔ وہ شعر یہ  ہے۔ 

  کھلا  باعث یہ  اس بیداد  کے  آنسو  نکلنے  کا

دھواں لگتا ہے آنکھوں میںکسی کے دل کے جلنے کا

میرانیس اردو ادب کی پر شکوہ عمارت کے ایک بنیادی ستون ہیں اور انکا نام تاریخ اردو ادب کی چوکور میں میر تقی میر، غالب اور علامہ اقبال کے ساتھ شامل ہے۔ انیس دو سو سال سے آسمان ادب پر زوال سے نا آشنا ماہ کامل کی طرح درخشندہ ہیں۔ دو صدیاں گزر جانے کے باوجود مرثیے میں انیس کا کوئی ثانی نہیں ہو سکا اور انکی اسی عظمت نے انکے دیگر فنی اور بیتی محاسن کو منظر عام پر نہیں آنے دیا۔

اس حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ انیس کی مرثیہ نگاری کے متعدد محاسن معجزاتی زمرے میں آتے ہیںانکے مراثی کی تعداد کے بارے میں بھی مختلف روایات ہیں۔ کچھ محققین نے یہ تعداد ہزاروں میں بتائی ہے تا ہم زیادہ تر کے نزدیک یہ تعداد ایک ہزار اور بارہ سو کے درمیان ہے۔تاریخ نگار بتاتے ہیں کہ وہ اکثر اوقات ایک ہی وقت میں اپنے کاتبوں کو مختلف شہیدوں کی شہادت کے تین تین چار چار مرثیے بھے لکھواتے تھے۔انکے متعدد مراثی ابھی تک غیر مطبوعہ ہیں۔انہوںنے مراثی کے علاوہ بڑی تعداد میں رباعیات،سلام،نوحے اور منقبتیں بھی لکھیں اور اب تک کی تحقیق کے مطابق انکی رباعیات کی تعداد چھ سو کے لگ بھگ ہے اور دیگر اشعار کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

رتبہ جسے دنیا میں خدا دیتا ہے

وہ دل میں فروتنی کو جا دیتا ہے

کرتے ہیں تہی مغز ثنا آپ اپنی             

  جو ظرف کہ خالی ہو صدا دیتا ہے            

انیس کی شاعری کا منبع و مرکز کربلا کا واقعہ اور شجاعت و قربانی ہے اور انیس کی زبان کے حسن اور بیان کی معجز نمائی نے اسے اور روشن کیا۔ کچھ ناقدین نے مرثیے کو انگریزی ادب کی صنف ایپیک کے معیار پر پرکھنے کی کوشش کی ہے جو درست نہیں۔ میر انیس اردو کے واحد شاعر ہیں جنکے مراثی میں بیان کردہ مناظر کے علاوہ واقعات اور کردار باقاعدہ دیکھے اور محسوس کیئے جا سکتے ہیں۔

تاریخ مرثیہ نگاری میں یہ حقیقت بھی تحریر ہے کہ میر انیس کا معروف مرثیہ  ''آج شبیر پہ کیا عالم تنہائی ہے'' جب لکھنئو سے دلی پہنچا تو نواب مصطفی شیفتہ نے صرف اسکا مطلع سن کر اس طرح داد دی کہ  ''میر صاحب نے مکمل مرثیہ کہنے کی کیوں زحمت کی مصرع تو خود ہی ایک مکمل مرثیہ ہے''۔

انیس نے محلہ سبزی منڈی چوک لکھنئوکے عقب میں واقع رہائش گاہ میں ایک سو ستانوے بند یعنی ایک ہزار ایک سو بیاسی مصرعوں کا یہ مرثیہ    '' جب قطع کی مسافت شب آفتاب نے''  ایک ہی رات میں تحریر کیا اور گھر کے عشرے میں پڑھا جو انیس کے شاہکار مراثی میں سے ایک ہے۔

انیس کی مرثیہ نگاری کے معجزات میں سے ایک بغیر نقطوں کے مرثیے بھی ہیں۔ان طویل مراثی میں کہیں بھی ایک نقطہ نہیں اور اسی مناسبت سے انہیں بے نقطے کے مرثیے کہا جاتا ہے۔

غیر منقو ط لکھنا انتہا ئی مشکل ہے۔یہ ایک تو مرثیے کی مخصو ص زبا ن اور لب ولہجہ برقرار رکھنے میں ہی اچھے اچھوں شعر اء کا تخلیقی سانس اکھڑ جاتا ہے اس پر غیر منقو ط کی پابندی یقینا انیس کی تخلیقی زرخیزی کا ثبوت ہے۔

میر انیس کا فن، رثائی ادب

مرثیہ کا لفظ رثا سے مشتق ہے اور اس کے معنی کسی عزیز شخصیت کے دنیا سے گزر جانے پر اپنے رنج و ملال کا اظہار کرنا ہے۔ لیکن اردو میں مرثیے کی شناخت شہدائے کربلا کے مصائب و آلام اور ان کی مظلومیت کے خونچکاں واقعات کے بیان سے ہے۔

مرثیے کو اودھ کے شعراء نے اتنے عروج پر پہنچایا کہ ناقدین ادب اسے ایک صنف ماننے پر مجبور ہو گئے اور صرف یہی نہیں اسے اردو ادب کی اہم ترین صنف مانا گیا کیوں کہ شعراء اودھ نے اس صنف میں اتنا مواد فراہم کر دیا تھا جو اردو ادب میں اپنی مثال آپ ہے۔

مرثیے کی پرورش عزا داری کی آغوش میں ہوئی اور اس کے ارتقا کے لیے اودھ کا ماحول بہت ساز گار ثابت ہوا کیوں کہ اودھ کے نوابین شیعہ تھے، جنہوں نے مرثیہ نگاروں کی سر پرستی کی۔

مرثیہ میر انیس سے قبل بھی لکھا جاتا تھا، خود ان کے والد میر خلیق بہت عمدہ مرثیہ گو تھے۔ اس کے علاوہ سودا نے بھی کئی اعلی ترین مرثیے لکھے ہیں، لیکن اس فن کو میر انیس اور مرزا دیبر نے جن بلندیوں پر پہنچا دیا، اس کی کوئی اور مثال نہیں ملتی۔ میر انیس خود کہتے ہیں:

سبک ہو چلی تھی ترازوئے شعر

   مگر میں نے پلہ  گراں کر دیا

میرانیس کو مرثیے کا فن وراثت میں ملا تھا اور ان کے دوسرے دو بھائی میر انس اور میر مونس بھی مرثیہ گو تھے۔ انیس کے بعد ان کی اولاد میں بھی یہ فن پھلتا پھولتا رہا اور ان کے صاحب زادے میر نفیس اور پھر ان کے صاحبزادے، پوتے اور پر پوتے سب مرثیہ گوئی میں اپنے اپنے وقت میں استاد مانے جاتے تھے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے آخری دور تمدن کا یہ بھی ایک زمانہ ہے جو معجزہ سے کم نہیں کہ ایک ہی نسل سات آٹھ پشتوں تک مسلسل شعر و شاعری کے اعلی سے اعلی معیار تک قائم رہی۔ غالبا دنیا کے کسی تمدن میں اس کی دوسری مثال نہیں مل سکتی۔ اسی لیے میر انیس فخر سے کہتے ہیں:

عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں

  پانچویں پشت ہے  شبیر کی مداحی میں

کمال فن

انیس کے فن کو پوری طرح سمجھنے کے لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ انیس کی شعری شخصیت اس دکھاوے کا رد عمل ہے جس شاعری کا اس زمانے میں لکھنئو میں دور دورہ تھا۔ انیس کا رویہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ انیس صرف دعوی نہیں کرتے بلکہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔ اب انیس کادعوی دیکھیئے:

ایک قطرے کو جو دوں بسط تو قلزم کر دوں

بحر مواج فصاحت  کا  تلا طم  کر دوں

یا پھر ان کا یہ دعوی :                   یہ فصاحت یہ بلاغت یہ سلاست یہ کمال

                                              معجزہ گر نہ  اسے کہیئے  تو ہے سحر جمال

ایک اور بند میں کہتے ہیں :     

ہے کجی عیب مگر حسن ہے ابرو کے لیے

 تیرگی بد ہے مگر نیک ہے گیسو کے لیے

 سرمہ زیبا ہے فقط نرگسِ جادو کے لیے

زیب ہے خالِ سیہ چہرہ گل رو کے لیے

 داند آں را کہ فصاحت بہ کلامے دارد

ہر سخن موقع  و  ہر نقطہ  مقامے  دارد

اور انیس کے کلام کو اسی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے ان کے مراثی اس کسوٹی پر کھرے اترتے ہیں۔ انہوں نے جو جدت، سلاست، جذبات نگاری اور محاکات پیش کیے ہیں وہ صرف میر انیس کا حصہ ہیں۔ اسی لیے انیس کے مراثی اردو ادب کا گراں مایہ حصہ ہیں:

اے خوشا حسن رخِ یوسف کنعان حسن

راحتِ روح حسین ابن علی جان حسن

جسم میں زورِ علی طبع میں احسان حسن

ہمہ تن خلق حسن، حسن حسن شان حسن

تن پہ کرتی تھی نزاکت سے گرانی پوشاک

کیا بھلی لگتی تھی بچپن میں  شہانی پوشاک

اور جب رزم کا ذکر کرتے ہیں تو یوں گویا ہو تے ہیں:

کٹ گئی  تیغ تلے جب صفِ دشمن آئی

یک بیک  فصل  فراقِ سرو گردن آئی

بگڑی اس طرح لڑائی کہ نہ کچھ بن آئی

تیغ کیا  آئی  کہ اڑتی ہوئی  ناگن آئی

غل تھا بھاگو کہ یہ ہنگام ٹہرنے کا نہیں

 زہر جو اس کا چڑھے گا تو اترنے کا نہیں

اور پھر انیس اپنے انفرادی اسلوب کا سکہ یوں چلاتے ہیں:

یک  بیک  طبل بجا،  فوج میں گرجے بادل

کوہ  تھرائے،  زمین  ہل گئی،  گونجا  جنگل

پھول ڈھالوں کے چمکنے لگے تلواروں کے پھل

مرنے  والوں  کو  نظر آنے  لگی شکل اجل

واں  کے  چاوش بڑھانے لگے دل لشکر کا

فوج  اسلام  میں  نعرہ  ہوا  یا  حیدر  کا

انیس کو مرثیہ میں جو امتیاز حاصل ہے۔ اس کے بارے میں تمام ناقدین ادب اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اپنے طرز کے موجد بھی ہیں اور خاتم بھی۔ ا س لیے انہوں نے جو دعوے کیے ہیں وہ کسی لحاظ سے غلط نہیں ہیں۔ وہ اس بات سے بخوبی آشنا تھے کہ کہاں پر کس لفظ کا استعمال کرنا ہے اور کون سا واقعہ بیان کرنا ہے:

بزم کا رنگ جدا  رزم کا  میداں ہے  جدا

یہ چمن اور ہے  زخموں کا گلستاں ہے  جدا

فہم کامل ہو  تو ہر نامے کا  عنواں ہے جدا

مختصر پڑھ کے ر لادینے کا ساماں ہے جدا

دبدبہ بھی ہو مصائب بھی ہو  توصیف بھی ہو

دل بھی محظوظ ہو رقت بھی ہو  تعریف بھی ہو

انیس نے جس انداز اور اسلوب کی بنیاد ڈالی تھی ان کے بعد آنے والے شعراء اسی کی پیروی کرتے رہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اردو زبان کی مجالس میں آج بھی سب سے زیادہ انیس کے مراثی ہی پڑھے جاتے ہیں اور امام بارگاہوں میں انہیں کی باز گشت سنائی دیتی ہے۔ بقول مجاز:

ہم پر ہے ختم شام غریبان لکھنئو

 لکھنئو اور میر انیس

پروفیسر مسعود حسین رضوی ادیب نے لکھنئو کے رثائی ادب پر بہت کام کیا اور اس موضوع پر بلند پایہ کتابیں تصنیف کیں ۔ انہوں نے اپنے رسالے "ادب"لکھنئو بابت مئی ١٩٣١ ء میں میر انیس کے عنوان سے ایک نوٹ لکھتے ہوئے میر انیس کا وہ مرثیہ شائع کیا تھا جو اس سے قبل کہیں شائع نہیں ہو ا تھا۔ انہوں نے اپنے نوٹ میں لکھا تھا :

 خدائے سخن میر انیس مغفور نے غدر کے بعد اجڑے ہوئے لکھنئو کی تعریف میں سولہ بند کہہ کر کسی مرثیے میں شامل کر دئے تھے یہ بند ایک دو ورق پر خود حضرت مصنف کے ہاتھ کے لکھے ہوئے مرحوم کے پر پوتے جناب محمد حسن صاحب فائز کے پاس موجود ہیں۔ انہیں میں سے نویں اور دسویں بند کا عکس ذیل میں دیا جاتا ہے۔  مرثیہ یہ ہے

  ''جب لشکر خدا کا علم سر نگوں ہوا ''    اور  لکھنئو کے متعلق اشعار یہ ہیں: 

     ہر دل ہے عندلیبِ گلستانِ لکھنئو

رضواں بھی ہے ارم میں ثنا خوانِ لکھنئو

گلزار مومناں ہے  زہے شانِ لکھنئو

نعرے علی علی کے ہیں  قربانِ لکھنئو

کیوں سر خرو نہ ہوں کہ چمن سبز وار ہے

دیکھو کہ اس خزاں پہ بھی ایسی بہار ہے

مالی بھی معرکہ  کا اس ماتم میں دنگ ہے

گلشن کو صدقہ کیجییے یہ  مجلس کا رنگ ہے

نوحوں میں ان کے نالہ بلبل کا ڈھنگ ہے

ماتم  کے ولولے  میں بقا  کی  امنگ ہے

دس روز  ماتم شہِ دیں  میں گزرتے ہیں

جیتے رہیں یہ لوگ کہ رونے پہ مرتے ہیں

اگر چہ جہاں میر انیس نے لکھئو کی تعریف کی ہے وہاں بعض مقامات پر ہجو و برائی بھی نظر آتی ہے مثلا ایک جگہ فرماتے ہیں :   

کوفہ سے مل رہے ہیں کسی شہر کے عدد

ڈرتا ہوں اے انیس کہیں لکھنئو نہ ہو

خصوصیات کلام

میر انیس کے مرثیے کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں ہندوستانی تہذیب کے اعلی عناصر نظر آتے ہیں۔ اس میں ہندوستانی ثقافت کی چلتی پھرتی تصویریں ملتی ہیں اور پھر کربلا کے وہ مناظر اودھ کے مناظر میں مدغم ہو جاتے ہیں:

زینب  کی یہ دعا ہے کہ اے رب ذوالجلال

بچ جائے  اس فساد  سے  خیر النسا  کا لال

 بانو ئے  نیک  نام  کی  کھیتی  ہری  رہے

صندل سے مانگ بچوں سے گودی بھری رہے

ظاہر ہے کہ ان اشعار میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان کا تعلق عرب کی خواتین سے نہیں ہے،مانگ میں صندل وغیرہ جیسی اصطلاحات کا تعلق ہندوستانی خاتون سے ہے۔ لیکن انیس کی خصوصیت یہی ہے اور یہی ان کا کمال بھی ہے کہ وہ جن شخصیات کو پیش کرتے ہیں انہیں عرب کے صحرا سے نکال کر اودھ کے معاشرے میں پیوست کر دیتے ہیں۔

درحقیقت انیس کی شاعری کے دو اہم عنا صر یہ ہیں کہ انھو ں نے مرثیے کو مقامی رنگ میں رنگ دیا۔جسکی وجہ سے مرثیہ فن کے اظہا ر کا ذریعہ بنا اور صرف ایک مسلک کا نمائندہ بن کر محدود نہیں رہ گیا۔

دوسرا عنصر بھی شاید اسی کی تو سیع ہے ا و ر وہ یہ ہے کہ اگرچہ و اقعہ کر بلا ایک مخصو ص دور میں پیش آیا مگر انیس کی شاعری نے اس واقعے کے تمام افراد کو زمان و مکان کی قیو د سے آذاد کر دیا۔ اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں ہے کہ اس سے پہلے یہ پا ک سیر ت لوگ زمان ومکان کی قیود میں محدود تھے بلکہ انیس نے ان طاہر و طیب ارواح سے ہما ر ی اجنبیت ختم کر دی بغیر اسکے کہ انکے احترام میں کوئی کمی آئے۔

تیسرا اہم کام جو انیس نے کیا وہ ہے زبا ن اور تہذیب کا تحفظ۔ ، انیس نے ایک مخصو ص تہذیب اور زبان،محاورے اور روزمرہ کو اپنے مراثی کے ذریعے محفو ظ کرکے اردو ادب اور زبان کی ایک بہت بڑی خدمت کی ہے۔ یہ کام صرف مرثیے جیسی ہی صنفِ سخن کی بدولت ہی ممکن تھا۔ ہو سکتا ہے کوئی یہ بات کہے کہ غز ل نے بھی یہی کام کیا ہے یقینا کیا ہے مگر غزل میں اجمال ہوتا ا ور مرثیے میں تفصیل اور تفصیل مرثیے کا ایک مستحکم عنصر ہے۔

اس سلسلے میں امیر انیس کو فارسی زبان کے فردوسی سے تشبیہ دی جاسکتی ہے لیکن نہیں! کیوں ؟ اس لیے کہ فردوسی نے شاہنامہ لکھ کر زبان فارسی کی حفاظت ضروری کی لیکن شاہنامہ ایک فرضی داستان ہے جب کہ میر انیس نے ایک واقعیت اورحقیقت کو منظوم کرکے اردو زبان کو محفوظ کیا ہے۔

میر انیس اور مسافرت

اپنے بیٹے میر نفیس کی ولادت کے بعد پہلے ١٨٥٩ء میں مرثیہ پڑھنے عظیم آباد گئے۔ اور پھر ١٨٧١ء میں نواب تہور جنگ کے اصرار پر حیدر آباد دکن کا سفر کیا۔

انیس نے مرثیے کو ترقی کے اعلی درجے پر پہنچایا ۔ اردو میں رزمیہ شاعری کی کمی پوری کی۔ انسانی جذبات و مناظر قدرت کی مصوری کے ذریعے زبان میں وسعت نکالی۔

تنقیدی جائزہ

میر انیس کی مکمل شاعری پر آج تک سوائے حالی کے موازنہ انیس و دبیر کے کوئی ایسا تنقیدی کام نہیں ہوا جسے واقعی ادبی معیار کا کام قرار دیا جا سکے۔ میرانیس کو اپنی حیات میں بھی شاید اس امر کا اندازہ تھاجو انہوں نے کہا تھا کہ :   

حاسد سے  نہ  کچھ خوف نہ دشمن سے ہے کچھ باک

نا فہم ہے  وہ  چاند   پہ  ڈالے   جو  کوئی  خاک

اگر چہ دوسرا موازنہ مولانا شبلی نعمانی کے قلم سے بھی معرض وجود میں آیا لیکن اس میں مذہبی تعصب ادبی تنقید سے زیادہ ہے جبکہ ظاہر ہے کہ کسی بھی کلام کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے انسان کا مذہبی اعتبار سے متعصب نہ ہونا اور خالی الذھن ہونا بہت ضروری ہے ورنہ پھر اس قلم سے ادبی باریکیاں کم اورطنز زیادہ نظر آئیں گئے ۔

میرانیس کا دوسرے شعرا سے موازنہ

میر انیس یقینی طور پر الہامی شاعر ہیں اور انہوں نے یقینی طور پر تائید غیبی کی مدد سے صرف اور صرف ایک اصلی کردار اور اسکے خاندان کی مشکلات اور اسکی حق کی خاطر باطل سے لڑائی اور اپنی اور اپنے سارے خاندان کی قربانی کی منظر کشی کی۔

کہاں انیس اور کہاں ہومر، ورجل ، شیکسپیر اور برنارڈ شا جنہوں نے دماغی قلابا زیاں کھا کر کئی خاندانوں (فرضی اور افسانوی اور دیو مالائی ) پر اپنا قلم اٹھایا اور انکے افسانوں کی منظر کشی کی۔

میر انیس کا مقام مندرجہ بالا تمام افسانہ نگاروں اور ڈرامہ نگاروں سے بر تر ہے ۔ اور بین الاقوامی سطح  سے بالا تر ہے ۔شکسپیر اور جارج برنارڈ شا مفروضی اور افسانوی کرداروں پر اپنی خدا داد صلاحیتو ں کو کام میں لاتے تھے ۔

انیس و دبیر اصلی کرداروں کی بات اور ان پر جو گذری ان تما م حالات اور واقعات کی منظر کشی کرتے تھے۔میر انیس حق پر جان قربان کرنے والوں کی بات کرتے تھے ۔

میر انیس سورج تھے ان کا مقابلہ مغربی ڈرامہ نگاروں سے کرنا اصلا غلط ہے۔

اگر چہ پھر بھی ہر نقاد نے اپنی نقادی کے دورا ن موازنہ کرتے ہوے چاہے فردوسی ہوں یا ہومر یا شیکسپیر یا غالب میر انیس کو بلند و برتر مقام دیا ہے۔

موازنہ انیس و دبیر

میر انیس کا نام آتے ہی مرزا دبیر کا نام خود بخود ذہن میں ابھر آتا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مرثیہ گو شعراء میں صرف مرزا دبیر ہی ان کے ہم رتبہ کہے جا سکتے ہیں۔ معاصر کی حیثیت سے جتنے طویل عرصے تک یہ دونوں سایہ کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہے شائد ہی دوسرے ہم عصر شاعر ساتھ رہے ہوں۔ ان کی زندگی اور فن دونوں میں عجیب طرح کی مماثلت ہے۔ دونوں کی تاریخ پیدائش اور وفات تقریبا ایک ہی ہے۔ عمریں بھی دونوں نے تقریبا بر ابر کی پائیں۔ میرانیس کے استاد میر خلیق اور دبیر کے استاد میر ضمیر بھی ہم عصر و ہم عمر تھے ۔

دونوں کو اہل بیت سے خاص لگائو اور فن مرثیہ نگاری سے خاص دلچسپی تھی۔ دونوں نے اپنے ماحول کی مقبول ترین صنف کو چھوڑ کر مرثیہ کی طرف توجہ کی ۔ دونوں نے اپنے دائرہ شاعری کو سلام، رباعی اور مرثیہ تک محدود رکھا۔

 دونوں نے اس شاعرانہ فضامیں تربیت پائی اور پروان چڑھے جو دہلی کی مدمقابل بن کر دبستان لکھنو کے نام سے وجود میں آئی ۔

دونوں مجالس عزا میں خاص اہتمام سے شریک ہوتے تھے اور دونوں کا انداز مرثیہ خوانی حاضرین مجلس کی توجہ کا مرکز بنتا تھا۔ دونوں نے اپنے اپنے عقیدت مندوں اور شاگردوں کے بڑے گروہ پیدا کر لئے تھے اور لکھنو کی فضائے شاعرانہ ان کے اور ان کے شاگردوں کی معاصرانہ چھیڑ چھاڑ کے سبب آباد اور پر رونق رہی ۔ میر انیس نے دبیر سے صرف ایک سال پہلے جہانِ فانی کو خیر آباد کہا۔ ان کی وفات پر بہت سے شاعروں نے قطعات تاریخ کہے لیکن مشہور تو دبیر کا کہا ہواقطعہ اپنی مثال آپ ہے۔ وہ قطعہ تاریخ جس کا مصرعہ ہے۔

   طور سینا بے کلیم اللہ و منبر بے انیس

ایسی صور ت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی جگہ ان میں سے ایک کا ذکر آئے اور دوسرے کا نام نہ لیا جائے۔ قدیم تذکرہ نگاروں سے لے کر آج تک کے ناقدین میں سے شائد ہی کوئی ایسا ہوجس نے مرثیہ نگاری پر کچھ لکھا ہواور ان دونوں کا ذکر ساتھ ساتھ نہ کیا ہو۔ لیکن ان کی معاصرانہ چشمک اور ان کے شاگردوں کی ادبی معرکہ آرائیوں کا ذکر ہر جگہ ملتا ہے۔

میر انیس و مرزا دبیر کی شاعری میں ظاہرا دو موازنوں کا ذکر ملتا ہے ایک حالی کا موازنہ دوسرا شبلی نعمانی کا میری نظر سے حالی کا موازنہ تو نہ گزرا لیکن شبلی نعمانی کا موازنہ برسوں برس پہلے گزرا تھا کہ اب کچھ خاکہ سا ذہن میں رھ گیا ہے کہ پیش خدمت ہے ۔

موازنہ انیس و دبیر بقلم مولانا شبلی نعمانی

مولانا شبلی نعمانی کے جادو نگار قلم نے ۔موازنہ انیس دبیر کے ذریعے میرانیس اور مرزا دبیر کے درمیان ایسی حدفاصل قائم کر دی کہ ہمارے علمی ادبی حلقوں میں میرانیس کو مرزا دبیر سے بہتر مرثیہ نگار سمجھا جانے لگا۔ اوریہی مولانا شبلی کا مقصود تھا۔

 لیکن بعض لوگ شبلی کے طرز تنقید سے مطمئن نہ ہوئے ان کے خیال میں شبلی نے موازنہ انیس و دبیر میں دبیر کے ساتھ زیادتی کی ہے اور ان کا پلہ نیچا کرنے کے لئے ڈھونڈ ڈھونڈ کر میرانیس کی خوبیاں اور دبیر کی خامیاں گنوائی ہیں۔ چنانچہ شبلی کے جواب میں چودھری سید نظیر الحسن نے ایک معرکتہ آراء کتاب المیزان کے نام سے شبلی کی زندگی میں شائع کی ۔ اور اس میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مرزا دبیر بہ حیثیت مرثیہ نگار میر انیس سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ نظیر الحسن نے کلام دبیر کے بہت سے ایسے محاسن ہمیشہ کے لئے اجاگر کر دئیے جو مولانا شبلی کے اثر سے دب گئے تھے۔ لیکن ان کی کتاب موازنہ کا جواب نہ دے سکی۔

درحقیقت اگر میر انیس اپنی سادگی، سلاست اور بے مثل جذبات نگاری کی وجہ سے مشہور ہیں تو شوکت الفاط ، مضمون کی بلندی اور خوبی ادا میں مرزا دبیر بھی لاجواب ہیں۔

مرزا دبیر کے کلام کا خاص جوہر زور بیان ، شوکت الفاظ ، بلندی ، تخیل اور صنائع کا استعمال ہے۔ گریہ انگیز روایات انہوں نے میر انیس سے بہت زیادہ نظم کی ہیں۔ لیکن واقعہ نگاری میں ربط و تسلسل اور مضمون کی پیوستگی جو انیس کا خاصہ ہے۔ مرزا دبیرکے یہاں نہیں ہے۔ کردار نگاری کی نزاکت، بلاغت کے تقاضے ، تصویر کا حسن اور واقعات و جذبات کے وہ مرقعے جو میرانیس نے بظاہر کافی احتیاط اور بے ساختگی سے پیش کئے ہیں مرزا دبیر سے ممکن نہیں ہو سکے ۔ لیکن جہاں تک خیالات کی بلند پروازی علمی اصطلاحات ، عربی فقروں کی تضمین اور ایجاد مضامین کی بات تو اس میں ان کا فن خوب چمکا ہے۔ اور یہ ان ہی کا خاصہ ہے کہ وہ ہر واقعہ کو بیان کرنے میں تشبیہ اور استعارے اور تلمیح و صنائع کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ جس سے اشعار کی شان و شوکت بڑھ جاتی ہے۔

مرزا دبیر کے ہاں مناظر کی تصویر کشی میں اصلیت کا کافی رنگ ملتا ہے ۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں وہ میر انیس کے ہم پلہ ہوتے ہیں ۔ ان مناظر کی تصاویر کے علاوہ دبیر نے تلوار اور گھوڑے کی تعریف میں بھی پرواز خیال اور ایجاز مضامین کا بہت ثبوت دیا ہے ۔ جس سے ان کی طبیعت میں خلاقیت کا عنصر غالب تھا۔

مرزا دبیر نے مرثیہ کا صرف ایک جزو یعنی مناظر فطرت ہر جگہ معیار سے پست لکھا ہے اور میر انیس کے مقابلے میں نہایت ادنی اور بالکل بے لطف اس کے علاوہ روزمرہ و محاورہ صنائع لفظی و معنوی، استعارہ وتشبیہ ، جذبات و احساسات ، حقائق و واقعات اور لوازم و رزم فصیح و بلیغ بھی لکھے ہیں غیر فصیح و بے محل بھی۔ اعلی اور ادنی بھی۔ پر اثر بھی اور بے تاثیر بھی۔

 مرزا دبیر کا کوئی مرثیہ دیکھیے مشکل سے دس بیس بند مسلسل ایسے ملیں گے جو غرابت سے خالی ہوں ۔ جن میں کوئی حرف دبتا یا گرتا نہ ہو یا تعقید نہ ہو یا معنی میں پیچیدگی نہ ہو، یا طرز ادا بلاغت کے خلاف نہ ہو یا بے محل شوکت الفاظ نہ ہو۔ یا ناکام خیال آرائی نہ ہو یا بے لطف اثر بیان نہ ہو۔

دبیر:     گرمی دکھائی روشنی طورصبح نے

  ٹھنڈے چراغ کردئیے کافور صبح نے

انیس:      چھپنا وہ ماہتاب کا وہ صبح کا ظہور

           یاد خدا میں زمزمہ پروازی طیور

دبیر:      دریا میں آنکھ بیٹھ گئی ہے حباب کی

        حدت تھی موج موج میں تیرِ شہاب کی

انیس:     خود نہر عقلمہ کے سوکھے ہوئے تھے لب

     خیمے جو تھے حبابوں کے تپتے تھے سب کے سب

مرزا دبیر کے کلام میں وہ فصاحت و بلاغت اور شائستگی نہیں جو میر انیس کے کلام میں ہے۔ بعض الفاظ کو مرزا دبیرنے ایسی تراکیب کے ساتھ استعمال کیا ہے کہ ان کی وجہ سے ان میں نہایت ثقل اور بھدا پن پیدا ہو گیا ہے۔ یہاں پر ایک مثال میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک ہی لفظ میرانیس اور مرزا دبیر دونوں نے استعمال کیا ہے۔ ھل اتی، انما، قل کفی یہ الفاظ حضرت علی کے فضائل کی تلمیحات ہیں دونوں کا موازنہ ملاحظہ ہو۔

دبیر:     اہل عطا میں  تاج سر ھل ا تی ہیں یہ

        اغیار  لاف زن ہیں شہ لافتی ہیں یہ

        خورشید  انور   فلک   انما  ہیں  یہ

        کافی ہے یہ شرف کہ شہ قل کفی ہیں یہ

 انیس:      حق نے کیا عطا پہ عطا ھل اتی کسے

           حاصل  ہوا  ہے  مرتبہ لافتی کسے

           کونین  میں  ملا  شرف  انما کسے

           کہتی ہے  خلق،  بادشہ قل کفی کسے

فصاحت کے بعد بندش کی سستی اور ناہمواری ہے۔ میر انیس اور مرزا دبیر میں اصل جو چیز امتیاز کرتی ہے وہ الفاظ کی ترکیب ، نشست اور بندش کا فرق ہے۔ میرانیس کے کلام میں بندش کی چستی ، ترکیب کی دلآویزی ، الفاظ کا تناسب اور برجستگی و سلاست موجود ہے اوریہی چیزیں مرزا دبیر کے ہاں بہت کم ہیں ۔ ان کے یہاں مصرع میں ایک لفظ نہایت بلند اور شاندار ہے تو دوسرا پست۔ دو تین بند صاف اور سلیس نکل جاتے ہیں پھر تعقید اور بے ربطی شروع ہو جاتی ہے۔

دبیر:       اے دبدبہ نظم دو عالم کو ہلا دے

           اے طنطنہ طبع جزو کل کو ملا دے

          اے معجزہ فکر فصاحت کو جلا دے

        اے زمزمہ نطق بلاغت کا صلہ دے

انیس:       بیٹے بھی نہیں گود کا پالا بھی نہیں ہے

           ان کا تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے

مرزا دبیر کے یہاں تشبیہات و استعارات کا بھی خاص جوہر ہے۔مرزا دبیر اپنی دقت آفرینی سے ایسے عجیب و غریب اور نادر تشبیہات و استعارات پیدا کرتے ہیں کہ کوئی اس کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا ۔ لیکن وہ اکثر اس قدر بلند اڑتے ہیں کہ بالکل غائب ہو جاتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں میرانیس کے تشبیہات و استعارات کلام کو حسین بنا دیتے ہیں۔ اور اس میں معنی کی لچک بھی پیدا کرتے ہیں۔

دبیر:۔      شمشیر نے جل تھل جو بھرے قاف تا قاف

             پریاں ہوئیں مرغابیاں گرداب بنا قاف

انیس:         وہ گورے گورے جسم قبائیں و ہ تنگ تنگ

              زیور کی طرح  جسم  پہ  زیبا سلاخ جنگ

میرانیس اور مرزا دبیر میں اصلی امتیاز پیداکرنیوالی چیز خیال بندی اور دقت پسندی ہے۔ اوریہی چیز مرزادبیر کے تاج کمال کا طرہ ہے۔ خیال آفرینی ، دقت پسندی، جدت ، استعارات، اختراع تشبیہات، شاعرانہ استدالال شدت مبالغہ میں ان کا جواب نہیں ۔ لیکن وہ اس زور کو سنبھال نہیں سکے اس وجہ سے کہیں خامی ، کہیں تعقید اور کہیں اغراق ہو جاتا ہے۔ مضمون آفرینی کے سلسلے میں ایک مثال ملاحظہ ہو۔

دبیر :        جب  سرنگوں  ہوا  علم کہکشانِ شب

            خورشید کے نشاں نے مٹایا نشان ِشب

             تیر شہاب سے ہوئی خالی کمان شب

             تانی نہ پھر شعاع قمر نے سنان شب

 آ ئی  جو  صبح  زیور  جنگی  سنوار  کے

شب نے زرہ ستاروں کی رکھدی اتار کے

انیس:        خورشید   چھپا   گرد   اڑی   زلزلہ   آیا

              اک  ابر  سیاہ  دشت پر آشوب  میں چھایا

              پھیلی  تھی  جہاں  دھوپ وہاں ہو گیا سایہ

              بجلی  کو   سیاہی   میں   چمکتا   ہوا   پایا

جو حشر کے آثار ہیں  سارے  نظر آئے

گرتے ہوئے مقتل میں ستارے نظر آئے

بلاغت میں میرانیس اور مرزادبیر کی شاعری کی سرحدیں بالکل الگ ہوجاتی ہیں۔ مرزا دبیر کے کلام میں کہیں بھی بلاغت کا وصف اپنی اصلی حالت میں نہیں پایا جاتا۔ نوحہ ، غم ، فخر و ادعا، طنز و تشنیع ، ہجو و بد گوئی، سوال و جواب ، گلہ شکوہ ، کسی بھی مضمون کومرزا دیبر حالت کے موافق نہیں لکھ سکے۔

وہ بے محل اور خلاف موقع بات کہہ جاتے ہیں اور ان کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ کیا بات کہی یا کس طرح کہنی چاہیے تھی۔ایک جگہ حضور کی زبان سے مرزا دبیرنے یہ مضمون اد ا کیا ہے۔

محبوب ہوں خدائے ذوی الاحترام کا

 نانا  ہوں  میں حسین  علیہ السلام  کا

آنحضرت کی زبان سے حضرت امام حسین کے لئے "علیہ السلام" کا لفظ کس قدر ناموزوں ہے۔ اس طرح ایک اور جگہ میدان کربلا میں ایک مسافر اترتا ہے اورحضرت امام حسین سے ان کا نام پوچھتا ہے مرزا دبیر کے قول کے مطابق حضرت امام حسین جواب دیتے ہیں :         ہمیں حسین علیہ السلام کہتے ہیں

خود اپنے آپ کو علیہ السلام کہنا اور بھی نامناسب ہے۔ اسی موقع پر میرانیس لکھتے ہیں

   یہ  تو نہ کہہ سکے کہ شہ مشرقین  ہوں

مولا نے سرجھکا کے کہا میں حسین ہوں

ایک جگہ مرزا دبیر لکھتے ہیں ۔

   زیر قدم والدہ فردوس بریں ہے

یہ ترکیب فی نفسہہ کچھ خوبصورت اور لطیف و نازک ہے لیکن میر انیس کے اس مصرع کے سامنے بہت بھدی ہو جاتی ہے۔

کہتے ہیں ماں کے پائوں کے نیچے بہشت ہے

مجموعی جائزہ:

مولانا شبلی نعمانی نے "موازنہ انیس و دبیر " میں مرزا دبیر پر میر انیس کو ترجیح دی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مرزا دبیر کا کلام قابل توجہ نہیں ، مرزا صاحب بھی صفِ اول کے شاعر اور ایک بلند پایہ استاد فن ہیں ان کا رنگ میرانیس کے رنگ سے جدا ہے اور ایسی انفرادیت رکھتا ہے جس کی مثال اردو مرثیہ کی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ دراصل دو دبستان شروع ہی سے ساتھ چل رہے ہیں ایک کی نظر صرف زبان کی سادگی اور جذبے کی نرم روی پر رہتی ہے۔ دوسرا نگین بیانی اور خروش الفاظ پر جان چھڑکتا ہے۔ دونوں کی الگ الگ حیثیت و اہمیت ہے ان میں سے کوئی اسلوب غیر ادبی یا غیر شاعرانہ نہیں ہے۔ خارجی حالات بدلتے ہیں تو ہماری داخلی دنیا بھی بدل جاتی ہے۔ پسندیدگی و ناپسندیدگی کے معیار کچھ سے کچھ ہو جاتے ہیں ایک زمانہ تھا کہ صناعی سب کچھ تھی ۔ سادگی معیوب تھی آج سادگی سب کچھ ہے صناع نا مقبول ہے۔ لیکن ان دونوں بزرگواروں کے خلاقیت کو مدنطر رکھتے ہوئے انیس کو یوں بھی ترجیح حاصل ہے کہ زمانے کے فاصلے کے ساتھ ساتھ اردو ادب سے دوری ہوتی جارہی ہے لہذا آج کے دور میں مرزا صاحب کا کلام سر سے اتر جاتا ہے جبکہ میرصاحب کے کلام کی صدا آج بھی گونج رہی ہے اور ان کی سلاست بیانی کی وجہ سے شاید میر صاحب کا کلام ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے اور جاویدانی بن جائے۔

اساتذہ کے تاثرات

انیس کی شاعری پر ہر ادیب و شاعر نے تبصرہ اور پھر ان کی مدح کرنے کو اپنا افتخار سمجھا ہے لہذا ہم بعض ادبا وشعراکے نظریات پیش کرتے ہیں ۔

الطاف حسین حالی:

الفاظ کو خوش سلیقگی اور شائستگی سے استعمال کرنے کو اگر معیار کمال قرار دیا جائے تو بھی میر انیس کو اردو شعرا میں سب سے برتر ماننا پڑیگا۔ میر انیس کے ہر نقطہ اور ہر محاوہ کے آگے ہر اہلِ زبان کو سر جھکا نا پڑتا ہے۔ اگر انیس چوتھی صدی ہجری میں ایران میں پیدا ہوتے اور اسی سوسائٹی میں پروان چڑھتے جس میں فردوسی پلا بڑھا تھا وہ ہرگز فردوسی سے پیچھے نہ رہتے۔

اردو  گو چار سو  راج تیرا ہے

 شہروں میں کو بکو رواج تیرا ہے

پر جب تک انیس کا سخن ہے باقی

 تو لکھنًو کی ہے،  لکھنئو تیرا ہے

دلی کی زبان کا سہارا تھا انیس

 اور لکھنئو کی آنکھ کا تارا تھا انیس

دلی جڑ تھی تو لکھنئو اس کی بہار

دونوں کو ہے دعوی ہمارا تھا انیس

مرزا غالب:

اردو زبان نے انیس اور دبیر سے مرثیہ گو پیدا نہیں کئے۔ ایسے مرثیہ گو نہ ہوئے ہیں نہ پیدا ہونگے۔ انیس کا مرتبہ نہایت بلند ہے (یاد گارِ غالب۔واقعاتِ انیس)۔ میر انیس کے مقابلہ میں کسی اور کا مرثیہ کہنا میر انیس نہیں خود مرثیہ کا منہ چڑھانا ہے۔ آج لکھنئو اور دلی میں میر انیس کی مرثیہ گوئی کو معجزہ کلام مانا جاتا ہے (حیاتِ انیس ۔ امجد اشہری)۔

غالب نے لکھنئو کے ایک مجتہد عباس صاحب کے کہنے پر ایک مرثیہ کہنا شروع کیا۔ لیکن تین بند کہنے کے بعد یہ کہکر قلم رکھدیا کہ مرثیہ کہنا میرے بس کی بات نہیں۔ غالب کے کلام میں انیس کی تشبیہات، تلمیحات اور استعارے موجود ہیں۔ یہ عظمتِ غالب کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غالب میں استفادہ کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود تھی۔

میر انیس کے یہاں دوسرے شعرا ء کی قدر دانی غیر معمولی حد تک موجود تھی یہی وجہ ہے کہ میر انیس نے غالب کو یگانہ روزگار کہا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے کلام سے خوب واقف تھے اور ایک دوسرے کے دلدادہ تھے۔ میر انیس عمر میں غالب سے پانچ برس چھوٹے تھے اور انکا انتقال غالب سے پانچ سال بعد ہوا ۔ غالب کے انتقال پر میر انیس کی ایک رباعی:

گلزارِ جہاں سے باغِ جنت میں گئے

مرحوم ہوئے  جوارِ رحمت  میں گئے

  مداحِ  علی  کا  مقام  اعلی ہے

غالب اسد اللہ کی خدمت میں گئے

شیخ ناسخ:

 ایک دن آئیگا کہ انیس کی زبان اور شاعری کی عالمگیر شہرت ہوگی۔ ناسخ انیس کے استاد تھے۔ اور انیس کو انیس تخلص ناسخ نے دیا تھا۔اس سے پہلے انیس کا تخلص حزیں تھا۔

مرزا دبیر:

تازہ  مضمون  نظم  می فرمود ہر بحر شعر

چشمئہ چشمم  شود  ہم  چشمِ کوثر بے انیس

آسماں بے ماہِ کامل سدرہ بے رح الامین

طور  سینا  بے  کلیم  اللہ  ممبر بے انیس

یہ رباعی دبیر نے انیس کے انتقال پر رو رو کر ممبر پر پڑھی تھی۔ انیس کے انتقال سے کچھ روز قبل دبیر انکی جب عیادت کیلئے گئے اور دبیر نے پوچھا:

کہئے حضور مزاجِ معلی بخیر ہے

تو انیس نے جواب دیا:

ساغر تو بھر چکا ہے، چھلکنے کی دیر ہے۔

آتش:

  کون بیوقوف کہتا ہے کہ تم محض مرثیہ گو ہو۔ واللہ باللہ تم شاعر گر ہو اور شاعری کا مقدس تاج تمہارے سر کے لئے موزوں بنایا گیا ہے۔خدا مبارک کرے بھئی اس میدان میں کوئی تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ انیس کے مرثیہ پر سیکڑوں غزلوں کے دیوان صدقے کئے جا سکتے ہیں۔

محمد حسین آزاد:

جسطرح انیس کا کلام لا جواب تھا اسی طرح انکا پڑھنا بے مثال تھا۔اِن کے گھرانے کی زبان اردو معلی کے لحاظ سے تمام لکھنئومیں سند تھی۔ان کے ذریعہ ہماری نظم کو قوت اور زبان کو وسعت حاصل ہوئی۔

انیس کا کہنا تھا کہ نہ لکھنئو کا انکی زبان سے کوئی تعلق ہے او نہ انکی زبان کا لکھنئو سے کوئی تعلق ہے۔ انکی زبان انکے گھر کی زبان ہے۔

ابولکلام آزاد:

دنیائے ادب کو اردو ادب کی جانب سے میر انیس کے مرثئے اور مرزا غالب کی غزلیں تحفہ تصور کی جائیں۔ ادبیاتِ اردو اور اردو زبان کو قصرِ گمنامی سے نکال کر مراثی انیس نے بین الاقوامی سطح پر پہنچا دیا ۔

امداد اثر:

  شعراے نامی یعنی ہومر ورجل اور فردوسی میں ابو ا لشعرا ہومر ہی ہے۔ جس کے ساتھ انیس کا موازنہ صورت رکھتا ہے۔ ورنہ ورجل جو ہومر کا تتبع ہے انیس کا ہرگز ہم پایہ نہیں قرار دیا جا سکتا اور نہ انکی ہم پائیگی کا استحقاق فردوسی کو حاصل ہے۔ انیس کو فردوسی ہند کہنا انیس کی ایک بڑی ناقدر شناسی ہے۔ راقم کی دانست میں انیس کی کریکٹر نگاری ہومر کی کریکٹر نگاری سے بڑی معلوم ہوتی ہے۔ بلا شبہ و شک میر انیس وہ الہامی شاعر ہیں کہ تائیدِ غیبی بغیر انیس کا کمال کوئی بنی آدم پیدا نہیں کرسکتا۔ انیس کا موید من اللہ ہونا ایک امرِ یقینی ہے ۔

اکبر الہ آبادی:

  انیس کے کلام پر غور کرنا ذوق فہمی، نکتہ سنجی اور زبان شناسی کا فائدہ دیتا ہے ۔

مخمور اکبر آبادی:

 یونان میں جو درجہ ہومر یا فارسی ادب میں جو مقام فردوسی کا ہے وہی اردو میں انیس کا ہے۔انیس سے پہلے مرثیہ صرف مذہبی و اعتقادی صنفِ نظم سمجھا جاتا تھا۔ اس میں کوئی نمایاں ادبی اہمیت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہ فخر انیس کا حصہ ہے کہ اردو زبان میں ایسے نئے اور پرمغز باب کا ایسی قدرت اور حسنِ کمال سے اضافہ کیا۔ مرثیے سے پیکری حیثیت سے جو قوت و اثر لطافت و تازگی، سلاست و روانی انیس نے پیدا کردی وہ اب تک متقدموں سے ممکن نہ ہوئی تھی۔۔۔بہر عنوان مناظر کی نقاشی، میدانِ جنگ کی مصوری محبت کے علاوہ جرئت، ایثار، شرافت،انصاف، حق پسندی،حق گوئی جیسے بلند انسانی جذبوں کی مرقع کشی کے باب میں انیس کے مرثئے ایلیڈ،اینیڈ، رامائن،مہا بھارت اور شاہنامہ مقتدر اور مہتم بالشان لفظوں کے شاہکار میں جن سے اردو شاعری کا اخلاقی و تمدنی درجہ بہ مراتب بلند اور بہ منازل اہم ہوجاتا ہے۔ (صحیفہ تاریخِ اردو از سید محمد مخمور رضوی اکبرآبادی صفحہ ٢٢٩ -٢٢٧سال اشاعت ١٩٤٦ئ) ۔

جوش ملیح آبادی

حضرت جوش ملیح آبادی کی ایک نظم ہے میر انیس کی شان میں کہ جس کے چند مصرعے یہ ہیں:

 اے دیار لفظ و معنی کے رئیس ابن رئیس

اے امین کربلا، باطل فگار و حق نویس

ناظم کرسی نشین  و شاعر یزداں جلیس

عظمت آل محمد کے مورخ اے انیس

تیری ہر موج نفس روح الامیں کی جان ہے

تو مری  اردو  زباں  کا  بولتا  قرآن ہے

رزم کے میداں میں تو چلتی ہوئی تلوار ہے

بزم  کی محراب در  میں کلک گوہر بار ہے

اے  امامِ کشورِ  جادو  بیانی السلام

اے  کلیم طور  الفاظ و معانی السلام

ڈپٹی نظیر احمد:

  آپ دیکھئے کہ حق تعلی نے ایک اردو شاعر انیس کو کیسی قدرت عطا فرمائی اور اس کے قلبِ پاک کو کیا نور بخشا ہے کہ وہ خاصانِ خدا کے ارواحِ پاک کی باتوں کو اس پاک وصاف طریقے سے نظم کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے بلکہ یقین ہوجاتا ہے کہ وہی ارواحِ پاک بول رہی ہیں اور یہ بات بغیر الہام کے غیر ممکن ہے۔ اسلئے میری رائے میں اور شعراء دنیا میں آکر اپنے کسبِ علوم سے نامور ہوتے گئے۔ لیکن میر اانیس وہیں سے شاعر بناکر بھیجے گئے تھے اور مدارجِ اعلی پر فائز تھے۔

وفات

انیس شاید آنے والے حالات و واقعات سے بھی با خبر اور آگاہ رہتے تھے اور شاید اسی لیئے ٢٣جولائی ١٨٧١ء کو انہوںنے خاندان کے لئے ایک وسیع زمین گھر کے قریب ہی اسوقت تدفین کی خاطر ١٠٠ روپے میں خرید لی تھی۔ ١٨٧٤ئ میں ٢٤رمضان کو انیس بیمار ہوئے اور ابتدا میں ہونے والا بخار مرض الموت بن گیا اور یوں ١٠دسمبر  ١٨٧٤ء کو بوقت مغرب یہ آفتاب شاعری غروب ہو گیا۔

تہتر برس کی عمر میں انتقال کیا، غفران مآب کی امامبارگاہ میں سید بندے علی نے نماز جنازہ پڑھائی اور سبزی منڈی چوک میں اپنے ہی گھر کے باغ میں سپرد خاک کیا گیا۔ زندگی کے آخری ایام میں ایک رباعی یوں کہی۔

  وہ موج   حوادث   کا  تھپیڑا  نہ  رہا

کشتی  وہ  ہوئی  غرق   وہ   بیڑا  نہ رہا

سارے  جھگڑے  تھے  زندگی کے انیس

جب  ہم  نہ  رہے  تو کچھ بکھیڑا نہ  رہا

روح آن شاد

٭٭٭٭٭٭

دنیائے  رثائیت  کا  محور ہیں  انیس         اردو  معلی  کے  پیمبر   ہیں   انیس

جبریل تخیل  کے  جہاں پر جل جائیں         اس  منزل  معراج   پر  ہیں   انیس

 

٭٭٭٭٭٭

٭٭٭

٭


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 4 (نشريه بزم رأفت)، پيام رأفت نمبر 5 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن
[ چهارشنبه بیست و هفتم مهر 1390 ] [ 18:0 ] [ انجمن ] [ ]

آئینہ شعرو ادب ،عکس کربلا وحسین

 سجّاد حسین اطہر کاظمی            

مقدمہ

ہرقوم کا ادب اور اس کاخزانہ شعرونثرہے،یعنی قوم کے معراج خیال بلندیٔ عقل اورپروازفکرکااندازہ اس قوم کے افراد کی طرف سے صادرہونے والے نثری مجموعہ اورشعری مجموعہ کے ذریعے ہی ہوتاہے۔کیونکہ ادب کسی قوم کے عقل وشعور کے بیان کانمونہ ہوتاہے۔اوریہی وہ چیزیںہیںجوتہذیب نفس ،پختگی عقل اورصلاحیّت فہم وفراست کاباعث ہوتی ہیں ساتھ ساتھ زبان کوبھی مستحکم کرتی ہیں۔استادحکیمی ''پرارج ادبیات وتعہددراسلام''نامی کتاب میںلکھتے ہیںکہ!''ہرفکروفرہنگی کہ زبان شعررابہ کارنگیرد،درحق خودکوتاہی عظیم کردہ است،شعرازقدیم ترین آفریدہ ھای روح بشری است نہ تنہاء بیان،بلکہ القای احساس ودرک وتلقی ۔انسان روزیکہ خواست سخن رابہ رسالت بفرستدشعررااختراع کرد،طبع شعرولطافت شعور،ودیعۂ الٰہی است۔''ہروہ فکر اور ثقافت جو زبان شعر سے استفادہ نہیں کرتی اس نے اپنے حق میں ایک بہت بڑی کوتاہی کی ہے ۔شعر روح انسانی کی قدیم ترین تخلیق میںسے ہے ۔ یہ صرف بیان کی حد تک نہیں بلکہ درک وتلقّی اور احساس کو القاء کرنا بھی شعر کا کام ہے ۔ جس دن انسان نے چاہا کہ باتوں کو رسالت پر مأمور کرکے بھیجے تو اس دن شعر کو اختراع کیا ، شعر کی طبیعت اور شعور کی لطافت ودیعۂ الٰہی ہے۔

ہرعہدحکومت میںموجودشیعۂ امامیّہ کے شعراء نے شیعیان علی ابن ابی طالب علیہ السلام پرہونے والے مظالم ،یعنی خون تشیع سے رنگین تاریخ کوخوبصورت نثر اور دلکش نظم کے پیرائے میں پیش کیا ہے۔اوراِس طرح  اپنے ذوق سلیم اورطبع لطیف کے ذریعے اپنے آپ کوتاریخ عاشوراکاہمراہ اورہمنوابناتے ہوئے اِس تاریخ کو شعرواَدب کے آئینے میں سجایا ہے۔

ہم نے بتوفیق ِ خداوند متعال ایک کوشش کی ہے کہ اپنے دلی جذبات اور روحانی احساسات کو ناقابل انکار اور جالب افکار حقائق کا سہارا لیتے ہوئے ''آئینہ شعروادب ....عکس کربلا وحسین علیہ السلام'' کے زیر عنوان مقالہ میں ظاہر کرسکیں تاکہ ہمارا شمار عاشورائیوں اور حسینیوں میں ہوسکے ۔

   گر قبول افتد زہے عزّ وشرف

 بارگاہ حسینی میںعرض ادب

السّلامُ علیک یاصریع الدّمعة الحبریٰ،یامذیب الکبدالحریٰ،

السّلامُ علیک یاصریع العبرة السّابکة وقرین المصیبة الرّاتبہ۔

اشکوںسے بھری آنکھیں ،خشک ہونٹ ، کشادہ سینہ ، شعلہ ور دل ، پُرتلاطم روح ، لبوں پر ذکر وشکر کی جنبش ، وجوداقدس عشق الٰہی سے سرشار، دل یادخدامیںمصروف ، سرپررسول گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاتاج ،بدن پرماںکی امانت کہنہ پیراہن،آنکھوں کے سامنے اَشکوںکی محفل۔

اے میرے مولاو آقاحسین علیہ السّلام،اے منزل وحی کے رازدار!

آپ کے خیموںسے اُٹھنے والا طوفانِ غم ، ناموس خدا کے جلے ہوئے دل ، بچّوںاوربیبیوںکاگریہ ، بہنوںکی پُرسوزآہ و فغاں اوراطفال کی العطش ،العطش کی صدا، دنیاکوآنسوبہانے پرمجبورکررہی ہے۔

اے میرے مولاوآقا،اے ایمان وصداقت کاراستہ دکھانے والے،اے مصباح ھُدایٰ!

بدصفت کوفیوں،بے مروّت لوگوں ،شیطانی غلاموںکے غلاموں اوردعوت کرکے بے وفائی کرنے والوںنے آپ کی مادر گرامی سیّدۂ کونین حضرت زہراسلام اللہ علیہاسے بھی حیانہیںکی؟

اے میرے مولاوآقا!اے خون خدا!

محرّرین تیری استقامت اوروفاشعاری کولکھنے سے بے بس،شعراء تیرے صبرکی مدح سرائی میں حیراں، مقررین وخطباء تیری قربانی کے بیان سے قاصر اورادباء تیرے جذبۂ عشق کی گہرائی کے سامنے عاجز ہیں۔

اے میرے مولاوآقا!اے آئینہ صفات الٰہی ،اے انبیاء واولیاء کی محنتوں کو پروان چڑھانے والے!

مجھے آپ کی شہادت سنتے اورپڑھتے ہوئے موت آجائے،کہ آپ کے مصائب کابیان سن کرزکریّا راستہ نہ چل سکے،رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی شہادت کی سوچ سے گریاںرہ گئے ،علی مرتضٰی علیہ السّلام پریشان ہوگئے،زہراء مرضیّہ سلام اللہ علیہااشک ریزاںہوگئیں اور جب تک زندہ رہیں آپ کی شہادت کے دن کی سو چ کر یوں نوحہ سرائی کرتی رہیں (واحسینا ذبیحا من قفا واحسیناہ قتیلا بالدمائ)۔اور حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے دم شہادت آپ کے روز شہادت کو بے مثال (لایوم کیومک یااباعبداللہ )کہہ کر آنسو بہاتے رہے۔

شایدقربانگاہ میںحجّاج آپ کے نام پر قربانی کرتے ہوں،شایدلباس احرام سے بدن کوسجانے والے سرزمین عرفات میںآپ کے دکھائے ہوئے راستے کی تلاش میںہوں۔چونکہ آپ فرزندمکہ ومِنٰی ہیں ،آپ فرزندزمزم وصفاء ہیں۔

اے میرے مولاوآقا!

شہوت نفسانی کے پیروکاروحشی درندوںنے تیرے بدن اقدس کوپارہ پارہ کیا،جنگل کی لومڑیوںنے دعوت ناموںکے حیلہ وبہانے کوتیروتلوارسے کھولااورکفرکے بسترکی حرام نسل نے اپنی پلیدی کی بیعت کا مطالبہ کیا۔

اے میرے مولاوآقا!اے بے مثال ولازوال!

آپ نے کیاخوب فرمایاکہ!''انّ الدّعی ابن الدّعی قد رکز بین اثنتین، بین السّلة والذّلّة وھیھات منّاالذّلّة:یأبی اللّٰہ ورسولہ والمؤمنون وحجورطابت وطہُرت،وانوف حمیة ونفوس ابیہ من ان تؤثرطاعة الّئام علیٰ مصارع الکرام'' اس وقت حرام زادے کابیٹے حرام زادے نے مجھے دوچیزوںکے درمیان مجبور کردیاہے ایک موت اوردوسری ذلّت وخواری۔ اورذلّت ہم خاندان عصمت وطہارت سے کوسوںدورہے۔

خداوندمتعال، اس کے رسولۖ، اہل ایماںاورپاکیزہ آغوشیں(جن میں،میںنے پرورش پائی)اوروہ لوگ جوستم کوقبول نہیںکرتے اوروہ افرادجواپنے آپ کوذلّت کی نذرنہیںہونے دیتے سب اس سے دوری اختیار کرتے ہیں۔کیونکہ (ان کے نزدیک)پلیداورنجس لوگوںکی فرمانبرداری سے شرافت اورعزت کی موت بہترہے۔اوراس طرح سے آپ نے دنیاکوسمجھادیاکہ اے دنیاوالو!انسانیت کے دائرے میںاگرہوتو ''ذلّت کی زندگی سے عزت کی موت افضل ہے۔''

اے میرے مولاوآقا! اے لا ثانی ومنفرد!

نجاست کھاکرپلے ہوئے حیوانوں،ابلیس لعین کے سفیرملعون یزیدکے طرفداروںاورحق وحقیقت سے دورلوگوںنے آپ کی اچھائیوںکاجواب بُرائی اورآپ کے ہدایت سے بھرے جملوںکاجواب تیروتلوارکے حملوں اورآپ کی دلیلوںکاجواب پتھروںسے دیاتوآپ نے اپنی مظلومیت کوتاریخ میںثبت کرنے کے لئے فرمایا:ہل من ذاب یذب عن حرم رسول الّٰلہۖ ہل من موحدٍکتاب اللّٰہ فینا،ہل من مغیث یرجواللّٰہ اغاثتنا، ہل من معین یرجواماعنداللّٰہ فی اعانتنا، ہل من ناصرینصرنا؟ کیاکوئی ہے ؟ جوحرم رسول خداۖکی پاسداری کرئے ،کیاکوئی توحیدپرست ہے؟جوہمارے بارے میںخداسے ڈرے ، کیاکوئی ہے؟ جوہمیںپناہ دے کراللہ کی پناہ کی اُمیدمیںرہے۔کیاکوئی ہے؟ جوہماری مددکرکے اللہ سے اُس کااجرلینے کا اُمیدوار ہو۔کیا کوئی ہے جوہماری مددکرئے؟

اے میرے مولاوآقا!اے میرے مظلوم امام!

اُن زندہ جنازوںنے آپ کے استغاثے کو سُننے سے انکار کیا،آپ کی آوازپرلبیک نہیںکہا،آپ کی نصرت اوربقاء دین الٰہی کی خاطرجان دینے کے لئے گروہ باطل سے نہیںنکلے ۔افسوس اُنہوںنے رسولۖ کے نواسے،علی  کے دُلارے اورزہراء مرضیّہ سلام اللہ علیہا کے جگرپارے کوتنہا چھوڑا،بلکہ آپ کے خشک ہونٹ اورپیاسے گلے کی طرف زہر بھرے تیروںکی بارش برسائی،یوں علی  وزہراء کے نازوںسے پلے بیٹے کوشہیداوراولادپیامبرکواسیرکردیا۔

ہاں انکے لئے قرآن نے اعلان فرمایا ہے :  ''وسیعلم الذین ظلموا ایّ منقلب ینقلبون'' اور یہ لوگ اس دن اپنے انجام کو دیکھیں گے جب یوسف زہرا ۖ اور خورشید امامت خدا کے حکم سے افق جہان پہ طلوع کرے گا اور مہدی برحق اپنے مظلوم جدّ نامدار کے خون کا بدلہ لینے کے لئے ''یالثارات الحسین'' کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ذوالفقار علی  کو ہوا میں گھمائے گا تو ہر ظالم اپنی عاقبت اور انجام سے واقف ہوجائے گا۔ اللہم عجل لولیک الفرج!

سلام،فرزندرسول ۖ ،گلستان علوی کے پھول اورجگرگوشۂ بتول سلام اللہ علیہاپر!کہ جس نے اپنے ناناکی محبت ،والدگرامی کی سخاوت اورماںکے شِیرکی حلاوت کی لاج رکھی۔

سلام،اُس ہادیٔ برحق پر!کہ جس نے اپنی آخری سانس تک دنیاوالوںکودین کاپیغام دیا۔

سلام،اُس قاریٔ قرآن پر!کہ جس نے شام وکوفہ کے بازاروںمیںنوک نیزہ پرقرآن کی تلاوت کرکے قرآن کی تلاوت کا حق اداکرنے کے ساتھ اہل دنیاکوبتلادیاکہ حقیقی وارث قرآن ہم ہیں اور ہمارے علاوہ کوئی اور نہیں ہے۔

سلام، اُس حرم الٰہی کے محافظ پر!کہ جس نے حرمت حرم اورعظمت کعبہ کوبچانے کے لئے حج کوعمرہ میںتبدیل کرکے بہت دشوار راہوں کا راہی ہوا۔

سلام، اُس پاسبان وحامی شریعت پر!کہ جس نے امرباالمعروف اورنہی عن المنکرکی خاطروطن کوترک کیااوراپنے خطبے میںفرمایا! ''انّی لم اخرج اشرا ولابطرا ولا مفسدا ولا ظالما و انما خرجت لطلب الاصلاح فی اُمّة جدّی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اُرید ان آمر بالمعروف وانہیٰ عن المنکر واسیرَ بسیرة جدی وابی علی ابن ابی طالب( علیہما السّلام)''تاکہ لوگ سمجھ جائیںکہ فرزند نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاسفرباطل اورظالم حکومتوں کے خلاف قیام ہے اورامرباالمعروف ونہی عن المنکرکاسفرہے۔

سلام، اُس ذمّہ داراسلام پر!کہ جس نے اسلام کی بقاء کی خاطربھراگھرلُٹادیا۔

سلام،اُس مجاہدفی سبیل اللہ پر!               کہ جس نے تین دن کی بھوک اور پیاس کی شدّت کے باوجود جہادکیا اورشجاعت علی علیہ السّلام کی لاج رکھتے ہوئے دشمنوںکوباب کوفہ تک بھاگنے پرمجبورکیا۔

سلام،اُس عبادت شعارپر!کہ جس نے ستم کے خنجرتلے روح عبادت کو معراج کا اَوج بخشا۔

سلام،اُس سجدہ گذارپر!کہ جس نے تیروںکے مصلّے پرسجدہ شکرانہ اداکیا۔

سلام،اُس عدل ومساوات کے علمبردارپر!کہ جس نے اپنے زانو پر سر رکھنے میں جون غلام اورشبیہ پیامبرعلی اکبرعلیہ السّلام میںفرق نہیںکیااور امتیازی رویّہ نہیں رکھا۔

سلام ا ُس صاحب ایثار پر!کہ جس نے راہ حق میںاپنے طفل شِیرخوارکوبھی قربان کیا اور اس کے خون سے اپنی سفید ریش مبارک کو خضاب کر کے فرمایا : بارالٰہا ! تو گواہ رہنا۔

سلام،اُس راکب دوش نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر!کہ جس کی خاطررسول اکرمۖ مدینے کی گلیوں میں سواری بن کرچلے اوراللہ نے اُن شہزادوںکے صدقے میںاُس زمین کوجہاںرسولۖ اُن کی سواری بن کر چلے تھے رضوان جنّت قراردیا۔

سلام،اُس وارث خلق عظیم پر!کہ جس نے نہ فقط دشمن کے لشکر کو سیراب کیا بلکہ ان کے گھوڑوں کو بھی پیاسا نہ چھوڑا۔

سلام،اُس رحم وکرم کے مالک ،عبدکریم ورحیم پر!کہ جس نے حُرجیسے سخت ترین مجرم کی خطاء کومعاف کرکے اسے اسم با مُسمّیٰ بنا دیا اور اس طرح لوگوںکواللہ کی رحمت ومغفرت کی جانب متوجّہ کیا۔

سلام،اُس مالک صبرعظیم پر!کہ جس کی آنکھوں کے سامنے جوان بیٹوں اور بھائیوں کو شہید کیا گیا مگر ذرّہ برابر بھی صبر میں کمی نہیں آئی اور اس سے بھی آگے اپنی بہنوں،بیٹیوںاورخاندان عصمت کے بیبیوںکی چادرچھنّے پربھی صبرکیا۔ایسے صبر کے مظاہرے پر انبیاء واولیاء کے ساتھ ملائکہ آسمان بھی حیرت زدہ رہ گئے۔

سلام،خاک وخون میںشہیدہونے والے فرزند زہراء پر!کہ وقت شہادت جسکاسراپنی ماں کی آغوش میںتھا۔اور بی بی صدائیں دے رہی تھی : اے اہل ظلم وجفا! میرے بچے کو کس جرم میں شہید کیا جارہا ہے؟

سلام،اُس صاحب احسان پر!جومحسن انسانیّت،محسن اسلام اورمحسن انبیاء ورُسل ہے۔

سلام، پیاس کی شدّت اوردھوپ کی حدّت میںاسلام بچانے کی خاطرقربان ہونے والے مظلوم حسین علیہ السّلام پر!کہ جس نے اپنے آخری وقت میںاپنے شیعوںکویادکیااورپیغام بھیجا:

شیعتی ما ان شربتم ماء عذبٍ فاذکرونی

او سمعتم  بغریب ٍ اوشہید ٍفاندِبونی

لیتکم  فی یومٍ  عاشورا جمیعاً تنظرونی

کیف استسقی لطفلٍ فأبوا أن یّرحمونی

ترجمہ:

میرے شیعو! اگر تم لوگ ٹھنڈا پانی پینا تو میری یاد کرنا، اور اگر میری غربت اور شہادت سنو تو میرا غم منانا، اے کاش! تم لوگ مجھے روز عاشورا میں دیکھ لیتے کہ میں نے کس طرح ایک بچّے کے لئے پانی مانگا اور ان لعینوںنے منع کیا۔

اور یہ پیغام قیامت تک ہردل کودُکھانے والااورہرآنکھ کورُلانے والاہے،وہ آنکھ آنکھ ہی نہیںجواِس پیغام کے بعداَشک بار نہ ہوجائے ۔ بقول شاعر  

وفا  کا  نور  دنیا  میں  کبھی  مدھم  نہیں  ہوتا

غم  شبیر  بڑھتا  جا  رہا   ہے  کم  نہیں  ہوتا

وہ دل دل ہی نہیں پتھر کے ٹکرے سے بھی بدتر ہے

کہ جس  دل  میں نبیۖ  کے  لاڈلے کا غم نہیں ہوتا

سلام،اُس حسین مظلوم علیہ السّلام پر!کہ وقت آخرسجدہ معبودمیںاپنے ناناکی امّت کی بخشش کی دعامانگی اوربہن کووصیّت کرتے ہوئے فرمایاکہ بہن زینب!جوبھی مصیبت آئے صبرکرنااورناناکی اُمّت کے لئے کبھی بددعانہ کرنا۔

سلام، عزیزحسین پر،سلام غریب حسین پر،سلام شہیدحسین پر،اے میرے مولا و آقاحسین علیہ السّلام!  

                تجھ سے سیکھا ہے  محبّت  کا  سبق اطہر نے  

                اور میرے دل کو تیرے عشق نے  آباد  کیا

                                                                تیرے ماتم میںجیوںاورتیری مجلس میںمروں

                                                                ہے تیرے عشق نے کچھ اِس طرح  بیداد کیا

                بس یہ افسوس ہے! ہم زندہ نہیںتھے اُس دم                                           

                جس  وقت  تو نے  مدد کے لئے  فریاد کیا

                                                                تجھے ہر گز نہیں بھولیں گے  عزادار  تیرے                                                                      تونے جب وقت شہادت بھی ہمیںیاد  کیا

اے میرے مولاوآقا !اے معزّز ومقرّب بارگاہ خدا!آپ کے واسطے سے بارگاہ الٰہی میںدعاہے کہ ، اس حقیرنے اپنی فکرسے آپ کی خدمت کرنے کی کوشش کی ہے ۔اپنے وجود،قلم اورقرطاس کوآپ کی خدمت میںتقدیم کیاہے اورکوشش کی ہے کہ ناچیز چندسطروںکوآپ کے چاہنے والوںکی خدمت میںپیش کروں۔بس آپ کو اپنے شہیدبیٹوںاوراسیر بیٹے جناب سیّدسجّادعلیہ السّلام کاواسطہ اپنی نظر رحمت سے اِس کوعزّت بخشیں۔اوراِسے بارگاہ الٰہی میںشرف قبولیت سے مشرّف فرمادیں تاکہ حقیرکے لئے ذخیرہ آخرت اور قارئین کے لئے ہادی اور مشوّق صراطِ حقیقت ثابت ہو۔

اے میرے مولا! یہ زمانہ آپ کی تعریف اور غم میں شعر کہنے والوں کے خلاف ز بان کھول رہا ہے تو چاہا کہ آپ کے مرثیہ نگاروں اور شعراء کی عظمت کو حتی الامکان رشتہ تحریر میں لاؤں تاکہ بقول علامہ کلیم الٰہ آبادی   

مدحت  آل  کی توقیر  تو رہ جائے گی

میں نہ رہ جاؤں گا تحریر  تو رہ جائے گی

سلام بحضور بادشاہ مملکت صبر

سلام صبر وسخاوت کے تاجدار حسین          سلام شہر شہادت کے شہسوار حسین

سلام  دین  الٰہی کے  پاسبان سلام        سلام دین الٰہی کے ذمہ دار حسین

سلام  دیدۂ زہرا ،  سکون  قلب علی      سلام دوش نبوّے کے اے سوار حسین 

سلام  شمع امامت،  سلام نور خد ا         سلام مولا حسن کے شریک کا ر حسین 

سلام  محسن  انسانیت  شعور بشر         سلام محسن  اسلام ِ  کردگار  حسین 

سلام  راہ خدا کے شہید ،ذبح عظیم!        سلام  حیدرِ  میدان ِ  کارزار حسین

سلام  رونق گلزار دین ،  ولی خدا!       سلام  جنّت فردوس  کی  بہار  حسین 

سلام  ِ اطہر   ناچیز  ہو  قبو  ل  حضور 

ہے جسکے لب پہ شب وروز  باربارحسین

کربلا--- سرزمین کرب وبلا

لامتناہی تعریفیں اس خالق ازل اور بزرگ وبرتر خدا کے لئے کہ جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پھر قلم کے ذریعے تعلیم دی اور انسان کو ہر وہ علم عطافرمایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

تما م حمد اس ذات کے لئے جس کا ارادہ عمل اور جس کا وجود بے مثل ہے ۔ جس کی ذات عین صفات اور جس کی صفات عین ذات ہے ۔ سپاس فراوان وبے پایان اس خدا کے لئے جس کی کوئی ابتداء نہیں اور انتہاء کا سوچنا ہی اس کی ذات میں شریک لانے کے مترادف ہے۔ جو رحمن ورحیم ہے اور دونوں جہان کا پروردگار ہے۔

                شکر مسلسل اس خالق کون ومکان کے لئے کہ جس نے نعمت اسلام ، پیروی احکام نورانی اور اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور انکی آل پاک کی محبت وعشق سے ہمیں نوازا او رہمارے دلوں کو اس دائمی اور پائیدار دولت سے مالامال کیا۔

نیز ہزاروں ، لاکھوں، کروڑوں درود وسلام اور صلواة بے کراں ہو آدم سے لیکر خاتم تک تمام انبیاء واولیاء وشہدائے راہ حق کی ارواح پاک پر کہ جنہوں نے ایک لحظہ بھی بشر کی ہدایت میں کوتاہی نہیں فرمائی۔ خصوصا ً رسول گرامی اسلام اور اس کی آل پاک پر کہ جنہوں نے آسائش دنیوی کے مقابلے میں تبلیغ دین اور دین کی راہ میں قربانی پیش کرنے کو ترجیح دی اور اسلام الٰہی اور نظام مقدس اسلامی کی بقاء کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیا ۔ علی الاخص سلام ودرود خدا وملائکہ و صدّیقین ہو روح مطہر سوّمین خورشید آسمان امامت وولایت سید وسالار شہیدان بنیان گذار دانشگاہ عشق ، ایثار وشہادت امام آزادگان، قبلہ درد مندان ، حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام ، آپکی پاک اولاد ، آپکے باوفا اصحاب اور سرزمین کربلا پر جسے ہمارے آقا ومولا مظلوم کربلا سید الشہداء علیہ السلام کے علاوہ کوئی آباد نہ کرسکا ۔

معاشرہ اور تاریخ میں ہر انقلاب کا آغاز ایک بزرگ اور قابل تقلید گام پر مبنی ہوتا ہے وہ گام جو    ٦١ ہجری قمری میں محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو فرزند رسول حسین ابن علی (علیہما السلام) نے انجام دیا۔ اور وہ ایثار وقربانی جو انہوں نے اپنے ایمان اور عقیدت کی سچائی کے ساتھ راہ خدا میں پیش کیا تاکہ قرآن واسلام اور کلمہ لاالہ الا اللہ زندہ وتابندہ رہیں۔اسکی مثال پوری تاریخ بشریت میں نہیں ملتی۔

                 تاریخ کے فرازونشیب میںبہت سارے لوگ ایمان وعقیدہ اوررضائے الٰہی کی راہ میںمارے گئے،بہت سارے لوگ اصول انسانیّت کا احترام کرتے ہوئے لذّات دنیوی وشہوات نفسانی سے چشم پوشی اختیارکرگئے۔اورپرہیزگاری،تقوایٔ الٰہی،ایمان اورسلوک راہ خداکودنیاکی جلدگذرجانے والی خوشیوں اور لذّتوں پرترجیح دی مگرکوئی بھی حسین ابن علی علیہ السلام نہ بن سکا ۔

 پس اُسی روسے بہت سارے تحوّلات اورانقلابات کاآغاز،جمعیّت بشرکے افرادکے افکاراوراقوال وافعال میںاُسی تاریخ عاشوراکے سبب سے ہوااور ان تمام آثار کا ظرفِ مکا نی وہ زمین تھی جسے کربلا کہا جاتا ہے ۔

آج تک دنیامیںجتنے بھی ظالم بادشاہوںکے تختے نظام عدالت کے ذریعے اُلٹ گئے اورقلعوں اورمضبوط مقامات میںرہنے والوںکوصفحہ ہستی سے نابودکیا گیا اورمردہ بادسے متصف کیا گیاتواُن تمام نظام عدل وانصاف کے چاہنے والوںاورظلم وبربریّت کے خلاف قیام کرنے والوںکے دلوں میںحمّاسۂ عاشورا کااثر ضرورموجودہے۔چاہے وہ ایران میںامام امّت خمینیبت شکن کاانقلاب ہو،لبنان میںحزبُ اللہ کاانقلاب ہو،برصغیر کے مسلمانوںکاانقلاب ہو،کشمیروفلسطین کے حرّیت پسندعوام کاصبرواستقامت اورشہادت پسندی ہو،یایمن میںگروہ الحوثی کی جدّوجہدآزادی ودفاع ازدشمنان ہو،اِن تمام تحوّلات میںرنگ کربلااورحمّاسۂ کربلاکااثرہے۔کیونکہ چودہ سوسال گذرنے کے بعدبھی تاریخ کربلاآج کے انسانوں کے سامنے بالکل تازہ اورجاویدہے اورجس طرح امام حسین علیہ السلام اوراُن کی اولادواصحاب نے عاشورہ کے دن انقلاب برپاکرکے یزیذویزیدیت کوذلیل ورسواکیااُسی طرح آج بھی لوگ ہرروزحماسۂ عاشورا سے متاثرہوکرظالم وجابر حکمرانوںکے خلاف جہادوقیام میں مصروف ہیںیہ قیام وجہادکاشعورتحوّلات کاآغازہے۔اوریہ شعوربخشنے والاحمّاسۂ عاشورا حسینی ہے جس کادرس ہرطالب علم کو دانشگاہ ایثاروقربانی وشہادت کربلاسے ملتاہے۔

                چودہ سوسال گذرنے کے بعدآج تک واقعہ کربلا بغیرکم وکاست ہرفردکے ذھن میںمنتقل ہوتاچلاآرہاہے اوراِسی دن کی طرح حُر صفت افرادکے اندرتحوّل اورانقلاب پیداکررہاہے اورکرتارہے گا۔چودہ سوسال گذرنے کے بعدبھی اِس ایثاروقربانی اورشہادت کاپیغام بغیرکسی کم وکاست کے آج کی نسلوںتک منتقل کرنے کا سبب اورافکارکے سمندرمیںتلاطم پیداکرنے کا ذریعہ تنہاء زبان شعروادب ہے۔

امام حسین علیہ السلام کے قیام اورحمّاسۂ کربلادوچیزوںکے ذریعے نسل درنسل منتقل ہوئے ۔

١۔  مؤرخین اورتاریخ نگاروںکے ذریعے                           ٢۔  اشعارومراثی کے ذریعے۔

جس طرح تاریخ اورمؤرخین کے ذریعے حمّاسۂ کربلاکا پیغام ہم تک پہنچا ہے اگرچہ اُسکا نتیجہ مفیداورتحوّل آورہے مگراِس قدرمؤثراورماندگارنہیںہے۔جس طرح شعروشاعری اوراَدب مؤثرہے۔

اوراِس طرح کہنابھی بے جانہیںکہ شعرو اَدب کی ایک بیت ،ایک کتاب تاریخی سے زیادہ اثررکھتاہے۔ کیونکہ یہ انسان کے درون قلب کی آوازہوتی ہے اورجس قدر شعراخلاص اورپاک وپاکیزہ احساسات پرمبنی ہوتاہے اُس قدراسکااثربھی زیادہ ہوتاہے۔اِس بناء پرجس طرح نام حسین علیہ السلام ظلم وستم اورناانصاف کے خلاف ایک بہت بڑاتازیانہ ہے اِسی طرح شعراء حمّاسۂ حسینی بھی ظلم وجبراورناانصافی کے ساتھ حقوق بشریّت اورحقوق خاندان عصمت وطہارت سے کھیلنے کی کوشش کرنے والے ظالم وجابربنی اُمیّہ اوربنی عبّاس کے حاکموںاور ان کی حکومت کے لئے ایک سخت ترین خطرہ اوران حکومتوںکے سروںپر اشعارحسینی ایک دردناک تازیانہ بن کراُبھرے ہیں۔

جیسے کُمیت  اوران کے اشعار،فرزدق اوران کے اشعار،حمیری اوران کے اشعار،عبدی کوفی اوران کے اشعار،دعبل خزاعی اور اُن کے اشعاراِسی طرح دیگربہت سارے شعراء اہل حق کہ جن میں سے بعض کوشہیدکیاگیااوربعض کوزندانوںمیںڈالاگیا۔لیکن آج تک فضامیںشعراء اہلبیت کی آوازیوںگونج رہی ہے کہ    

تلواروتبرونیزہ وزنداںکی سزاسے

شبّیرکا  ماتم نہ رُکا  ہے  نہ رُکے گا

اوران عداوتوںنے یہاںتک سراُٹھایاکہ حکومت وقت کے سامنے امام حسین علیہ السلام کانام لینااوراُن کاذکرکرناممنوع اورخطرناک ترین جرم قراردیاگیا۔

پس ہم یہاںمختصرسی گفتگو میں عکس کربلا وحضرت امام حسین علیہ السلام کوشعرواَدب کے آئینے میںدیکھنے کی کوشش کریںگے۔اوراِس مختصرسی بحث کوہم چندحصّوںپرتقسیم کریںگے تاکہ قارئین کرام معنی ومفہوم کوعنوان کے آئینے میںدیکھتے ہوئے اپنے لوح فکروشعورمیںثبت کرسکیںاورخودحقیرکوبھی اِس طرح بحث کرنے میںلذّت حاصل ہو اورقارئین کرام کوبھی احساس تلذّذ ہوجائے۔

امام حسین علیہ السلام شعر وادب کے آئنے میں

اما م حسین علیہ السلام کے بارے میں رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس قدر احادیث سے لوگوں کو آگاہ فرمایا ہے اور خود امام حسین علیہ السلام کے پاک وپاکیزہ کردار کے ذریعے انکی عظمت اور شخصیت سے دنیا آگاہ ہوچکی ہے ۔اِس سے ہٹ کراگردیکھا جائے توپوری دنیا میںامام حسین علیہ السلام کی ذات ایک ایسی عظیم شخصیّت ہے جس کی عظمت ہرانسان کے دل میںہے ہر مکتب فکرسے تعلق رکھنے والاہرایک شخص  نام حسین علیہ السلام کی عظمت کااحترام کرتاہے۔

                  انسان  کو  بیدار  تو ہو  لینے  دو

         ہرقوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

                امام حسین علیہ السلام کی عظمت کا دوسرا رُخ فقط آپ کی عصمت ہی نہیں بلکہ عصمت کے دائرے سے ہٹ کربھی محض انسانیت کے اعتبار سے دیکھاجائے توامام حسین علیہ السلام کی شخصیّت کی بزرگی کایہاںسے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ امام علیہ السّلام کے بارے میںہرزمانے میںہروقت ہرصوت ولحن اورہرزبان میںاُنکی مدح سرائی ہوئی ہے۔ اوردنیاکی ہرزبان میںباصلاحیّت افراد نے مدح ورثائے امام حسین کو اپنے شعرو ادب کی زینت قرار دیاہے۔

واقعہ کربلاتاریخ کاایک ایساواقعہ ہے جواہم ترین اثرات رکھتاہے اوراُس کاایک عظیم اوراہم اثریہ ہے کہ اس واقعے نے شعروشاعری کی تاریخ کودگرگون کردیاہے اورشعراء واشعارکی دنیاکواُسی واقعے کے ذریعے ترقی حاصل ہوئی ہے۔اور کہاجاسکتاہے کہ اس کائنات میںشعروشاعری کوزندہ کرنے والاواقعہ تاریخ کربلا کا واقعہ ہے۔ عربی،فارسی ،اُردو،بلتی ،ہندی ،گجراتی ،سرائیکی،پنجابی وسندھی غرض جس زبان کی شاعری ہوہرزبان کوقابل قبول اور اسلامی شاعری بنانے والاواقعہ تاریخ کربلااورامام حسین علیہ السلام بے مثال ولازوال عاشقانہ ومخلصانہ شہادت کا سانحہ ہے۔ مثال کے طور پر اردو زبان کی شاعری کے بلند آسمان سیدمیر ببر علی انیس کی شناخت میں کربلائی شاعری ہے۔

 

                   آباد کس طرح یہ صحن فاطمی ہوا

        کس کی نظر لگی کہ یہ گھر ماتمی ہوا

امام حسین علیہ السلام کی ذات کے بارے میںشاعری کرنا عام انسان کے بس میں نہیںہے،بلکہ اس کے لئے اللہ کی خصوصی توفیق،امدادغیبی اورالہام خصوصی کی ضرورت ہوتی ہے اورجب ایک انسان خودکوامام حسین علیہ السلام کی شان میںمدح سرائی کے لئے آمادہ کرتاہے تووہ سب سے پہلے اللہ اوراُس کے قریب ترین بندوںسے متوسّل ہوتاہے اوریہ سلسلہ اُس انسان کودعاوبندگی کاہُنرسکھاتاہے۔اوررفتہ رفتہ وہ انسان رازونیازکاعادی ہوجاتاہے اوروہ اپنے پروردگارکا قرب پاکر اپنی تخلیق کے مقصد کے قریب ہونے لگتا ہے۔یہ امام حسین علیہ السلام کی شاعری کااثرہے کہ ایک انسان جواب تک اپنے وجودکے ہدف سے آگاہ نہ تھا وہ خداکی معرفت کی دولت سے مالا مال ہوجاتا ہے ۔

یہ اُس عظیم شخصیّت کی مدحت سرائی کے شوق وجذبے کااثرہے کہ ایک عام انسان ہرمحفل کی زینت اوررونق قرارپاتا ہے۔اوربغیرتحصیل وتعلّم کے نعمت الہام سے سرفرازہوکراہل منطق کے درمیان منطقانہ، فلاسفہ کے درمیان فلسفیانہ ،عرفاء کے درمیان عارفانہ اورعلماء کے درمیان عالِمانہ کلام پیش کرپاتا ہے ۔

اوراُس عظیم ہستی کی شاعری کی مخلصانہ خدمت انسان کوانسانیّت کے دائرے میںداخل کرکے فرشتوں سے بالاتراورفہم وحدانیّت الٰہی کے قریب ترکردیتی ہے۔

بہر حال عاشورائی شاعری کے اثرات کو بھی ہم عنقریب انشاء اللہ العزیز بیان کریں گے۔مگر یہاں اسی بات کے تسلسل میں ڈاکٹر نصیر اعظمی  کی ایک رباعی پیش کروں گا تاکہ ادب ادب میں رہے۔ڈاکٹر صاحب نے جس خوبصورت انداز میں شعر کہا ہے اسی انداز میں آپ سمجھ بھی جائیں گے ۔  

    اسکول نہ کالج کی ہے تعلیم کے محتاج               یہ  مدرسۂ  مجلس  ومحفل  کے پڑھے  ہیں

اے شیخ حرم! ان کی فضیلت کو نہ تو پوچھ         اس قوم کے بچّے تیرے بوڑھوں سے بڑے ہیں

امام حسین علیہ السّلام کی شان میں شاعری کیوں زیادہ ہوئی؟

امام حسین علیہ السّلام کی شان میںشعراء کی شاعری زیادہ ہونے کی چند ایک وجوہات یہ ہیں۔

١: عشق حسین علیہ السّلام:امام حسین علیہ السّلام نے جوراہ خدا میںقربانی پیش کی،چاہے وہ قربانی مال ودولت کی ہو،چاہے وہ اپنے عزیزوںسے جدائی کی ہو،چاہے وہ اپنے ناناکے شہرسے جنگل کی طرف ہجرت کی ہو،چاہے وہ اپنی نانی اوراپنے عزیزواقرباء سے فرقت کی ہو،چاہے وہ پیاس اوربھوک کی شدّت کی ہو،چاہے وہ انصارویاوران کی قلّت کی ہو، چاہے وہ دوستوںاورتابعین کی شہادت کی ہو،چاہے وہ بھائی حسن علیہ السّلام کی یادگارسے محرومیت کی ہو،چاہے وہ قوّت بازو،زور کمر حضرت عبّاس علیہ السّلام جیسے باوفا بھائی کی ہو،چاہے وہ آنکھوںکے نور،شبیہ پیمبرحضرت علی اکبرعلیہ السّلام کی جوانی کی ہو،چاہے وہ شش ماہہ علی اصغرعلیہ السّلام کی قربانی کی ہو، چاہے وہ جلتے ہوئے خیموںکی ہو،چاہے وہ زینب وکلثوم(علیہماالسّلام) جیسی باعظمت بہنوںکی چادروںکی ہو،چاہے امام سجّاد علیہ السّلام جیسے ضعیف البدن بیٹے کی اسیری کی ہواورچاہے وہ رُقیّہ وسکینہ(علیہماالسّلام)جیسی نازوںکی پلی بیٹیوںکی یتیمی کی ہو۔

غرض جوقربانیاں امام علیہ السّلام نے پیش کیں،اُن کی اللہ تعالیٰ نے اِس قدرپذیرائی کی اوراس حدتک قبول کیا کہ ان کا ایک چھوٹا سا اثر یہ قرار دیا کہ امام حسین علیہ السّلام کی محبت انسانیّت کے دلوں میںموجزن کردی۔ جیسا کہ صادق آل محمد علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ان للحسین فی قلوب المومنین حرارة لا تبردہ ابداً یعنی لوگوں کے دلوں میں حسین علیہ السلام کے لئے ایک ایسی حرارت محبت ہے جو کبھی خاموش اور ٹھنڈی نہیں ہوسکتی۔

اُس عظمت کاذکریوںکروںتوبے جا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوںکوبااختیارخلق فرمایااورقر آن میںیہ بھی اعلان کیاکہ! ''اِنّاہدینٰہ السّبیل امّاشاکراًوّامّا کفوراً(سورہ انسان ٣)''اوراس آیت کے بعددوسری جگہ پریہ بھی فرمایاکہ ہم نے تمہیںآزادتورکھاہے لیکن یہ بھی جان لوکہ میری اطاعت اورمعرفت حاصل کروتوٹھیک وگرنہ تمہیںاپنے کئے کی سزابھگتناپڑے گی اوراس مفہوم والی آیت میںیوںارشادہوتاہے !

''لَئن شکرتم لازیدنّکم ولئن کفرتُم انّ عذابی لشدید(سورہ ابراہیم٧)''اگرمیرے راستے سے ہٹ جاؤگے توتمہیںسخت ترین عذاب دیاجائے گا۔یعنی،انسان کوبااختیاررکھاہے کہ وہ اپنے خالق وپروردگارکی عبادت کرے یانہ کرے ،چاہے بُتوںکی پوجاکرے یاحیوانات کی یاسورج اورآگ کی غرض جس طرح زندگی کرناچاہے اُس انسان کوفاعل مختارقراردیاگیاہے۔ اسلام قبول کرونہ کروتمہاری مرضی ،میری عبادت کرونہ کروتمہاری مرضی،میری معرفت حاصل کرونہ کروتمہاری مرضی،یعنی انسان کی مرضی ہے چاہے وہ اللہ کی بندگی کوقبول کرے یانہ کرے۔اورجن چیزوںکی اس انسان کو ضرورت تھی سب فراہم کردی گئیں پھربھی اُسے مختارقراردیاگیا۔اوراعلان کیااگرمیری نعمتوںکے باوجودتم مجھ سے دوررہے توتمہیںدردناک عذاب دیاجائے گا۔

                لیکن اللہ نے امام حسین علیہ السّلام کواس قدراپنے نزدیک قراردیاکہ آپ کی اس قربانی کے بعداللہ نے ہرانسان کے دل میںچاہے وہ موحد ہو یا کافر ، مسلم ہو یا ہندو، سفید ہو یا سیاہ، گویا سب کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی ۔

یعنی اللہ کی خواہش یہ ہے کہ انسان اسکی اتباع کرے یا نہ کرے،اسے یکتا مانے یا نہ مانے، اسکی احدیت وصمدیت کو قبول کرے یا نہ کرے ، اسے خالق سمجھے یا نہ سمجھے، اسے رازق جانے یا نہ جانے، اس میں تمہیں فاعل مختار قرار دیتا ہوں اور تمہیں اس حوالے سے اپنے کئے کی جزا وسزا معین کرتاہوں لیکن میرا ایک عظیم بندہ جس نے اس دنیا میں میرے تمام بندوں کی بہبودی اور فلاح کا کام کیا ہے اور میرے نام کو زندہ رکھنے کے لئے میرے قانون کی نفاذ کی خاطر اپنے تن من دھن کی قربانی سے بڑھ کر اپنے ناموس کے پردوں کو بھی میرے دین وقانون کی بقاء اور میرے نام کی بقاء کے لئے قربان کر کے جو احسان کیا ہے اس محسن کی محبت کے بغیر انسانوں کا جینا مجھے گوارا نہیں ۔ کیونکہ یہ قربانی ایک ایسی قربانی ہے جس کے عمل میں آنے سے میرے بھیجے ہوئے تمام انبیاء ورسل اور اوصیاء کی تحریکیں محفوظ ہوگئیں اور میرے قانون کی نفاذ اور بندوں کو میری معرفت دلانے کی خاطر جد وجہد کرنے والے نبیوں اور رسولوں کی زحمات ضائع نہیں ہوئیں۔

لہٰذا تمہیں چاہئے کہ میرے اس عزیز بندے کی یاد ادب واحترام سے کرے اور اس کی قربانی اور خدمت کی قدر کریں۔

پس اللہ تعالیٰ نے یوں حسین علیہ السلام کو عظمت بخشی ہے کہ ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والا انسان اگر دائرہ انسانیت میں ہو تو محسن انسانیت کی محبت میں جینے کو ہی اہم اور بہتر سمجھتا ہے۔سوائے ان لوگوں کے جن کا وجود کی مٹی پلید ہے اور جن کی فکر نجس، جن کاعقیدہ خباثتوں سے بھرا، اور جن کا مادہ تخلیق رجس ہو ، وہ اس حسین سے دشمنی کرتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو حسین وحسینیت یعنی انسان اور انسانیت کے مقابلے میں آئے تھے اور اس معرکہ حق وباطل میں حسین علیہ السلام سے شکست فاش کھانے کے بعد سے اب تک اپنے نجس وجود کو ناگوار سمجھتے ہوئے اس عظیم شخصیت کی طرف عداوت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

                ہماری دعا ہے کہ اے اللہ ! حسین اور حسینیت کے دشمن یزید ویزیدیت زمان کو فرزند حسین امام زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور پاک کے ذریعے نابود ورسوا کرے تا کہ اس دنیا میں زندگی کر نے والا ہر فرد عاشق حسین اور عزادار حسین اور تیرے نام لیو ااور تیرے قانون پر عمل کرنے والا ہوسکے۔

٢:احسان کا بدلہ(ھل جزاء الاحسان الاالاحسان)

اس میں دو قسم کی بحث ہو سکتی ہے۔  ١:  حسین محسن انسانیت  ٢:  حسین محسن اسلام

حسین محسن انسانیت:

ہر انسان کے اندر یہ جنبہ پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی اس کے حق میں کوئی احسان کرے تو حتی الامکان اسکو اس احسان کا بدلہ دینے کی کوشش کرتا ہے چاہے وہ مالی شکل میں ہو یا زبانی تعریف وتعارفات کے ذریعہ، اس کے علاوہ حد اقل اس سے محبت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی محبت کو اپنے دل میں بسانے کی کوشش کرتا ہے۔

امام حسین علیہ السلا م نے اپنے مال ودولت کی قربانی دیکر دنیا کو بتلادیا ہے کہ اگر انسانیت کی بقاء میرے مال ودولت پر موقوف ہے تو میں قربان کردوں گا اور اس سے بڑھ کر اپنے عزیزوں دوستوں اور پیروکاروں کی جان اور اپنی مقدس جان کو بھی قربان کرکے بتادیا کہ اگر انسانیت کی بقاء کے لئے قربانی کی ضرورت ہوتو

 حسین اپنی جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ اس طرح مسلمانوںاور اپنے پیروکاروں ہی کو نہیںبلکہ تمام آدم زادوں کو اپنے احسان کا مقروض بنادیا۔اور امام علیہ السلام کی قربانی بقاء انسانیت کی خاطر ہونا آپ کے خطبے کے اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے مسئلہ بیعت کے حوالے سے فرمایا : مثلی لا یبایع مثلہ یعنی مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا ۔ ہاں حسین علیہ السلام معراج انسانیت کا نام ہے حسین فقط اسلامی فرد نہیں بلکہ عالمی اور آفاقی شخصیت ہے جس کے بارے میں مختلف مفکرین کہتے ہیں کہ حسین اگر قربانی نہ دیتے تو آج انسانیت نامی کوئی چیز دنیا میں باقی نہیں رہتی اور یہ انسان شہوات حیوانی کی نذر ہوچکاہوتا۔اسی لئے عروج انسانیت ایک پست اور ذلیل وحیوان صفت بلکہ حیوانوں سے بھی بدتر درندہ صفت افراد کی بیعت کرنے سے ہمیشہ انکار کرتا ہے۔

اب اہل فہم انسان حسین علیہ السلام کی قربانی کو بقاء انسانیت اور قیام نظام عدالت کی قربانی سمجھتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ قلم، زبان اور مال ودولت کے ذریعے اس احسان کا بدلہ چکایا جائے۔

اس کی مثال ہمارے برصغیر پاک و ہند میں ملتی ہے کہ جب بھی امام حسین علیہ السلام سے منسوب ایام کا آغاز ہوتا ہے تو جسطرح عاشقان حسین  وشیعیان علی  عزاداری امام حسین علیہ السلام کے قیام اور مجالس عزاداری میں امام علیہ السلام کی شہادت پر گریہ کرنے ماتم کرنے، سینہ زنی کرنے اور نذرونیاز تقسیم کرنے کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیںتو اسی طرح ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے اور انسانیت کی سوچ و انسانیت کے دائرے میں رہنے والا ہر فردعزاداروں کی خدمت اور امام حسین علیہ السلام کے نام پر نذر ونیاز تقسیم کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہوجاتاہے چاہے وہ مسلمان ہو یا ھندو، سکھ ہو یا بدھ مت، عیسائی ہوں یا کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والے، غرض انسانیت کا شعور رکھنے والا ہر فرد اگرچہ دین اسلام کو قبول نہیں کرتے لیکن پھر بھی حسین  کی قربانی کو بقاء انسانیت کا ذریعہ سمجھ کر اس قربانی کی یاد زندہ رکھنے میں اپنا حصہ بھی ڈال دیتا ہے۔اور خود امام حسین علیہ السلام بھی انکا خیال رکھتے ہیں جیساکہ کئی ایسے واقعات ملتے ہیں کہ حسین علیہ السلام غیر مسلموں کی مشکل گھڑی میں ان کے استغاثے پر پہنچے اور ان کی مشکل کشائی کی۔

اسی طرح ہر مکتب فکر کے صاحبان قلم کوشش کرتے ہیں کہ جہاں تک ہوسکے حسین علیہ السلام کی قربانی کو قلمبند کریں اور اپنی قلمی خدمت کے ذریعے حسینیت کو دنیا میں پھیلانے کی کوشش کریں اور اس پیغام کو نسل در نسل منتقل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں چاہے ہندو ہوں یا سکھ ہوں یا بدھشٹ ہوں یا مسلمان، سنی ہوں یاشیعہ ہر مکتب کے پیروکاروں کا قلم حسین علیہ السلام کے نام پر چلنے لگتا ہے اور اہل قلم اپنی فکر وقلم کو حسین علیہ السلام کے نام کردیتے ہیں۔اور حقیقت میں دیکھیں تو یہ لوگ اپنی مرضی سے یہ کام انجام نہیں دیتے بلکہ حسین علیہ السلام نے ایک ایسا عظیم کارنامہ انجام دیا ہے کہ دنیا اس قربانی اور ایثار کے نام پر قلم اٹھانے پر مجبور ہے۔

جس طرح مختلف زاویہ فکر میں زندگی بسرکرنے والے قیام عزاداری اور تشہیر کربلا کی خاطر مال ، فکر اور قلم کی قربانی دیتے ہیں اسی طرح بہت سے اہل ذوق وہنر افراد کو شش کرتے ہیں کہ محسن انسانیت کے احسان کا بدلہ اپنے اشعار کے ذریعے چکا یا جائے تاکہ اس دنیا میں بھی کوئی کسر باقی نہ رہے اور یہاں تک انکی کوشش ہوتی ہے کہ حسین علیہ السلام کی قربانی کو اپنے اشعار کے سانچے میں ڈھال کر حسین علیہ السلام کی قربانی انسانیت کی بقاء کے اسباب میں سے اہم ترین سبب قرار دیں۔ اس سلسلے میںبہت سے غیر مسلم شعراء نے اشعار پیش کئے ہیں میںان کی طرف نہیں جارہا ہوں چونکہ یہ ایک الگ موضوع اور گستردہ بحث ہے ۔

خلاصہ یہ کہ ہرشاعر کی یہ کوشش رہی ہے اور رہے گی کہ امام حسین علیہ السلام کے نام پر شعر کہہ کر امام کے اس عظیم احسان کا کچھ قرض ادا کردیا جائے تاکہ اس کا نام بھی محسن انسانیت کے قرض چکانے والوں کی فہرست میں شامل ہوجائے۔اگرچہ پوری دنیا مل کر کوشش کرے تب بھی حسین علیہ السلام اور اولاد حسین کی بات ہی نہیں بلکہ حسین  کے رکاب میں جام شہادت نوش کرنے والے ایک غلام کے خون کے ایک قطرے کا بھی حق ادا نہیں ہوسکتا۔پھر بھی یہ کوشش ہوتی ہے کہ حسین علیہ السلام کی خدمت ہو ۔جس طرح نمرود کی آگ بجھانے کے لئے چیونٹی اپنے منہ میں پانی لیکر نکلی اور پوچھا گیا کہ تمہیں یقین ہے کہ اس پانی سے آگ نہیں بجھے گی تو کیوں جارہی ہو ؟ چیونٹی نے جواب دیا کہ میں اپنا فرض پورا کررہی ہوں جو میری بساط میں ہے وہی خدمت اللہ کے خلیل کے لئے انجام دونگی۔

حسین  محسن اسلام :

امام حسین علیہ السلام کی شان میں شعر کہنے والے مسلمان شعراء کی شاعری کی ایک وجہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے اتنی عظیم قربانی پیش کرکے اسلام پہ احسان کیا اور اسلام کی بقاء کو ممکن بنادیا پس مسلمان شعراء اسی حوالے سے شاعری کرتے ہیں کہ محسن اسلام ک احسانات کی یاد ہمیشہ باقی رکھی جائے تاکہ اس کے ذریعے سے اسلام کو زندہ رکھا جاسکے کیونکہ لوگ کتا ب پڑھ کر چھوڑ دیتے ہیں لیکن شعرپڑھ کر استعمال میں رکھا جاتا ہے کتاب سے اتنا اثر نہیں لیتے جتنا لوگ شعر وادب سے متاثر ہوجاتے ہیں بس اس بناء پر مسلمان شعراء امام حسین علیہ السلام کی شان میں کثرت سے شاعری کرتے ہیں جن میں علماء بھی شامل ہیں مفکرین بھی شامل ہیں اور مجتہدین بھی شامل ہیںبلکہ اس صنف شاعری کا اعلیٰ مقام یہ ہے کہ خود فرشتہ وامین وحی جبرئیل امین اور معصومین بھی اس کار میں شامل ہیں۔

                آج تک کے لوگوںمیں صرف مسلمان ہی حسین علیہ السلام کو محسن اسلام نہیں کہتے بلکہ غیر مسلم شعراء اور مفکرین بھی حسین علیہ السلام کو محسن اسلام مانتے ہیں ، وہ اس لئے کہ امام علیہ السلام کا زبان حال بیان کرتے ہوئے یہ جملہ ہمارے درمیان مشہور ہے کہ: ان کان دین محمد لم یستقم الا بقتلی فیا سیوف خذینی امام علیہ السلام کی طرف منسوب  اس جملے سے استفادہ ہوتا ہے کہ حسین علیہ السلام کی قربانی دین وقانون محمدی کی بقاء کا ضامن ہے بس اسی لئے ہر مکتب فکر کے صاحبان فکر وشعور حسین علیہ السلام کو محسن اسلام کے نام سے پہچانتے ہیں لیکن افسوس ہے ان لوگوں پر جو اسلام کا نام لیتے ہیں لیکن حسین سے دشمنی رکھتے ہیں تو یقینا وہ منافقوں کی اولادسے ہی ہو سکتے ہیں جن سے رسول نے بھی اظہار تخوف فرمایا تھا جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے انّی لا اتخوّف علی امّتی مؤمناً وّلا مشرکاً فامّا المؤمن فیحجزہ ایمانہ واما المشرک فیقمعہ کفرہ ولکن اتخوّف علیکم منافقاً علیم اللسان یقول ماتعرفون ویعمل ماتنکرون یعنی میں اپنی امت کے سلسلے میں نہ کسی مومن سے خوف کھاتاہوں اور نہ ہی کسی مشرک سے ۔کیونکہ مومن کو اسکا ایمان بچائے رکھے گا اور کافر کا کفر خود اسکی ذلّت و رسوائی کا سبب ہو گا ۔

مگر مجھے خوف ہے تو منافقوں سے ہے جو چرب زبان ہو۔(گفتار دلنشین ص ١٤ بحوالہ بحار ج٢ ص ١١٠)

پس امام حسین علیہ السلام کے بارے میں صرف محسن اسلام کہہ کر مسلم شعراء نے ہی نہیں بلکہ غیر مسلم شعراء نے بھی حسین کو اپنے اشعار میں محسن اسلام کا لقب دیکے پکارا ہے ۔ مثال کے طور پر ہم ہندوستان کے معروف غیر مسلم شاعر کو لیتے ہیں جو اس طرح امام حسین علیہ السلام کی شان میں گویا ہوتا ہے کہ      

داستان کربلا ہر سال دہراتے  ہیں یوں      خون میں ڈوبا ہوا شبیر   کا پیغام  ہے

بانی اسلام  بے شک ہے  محمد  مصطفیۖ       پر حسین   ابن علی   تو محسن اسلام ہے

یعنی محسن انسانیت کے بعد محسن اسلام ہونے کا بھی ہر مکتب فکر قائل نظر آتا ہے صرف مسلمان ہی نہیں ۔ ہاں ! ابھی لوگوں نے اسلام اور حسین کو نہیں سمجھا ہے ، ابھی انہوں نے حقیقت کے پانی کو نہیں پیا ہے ابھی لوگوں نے گہری نظر نہیں دوڑائی ہے ابھی لوگوں نے حق پرستی کی طرف جبین عقیدت نہیں جھکائی ہے ابھی لوگوں نے اللہ کے پیغام کو نہیں سمجھا ہے ابھی لوگوں نے مقصد کربلا کو درست نہیں سمجھا ہے ابھی لوگ قیام حسینی سے آگاہ نہیں ہیں اگر ہوجاتے تو آج پوری دنیا حسین حسین کہتی لیکن وہ دن دور نہیں کہ دنیا کا ہر فرد حسین کا نام لیوا ہوگا جیسے شاعر نے کہا    

انسان  کو بیدار  تو  ہو  لینے  دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

٣:ائمہ طاہرین علیہم السلام کی سیرت طیبہ :

سیرت اصطلاح علماء میں قول معصوم ، فعل معصوم، تقریر معصوم کو کہا جاتا ہے(اصول الفقہ ج٢)۔ یعنی معصوم  کا فرمان اور کردار امت کے لئے حجت ہے اور اسی طرح معصوم  کا کسی عمل کو دیکھ کر خاموش رہنا اور نہی نہ کرنا بھی اسی عمل کے حرام نہ ہونے کی حجت ہے بشرطیکہ معصوم مقام تقیہ میں نہ ہو۔پس فعل معصوم ،قول معصوم اور تقریر معصوم  ہمارے لئے حجت ہے اور ان کے مطابق عمل کرنا عین شریعت ہے ۔

ہمارے معصومین علیہم السلام نے نہ صرف اپنے فرامین ،فعل، اور تقاریر کے ذریعے بلکہ شعراء امام حسین علیہ السلام کی تشویق کرکے بھی اس فعل کے حسن اور بہتر ہونے کی طرف واضح اشارہ فرمایا ہے۔

بعنوان مثال ہم چند سیرت کو یہاں ذکر کرتے ہیں ۔سب سے پہلے فرمان عصمت کے حوالے سے چند احادیث ذکر کریں گے پھر فعل وتقریر کے حوالے سے دو روایتیں بیان کریں گے انشاء اللہ۔

١:امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : ماقال فینا قائل بیت شعرٍ حتّی یؤید بروح القدس (بحارج٢٦ص٢٣١)ہماری شان وفضیلت میں ایک بند شعر نہیں کہہ سکتا مگر یہ کہ اسکو اللہ اور روح القدس کی تائید حاصل نہ ہوجائے۔

٢: دوسری حدیث میں فرماتے ہیں : من انشد فی الحسین شعراً فابکیٰ خمسین فلہ الجنّةکوئی شخص اگر امام حسین ابن علی علیہما السلام کے بارے میں شعر کہے اور پچاس نفر کو رلائے تو اسکے لئے بہشت ہے (وسائل ج١٤ ص٥٩٥)۔

٣: تیسری حدیث میں فرماتے ہیں: کوئی شخص امام حسین علیہ السلام کے نام شعر کہے پھر روئے اور رلائے یا اپنے آپ کو غمگین بنالے تو بہشت اس کے لئے ہے۔

٤:چوتھی حدیث میں فرماتے ہیں : من قال فینا بیت شعرٍ بنی اللہ لہ بیتاً فی الجنّة(وسائل الشیعہ ج١٤باب استحباب مدح الائمة بالشعر)جوکوئی ہمارے بارے میں ایک شعر کہے تو اللہ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بناتا ہیں ۔

٥:قال ابو عبداللہ علیہ السلام لابی ہارون المکفوف:یا اباہارون من انشد فی الحسین شعرا فبکیٰ وابکیٰ عشر ة کُتبت لھم الجنّة ومن انشد فی الحسین شعرا فبکیٰ وابکیٰ خمسة کُتبت لھم الجنّة ومن انشد فی الحسین شعرا فبکیٰ وابکیٰ واحداً کُتبت لھما الجنّة ومن ذکر الحسین عندہ فخرج من عینة من الدمع مقدارجناح ذباب کان ثوابہ علی اللہ ولم یرض لہ بدون الجنة۔(وسائل الشیعہ ج ١٤ ص ٥٩٥)

ترجمہ:    امام صادق علیہ السلام نے ابو ہارون مکفوف سے فرمایا: اے ابا ہارون اگو کوئی شخص امام حسین علیہ السلام کے رثاء میں ایک شعر کہے پھر روئے اور دس نفر کو رلائے تو ان سب کے نام جنّت لکھی جائیگی اور اگر کوئی شخص امام حسین علیہ السلام کے رثاء میں ایک شعر کہے اور پانچ نفر کو رلائے تو ان سب کے نام جنّت لکھی جائیگی اوراگر کوئی شخص امام حسین علیہ السلام کے رثاء میں ایک شعر کہے اور خود روئے اور ایک نفر کورلائے تو ان دونوں کے نام جنّت لکھی جائیگی اور اگر کسی شخص کے سامنے ذکر حسین ہوجائے اور اس کی آنکھ سے مکھی کے پر کے برابر بھی آنسو نکل آئے تو اس کا ثواب خدا ہی دے گا اور اللہ اس کے لئے جنّت کے سوا کسی چیز پر راضی نہیں ہوگا۔

٦:عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال: من انشد فی الحسین شعرا فتباکیٰ فلہ الجنّة(وسائل ج١٤ص٥٩٥)

اگر کوئی شخص امام حسین علیہ السلام کے بارے میں ایک شعر کہے اور رونے کی شکل بنالے تو اس کے لئے جنّت ہے۔

٧:عن الرضاعلیہ السلام یقول:ما قال فینامؤمن شعرا یمدحنابہ الا بنی اللہ لہ مدینة فی الجنّة اوسع من الدّنیا سبع مرّات یزورہ فیھا کل ملک ٍ مقرَّبٍ وکل نبیٍّ مرسل(بحار ج ٧٦ ص ٢٩٢)

ترجمہ:    امام رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر کوئی مومن ہمارے بارے میں ایک شعر کہے اور اس شعر کے ذریعے ہماری مدح کرے تو سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اللہ اس کے لئے جنّت میں ایک شہر بنائے گا جو دنیا کے مقابل میں سات برابروسیع ہوگا اور اس میں تمام فرشتے اور انبیاء اس کی زیارت کریں گے۔

اسی طرح کی اور بھی روایات وارد ہوئی ہیں لیکن بعنوان مثال چند روایات ذکر کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے اگرچہ یہ ایک الگ عنوان مقالہ ہے۔

بس انہی روایات کی وجہ سے انسان کو شوق پیدا ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام کے بارے میں شعر کہے اور پھر یاد حسین علیہ السلام میں شعر کہنے لگتا ہے۔

اب ہم یہاں کچھ اور مثالیں جو باعث تشویق شعراء ہیں اختصار سے بیان کرنے کی سعادت حاصل کریں گے تاکہ سیرت کی بحث مکمل اور واضح ہوجائے ۔

قابل ذکر امام زین العابدین علیہ السلام کا وہ واقعہ ہے جو مکہ مکرمہ میں پیش آیا۔ وہ کچھ اسطرح ہے:

ایک دن مروان کا ولی عہد ہشام بن عبدالملک بیت اللہ کی زیارت کی غرض سے مکہ مکرمہ میں وارد ہوئے اور طواف کے لئے مسجد میں قدم رکھا ۔ جب چاہا کہ حجر اسود کا بوسہ لیں تو اس وقت جمعیت میں ایک فشار اور رش ہوگیا کہ وہ حجر اسود کا بوسہ لینے سے محروم رہ گیا۔ پلٹ آیا اور اس منبر پر جو اس کی خاطر لایا گیا تھا بیٹھ گیا ۔

 شام کے تمام بزرگ لوگ اس کے ساتھ بیٹھ کر طواف کرنے والوں کو دیکھ رہے تھے اچانک سید سجادعلیہ السلام کہ جن کی صورت سب سے خوبصورت اور جن کا لباس سب سے زیادہ پاک وصاف تھا ،مسجد کے افق پر نمودار ہوئے اور طواف کے لئے تشریف لائے۔ جب حجر اسود کے نزدیک پہنچے تو جمعیت کی لہریں انکی عظمت اور ھیبت کی وجہ سے دور ہوگئیں امام علیہ السلام نے دست مبارک کو حجر الاسود سے لگایا اور طواف کرنے لگے ۔ اس صورتحال کو دیکھ کر ہشام کے دل میں عداوت کی آگ بھڑک اٹھی اور اسکے دل میں دشمنی کی لہریں دوڑ گئی ۔ شام کے روساء میں سے ایک نے متحیرانہ طور پر پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ لوگ اس قدر اسکی تعظیم کرتے ہیں۔ ہشام اگرچہ امام علیہ السلام کو جانتا تھا پھر بھی کہا ''میں اسے نہیں جانتا''۔

)جملہ معترضہ)(ہاں اگر جان لیتے تو ان کو اپنا حق دلا کر انکی پیروی کرتے ! اے ہشام ! وہ دن دور نہیں کہ تم ان کو جان لو گے جب ان کا نور چشم آکر تمہیں عدالت کی مجلس میں بلا کر ہر ظلم کا بدلہ لیں گے ۔ اور قرآن کی آیت کا مصداق درست ثابت ہوگا کہ وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون(

 ''فرزدق''کی حساس روح اس حق وحقیقت کوچھپانے کی وجہ سے آزردہ خاطرہوگئی ۔اورغیرت وحمیّت کی آگ اُس کے سینے سے شعلہ ورہوگئی اور سخن وری کااسلحہ اورشعروںکے تازیانے ہوامیںاُٹھنے لگے۔

اس شخص کے جواب میںیوںگویاہوئے کہ سخن وری کاسیلاب منبع دل سے قدرت ایمان کے ذریعے اُبل پڑا اورامام علیہ السلام اورخاندان بنی ہاشم کے بارے میںشعرکہااورجب شعرتمام ہوگیاتوہشّام نے اُن سے کہاکہ کیوںہمارے بارے میں اس طرح شاعری نہیںکرتے ہو؟توفرزدق نے جواب میں کہا کہ:

'' اسکے نانا کی طرح نانا، اسکے باپ کی طرح باپ، اور اسکی ماں جیسی پاک ومنزّہ ماں تم بھی اپنے لئے لاو میں تمہیں بھی اس کی طرح ستایش کروں گا''۔اس جواب کے بعد ہشام نے فرزدق کا نام جوائز کے دفتر سے نکال دیا اور مکہ ومدینہ کے درمیان ''عشفان'' نامی سرزمین میں اسے زندان میں دال دیا ۔

جب امام سجاد علیہ السلام کو اسکی خبر ملی تو بارہ ہزار درہم ان اشعار کے انعام اور حوصلہ افزائی کے طور پر فرزدق کے نام بھیجدیے۔فرزدق نے اسے قبول نہیں کیا اور کہا کہ '' میں نے آپ کی تعریف میں اشعار خدا کی رضا کی خاطر کہے ہیں بخشش و انعام کے لئے نہیں'' تو امام علیہ السلام نے یہ فرماتے ہوئے اس کو پیغام بھیجا کہ ''ہم اہل بیت رسالت جب کسی کو کوئی چیز دے دیتے ہیں اسے پھر واپس نہیں لیتے''۔

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام نے اپنے شاعروں کو کتنا پسند فرمایا ہے یہاں تک کہ انکو بخشش وعطایا سے نوازا کرتے تھے۔

اسی طرح امام صادق علیہ السلام کی زندگی میں بھی بہت ساری مثالیں ہیں اور امام رضا علیہ السلام ا ور دعبل خزاعی کا واقعہ بھی کون نہیں جانتا؟ ہر ایک مومن اس واقعے سے واقف ہے ۔

ان واقعات کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے بارے میں شعر کہنا عبادت ہے خصوصاً ہر امام معصوم اپنے دور کے شاعر سے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں شعر پڑھواکر اس حد تک روتے تھے کہ پورے محلے میں صدا بلند ہوجاتی تھی جیسے امام صادق علیہ السلام کا معروف واقعہ ہے کہ جو ائمہ علیہم السلام کے واقعہ کربلا کے بارے میں شعر گوئی پر تاکید اور اس حوالے سے خصوصی توجہ پر دلالت کرتے ہیں۔               ابو عمار شاعر کہتا ہے ۔

ایک دن میں امام صادق علیہ السلام کے بارگاہ منور میں مشرف ہوا۔ امام علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا:امام حسین علیہ السلام کے بارے میں چند شعر کہیں! میں نے شعر کہنا شروع کیے۔ امام رونے لگے یہاں تک کہ رونے کی آواز امام علیہ السلام کے دولت سرا سے بلند ہوگئی ۔ امام  فرمانے لگے جس طرح تم اپنی محفلوں میںمرثیہ پڑھتے ہو اور نوحہ سرائی کرتے ہو اس انداز میں شعر کہو! تو میں نے ترنم اور لب ولہجے کے ساتھ بلند آواز سے شعر پڑھنا شروع کیا تو امام علیہ السلام بہت روئے اور امام کے ساتھ اما م  کے خاندان کے افراد اور خواتین کے رونے کی آوازیں پس پردے سے بلند ہونے لگیں ۔ جب میں نے شعرتمام کیے تو امام  نے فرمایا :

یا ابا عمارہ !من انشد فی الحسین شعراً فابکیٰ خمسین فلہ الجنّة ومن انشد فی الحسین شعراً فأبکیٰ اربعین فلہ الجنّة ، ومن انشد فی الحسین شعراً فأبکٰی ثلٰثین فلہ الجنّة ومن انشد فی الحسین شعراً فأبکیٰ عشرین فلہ الجنّة ، ومن انشد فی الحسین شعراً فابکیٰ عشرة فلہ الجنّة ومن انشد فی الحسین شعراً فابکیٰ واحدا فلہ الجنّة ،ومن انشد فی الحسین شعراً فبکیٰ فلہ الجنّة ومن انشد فی الحسین شعراً فتباکیٰ فلہ الجنّة(وسائل ج١٤ ح١٩٨٨٨(

یعنی ہرکوئی امام حسین علیہ السلام کے مرثیہ کے شعر کہے اور پچاس افراد کو رلائے ضرور اہل بہشت میں سے ہوجاء ے گا اور اگر کوئی تیس یا بیس یا دس افراد یہاں تک کہ ایک فر دکو بھی رلائے اور اگر کوئی خود مرثیہ پڑھے اور تنہائی میں گریہ کرے یا اپنے آپ کو رونے والوں کی شبییہ بنالے اسکے لئے بھی بہشت واجب ہوجائے گی۔

ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شان میں کثرت شاعری کی بنیادی وجہ ائمہ طاہرین علیہم السلام کی تاکید وتوجہ ہے جسکی وجہ سے ہر انسان کے دل میں یہ خواہش پیداہوجاتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کا شاعر بنے اور اپنے ائمہ علہم السلام کے دل کی خوشی اور انکی شفاعت حاصل کرسکے اس فعل کو انجام دے کر اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہوجائے۔

خلاصہ یہ کہ : عشق امام حسین علیہ السلام توفیق الٰہی ، احسان نگری، اور اتباع ائمہ طاہرین باعث بنتا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے بارے میں شعر کہے اور انہی چیزوں کی بناء پر لوگ امام حسین علیہ السلام کی شان میں مدح سرائی ومرثیہ رثائی کرتے ہیں اور اسی لئے امام حسین علیہ السلام کی شان میں شاعری سب سے زیادہ ہوئی ہے۔

اسکے علاوہ اور بھی علل واسباب ہوسکتے ہیں لیکن اس حقیر کی فکر اور مطالعے کی روشنی میں جو باتیں آئی ہیں قلمبند کردیے ہیں لہٰذا ہر کمی کی جبران کی دوستوں اور بزرگوں سے امید اور توقع رکھتا ہوں۔ انشاء اللہ علماء وطلاب وفضلاء میرے ہر کمی کو دور کرنے کے لئے میری مدد فرمائیں گے ۔

آغازشعردربارۂ امام حسین علیہ السلام

ادب عاشورائی،دریائے عشق وایثارحمّاسۂ عاشوراکے کناروںسے شروع ہوا اور اس ماتم میںصرف ہونے والے دلوںکے خون اس مصیبت عظمٰی پررونے والی آنکھوںکے ساتھ ساتھ مخلوط ہوکر(قلم اور آوازپرپابندیاںلگائے جانے کے باوجود)سینہ درسینہ منتقل ہوئے۔اوراُسی روزسے امام حسین علیہ السلام اورکربلاشاعری کی زبان میںآگئے، اور کربلا کا پہلا مرثیہ خوان خود امام حسین علیہ السلام ہی تھے کہ انہوں نے اپنی شہادت سے پہلے دین اسلام پر قربانی دینے والے شہداء کے سرہانے مرثیے کہے خصوصا اپنے قوت بازو،  علمدار باوفا، سقائے حرم، فرزند علی و دعائے زہرا حضرت ابالفضل العباس کی شہادت پر آپ نے یوں مرثیہ کہا:         

کسروا بقتلک ظہر سبط محمّدٍ(ص(

و بکسرہ  انکسرت  قوی الاسلام

                                                قطعوا بقطع یدیک وانقطعت  

                                                بہ  ایدی  النبی  السامی        (العاشورا ص٢٦٩)

 

 اورابھی اِس خونین واقعہ کے حوالے سے میدان قتال سے اُٹھے ہوئے گردوغبارہواسے زمین پرنہیں اُترئے تھے،عقبہ بن عمروسھمی کربلاآیااوریوںگویاہوا 

  مررتُ علیٰ قبر الحسین  بکربلا           فقاضت علیہ من دموعی غزیرھا

وبکیْتُ من بعدالحسین عصائباً                اطاعتُ  بہ من جانبِیْہ قبورھا

اس کے بعداورشعراء آئے جسے ہم بعدمیںترتیب سے بیان کریںگے انشاء اللہ ۔کیونکہ یہاںہمارا مقصد امام حسین علیہ السلام کی شان میں شاعری کا آغاز بتانا ہے ۔

امام حسین علیہ السلام کے بارے میں اشعار کہنے والے اور مرثیہ کہنے والے پہلے شاعر:جب فرزند رسول اما م حسین علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور جبرئیل امین نے رسول گرامیۖ اسلام کو آپ کی شہادت کی خبر دی اور کہا کہ اے رسول خدا ! اللہ نے درود وسلام کے بعد پیغام بھیجا ہے کہ تیرا یہ فرزند سرزمین کربلا میں انتہائی ظلم اور ناانصافی سے شہید کیا جائے گا اور اسکے گھر والوں کو اسیر کیا جائے گا .....غرض پورا واقعہ کربلا رسول خدا کے سامنے رکھ دیا گیا تو رسول گرامی بہت روئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ واقعہ علی وزہرا  کو سنایا تو وہ بھی بہت روئے ۔ اور اسی دن سے حسین  پر گریہ وزاری کا آغاز ہوا ، رسول خدا آپ کے گلوئے مبارک کا بوسہ لیتے اور روتے تھے علی مرتضیٰ  آپ کو دامن میں اٹھا ئے گریہ کرتے تھے اسی طرح حضرت زہرا سلام اللہ علیہا بھی آپ کی چہرہ مبارک دیکھتیںاور روتی تھیں۔

یہ حسین  پر گریہ کے آغاز کا ذکر ہوا میں اپنے موضوع سے ہٹا نہیں ہوں بلکہ یہ مقدمہ ہے آغاز شعر کی تاریخ بیان کرنے کے لئے ۔ اب آئیے دو واقعات پڑھ لیتے ہیں پھر فیصلہ کرتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کی مرثیہ گوئی اور مدح سرائی میں شعر کہنے کا آغاز کب سے اور کس نے کیا۔

پہلا واقعہ:

بطور خلاصہ اس واقعے کی طرف اشارہ کرتا ہوں کہ بہت ساری کتابوں میں امام حسین علیہ السلام کے فضائل کے باب میں یہ ذکر ہوا ہے۔کہ:

جب سے امام حسین علیہ السلام پیدا ہوئے اور آپ گہوارے میں تھے تو جناب زہرا  مشغول عبادت ہوتی تھیں اور آپ گہوارے میں روتے تھے تو جبرئیل امین علیہ السلام آسمان سے باذن خدا خانہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا میں اتر آتے تھے اور آپ کے گہوارے کو اٹھا کر ہلاتے ہوئے آپ کو لوریاں سناتے تھے جن میں سے ایک لوری شعر میں یوں آئی ہے      

انّ فی الجنة نہر من لبن         لعلی ولزہرا وحسین وحسن

انّ من کان محبا لہم                      ید خل الجنة من غیر حزن


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 4 (نشريه بزم رأفت)، پيام رأفت نمبر 5 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن
[ چهارشنبه بیست و هفتم مهر 1390 ] [ 17:59 ] [ انجمن ] [ ]

دوسرا واقعہ:

جب سے رسول خدا نے شہادت حسین علیہ السلام کی خبر جناب زہرا  سلام اللہ علیہا کو دی ۔ تواس وقت سے جناب زہرا سلام اللہ علیہا جب بھی حسین علیہ السلام کو دیکھتی تھیں تو گریہ کرتی تھیں۔ اور بہت روتی تھیں۔کبھی یوں کہتی ہوئی روتی تھیں کہ اے میرے غریب حسین ! اے میرے مظلوم حسین ! ........ لیکن تاریخ میں یہ بھی ملتاہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کبھی کبھی حسین علیہ السلام کو دیکھ کر حسین  کی شہادت کو سوچ کر اس طرح شعر کہتی ہوئی روتی تھیں ۔

واحسینا ذبیحا من قفا               واحسینا قتیلا بالدمائ

اور آج تک جنّت میں اسی شعر کو پڑھتے ہوئے حسین علیہ السلام پر گریہ کررہی ہیں جس کی تائید مختلف قابل اعتماد علماء کے خواب اور دوسری روایتیں ہیں۔(منتہی الآمال ص٥٩٤)

اب فیصلہ آپ قارئیں پر ہی چھوڑتا ہوں کہ آپ میری تحریر کی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے جناب جبرئل کو پہلا شاعر قرار دیں یا عظمت وعصمت وطہارت اور ہر امر میں سبقت لینے کے ہنر کو ملحوظ نظر کررکھتے ہوئے جناب زہرا سلام اللہ علیہا کو پہلی شاعرہ قرار دیں۔

اس طرح جناب جبرئیل امین علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے امام حسین علیہ السلام کی شان میں مدح سرائی اور مرثیہ گوئی کا آغاز کیا۔

 یہ عصمت کی زندگی ہے مگر غیر معصومین کی زندگی میں تاریخ کے صفحات میں ڈھونڈیں تو ہمیں شعراء اس ترتیب سے ملتے ہیں۔

مدح امام حسین علیہ السلام میں شعر گوئی کا آغاز غیر معصومین کی شاعری میں یہاں سے شروع ہوتا نظر آرہا ہے کہ:

عرب کے ایک دیہات سے ایک مرد مدینہ میں آیا اور پوچھا کہ کریم ترین آدمی کون ہے ؟

لوگوں نے اسے امام حسین علیہ السلام کا حوالہ دیا ۔ تو وہ مسجد میں داخل ہوا اور آپ علیہ السلام نماز میں مصروف تھے ۔ وہ اعرابی امام علیہ السلام کے پیچھے کھڑا ہوا اور یوں شعر کہنا شروع کیا   

لم یخب الآن من رجاک ومن                    حرّک من د ون بابک الحلقہ

انت جواد وانت معتمد                  ابوک قد کان قاتل السفقة

لولا الذی کان من اوئلکم              کانت علینا الجحیم منطبقہ

جب امام علیہ السلام نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے قنبر! کیا مال حجاز سے کچھ بچا ہوا ہے ؟ تو قنبر نے جواب دیا ، جی میرے آقا! چار ہزار درہم بچے ہوے ہیں ۔ فرمایا: ان کو لے آو ہم سے زیادہ اس رقم کا مستحق فرد پیدا ہوا ہے ۔جب ان کو لایا گیا تو آپ نے اپنے بدن مطہر سے چادر کو اتارا جو بُرد کی بنی ہوئی تھی اور ان دنانیر کو اس چادرمیں لپیٹ کر دروازے کے پیچھے تشریف فرماہوئے ۔ چونکہ امام علیہ السلام ان دراہم کو اس اعرابی کے حضور پیش کرنے سے احساس حیا کرتے تھے جب وہ آیا تو امام نے دروازے کے پیچھے سے اپنے ہاتھوں کو نکال کر رقم اعرابی کے ہاتھ میں دے دی اور اس رقم کی کمی پر اعرابی سے معذرت خواہی کرتے ہوئے چند شعر انشاء فرمائے   

خذھا فانی الیک معتذر      واعلم بانّی علیک ذوشفقة

لو کان فی سیرنا الغداة عصا    امست سمانا علیک منذ فقة

لکن ریب الزمان ذو غیر    والکف منی قلیلة النفقة   (منتہی الآمال ص٣٧١)

 

پس اس طرح امام کی مدح سرائی کا شعری آغاز میرے مطالعے کے مطابق اس اعرابی نے کیا اور مرثیہ گوئی کا آغاز غیر معصومین میں سے جس شاعر نے کیا اس کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے وہ ''عتبہ بن عمرو'' ہے جس نے واقعہ کربلا کے ساتھ ہی کربلا میں آکر امام کے بارے میں یوں مرثیہ پڑھا 

مررت علی قبرالحسین  بکربلا               فقاضت علیہ  من دموعی غزیرھا

بکیت من بعد الحسین  عصائبا                اطاعت بہ من جانبیہ قبورھا

 کربلا اور امام حسین  کے اشعارکی خصوصیات

تاریخ میں جتنے بھی اشعار آئے ہیں ان سب میں واقعی انقلاب آور شعر شعر عاشورائی ہیں۔کیونکہ یہ عاشورا ہی ایک انقلاب ہے لہٰذا اس انقلاب کا اثر شعروں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ عاشورا کربلاا ور امام حسین  کے بارے میں موجودہ اشعار عظیم المر تبت اشعار ہیں۔جو لوگوں کے دلوں کے اندر جا کر ایک تحریک پیدا کرتے ہیں۔اور لوگوں کوحق و باطل کی تمیز کرنے کے لیے فکر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

یہ اشعار اہلبیت اطہا ر کی مظلومیت کے بارے میں ایک فریاد جانگداز کے طور پر کام کرتا ہے اور لوگوں کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ اہلبیت کی عظمت اور ان کے دشمنوں کی پستی کے بارے میں فکر کرے اور اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ ان دشمنوں نے اہلبیت  پر اس حد تک ظلم و جبر کیوں کیا؟

یہ اشعار لوگوں کے لیے حق و باطل کے درمیان فرق پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کو حسین و اہل بیت کی حقانیت کی دلیل پیش کرتے ہیں اور ظالم و جابر حکمرانوںکے پیروی سے لوگوں کو بچائے رکھتے ہیں ۔

یہ اشعار شعور بشر کو وسعت دیتے ہیں تاکہ وہ فہم و عقل کی معراج پر جا سکے۔

یہ اشعار اہلبیت  کی اہمیت اورا لٰہی نمائندہ ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔

یہ اشعار اس بات کو واضح کرتے ہیںکہ کائنات میں جو ظلم و زیادتیاں ہوئی ہیں اور ہوتی رہی ہیں ان سب میں جو ظلم حسین  علیہ السلام اور خاندان پیمبرۖ پر ہوا اور کسی پر نہیں ہوا۔

لا یوم کیومک یا اباعبداللہ

یہ اشعار لوگوں کے اندر اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ کاش ہم بھی حسین  کے ساتھ ہوتے۔

یہ اشعار لوگوںکے اندر صدائے ھل من ناصر ینصرنا کی تشریح بن کر داخل ہوتے ہیں اور ہر فرد انسان کو حسین  کی حمایت پرتیار کرتے ہیں۔

یہ اشعارقل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودة فی القربیٰ کی تشریح بن کر لوگوں کو اطلاع دیتے ہیں کہ اے کائنا ت کے انسانو!رسول گرامی اسلام کی رسالت کا اجر ادا کرو جو اُن کے اہلبیت  کی مودت ہے۔

یہ اشعار مودت اہلبیت کو لوگوں کے دلوں میں اضافہ کرنے کا باعث بنتے ہیںتاکہ ان سے اجر رسالت اداہو۔

یہ اشعار انقلاب کربلا کی تفسیر بن کر چھا جاتے ہیں۔

یہ اشعار ایثار حسینی کو بیان کرتے ہوئے لوگوں کے اندر عشق و ایثار کی فضا پیدا کرتے ہیں

یہ اشعارعشق حسین کو بیان کر کے عشق الٰہی سے قلوب کو تقویت دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں ۔

یہ اشعار سکینہ  اور یتیم بچوں کی صدائوں کی شکل میں فضا میں گونج کر مظلوم کی حمایت پر آمادہ کرتے ہیں۔

یہ اشعار حر کی توبہ کو بیان کرکے گمراہ لوگوں کو نجات کی امید دلاتے ہیں۔

یہ اشعار سیدالساجدین کی سیرت بیان کر کے مظلوموں کو صبر و تحمل پر آمادہ کرتے ہیں ۔

یہ اشعار تفسیر خطبہ جناب ثانی زہرا کی شکل میں انقلاب کربلا کے حقیقی پہلو سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں ۔

یہ اشعار لوگوں کے اندر عدل و انصاف کی فکر پیدا کرتے ہیں۔

یہ اشعار ایک ایسے شمع کو جلا دیتے ہیں جس کے سہارے انسان ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل کر ملأ اعلیٰ تک پہنچ سکتا ہے ۔

یہ اشعار کاروان راہ حق و پاسبان شریعت کے ایمان و عقیدے کی تقویت کا باعث بنتے ہیں

یہ اشعار ظلم واستبداد کی تاریخ کو بیان کر کے پڑھنے والے اور سننے والے سب کو مظلوموںکی حمایت میں اشکوںکے سیلاب بہانے پر آمادہ کرتے ہیں۔

یہ اشعار لوگوں کے اندر انقلاب پیدا کرکے خمینی صفت لوگ پیدا کرنے اور شاہ جیسی مذموم و ظالم حکمران کے تختہ کو گرا کر اسلام اور حسینیت کی حکومت قائم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

یہ اشعار تیر وں اور تلواروںکی شکل میں ظالموں اور جابروں کے دلوں کا کاٹ دیتے ہیں ۔

یہ اشعار حق کی ترویج اور اسلام کا پرچار کرتے ہیں اور ظالموں جابروں اور طاغوتی طاقتوں کوخاک میں ملانے کے لیے لوگوں کے اندر فکر پیدا کرتے ہیں۔

یہ اشعار لوگوں کے اندر حسین  سے محبت ودوستی میں اضافہ کرتے ہیں اور ہر فرد کو حامی حق بننے کی دعوت دیتے ہیں۔

پس آج کے شعراء کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو حق و حقیقت کو بیان کریں اور کربلا کے اصل منظر کو اپنے شعروںمیں بیان کریں،اور اس عظیم انقلاب کو اپنے خیالات اور فکر کی دنیا میں لے جا کر افسانہ کی شکل نہ دیں بلکہ یہ ایک عظیم انقلاب ہے جو آدم  سے لیکر ظہور مہدی تک جاری و ساری اور لوگوں کو حقیقت کی راہ پر ہدایت کرنے والا ہے اس انقلاب کو زندہ رکھنا اور فرہنگ عاشوراکا پر چار کرنا ہر حسینی کی ذمہ داری ہے  تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس انقلاب کو سمجھ سکیں۔

مجالس شعرو سخن اور مجالس عزاداری کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہئے کہ شاعر اپنی شخصیت کے لیے کام کرے مقرر اپنی شخصیت کی پرچار کرنے لگے اگر ایسا ہو تو پھر نہ شعر کام کا رہے گا اور نہ ہی خطابت و ذاکری۔

ان تمام کا مقصد تحریک کربلا کو آگے بڑھانا اور شخصیت بنیان گذار دانشگاہ کربلا کے خلوص اور اس کے ایثار اور عشق کا نمونہ دنیاکو دکھانا ہے۔تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ دین الٰہی کی طرف راغب ہوں اور عشق و عبادت الٰہی میں زندگی گذارنے لگیں۔

پس ہمیں اپنی امہ داری کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور انقلاب و تحریک کربلا سیرت حسینی و کردار ابراہیمی کے فروغ کے لئے حتی الامکان کام کرنیکی ضرورت ہے تاکہ اسی راہ پر ثابت قدم رہ کر منجی عالم بشریت ،حامی دین و شریعت ،وراث حسین  و حسینیت ،مروجِ نظام عدالت،ماحی کفر بدعت،مہدی موعود،امام دو جہاں،

سرور قلوب مومنان،اما م زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے کاروان میں شریک ہو کر زہرا  کے بچّوں کے خون کا بدلہ لینے اور ظالموں ،منافقوں اور ملحدوں کو اپنے انجام تک پہنچانے میں ہماری جانوں کی قربانی پیش کر سکیں۔

پس یقین کیجئے وہ دن دور نہیں ہے کہ اس ظلم وجور سے بھری دنیا میںعدل و انصاف کا ستار ا چمکے گا۔لا دینیت اورمنافقت کی اندھیری فضا میں کلمہ لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ علی ولی اللہ کی صدا گونج اٹھے گی۔اور افق عصمت و طہارت سے وارث انبیا ء و اولیا ء کا سورج طلوع کرے گا اور اس دن ظالموں کو پتہ چلے گا کہ ظلم کا انجام کیا ہوتا ہے جیسے قرآ ن نے فرمایا،وسیعلم الذین ظلموا ایّ منقلب ینقلبون۔

آئیے دعا کریں کہ اے اللہ! تیری عظمت اور الوہیت کا واسطہ جس مہدی کا تو نے وعدہ دیا ہے اس کے ظہور میں تعجیل فرما کر ہمارے زخمی دلوںکی شفا کردے۔تاکہ مظلوموں ،غریبوں ، اور ستم رسیدہ افراد کے چہروں پر رواں اشکوں کے دریا رک جائیں ۔اور ظلم و ستم کی جو بارشیں ہو رہی ہیں وہ تھم جائیں اور ہم سب مل کر فرزند رسول کی اتباع میں کعبے کے گرد جمع ہو کر صدائے بلال میں اللہ اکبر کی آواز بلند کر سکیں ۔

اے خدا ئے ذوالجلال ،ہمارے سرپرست ،ولی امر مسلمین حضرت آیة اللہ خامنہ ای کو طول عمر عطا فرما۔تاکہ دشمنان دین کو اسلام کے خلاف مزید ہاتھ بڑھانے کی جرات نہ ہو۔اے اللہ ہم سب کو مہدی آخرالزمان  کا حقیقی منتظر اور حماسہء کربلا کا حقیقی عاشق اور درسگاہ کربلا کا حقیقی شاگرد اور حسین  و آل حسین  کا حقیقی دوستدار اور سیرت محمد آل محمد کا حقیقی پیروکار قرار دے،تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں اور تیری رحمتوں کا مستحق قرار پائیں۔

اصول و مبانی شعر و شاعری

 ازدیدہ گاہ رہبرمعظّم حضرت آیة اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دام ظلہ العالی

شعر وشاعری کے بار ے میں دنیا کے بہت سے انسانوں نے اپنے نظریے بیان کئے ہیں لیکن انکے افکار وانظار اپنے زمانے کے مطابق تھے لیکن ہم اپنے زمانے کے بہترین اورہر دلعزیزانسان دوست، معرفت پسند

 (بلند فکر،قوی ہمت ،دنیا کے ہر محب اہل بیت کے دلوں کی دھڑکن ، راہنمائے حق و حقیقت ،صاحب صفات عالیہ،حدیث معصوم (من کان من الفقھاء صائنا لنفسہ ،حافظا لدینہ،مخالفا لھواہ ، مطیعا لامر مولاہ فللعوام ان یقلدوہ)میں ذکر شدہ تمام صفات سے مزین ہستی،اہلبیت علیہم السلام کی وفات کے بعد غیبت امام علیہ السلام کے دور میں لوگوں کو ہدایت اور دین کی طرف دعوت دینے والے، مخالفین اسلام کے ہر اعتراض کا دندان شکن جواب دینے والے ،صاحب عظمت،صاحب دیانت،صاحب صبر و حمیت، صاحب اوصاف حسنہ،پیروکار انبیائو اولیا،صاحب تقوی الٰہی،بزرگ شخصیت ، ولی امر مسلمین ،رہبر فرزانہ جہان تشیع حضرت آیة اللہ العظمیٰ حاج سید علی حسینی خامنہ ای دام ظلہ العالی کی دیدگاہ سے ایک مرتبہ شعرو شاعری کے اصول و معانی کی طرف نظر کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں اس حوالے سے آپ نے کیا فرمایا ہے ۔

حقیر نے جستجو و تلاش کر کے رہبر معظم کے کچھ فرامین جو آپ نے مداحان اہلبیت  کی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے بیان فرمائے ہیں ان میں سے کچھ مطالب کو انتخاب کرکے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں ۔

بیانات مقام معظم رہبری در جمع مدّاحان

                رہبر فرزانہ انقلاب اسلامی نے بہت عرصہ پہلے شعراء ومداحان سے ملاقاتوںمیں اسطرح بیان فرمایاہے۔

                اصل محتوی

                و یکی از چیزہائی کہ باید در اشعار ما باشد مفاہیم بلند اسلامی در باب توحید یا مثلا در باب نبوّت است و بہترین اشعار قد ما در باب توحید و نبوت……

                یعنی آپ فرماتے ہیں کہ:''شعراء کے اشعار میں جن چیزوں کا ہونا لازمی ہے ان میں سے ایک اسلام کے بلند مفاہیم ہیں ،مثلا توحیدونبوت کے باب سے ہونا چاہیے ۔

اور سابقہ شعراء کے بہترین اشعارتوحید و نبوت کے بارے میں وہی اشعارہیں جو ہمارے بزرگ شعراء نے اپنے دیوانوں اور مثنویوں کے مقدموں میں بیان کئے ہیں۔حقیقت میں انسان ان قوی اورگہرے مطالب کے ذریعے اللہ تعالیٰ،پیغمبر ،امام اور حضرت زہرا کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔البتہ اس طریقے سے تو نہیں جس طرح جاننا چاہیے۔اور ہم ان بزرگوں کوکما ہو حقہ نہیں پہچان سکتے مگر یہ ممکن ہے کہ کسی حد تک ان کو پہچان لیں۔مثلا کبھی امیر المومنین علیہ السلام کے حوالے سے ایک شعر کہا جاتا ہے تو ہم درمیانہ اور پائین طبقے کے انسان بھی سمجھ سکتے ہیں۔کہ مقام و منزلت امیرالمومنین کیا تھی۔یعنی مقام و منزلت علی کہ جن کے بارے میں ہم کم معلومات رکھتے ہیں مثلاًعبادت امیرالمومنین ،مظلومیت امیرالمومنین ،ان کے علل ، ان کے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بارے میں ،اور ان کے جہاد کے پہلوئوں کو بھی ہم پہچان سکتے ہیں۔

                جب ١٥ بیس سال پہلے ہم ان باتوں کو کہتے تھے تو بہت سے لوگ سنتے تھے مگر وہ لوگ نہیں سمجھتے تھے کہ ہم کیاکہہ رہے ہیں؟ ہم کہتے تھے کہ جناب !فقط آئمہ علیہم السلام کی خیالی تصویر کشی میں ہی لگے نہ رہیں فقط ان کے چہرے کا خیالی خدو خال کے بیان میں مصروف نہ رہیں ۔لوگ امام کی زلفیں ،ابرو اور آنکھوں کے بارے میں اشعار کہتے تھے،حالآنکہ یہ امام کی تعریف نہیں ہے۔

                 امیر المومنین کے ابرو اگر کمانی ہو یا نہ ہو ان کی شخصیت میںکیا فرق پڑتا ہے؟ان کی زلفیں لمبی اور چمک دار ہوں یا نہ ہوں کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم ان کے بارے میں اشعار کہیں؟اس زمانے میں شعراء اس طرح لکھتے اور پڑھتے تھے لیکن اِس وقت کم ہیں اور انشاء اللہ یہ چیزیں اب نہ ہوں'۔(آئین ستایشگری ص ٧٠)

رہبر معظّم دام ظلہ اپنے ان کلمات سے شعراء کو درس دے ر ہے ہیں کہ اگر حقیقی شعرا ء اہلبیت  کے زمرے میں آنا چاہتے ہیں تو ان کی حقیقت پر نظر کریں اور ان کے اوصاف حقیقی کی تعریف کرتے ہوئے شعر کہیں۔

                یعنی شعراء کو چاہئے کہ جب اہلبیت علیہم السلام کی شان میں شعر کہیں توان حضرات کے معنوی اوصاف کو زیادہ اہمیت دیں تاکہ لوگ ان کے ان معنوی اوصاف کی وجہ سے ان کی طرف راغب ہوں۔

جیسے استاد شہریار نے کیا عجیب مصرع کہا ہے کہ آج تک لوگ اس مصرعہ کو پڑھ کر دنگ رہ جاتے ہیں اور سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ علی  میں واقعا یہ کیسی صفت تھی ؟  شہریار کہتا ہے ۔

                                                علی ای ھمای رحمت تو چہ آیتی خدارا

اب ہم مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس میں غور کریں کہ شہریار نے کیوں علی کی اس طرح سے صفت بیان کی ایسا کیوں نہ ہو کہ ایک عام انسان کی زبان سے جب اس طرح کا کلمہ نکلتا ہے کہ نہ موصوف کی کوئی صفت اس کلمے سے باہر ہے اور نہ ہی کوئی غلط بیانی ہوئی ہے۔پس شعراء کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ اہلبیت  کے وہ اوصاف بیان کئے جائیںجن کے ساتھ مزیّن کرکے اللہ تعالیٰ نے انہیں خلق فرمایا ہے ۔جن سے لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت میں اضافہ ہو۔اور ان کے ظاہری خدوخال کی تعریف میں محدود نہ رہیں کہ جن سے نہ انکی عظمت میںکمی آتی ہے اور نہ ہی ان کا وقار بڑھ جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے حقیقی اوصاف اور اہلبیت علیہم السلام کے اوصاف حمیدہ کوبیان کرکے لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرانا شعراء کرام کا ہدف اور مقصد ہونا چاہئے

اسی حوالے سے رہبر معظّم دام ظلہ فرماتے ہیں کہ ''جب ہم یہ کہتے تھے کہ فقط ظاہری سیما و خدوخال کی تعریف میںلگے نہ رہیں تو لوگ متعجبانہ کہتے تھے کہ اگر یہ نہ کہیں تو پھر ہم کیا کہیں؟ان دنوںمیں ہم بعض اوقات کہتے تھے کہ جناب امام علی علیہ السلام کی زندگی کے واقعات بیان کریں علی  کے علمی کمال کے بارے میں شعر کہیں۔مگروہ اس حوالے سے علم نہیں رکھتے تھے۔مگر الحمد للہ آج کے دور میں ہر شخص پر امام علی علیہ السلام کی زندگی روشن اور واضح ہے۔مثلا حکومت کے دوران امیر المومنین علیہ السلام کا زہدمعمولی بات نہیں ہے کہ ایک شخص حاکم ہوطاقت پردسترس رکھتا ہو ،تلوار اس کے ہاتھ میں ہو،نفوذکلمہ اس کے ہاتھ میں ہو مگر اس کی شخصی زندگی کو دیکھا جائے تو اس طرح پائیںکہ وہ خود اپنے قریبی دوستوں سے فرماتے ہیں کہ تم لوگ میری طرح زندگی نہیں گزارسکو گے۔اس قدر ان کی شخصی زندگی اور عادی زندگی دوسرے عام انسانوں کے لیے سخت تھی کہ آپ نے عثمان بن حنیف سے فرمایا:الا وانکم لا تقدرون علی ذالک (نہج البلاغہ ٤٥)(یعنی آگاہ ہوجائو کہ تم لوگ اس بات کی قدرت نہیں رکھتے)

 اس وقت ان کا کھانا اس طرح کا تھاکہ راوی جو صحابی امام تھا، قنبر خادم امام سے یوں کہتا ہے کہ کیوں یہ سخت اور سوکھی ہوئی روٹی اس پیر مرد کو کھلاتے ہو؟علی کمزور ہوگئے ہیں ۔پیر ہوگئے ہیں تو کیوں اس جو کی سخت روٹی اس ساٹھ سالہ مردکے لیے لائے ہو؟قنبر جواب میں کہتا ہے یہ کام میں نہیں کرتا ہوں بلکہ وہ خود اس روٹی کو ایک تھیلے میں رکھ دیتے ہیں اور تھیلے کے منہ کو بند کر دیتے ہیں اور کبھی اس پر مہر بھی لگا دیتے ہیں تاکہ ان کی غیر موجودگی میںکوئی اسے نہ کھولنے پائے۔اور سوکھی روٹی کو گھی کے ساتھ مخلوط نہ کرنے پائے۔اَلَا وَاِنأ اِمَامَکُمْ قَدْ اکْتَفیٰ مِنْ دُنْیَاہُ  بِطَمْرَیْہِ  وَمِنْ طِعَمِہ بِقُرْصَیْہِ (نہج البلاغہ نامہ٤٥)یعنی جان لو کہ تمہارے امام نے دنیا سے دو پرانے لباس اور دو ٹکڑے روٹیوں کا کھانا لیاہے۔ اس طرح کے پہلوئوں کو بیان کریں تا کہ امیر المومنین اور ان کے مقابل افراد کے درمیان مقایسہ ہو جائے۔پس اپنے آئمہ کے ساتھ عاطفی رشتہ جوڑیں اور اخلاقی مسائل کو حفظ کریں"۔(بیانات مقام معظّم رہبری در دیدار با مدّاحان ٦٨١٠٢٨)

پس شعراء کرام کو رہبر معظم کے ان فرامین کے مطابق وزنی اور گہرے مطالب سے اپنے شعر کے محتوی ومضمون کو پیش کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو اس بیان کرنے والی چیز یا شخص کی حقیقت اور حقانیت سے آگاہی حاصل ہوجائے۔

مضمون شعر:

مضمون شعر کے بارے میں رہبر معظّم دام ظلہ فرماتے ہیں کہ :از لحاظ مضمون باید سہ رکن در مدح …"یعنی مضمون کے لحاظ سے مدح و شعر میں تین ارکان کا وجود لازمی ہے :

رکن اول: اپنے اشعار میںاور مدّاحی میں سابقہ شعراء کی طرح غزل یا قصیدہ سے استفادہ کریں جو مسائل اخلاقی پر مبنی ہو۔اور وہ بھی مناسب روش اور اچھی آواز و انداز کے ساتھ تا کہ سامعین کے دل میں اس شعر کا اثر دوگناہو۔

دوسرا رکن:معارف اسلامی کو بیان کریں ذکر توحید ،ذکر زندگی آئمہ ،انقلابی اور مبارزات و مناظرات ا ور احتجاجات بیان کریں۔

تیسرا رکن:ذکر مصیبت ہے وہ بھی انقلابی پہلو سے بیان کیا جائے،اور حتما ذکر مصیبت کو بھی بیان کیا جائے ،کبھی کبھی روضہ خوانی میں اصلا ذکر مصیبت ہوتاہی نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ مصیبت اور اس کے متعلق واقعہ کی تشریح ہونی چاہئے"۔(اصول وروش مدّاحی ص٧٢)

پس ان فرامین کی روشنی میں شعراء کو چاہئے کہ وہ اپنے اشعارکو ان تین ارکان پر مبنی قرار دیں۔یعنی اپنی شاعری میں ان تینوں ارکان پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ ہر ہنر کے لئے اسکے اپنی لوازمات ہوتی ہیں اور ہنر شعر کے اہم ترین لوازمات یہی چیزیں ہیں۔مثلا ایسا نہ ہو کہ فقط فضائل پر شعر کہیں اور باقی تمام پہلوؤں کو صرف نظر کریں بلکہ شاعری کی معیار کو بہتر کر کے ان تینوں حوالوںسے شعر کہیں تو ہر مقام کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔یعنی کوشش ہونی چاہیے کہ ان تینوںمضامین کے مطالب پر مبنی شعر کہیں۔

اصل پیغام:

شعر فقط شعر ہی نہیںبلکہ اسلام کا پیغام ہے یعنی شاعر داعی الی اللہ ہے اور شعر اس داعی الی اللہ کا ہتھیار ہوتا ہے ۔پس اس حوالے سے رہبر معظّم دام ظلہ فرماتے ہیںکہ ''شما برادران عزیز باید پیامی را کہ آن پیام ہمیشہ مداحان اہل بیت ارزش می دادہ ہموارہ حفظ کنید……

"یعنی آپ شعراء کو چاہیے کہ جس پیغام کے سبب سے ہمیشہ مداحان اہل بیت کو مقام ومرتبہ ملا ہے اسے یاد رکھیں اور اسکی حفاظت کریں اور وہ پیام دین الٰہی کی حفاظت کا پیغام ہے اور وہ بھی ولایت اہل بیت کے سائے میں اور دشمنان اہل بیت سے مقابلہ کرتے ہوئے اور حق و حقیقت کے دشمنوں سے مبارزہ کرتے ہوئے۔اور دشمن حق وحقیقت و ہ لوگ ہیں جو طاغوتی پارٹیان اور عصیانگر گروہ ہیں جو حق کے مقابلے میں آکھڑے ہیں۔اور یہ پیغام محفوظ ہونا چاہیے"۔(اصول وروش مدّاحی ص٧٤)

پس رہبر معظم ایک شاعر کو عام نگا ہ سے نہیں دیکھتے بلکہ شاعر کو ایک مجاہد فی سبیل اللہ کی نظر سے دیکھتے ہیں پس شعراء اہلبیت  کو چاہیے کہ اپنے خیالات کے دریا میں غوطہ زن ہو کر سالک الی اللہ بن کر وہ الہام تلاش کریں کہ جس سے آج کی طاغوتی طاقتوں کا شیرازہ بکھر جائے۔

شاعر کو چاہے کہ ایسے کلام پیش کریںجس سے آج کے عصیانگر پارٹیوں کے دانت کھٹے ہوجائیں۔

رہبر معظّم تاکید فرماتے ہیں کہ  ''شعری کہ خوانید حتما پیام را رعایت کنید…اولین چیزی کہ باید مورد توجہ قرار گیرد ،پیام است وپیام باید ہم در مصیبت،ہم در مدح وہم دراخلاقیات وجودداشتہ باشد''آپ فرماتے ہیں کہ جو شعر آپ بیان کرنا چاہتے ہیں اس میں لازما پیام اسلامی کی رعایت کریں اور پہلی چیز کہ جو آپ کا مورد توجہ ہونا چاہیے پیام ِشعر ہے۔اور پیام اسلام مدح، مصیبت اور اخلاقیات پر مبنی اشعار میں حتما ہونا چاہئے''۔(آئین ستایشگری ص٧٥)

پس رہبر معظّم دام ظلہ کے ارشادکے مطابق شعراء کرام کو چاہیے کہ اپنے تمام اشعار کو انقلابی اور پیام اسلامی سے مزین فرمائیں تاکہ سننے اور پڑھنے والوںکے دلوں پراسلامی اثر مترتب ہوجائے۔حضرت ولی فقیہ دام ظلہ نے اسی پیام کی اہمیت کو یوں بیان فرمایاکہ:" وہ لوگ جنہوں نے تاریخ اسلام کے سخت ترین دور میں کندھوں کو پرچم سے سجایا،اور وہ پرچم حقیقی ولایت اسلام کا پرچم تھااور یہ بزرگ شعراء جب اس پرچم کو اٹھاتے تھے تو ان کو شدید ترین سختیاں جھیلنی پڑتی تھیں۔مسئلہ یہ نہیں تھا کہ'' کمیت فرزدق حمیری اور دعبل جیسے افراد کم تھے،اور فقط یہ بھی نہ تھا کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق ایک شعر کہہ دیتے اور بعض لوگوں کے پاس پڑھتے بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ ان کا شعر ایک پیام و رسالت پر مشتمل ہوتا تھا۔اور وہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی چیز لوگوں کو سکھائیں۔اور کمیت کے سختیو ںمیں مبتلا ہونے کا سبب اور دعبل کے یہ کہنے کا سبب (کہ میں پچاس سال سے اپنے تختہ دار کو اٹھائے پھر رہاہوں)صرف اور صرف یہی تھا کہ ان کے اشعار پیغام پر مبنی تھے"۔

 رہبر معظّم یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ شعراء کو چاہیے کہ اپنے اشعار میں اسلام کا پیغام دیں۔ اگر اس طرح شعر کہیںاور دنیا کو دین کی دعوت دیں تو ممکن ہے عقوبتوں اور پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑے ۔لہذا رہبر معظّم دام ظلہ دوسرے شعراء کی مثال دیکر یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ شعراء کو چاہیے کہ دعبل و کمیت کی طرح حریم اہلبیت علیہم السلام کا دفاع کریںاور اس حوالے سے ظالموں کی طرف سے ہونے والے مظالم اور پریشانیوںکو برداشت کرنے کے لیے بھی تیار رہیں۔

اگر خدانخواستہ ایسی نوبت آئے تو ان کی طرح صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور پیغام اسلام پہنچانے کے اس سلسلے کو جاری وساری رکھیں۔

اصل مقابلہ:

چونکہ شعر ایک ہتھیار ہے اور ہتھیار کا استعمال وہاں ہوتا ہے جہاں مقابلہ درکار ہو۔ پس حریم اہلبیت علیہم السلام سے دفاع کا میدان مقابلہ کا میدان ہے اور شاعر اس میدان کا مجاہدہے ۔اس میدان میں شاعر اپنے شعر کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔ لیکن عام طور پر شاعر کو اس بات کا خیال نہیں رہتا کہ وہ ایک مجاہد فی سبیل اللہ ہے اور اسکا شعر اسکا ہتھیار ہے اور خود میدان مقابلہ میں ہے۔ بلکہ شاعر کو ہمیشہ یہ سوچتے رہنا چاہئے کہ میں ایک مجاہد ہوں اور میدان مقابلہ میں ہوں اور مجھے حق وباطل کے درمیان میں فاصلہ پیدا کرکے دنیا کو دکھانا ہے کہ حق کس طرف ہے اور  باطل کس طرف؟شاعر کی زندگی اثبات حق وحقیقت کے لئے صرف ہونی چاہئے اور اثبات حق کرنے میں اسے کسی طرح کا بھی خوف نہیں کھانا چاہئے  اگرچہ دشمنوں کے درمیان میں تنہا ہو۔

رہبر معظّم اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ:مگر نمی گوئیم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا باحال ناتوان بہ مسجد رفت تا حقی را احقاق کند.........

یعنی''مگر ہم نہیں کہتے؟ کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے ضعف البدنی اور ناتوانی کے باوجود مسجد میں گئیں تاکہ احقاق حق فرمائیں۔ہمیں بھی چاہئے کہ کسی سے نہ ڈریں ، مگر ہم یہ نہیں کہتے کہ تنہا اپنے زمانے کے بزرگ جامعہ کے مقابل میں کھڑی ہوگئیں ؟ ہمیں بھی جس طرح انکے شوہر معظّم ومقدّس نے فرمایا(لا تستوحشوا فی طریق الھدیٰ لقلّة اھلہ(نہج البلاغہ خطبہ ٢٠١) سچائی اور ہدایت کی راہ میں تعداد کی کمی سے خوف نہ کھائیں ) ۔ ہمیں بھی دنیاء ظلم واستکبار کے مقابل میں اپنی تعداد کے کم ہونے کی وجہ سے نہیں ڈرنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ احقاق حق کا کام ہم سے انجام پائے''۔ (آئین ستایشگری ص ٧٨)

پس رہبر معظم کے اس فرمان کے مطابق شعراء کو چاہئے کہ ہمیشہ احقاق حق کی فکر کے ساتھ رہیں۔

 اور جس جگہ بھی موقع ملے حق کی اثبات کے لئے کوشش کریں، یہ نہیں کہ اپنے وہم وخیال میں جو بات آئے لکھیں اور پڑھیں بلکہ شعر دلیل حق ہونا چاہئے ،خواہشات اور وہم و گمان پر مبنی نہیں ہونا چاہئے بلکہ مفہوم احادیث وآیات کے ضمن میں شعر پیش کرنا چاہئے۔اور تاریخ کے پہلو کو بھی مدّنظر رکھتے ہوئے شعر لکھنا چاہئے تاکہ وہ شعر اثبات حق کا باعث بنے ۔ اور اس کام کے انجام دینے کے لئے ہمیشہ شرح صدر کے ساتھ رہتے ہوئے کسی قسم کا بھی خوف نہیں کھانا چاہئے ۔ اور اس خوف کو اپنے ذہن سے نکالنے کے لئے ،شعراء متقدمین کی زندگی کامطالعہ کرنا چاہئے کہ اس زمانے کے شعراء نے خوف قتل کے باوجود کس طرح احقاق حق کے لئے کام کیا ہے۔مثلاً دعبل خزاعی کا دس سال در بدری کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ اسی طرح دوسرے شعراء اہلبیت علیہم السلام پر جو مظالم ڈھائے گئے وہ کوئی عام سی بات نہیں ہے بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ کیوں ان پر یہ ستم روا رکھے گئے ؟ تو جواب صرف یہی ہے کہ وہ لوگ احقاق حق کے لئے اپنے ہنر شعر کے ذریعے حریم اہلبیت عصمت وطہارت صلوات اللہ علیہم اجمعین کے دفاع کرنے میں مصروف رہتے تھے ۔پس اگر آج کے شعراء کا مقصد بھی احقاق حق ودفاع از حریم معصومین علیہم السلام ہے تو انہیں بھی اس طرح کی مشکلات سے سامنا کرنے کے لئے آمادہ رہنا چاہئے اور خوف خدا کے سوا غیر خدا کا خوف دل سے نکال دینا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اہلبیت علیہم السلام کے حق کو احقاق کرنے اور ان کی سیرت طیبہ کو حتی الامکان دنیا والوں تک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔

اصل محبت:

بحمداللہ جان مردم و وجود شان بہ عشق و محبت اہل بیت آمیختہ است و برای شما……

آپ فرماتے ہیں کہ:''خدا کا شکر ہے کہ لوگوں کی جان اور ان کا وجود عشق و محبت اہل بیت کے ساتھ آمیختہ ہے اور آپ شعراء و بلبلان گلزار اہلبیت کے لیے یہ موقع حاصل ہے کہ آپ ان کے احساسات اور عواطف کو سیراب کریں''۔

پس شعراء کو ان بیانات کے ضمن میںچاہیے کہ لوگوںکے قلوب کو اہلبیت کے معارف بیان کر کے سیراب کریں وہ پیاسے ہیں ۔  بقول اقبال:

                                                ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

یعنی شعراء کو اپنے بیان شعر کے ذریعے اس زرخیز زمین کو سیراب کرنا چاہیے تاکہ اس سے بہتر فصل حاصل ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی خلش باقی رہ جائے اور جو بیج اس زمین کے اندر ہے وہ سوکھ جائے۔

اسی ضمن میں آپ فرماتے ہیں کہ :تشیع آئین محبت است،خصوصیت محبت خصوصیت تشیع است……"یعنی تشیع ایک محبت کا آئین ہے اور اس کی خصوصیت محبت ہے اور محبت خصوصی طور پر تشیع کی خصوصیت ہے ۔کیا دنیاکے کسی اور مکتب فکر میں ایسی محبت پائی جاتی ہے جو تشیع کے یہاں ہے؟اور آج تک اس مکتب کے ساتھ ہونے والے مخالفتوں اور دشمنیوں کے باوجود فکر تشیّع زندہ رہنے کی وجہ یہی ہے کہ اسکا ریشہ محبت کے زلال میں ہے ۔ تشیع دین تولّا وتبرّا ست، یعنی تشیع ایک ایسا دین ہے جس میں تولا وتبرّا بھی ہے۔تشیع دوستی ودشمنی کا آئین ہے اور اس میں عاطفہ فکر کے ساتھ ہم آھنگ اور ساتھ ساتھ ہے اور یہ بہت ہی اہم ہے (کہ عاطفہ و فکر ہم آھنگ ہو)۔اگر تشیع کے اندر محبت نامی چیز نہ ہوتی تو آج تک اسکے ساتھ انجام پانے والی مخالفتوں کے ذریعے (دشمن) اسے مٹاسکتے تھے۔

 یہ آپ(مداحان)کی اور دوسرے( مونین )لوگوں کی حسین ابن علی علیہم السلام کے ساتھ پائی جانے والی محبّت کا رشتہ ہے جو اسلام کی بقاء اور حیات کا ضامن ہے اور یہی محبت امام امّت رحمة اللہ علیہ کے اس فرمان کا معنیٰ ہے کہ (عاشوراء اسلام را زندہ نگہہ داشتہ است) یعنی اسلام کو عاشوراء نے زندہ رکھا ہے ۔ ایّام فاطمیہ بھی اسی طرح ہے ، ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولادت اور شہادت کے ایّام بھی اسی طرح ہے۔ پس آپ شعراء ومدّاحان کو چاہئے کہ اپنے اس ہنر کے ذریعے اس محبّت کو لوگوں کے دلوں کی گہرائی میں اتاریں اور اس محبت کو ہمیشہ تازہ رکھیں "۔

(دیدار رہبر معظّم دام ظلہ با مداحان تہران ،قم و کرج بہ مناسبت ولادت حضرت زہرا)

رہبر معظّم دام ظلہ کے ان فرامین کی روشنی میں یہ بات ہمارے ذہن میں آجاتی ہے کہ :

آئین عشق ومحبت آئین تشیع ہے ۔ (اس مکتب میں جو قوانین اور اصول وضوابط پائے جاتے ہیں ان میں سے تولّاوتبرّا بھی ہے جس پر ہمارا عقیدہ ہے) جس کا مقصد دوستی اور دشمنی ہے اور دوستی و دشمنی کا مقصد بھی ہمارے بزرگان ورہبران دین امامان معصومین علیہم الصلواة والسلام نے خود بیان فرمایا ہے تاکہ لوگ معیار دوستی ودشمنی سے آگاہ ہوجائیں اور اس دوستی و دشمنی کے معیار کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بے راہ روی اور گمراہی کا شکار نہ ہوجائیں ۔ ائمہ علیہم السلام فرماتے ہیں، الحبّ للہ والبغض للہ، یعنی انسان اگر دوستی کرنا چاہتاہے تو اس دوستی کا معیار بھی اللہ کی ذات ہونا چاہئے اور اگر کسی سے دشمنی کرے تو بھی اس کا معیار اللہ کی ذات ہونا چاہئے چونکہ دنیا اور آئین دین میں جو کچھ ہے اسی ذات کی رضا کے لئے ہے جس نے کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے ہوئے نبی کو بھی عبدیّت کے دائرے میں رکھ کر عزّت بخشی ہے تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ساری عزّتیں نبوت اور رسالت کی وجہ سے ہیں۔ اور بس اسی لئے نماز میں اس باعزّت اور مقرب خدا شخصیت کے حوالے سے واجب ہوا ہے کہ بندہ خدا ہونے کی گواہی پہلے دیں پھر اس کی رسالت کا اقرار کریں جیسا کہ تشہد میں واجب ہے کہ جملات اس طرح سے ادا ہوں ۔ اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشہد انّ محمداً عبدُ ہ ورسولہ۔ یعنی میں اللہ کی وحدانیت کی گواہی کے بعد گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا عبد اور بندہ ہے جسکو اس نے رسالت پر مبعوث فرمایا ہے ۔

پس انسان کی زندگی کا ہر پہلو رضایت الٰہی ہے اور دین رضایت الٰہی حاصل کرنے کا قانون اور راستہ ہے ۔ جس کا آئین رسول گرامی اسلام اور اس کے حقیقی جانشینوں کے ذریعے بندوں تک پہنچا ہے ۔ اور اس رسول کے حقیقی جانشینوں کو رسول گرامی اسلام کی زبان سے امام مبین کا لقب دیا گیا ہے جو کتاب مبین کی تفسیر وتاویل کی ذمہ داری انجام دینے والے ہیں تاکہ بشر کلا م الٰہی کے حقیقی مفہوم سے آگاہ ہو ۔ اور ہمارے عقیدے کے مطابق امام جو کچھ بھی فرماتے ہیں تفسیر کتاب و سیرت رسول گرامی اسلام کے مطابق فرماتے ہیں ۔پس ائمہ علیہم السلام نے محبت اور نفرت (تولّا وتبرّا) کے معیار ومناط اور محور کو اللہ کی ذات قرار دیاہے ۔

پس اس مکتب میں جو فضائے محبّت اور دشمنی پائی جاتی ہے وہ اللہ کی رضا کی خاطرہے ۔ چونکہ اللہ کے رسول ان برگزیدہ افراد سے دوستی رکھتے ہیں اور اللہ اس کے رسول سے دوستی کو پسند کرتا ہے پس دوست کا دوست بھی دوست ہوتا ہے پس اللہ کے یہاں اس کا بھی مقام ومرتبہ ہے جس کو اسکی طرف سے محبت ملتی ہے پس اہلبیت علیہم السلام تو بطریق اولیٰ محبت الٰہی کا مرکز ہیں۔اسی طرح دشمنی اور نفرت کا معیار بھی یہی ہے کہ جن افراد کو اللہ کا نبی ورسول نے دشمن گردانا ہے وہ اللہ کے بھی دشمن ہیں پس ہمیں بھی ان سے دشمنی رکھنا چاہئے تاکہ دوست کا دشمن دشمن ہے پس جو ہمارے دوستوں سے دشمنی کرتے ہیں ہم ان سے دشمنی کرتے ہیں تاکہ دوست کی رضایت حاصل ہوجائے اور زیادہ سے زیادہ اس کے قریب ہوجائیں۔

(یہ ایک تفصیل طلب اور گستردہ موضوع ہے جس پر بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن آج تک بحث تکمیل کو نہیں پہنچی اور میں یہاں اس موضوع سے بحث کرنے کے موقع میں نہیں ہوں لہٰذا تفصیل کے لئے عقائد اور فروع دین کے بیان پر مبنی کتابوں اور کتب احادیث کی طرف مراجعہ فرمائیں)۔

 پس انکی محبت اللہ کی محبت ہے اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی حمایت اور ان کے فرامین پر ہمیشہ سر تسلیم خم رہے ۔ اور جہاں ان کے دشمن زبان کھولیں وہاں زبان و فکروقلم انکے مقابل میں تلوار کی طرح نیام سے نکالیں۔ پس شعراء اہلبیت کو چاہئے کہ اپنے افکار کے ذریعے اور قلم وزبان کے ذریعے ان کی محبت کو دنیا والوں کے دلوں تک پہنچائیں اور جو قلوب اس محبت کی نمی سے خشکیدہ ہیں ان کو معارف اہلبیت علیہم السلام کے ذریعے آبیاری کرکے سرسبز وشاداب بنائیں۔ تاکہ حق شاعری وحق محبت حتی الامکان ادا ہوسکے۔

واقعیت و تعقل:

رہبر معظّم دام ظلہ فرماتے ہیںکہ:توجہ داشتہ باشید آن چیزی را بخوانید کہ معقول باشد……"شعراء کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ جو کلام وہ پیش کررہے ہیں یا جو شعر وہ لکھ رہے ہیں وہ معقول ہو۔ البتہ یہ بھی نہیں کہ اپنے عقل کے زاویے کے مطابق ہر وہ چیز بیان کر یں جوخود چاہیں۔بلکہ اس معقول چیز کو قواعد اسلام ،روایات و احادیث و تاریخ سے موازنہ کیا جائے۔

تاکہ اس کی واقعیت ثابت ہو۔ہاں اگر کسی حدیث کو بیان کر رہے ہو ںجو ہنری ہو اور اس کے ساتھ کوئی پیر ایہ موجود ہو تو اس کے بیان میں کوئی مشکل نہیں ہے۔مگر ا س شرط کے ساتھ کہ وہ پیرایہ اصل (شعر وکلام) قرار نہ پائے ۔ ضروری ہے کہ اصل شعر کو واقعیت اور حقیقت سے لیا جائے اور اس حقیقت کو اپنے ہنر شاعری کے سانچے میں ڈھالا جائے"۔(اصول وروش مدّاحی ص ٨٣)

ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں انسان کو ہر وہ بات بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے جو اس کی اپنی عقل کے مطابق ہو ۔ بلکہ اس عقل کوشریعت کی تائید ہونی چاہیے۔اگر ایسا نہ ہو احادیث اور روایات سے دور کوئی عقل ہو تو قابل قبول نہیں۔پس شعراء کو چاہیے کہ اپنی عقل کو روایات و آیات کے زاویئے میں پرکھیں اور اس سے حاصل شدہ نتیجہ کو شعر میںبیان کریں۔

ذکر مصیبت:

اب اس حوالے سے رہبر معظم فرماتے ہیں کہ:ذکر مصیبت یک چیز قھری است کہ حتما باید انجام شود…" ذکر مصیبت حتما شعر وں میں بیان ہونا چاہئے۔مگر ہم دیکھتے ہیںکہ کبھی کبھار کربلا کے واقعات کو شاعر اپنے لب و لہجے میں اور کبھی کربلا میں موجود بزرگواروں کے لہجے میں بیان کرتے ہیں۔اور وہ احساسات پر مبنی ہوتے ہیں یہ ذکر مصیبت نہیں ہے بلکہ جو کربلا میں گزرا ہے وہی بیان کیا جائے تاکہ یہ واقعہ و حماسہ زندہ رہے اور بھولنے نہ پائیں۔واقعہ کربلا کو نکتہ بہ نکتہ بیان کیا جائے۔جس مناسبت سے مجلس ہو اسی مناسبت سے تمام حالات کو بیان کیا جائے۔چاہے وہ شعری زبان میں ہو یا نثری زبان میں"۔

پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شعراء کو چاہیے کہ کربلا کی تاریخ اور واقعہ عاشورا کا نکتہ نکتہ اپنے اشعار میں بیان کیا جائے اور اپنی طرف سے بنی بنائی باتیں نہ کریں اور حقیقت گوئی سے گریز نہ کریں بلکہ واقعے کی حقیقت کو جہاں تک ہو سکے بیان کریں اور ہاں فکری اور تخیل کے طور پر بیان کرنا ہے تو بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ کہیں تخیل حقیقت سے دوری کا باعث نہ ہو انسان حقیقت کو ہی تخیلات کی روشنی میں بیان کرسکتا ہے۔اور شعراء کو اس کا زیادہ خیال رکھنا چاہئے تاکہ واقعہ کربلا کا ہر لمحہ بطور حقیقت زندہ رہے۔

اصل تفہیم:

تفہیم شعر و محتوی کے حوالے سے مقام معظم رہبری فرماتے ہیں کہ :یکی از اصو ل مھم در مداحی اصل تفہیم است……شما باید این را بفہمانیدیعنی'' مداحی میں ایک اہم پہلو تفہیم یعنی سمجھانے کا پہلو ہے۔ہر سرود اور ہر دُھن آپ کو فائدہ نہیں دیتی ۔اس کے لیے ایک خاص روش اپنانی چاہیے۔ لوگ زبان شعر کو زیادہ چاہتے ہیں لیکن نثرکی طرح ان کے سمجھ میں نہیں آتی آپ کو چاہیے کہ شعر لوگوں کو سمجھائیں ۔ اور سمجھا نا صرف یہ نہیں کہ آدمی ایک خوبصورت آواز وخوش الحانی سے پڑھے اور مستمع (سننے والا) یہ نہ سمجھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ بلکہ شعراء کو اس انداز میں اشعار کے مطالب بیان کرنا چاہئے کہ لوگ سمجھیں (کہ وہ کیا کہہ رہا ہے)اور اگر آواز میں سُر نہ ہو اور سمجھانے کا ہنر رکھتا ہو تو اس شاعر کے کلام کو لوگ اسی عام لہجے میں ہی پسند کریں گے ۔ اور اگر لوگوں کی سمجھ میں (شعر کا مطلب) نہ آئے تو سُر کے ساتھ پڑھنے سے بھی لوگ پسند نہیں کریں گے کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ جو اس کے سمجھ میں نہیں آتا اسے پسند نہیں کرتاہے ''۔

پس رہبر معظّم دام ظلہ یہاں امام علی علیہ السلام کے اس فرمان کی روشنی میں ہدایت دے رہے ہیں کہ مولا نے فرمایا تھا ''کلم الناس علی قدر عقولہم''اس فرمان کی روشنی میں شعراء کو چاہیے کہ لوگوں کے مزاج کے مطابق ان کے قوت فہم کے مطابق شعر کہیں اور عام لوگوں میں سخت اشعار نہ کہیں ،خصوصا مصیبت کے اشعار عام فہم ہونا چاہیئں تاکہ لوگ واقعے کو سمجھ سکیں ۔(آئین ستایشگری ص٤٨)

پس یہ تھے وہ اہم فرامین جن کی طرف توجہ اور عمل ہر معاصر شاعر کے لئے ضروری ہے ۔ چونکہ ہمیں ایک خطرناک دور میں اسلام کو زندہ رکھنا ہے اور اگر کوئی شخص ہنر شعر کے ذریعے شعراء ماسلف کا وارث اور دین حق کا علمبردار بننا چاہتا ہو تو اس کے لئے ان تمام نکات کا خیال رکھنا لازمی ہے ۔

دعا ہے اے اللہ ہمیںبھی تیرے اولیا کے معیار کے تحت اشعار پیش کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔اور رہبر فرزانہ اسلام آیة اللہ خامنہ ای کو طول عمر عنایت کر اور ہمیں ان کے کلمات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق دے۔                        آمین!!!


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 4 (نشريه بزم رأفت)، پيام رأفت نمبر 5 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن
[ چهارشنبه بیست و هفتم مهر 1390 ] [ 17:57 ] [ انجمن ] [ ]

تاریخ مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام

جناب سید حسن عسکری نقوی صاحب               

مقدمہ

مرحوم آقائے حاج شیخ جعفر شوشتری نے اپنی کتاب الخصائص الحسینیہ میں خواص مجالس بیان فرمائے ہیں یہاں تبرکا موقع کی مناسبت سے چند ایک کو بیا ن کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں۔

١۔دل کو زندگی ملتی ہے مجلس امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں آنے والے کا دل قیامت کے دن مردہ نہیں ہوگا۔

٢۔ سانس لینا مجلس امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں تسبیح کا ثواب ہے۔

٣۔مجالس عزاداری امام حسین علیہ الصلاة والسلام محبوب خداو رسول و ائمہ طاہرین علیہم السلام ہیں ۔

٤۔مجالس عزاداری امام حسین علیہ الصلاة والسلام محل نظر امام حسین علیہ الصلاة والسلام و حضرت زہرا سلام اللہ علیہاو باقی ائمہ طاہرین صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین ہیں ۔

٥۔مجالس عزاداری امام حسین علیہ الصلاة والسلام ملائکہ مقربین کے آنے کی جگہ ہیں ۔

٦۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام قبہ وگنبد امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا حکم رکھتی ہیں ۔کہ جہاں دعا رد نہیں ہوتی سبحان اللہ اس لیے کہ قبہ و گنبد سے مراد تنھا قبہ نہیں ۔بلکہ اس سے مراد عطاء خداوندی ہے۔

٧۔مجالس عزاداری امام حسین علیہ الصلاة والسلام کائنات کی اشرف ترین جگہ ہیں  ۔

٨۔مجلس امام حسین علیہ الصلاة والسلا م رونے والوں کی معراج کا نام ہے ، اور اسی لیے محل نزول رحمت پر وردگار ہے، اور اسی لیے گناہوں کی بخشش کی جگہ ہے اور اللہ باکین کوبے انتہا پسند فرماتا ہے۔

ان اللہ یحب البکاء والبا کین۔اللہ گریہ اور گریہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

اسی لیے رب العزت نے سورة توبہ آیت نمبر٨٢ میں اپنی پسند کا اظہار فرماتے ہوئے زیادہ گریہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور ارشاد فرما یا ہے: فلیضحکواقلیلا والیبکوا کثیرا ذلک جزاء بما کانوا یکسبون۔

پھر سورہ مریم آیت نمبر٥٨ میںمومنین وصالحین اور ھدایت یافتہ لوگوں کے وصف بتاتے ہوئے

 ارشادفرمایا ہے: وممن ھدینا واجتبینا اذا تتلی علیہم آیات الرحمن خروا سجدا وبکیا۔

کہ جب ان پر رحمان کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو روتے روتے سجدے میں گرجاتے ہیں۔

٩۔مجالس عزا امام حسین علیہ الصلاة والسلام مصلای پروردگار ہے یعنی پروردگار عالمین کے رحمت کی جگہ ہیں ۔

١٠۔ مجالس عزا امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں آنے والا شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،ائمہ ھدی و حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھم اجمعین کی دعاسے بہرہ مند ہوتا ہے۔

١١۔ مجالس عزامیں آنے والاامام حسین علیہ الصلاة والسلام کامورد خطاب اور مورد کلام واقع ہوتا ہے۔

١٢۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام امام جعفر صادق علیہ الصلاة والسلام کی محبوب ترین جگہ ہیں۔

١٣۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام عرفات کی مانند توبہ کے قبول ہونے کی جگہ ہیں۔

١٤۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام حطیم کی مانند امان خدا کی جگہ ہیں۔

١٥۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام طواف بیت اللہ الحرام کا ثواب رکھتی ہیں۔

١٦۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام مشعرالحرام کی مانند ہیں۔

١٧۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام منبع آب حیات مرکز آب حیات ہیں  مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں آب حیات پلایا جاتا ہے۔

١٨۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام محل حضور ائمہ طاہرین علیھم الصلاة والسلا م حضر ت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ہیں۔

١٩۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام تاء سی ہے ان مجالس کی کہ جو اول خلقت برپا ہوئیںاور

 آخر خلقت برپا ہونگیں۔

٢٠۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام آگ کو بجھانے والی ہیں، چاہے وہ دنیا کی آگ ہو یاآخرت کی آگ ۔

 ایک شخص جو کربلا میں رہتا ہے اس نے بیا ن کیا کہ وہ تیس سال سے کربلا میں مقیم ہے،وہ ہمیشہ پہلے زیارت کرتا تھا اور اس کے بعد گھر کا راشن وغیرہ خرید کے گھر جاتا تھا، کہتا ہے کہ ایک دن وہ کافی تاخیر سے گھر سے نکلا اور سوچا کہ کہیں ایسا نا ہو کہ سامان ختم ہوجائے تو فورا اس نے بازار سے گوشت خریدااور سرکار کی زیارت کے لیے روانہ ہوگیا پہلے سرکار حضرت ابولفضل العباس علمدار  کی زیارت کی پھر بعد میںمولا حسین علیہ الصلاة والسلام کی زیارت کرکے گھر واپس آیا اور زوجہ کو گوشت دیا کے غذا تیار کرے لیکن کافی دیر کے بعد جب گوشت نا گلا تو واپس آکر قصاب سے شکایت کی تو اس نے جواب دیا کہ اس جانور سے کافی لوگوں کو گوشت دیا ہے لیکن کسی نے گلہ نہیں کیا ، پھر یہ ایک بزرگ عالم دین کی خدمت میں پہنچا اور سوال کیا تو انھوں نے دستور العمل زندگی پوچھا جواب دیا کہ ہمیشہ پہلے زیارت کی بعد میں سودا سلف خریدا لیکن آج پہلے سودا خریدا بعد میں زیارت کی توآپ نے جواب دیا۔ کہ اب یہ کبھی نہیں گلے گا اس نے سید الشھدا کی زیارت کرلی ہے ۔ہر جاندار کہ جو سید الشھدا کی زیارت کا شرف حاصل کرلے دنیا اور آخرت کی آگ اس پر حرام ہو جاتی ہے۔

 مگر شرط ہے کہ زیارت پر باقی رہے۔

اقسام مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام

اب یہاںیہ بیان ضروری ہے، کہ مجالس امام حسین کئی اقسام پر مشتمل ہیں،کچھ مجالس حضرت آدم  کی خلقت سے قبل ہوئیں۔ اور کچھ مجالس حضرت آدم کی خلقت کے بعد ہوئیں ۔کچھ مجالس سرکار سید الشھدا کے ظھور سے پہلے ہوئیں۔اور کچھ مجالس آنحضرت کے ظہور کے بعد ہوئیں۔اور باقی شہادت کے بعد ہوئیں آپ کی مجالس کہ جو ہوئیں اور ہورہی ہیں اور ہوتی رہینگی۔

 ہماری وجہ سے مجالس عزا نہیں ۔ہم کون ہیںبلکہ ہماری زندگی عزت شرف بلندی رزق صحت یہ سب کچھ مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی وجہ سے ہے ۔

بلکہ یوں کہدوں کہ یہ سب کچھ امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا صدقہ ہے۔

تاریخ مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام

( مجلس نمبر ١، مجلس قبل از خلقت حضرت آدم  )

١۔مجلس عزا کہ جوحضرت آدم  کی خلقت سے پہلے منعقد ہوئی۔وہ تقدیر کے وقت ہوئی کہ جب قلم کو لوح پر ثبت کرنے کا حکم دیا گیا۔تو اس وقت قلم اور لوح نے مل کے گریہ و بکا کیا۔

( مجلس نمبر٢،مجلس وقت خلقت حضرت آدم )

٢۔جب اللہ نے حضرت آدم کو خلق فرمایا۔اور ملائکہ کو سجدے کا حکم دیا۔تو انہوں نے کہا کہ تو اس کو خلیفہ کریگا کہ جوزمین پر فساد کرے گا۔اور خونریزی کرے گا،درحقیقت ان کے سامنے کربلا شہادت امام حسین کا پورا واقعہ تھا کہ جو اس سے قبل ان کو دکھایا جا چکا تھا۔پھر اس کے بعد سب ملائکہ نے مل کے گریہ و بکا کیا۔

( مجلس نمبر٣،مجلس وقت توبہ حضرت آدم )

٣۔مجلس میدان عرفات میں برپا ہوئی،اور یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب حضرت آدم کی توبہ کی قبولیت کا وقت آیا۔اور جبرائیل نے ان کے سامنے مجلس عزا پڑھی، اور یہ بات ہے اس وقت کی کہ جب حضرت آدم  کوروتے روتے دس سال گزرگئے ،کوئی جواب نا آیا، پھر دس سال روئے جواب نا آیا، پھر دس سال روئے جواب نا آیا،پھر دس سال روئے اور چالیس سال مکمل ہوئے ،تو جبرائیل نازل ہوئے اور سوال کیا توبہ کے متعلق،تو آپ نے جواب دیا کہ ابھی تک اللہ نے کوئی جواب نہیں دیا،تو جبرائیل نے جواب دیا اللہ تو بہت جلدی سنتا ہے ، کیا آپ نے اللہ جل جلالہ کو ان اسماء کا واسطہ دیا کہ جو آپ کو اللہ نے تعلیم دیے تھے اور جن کے ذریعے ملائکہ پر آپ کی افضلیت کو ثابت کیا تھا ۔ تو حضرت آدم نے ارشاد فرمایا کہ میں فراموش کرچکا ہوں تو جبرائیل نے ارشاد فرمایا کہ اسی لیے قبولیت میں اتنی تاخیر ہوئی ہے ورنہ اللہ تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب اور نزدیک ہے،سب سے پہلے سنتا ہے،اللہ کو ایسے پکاریں اور کہیں کہ :یا حمید بحق محمدۖ یا عالی بحق علی یا فاطر السموات والارض بحق فاطمہ یا محسن بحق الحسن یا قدیم الاحسان بحق الحسین۔

 جب بات امام حسین کے اسم مبارک پر پہنچی تو آپ کادل مضطرب ہوا سوال کیا کہ الھی کیا ماجرا ہے کہ پہلے چار ناموں سے دل کو سکون ملتا ہے لیکن پانچویں نام سے دل پر چوٹ پڑتی ہے ،تو اس وقت حضرت جبرائیل نے حضرت آدم کے سامنے کربلا کا پورا واقعہ بیان فرمایا۔

ملتا ہے کے کافی طولانی مجلس پڑھی اور حضرت آدم روتے روتے بیہوش ہوگئے، جب ہوش آیا تو آواز قدرت آئی کہ اے آدم تو نے حسین پے گریہ و زاری کیا ،میں نے تیری توبہ کو قبول کیا۔

( مجلس نمبر ٤، مجلس حضرت آدم )

٤۔خود رسول اللہۖ سے پہلے انبیاء ما سلف نے بھی کرارا ومرارا ذکر امام حسین کیا اور مجلس امام حسین برپاکی،ملتا ہے کہ حضرت آدم  جب کربلا کی سرزمین سے گزرے،تو قتل گاہ امام حسین کے پاس ٹھوکر لگی اور زمین پر تشریف لائے خون جاری ہوا، عرض کی کہ اے پروردگارماجرا کیا ہے آواز آئی کہ اے آدم یہاں تیرافرزند حسین شہید کیا جائیگاعرض کی کہ خدایا اس کا قاتل کون ہے ،آواز آئی کہ ا س کاقاتل یزید ملعون ہے،حضرت آدم نے یزید پر لعنت کی اورعرفات کی طرف روانہ ہو گئے

( مجلس نمبر٥، مجلس حضرت نوح )

٥۔حضرت نوح کی کشتی کربلا میں جب مقام شہادت امام حسین پر پہنچی، تو ایک دم شدیدطوفان آیااور کشتی میں بھونچال آگیا۔حضرت نوح گرے چوٹ لگی ،نزدیک تھا کہ کشتی غرق ہوجائے، رب العزت سے سوال کیا کہ الھی ماجرا کیا ہے۔ فورا جبرائیل ناز ل ہوئے اورکربلا کا واقعہ بیان کیا، ساری کشتی نے مولا حسین کی مصیبت میں گریہ و زاری کیا،اور یزید ملعون پر لعنت کی،او ر کشتی وہا ں سے گزرگئی۔

( مجلس نمبر٦،مجلس مجمع البحرین )

٦۔ایک اورمجلس مجمع البحرین میں واقع ہوئی،کہ جب حضرت موسی کی حضرت خضر سے ملاقات ہوئی، اور آپس میں محمد وآل محمدعلیہم الصلاة والسلام کا ذکر کیا اور بات جب امام حسین تک پہنچی تو مل کے دونوں نے امام حسین پے گریہ وزاری کیا اور پھر آپ دونوں وہاں سے متفرق ہو گئے۔

( مجلس نمبر٧، مجلس حضرت سلیمان )

٧۔ حضرت سلیمان بساط پر بیٹھے ہوئے ہوا کے دوش پر جا رہے تھے۔یہاں تک کہ کربلا کی سرزمین پر سے گزرے،بساط ان کو تین چکر لگا کر زمین پر لے آئی،حضرت سلیمان غضب ناک انداز میںہوا سے مخاطب ہوئے،تو ہوا کی آوازآئی کہ اے نبی اللہ یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں پرآخری نبیۖ کا نواسہ تین دن کا بھوکا پیاسا بے گناہ شہید کیا جائیگا۔حضرت سلیمان نے وہاں پر گریہ و زاری کیا اور بساط لے کر ان کو وہاں سے روانہ ہوگئی۔

( مجلس نمبر ٨،مجلس حضرت ابراہیم  )

٨۔حضرت ابراہیم علیہ الصلاة والسلام نے جب آسمان وزمین کا نظارہ کیا،اور واقعہ کربلا کو دیکھاتو کافی روئے اور گریہ کیا ،ذبح اسماعیل کے وقت پھر کربلا کے واقعے کو دیکھا اورگریہ کیا۔

( مجلس نمبر٩،مجلس حضرت ابراہیم  ٢)

٩۔روایات میں ملتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم  کربلا سے گزرہے تھے کہ گھوڑے کی رفتار ایسی ہوئی کہ سر کے بل زمین پر آئے سر شگافتہ ہوگیا،عرض کی خدایا کیا مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہے،تو فورا اسب گویا ہوا،اے خلیل اللہ میں آپ سے شرمندہ ہوں،لیکن آپ جان لیں کہ اس سرزمین پرخاتم الانبیاء ۖکے نواسے کو قتل کیا جائے گااور اسی وجہ سے آپ کی موافقت ہوئی ہے سید الشھداء کے ساتھ ،حضرت ابراہیم  بھی قتل گاہ میں زمین پر تشریف لائے،اور مولا حسین بھی قتل گاہ میں زمین پر تشریف لائینگے،لیکن فرق ہے دونوں کے زمین پر آنے میںجد الانبیائ اور باقی انبیائ جو زمین پر تشریف لائے اورسید الشھدا کے درمیان کہ حضرت ابراہیم صحیح وسالم بدن کے ساتھ زمین پر آئے اور بعد میں زخمی ہوئے اور ان کا سر شگافتہ ہوا،اورپھر اپنی سواری پر سوار ہوکے روانہ ہوگئے،لیکن سیدالشھدا  زخمی بدن کے ساتھ زمین پر آئے اوراس کے بعد تیروں پر معلق ہو گئے،ابراہیم زمین پر آئے تو ان کے پاس کوئی دشمن موجود ناتھا،لیکن سید الشھدایزیدیوں کے درمیان گھرے ہوئے تھے،ابراہیم  زمین پر آئے اور اپنا سر خود اٹھایا، لیکن سیدالشھدا  کا سر قاتل نے اٹھایا،ابراہیم زمین پر آکے زخمی ہوئے،لیکن سید الشھدا خون آلود زخمی حالت میں تیروں کے ساتھ زمین پر تشریف لائے۔

 ( مجلس نمبر ١٠،مجلس حضرت موسی  بہ کوہ طور سینا)

١٠۔روایات میں ملتا ہے کہ حضرت موسی جب کوہ طور سینا کی طرف جانے لگے تو بنی اسرائیل کا ایک شخض آیا اور کہنے لگا کہ اے نبی اللہ میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے،آپ اللہ سے درخواست کریں کہ وہ مجھے بخش دے،حضرت موسی جب کوہ طور پر مناجات کے لیے پہنچے،تو عرض کی کہ پروردگا ر تو عالم الغیب ہے، ہر چیز کو جانتا ہے،تیرے بندے نے تجھ سے معافی کی درخواست کی ہے،اور وہ ملتمس عفو ہے۔

خطاب ہوا کہ اے موسی میں ہر گناہگار کو معاف کردونگا،لیکن قاتل حسین کو معاف نہیں کرونگا،حضرت موسی نے عرض کی کہ پر وردگار مجھے بتا کہ یہ حسین کون ہے، اس وقت رب العزت نے ذکر مصیبت امام حسین کو بیان فرمایا،اور کہا کہ اے موسی حسین کوکربلا کے میدان میں تین دن کا بھوکا پیاسہ ذبح کیا جائے گا،اے موسی  بے غسل و کفن اسکا لاشہ کربلا کے میدان میں تین دن تک پڑا رہیگا،اے موسی اس کی بہنوں بیٹیوں اور  ان کے گھر کی خواتین کو سر ننگے ، شہر بہ شہر دیار بہ دیار پھرایا جائے گا، اے موسی ان کے بچے پیاس سے تلف ہو جائیگے،اے موسی ان کے سروں کو نیزوں پے بلند کیا جائیگا،ملتا ہے کہ یہ مصائب سن کر حضرت موسی بلند بلند آوازسے رونے لگے، رب العزت نے پھر خطاب کیا کہ اے موسی جان لو کہ جو بھی ان پر گریہ وزاری کرے گا،یا رولائے گا یا رونے کی شکل بنائے گا،جہنم کو اسکے بدن پر حرام کردوں گا۔ 

( مجلس نمبر ١١،مجلس حضرت  زکریا )

١١۔ ایک مجلس عزا بیت المقدس میں برپا ہو ئی،جیسا کہ مروی ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے پر وردگار عالم سے خمسہ نجباء کے اسمائے گرامی سیکھنے کی درخوست کی،جبرائیل نازل ہوئے اور ان کو پنجتن پاک علیہم الصلاة والسلام کے اسمائے گرامی کی تعلیم دی،حضرت زکریا جب بھی پیغمبر اکرم امیر المو منین حضرت فاطمہ زہرا امام حسن مجتبی علیہم الصلاة والسلام کے اسماء کا ورد کرتے ان کا غم بر طرف ہو جاتا، لیکن جب وہ امام حسین  کے اسم گرامی کا ورد کرتے، تو روتے روتے آواز گلو گیر ہو جاتی، اور دل میں درد ہو جاتا ،اس وقت آپ نے عرض کی کہ خدایاکیا سبب ہے کہ جب میں جب میں چار ناموں کا ذکر کرتا ہوں تو میرا غم ختم ہو جاتا ہے۔

 اور جب نام حسین  لب پے آتا ہے تو رونے کو جی چاہتا ہے، اور آنکھوں سے اشک جاری ہوجاتے ہیں، تو اللہ جل جلالہ نے ان کو واقعہ کربلا کی وحی کی، اور کھیعص کو تعلیم دیا،کہ جو در حقیقت کربلا کے واقعے کا اشارہ ہے،حضرت زکریا اتنا روئے کے تین دن مسجد سے باہر نہ آئے،اور لوگوں کو اپنے سے دور کردیا، اور اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے چلتے پھرتے سوتے جاگتے برابر گریہ و زاری فرماتے رہے،اور عرض کی کہ پالنے والے کیا تو اپنے محبوب کو اتنے سخت امتحان میں مبتلا فرمائے گا،اور پھر عرض فرمائی کہ پروردگار تو مجھے اس بڑھاپے میں ایک فرزند عطا فرما۔اور میری آنکھوں کو اس سے منور فرما،اوراس کی محبت میرے دل میں زیادہ کردے،اور پھر مجھے اس کی مصیبت میں مبتلا فرما، جیسا کہ تو اپنے حبیب کا امتحان لے گا، پس خداوند زمین و آسمان نے ان کو یحیی نبی جیسا بیٹا عطا کیا،اور ان کو اس فرزند کی مصیبت میں امتحان میںمبتلا کیا اورجیسا کہ روایات سے مستفاد ہوتا ہے

(مساوات حضرت یحیٰ  با امام حسین )

حضرت یحیی شہید کی کافی مناسبا ت ہیں سید الشھداامام حسین کے ساتھ،جن میں سے ثوابا چند ایک کا میں یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

١۔حضرت یحیی علیہ السلام کی بشارت ان کی ولادت سے پہلے حضرت زکریا کو دی گئی۔حضرت امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی بشارت ان کے ظہور سے پہلے جبرائیل نے آکے خاندان رسالت ۖ  کو دی۔

٢۔حضرت یحیی علیہ السلام سے پہلے تاریخ میں کسی کا نام یحیی  نہیںتھا۔ اور اسی طرح مولا حسین علیہ الصلاة والسلام سے پہلے کسی کانام حسین نہیں تھا ۔

٣۔حضرت یحیی علیہ السلام کا نام اللہ رب العزت نے تجویز کیا اور عرش سے نازل فرمایا۔حضرت امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا نام بھی اللہ جل جلالہ نے تجویز کیا اور عرش سے نازل فرمایا،اور کافی کتب اس پر شاہد ہیں جن میں عوالم العلوم ، ناسخ التواریخ،ریاض الشھادة،حلیة الابرار،اور اس کے علاوہ بھی کافی کتب میں موجود ہے۔

 ٤۔حضرت یحیی علیہ السلام نے اپنی والدہ سے دودھ نہ پیا اور ان کی غذا آسمان سے نازل ہوئی۔اورامام حسین علیہ الصلاة والسلام نے بھی دودھ نہ پیا ،اور زبان رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیراب ہوتے رہے۔

٥۔حضرت یحیی علیہ السلام کو ولادت کے بعد آسمان پر لے جایا گیا ، اوران کو آسمان کی سیر کرائی گئی،اور امام حسین علیہ الصلاة والسلام کو بھی ساتویں آسمان تک لے جا یا گیا اور ان کو وہا ں کی سیر کرائی گئی، جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہے کہ جناب زہرا سلام اللہ علیہا تشریف لائیں تو دیکھا کہ جنت کا سردار سیدالشھدا گہوارے میں نہیں ہیں، رسول ۖ کی خدمت میں حاضر ہو ئیں اور عرض کی کہ بابامیرا حسین گہوارے میں نہیں ہے تو آپ نے عرض کی کے میری زہرا پریشان نہ ہونا آسمان کے فرشتے اور حاملان عرش کہ جنھوں نے ابھی تک سیدا لشھدا کی زیارت نہیں کی تھی اللہ سے درخواست کی ۔اے رب العزت ہم حاملان عرش ہیں ، تیرے عرش کو ایک لمحے کے لیے چھوڑ نہیں سکتے،زمین پر جا نہیں سکتے ، ہم نے ابھی تک تیرے حسین کی زیارت نہیں کی ، تو اللہ جل جلالہ نے جبرائیل کو ملائکہ کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ حسین کو لے کر آہیں اور ملائکہ کو ان کی زیارت کرائیں ۔

 ٦۔حضرت یحیی علیہ السلام کی ساری زندگی غموں میں گزری۔اورمولاحسین علیہ الصلاة والسلام کی بھی ساری زندگی غموں میں گزری ، نانا ۖکا غم دیکھا ، ماں زہرا کا غم دیکھا،بابا علی کا غم دیکھا، بھائی حسن کا غم دیکھا،کربلا میں بھائی عباس اورعلی اکبر عون و محمد قاسم علی اصغر علیہم السلام کے غموں کو دیکھا۔

٧۔حضرت یحیی علیہ السلام مظلومیت کے ساتھ شہید کیے گئے۔اورامام حسین علیہ الصلاة والسلام بھی بے پناہ مظلومیت کے ساتھ شہید کئے گئے،اور اما م حسین  کی زیارت میں امام مظلوم کئی مرتبہ استعمال ہواہے۔ مظلوم نہیں بلکہ انتہائی مظلوم کائنات کے سب سے بڑے مظلوم کو حسین کہتے ہیں۔

٨۔حضرت یحیی علیہ السلام کا قاتل ولد الزنا تھا۔حضرت امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا قاتل اور ہر معصوم کا قاتل ولد الزنا ہوتا ہے۔

٩۔حضرت یحیی علیہ السلام پر آسمان و زمین کے ملائکہ نے گریہ کیا۔حضرت امام حسین علیہ الصلاة والسلام پر زمین وآسمان کے ملائکہ کے علاوہ جنت کی حوروں نے جنات نے پر ندوں نے ہوائوں نے، جانوروں نے سمندری مخلوقات نے الغرض اللہ کی ہر مخلوق نے گریہ کیا۔

١٠۔حضرت یحیی  کا خون ان کی شہادت کے بعد کافی عرصہ تک ابلتا رہا یہاں تک کہ ان کی شہادت کابدلہ لیا گیاامام حسین علیہ الصلاة والسلام کا خون بھی کافی عرصہ تک ابلتا رہا یہاں تک کے امیر مختا ر نے انتقام لیا، لیکن خون سید الشہدا اب بھی روز عاشور ابلتا ہے ،یہاں تک کے منتقم حقیقی امام زمانہ آکر انتقام لیں گے۔

١١۔حضرت یحیی علیہ السلام کا سر ان کی شہادت کے بعد ان کے دشمن کے سامنے طشت میں پیش کیا گیا، امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا سر ان کی شہادت کے بعد کربلا سے شام تک نیزے پے بلند رہا،اور ابن زیاد ملعون و یزید ملعون کے سامنے طشت میں پیش کیا گیا۔

 (خصائص امام حسین )

یہاںتک تو کچھ مشترکات کا بیان ہو ا اب یہاں میرا دل یہ چاہتا ہے کہ امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے کچھ خصائص بھی بیان کردئے جائیں کہ جو حضرت یحیی علیہ ا لسلام کو نہیں ملے، وہ فقط مخصوص ہیں امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے ساتھ :

١۔حضرت یحیی   تنہا شہیدہوئے،لیکن امام حسین علیہ الصلاة والسلام اپنے کنبے کے ساتھ شہید ہوئے۔

٢۔حضرت یحیی علیہ السلام کی آغوش میں کوئی بچہ شہید نہیں ہوا،لیکن امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی گود میںحضرت علی اصغر علیہ السلام شہید ہوئے ۔  

٣۔حضرت یحیی علیہ السلام پیاسے شہید نہ ہوئے ، لیکن زہرا کالال تین دن کا بھوکا پیاسہ ذبح کیا گیا۔

٤۔حضرت یحیی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے بدن کا کوئی حصہ ان کے بدن سے جدا نا ہوا ، لیکن امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی انگشت مبارک کے ساتھ بجدل ابن سلیم نے جفا کی ،اور دست مبارک کے ساتھ جمال ملعون نے جفا کی ،اور اس کے بعد لاش مظلوم پر گھوڑے دوڑائے گئے ۔

 ٥ ۔ حضرت یحیی علیہ السلام کی شہادت کے وقت ان کے اہل حرم میں سے کوئی موجود نا تھا ۔کہ جو ان کو ذبح ہوتے دیکھتا، لیکن زہرا  کے چاند کو ستر قدم سے بہن ذبح ہوتے دیکھتی رہی اور فریا د کرتی رہی ، کہ اے عمر سعد ملعون حسین علیہ ا لسلام ذبح ہو رہا ہے اور تو کھڑا دیکھ رہا ہے۔

٦۔حضرت یحیی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے اہل حرم کو قید نہ کیا گیا، لیکن امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے اہل حرم اھل بیت النبوةکو سر ننگے کوفہ و شام کے بازاروںدرباروں میں پھرایا گیااور پتھروں سے ان کا استقبال کیا گیا۔

( مجلس نمبر ١٢،مجلس حضر ت عیسی )

١٢۔ایک اور مجلس عزا امام حسین علیہ الصلاة والسلام کہ جو حضرت عیسی علیہ السلام کی موجودگی میں برپا ہوئی،اور اس مجلس کا ذاکر شیر تھا روایات میں ملتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کربلا سے گزررہے تھے کہ اتنے میں ایک غضبناک شیر راستے کو روک کرکھڑا ہو گیا،اس سے سوال کیا اور علت کو پو چھا تو شیر گویا ہوا، کہ اے اللہ کے نبی میں آپ کواس وقت تک یہاں سے گزرنے نہیں دونگا کہ جب تک آپ یزید ملعون پر لعنت نہ کرلیں کہ جو پیغمبر آخر الزمان کے بیٹے کا قاتل ہے،حضرت عیسی علیہ السلام نے یزیدملعون پر لعنت کی اور ان کو شیر نے راستہ دے دیا اور آپ وہاں سے گزرگئے۔

( مجلس نمبر ١٣،مجلس حضرت وقت ظہور امام حسین )

١٣۔امام حسین علیہ الصلاةوالسلام کے ظہور کے وقت مجلس عزا ہو ئی، کہ جب ہر فرشتے نے آکر رسول اللہ ۖ کو مبارک دی کہ جو ہزار ہزار کے دستوں پے مشتمل تھے،اور اس وقت کربلا کے واقعات کا ذکر ہوا اور بہت گریہ و زاری ہوا۔

( مجلس نمبر ١٤،مجالس بیت حضرت زہرا )

١٤۔ جناب زہرا سلا م اللہ علیہا کے گھر اکثر و بیشترذکر امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی مجلس اور گریہ و زاری ہواکرتا تھا ۔

( مجلس نمبر١٥،مجالس مسجد النبیۖ)

١٥۔مدینے مسجد النبیۖ میں کرارا و مراراذکر امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی مجلس عزا برپا ہو ئی،کبھی ذاکر جبرا ئیل ہوتے کبھی ذاکرخو د رسول اللہۖ اور کبھی دوسرے ملائکہ۔

( مجلس نمبر١٦،مجلس معراج النبیۖ ١)

 ١٦۔پیغمبر اکرم ۖ جب معراج پر گئے تو وہاں پر ہر فرشتے نے آپ کی خدمت میں تعزیت پیش کی اور وہاںامام حسین علیہ الصلاة والسلام پر کافی گریہ و زاری ہوا۔

( مجلس نمبر ١٧،مجلس معراج النبیۖ٢)

١٧۔بہشت میں برپا ہوئی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تھے جبرائیل آپ کے ساتھ تھے تو اس وقت وہاں حو ر العین نے امام حسین کا ذکر ان کے ظہور سے پہلے کیا۔

( مجلس نمبر١٨،مجالس حضرت جبرائیل )

١٨۔جبرائیل نے بے پناہ مقامات پر مصائب کا ذکر کیا،امام حسین کے ظہور کے وقت، اورجب دونوں شہزادوں کیلیے لباس آئے کہ جن کے رنگ سفید تھے،اور برتن بھی آیا ایک لباس اس میں ڈالا گیا تو وہ سبز ہوگیا۔پھر دوسرا لباس ڈالا گیاوہ سرخ ہوگیا،اس وقت جبرائیل نے علت بیان فرمائی کہ سبزلباس امام حسن کا ہے اس لیے کہ ان کو زہر دیا جائے گا،اور سرخ لباس امام حسین کا ہے اس لیے کہ ان کو شہید کیا جائے گا۔

( مجلس نمبر ١٩،مجلس حضرت امیر المومنین )

١٩۔مولا علی علیہ الصلاة والسلام جب کربلا کی سرزمین سے گزرہے تھے، تو وہا ں پر آپ نے امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا ذکر کیا اور بے پناہ گریہ کیا۔

( مجلس نمبر٢٠،مجلس حضرت زینب  )

٢٠۔مدینے میں جناب زینب سلام اللہ علیہا کی موجودگی میں بی بی ام ایمن نے امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا ذکر کیا ۔

 ( مجلس نمبر ٢١،مجلس حضرت امام حسن )

٢١۔ امام حسن علیہ الصلاة والسلام کی شہادت کے وقت آپ کے گھر میں خود امام حسن علیہ الصلاة والسلام نے مصائب پڑھے اور قیامت کا گریہ ہوا۔ملتاہے کہ جب امام حسین علیہ الصلاة والسلام اپنے بھائی کے سرہانے گریہ کررہے تھے ، کہ امام حسن علیہ الصلاة والسلام نے ارشاد فرمایا کہ بھیا حسین آپ گریہ نہ کریں ۔کہا کیسے گریہ نہ کروں جبکہ آپ جیسا شفیق بھائی دنیا سے جارہا ہے،ارشاد فرمایا کہ آپ گریہ نہ کریں بلکہ میں گریہ کروں گا ، امام حسین علیہ الصلاة والسلام نے ارشادفرما یا کہ آپ کیوں گریہ کر ینگے، امام حسن علیہ الصلاة والسلام نے ارشادفرمایا۔ کہ حسین میری آنکھوں کے سامنے دو منظر ہیں، جو مجھے رولا رہے ہیں ، اول تو یہ کہ میں دنیا سے جاونگا نانا ۖ نبی، اماں زہرا، بابا علی ملینگے، اوراگر کسی نے بھی مجھ سے پوچھ لیا کہ حسن  آپ آگئے اور حسین  کو تنہا چھوڑ آئے تو میں کیا جواب دونگا ،اور دوسرا کربلا کامنظر مجھے رولارہا ہے، کہ حسین  تو مدد کے لیے بلا رہا ہے اور کوئی تیری مدد کرنے نہیں آرہا ، حسین  اگر میں کربلا میں ہوتاتو اپنی جان تجھ پر قربان کردیتا ایسی ہستی کو امام حسین علیہ الصلاة والسلام کہتے ہیں۔کہ جن پر معصوم اپنی جان قربان کرنے کے کیے تیار ہیں۔

( مجلس نمبر ٢٢،مجلس حضرت امام حسین )

٢٢۔یہ مجلس خود امام حسین  نے پڑھی جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ جب ولید نے بیعت کا مطالبہ کیا، تو اس کے بعد آپ رات کے وقت نانا کے روضے پر چلے گئے، اور وہاں پر آپ نے مفصل انداز میں مجلس پڑھی اور کہا کہ یا رسول اللہۖ میں حسین ہوںآپ کی فاطمہ کا بیٹاآپ کا فرزند یا رسول اللہ آپ کی امت نے میری حرمت کا پاس نہیں کیا۔پھر وہاں آپ کی آنکھ لگ گئی تو آپ نے خواب میں رسول اللہ ۖ کو دیکھا کہ آپ ارشاد فرمارہے ہیں کہ اے بیٹا حسین میں دیکھ رہا ہوں،کہ بھو کا پیاسہ تیراسر تن سے جدا کردیا جائیگا،اے بیٹا حسین  تو خون میں تر بتر ہو جائیگا اے میرے بیٹا حسین آپ کے لیے اللہ تبارک و تعالی نے ایک درجہ رکھا ہے کہ فقط شہادت کے ذریعے ہی اس تک پہنچا جا سکتا ہے پھر سیدا لشھدا بیدار ہوئے اور ایک عظیم گریہ سرکا رنے کیا اور جب اس کی اطلاع بی بی زینب سلام اللہ علیہا کو ملی تو اہل بیت میں ایک کہرام بپا ہو گیا۔

( مجلس نمبر٢٣،مجلس حضرت ام سلمہ)

٢٣۔حضرت ام سلمہ سلام اللہ علیہا نے مجلس عزا کی کہ روایا ت میں ملتا ہے کہ جس وقت امام حسین علیہ الصلاة والسلام نے مدینے سے خروج کا ارادہ کیا تو بی بی امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے پاس تشریف لائیں اور عرض کرتی ہیں کہ بیٹا عراق جانے کی خبر سنا کے مجھے مغموم نہ کرو،اسلیے کہ میں نے آپ کے جدامجد سے سنا ہے کہ انھوں نے ارشاد فرمایا ہے کہ میرا حسین عراق میں کربلا کی سرزمین میںشہید کیاجائیگا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ مادر گرامی کوئی چارہ نہیں، میں بھی اس خبر کو جانتا ہوں۔اور میں اپنے قاتل کو پہچانتا ہوں، اپنے روز شہادت کو جانتا ہوں،اور اپنے مدفن کو بھی جانتا ہوں،اور اے مادر گرامی میں ان کو بھی جانتا ہوں کہ جو میرے ساتھ قتل کئے جائینگے۔اے مادر گرامی اگر آپ چاہیں تو میں وہ جگہ ابھی آپ کو دکھا سکتا ہوں،پھر آپ نے اشارہ کیا تو ساری زمینیں پست ہوتی چلی گئیں،اور کربلا کی زمین ظاہر ہو گئی،پس آپ نے وہا ں اپنا مدفن دکھایا،اور اپنے لشکر کی جگہ دکھائی،اور ایک ایک کا مدفن بتایا،پھر اس وقت بی بی ام سلمہ سلام اللہ علیہا بہت بلند آواز میں گریہ و زاری کرنے لگیں،اور مولا حسین کو خدا کے حوالے کیا،پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے مادر گرامی اللہ کی مرضی ہے کہ شہادت عظمی کا درجہ مجھے عطا ہو،اے مادر گرامی کربلا میں وہ منظر ہوگا کہ میں استغاثہ کروں گا لیکن میرے استغاثے پے کو ئی لبیک کہنے والا نا ہو گا۔ایک اور روایت میں وارد ہوا ہے کہ بی بی ام سلمہ نے ارشادفرمایا کہ آپ کے جد امجد نے مجھے خاک دی ہے کہ جو شیشی میں محفوظ ہے،پھر آپ نے ہاتھ بڑھایا اورکچھ خاک ہاتھ میں لی اور بی بی ام سلمہ کے حوالے کر کے ارشاد فرمایا،کہ اسکو بھی شیشی میں محفوظ کر لیجیے،جب آپ کو اس کا رنگ بدلا ہوانظر آئے تو آپ سمجھ لیں کہ مجھے شہید کردیا گیا ہے۔ الی آخر الروایة۔

( مجلس نمبر ٢٤،مجلس وداع امام حسین )

٢٤۔ ایک اور مجلس عزا سرکار کے مدینے چھوڑنے سے پہلے بر گزار ہو ئی،سب سے پہلے آپ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وداع کیا،وہا ں باقاعدہ آپ نے مجلس پڑھی کے اے نانا رسولخدا ۖ آپ کا حسین  جارہا ہے۔

   پھر بی بی زہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ اماں آپ کاحسین جارہا ہے وہ حسین  جس کو آپ نے چکیا ں پیس کے پالا تھا۔پھر امام حسن علیہ الصلاة والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کی کہ بھیا حسن آپ کا بچپن کا ساتھی حسین جارہا ہے بھیا حسن  آپ کا چھوٹا بھایی حسین جارہا ہے،ملتا ہے کہ اس مجلس وداع میں سرکار نے اتنا گریہ کیا کہ روتے روتے غش کھا کر زمین پر گرے۔

( مجلس نمبر٢٥،مجلس قبل از حرکت از مدینہ)

٢٥۔یہ مجلس مدینے سے نکلتے وقت برگزار ہوئی،کہ جب ملائکہ کے دستے دستے سرکار کی خدمت میںحاضرہوئے ،اور کہنے لگے کہ پروردگار عالم نے ہمارے ذریعے کن کن مقامات پے آپ کے جد امجدۖ کی نصرت فرمائی ہے آپ ہمیں حکم دیں، تو پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ میرا اور تمہارا دیدار کربلا کی سرزمین پے ہوگا،اور پھر وہاںپے کافی گریہ و زاری ہوا۔

( مجلس نمبر٢٦،مجلس حضرت دربین جنیان )

٢٦۔یہ مجلس بھی مدینے سے نکلتے ہوئے بر گزار ہو ئی کہ جب جنّوں کے لشکر سرکا رکی خدمت میں حاضر ہوئے،اور عرض کرنے لگے کہ یابن رسول اللہ ہم لوگ آپ کے شیعوں میں سے ہیں۔آپ ہمیں جو چاہیں حکم دیں،اگر آپ حکم کریں تو ہم آپ کے دشمنوں کو ابھی ہلاک کردیں گیں،سرکار نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تمہیں جزائے خیر دے، کیا تم نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی کہ جو میرے جد امجدۖ پے نازل ہوئی تھی،کہ تم جہاں کہیں بھی ہو موت تم کو پالے گی،چاہے تم محکم برجوں میں ہی کیوں نا پناہ لے لو ،پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ کربلا کی زمین کو اللہ نے دحو الارض کے دن چن لیا تھا،اور وہ ہمارے شیعوں کی دنیا وآخرت میں پناہ گاہ ہے، لیکن آپ لوگ عاشور کے دن کربلا میں آنا ، اس لیے کے اس دن کے آخری پہر میںمجھے شہید کیا جائیگا۔اور میرے اھل بیت اور میرے اصحاب کو بھی اسی دن شہید کیا جائیگا۔اور میرے سر کو یزید کے سامنے لے جایا جائیگا،پس اس وقت جنوں نے عرض کی کہ اے حبیب خدا اے حبیب خدا کے بیٹے اگر ہمیں آپ کے امر اور دستور کا پاس نہ ہوتا تو ہم یقیناآپ کے سارے دشمنوں کو ہلاک کردیتے،تواس وقت سرکار نے ارشاد فرمایا:

 کہ خدا کی قسم ہماری قوت اقتدار طاقت ولایت تم لو گوں سے کہیں زیادہ ہے کہ جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے،لیکن ہم نے اس مخلوق پر حجت کو تمام کرنا ہے، یہ سن کر تمام جنات روتے ہو ئے وہاں سے منتشر ہوگئے ۔

( مجلس نمبر ٢٧،مجلس مسجد الحرام )

٢٧۔پھر اگلی مجلس سید الشہدا نے مسجدالحرام میں منعقد کی اور آپ نے ایک طولانی خطبہ ارشاد فرمایا کہ جس کاماحصل یہ تھا کہ حمد وثنا اس خالق مطلق کے لیے کہ جوواحدو یکتا ہے،اور تمام امور اسکی مشیت سے چلتے ہیں،اور صلوات اور سلام ہو محمدۖ اور ان کی پاک آل پر، پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ لوگو  یاد رکھو کہ جس طرح لڑکیو ںکی گردن میں قلادہ ثبت ہے،اسی طرح لوگوں کے لیے مرنا ثبت ہے۔میں اپنے گزرے ہوئے لوگوں سے ملنے کے لیے اتنامشتاق ہوں، جس طرح کہ یعقوب کو یوسف کااشتیاق تھا، اے لوگوں میں دیکھ رہا ہوں کے مجھ پر صحرا کے بھیڑیوں نے حملہ کردیا ہے،اور میں دیکھ رہا ہوں کے میرابدن پارہ پارہ کردیا گیا ہے،میں اللہ کے علم اور اس کی مشیت پرراضی ہوں،اور اے لوگوں یاد رکھو کہ ہم اہل بیت اللہ جل جلالہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں اور مصائب پر صبر کرتے ہیں اور اے لوگوں یاد رکھنا کہ جو بھی اپنی جان اللہ کی راہ میں دینا چاہتا ہو، اوراللہ سے ملاقات کاطالب وطلبگار ہو،تو وہ میرے ساتھ آسکتا ہے میں صبح کو کوچ کرونگا۔

( مجلس نمبر٢٨،مجلس حضرت محمد بن حنفیہ)

٢٨۔یہ مجلس مکے کے باہر انجام پائی کہ جب حضرت محمد ابن حنفیہ تشریف لائے،اور آکے عرض کی کہ یابن رسول اللہۖ اھل کوفہ نے آپ کے والد بزرگوار اور آپ کے بھائی کے ساتھ بے و فائی کی ہے،اور میں ڈرتا ہوں کے کہیںوہ آپ کے ساتھ بھی یہی کچھ نہ کریں،میری نظر میں بہتر یہ ہے کہ آپ اسی مکے میں رہ جائیں یہ امن کی جگہ ہے،یہاں کوئی آپ پر ظلم و تعدی نہیں کرے گا،آپ نے ارشاد فرمایا کے بھائی یہ یزید ملعون۔ یہاں بھی مجھے دھوکے سے قتل کرنے کی کوشش کرے گا اور حرم اللہ کی حرمت کو توڑدیگا،پھر فرمایا کے بھائی آپ یمن چلے جائو،یا صحرا کی طرف چلے جائو،سرکا ر نے ارشاد فرمایا کہ میں اس بات پر غور و فکر کروں گا،جب سحرکا وقت آیاحضرت نے چلنے کا اشارہ کیایہ خبر جب حضرت محمد حنفیہ کو پہنچی ، تو آپ جلدی سے آئے

  اورآکے عرض کرنے لگے کہ بھائی آپ نے فرمایا تھا کہ میں اس پر غورو فکر کروں گا،اور اب جلدی کس بات کی ہے،تو آپ نے گریہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بھائی جب آپ چلے گئے اور میں لیٹا ہی تھا کہ نانا رسول خداۖ تشریف لائے، اور آکے فرماتے ہیں ،اے حسین جلدی چلو اللہ کی مشیت میں آپ کے لیے شہادت ہے، حضرت محمد ابن حنفیہ نے کلمہ استرجاع (انا للہ وا نا الیہ راجعون )، کو زبان پر جاری فرمایا،اور ارشادفرمایا کہ بھائی ان عورتوں اور بچوں کو کیوں لے کر جاتے ہیں،تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ (شاء اللہ ان یراھن سبایا)،پس پھر حضرت محمد حنفیہ نے وداع کیا اورواپس آگئے۔

 ( مجلس نمبر٢٩،مجلس حضرت عبداللہ ابن عباس)

٢٩۔ایک اور مجلس مکة المکرمہ کے باہر ہوئی کہ جب عبداللہ ابن عباس اورعبداللہ ابن زبیر سرکار کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور رکنے کے لیے کہا،تواس وقت سرکار نے ارشاد فرمایا ۔کہ مجھے میرے جدرسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عراق کی طرف خروج کرنے کا حکم دیا ہے،پس جب ابن عباس باہر نکلے تو ان کی زبان پر وا محمدا وا حسیناہ کی روتے ہوئے صدا بلند تھی ،پھر عبدا للہ ابن عمر نے آکر عرض کی کہ آپ اس قوم سے صلح کر لیںاور ان سے جنگ نہ کریں،وگرنہ وہ آپ کو قتل کردینگے،تو اس وقت سرکار سیدالشہدا نے ارشادفرمایا کہ کیا تمہیں یحیی  کاواقعہ معلوم نہیں ، کہ جب ان کاسر زانیہ کے لیے بھیجا گیااور بنی اسرائیل نے طلوع فجر سے طلوع آفتاب کے درمیان٧٠ نبیوں کو قتل کیا،اور پھر بازارمیں جاکے خرید و فروش کرتے رہے، کہ گویا انہوں نے کوئی برا کام انجام ہی نہ دیا ہو،پس اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عبداللہ اللہ سے ڈرو، اورمیری نصرت سے ہاتھ مت اٹھانا۔

( مجلس نمبر٣٠،مجلس منزل خزیمة)

٣٠۔ایک اور مجلس عزا منزل خزیمہ میں برپا ہوئی، کہ جس وقت آنحضرت نے اس مقام پر نزول کیا، تو وہاں ایک ہاتف غیبی کی آواز بلند ہوئی۔کہ اے آنکھو گریہ وزاری کرو اس جماعت پر کہ موت و شہادت جن کو اپنے ساتھ مقصدو موطن کی طرف لے جارہی ہے،پھر وہاں اہل بیت اور اصحاب نے مل کے گریہ وزاری کیا۔

( مجلس نمبر٣١،مجلس منزل ثعلبیہ)

٣١۔اگلی مجلس منزل ثعلبیہ میں یامنزل زبالہ میں برپا ہوئی،عبداللہ ابن سلیمان، اور منذر ابن مشمعل کہ یہ دونوں کا قبیلہ بنی اسد سے تعلق ہے،روایت کرتے ہیں کہ جب ہم حج سے فارغ ہوئے،تو ہماری فقط خواہش ہی یہی تھی کے ہم حضرت کے ساتھ ملحق ہو جائیں،تاکہ دیکھیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے،ہم لوگ کافی تیزی سے روانہ ہوئے،یہاں تک کہ ہم حضرت کے نزدیک پہنچے۔ناگاہ ہم نے دیکھا کہ کوفے کی جانب سے ایک شخص آرہا ہے،اور جب وہ ہمارے قریب پہنچا تو ہم نے اس سے کہا کہ ہم قبیلہ بنی اسد سے ہیں ،تو اس نے کہا کہ میں بھی قبیلہ بنی اسد سے ہوں،پھر ہم نے اس سے کوفے کے حالات پوچھے، تواس نے جواب دیا کہ جس وقت میں کوفے سے نکلا تھا،مسلم اور ہانی کو قتل کردیا گیا تھا،اور رسیاںان کے پائوں میں ڈال کران کو بازاروں میں گھسیٹا جارہا تھا،پس ہم سرکا رکی خدمت میںحاضر ہوئے اور آکے ہم نے عرض کی کہ سرکا ر ہمارے پاس ایک خبر ہے اگر آپ حکم کریں ،آپ نے اثبات میں جواب دیا، تو ہم نے عرض کی کہ سرکار وہ ہمارے قبیلہ بنی اسد کا فرد ہے۔ اور صادق القول انسان ہے سرکا ر اس نے بتایا ہے کہ جس وقت وہ کوفے سے نکلا تھا تو اس و قت اس نے حضرت مسلم اور حضرت ہانی کے جنازوں کوکوفے کی گلیوں میں دیکھا، سرکار نے کلمہ استرجاع اناللہ وانا الیہ راجعون کوزبان پر جاری فرمایا،اور آپ نے کافی گریہ و زاری کی اور پھر قافلہ آل محمد کا وہاں سے روانہ ہوگیا۔

( مجلس نمبر٣٢،مجلس قبل از ورود بہ کربلا)

٣٢۔ایک اور مجلس کربلا میں ورود سے پہلے بر گزار ہوئی،جب خیمے نصب کر دیئے گئے،اسوقت آپ نے  تمام اولاد اور اصحاب کو جمع کیاپس اس وقت سرکار نے ان سب کو دیکھا اور ان سب کو دیکھ کر زہرا کا چاند کافی دیر تک گریہ وزاری کرتا رہا۔

جو کائنات کے لیے امان ہے جو حیوانات نباتات اشجار چرند پرند جنات ملائکہ سب کے لیے امان ہے آج اس کے لیے امان نہیں یزیدی شیاطین ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔

 کون حسین کہ جوراضی بقضائے الھی اللہ کی مرضی پر راضی وگرنہ کائنات کو اشارے سے چلانے والے کوحسین کہتے ہیں،کائنات کی نبض حیات جس کے ہاتھوں میں ہو ،اس کو حسین کہتے ہیں، کائنات کی رمز بقا کو حسین کہتے ہیں، وہاں پر آپ نے گریہ وزاری کے بعد ارشاد فرمایا کہ الھی تیرے نبی ۖ کی اولاد در بدر پھرائی جارہی ہے۔اور بنی امیہ تیرے نبیۖ کی اولاد پر ظلم و ستم کررہے ہیں۔

( مجلس نمبر٣٣،مجلس ٩ محرم )

٣٣۔ یہ مجلس ٩ محرم کی شام کو برگزار ہوئی،کہ جب امام حسین علیہ الصلاة والسلام خیمے کے سامنے تشریف فرماتھے،اتنے میں لشکریوں کے آنے کی آواز بلند ہوئی،اسوقت جناب زینب سلام اللہ علیہاتشریف لائیں، اورفرمانے لگیں کہ اے بھائی حسین دشمنوں کی آوازیںآرہی ہیں،اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے ابھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے ،کہ آپ نے ارشاد فرمایا حسین  عنقریب تو میرے پاس آنے والا ہے،اور یہ وقت وہ وقت تھا کہ جناب زینب سلام اللہ علیھا کو رو رو کے قرار نہیں آرہا تھا، اور بار بار امام حسین علیہ الصلاة والسلام ان کو تسلیاں دے رہے تھے۔

( مجلس نمبر٣٤،مجلس شب عاشور)

٣٤۔ ایک اور مجلس عزا شب عاشور ہوئی کہ جس وقت امام حسین علیہ الصلاة والسلام نے خیمے میں سب اصحاب کوجمع فرمایا اور ایک خطبہ ارشاد فرمایا،اور اس میں اپنی اور اہل بیت کی شہادت کوبیان فرمایا،اور سب سے بیعت کو اٹھالیا اور سب کو مختار کردیا کہ چاہے وہ رکیں یا چلے جائیں،ان سب نے سرکار کی بیعت مجدد کی،اور بعض نے ہزار ہزار مرتبہ شہید ہونے کا عزم وارادہ ظاہر کیا،اور پھر سرکار نے سب کے مقامات بہشتی کو ان کو دکھایااور گریہ و زاری کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کے جیسے اصحاب مجھے ملے نہ نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملے اور نہ ہی باباعلی علیہ الصلاة والسلام کو ملے۔

( مجلس نمبر٣٥،مجلس روز عاشور)

٣٥۔ بے پناہ مجالس روز عاشور کربلا کی سرزمین میں بر گزار ہو ئیں۔

جب بنی ہاشم اور اصحاب کے لاشے خیمہ گاہ میں آتے رہے تو سادات میں ایک قیامت کا گریہ و بکا ہو تا رہا، کبھی حبیب ابن مظاہر کے جنازے پر مجلس ہوئی، کبھی زھیر ابن قین کے جنازے پر مجلس ہوئی،کبھی عون و محمد کے جنازے پر مجلس ہوئی،کبھی حضرت قاسم  کے جنازے پر مجلس ہوئی،کبھی حضرت علی اکبر کے جنازے پر مجلس ہوئی،کبھی حضرت علی اصغر کے جنازے پر مجلس ہوئی، سقاء سکینہ جب پانی لینے گئے تو مجلس ہوئی،اور ان کے جنازے پر مولا حسین نے مر ثیہ پڑھا تنہائی میں زہرا کے چاند نے کافی قیامت کا گریہ کیا۔

( مجلس نمبر٣٦،مجلس حضرت بی بی سکینہ)

٣٦۔یہ مجلس اس وقت برپا ہوئی کہ جس وقت جناب سکینہ سلام اللہ علیہا خالی مشک لے کر اپنے بابا کی خدمت میں حاضر ہو ئیں، اور پانی کی درخواست کی اور حضرت ابوالفضل العباس  پانی لانے کے لیے روانہ ہوئے ،اور اہل بیت نے گریہ و بکا کے ساتھ رخصت کیا۔

( مجلس نمبر٣٧،مجلس وقت رخصت امام حسین )

٣٧۔ایک اور مجلس عصر عاشوراس وقت برپا  ہوئی کہ جس وقت امام حسین علیہ الصلاة والسلام رخصت آخر کے لیے خیمے میں تشریف لائے ،اور آپ نے ایک ایک بی بی کا نام لے کر سلام آخر اور وداع کیا،بی بیو نے سرکار کوروکنا شروع کردیااور پھر بی بیو نے سرکار کے گرد گھیرا ڈال کر ماتم کرنا شروع کردیا،اور پھراس مجلس کے بعد سرکار خیمے سے کیسے نکلے میر انیس  فرماتے ہیں کہ

 شبیر بر آمد ہوئے یوں خیمہ کے در سے           جس طرح نکلتا ہے جنازہ کسی گھرسے

( مجلس نمبر٣٨،مجلس وقت وداع مولا)

٣٨۔ایک اور مجلس عصر عاشوراس وقت ہوئی جس وقت امام حسین علیہ الصلاة والسلام امام سجادعلیہ الصلاة والسلام سے وداع کرنے اور ان کو اسرار امامت سپرد کرنے آئے تھے، کہ جب سرکا ران کے خیمے میں پہنچے تومنظر بڑا عجیب دیکھا کہ جوان بیٹا شدید بخار کے عالم میں ہے، سرکا ر نے سرہانے بیٹھ کر رونا شروع کردیا،جب گرم گرم آنسو امام سجاد  کے رخسار پر گرے تو آپ نے آنکھیں کھولیں ، تو کیامنظردیکھا

 کہ ایک شخص سرہانے بیٹھا ہے جو خون میں شرابور ہے،اس سے پہلے کہ امام سجاد کچھ سوال کرتے اسوقت امام حسین  نے جواب دیا کہ بیٹا سجاد گھبرانا نہیں تمہارا مظلوم باپ حسین ہے،ارشاد فرمایا کہ بابا  ابھی تک آپ کو تنھا نہیں دیکھا،بابا یہ بتائیں کہ حبیب ابن مظاہر کیا ہو ئے ، بیٹا قتل کردئے گئے،بابازھیر ابن قین بیٹا قتل کردئے گئے،بابا مسلم ابن عوسجہ بیٹا قتل کردئے گئے،بابا میرے چچا عباس بیٹا قتل کردئے گئے، بابا میرا کڑیل جوان بھائی علی اکبرسرکار نے یہ نھیں کہا کہ بیٹا قتل کردئے گئے جواب دیا کہ بیٹا کب تک تم سوال کروگے اور کب تک میں جواب دوں گا، بس اتنا جان لو کے مردوں میں میرے اور تمہارے علاوہ کوئی باقی نہیں بچا،پھر گریہ و بکا کے ساتھ یہ مجلس بھی تمام ہو ئی۔

( مجلس نمبر ٣٩،مجلس ذوالجناح کی روانگی کے وقت)

٣٩۔ایک اور قیامت کی مجلس اس وقت برپا ہوئی کہ جس وقت سرکار ذوالجناح پر سوار ہوکر جانے لگے تو ذوالجناح نے حرکت نہ کی اور اپنے قدموں کی طرف دیکھنے لگا،اب جو سرکار نے دیکھا تو کیا قیامت کا منظر تھا کہ چاہنے والی بیٹی سکینہ ذوالجناح کے قدموںسے لپٹ کر بین کررہی ہے کہ اے میرے بابا کے ذوالجناح میرے بابا کو مقتل میں نہ لے جا اس لیے کہ جو بھی گیا ہے وہ واپس نہیں آیا،سرکار ذوالجناح سے زمین پرتشریف لائے ،اور سکینہ کو اپنے سینے پر لٹایا،اور تسلیاں دی اور خود بھی سرکار نے یہ منظر دیکھ کر گریہ و بکا کیا،اور پھر آپ مقتل کی طرف روانہ ہو گئے،۔

( مجلس نمبر٤٠،مجلس حضرت زینب  در تلہ زینبیہ)

٤٠۔ایک اور مجلس کہ گویا وہ سرکار کی زندگی کی آخری مجلس تھی، اوراس مجلس کو پڑھنے والی جناب زینب سلام اللہ علیہاتھیں،اور یہ اس وقت ہوئی کہ جس وقت شمر ملعون خنجر لے کے قتل گاہ میں پہنچ چکا تھا،اور بی بی نے تلہ زینبیہ  سے روتے ہوئے خطاب فرمایا اے عمر ابن سعد ملعو ن۔ زہرا کا لال امیر المومنین  کا بیٹا رسولۖ کا نواسہ ذبح ہو رہا ہے اور تو کھڑا دیکھ رہا ہے،بس پھر کچھ ہی دیر میں سیاہ آندھیا ں چلنے لگیں ، آسمان سے خون برسنے لگا ،فرات کا پانی نیزوں بلند ہونے لگا، سورج کو گہن لگ گیا،زمین میں زلزلہ آگیا۔

فضائے بسیط میں رونے کی آوازیں بلند ہو نے لگی اور ساتھ ہی ایک آوازبلند ہو ئی

 الا قتل الحسین  بکربلاء الا ذبح الحسین بکربلائ

  اور اب اس کے بعد وہ مجالس کہ جوسرکا ر کی شہادت کے بعد برپا ہو ئیں۔

( مجلس نمبر٤١،مجلس حضرت ام سلمہ)

٤١۔ سب سے پہلی مجلس بی بی ام سلمہ کے گھر میں منعقد ہوئی،ابن عباس ناقل ہیں کہ میں سویا ہواتھا کہ ناگاہ مجھے بہت زیادہ گریہ و بکا کی آواز آنے لگی، کہ جو حضرت ام سلمہ زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے آرہی تھی،میں ان کے گھر میں پہنچا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ کو کیا ہوگیا ہے اتنی اونچی آواز میں کیوں گریہ کررہی ہیں،انہوں نے میرا جواب نہیں دیا بلکہ زنان بنی ہاشم کو دیکھ کر کہنے لگیں کہ اے عبد المطلب کی بچیوں جوانان جنت کے سردار پر رونے میں میری مدد کرو،رسول ۖ کے بیٹے پر رونے میں میری مدد کرو،ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے سوال کیا کہ یہ کہاں سے آپ نے سنا ہے ،تو بی بی ام سلمہ نے جواب دیا کہ میں ابھی ابھی سوئی ہوئی تھی،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے خواب میں دیکھاسر پے خاک پڑی ہوئی ہے، گرد آلود، متحیر، سوال کیا کہ یہ آپ کا کیاحال ہے،تو آنحضرتۖ نے جواب دیا کہ اے ام سلمہ میرے حسین کو شہید کردیا گیا ہے،اے ام سلمہ جوانان بنی ہاشم اور اصحاب حسین کو شہید کردیا گیا ہے،ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں لرزہ بر اندام اٹھی، میرا یہ حال تھا کہ گویا عقل وہوش میرے پاس نا ہو،پس میں نے وہ خاک دیکھی کہ جو جبرائیل رسول اللہ ۖ کے لیے لائے تھے اور انھوں نے مجھے عطا کی تھی اورارشاد فرمایا تھا کہ اے ام سلمہ اس خاک کو دیکھتی رہنا جب یہ خون آلود ہوجاہے تو سمجھ لینا کہ میرے حسین کو شہید کردیا گیا ہے،ابن عباس جان لو کہ امام حسین کوقتل کردیاگیاہے اس لیے کہ وہ خاک خون آلود ہوچکی ہے۔

( مجلس نمبر٤٢،مجلس بعد از شھادت امام حسین )

٤٢۔اگلی مجلس کہ جو فورا  بعداز شہادت امام حسین ہوئی کہ جس میں کائنات عالم امکان میں ما یرُیٰ وما لا یرُیٰ،سب نے گریہ کیا، زمین، فلک آسمان، کہکشا ں ،کواکب ،ابراج،عرش، حاملان عرش،ملائکہ ،

 عناصراربعہ، نباتات،حیوانات، بھشت،خازنان بھشت،حور و غلمان،قصور واشجار،انھار، اثمار، ہوا، فضا، آفتاب ،ماہتاب،دریا ، جنات، الغرض کہ کو ئی نہیں بچا کہ جس نے زہرا  کے چاند پر گریہ نہ کیا ہو،ہوا نے گریہ کیا،آفتاب کو گہن لگ گیا،اس نے ایسے گریہ کیا،ملائکہ کی تسبیح رک گئی انہوں نے ایسے گریہ کیا،زمین نے زلزلے کیساتھ قیامت کا ماتم کیا،مرغابیوں نے ماتم کیا جنوں نے ماتم کیا فضاوںنے دریاوں نے ماتم کیا۔

( مجلس نمبر٤٣،مجلس درقتل گاہ امام حسین  )

٤٣۔یہ مجلس قتل گاہ امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں برگزار ہوئی اس وقت جب جناب زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی کے جنازے پے مرثیہ پڑھااور ٧خطابات کئے،جن میں سے ایک خطاب یہ تھا کہ بھائی حسین جب تک آپ کے سر پر عمامہ تھا زینب  کے سر پر چادر تھی آپ کے سر سے عمامہ اترا زینب  کے سر سے چادر اتری،اور پھر مدینے کا رخ کرکے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خطاب کیا کہ یا رسول اللہ ۖ  آپ پر آسمان کے فرشتوں نے نمازپڑھی اور یہ آپ کاحسین  ہے خون آلود سر تن سے جدا الی آخرہ۔

( مجلس نمبر٤٤،مجلس طائران و طائر ابیض)

٤٤۔پرندوں نے بعد شہادت امام حسین علیہ الصلاة والسلام مجلس عزا منعقد کی کہ جس مجلس کا مرثیہ خوان طائر ابیض تھا، جیسا کہ بحارالانوارجلدنمبر۔ ٤٣۔ اورصفحہ نمبر۔١٩٣ ۔میں اور۔ عوالم العلوم ۔جلدنمبر۔ ١٧، اور صفحہ نمبر۔٤٩٣ ۔میں مندرج ہے۔

( مجلس نمبر٤٥،مجلس حیوانات)

٤٥۔جانوروں نے بعد شہادت امام حسین علیہ الصلاة والسلام مجلس عزا برپا کی، جیسا کہ بحار الانوار جلد ٤٥ صفحہ٢٠٥اور کامل الزیارة باب٢٦صفحہ٧٩ میں مرقوم ہے کہ جانوروں نے مجلس عزامنعقد کی اورشب ١١ محرم الحرام کو سب جانور اپنی گردنیں سرکار کی طرف کیے ہوئے صبح تک نوحہ و گریہ و بکا کرتے رہے۔

( مجلس نمبر٤٦، مجالس جنات ١)

٤٦۔جنّات نے بعد شہادت امام حسین علیہ الصلاة والسلام سرکار کے جنازے پر مجلس عزامنعقد کی۔

جیسا کہ بحارالانوار جلد ٤٥ صفحہ ٢٠٥ اور امالی شیخ صدوقمجلس ٢٧صفحہ ١١٠ میں مرقوم ہے کہ جنّات نے سرکار کے جسد اطہر کے گرد مجالس عزا منعقد کیں۔

( مجلس نمبر٤٧،مجلس جنیان ٢)

٤٧۔جننیوں نے آکرسرکار امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے جنازے پر مجلس عزا منعقد کی،جیسا کہ بحار الانوار جلد٤٥ صفحہ ١٩٣۔١٩٤ پر مندرج ہے کہ،جننیاں کربلامیں آئیں ۔اورامام حسین علیہ الصلاة والسلام کے جسد اطہر کے گرد جمع ہوکرمرثیہ خوانی، نوحہ خوانی، اورگریہ وبکا کیا۔

( مجلس نمبر ٤٨،مجالس کوفہ )

٤٨۔امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی شہادت کے بعد کچھ مجالس کوفہ کی گلیوں میں منعقد ہوئیں ،اوران مجلسوں کی ذاکرہ حضرت زینب حضرت ام کلثوم و حضرت سکینہ سلام اللہ علیہم اجمعین تھیں ، ان مجالس کے ذاکر حضرت امام سجاد زین العابدین علیہ الصلاة والسلام تھے، اور رونے والے کوفے کے مردو زن تھے،روایا ت میں ملتا ہے کہ ان کی رونے کی آوازیں بلند تھیں،بعض اپنے سینوں پر ماتم کررہے تھے،بعض اپنے سروں پر ماتم کررہے تھے،اور کچھ لوگ خاک اپنے سروں پر ڈال رہے تھے،  اور کچھ اپنے بالوں کو نوچ رہے تھے، جیسا کہ بحار الانوار جلد ٤٥ صفحہ١٠٨ اور ١١٣ میں اور لھوف صفحہ ٦٣ اور٤٩ میں مرقوم ہے کہ ایسا دن کوفے کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا،اور نا ہی ایسا قیامت کا گریہ و بکا اس سے پہلے کبھی دیکھا گیا۔

( مجلس نمبر٤٩،مجلس کوفہ و شام )

٤٩۔امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی شہادت کے بعدیہ اہل بیت علیہم الصلاة والسلام کی مجالس تھیںکہ جو کربلا سے کوفہ اور کوفے سے شام اور شام سے کوفہ اور کوفے سے کربلا اور کربلا سے مدینہ کے راستے میں برگزار ہوئیں،اور مدینے میں جب تک زندہ رہیں یہ مجالس عزا برگزار ہوتی رہیں،جیسا کے روایات میں ملتا ہے کہ امام سجاد علیہ الصلاة والسلام ٤٠ سال خون گریہ کرتے رہے،جب بھی پانی آیا کھانا آیا،تو یہ جملہ سرکار کی زبان پے ہوتا تھا کہ رسول ۖ کے نواسے کو بھوکا پیاسہ بے دردی کے ساتھ کربلا میںذبح کردیا گیا۔

 ( مجلس نمبر ٥٠،مجلس خرابہ شام )

٥٠۔ایک مجلس امام حسین علیہ الصلاة والسلام خرابہ شام میں منعقد ہوئی اور یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ھند قیدیوں سے ملاقات کرنے زندان میں آئی، ملتا ہے کے سب قیدی گریہ و بکامیں مصروف تھے کہ  اتنے میں زندان میں شور ہوا کہ جیسے کوئی آرہا ہو ۔توبی بی  نے امام سجاد سے سوال کیا کہ بیٹایہ کیا ماجرا ہے تو آپ نے جواب دیا کہ پھوپھی جان مبارک ہو ۔ آپ کے گھر کی کنیز ھند آرہی ہے ، بس یہ جملہ سننا تھا۔ بی بی نے جلدی سے اپنے آپ کو خواتین میں مخفی کردیا، اور خواتین کے درمیان میں آکر بیٹھ گئیں،اتنے میں ھند  وارد زندان ہوئی اور اس نے قیدیوں میں بزرگ کادریافت کیا، توسب نے جناب زینب  کی طرف اشارہ کیا کہ وہ جو درمیا ن میں سر جھکا کے بیٹھی ہے وہی ہماری آقازادی ہے،ھند چونکہ اہل بیت کے گھر کی تر بیت کا اثر رکھتی تھی اس نے یہ نہیں سوچا کہ وہ بادشاہ کی بیوی ہے ،انہیں ذرق برق ملبوسات کے ساتھ وہ مٹی کے فر ش پربیٹھ گئی،اور پھر اس نے سوالات کرنے شروع کیے،اس نے پہلا سوال کیا کہ بی بی آپ کہاں کی رہنے والی ہیں،تو آپ  نے جواب دیا کہ ہم مدینے کی رہنے والی ہیں،پھر ھند نے سوال کیا کہ مدینے تو بہت ہیں کون سے مدینے کی ہیں۔ تو آپ نے جواب دیا مدینة رسول اللہۖ، کی رہنے والی ہیں۔پھر ھند نے سوال کیا کہ کون سے محلے سے ہیںتو آپ نے جواب دیا کہ ہم محلہ بنی ہاشم سے ہیں،ھند نے یہ سننا تھا فورا بے قرار ہو گئی اور سوال کرتی ہے کہ بی بی میں محلہ بنی ہاشم میں کچھ عرصہ رہی ہوں اور میں کچھ لو گوں کو جانتی ہوں، اس لیے کہ میں نے ان کی کنیزی کی ہے اور اس پر میں ابھی تک فخر کرتی ہوں،بی بی اگر آپ مدینے کی رہنے والی ہیں اور محلہ بنی ہاشم کی رہنے والی ہیں ،توآپ مجھے یہ بتا ہیں کہ کیا آپ میرے آقا و مولا امام حسین علیہ الصلاة والسلام کو جانتی ہیں، تو بی بی نے کو ئی جواب نہ دیا سر توجھکا ہوا تھا اور جھک گیا،پھر ھند کہنے لگی کہ بی بی  بی بی مجھے معاف کرنا آپ مجھے شریف زادی معلوم ہوتی ہیں اور شریف زادیوں کو مردوں کے نام نہیں آتے، بی بی میں کچھ اپنی شہزادیوں کو بھی جانتی ہوں،بی بی یہ بتا ئیں کہ کیا آپ میری آقا زادی زینب  کو جانتی ہیں، بی بی نے کو ئی جواب نا دیا بلکہ رونا شروع کردیا ۔

ھند کہتی ہے کہ بی بی میں اپنی شہزادی کو پو چھتی ہوں میں نے آپ کی شان میں کو ئی گستاخی نہیں کی آپ روتی کیوں ہیں ،تواب بی بی سے رہا نا گیا ارشاد فرماتی ہیں کہ ھند تو پہچانتی کیوں نہیں انازینب میں ہی  زینب ہوں ، ھند فورا قدموں میں گر کر عرض کرتی ہے بی بی اگر آپ زینب ہیں تومولاحسین کہا ںگئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے ھند تیرے شوہر نے میرے بھائی کو تین دن کا بھو کا پیا سہ کربلا کے میدان میں شہید کردیا ، اور اس وقت بی بی نے کربلا کے سارے واقعات سنائے،اور کربلا کی مجلس پڑھی، اورپھر اس وقت شام کا زندان گریہ و بکا سے گو نج اٹھا۔

( مجلس نمبر٥١،مجلس حضرت  ام کلثوم )

٥١۔ ایک مجلس عزا امام حسین علیہ الصلاة والسلام بی بی ام کلثوم سلام اللہ علیہا نے پڑھی کہ جب مدینہ ظاہرہوا تو آپ نے یہ مرثیہ پڑھا جس کے سننے والے امام سجاد  اور اہل بیت علیہم الصلاة والسلام تھے،کہ جس کا ماحصل یہ تھا کہ اے نانا ۖکے مدینہ ہمیں قبول نہ کرنا ہم حسرتوں اور غموں کے ساتھ تیرے پاس آئے ہیں جب ہم نکلے تھے ہماری جھو لیاں بھری ہوئی تھیں آباد تھیں،لیکن اب نہ ہمارے مرد ساتھ ہیں اور نہ ہی ہمارے بچے ہمارے ساتھ ہیں،پھر آپ نے حضرت زہرا اور امام حسن کو مخاطب کرکے مرثیہ پڑھا۔

( مجلس نمبر ٥٢، مجالس ملائکہ)

٥٢۔ملائکہ کی مجالس کہ جو بعد شہادت امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے برپا ہو ئیں اور برپا ہوتی رہینگی، ملتا ہے کہ فرشتوں نے بعد شہادت امام حسین علیہ الصلاة والسلام آپ کے جسد اطہر کے گرد مجلس برپا کی اور اب امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی قبر کے گرد روازانہ مجالس عزا برپا کرتے ہیں،کہ جو دائما گریہ و بکا مرثیہ نوحہ اور ماتم میں مصروف رہتے ہیں،اور ان کے چہرے غبار آلودہ ہوتے ہیں ، اورسید الشہداامام حسین علیہ الصلاة والسلام کی قبر کے گرد دائم البکا رہتے ہیں،ان کے علاوہ بھی بے پناہ ملائکہ سرکار کے حرم میں موجود رہتے ہیں کہ جو مختلف قسم کے امور سر انجام دیتے ہیں،جیسا کہ یہ سب روایات کامل الزیارات اور بحارالانوار اور عوالم العلوم اورنور العین اورخصائص الحسینیہ اور ان کے علاوہ بھی بے پناہ کتابوں میں مرقوم ہیں ۔

 یہاں چند ایک ملائکہ کا تبرکا و تیمناذکر کیا جاتا ہے:

(اصناف ملائکہ)

١۔ملائکہ کی پہلی صنف وہ ملائکہ ہیں کہ جوسرکار سید الشھدا   امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے حرم میں رہتے ہیںوہ پریشان اور غبار آلوداور دائم البکا رہتے ہیں۔

٢۔کچھ ملائکہ ایسے ہیں کہ جو زوار کے استقبال کو جاتے ہیں،اور ان کی مشایعت کرتے ہیں،ان کے مریضوں کی عیادت کرتے ہیں،اور ان کی اموات کو دفن کرتے ہیں۔

٣۔اور کچھ ملائکہ ایسے ہیں کہ جو قبر امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے اردگرد جمع ہوکر آواز دیتے ہیں،کہ اے خیر کے طلب گارو آو اللہ کی طرف اور اے مغفرت کے طلب گارو آو اللہ کی طرف آو اورآو اللہ کے عذاب سے امان میں آجاو۔

٤۔اور کچھ ملائکہ وہ ہیں کہ جب زائرین زیارت سے فارغ ہوجاتے ہیں ۔تو یہ ان سے خطاب کرتے ہیں، کہ خوشا بحال تیرا کہ تجھے اللہ نے اپنی غفران میں لے لیا،اللہ نے تیرے سارے گناہوں کی بخشش کردی

٥۔کچھ ملائکہ وہ ہیں کہ جو امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے زائر ہیں اور آپ پرگریہ وزاری کرتے ہیں، اور جن کی تعداد( ٤٠٠٠) ہے یہ روزانہ آتے ہیں اور روزانہ تبدیل ہوجاتے ہیں ،اورپھر ان کی نوبت نہیں آتی۔

٦۔کچھ ملائکہ وہ ہیں کے جن کا کام زائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے لیے استغفار کرنا ہے۔

٧۔ کچھ ملائکہ زائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام سے مصافحہ کرتے ہیں،اور ان کی رو بوسی کرتے ہیں۔

٨۔کچھ ملائکہ زائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام کیلیے صلوات بھیجتے ہیں اور طلب رحمت کرتے ہیں ۔

٩۔کچھ ملائکہ امام حسین علیہ الصلاة والسلام کو دور اوراپنے وطنوںسے سلام کرنے والوں کے سلام کوسرکار کی خدمت میں ابلاغ کرتے ہیں کہ جن کا سردار و راس و رئیس فطرس ہے کہ جواس کام پر موکل ہے۔

١٠۔کچھ ملائکہ ایسے ہیں کہ جن کا کام یہ ہے کہ وہ زائرین کی پیشانیوں پر مہر لگاتے ہیں،ایسی مہریں کہ جو خدا کے نور سے آراستہ ہوتی ہیں،کہ یہ بہترین شہید کا زائر ہے،ھذازائرقبر الحسین۔پس قیامت کے دن اس مہر کے ذریعے ان کی شنا خت ہوگی،روایات میں ملتا ہے کہ قیامت کے دن آوازبلند ہوگی کہ  این زوار قبر الحسین  تو اس وقت ایک عظیم لشکر کی گردن بلند ہوگی کہ جن کی تعداد کوکوئی نہیں جانتا ہوگاسوائے اللہ اور مظاھر اللہ کے کہ جن کی پیشانیوں پر مہریں لگی ہو نگیں،پیغمبرۖ اور جبرائیل ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو احوال قیامت سے نجات دلوائیں گیں۔

١١۔کچھ ملائکہ وہ ہیں جوزائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام وماتم داران امام حسین علیہ الصلاةوالسلام اور نوحہ خوانان امام حسین علیہ الصلاة والسلام اور لطمہ زنندگان برائے امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے  اشکوں کو جمع کرتے ہیں اور آب حیات سے ممزوج کرتے ہیں۔

١٢۔کچھ ملائکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سلام کو زائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام تک پہنچاتے ہیں،جیسا کہ بحار الانوار اور کامل الزیارات میں مرقوم ہے کہ اذا فر غ الزائر من الزیارة فجاء عندہ ملک ،ویقول ایھا الزائر، ان محمدا یقرئک السلامکہ جب زائر زیارت سے فارغ ہوتا ہے تواس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے کہ اے زائر جن کی زیارت کو تو آیا ہے ان کے جد امجد رسول خداۖنے تجھے سلام کہا ہے۔

١٣۔کچھ ملائکہ وہ ہیں کہ جوحرم امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں عبادت میں مشغول رہتے ہیں، الخصائص الحسینیہ میں مرحوم آقائے حاج شیخ جعفر شوششتری روایت نقل فرماتے ہیںحضرت امام جعفر صادق علیہ الصلاة والسلام ارشاد فرماتے ہیں،کہ ستر ہزار ملائکہ ایسے ہیں کہ جو امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے حرم  میں قبر کے پاس اللہ کی عبادت کرتے ہیں،اور ان کی ایک نماز بنی آدم کی ہزار نماز کے برابر ہے ،اور اس کا ثواب زائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام کو دیا جاتا ہے۔

١٤۔کچھ ملائکہ ایسے ہیں کہ جو اللہ کے حکم سے زائرین کی ہمراہی کرتے ہیں، ان کو گھر تک پہنچاتے ہیں،

 پھر حکم ایزدی سے ان کے گھر میں رہتے ہیں،پھر وہ جب مرجاتا ہے تو اس کی قبر کے مجاوربن جاتے ہیں اور اس کے نائب الزیارة بن جاتے ہیں اور اس کے لیے طلب رحمت کرتے ہیں۔

١٥۔ کچھ ملائکہ وہ ہیں کہ جوزائر کی قبر کے پاس بیٹھ کرقیامت تک کے لیے استغفار کرتے ہیں۔

١٦۔کچھ ملائکہ ہیں جن کے لیے ملتا ہے کہ ان کی تعداد ایک ہزار ہے ہر روز امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے حرم مطھر کو گھیرے میں لے لیتے ہیں۔                              

( مجلس نمبر ٥٣، مجالس زہراء مرضیہ)

٥٣۔ وہ مجالس ہیں کہ جو ہر روز حضرت زہرا سلام اللہ علیہا برپا کرتی ہیں،یہ وہ مجالس ہیں جوآسمانوں میں زمینوں میںعزاداروں کے ساتھ رونے والوں کے ساتھ ماتم داروں کے ساتھ جنت کی حوروں کے ساتھ برپا کرتی ہیں۔روایات میں ملتا ہے کہ جناب زہرا سلام اللہ علیہا اتنا گریہ و بکا کرتی ہیں، کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و لہ وسلم آکے تسلیاں دیتے ہیں۔ اورامام حسین علیہ الصلاة والسلام کے زائرین کے لیے استغفار کرتے ہیں۔

( مجلس نمبر ٥٤، مجالس ائمہ طاھرین )

٥٤۔ائمہ طاہرین علیہم الصلاة والسلام کی مجالس عزا ہیں کہ من جملہ وہ مجالس ہیں کہ جو حضرت امام جعفر صادق علیہ الصلاة والسلام نے برپا کیں،کہ جس کے مرثیہ خوان جعفر ابن عفان تھے، اور انہوں نے مرثیہ پڑھا،جس کا ما حصل یہ تھا،بے شک ہر کو ئی گریہ کرتا ہے،پس یہاں اسلام کو رونا چاہیے اس لیے کہ اسلام کے احکام کو ضائع کردیا گیا تھا،اسوقت کے جب نیزے تیر اور تلواریںامام حسین علیہ الصلاة والسلام کے خون سے آغشتہ اور سیراب ہوئیں۔

( مجلس نمبر ٥٥، مجلس عبداللہ بن غالب)

٥٥۔ایک اور مجلس کہ جو امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے لیے برپا ہو ئی کہ جس کے مرثیہ خوان عبداللہ ابن غالب تھے جیسا کہ بحار الانوارو کامل الزیارات میں مرقوم ہے کہ عبد اللہ ابن غالب نے مرثیہ پڑھا۔

جس کا ما حصل یہ تھا کہ اے لوگوں گریہ وزاری کرو، گریہ و بکا کرو، اس بدن مطھر پر کے جوگرم ریت پر عریان پڑا ہے،اور ہوائیں گرد و غبار اس پر ڈال کر اس مظلوم کا کفن بنا رہی ہیں۔

( مجلس نمبر ٥٦، مجلس ابوھارون مکفوف)

٥٦۔پھر سرکار کے لیے مجلس عزا ہو ئیں کے جس کے مر ثیہ خوان ابو ھارون مکفوف تھے،ملتا ہے کے آپ نے با قاعدہ مجلس پڑھی اور بہت گریہ و بکا ہوا،یہاں تک کے حضرت کے رونے کی آواز بلند ہو ئی، اور اس کلام کاماحصل یہ تھا کہ اے مریم  اٹھو اور اٹھ کر اپنے آقا و مولا پر گریہ و زاری کرو،اور اپنے مولا کے لیے نوحہ پڑھو، مولا حسین علیہ الصلاة والسلام پر گریہ و بکا کرویہاں تک کہ ان کے مر ثیہ پر اتنا گریہ و بکا ہوا کے حرم سرا سے خواتین کے رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔

( مجلس نمبر٥٧، مجلس سلطان العرب والعجم)

٥٧۔ایک اور ان کثیر مجالس میں سے کہ جو سلطان الامام علی ابن موسی الرضا علیہ الصلاة والسلام نے برگزار کی کے جس عظیم مجلس کے نوحہ خوان مرثیہ خوان دعبل خزاعی معروف شاعرتھے،مجلس کے نظم و ضبط کی ذمہ داری شخصا بنفس نفیس خود سرکار نے انجام دیں،پس خود سرکار نے ایک چادر نصب فرمائی اور خواتین کو پردے کے پیچھے جانے کاحکم دیا،اور دعبل خزائی سے آپ نے ارشاد فرمایا کہ دعبل اب پڑھو،اور یادرکھو کہ جس کی آنکھ ہمارے جد امجدامام حسین علیہ الصلاة والسلام کی مصیبت میں اشک بہائے گی،قیامت کے دن وہ ہمارے ساتھ محشورہوگا،پس دعبل خزاعی نے مرثیہ شروع کیا،اے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاامام حسین  کو لب تشنہ پیاسہ شہید کردیا گیا اور اے بی بی زہرا سلام اللہ علیہا اگر آپ کو علم ہوجائے تو ہر لمحہ آپ کے اشک جاری ہو جائینگے اور آپ بے قرار ہو جائینگی الی آخر المطلب ملتا ہے کے سرکار کے گریہ وزاری کی آواز بلند ہوئی،اور خواتین کی پردے کے پیچھے سے رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں ۔

( مجلس نمبر ٥٨، مجالس شیعیان )

٥٨۔شیعیان کی مجالس عزا ہیں کہ جوقیامت تک برپا ہو تی رہینگی۔

  ان مجالس کے خصائص میں سے ایک یہ ہے کہ کبھی بھی اتنی مدت کے باوجود، تھکاوٹ، کسل،اور سستی، کا سبب نہیں بنتی،اور ان مجالس عزا کا معجزہ یہ ہے کے سال بہ سال اس کی بلندی اوج اور شرف میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے،یہاں تک کہ کو ئی بلد باقی نہیں بچا کہ جہاں عزاداری برپانہ ہو تی ہو، حتی کہ یہاں تک کہ کافر، یہودی،مجوسی،منافق،مسیحی،سب کے ممالک میں عزاداری امام حسین  برپا ہوتی ہے،یہاں تک کہ یوں سمجھ لیں کہ کوئی ملک ایسا نہیں بچا کہ جہاں ذکر ابا عبداللہ امام حسین علیہ الصلاة والسلام برپا نہ ہوتا ہو،بلکہ اب تو سعودی عرب،قسططنیہ، مصر، شام، لبنان،بحرین، کویت،اور کافی مدت کی بندش کے بعداب عراق میںمجالس عزا علنی برپا ہوتی ہیں بلکہ معجزہ تو یہ ہے۔ کہ پاکستان میں آج اتنے حالات کی کشید گی کے باوجود بھی مجالس عزا امام حسین علیہ الصلاة والسلام برپا ہور ہی ہیں۔یہاں تک کہ مجالس میں جانے والے کو بھی یہ علم نہیں۔کہ وہ صحیح وسالم گھر لوٹ کرآئینگے بھی یا نہیں،لیکن اسکے باوجود مجالس عزا میں جاتے ہیں اور عزاداری ماتم داری برپا کرتے ہیں،اور جناب زہرا سلام اللہ علیھا کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔

( مجلس نمبر٥٩، مجلس امام زمانہ)

٥٩۔ایک مجلس عزا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف برپا کرینگے ۔اور اس مجلس کے ذاکر بھی خود سرکار ہونگے۔جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ سرکارامام زمانہ خانہ کعبہ کی دیوار سی ٹیک لگا کر ایک خطبہ دینگیے اور اس کے بعد ارشاد فرمائینگے کہ آپ کا خطاب پوری دنیا میں ہر شخص سنے گا،آپ گریہ و زاری کے بعد ارشاد فرمائینگے کہ یا اھل العالم ان جدی الحسین قتلوہ عطشانا اے دنیا والو میرے جد امجد حسین  کو پیا سہ شہید کردیا گیااور اس کے بعد سرکار کے جہادکا آغاز ہوگا اور حکومت الھیہ کا قیام عمل میں آئیگا،زمین سے ظلم و جور ختم ہو جائیگا زمین عدل و انصاف سے پر ہو جائیگی۔

( مجلس نمبر٦٠، مجلس میدان محشر)

٦٠۔ ایک مجلس حشر کے میدان میں روز قیامت برپا ہوگی،جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ اس مجلس کی ذاکرہ مرثیہ خوان رسول ۖکی بیٹی امیر المومنین کی زوجہ حسنین  کی مادر گرامی جناب زہراسلام اللہ علیہا ہونگی۔

 بی بی  کے عرصہ محشر میں آنے کے کافی موارد بیان کیے گئے ہیں،ایک روایت کے مطابق یہ ہے کہ ہر شہید عرصہ محشر میں آئیگا،اور ہر شہید کہ ہاتھ میں اس کا سر اقدس ہوگا،لیکن غازی شہید کا سر ملائکہ کے ہاتھ میں ہوگا اور آپ کے بازو بھی ملائکہ کے ہاتھوں میں ہونگے،جناب زہراسلام اللہ علیہا کے آنے سے پہلے محشر کے میدان میں ایک آواز بلند ہوگی کہ یا اھل المحشر غضوا بصارکم اے حشر والو اپنی آنکھوں کو بندھ کرلو اس لیے کہ رسول اللہ ۖ کی بیٹی زہرا سلام اللہ علیہا گزرنے والی ہیں،امام سجاد علیہ الصلاة والسلام نے ارشادفرمایا جناب زہرا   اس طرح سے وارد ہونگی کہ دائیںہاتھ میںدادا علی کا ابن ملجم کی ضربت سے کٹا ہوا عمامہ ہوگا، دائیںدوش پر امام مسموم امام حسن مجتبی کا زہر آلود کرتہ ہوگا، بائیں دوش پر سلطان کربلا کا خون آلود پیراہن ہوگا،بائیں ہاتھ میں تین چار سال کی بچی کا ہاتھ ہوگا،پیچھے ایک شہید ہوگا جس نے اپناسر خود اٹھایا ہوگا،اور ان کے پیچھے باقی شہدا ہونگے،عر ش الھی کے سامنے عرض کرینگی کہ الھی تیری ساری مخلوقات ہیں، کوئی باقی نہیں بچا،اس وقت جناب زہراسوال کرینگی کے خدایا تو شمر ملعون سے سوال کر اور پھر چار سال کی بچی کو بلند کرینگی اور فرمائینگی کہ اے اللہ شمر ملعون سے پوچھ کے میری معصومہ کا قصور کیا تھا جو اس کی بالیاں چھینیں اس کے طمانچے مارے اس کے درے مارے آپ کی یہ صدا سن کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملائکہ انبیاء فریاد و گریہ و بکا کرینگے،اور یہ وہ وقت ہوگا کے قیامت میں ایک قیامت برپا ہو گی، اور حشر میں حشر کا سامان ہوگااور ہر طرف سے رونے کی آواز آرہی ہوگی۔

الا لعنة اللہ علی القوم الظالمین و سیعلم الذین ظلموا  ای منقلب ینقلبون،۔

٭٭٭٭٭٭

پروردگار  عقل  مجھے  فکر  نو  ملے             پروانہ  خیال  کی  آنکھوں کو  ضو ملے

بہر طواف فن کے  چراغوں کی لو ملے             میرے شعور ،  میرے  تخیل کو  رو ملے

سدری سے میری طبع رواں گفتگو کرے

                           بلبل  لبوں کو  چومنے کی  آرزو کرے     (جناب طیب کاظمی صاحب) 


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 4 (نشريه بزم رأفت)، پيام رأفت نمبر 5 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن
[ چهارشنبه بیست و هفتم مهر 1390 ] [ 17:52 ] [ انجمن ] [ ]

حصہ نظم

اس حصہ میں بزم رافت کی جانب سے ہونے والی محافل سے کچھ اقتباس پیش کیا جارہا ہے جبکہ واضح رہے کہ بزم رافت کی جانب سے پورے سال ہی معصومین علیہم السلا م کی ولادت با سعادت پر مختلف صورتوں میں محافل کا انتظام رہتا ہے کبھی عمومی محفل ہوتی ہے تو کبھی طرحی محفل کا انعقاد ہوتاہے اور کبھی نقد و اصلاح کے عنوان سے محفل برگزار ہوتی ہے کہ جس میں صرف بزم رافت کے ممبران ہی شرکت فرماتے ہیں۔ لہذا یہ شمارہ ماہ محرم الحرام سے ماہ شعبان المعظم تک کا ہے لہذا اس دوران جنتے بھی پروگرام منعقد ہوئے ہیں سب کی مختصر مختصر رپورٹ اور ان شعراء حضرات کا کلام بھی پیش کیا جائے گا جنہوں نے پیام رافت تک اپنا کلام بروقت پہنچانے کی زحمت کی ہے ۔٭٭٭٭٭٭

ہوش  و  خرد کی  بزم میں  میرا قیام  ہو         ہاتھوں  میں میرے  میکدہ  فن کا جام ہو

دانائیوں  سے  پر  مرا  حسن کلام  ہو          وہ  مرثیہ  کہوں کہ  زمانے میں  نام ہو

شہر سخن میں اک نئی پہچان دے مجھے

اقلیم  شاعری کا  قلمدان دے مجھے

(جناب طیب کاظمی صاحب)           

جشن غدیر

١٤٣٠ھ میںمنعقد ہونے والے جشن غدیر کا مختصر اقتباس پیش کیا جارہا ہے اس لیے کہ گذشتہ شمارہ اگر چہ ذی الحجہ ١٤٣٠ھ تک سے مربوط تھا لیکن وہ شمارہ جشن غدیر کے منعقد ہونے سے پہلے ہی منظرعام پر آگیا تھا لہذا اس محفل میں پڑھے جانے والے بعض شعرا ء حضرات کا مختصر کلام پیش کیا جارہاہے ۔

اس محفل میں حسب ذیل دو مصرعہ طرح تھے:

١۔   آگئی بلغ کی آیت لے کے اعلان غدیر

٢۔  تازہ ہے آج تک وہی منظر غدیر کا

شاعر: جناب تحریر علی نقوی صاحب

 طرحی کلام

آگئے  جبریل لائے  ساتھ  قرآن غدیر          جسم ہے ساری رسالت جان ہے جان غدیر

اے قلم قسمت میں ہے  معراج عنوان غدیر         لے کے  لکھ لوح و قلم سے آج قرآن غدیر

ہیں  مخالف وہ میرے جو ہیں سخن دان غدیر          پیش ہے ان کے لیے  میرا یہ  دیوان غدیر

شاعری کے روپ میں لائے ہیں گلدان غدیر         ہر  طرف  عطر ولا گلہائے  خندان  غدیر

تربیت ہے  ا ک فریضہ  اے مسلمان غدیر          دو  طفولیت سے  بچوں  کو  دبستان غدیر

قافیہ تضمین  کا  لادو  اے  رضوان  غدیر           تاکہ کچھ پورے بیاں ہوپائیں ارکان غدیر

آگیا قرآن  میں  بھی  آج عنوان غدیر           آگئی  بلغ کی  آیت لے  کے اعلان غدیر

ہو  اد ا  فرض ولا  سن لو  وہ  آذان  غدیر           حاجیو  خیر العمل کہتے  ہیں  سلمان  غدیر

بن گیا جنگل میں منگل پل میں  ایوان غدیر           دو ہیں  خاص الخاص  دیکھو نور مہمان غدیر

منفرد  منبر  پہ  وہ  نور  درخشان  غدیر            ہاتھ میں تھامے ہوئے ہیں دست یزدان غدیر

کہہ گئے من کنت پڑھ کر پاک فرمان غدیر           جس کا مولا میں  علی ہے  اس کا  ایمان غدیر

رہ  سکا  تازہ  نہ کچھ  افسوس  ایقان غدیر             رہ  گیا  پیاسا   تقاضائے  نمکدان  غدیر

کہدیا  ہزیان  وہ  سمجھا تھا کچھ شان غدیر            جانتا  تھا  مانگتے  ہیں  وہ   قلمدان  غدیر

کر سکو  جتنے  بیاں  نقوی  تم  ارکان غدیر

اس قدر خوش ہوگا بے شک تم سے یزدان غدیر

طرحی کلام

اعلان  کررہا ہے  یہ  سرور  غدیر کا                مت  بھولنا یہ  آج سے دلبر  غدیر کا

ہے جشن آج کا  بھی یہ مظہر  غدیر کا                 آئے گا عرش و فرش سے  خوگر غدیر کا

ہوں  شاعر  غدیر میں  نوکر  غدیر کا                 نقشہ دکھانے  آیا ہوں  یکسر غدیر کا

ہے بے مثال  اجتماع  لشکر  غدیر کا                  تاریخ میں ہے  ایک اک تیور غدیر کا

حاجی  کو بھولتا  نہیں  منبر  غدیر کا                  پھر کیسے بھول جاتا ہے  حیدر  غدیر کا

ہے جشن تاج  پوشی کا  جوہر  غدیر کا                 گوہر خدا کے  گھر کا  ہے گوہر غدیر کا

تاج ولا ہے کس کے  و ہ سرپر غدیر کا                کیسے  نہ  دیکھا  چہرہ  منور  غدیر  کا

تھامے خدا کا ہاتھ ہے  سرور غدیر کا                  اے آنکھ  والو  د یکھو  سکندر  غدیر کا

تازہ ہے  خطبہ  تازہ سخنور  غدیر کا                 تازہ ہے  آج  تک  وہی منظر غدیر کا

جھٹلائے  گا کھلا  جو یہ  د فتر غدیر کا                 کردے گا  غرق ا  س کو  سمندر غدیر کا

ہے  منفرد  وہ  مرکز و  محور  غدیر کا                کوئی  سقیفہ  کیسے  ہو  ہمسر  غدیر کا

تونے بھلایا  حاجی گر  محشر  غدیر کا                 ہر گز نہ  تجھ  کو  بھائے گا  چکر غدیر کا

انکار کرنہ  کوئی بھی  منظر  غدیر کا                  ورنہ  لگے  گا  سر پہ  وہ  پتھر  غدیر کا

 جس  نے پیا نہ نقوی یہ ساغر غدیر کا

مرکر  بھی  وہ نہ پائے گا  کوثر غدیر کا

 

مسدس کے دو بند

ہر زمانے کی کتابوں میں ہے  تحریر غدیر                لوح  محفوظ پہ  اسلام  کی  تقدیر غدیر

قلب اعدائے ولایت پہ ہے شمشیر غدیر                ذوالعشیر ہ تیری  دعوت کی ہے تفسیر غدیر

لفظ من کنت سے  بلغ کی جو  تعمیل ہوئی

لفظ  اکملت سے  قانون  کی تکمیل ہوئی

جہان  خلق  میں  معیار  کردگار غدیر                رسالتوں  میں  محمد  کا   افتخار   غدیر

ہر اک  نبی کی  نبوت کی ہے بہار  غدیر                بقا ء  اسم   الہی   کا   ذمہ دار   غدیر

غدیر  روز  خدا ہے  غدیر  روز  جلی

غدیر  عید  محمد    غدیر   عید   علی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب عارف حسین عارف صاحب

طرحی کلام

کررہاہوں مدح مولا یہ ہے فیضا ن غدیر             حب حیدر  ہے  وظیفہ  اور پیمان غدیر

حج آخر  ہوچکا  آیا ہے  میدان  غدیر              آگئی بلغ کی آیت لے کے اعلان غدیر

مسکراتے چہرے والوں کومبارک باد کہ               عام ہنسی یہ نہیں ہے  یہ ہے مسکان غدیر

نعرہ حیدر  لگار  کر پھر گئے جب شیخ جی               ہوگیا  ثابت  ہیں  منجملہ رذیلان غدیر

فہری جب  قہری  ہوا  مقہور ہوکر رہ گیا               منکر و  دیکھو  سزا  اور  دیکھ لو شان غدیر

کل لوا ء الحمد  ہوگا ہاتھ میں مولا کے یوں              گویا یہ  محشر نہیں ہے ہے یہ میدان غدیر

تونے غداروں  کو پکڑا  میں علی کا ہوگیا                تو  مسلمان  سقیفہ  میں  مسلمان غدیر

وحدت   ملت  کو  پیہم    یاد   رکھنا   دوستو         ہے  یہ  فرمان  خمینی  یہ ہے ارمان غدیر

ہر طرف عفریت رقصاں موت کے ہیں رات دن         یاں  حسینی کٹ رہے ہیں یہ اسیران غدیر

کٹ  تو  سکتے  ہیں  مگر ہم جھک نہیں سکتے کبھی         ہم    عزادار  حسینی   ہم  محبان  غدیر

بارگاہ  ایزدی  میں  یہ  دعا  عارف  کی ہے

 ہوں  سلامت  تا  ابد  مولا  مریدان  غدیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب جابر علی انصاری صاحب

طرحی کلام

تا  ابد کہتا  رہے  گا  ہم  سے  فرمان غدیر         کربلا  کے  نام  میں  سمٹا ہے عنوان  غدیر

ہو  تقابل  مرتضی  اور  غیر میں کیوں کر بھلا         وہ  خلافت کے صنم  ہیں  یہ ہے  قرآن غدیر

دین  مرسل  کی بقا  خم سے  ہوئی ثابت مگر        کربلا  کے  خون سے  زندہ ہے یہ جان غدیر

رہبری  اسلام  کی منظور  تھی  اس  واسطے       آج بھی مہدی کی صورت میں ہے احسان غدیر

آپ  کی  تاریخ  میں  جن کا خلیفہ نام ہے        ہم  انہی  افراد  کو  کہتے  ہیں  شیطان غدیر

مصطفی  کے  ہا تھ  سے قوت عطا کچھ تو ہوئی       کس میں ہمت کاٹ لے آکر تیرے شان غدیر

فرق  مومن  ا ور  کافر میں  بتانے کے لیے        آج  تک  باقی  رکھا  خالق نے  میزان غدیر

وہ  یقینا  راہ  حق  پر ہیں کہ جن کے پاس ہو        عترت  و  قرآن  محفل  غم  ثنا خوان  غدیر

غاصب  حق  علی کو  جان لیں سب اس لیے        آگئی  بلغ  کی  آیت لے  کے  اعلان غدیر

ہے  دعا  جابر  کی  خلاق  علیم  پاک سے

گھیر لے  ہم سب  کو محشر تک یہ دامان غدیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

شاعر:جناب سبط حیدر زیدی صاحب

طرحی کلام

حال  طرب بیاں کروں  کیوں کر غدیر کا             مے  حب  اہل بیت  کی  ساغر  غدیر کا

دل  کھول  کر  پیو  یہ  شراب طہور ہے            آب  ولا   ہے   اور  سمندر   غدیر  کا

سر چشمہ  کوثر   ہو   یا   محور   غدیر  کا             مولا  وہی   ہے   ثاقی  کوثر   غدیر  کا

مولا  بنیں  علی  تو  ملا  ا س کو  بھی شرف             ذکر   ولا   سے  چمکا   مقدر   غدیر  کا

ذکر علی سے کچھ  کے  یوں چہرے اتر گئے              گویا  کہ  ہے  کلیجے  میں  نشتر  غدیر کا

اہل ولا کے نعروں سے رافت کے جشن سے            تازہ  ہے  آج  تک  وہی  منظر  غدیر کا

دریائے  خم  میں خوب  و بد پتھر بہت ملے             پر  دست  مصطفی  پہ  ہے  گوہر  غدیر کا

حارث کے واقعے سے یہ ثابت ہے حشر تک             ہر  منکر  ولا  پہ   ہے   پتھر   غدیر  کا

جن پہ ہے شک  فرار کا ان کے کجاووں سے             بنوا  لیا   رسول   نے   منبر    غدیر  کا

ہر  گام  پر  ولائے  علی  کام  آئے گی              میدان  حشر  ہو  یا  ہو  محشر   غدیر  کا

سبط  کی  یہ  دعا  ہے  بصد  عجز و انکسار

ہو   ذاکر  حسین    سخنور   غدیر  کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طرحی کلام

کررہے  ہیں  ہم  علی الاعلان  اعلان غدیر           آ ئو  سب مل کر منائیں جشن عرفان غدیر

اس طرف مومن ہیں خوش سب سن کے فرمان غدیر        اس طرف وہ رو رہا ہے دیکھو شیطان غدیر

ہم نہ ہوں مسرور کیوں اور وہ نہ روئیں کس لیے           وہ  مسلمان  سقیفہ  ہم  مسلمان  غدیر

لگئی   مہر   رضایت   دین   کامل   ہوگیا           آگئی  بلغ کی آیت  لے کے اعلان غدیر

ہوگئی  ان  کی  عنانت   اور  احسان  غدیر

سبط  بھی عشق  علی میں ہے  ثنا  خوان  غدیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب  سجّاد حسین اطہر کاظمی صاحب

طرحی کلام

خوب بھائے گا  اسے  جشن  و  چراغان غدیر           ہوبسایا جس نے اپنے دل میں ایمان غدیر

دین  بھی قرآن بھی کا مل ہوئے ہیں آج سے           آگئی  بلغ کی آیت  لے کے  اعلان غدیر

کانٹے  تو ہوتے ہیں  گلشن میں مگر اب دیکھنا           بن  گیا  ایمان  کا  گلشن  بیابان  غدیر

وحی  اور  حیدر  میں ہے  بس فرق اتنا  دوستو            ایک  قرآن  حرم ہے  ایک قرآن غدیر

سنگ  با راں  آسماں سے پھر نہ ہوجائے کہیں           کچھ سنبھل  کر  بیٹھنا  واعظ تو دوران غدیر

گل کے ہاتھوں میں ہے گل اور نور کے ہاتھوں میں نور     کس  طرح  رب نے سجایا ہے گلستان غدیر

مصطفی  نے  جب کہا  معیار  ایماں ہے  علی            نور  ا یماں  سے ہو ا  روشن  شبستان غدیر

شیخ  جی کیوں  بلبلاتے  ہیں  حرم  میں بیٹھ کر           کیا  نہیں  ان  کو گو ارا  رتبہ و  شان غدیر

ہو  مبارک  فیصلہ  آباء  کا  اس  روز  سے            تیر ا  دامان   سقیفہ   میر ا   دامان   غدیر

دوزخ  و جنت  بتائیں گے  حقیقت وقت پر            کیا  ہے  نقصان سقیفہ کیا ہے احسان غدیر

شکرہے ا  طہر  تجھے  توفیق  یہ مولا  نے  د ی

بزم  عشق  مرتضی  میں  ہو  ثنا  خوان  غدیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

طرحی کلام

پھر  کھول  عشق  شوق  سے دفتر  غدیر  کا        اعلان  کر  رہا  ہے   پیمبر  غدیر  کا

کانٹوں کے درمیاں سے چنا مصطفی نے پھول        چمکا  یوں  آ سماں  پہ  مقدر   غدیر  کا

خیر العمل  کے  خوان  میں  ہے روح کی غذا         اور  میزباں  ہے  خالق و  داور غدیر کا

تاریخ  کی  نگاہ  میں  بس  منفرد  ہے  یہ          پالان  سے  بنا  تھا  جو  منبر  غدیر  کا

محفل  ہے   ذکر  حیدر  کرار  کے  لیے          ذاکر  ہے  آج  مرسل  اکبر   غدیر کا

من کنت  جب  رسول  خدا  نے   بتا  دیا          سرور  سبھی  کا  بن گیا  سرور غدیر  کا

واللہ یعصمک  کی  ضمانت  تھی اس  لیے          آنا  تھا  دل  میں  شیخ کے  چکر غدیر کا

سہمے  ہوئے  وہ  شیخ  بھی  بولے  بخ بخ           جب  آسماں  سے  آگیا  پتھر غدیر کا

عشق  علی  ہی  روح کا آب حیات  ہے          آ  دوست  پی لے شوق سے کوثر غدیر کا   

کوتاہ  فکر  ہے  تو  قلم  ناتوان  ہے

 کیسے  عیاں  ہو  راز  پھر  اطہر غدیر کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب نیر عباس رضوی صاحب

طرحی کلام

جب  لکھا  قرطاس  دل پہ میں نے عنوان غدیر     آگئی  مجھ  میں فضیلت  بن کے  مہمان غدیر

حرمت  کعبہ  کی  پامالی  پہ  سنگریزے گرے      سنگ  گرتا ہے  کوئی کردے جو کفران غدیر

آیتیں  اس  کی  سبھی  کرب و بلا کے نام ہیں     کرکے  اشکوں سے وضو پڑھیے گا قرآن غدیر

یوں  تو صحرا  ہے  اگر  ظاہر  پہ  کیجے  گا  نظر       در  حقیقت  کلبہ ایمان  ہے  یہ  ایوان غدیر

مٹیوں  کو  گوندھ  کے  جنت  بنا دیتا ہے وہ        ایک  دیوانہ  کو  ہو جائے  جو  عرفان غدیر

خانہ ء   کعبہ    اگر    تعمیر   ابراہیم   ہے         تو   محمد   نے   رکھی   بنیاد   ایمان   غدیر

میرے گھر آئے گی جنت چل کے خود لینے مجھے        اک  نظر کردیں  اگر  مجھ  پہ جو سلطان غدیر

اتنے  آگے  جائیے   نہ   اتحادی   راہ  پر         چھوٹ جائے اپنے ہاتھوں سے نہ دامان غدیر

بوڑھے لفظوں پہ خضاب مصلحت کرکے جناب        کچھ  قلم  نے  ایسے چاہا کرلیں کتمان غدیر

نور  کی جانب  سے  ظلمت کا سفر اس نے کیا       جس نے جب بھی جس جگہ توڑا ہے پیمان غدیر

اک  فضیلت آج پھر حیدر کے چومے گی قدم        آگئی  بلغ  کی  آیت  لے  کے اعلان غدیر

نسل  کی  پا کیزگی  ہے شرط  اے نیر   ضرور 

ورنہ  ممکن  ہی   نہیں  بننا  مسلمان  غدیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب سبط محمد رضوی صاحب

طرحی کلام

جب  ہوا  میدان  میں منبر سے اعلان غدیر        ہوگیا  مسرور  رب یوں  کرکے  اعلان غدیر

جب  بنے  مولا  علی  مولا تو کہہ اٹھے ملک        یا  علی  تم  کو  مبارک  ہو  یہ  فرمان  غدیر

اب نبی منبر پہ ہیں  اور ہاتھ میں حیدر کا ہاتھ         یوں  محمد پڑھ  رہے  ہیں  خم میں قرآن غدیر

ہیںعلی  دولھا بنیں  اور  دیں  مکمل ہوگیا         بخ  بخ  سے  ہے  گونجا  آج  میدان  غدیر

ہوگیا  جب حج  مکمل خستہ حاجی چل دیے         آگئی  بلغ  آیت   لے   کے   اعلان  غدیر

ہوگئے  جبریل  حاضر  حکم لائے ہیں یہی          یا نبی  بتلادیں  سب  کو کیا  ہے عرفان غدیر

جو  ہوا  منکر  خدا  نے  ختم  اس کو کردیا            بولے  حاجی  سر کھجا  کر یہ ہے میدان غدیر

آج تک لعنت کے پتھر کھارہے ہیں وہ سبھی          جو  نہیں  سمجھے  کبھی بھی عظمت و شان غدیر

دشمن  حیدر  نہ کہہ ک چہ  تجھ کو ہونا ہے فنا            روز محشر جب  نظر  آئے  گا  احسان  غدیر

سبط  تیری  مدح  کا تجھ کو صلہ مل جائے گا 

روز  محشر جب  ملے گا  تجھ  فیضان غدیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طرحی کلام

سب سے  بلند ہے  وہی  منبر غدیر کا         جس پر  بنا ہے  دولھا یہ  رہبر غدیر کا

ہاتھوں پہ ہے  بلند نبی کے  جو نور حق          خالق  کا نور  ہے  یہی  رہبر غدیر کا

حاجی سبھی ہیں حکم نبی سے رکے ہوئے          گھبرارہے  ہیں  دیکھ کے محشر غدیر کا

بلغ  کا  صحر ا  اور  یہ منبر  کجاووں کا            دیکھا  ملائکہ  نے  بھی منظر غدیر کا

جام  غدیر پی  کے  ہم مدح علی کریں          تازہ ہے  آج تک  وہی منظر غدیرکا

سبط علی کے بغض میں اندھی ہوئی امت

کرب و بلا  میں دیکھا  مقدر  غدیر کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب الفت حسین جویا صاحب

طرحی کلام

کس طرح ہوگی بیاں مجھ سے بھلا شان غدیر        ہے جہاں قرآن میں خالق ثنا خوان غدیر

دین  کی  روز قیامت تک حفاظت کے لیے         آگئی بلغ کی آیت لے کے اعلان غدیر

دست  پیغمبر پہ یوں حیدر ہیں چلوہ گر ہوئے          جیسے قرآن رسالت  پہ  ہو قرآن غدیر

دین  کا  اکمال  اتمام  نعم   مرضی  حق           ہم کبھی نہ بھول پائیں گے یہ احسان غدیر

چال کچھ ایسی غضب کی چند بوڑھے چل گئے         کھیل  تھا  بخ بخ  کا  اور  میدان غدیر

اپنا  اپنا  ہے  مقدر  ہو  مبارک  شیخ  جی           تم  سقیفائی  مسلماں  ہم مسلمان غدیر

دار  سے ہے آرہی اب تک یہ میثم کی صدا            کٹ تو سکتے ہیں  نہیں جھکتے محبان غدیر

شیخ  جی  گر فھم دیں کا شوق ہے تو پھر سنیں            دین کا عرفان ہے  در اصل عرفان غدیر

تیس پارے سب حدیثین حافظوں کو یاد ہیں          محو حیرت ہوں  نہیں ہے یاد فرمان غدیر

بارگاہ  قدس رضوی میں ہے الفت کی دعا

غیب سے آئیں وہ اور پورا ہوارمان غدیر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب فیروز رضا نقوی صاحب

طرحی کلام

اس لیے ہوجاتے ہیں کچھ لوگ انجانے غدیر       کیونکہ  بیٹا ہے  ابوطالب  کا سلطان غدیر

لاکھ چاہا  دشمنوں نے  حق  مگر چھپتا  نہیں       سارے عالم میں ہے مہدی آج آذان غدیر

بخ بخ  کی  صدا  نے  سب کو  حیراں کردیا       خم  کے  میداں میں اتر آیا ہے قرآن غدیر

جو علی  کا  تذکرہ  سنتے  ہی  بہرے  ہوگئے       آج  بھی باقی ہیں کچھ دنیا میں شیطان غدیر

لے کے ہاتھوں پہ علی  من کنت مولا  کہدیا       ہے  امامت  اور  نبوت آج میدان غدیر

لگ گئی  مہر نبوت  جب  وحی کی  شکل  میں        آگئی  بلغ کی  آیت لے کے اعلان غدیر

ہو نسب پاکیزہ جن کا اور شرافت ماں میں ہو      صرف اس کے ہی سمجھ میں آئے گی شان غدیر

آخری  سانسوں  تلک ہو بس علی کی منقبت      آخری  دم تک  رہے  ہونٹوں پہ عنوان غدیر

نسل کی پہچان اژدر کیا  کرے گا  چل بسا        اب  عطا  فیروز رب نے کردی میزان غدیر

جشن نورین

حضرت محممد مصطفی اور حضرت امام جعفرصادق علیھما السلام کی ولادت باسعادت کے عظیم و بابرکت موقع پر بزم رافت کی جانب سے ایک غیرطرح مقاصدہ  مدرسہ امام العصر مشہد مقدس میں منعقد ہوا جس میں سبھی شعرا ء کرام نے بہت ہی عمدہ کلام پیش کیے کہ جن میں سے بعض کلام کااقتباس پیش خدمت ہے۔  جب کہ بہت سے شعرا ء حضرات نے فقط اپنا کلام بزم رافت کے لیے ارسال فرمایا۔

 

شاعر :جناب حیدر کرتپوری صاحب

نعت پاک

کروں  جو  ذکر پیمبر  میری زباں  مہکے             زباں  کا  ذکر ہی کیا ہے  میرا مکاں مہکے

یہ  برگ  و گل ہی  نہیں سارا گلستاں مہکے             زمین  مہکے  فلک  مہکے  کل جہاں مہکے

فرشتے  وجد میں  آئیں پڑھیں درود سبھی             زمیں  پہ  ذکر  نبی  ہو  تو  آسماں  مہکے

جہاں  سے  آگے کبھی  جبرئیل بھی نہ گئے             وہاں  رسول  کی  نعلین کے  نشاں مہکے

جہاں جہاں پہ  ہوا  ذکر  ان کی سیرت کا              وہاں  وہاں  کے  در وبام  اور مکاں مہکے

جدھر سے  گذرے  غلامان مرسل اعظم             وہ  رہگذر  وہ  منزل   وہ   آستاں  مہکے

میں جب  بھی  نعت محمد سنائوں محفل میں             ہر  ایک  لفظ  دے خوشبو  میرا  بیاں مہکے

جو  نعت پاک  کا ملبوس ہو میری زینت             قسم خدا  کی  بدن  کا  رواں  رواں  مہکے

مدینہ  کرب و بلا  سامرہ  نجف  مشہد             دل رسول  کے  ٹکڑے  کہاں کہاں مہکے

غم حسین کی خوشبو ہے سارے بھارت میں           کہاں  گلا ب  محمد   کھلے   کہاں   مہکے

کروں  میں ذکر  رسول کریم  اے حیدر

میری  زبان  میرا جسم  میری جاں  مہکے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نعت پاک

خدا  شاہد کہ  یہ  سورج  تو ہے  منگتا  محمد کا        ہوئے  روشن دوعالم جس سے ہے جلوہ محمد کا

زمانے  والے  اپنا سا  سمجھ  بیٹھیں نہ احمد کو        خدا نے  اس لیے  رکھا  نہیں  سایا  محمد کا

دو  عا لم  خلق کرنے والا خالق ایک ہے لیکن        خدا  کا  ملک ہے  پر  اس پہ ہے قبضہ محمد کا

ہمیں خوابوں میں آتی ہیں نظر گلیاں مدینے کی        ہماری  آنکھوں کی بینائی ہے  صدقہ  محمد کا

فرشتے گھر کے دروازے پہ آکر بیٹھ جاتے ہیں    میں جب بھی اپنے گھر میں کرتاہوں چرچا محمد کا

شب ہجرت کے سونے والے کا احسان ہے حیدر

بہتر  گھاٹ  ہیں  اور  ایک ہے  دریا  محمد کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نعت پاک

ایسا  شفیق  کون  ہے  سرکار  آپ ہیں         محشر میں ہم غریبوں کے غم خوار آپ ہیں

وقت  مدد ہے  اے  میرے  آقا مدد کرو         مشکل کشا  ہیں  آپ  مدد گار آپ ہیں

وارث  بغیر کب ہے  یہ  امت  حضور کی         اس  قافلے  کے  قافلہ سالار آپ ہیں

حد یہ ہے  دشمنوں  کو  کبھی  بدعا نہ دی          سرکار  ایسے  صاحب  کردار آپ ہیں

ہم خوش نصیب ہیں کہ ہیں امت میں آپ کی       کل  انبیاء  کے  سرور وسردار آپ ہیں

ہم  عاصیوں  کا  اور  سہارا  نہیں  کوئی          ہم  عاصیوں  کے  احمد  مختار آپ ہیں

تنہا  سنبھال  رکھا ہے  دونوں جہان  کو           دونوں جہاں کے مالک و مختار آپ ہیں

حیدر  کو  بھی عطا  ہو حقیقت  کی روشنی

سرکار  میرے  مرکز  انوار  آپ  ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

شاعر :جناب تحریر علی نقوی صاحب

حضرت پیغمبر اکرم ۖ

تیرا کردار تجھ کو پستیوں میں لے کے جاتاہے        تصور  میں  تیرے  کیسے شہ لوکاک ممکن ہے

پیمبر  کو  سمجھنا  ہو  تو  سمجھ  پہلے حیدر کو          بشر  تجھ کو  مگر حیدر کا کب ادارک ممکن ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب بات ہے گری ہوئی تیری اصول سے       کیا  اتفاق ہو  تیرے  حرف فضول سے

تو اصل میں  بعید  ہے  اصل  عقول سے        بنتی  نہیں  ہماری  تو  ایسے  جہول سے

نادان  کیوں  نبی  کو  بھلا  بھائی کہدیا

تجھ  ایسا  کب ہے مصطفائے ذات کبریا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو  دیکھ اپنے آپ کو اقات اپنی دیکھ                 دن دیکھ اپنا کیسا ہے اور رات اپنی دیکھ

کچھ ملتی جلتی ہوتو کوئی بات اپنی دیکھ                 فرصت سے جستجو سے بھلا ذات اپنی دیکھ

تو اصل و نسل و عقل میں کتنا ضعیف ہے

ان کی تو بات بات حدیث شریف ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام

مذہب  حقہ  کو  جس نے  آ لگائے  چار چاند       جس  نے  روشن  کردیا  دین  خدا وند  کا وقار

جس کا ایک اک حرف ہے دشمن کے سر پہ ایک وار       نام   نا می  ہے  جہاں  بھر  میں  تشیع کا مدار

صادق  آل  محمد  حضرت   جعفر   ہیں    وہ

گھومتا  مذہب  ہے  جس  کے گرد  وہ محور ہیں وہ

 

یہ  صادق ہیں بلند اتنے ہے نیچے آسمان ان سے      کون  سمجھے  کوئی سیکھے صداقت کے بیاں ان سے

نہ  سمجھا  ان کو  نعمان  اس کی  اپنی قسمت تھی       صداقت کے سبق لیتے ہیں بیشک انس و جاں ان سے

ہیں ان کے قول بھی اور فعل بھی آیات حق بیشک         خدا  تک  پہنچنے کے  واسطے  لے لو نشاں اس سے

بقیع  و  کربلا کے ہیں یہ  وارث باقر و صادق         ہے  مظلوموں  کی زندہ  تاابد ہر داستاں ان سے

بلندی  پستیاں  پاتی  ہیں  ان  کے  در  پہ  جھکنے  سے

 شرف پاتے ہیں نقوی سے بھی عاصی مدح خوا ں ان سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب محمد حسین بہشتی صاحب

جناب احمد رضا بریلوی صاحب کے مطلع پر تضمین

مصطفی  جان  رحمت پہ  لاکھوں سلام              شمع   بزم  ہد ایت  پہ  لاکھوں سلام 

میری  توقیر  ہے  ان  کی  مدح و ثنا               اہل بیت رسالت  پہ  لاکھوں سلام 

اک عجب  دھوم ہے  آج کونین میں               اس نبی کی  ولادت  پہ لاکھوں سلام 

میں  تھا  بزم  رسالت میں  صبح و مسا              ان کی  شان عنایت  پہ لاکھوں سلام 

میرا  ایمان  ہے  دو  جہاں  ہیچ  ہے              اس نبی کی  کرامت پہ لاکھوں سلام 

شوق  دیدار  میں  صبح ،  شام  ہوگئی               میرے آقا کی تربت پہ لاکھوں سلام 

میں  گدہ  ہوں  در مصطفی  کا جناب              اس  سخی  کی سخاوت پہ لاکھوں سلام 

سر  زمین  رضا  پر میں  موجود  ہوں              اس رضا کی  رضایت پہ لاکھوں سلام 

اس  بہشتی  کی  قسمت کی کیا بات ہے

سر  زمین  امامت  پہ  لاکھوں  سلام 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 4 (نشريه بزم رأفت)، پيام رأفت نمبر 5 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن
[ چهارشنبه بیست و هفتم مهر 1390 ] [ 17:49 ] [ انجمن ] [ ]

جشن میلاد کوثر

وجہ خلقت کائنات ،سبب معرفت پروردگار ،  بضعة الرسول، کفو ولایت ، مادر امامت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ہر سال کی طرح امسال بھی ایک عظیم  ''جشن میلاد کوثر '' منعقد ہوا جس کا مصرعہ طرح یہ تھا :

  قرآں کا بولتا ہوا پارہ ہے فاطمہ

شاعر :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

طرحی کلام

تخلیق  ممکنا ت  کا  منشا  ہے  فاطمہ            پرکار  کائنات  کا  نقطہ  ہے  فاطمہ

وہ  واجب  الوجود  ہے  لیس  کمثلہ            اور  ممکن  الوجود  میں یکتا ہے فاطمہ

پانا ہے  گر شرف تو  انہیں کا طواف کر            نبیوں  کی کل صفات کا کعبہ ہے فاطمہ

مریم ہے ہاجرہ  کہیں سارہ ہے فاطمہ            ساری  فضیلتوں  کا  منارہ ہے فاطمہ

قرآن ہیں رسول تو قرآن ہیں بتول             یہ کس نے کہدیا ہے کہ پارہ ہے فاطمہ

چودہ ہیں جز یہ عظمت خالق کے نور سے            اس  نور  کردگار  کا  ٹکڑا ہے فاطمہ

قرآن ایک ناطق قرآں بھی ایک ہے            قرآں  کا  بولتا  ہوا  پارہ  ہے فاطمہ

اس عالم وجود میں  خاتم ہیں  گر رسول           تو  خاتم  خدا  کا  نگینہ   ہے  فاطمہ

عین خدا ہیں  حضرت مولائے کائنات            اور  کبرائی  آنکھ  کا تارہ ہے فاطمہ

ہر اک  لقب کمال  شرافت پہ ہے دلیل           صدیقہ ہے  بتول ہے زھرا ہے فاطمہ

خود اس سے بڑھ کے اور فضیلت ہو کیا بیاں         کہدیں  رسول  ام ابیھا  ہے  فاطمہ

سبط  کی  کیا مجال  قصیدہ کرے رقم

قرآن تیرے حق میں قصیدہ ہے فاطمہ

 

شاعر :جناب سبط محمد رضوی صاحب

طرحی کلام

مدح  و  ثنا ء  رب  کا سپارہ  ہے فاطمہ          رب نے  کنیز خاص  پکارا  ہے فاطمہ

بارہ بنائے  ہادی  ہدایت  کے  واسطے            تنہا  مگر  خدا نے  اتارا  ہے  فاطمہ

لولاک  کی  مہر ہے  علی  و  بتول  پر            لیکن  تو  وجہ  خلق  ادارہ  ہے فاطمہ

رضوان بن کے درزی چلے آئے فرش پر            خیاطی  بھی  ملک  کو گوارا ہے فاطمہ

ام  ابیھا  کہتے  نظر آتے  ہیں  رسول             ام الآئمہ  حق نے  پکارا  ہے فاطمہ

تیری کنیز خاص کرے آیتوں میں  بات            علم  و  عمل  کا  ایسا  منارہ ہے فاطمہ

باغ  فدک  کو  چھینا  تو  باغ جناں گیا           عقلوں کو ان کی بھوک نے مارا ہے فاطمہ

پیدا ہوں جن سے گوہر عصمت حسن حسین           قرآن کی  زباں میں وہ دریا ہے فاطمہ

جب سے  تمہاری  نسل کا اس میں لہو ملا            بس  خاک  کربلا ہی سہارا ہے فاطمہ

جب تک نہ اذن  پائے گا اندر نہ آئے گا            تم  سے  فرشتہ موت کا  ڈرتا ہے فاطمہ

باب العلوم  فخر سے کہتے ہیں  خود رسول            قرآن  کا  بولتا  ہوا  پارہ  ہے  فاطمہ

خورشید  و  ماہ  گر ہیں نبی  و  علی تو پھر             اسلام  کا  درخشاں  ستارہ  ہے فاطمہ

کیا  تم  مٹا سکوگے  فضیلت  بتول کی            باب  جنا ں  کا  د ر  نگینہ  ہے  فاطمہ

ماکان ما یکون سبھی جس میں ہیں  نہاں             ایسی  کتاب  ایسا  صحیفہ  ہے  فاطمہ

ہوتے ہیں فیضیاب سبھی اس کے نام سے           مشکل  میں  ہر  نبی  کا سہارا ہے فاطمہ

سبط  مرے  قصیدہ  کو سنتے ہیں جبرئیل

 میں  نے  قلم  کو چوم کے لکھا ہے فاطمہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

شاعر :جناب جابر علی انصاری صاحب

طرحی کلام

جس  کی  زباں  پہ  تیرا قصیدہ ہے فاطمہ          اس  کا  ہر  اک  کلام  سنہرا ہے فاطمہ

تو  بضعة  الرسول  ہے  تو  روح  مصطفی           مرسل  کے  ہر  کمال  کا چہرا ہے فاطمہ

چھ  ماہ  تیرے  گھر کا کیا ہے طواف یوں          گویا  رسول  پاک  کا  کعبہ  ہے فاطمہ

ظالم  کو  بے  نقاب  کیا  کربلا  تلک             زینب  تیری  زبان سے گویا ہے فاطمہ

صامت  سجھ  میں آیا نہ سجمھیں گے کیا تجھے             قرآں  کا  بولتا  ہوا  پارہ  ہے  فاطمہ

جابر  بروز  حشر   شفاعت  کے  واسطے

 حسنین  تو  علی  تیر ا  بابا   ہے   فاطمہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب محمد حسین بہشتی صاحب

مقام  عظمت  زہرائے  اطہر              کہ خود  تعظیم کرتے ہیں پیمبر

محمد کے  چمن  کا پھول ہے یہ               نہیں خوشبو کسی کی اس سے بہتر

جہاں پر نور کی ہوتی ہے  بارش                وہیں  تو فاطمہ زہرا کا ہے گھر

نگاہ قدسیاں  بھی خیرہ زن ہیں               جھکاتے ہیں دراقدس پہ وہ سر

فرشتے ہوں  یا کوئی حور و  غلماں              نہیں ہے مرتبہ فضہ سے بڑھ کر

اگر  تم  چاہتے  ہو  سرفرازی                ہو  ذکر  فاطمہ  ہر دم زباں پر

ہمیشہ  فاطمہ زہرا  کے  در  پر                سلام  آتے ہیں کرنے کو پیمبر

بہشتی  گر نہ  بھولا  فا طمہ  کو               بدل  جائے  گا  تیرا بھی مقدر

محافل انوار

ماہ رجب المرجب اور ماہ شعبان المعظم میں بزم رافت نے ایک نئی روش اختیار کی کہ ہر مناسبت پر محافل کا انعقاد خصوصی لیکن تخصصی تھا وہ یہ کہ ان محافل میں صرف بزم کے ممبرحضرات کو دعوت دی جاتی اور اس میں نقد و اصلاح کے عنوان سے محفل منعقد ہوتی کہ جس میں شعرا ء حضرات اپنا منتخب کلام بھی پیش کرتے اور نقد و تبصرے سے بھی لطف اندوز ہوتے اور اس طرح محافل کی تعداد بھی زیادہ رہی اور مفید بھی واقع ہوئی۔ چونکہ مختلف اور متعدد محافل و نشست کا بندو بست رہا لہذا ان تمام جلسات کو محافل انوار کا نام سے یاد کیا جارہا ہے اور ہر ایک محفل سے منتخب کلام پیش کیا جارہا ہے ۔

 

جشن مولود کعبہ

شاعر :جناب تحریر علی نقوی صاحب

جب  تک  در  امیر پر  آیا نہیں فقیر               خالی رہا ہے فیض سے کاسہ فقیر کا

مت اندھے ہوکے حفظ کرو اس کلام کو               قرآن پڑھ رہا ہے قصیدہ امیر کا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماضی سے لے کے درس ابھی کام کچھ کرو              بادل کی طرح ہاتھ سے  جاتی ہیں فرصتیں

مولا  علی کے  قول سے  نکتہ یہ سیکھ  لو             پھر  لوٹ کر کبھی  نہیں آتیں ہیں فرصتیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاند نے چاہت اپنی دکھائی دل میں سمایا علی علی          نام علی کی رفعت نے وہ رتبہ بڑھایا علی علی   

تالی شمس کا سارے کواکب سے دیکھو برتر ٹھہرا           فلک پہ آکر خلق خدا ساری کو دکھایا علی علی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

شاعر :جناب محمد حسین بہشتی صاحب

علی  کے  ہاتھ  میں  ہے  راز  ہستی             علی  کے  عشق  میں  کھونا  پڑے گا

علی  کے  دشمنوں  نے   سر    اٹھایا              دبا نا   پھر  ہمیں   فتنہ   پڑے  گا

علی  کی  راہ  پر   چلنے  کی   خاطر               بتوں  سے  ہم  کو  ٹکرانا  پڑے گا

ہر  اک  جانب  منافق پھر اٹھے ہیں              یہ   دھبہ   بدنما   دھونا   پڑے  گا

خمینی  بت  شکن  ہے   مرد  مومن              یہ  امریکہ   کو   بتلانا   پڑے  گا

حسینی   راہ   پر   آنا   پڑے  گا                 اسی  کا  غم  ہمیں  کھانا   پڑے گا

اسی  کے  دم  سے  ہے  دنیا ہماری                اسی  کے  نام  پر  مر نا   پڑے  گا

یزیدی  دندناتے   پھر  رہے  ہیں                 ہمیں  میداں  میں  پھر آنا پڑے گا

یزیدی   اور   وہابی   دشمن   دیں                 ہمیں  عالم   سمجھانا    پڑے   گا

منافق  رنگ  بدلے  گا  ہزاروں                 تمہیں  بھی رنگ میں ڈھلنا پڑے گا

اگر  عباس  سے  الفت  ہے  ہم کو                تو  ہاتھوں  کو  بھی  کٹوانا پڑے گا

اگر  ہے  معرفت  اکبر  جواں  کی                تو  اشک  خون  برسانا   پڑے  گا

عزاداری  شہ  رگ   ہے   ہماری                 اسی  پہ  جینا   او ر   مرنا  پڑے  گا

فقظ   ماتم  سے  کچھ  ہوتا  نہیں ہے             ہمیں  تو  سر  بھی  کٹوانا  پڑے گا

شہادت  ہے  مہیا  اے میرے دوست            ہمیں  حر  کی  طرح  مرنا  پڑے گا

بہشتی   غم   نہیں   مرنے   کا   ہرگز

ہمیں  اس  راہ  تو   جانا   پڑے  گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

شاعر :جناب اکبر حسین جعفری صاحب

بحر  ظلمات  بذکر  پاک  چلاجاتاہوں             دشت  خونخوار  میں سفاک چلا جاتاہوں

آج  بھی شیخ جی  رنج و بلا کے جنگل میں             یا علی کہہ کے  میں بے باک چلاجاتاہوں

گل فردوس کے اشمام کی خواہش جو کروں             کربلا  سونگھنے  میں  خاک چلا جاتاہوں

ذکر  عباس   میرا  سیف  یدالھی  ہے              سامنے  عمرو  کے  ضحاک چلاجاتاہوں

لہجہ  بنت  علی  خطبہ  زینب نے  کہا             کرنے باطل کو میں اب چاک چلاجاتاہوں

میں  علمدار  ہوں  اب مجھ کو حسینی کہیے              ہاتھ میں لے کے میں افلاک چلا جاتاہوں

بے  خطر  بحر تلاطم  میں  ابھی بھی اکبر 

تھام  کر  دامن لولاک چلا جاتاہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خلوص  دل سے کرتاہوں دعا ہر بار داور سے            ملادے میرا بھی شجرہ طہارت میں بہتر سے

رضائے آل احمد میں رضا ئے رب اکبر ہے             یقیں آتا نہیں تو پوچھ لے خود ہی پیمبر سے

اگر  بننا  ہے  تجھ  کو  بادشاہ دین و دنیا کا              جبین  فقر  خم  کرکے سند لیلے حیدر سے

بھٹکتا  پھر  رہا ہے  طالب  فردوس لگتا ہے             توکہتاکیوں نہیں حیدر سے اور شبیر و شبر سے

شبانہ روز  رضواں بھی گدائی کر نے آتا ہے             یقیں  کیسے دلاں پوچھ لے بنت پیمبر سے

 مہار  اونٹ  کو  تو چھوڑ  ورنہ  ساتھ  جائے گا        سخاوت  حیدر کرار کی  کہتی ہے قنبر سے

تیرے دایدار کی حسرت میں جنت بھو ل بیٹھا ہوں         زمین کربلا کیا ہی شرف پایا ہے داور سے

فرشتو  حیثیت  پہچان  کر  با تیں کرو مجھ سے

میں اکبر ہوں مقدر سے ابھی کہدوں گا قنبر سے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

جشن پروردگا ر عشق حضرت امام حسین علیہ السلام

شاعر :جناب عارف حسین عارف صاحب

ورد  زباں  شعار ہے  لبیک یا حسین                      ملت کا  یہ وقار ہے لیبک یا حسین

عارف رکیں گے مجلس و ماتم نہ حشر تک                   کربل سے یہ قرار ہے لبیک یا حسین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب محمد حسین بہشتی صاحب

حسین  ابن  علی  تاجدار  کون و  مکاں          کہ جس کے نام سے روشن ہیں یہ زمین و زماں

کٹا  کے  سر  کو کیا زندہ نام حق جس نے            اسی کے  نام رہے گا ہے جب تلک یہ جہاں

حسین  فخر  دوعالم ہے جس کی ہیبت سے            زباں  پہ  نام  اگر  لوں تو کانپتی ہے زباں

نہ  کرسکا  نہ  کوئی  کرسکے گا کار حسین            جہاں ہے  دیکھ کے  عظمت حسین کی حیراں

بہشتی  چھوڑ  نہ  دامن  حسین  کا ہر گز

یہی  تو  ہے  تیری راہ نجات اے ناداں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جشن پروردگا ر وفا

شاعر :جناب محمد حسین بہشتی صاحب

عباس   باوفا   کا  عجب   احتشام  ہے              کون و  مکاں میں دیکھیے کیسا مقام ہے

عباس  کو  خدا  نے  عجب  معجزہ   دیا               ہر  ایک  کی زبان پر غازی کا نام ہے

جاں  دے کے  جس نے نام خدا کو کیا بلند             اس  مرد  پاک  ذات کو میرا سلام ہے

دشمن  کی  سازشوں  سے کوئی ڈر نہیں مجھے            حیدر کے  لاڈلے  کا یہی اک پیام ہے

تنہا گیا ہے  جنگ  میں  دشمن  ہیں بے شمار           عباس   نامدار   کا   یہ   انتظام  ہے

حیرت میں پڑگئے ہیں جہا ں میں تیرے عدو           ماتم  کو  تیرے  دیکھ کے جینا حرام ہے

جائیں گے اس سے بچ کے کہاں دشمن حسین            وہ  منتقم  حسین   کا   ذوانتقام  ہے

ہیں  پر چم  خدا   کے   نگہبان  اہل بیت            عالم  میں  اہل بیت کا  اونچا مقام ہے

مشکل  میں  وہ  کبھی نہیں گھر سکتا ہے بشر            جس  کی  زباں  پہ  آل محمد کا نام ہے

شمر  و  یزید  کو  یہی   میر ا   پیام  ہے             تم  کچھ  بھی کر  نہ پا گے یہ فکر خام ہے

کتنے  غرور  و  کبر  میں  مشغول تھا یزید            لیکن وہ مٹ چکا ہے ذلیل اس کا نام ہے

میں  خاک  پائے  آل  محمد  ہوں باخدا              ہر  دم  میری  زباں پہ علی ہی کا نام ہے

آل  نبی  کا  در د   بہشتی  سے  پوچھیے

یہ  ان  کی خاک پا ہے یہ ان کا غلام ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب طیب کاظمی صاحب

انسانیت  کا  جوہر کردار  ہے  وفا        عزم  و  ثبات  و  صبر کا شہکار ہے  وفا

راہ عمل  کی  منزل  بیدار ہے  وفا         ایمان  و  آگہی کی  طرفدار  ہے  وفا

بھر کر  وفا کے  رنگ  نقوش حیات میں

انسان   سرفراز   ہو ا   کائنات  میں

سورج وفا  ستارے وفا  کہکشاںوفا       دل بھی وفا  دماغ  وفا  جسم  و  جاں وفا

منزل  وفا  صراط  وفا  کارواں  وفا         مرکز  وفا   ہے   دائرہ  بیکراں  وفا

سمٹی  تو  ایک  نقطہ  قرآں میں آگئی

پھیلی  تو  کائنات کی وسعت پہ چھاگئی

 

جشن پروردگا ر صبر

شاعر :جناب حیدر کرتپوری صاحب

زینب  فضیلتوں  کے  سمندر کا نام ہے

زینب  شجاعتوں  کے  بھر گھر کا نام ہے

زینب  علی  حسین  پیمبر  کا  نام  ہے

اسلام  کی حیات کا یہ سنگ میل ہے

نمرود  ہے  یز ید تو  زینب خلیل ہے

ہر  اک  قدم  حسین کے انکار کی طرح

خاموشیاں تھیں بھائی علمدار  کی طرح 

گویا  ہوئی  تو حیدر  کرار  کی  طرح

ہر  ایک  لفظ  موتی  و  مونگا  بنا  دیا

خطبات  سے  یزید  کو  گونکا  بنایا

وہ  قید  ہو  کے  قافلہ  سالار بن گئی

 عباس  کی  بہن  تھی  علمدار بن گئی

شام  غریباں   حیدر کرار  بن  گئی

عورت  کو  حوصلوں  کی مثالی بناگئی

زینب  یزید  لفظ  کو  گالی  بنا  گئی

بیعت کے خار پائوں کے چھالوں سے توڑ دے

ہر  دشمن  حسین  کی  آنکھوں  کو پھوڑدے

زینب   یزیدیت   کی   کلائی   مروڑ  دے

بنیاد  قصر  ظلم  و ستم  کی اکھاڑ دے

بنت  رسول  جبر  کی بستی اجاڑ دے

بندھوا  کے  ہاتھ  دین  کا  وہ کام کرگئی

مقصد  حسینیت  کا  سرعام  کر  گئی

قصر  یزید  شام  میں  نیلام  کر  گئی

حاکم کے  سر کو شرم سے اس نے جھکادیا

بھائی  کا  کائنات  میں  ڈنکا  بجا  دیا

سائے  کی  طرح آیت تطہیر ساتھ تھی

ہاتھوں کو جوڑے دین کی تقدیر ساتھ تھی

ہر  بیکسی میں خطبوں کی شمشیر ساتھ تھی

ہر  اک  قد م حسین کا  احساس ہی رہا

زینب جہاں  گئی وہاں عباس ہی رہی

عباس  کی  بہن  تھی  پیمبر کی لاڈلی

زہرا  کی  آن بان  تھی حیدر کی لاڈلی

حیدر   یہی  بہن  تھی  برادر  کی لاڈلی

بچھڑی تھی کل یہ اب ہے غریب الوطن کے ساتھ

رہتی  ہے  باغ  خلد  میں  وہ  پنجتن کے ساتھ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭

٭٭٭

جشن ظہور نور

قطب عالم امکاں والی کون و مکاں صاحب عصر وزماں حجت حق ہادی دوراں حضرت  امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی ولادت باسعادت پر محفل نور کا انعقاد ہوا کہ جس میں بزم کی جانب سے مصرعہ طرح رکھا گیا اور یہ محفل اگر چہ خصوصی صورت میں منعقد ہوئی لیکن بہت کامیاب رہی اور احباب نے بہت عمدہ فضائل کے گوشے اور افکار پیش فرمائے ۔   مصرعہ طرح یہ ہے  :

منتظر اس کے فقظ ہم ہی نہیں کعبہ بھی ہے

شاعر :جناب فیروز رضا نقوی صاحب

اپنی آیات کے پردے کو بچانا بھی ہے               ایک  الزام ہے  نانا پہ  مٹانا بھی ہے

دھجیاں  موجد ہزیاں کی اڑاں گا  ابھی              اس لیے نیزے پہ قرآن سنانا بھی ہے

۔۔۔۔۔۔

طرحی کلام

منتظر پردے میں ہے اور آج تک زندہ بھی ہے      ہم  بلاتے  ہیں  ا سے  وہ  باخدا  آتا  بھی ہے

 منتظر  مولا کے  ہیں  کردار  ر کھ  کر  غیر کا       اک طرف سچائی بھی ہے اک طرف دھوکا بھی ہے

خاک   کردے گا   ابھی   تیرا   غرور  بیعتی       شاہ  دیں  کے کنبہ  میں  اک گود کا پالا بھی ہے

زندگی  اسلام  کو  ان  دو کے صدقے میں ملی       ضربت  مولا  علی  ہے  شاہ  کا  سجدہ بھی ہے

لشکر  مہدی  میں  داخل  ہوگا بس وہ دوستوں       حب  اہل بیت سے  معمور د  ل جس کا بھی ہے

عیسی رکھنے کو ہیں قدموں میں امامت کے جبیں        منتظر  ہے  گر  مصلی   منتظر  دریا  بھی  ہے

اے شیعوں  اک روز مولا آئیں گے یہ سوچ کر       اپنے  قدموں  کو گناہوں سے کبھی روکا بھی ہے

دل  تیرا  کالا  ہے  کیا  دیکھے  گا  نور قل کفی       بغض  شبیر  و  علی  کا آنکھوں میں جالا بھی ہے

مل  گیا  فرش  عزا فردوس کی چاہت نہیں        گھر  میں  میرے  ہے علم  شبیر کا روضہ بھی ہے

پرچم  عباس  سر  پہ  دشمنوں  کا خوف کیا         ہم  ملنگوں  کے  سروں پر آپ کا سایہ بھی ہے

اس کو پھر سے چاہیے آغوش میں اک اور علی          منتظر  اس  کے  فقظ  ہم  ہی نہیں کعبہ بھی ہے

یہ  علم  قرآن  و  عیسی  خضر ہیں تیغ علی           منتظر  اس  کے  فقظ  ہم  ہی نہیں کعبہ بھی ہے

منتظر  مولا  کے  ہم کہلائیں اس کردار میں         کیا گریباں میں کسی نے آج تک جھانکا بھی ہے

نان  یہ  آب  و ھوا  یہ نمک  مہدی کا ہے          کھا  رہا  ہے  جس کا صدقہ اس پہ غراتا بھی ہے

فتح  مندی  ہے  مقدر  وقت کا فیروز ہوں

نام  قدموں میں شہہ ابرار کے میرا بھی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب سبط محمد رضوی صاحب

طرحی کلام

جشن قائم ہے جہاں میں آج خوش آقا بھی ہے        ساری   دنیا  پر عیاں  سرکار  کا  جلوہ بھی  ہے

جس نے  اپنے نور سے  نورانی کردی کائنات         اور  ان  کے  نور سے  خیرات  یہ تازہ بھی ہے

آج  قائم  جو جہاں  میں ہے  یہ قرآن  و نماز        اس سے واضح ہے کہ اس دنیا میں اک مولا بھی ہے

کتنے  مفتی  مرگئے  فتوے بھی  ان کے مرگئے        جو  تھا  پہلے  منتظر  وہ  منتظر   مردہ   بھی  ہے

جس  کی آمد سے اٹھیں گے قبر سے مردے سبھی        مدتوں  سے  منتظر  اس کے  نبی  عیسی  بھی ہے

قاتلان  شاہ  سے  لینا  ہے  ان  کو  انتقام         منتظر  اس  وقت  کے  مولا بھی ہیں زہرا بھی ہے

ہوگا  کعبہ  پر  دوبارہ   نور  خالق  کا  ظہور         منتظر  اس  کے  فقط  ہم  ہی  نہیں کعبہ بھی ہے

وہ  ضرور آئیں گے اک دن میں ا سی  امید  پر

 منتظر  بیٹھا  ہوں  سبط   اور  یہ  وظیفہ بھی ہے

 

شاعر :جناب محمد حسین بہشتی صاحب

میرے قلب و نظر میں اک عجب حالت سمائی  ہے      میرے بے تاب دل میں آگ یہ کس نے لگائی ہے

میرے اس مضطرب دل کو قرار آئے گا جانے کب      میری  قسمت یہ بیتابی کہاں سے لے کے آئی ہے

کبھی  آرام ہے  د ل میں  کبھی طوفان بے تابی      یہ  الفت کی شمع کس نے میرے دل میں جلائی ہے

یہ میں ہوں یا ہے کوئی اور مجھ میں چھپ کے بیٹھا ہے     میرے  کانوں میں جانے کس کی یہ آواز آئی ہے

بہشتی  عالم  ذر  میں  جو  وعدہ  کرکے  آیا تھا       بتا  یہ  بات  ناداں  کس  لیے تو نے بھلائی ہے

محبت  اور  مودت  نے  سہارا  مجھ  کو بخشا ہے      خدا  کے  لطف  سے  میں نے  نئی دنیا سجائی ہے

خدا نے  آج  تک  مجھ کو کرم سے یوں نوازا ہے       میری  کشتی ہر اک طوفان سے بچ کرکے آئی ہے

بہشتی   شاعری  کو  میں عبادت ہی سمجھتا ہوں 

یہی ہے شاعری جس نے مجھے منزل دکھائی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاعر :جناب حیدر کرتپوری صاحب

کردار  سجا  رکھو  ذہنوں  کو  جگا  رکھو           آنکھوں  کو  کھلا  رکھو  اور ہوش بجا رکھو

کیا جانے وہ کب آئے دروازہ کھلا رکھو

شبیر کے  وارث کو  خالق کی صدا آئے             خضرا  کے  مجاہد  کو  پیغام  وغا  آئے

تلوار  کے  قبضہ  پر  ہاتھوں کو جما  رکھو

امید  پہ  انساں  کی ہے سارا جہاں قام           آئیں گے ضرور اک دن مہدی زماں قائم

پلکوں کی منڈیروں پر قندیلیں جلا رکھو

قائم  کے  گھرانے کی تم فوج ہو سرکاری           تلوار  پہ  سیقل  سے کرتے  رہو تیاری

تم  اپنی  نظر سوئے  میدان وغا  رکھو

اشکو ں  کو  بہایا  اور  سرکار نہیں آئے           دم  ہونٹوں  پہ  آیا اور  سرکار نہیں آئے

ان  اشکوں  کو تم اپنے محشر پہ اٹھا رکھو

ہے نام بھی نور  ان کا جلوہ بھی ہے نورانی          وہ  نور  کی  صورت  ہیں یا آیت قرآنی

اشک غم  سرور سے آنکھوں کو دھلا رکھو

مت کہنا کہ ہم نے بھی اک کعبہ بنایا ہے           آنکھوں  کے  پس  پردہ قائم کو بٹھایا ہے

ہے  بات چھپانے کی  تم اس کو چھپا رکھو

ہے  ان کے پھریرے پر  لکھا ہوا جا الحق           وہ  لشکر باطل کے کرڈالیں گے  سر کو شق

جو  د شمن  حیدر  ہے  تم اس کو سنا رکھو

کیا جانے وہ کب آئے دروازہ کھلا رکھو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 4 (نشريه بزم رأفت)، پيام رأفت نمبر 5 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن
[ چهارشنبه بیست و هفتم مهر 1390 ] [ 17:44 ] [ انجمن ] [ ]

ذبح عظیم سمینار کی مختصر رپورٹ

باسمہ تعالی

     (وفدیناہ بذبح عظیم)

امام راہ ہدی،  منجی دین خدا،  خامس آل عبا ،  زین الاوصیاء اور خاتم الانبیاء کے دل کے چین حضرت امام حسین علیہ الصلوة و السلام کے عشق الہی سے بھر پور بے مثال اور انمٹ نقوش کی نورانی شعاعوں سے اہل ایمان کے دلوں کو زیادہ سے زیادہ نورانیت بخشنے کے لیے ایک بین الاقوامی علمی ادبی عظیم الشان سمینار بعنوان (ذبح عظیم ) کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف موضوعات پر مقالہ نویسی کا ایک جامع مقابلہ ہوااور مختلف ممالک سے اہل قلم ، محققین ،  ادباء اور شعراء حضرات نے بھر پور تعاون اور شرکت فرمائی ۔

بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان) کو مذکورہ سمینار میںموصول ہونے والے مقالات حسب ذیل تھے

ردیف ۔ مقالہ                                                                       صاحب قلم                                زبان

١۔  آئینہ شعر و ادب ۔ عکس کربلا و حسین           جناب سید سجاد حسین اطہر کاظمی صاحب        اردو

٢۔  سورہ فجر اور کربلا                                  جناب محمد حسن مطہری لاشاری صاحب         اردو

٣۔  تاریخ مجالس امام حسین                               جناب سید حسن عسکری نقوی صاحب              اردو

٤۔  حسینی انقلاب کے آثار و نتائج                      جناب ارشاد حسین یزدانی صاحب                     اردو

٥۔  عزاداری                                                جناب محمد حسن مطہری لاشاری صاحب           اردو

٦۔  ارتقائے شاعری میں کربلا کا کردار             جناب سیدسیف رضا رضوی صاحب                  اردو

٧۔  کربلا اور ہماری ذمہ داریاں                        جناب سیدسبط محمد رضوی صاحب                  اردو

٨ ۔  حسین منی وانا من الحسین                         جناب تاج محمد خان اعظمی صاحب                  اردو

٩۔  کربلا اور ہماری ذمہ داری                       جناب ذیشان حیدر صادقی مبارکپوری صاحب         اردو

١٠۔  اقبال اور مناقب سرکار کربلا                  جناب سید معراج مہدی رضوی صاحب                 اردو

١١۔  ذبح عظیم                                          جناب محمد حسین بہشتی صاحب                         اردو

١٢۔  کربلا رمز بقائے دین خدا                      جناب سیدجادید رضا نقوی صاحب                         اردو

١٣۔  عزاداری کی اہمیت اور اس کے اثرات         جناب سید ظہور امام رضوی صاحب                 اردو

١٤۔  ذبح عظیم                                          جناب سیدمرتضی حسین نقوی صاحب                   اردو

١٥ ۔  کربلا اور اصلاح معاشرہ                     جناب سیداقبال حیدر رضوی صاحب                      اردو

١٦ ۔  حضرت امام حسین کی شخصیت اقبال کی نظر میں   جناب محمد حسین بہشتی صاحب              اردو

١٧ ۔  حسین منی وانا من الحسین                    جناب سیدرضا عباس عابدی صاحب                         اردو

١٨ ۔  عزاداری مراجع کی نظرمیں                  جناب سید محمد عمران مہدی نقوی صاحب             اردو

١٩ ۔  خطبات امام حسین                               جناب سید مصطفی موسوی صاحب                       اردو

٢٠  ۔  حسین منی وانا من الحسین                  جناب سیدمیثم عباس رضوی اعظمی صاحب              اردو

٢١ ۔  کربلا اور شوق شہادت                         جناب سیدغلام رضا رضوی بلرام پوری صاحب        اردو

٢٢ ۔  حسین سفینہ نجات سرچشمہ حیات            جناب سید محمد حسن رضوی صاحب                     اردو

٢٣۔  جوان کربلا دین خدا کی جوانی               جناب سید تحریر علی نقوی صاحب                        اردو

٢٤۔  کربلا اور شوق شہادت                                محترمہ زہرا صادقی                                       اردو

٢٥ ۔  خدائے سخن میر ببر علی انیس                   محترمہ فاطمہ زہرا زیدی                                 اردو

٢٦۔  کربلا اور ہماری ذمہ داریاں                        محترمہ عندلیب زہرا نقوی                                 اردو

٢٧۔  عاشورا کی انفرادیت                                 محترمہ فرحت بتول نقوی                                   اردو

٢٨۔  چہل حدیث کربلا                                      جناب آقائی مجتبی نقوی                                      فارسی

٢٩ ۔  زندہ نگہ داشتن عاشورا انتظار سازندہ         جناب آقائی عباس علی اخوان                                 فارسی

٣٠ ۔  بررسی نقش زنان در تداوم نہضت حسینی        جناب آقائی وحید حیدری                                  فارسی

٣١ ۔ نقش عدالت خواھی عاشورا و عاشورائیان در انسجام اسلامی   جناب آقائی سید سبط حیدر زیدی         فارسی

٣٢۔  فلسفہ ، علل و اھمیت قیام سید الشھدا و اثرات عزاداری    جناب آقائی سید فیروز رضا نقوی             فارسی

٣٣۔  آفتاب عطش                                        جناب آقائی موسی الرضا حیدری                                   فارسی

٣٤ ۔ تحلیل مفھومی عاشورا و انتظار در بستر تاریخ تفکر شیعی تا انقلاب  جناب آقائی موسی الرضا حیدری  فارسی

٣٥ ۔  لحظہ ھائی عاشورائی                                جناب آقائی علی حیدری  صاحب                           فارسی

 ٣٦  ۔  کربلا رمز بقاء دین خدا                           سرکار خانم صدیقہ ناصری                                  فارسی

٣٧  ۔  حسین منی وانا من الحسین                         سرکار خانم گل فاطمہ نقو ی                                فارسی

٣٨۔  اھمیت عزاداری و آثار آن                               سرکار خانم گل سکینہ نقوی                             فارسی

٣٩ ۔  عاشورا و مقتضیات عصر                             سرکار خانم معصومہ مصباح                          فارسی

٤٠۔  مسئولیت ھائی ما  در برابر کربلا                       سرکار خانم راضیہ فصیحی                         فارسی

اطلاعیہ

باسمہ تعالی

(عید غدیر خم میری امت کی بافضیلت ترین عیدہے )(پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

عرب کے تپتے ہوئے بیابان میں غدیر خم کے مقام پر شمس رسالت کے چمکتے ہوئے ہاتھوں پرقمر ولایت کی مقدس ضیا پاشیاں آج بھی لحظہ بہ لحظہ اہل ولا کے پاکیزہ دلوں کو گرما رہی ہیں،اسی تاریخ سازنقطہ عطف کے نجات بخش زاویوں اوردرس آموز دریچوں سے کسب فیض کرنے کی غرض سے ایک بین الاقوامی علمی ادبی عظیم الشان سمینار تنویر غدیر کا اہتمام کیا جارہاہے جس میں مندرجہ ذیل موضوعات پر مقالہ نویسی کا ایک جامع مقابلہ ترتیب دیا گیا ہے ۔اردو زبان  اہل قلم ، محققین، ادبا اور شعرا حضرات سیاستدعا ہے کہ اپنی قلمی کاوش سے مومنین کو بہرہ مند فرمائیں ۔

علمی موضوعات

١ ۔  غدیر کی اہمیت و عظمت   ٢ ۔  غدیر ، اکمال دین اور اتمام نعمت  ٣ ۔  خطبہ غدیر کی گہرائیاں                

٤۔  ولایت و امامت قرآن کریم کی نظر میں   ٥۔  ولایت و امامت اہل بیت علیہم السلام کی نظرمیں       

٦ ۔ ولایت و امامت صحابہ کی نظر میں  ٧۔ولایت و امامت اہل سنت کی نظر میں ٨۔اعلان ولایت بقا رسالت    ٩۔  عشیر سے غدیر تک   ١٠۔کربلا سے غدیر تک   ١١۔خطبہ غدیر اور خلافت بلافصل حضرت امیرعلیہ السلام  ١٢۔  فراموشی غدیر کی سازشیں اور نتائج    ١٣۔  کتاب مستطاب ''الغدیر'' پر ایک طائرنہ نگاہ 

١٤۔کتاب مستطاب '' عبقات الانوار '' کے حصہ حدیث غدیر کاایک طائرنہ جائزہ۔

ادبی موضوعات

١٥۔ شعرا ء غدیر کا تعارف   ١٦۔  غدیر شعرا ء عرب کے کلام میں  ١٧۔ غدیر شعراء  فارس کے کلام میں  ٨١۔ غدیر شعرا ء اردوکے کلام میں۔

٭  نظم غدیریہ  ٭   غدیر خم کے عنوان پر اپنا منظوم کلام  ٭

 

شرائط مقالہ : مقالہ نویسی کے عمومی شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہے مثلا: مقالہ علمی تحقیقی ہو اور منابع ذکرکیے جائیں،ٹائپ شدہ یا  خطی قابل خوانا ہو اور A4کے حد اقل 14 صفحات پر مشتمل ہو وغیرہ۔

مقالہ کے ارسال کی آخری تاریخ :١٠/ذی الحجہ ١٤٣١ھ

ممتاز مقالات پر نفیس انعامات سے نوازا جائے گا

کنوینر : سید فیروز رضا نقوی    Tell: o9155231456

نوٹ : کنوینر صاحب سے ملاقات نہ ہونے کی صورت میں مقالات حسب ذیل افراد کے سپرد کیے جاسکتے ہیں ۔  الفت حسین جویا   09359825902،   تحریر علی نقوی09365593284، 

حسن عسکری نقوی 09353658919،  سبط حیدر زیدی09359750753  سبط محمد رضوی  09354073347،   نیرعباس رضوی 09354073348   محمد حسین بہشتی 09151244322

Web: www.urdu.blogfa.com   Email:  alhaq110@yahoo.co.in

بزم رأفت 

)انجمن شعر و ادب اردو زبان)مشہد مقدس

رؤف مولا نے اپنے قدموں میں کیا سجائی ہے بزم رأفت 

دیا ہے شعر و ادب  کا خود  ذوق ، پھر بنائی ہے بزم رأفت

رؤف مولا کی بارگاہ میں ، یوں دل کو بھائی ہے بزم رأفت         

کہ باغ جنت کی سر زمیں پہ، سنور کے آئی ہے بزم رأفت         

جہاں خدا کے فرشتے آکر ، سلام کرتے ہیں رات اور دن

وہیں پہ عرض ادب کی خاطر ، ابھر کے آئی ہے بزم رأفت

عقیدتوں کے خراج دے کر ، یہ اپنے پہلے ہی مرحلے میں        

جناب  زہرا   کی بارگاہ  میں ، تو مسکرائی ہے بزم رأفت        

ستارے آپس میں کہہ رہے ہیں ، اے عرشیو فرش کو تو دیکھو          

زمین رأفت پہ رشک انجم ، وہ بن کے چھائی ہے بزم رأفت         

سماعتوں کا سکون بن کر، دلوں میں گھر کرلیے ہیں اس نے         

نگاہیں مبہوت  رہ گئی  ہیں  ،  جو جگمگائی  ہے بزم رأفت         

یہ تبصرے ہورہے ہیں حوزے میں تھی ضرورت نہایت اس کی         

فضائے راکد  کی قید و بند  سے  ،  بنی رہائی ہے بزم رأفت         

مبلغین کرام مذہب  ،  ادیب  ہونگے تو  لطف  ہوگا        

ہنر ادب کا سکھانے کو اب،عجب رسائی ہے بزم رأفت        

شکوفہ ہوںگے جو غنچہ سارے ، تو اک نیا ہی سماں بندھے گا          

جو خوشبو پھیلائے شش جہت وہ ، بہار لائی ہے بزم رأفت          

حسن عسکری ہوں کہ تحریر نقوی ، ہوں سبط رضوی کہ فیروز نقوی            

سبھی نے  گوندھا  خمیر اس کا  سبھی کو  بھائی  ہے بزم رأفت            

رضوی نیر  ہوں  یا  بہشتی ،  یا کہ  الفت حسین جویا            

انہی کی بھر پور کا وشوں نے ، عجب سجائی ہے بزم رأفت           

سجا ہے  سبط کے  سر پہ سہرا ، اس انجمن کی مدیریت کا             

اسی کی محنت کا یہ صلہ ہے ، کہ رنگ لائی ہے بزم رأفت             

٭٭٭٭٭٭

٭٭٭


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 4 (نشريه بزم رأفت)، پيام رأفت نمبر 5 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن
[ چهارشنبه بیست و هفتم مهر 1390 ] [ 17:42 ] [ انجمن ] [ ]

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زیر سر پرستی حضرت بقیة اللہ الاعظم صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف

مجلس ادارت

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا الفت حسین جویاصاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا تحریر علی نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا حسن عسکری نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط محمد رضوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا فیروز رضا نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا محمد حسین بہشتی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانانیر عباس رضوی صاحب

مدیر

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط حیدر زیدی صاحب

پیام رأفت

علمی ثقافتی ادبی مجلہ

بزم رأفت انجمن شعر و ادب اردو زبان مشہد مقدس کا عظیم شاہکار

دوسرا سال۔  تیسرا  شمارہ

از  جمادی الاول   تا  ذی الحجہ  ١٤٣٠ھ

 کمپوزنگ: حجة الاسلام و المسلمین جناب مولانا مرتضی حسین نقوی

ڈزائننگ: حجة الاسلام و المسلمین جناب شاہزادہ حسین حیدری زائر

Web: www.urdu.blogfa.com  E-mail : alhaq110@yahoo.co.in 

Tel : 0098-511-2563085 Mob: 09359750753

فہرست مطالب

اداریہ   (روز مادر)                                                            مدیر

نگاہ عصمت میں شعر ،شاعری اور شعراء کا مقام          جناب تحریر علی نقوی صاحب

آہ  مجاہد علی مطہری  و  محمد علی جوہر                         ادارہ

جشن  و  محافل :جشن میلاد کوثر، جشن مولود کعبہ، جشن عشق و وفا، جشن ظہور نور،  جشن سخا و کرم ، جشن رأفت.

اس شمارے میں  بزم رأفت کے ساتھ تعاون کرنے والے دانشمند و شعراء حضرات

جناب رضا سرسوی صاحب

جناب آغا سروش صاحب

جناب قیصر عقیل صاحب

جناب نصیر اعظمی صاحب

جناب نیر جلالپوری صاحب

جناب محسن نقوی صاحب

جناب ریحان بنارسی صاحب

جناب عابد بھوجانی صاحب

جناب ناطق علی پوری صاحب

جناب محمد معراج صاحب

جناب اطہر کاظمی صاحب

جناب فیاض رائبریلوی صاحب

 

 

باسم رب الارباب

اداریہ

روز مادر

تقریبا ایک صدی پہلے امریکی صدر  وڈرو ولسن نے اعلان کیا کہ ہرسال مئی کا دوسرا  اتوار یومِ مادر کے طور پر منایا جائیگا۔ تب سے یہ دن رفتہ رفتہ کئی اقوام اور ممالک نے اپنا لیا۔

تاریخی اعتبار سے اس دن کا آغاز  ١٨٧٠ء  میں ہوا جب جولیا وارڈ نامی عورت نے اپنی ماں کی یاد میں اس دن کو شروع کیا جولیا وارڈ اپنے عہد کی ایک ممتاز مصلح، شاعرہ، انسانی حقوق کی کارکن اور سوشل ورکر تھیں۔ بعد ازاں ١٨٧٧ء کو امریکہ میں پہلا مدر ڈے منایا گیا  ١٩٠٧ ء میں امریکی ریاست فلاڈیفیا میں اینا ایم جاروس نامی سکول ٹیچر نے باقاعدہ طور پر اس دن کو منانے کی رسم کا آغاز کیا۔ اس نے اپنی ماں این ماریا ریویس کی یاد میں یہ دن منانے کی تحریک کو قومی سطح پر اجاگر کیا یوں ان کی ماں کی یاد میں باقاعدہ طور پر امریکہ میں اس دن کا آغاز ہوا۔ یہ تقریب امریکہ کے ایک چرچ میں ہوئی۔ اس موقع پر اس نے اپنی ماں کے پسندیدہ پھول تقریب میں پیش کیے۔ اس تحریک پر اس وقت کے امریکی صدر وڈ رولسن نے ماں کے احترام میں مئی کے دوسرے اتوار کو قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد یہ دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے برطانیہ میں اس دن کو Mothering Sunday بھی کہا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگ اپنی ماں کو تحائف پیش کرتے اور ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ یوں سال بھر بوڑھے والدین میں سے ماں کو اس دن کا انتظار رہتا ہے۔

امریکہ سمیت یورپ بھر میں بوڑھے والدین کو گھروں کی بجائے اولڈ ہومز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس دن اولڈ ہومز میں اپنی ماں سے ملاقات کرتے اور ان کو سرخ پھولوں کے تحائف پیش کرتے ہیں۔ جن لوگوں کی مائیں اس دنیا میں نہیں ہیں وہ سفید پھولوں کے ساتھ اپنی ماں کی قبروں پر جاتے اور وہاں یہ گلدستے سجاتے ہیں۔ ہر ملک میں مدر ڈے کو منانے کے لیے مختلف دن مختص ہیں تاہم یورپ ، امریکہ، ڈنمارک، فن لینڈ، ترکی، آسٹریلیا اور بیلجیم میں یہ دن مئی کے دوسرے اتوار کو ہی منایا جاتا ہے۔

جب کہ اس سے بھی پہلے قدیم یونان میں کئی دیوتاؤں کو جنم دینے والی سائی بیلے کا یادگاری دن بچوں کی جانب سے ماں کو تحائف دینے کا دن تھا۔ رومن لوگ جونو دیوی کی یاد میں ایک دن مختص کرکے اپنی ماں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اور ارضِ ہند میں ماتا تیرتھا کا دن ماں کو پوجنے کا دن قرار پایا اور آج تک ہے۔ گویا مشرق و مغرب کی ہر تہذیب نے ہر دور میں کسی نہ کسی بہانے ماں کے احسانات کا اعتراف کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔

مگر اس دنیا میں اگر سخت جان کرداروں کی فہرست بنائی جائے تو سرِ فہرست شاید ماں ہی ہوگی۔ جس نے ہم سب کو ہر سمت سے گھیر رکھا ہے۔ باپ کی منکوحہ ہے تو آپ کی ماں ہے۔ بیوی ہے تو آپ کے بچوں کی ماں ہے اور بیٹی ہے تو مستقبل کی ماں ہے۔ تو پھر اس سارے جھرمٹ میں سوائے اپنی ماں کے ہمیں دوسروں کی مائیں کیوں نظر نہیں آتیں۔

ہم یہ نکتہ کیوں یاد نہیں رکھتے کہ جس طرح ہر بیج میں ایک درخت چھپا ہوتا ہے اسی طرح ماں دراصل ہر بچی کے ساتھ ہی جنم لے لیتی ہے۔ لہذا منطق کا تقاضا تو یہی ہے کہ جس درخت کی تعظیم کی جائے اس کے بیج کو بھی اتنی ہی عزت دی جائے۔ لیکن منطق کی یہاں سنتا کون ہے؟

اسی مادر پرست دنیا میں دوسرے کی ماں کا ریپ ہمیشہ سے انفرادی و اجتماعی انتقام کے سرِ فہرست ہتھیاروں میں بھی شامل ہے

کہنے کو ہم سب کو اپنی ماں بہت ہی پیاری ہے۔ اتنی پیاری کہ ہم اپنے وطن کی سر زمین کو مادرِ وطن کہتے ہیں اور اس کی خاطر مرمٹنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔

اپنی زبان کو مادری زبان کہتے ہیں اور کوئی اس کا مذاق اڑائے تو منہ سے ماں کی گالی تک نکل جاتی ہے۔ ماں کے دودھ کی قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں اور اس پر قائم رہنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن۔۔۔ ماں کے سامنے اسی کے بچوں کو نیزے پر اچھال دینا، سر کاٹ لینا بھی اسی مادر پرست دنیا میں ہی ہوتا ہے۔ کوئی ماں کی عظمت کی مالا جپتے جپتے اسے کمبھ کے میلے میں لاوارث چھوڑ جاتا ہے۔ کوئی بیوگی کی سزا کے طور پر سفید ساڑھی پہنا، سرمنڈوا آشرم کے سپرد کرجاتا ہے۔ کوئی سب کچھ ہتھیانے کے لیے ماں کو پاگل خانے کے دروازے تک ہاتھ پکڑ کر لے جاتا ہے۔ تو کوئی اسے گھر میں رکھتا بھی ہے تو ایک کمرے تک محدود کردیتا ہے یا ایسانہیں بھی کرتا تو ماں کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر چند روپے رکھ کر اپنے فرضِ مادری سے سبکدوش ہوجاتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر شخص تو ایسا نہیں ہوتا۔ پانچوں انگلیاں برابر تو نہیں ہوتیں۔ہر بھیڑ کالی تو نہیں ہوتی۔لیکن اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر سوچیے گا کہ ہم میں سے کتنے لوگ ماں کو اس طرح سمجھتے ہیں جس طرح ماں ہمیں سمجھتی تھی، سمجھتی ہے اور سمجھتی رہے گی۔۔۔

ماں کون ہے ؟ ایک عورت ہی تو ہے نا ! اس کی پوجا کا کیا مطلب؟ اسے پوجا نہیں دائمی عزت و احترام چاہیے۔یومِ مادر پر زیادہ خوش دلی کا مظاہرہ، تحائف دینا، ماں کے گلے میں باہیں ڈال دینا یا گود میں سر رکھ دینا بالکل درست۔لیکن پھر؟؟؟

  اتنا  ہلکا  سا  تبسم  تو  نہ  ہو گا  کافی

آپ نے دیکھا نہیں، زخم بہت گہرا ہے

اور دوسری طرف اس مدر ڈے سے مغرب خود کو ترقی یافتہ معاشرہ خیال کرتا ہے!!! کیا مغربی دنیا سال میں ایک دن ماں اور ایک دن باپ کے لیے مختص کر کے خود کو عالمی انسانی حقوق کا خود ساختہ چئمپین تصور کرسکتا ہے؟ کیا ماں باپ کا حق صرف ایک دن کا پیار سرخ پھول اور کچھ شفقت بھرے لمحے ہی ہیں؟

یقینا یہ وہ سوال ہیں کہ جو آج بھی جواب کے متلاشی ہیں۔ تصویر کے دوسرے رخ کے طور پر اب ہمارے معاشرے میں بھی فادرز ڈے اور مدرز ڈے منائے جا رہے اور ہمارے معاشرے میں بھی اولڈ ہومز بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

 وہ معاشرہ جہاں ماں کے قدموں تلے جنت اور جہاں باپ کی رضا میں رب کی رضا ہوا کرتی تھی آج وہی معاشرہ اس جنت اور اس رضائے ربانی سے دامن بچا تا نظر آتا ہے۔ تقلید بری بات نہیں مگر اندھی تقلید دین میں ہو یا دنیا میں مہلک ہوا کرتی ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید ہمیں بھی مہلک مقام تک لے آئی ہے جس سے ہماری عائلی قدریں پامال اور معاشر ے کی بنیاد ی اکائی یعنی خاندان کی چولیں ڈھیلی ہو رہی ہیں۔ اس اکائی کی بنیاد اور جڑ یعنی والدین کو گھروں سے اکھاڑ کر اولڈ ہومز میں پھینکا جارہا ہے پھر سال کے بعد ان کا ایک دن منا کر حق ادا کر دیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک مدر ڈے کا تصور کیا ہے؟ اس کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ اسلام میں تو ہر لمحہ اور ہر دن مدر ڈے اور فادر ڈے ہے۔ اس تصور کو مزید سمجھنے کے لیے والدین کی عزت، تکریم اور خدمت کے پس منظر میں قرآن پاک کی چندآیات کریمہ اور چند احادیث شریفہ پیش خدمت ہیں۔ خداوندعالم نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اپنی اطاعت وعبادت یا عدم شرک کے بعد فوراً والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے کہ جو اس فعل کے افضل اور عظیم ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔ لہذا ارشاد ہے

لا تعبدون اِلا اللہ وبِالوالِدین احسانا (بقرہ ۔٨٣)

سوائے خدا وند کے کسی اور کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو

واعبدوااللہ ولا تشرک بہ شیٔا وبِالوالِدین احسانا(نساء ـ ٣٦)

 خدا وند عالم کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک قرار نہ دو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو

الا تشرکوا بہ شیٔا  وبِالوالِدین احسانا(انعامـ ١٥١)

 اس کا کسی کو شریک قرار نہ دو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو

وقضی ربک الا تعبدوااِلا اِیاہ وبِالوالِدین احسانا(اسراء ـ ٢٣)

اور آپ کے پروردگار نے قطعی حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو۔

اور کہیں پر والدین کی ساتھ نیکی کرنے کی وصیت فرمائی ہے جب کہ کلمہ وصیت عمدتا وہاں استعمال ہوتا ہے کہ جہاں وہ فعل واحب کرنا منظور ہو لہذا والدین کے ساتھ نیکی کرنا بھی واجب ہے ۔

و وصینا الانسان بِوالِدیہ احسانا(احقافـ ١٥)

اور ہم نے انسان کو وصیت کردی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے۔

اسلام  معاشرے کے عمر رسیدہ افراد کو کس قدر اہمیت دیتا ہے، اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرمی برتنے کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے۔ خصوصا ًبوڑھے والدین کے ساتھ نہایت شفقت کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن حکیم فرماتا ہے :

وقضی ربک الا تعبدوااِلا اِیاہ وبِالوالِدین احسانا ِاما یبلغن عِندک الِکبر احدہما اوکِلاہما فلا تقل لہمآا ف ولا تنہرہما وقل لہما قولا کرِیماO واخفِض لہما جناح الذلِ مِن الرحمِة وقل ربِ ارحمہما کما ربیانِی صغِیراO (بنی اسرائیلـ ٢٣ـ٢٤)

اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo اور ان دونوں کے لیے نرم دلی سے عجز و اِنکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو : اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھاo

قرآن پاک کی آیات کریمہ کے بعد متعدد احادیث شریفہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بزرگوں کی عزت و تکریم کی تلقین فرمائی اور بزرگوں کا یہ حق قرار دیا کہ کم عمر اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کا احترام کریں اور ان کے مرتبے کا خیال رکھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یقر کبیرنا.

وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔

ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ! لوگوں میں حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی: پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی : پھر کون ہے؟ فرمایا : پھر تمہارا والد ہے۔

اسلام میں والدین کے حقوق کا تصور بڑا واضح ہے۔ جب کہ مغرب کے طور طریقہ پر اسلام کو ڈھالنا یہ خود ساختہ اسلام تو ہو سکتاہے اسلام ناب محمدی نہیں ہوسکتا !

ہاںاگر والدین کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی انجام دے کر ان کی اطاعت و فرمانبراداری کے فرائض انجام دے کر پھر کسی خاص دن میں ان کی اور بھی زیادہ خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کوئی خاص پروگرام انجام دیا جائے ان کو ہدیوں اورتحفوں سے نوازا جائے یا اگر دنیا سے رخصت ہوگئے ہوں تو ان کے لیے فاتحہ و ایصال ثواب کا کام کیا جائے تو کیا ہی خوب ہے لیکن دن بھی اگرمعین ہوتونہ وہ  میری اور نہ آپ کی ماں کی مناسبت پر بلکہ اس ذات مقدس کے روز ولادت کو یوم مادر قرار دیا جائے کہ جس کو اشرف کائنات ،افضل موجودات نے بھی اپنی ماں کہکر یاد کیا ہو (فاطمة ام ابیھا)  اور حدیث قدسی( لولاک لما خلقت الافلاک و لولا علی لما خلقتک ولولا فاطمة لماخلقتکما) کے اعتبار سے بھی کہ حضرت فاطمہ زہرا  ام یعنی مرکز و محور کائنات ہیں جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق  کا ارشاد گرامی ہے( ھی نقطة دائرة الوجود)۔

بزم رأفت کا یہ شمارہ چونکہ ماہ جمادی الثانی سے ذی الحجہ تک کی مناسبتیں اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے کہ جن میں سب سے پہلے آپ  ہی کی شہادت اور ولادت باسعادت واقع ہیں لہذا اس شمارے کے اداریہ کو یوم مادر سے منسوب کرنا زیادہ مناسب نظرآیا اگر چہ اسی مناسبت پر بزم رأفت کی جانب سے ایک عظیم الشأن محفل کا انعقاد ہوا کہ جس میں طرحی مصرعہ پر شعراء حضرات نے طبع آزمائی فرمائی ۔ مصرعہ یہ تھا  

    مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا نے پائی ہے

اس کے بعد گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے اکثر ممبران بزم اپنے اپنے وطن اور تبلیغی دورے پر روانہ ہوگئے لہذا ماہ مبارک رجب و شعبان المعظم اور رمضان المبارک میں کوئی طرحی محفل منعقد نہ ہوسکی لیکن ماہ مبارک رمضان کی تبلیغ سے واپسی کے بعدذی قعدة الحرام میں ولی نعمت امام رؤف ثامن الحجج حضرت علی بن موسی الرضا علیہ آلاف التحیة و الثناء کی ولادت باسعادت کے پرمسرت موقع پر پھر ایک عظیم طرحی محفل کا انعقاد ہو ا کہ جس میں مقامی شعراء کے علاوہ مہمان شعراء کرام نے بھی شرکت فرمائی جس میں ہندوستان سے محترم جناب آغا سروش حیدرآبادی ، جناب رضا سرسوی ،  جناب قیصر عقیل نوگانوی ،  جناب ریحان بنارسی ،  جناب ناطق علی پوری ،  جناب فیاض رائبریلوی،  جناب نصیر اعظمی اور پاکستان سے جناب محسن نقوی ، جناب رضا علی کاظمی وغیرہ قابل ذکر ہیں یہاں پر ہم ان سبھی حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔    عملھم مقبول و سعیھم مشکور۔

اس عظیم محفل میں یہ دو مصرعے طبع آزمائی کے لیے پیش کیے گئے تھے  ۔

    کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

    خدایا سرپر رہے ہمیشہ رؤف  کی ہر عطا کا سایہ

اور اب عید سعید غدیر کی آمد آمد ہے  اور اس عظیم ترین عید پر بزم رأفت کی جانب سے ہونے والی محفل مقاصدہ کے مصرعے حسب ذیل ہیں: 

    آگئی بلغ کی آیت لے کے اعلان غدیر

    تازہ ہے آج تک وہی منظر غدیر کا

اور اس کے بعد پھر سال آئندہ بھی گذشہ سال کی طرح ایک عظیم سیمناربعنوان ذبح عظیم کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں تمام ہی موالیان حضرات سے پرخلوص شرکت کی استدعا ہے اس امید کے ساتھ کہ انشاء اللہ خداوندعالم ہماری اس سعی ناچیز کو شرف قبولیت عطا فرمائے ۔

والسلام                 

مدیر بزم رأفت             

سید سبط حیدر زیدی           


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 3 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن، اخبار ادبی
[ شنبه بیست و سوم مرداد 1389 ] [ 11:34 ] [ انجمن ] [ ]

نگاہ عصمت میں شعر ، شاعری اور شعراء کا مقام

  اثر تحقیق:سید تحریر علی نقوی                      

تعارفی گفتار :

خدا وند منان کے پیغمبر ذیشان ۖ کے بے مثال اعجاز قرآن نے

عَلَّمَہُ الْبَیَانکے نورانی فرمان سے اظہار حقائق کے نہان دریچے عیان کر دئیے .

 شعر و شاعری کسی بھی زبان کا جزء لا ینفک ہے اور اس کا وجود شاعر کے وجود سے ہے.

شعر و شاعری اردو ادب کی زینت ہے بالکل اسی طرح جس طرح کسی بھی زبان میںشعر و شاعری کی منزلت ومرتبت ہوتی ہے . اہل نظر تو کیامعاشر ے کے عام افراد بھی شعر کی اھمیت و تاثیر کے قائل اور معترف ہیں. الفاظ و معانی سے سروکا ر رکھنے والا کوئی شخص اس امر کا منکر نہیںاور ہو بھی نہیںسکتا کیونکہ یہ ایک واضح حقیقت اور عالمگیر صداقت ہے ، دوسرے لفظوںمیں ذوق اور سلامت رکھنے والے مزاج کا حامل ہر فرداس ناقابل انکار حقیقت کو قبول کرتا ہے۔

 حتی اس باب میں انتہائی جالب نکتہ یہ کہ روئے زمین پر نصب ہونے والی انسانی آبادی کے پہلے خیمے کے پہلے فرد حضرت آدم ابو البشر علی نبینا و آلہ و علیہ السلام نے انسانی معاشرے میںپہلے پہل شعر کہا ، ملاحظہ فرمائیں.

عیون الاخبار باب ' ما جاء عن الرضا علیہ السلام ۔' میںایک شامی شخص جب حضرت امام رضا علیہ السلام سے سوال کرتا ہے کہ سب سے پہلے کس نے شعر کہا تو امام علیہ السلام نے جواب میںارشاد فرماتے ہیں:

آدم . پھر وہ شخص سوال کرتا ہے ؛ ان کا شعر کیا تھا ؟

فرمایا : لما انزل الی الارض من السماء فرئای تربتھا وسعتھا وھواھا و قتل قابیل ھابیل فقال آدم 

         تغیرت البلاد ومن علیھا         فوجہ الارض  مغبر  قبیح

          تغیر کل ذی لون ٍ و طعم ٍ      و قل بشاشة الوجہ الملیح

(کشکول احمد قاضی زاھدی ٢٣٧، ٢٣٨  بنقل از تفسیر نور الثقلین ج١ ص ٦١٠ ، ح ١٢٦)

مقدمہ                                               

شعر کا قوام شاعر سے ہے اور اس باب میںشاعر کی سعی و کاوش شاعری کہلاتی ہے زبان کے ذریعے انسانی بیان نثر کی صورت میںہوتا ہے اور یا نظم و شعر کی شکل میں، منظوم قول کو شعر کہتے ہیں . شعر کی لفظی و اصطلا حی متعدد تعریفیںکی گئیں. لغت میںشعر شعور سے ہے یعنی کسی چیز کے بارے میںوقت کے ساتھ شناخت شاعر کو اس کی فطانت اور اس کی دقیق معرفت کی بدولت شاعر کہا جاتا ہے

 اور عُرف اصطلاح میںموزون و مقفّی کلام شعراور اس صنعت کا تخصص رکھنے والا شاعر کہلاتا ہے .

(المفردات فی غریب القرآن ما دہ شعر ص ٢٦٢)             

اس مختصر تحقیقی کا وش میںہم شعر کی ماہیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حیثیت پر سیر حاصل بحث کرنا چاہتے ہیں. یہ فیصلہ باذوق اور باشعور قارئین کے حوالے کئے دیتے ہیں کہ قلت فرص کے پیش نظر کس قدر توفیق رفیق رہی اور کس قدر متعلقہ مہم مطالب کی جانچ پڑتال کر سکے . کوشش کی گئی ہے کہ عقل اور نقل کی رو سے اس عنوان کی جزئیات کا جائزہ لیا جائے اور کسی پیش داوری کی بجائے مستحکم و محکم ادلہ و براہین کی روشنی میںپختہ قضاوت کی جائے کہ ؛

                       نحن ابناء الدلیل           نمیل حیث الجمیل

ہر امر جمیل ہمیشہ دلیل کے ہمراہ ہوا کرتاہے بہ اصطلاح قیاساتہ معہ اور کوئی بھی عقل سلیم قاطع دلیل او رمحکم برہان کے سامنے سر تسلیم خم کیے دینے کے علاوہ کوئی چارہ کا ر تجویز نہیںکیا کرتی کیونکہ عقل سلیم اسی حقیقت اور حقانیت کی قبولیت پر مفطور ہے .

اس باب کی عام طرز بحث کے بالمقابل ہمارے زاویہ نظر میں یہ تفاوت ضرور موجود ہے کہ عوام کی عام بحث میںفقط شعر و شاعری کی مطلق تأثیر کو بڑھاچڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ ہم نے خاصان خداوند کریم حضرات معصومین سلام اللہ علیھم اجمعین کی نگاہ مبارک و صائب میںاس مقولے کے خدوخال کو واضح کرنا ہے

بزم رافت میںوادی رافت کے شھنشا ہ حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ آلاف التحیة والثناء سے استمداد کرتے ہوئے خوشنودی خداوند منان کی خاطر اس جالب ، جاذب شیرین اور مفید ترین تحقیقی بحث کے مراحل طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں.ومن اللہ التوفیق و علیہ التکلان .

شعر ، شاعری اور شاعر کے اہدا ف و آثار

یہ بات معقول نہیں ہے کہ کسی فاعل کا کوئی فعل کسی ہدف اور غرض و غایت کے بغیر ہو . سرشت خلق و خلقت عبث اوربیہودہ کا ری کے ساتھ منافات رکھتی ہے ، یہ اور بات کہ وہ ہدف اعلی ہو یا ادنی ، مثبت ہو یا منفی ، عاقلانہ ہو یا جاہلانہ . ہدف کی ماہیت تو اس فاعل کی ذہنیت کیساتھ وابستہ ہے جس سے اسکی نیت تشکیل پاتی ہے اور پھر اس فعل کے نتیجے میں مثاب یا معاقب قرار پاتا ہے ۔

 اسی مقدمے کے مطابق شعر ، شاعری اور شاعر بھی قطعا ً ہدفمند ہیںجس کاتعین شاعر کے قصد اور ارادے کے ساتھ ہے ۔

 ا س میں شک نہیںکہ شاعری کاذوق اوریہ لطیف قریحہ اصل میں خدادادی امر ہے مشق کلام اور ماہر شاعر کی رہنمائی اس خدا داد استمداد کی فعالیت کو جلا بخشتی ہے لیکن یہی ذوق کہ جس کی اصل خدادادی امر ہے لھذا اس کا استعمال بھی راہ خدا میںہونا چاہیے تھا ؟

بعض افراد اس سے حسن استفادہ کرتے ہیںتو اکثر سوء استفادہ کرتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ اکثر شاعری اور اشعار عشق مجازی کی تبلیغ کرتے ہوئے نظر آتے ہیںاور اس طرح مع الاسف وافر استعداد منفی سمت و سو میںصرف ہو رہی ہے جبکہ نہایت قلیل تعداد میںشعراء ہیںجو حق پرست اور حق گو ہیںاور خوشابحال ہیںوہ شعرا جو توحید و ولایت کے معارف کا پر چار کرتے ہیں.

شعراء ، اشعار اور شاعری ' کو مناجات و دعا ، ثناء و رثاء آئمہ معصومین علیہم السلام ، تبلیغ معارف ، موعظہ و نصیحت ، دفاعی و جنگی جذبات ابھارنے ، نابودی دشمن ، گانے ، غزلیات ، ترانے ، ہجو ، شہرت حکام کی بجا و بیجا تعریف، تملق و چاپلوسی و غیرہ کے راستے میںبروئے کار لاتے ہیں.

پائیدار اور ماند گار شاعری وہی ہے جو اعلی اھداف کے راستے میںہو اور حقیقت یہ کہ دیگر باقیات صالحات کی طرح اچھی شاعری بھی باقیات صالحات میںسے ایک ہے . جن شعراء نے آئمہ معصومین علیہم السلام کے بارے میںاچھی شاعری کی  اور اس فن کے ذریعے اس عظیم خدمت کی سعادت پاسکے ان کے نام تاقیام قیامت زندہ و تابندہ ہیں ، حسان ، کمیت ، عبدی ، دعبل ، فرزدق ، حسان عجم خاقانی شروانی ،امامی ھروی ، شھریار ، میر انیس ، میر مؤنس ،میر نفیس ،میر زا دبیر ، اقبال ، جوش  و۔۔۔۔۔۔۔سب زندہ ہیںاس لیے کہ بحر حیات کے ساتھ متصل ہو گئے ہیں.

                                 تشویق و ترغیب

قول ، کلام ،گفتگو ، بات چیت ایک طرف اپنے ما فی الضمیر کو دوسروںتک پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے تو دوسری جانب صاحب گفتار کی شناخت کا ایک وسیلہ بھی شمار ہوتا ہے اسی مناسبت سے حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایاہے:'' المرء مخبوئٔ تحت لسانہ''  یعنی انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا  ہوا ہے  ۔  ( نھج البلاغہ کلمات قصار )       

پس انسان جب زبان کھولتاہے تو پہچانا جاتا ہے . یہ فرمان ذیشان بھی دیگر فرامین کی طرح بہت گہرے معانی و مطالب اپنے اندر لیے ہوئے ہے . جو ھر بحث یا دوسری تعبیر میںجان کلام یہ ہے کہ جب انسان گفتگو کرتاہے تو مخاطب اس متکلم کی کلام سے اس کی ذھنی سطح کا اندازہ کر سکتا ہے . گفتار متکلم کے معیار فکر کی آئینہ دار ہوتی ہے .

( وہ لطیف بحث اپنے مقام پر کہ فرمایا  کلّمو ا الناس علی قدر عقولھم یعنی لوگوں  سے ان کی سوجھ بوجھ اور توان درک کے مطابق کلام کرو .اولاً یہ فرمان خصوصاً خاص افراد '' مبلغین دین خداوندی'' سے مربوط و متعلق ہے .

 ثانیاً اسی فرمان ذیشان سے بھی متکلم کے اس فراگیر اور اعلی رتبے تک پہنچا جاسکتا ہے کہ وہ مختلف مخاطبین کے درمیان ان کی سطح فہم کی تشخیص دینے او رہر ایک کی سطح کے مطابق اسی سے کلام کرنے کی توانائی رکھتاہے )

بہر حال گفتار متکلم کے معیارفکر کی آئینہ دار ہوتی ہے اب گفتار سے جہاںایک یہ فائدہ ظاہر ہوتاہے کہ کلام کرنے والا کچھ پہچانا جاتا ہے وہاںدوسرا ثمرہ یہ واضح ہوتا ہے کہ متکلم کا ما فی الضمیر مخاطب کے ذھن میںمنتقل ہوتا ہے . اس مرحلے پر ہم پھر اس ذریعۂ انتقال کو دو قسموںمیںتقسیم کرتے ہیں. ایک نثر اور دوسرا نظم و شعر . نثر چاہے سادہ وعام ہو ، چاہے مسجع ، بہر حال نظم و شعر کا مرتبہ اس سے غالبا ً بالاتر ہے لھذا اگر ایک ہی مطلب کونثر کی صورت اور شعر کی شکل میںپیش کیا جائے تو لوگوںپر شعر کے اسلوب میںبیان کیے گیے مطلب کی تأثیر بہت زیادہ ہے .

ہماری اس بحث کے ماحصل کو اس امر سے بھی تقویت و تائید حاصل ہوتی ہے کہ آئمہ معصومین علیہم السلام کے نثری کلام میںعامة الناس کی گفتار کی نسبت بہت زیادہ کشش ، جذابیت اور رسائی ہونے کے باوجود متعددمقامات پر ان حضرات علیھم السلام کی طرف سے منظوم اور شعری کلام کاسامنے آنا ، فن شعر کے ذریعے مطالب کی بہتر رسائی اور بیشتر تاثیر پر دلالت کرتا ہے حالانکہ نھج الفصاحہ ، نھج البلاغہ ، خطبات فاطمیہ و زینبیہ   اور اسی طرح تمام آئمہ معصومین علیھم السلام کے نثری ارشادات میںجو حسن ، کشش ، گہرائی اور رسائی پائی جاتی ہے ' اہل فن اس کی بے ساختہ داد دیتے ہیںلیکن اسکے باوجود شعر کو بھی خاص اہمیت دی گئی . اشعار معصومین علیھم السلام مختلف کتب میںموجود ہیںاس مناسبت سے نمونہ پیش کرنے کے لیے ایک بہترین کتاب مستطاب کا تذکرہ کیے دیتے ہیںکہ علامہ بزرگوار مجلسی کی پر برکت زندگی کے عظیم شاہکار '' ایک سو دس جلدوںپر مشتمل بحار الانوار '' کے اندر مختلف مناسبات سے حضرات معصومین علیھم السلام کے نورانیت بخش بیانات میںآنے والے اشعار کو ایک بہترین کتاب '' معجم اشعار المعصومین علیھم السلام الواردة فی بحار الانوار مانظموہ وماانشدوہ'' میںمنظم طور پر اکٹھا کردیا گیا ہے جو اپنی نوعیت میںمنفردکا م ہے . جیساکہ اس کتاب کے نام و عنوان سے واضح ہورہا ہے کہ ان اشعار میںخود ان حضرات علیھم السلام کے اشعار بھی موجود ہیںاور دیگر شعرا کے قابل استناد اشعار بھی مذکور ہیں۔

جو مختلف مواقع کی مناسبات سے ذکر فرمائے گئے ہیں. کتاب میںموجود اشعار کے بارے میںیہ نکتہ توضیحی بھی شایان ذکر ہے کہ بعض ابیات متعدد مجلدات میںمکرر آنے کی وفہ سے یہاںبھی مکرر ذکر ہوئے ہیںلہذا جو تعداد موجود ہے وہ حذف مکررات کے بغیر ہے اور حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہونے والے تمام اشعار ضروری نہیںکہ خودحضرت رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اشعار ہوںلیکن اگر بعض ایسے بھی ہوںتو چونکہ وہ غیر قرآن مجید ہیںلہذا کوئی حرج بھی نہیںہے چونکہ کفار قرآن مجید کو آنحضرت ص ) کے اشعار ہونے کی تہمت لگاتے تھے جس کی خود قرآن نے نفی کی ہے ، بہر حال ایسے اشعار کی سند وصحت تحقیق طلب امر ہے جو مزید فرصت طلب کرتاہے .

اہل ذوق حضرات کی تشویق و ترغیب کیلیے اس ایک کتاب میںموجود ہر معصوم علیہ السلام سے بحار الانوار میںنقل ہونے والے اشعار کی ایک فہرست دے رہے ہیں.

ردیف     نام نامی معصوم علیہ السلام           اشعار کی تقریبی تعداد     صفحہ کتاب

١۔         حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ٢٠                   ٤٣، ٤٤

٢۔        حضرت علی  علیہ السلام               ١٥٤٩                ٤٥تا ١٣٧

٣۔       حضرت فاطمہ زھرا علیہاالسلام          ٨٤               ١٣٨ تا    ١٤٣

٤۔       حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام         ٤٥               ١٤٤  تا    ١٤٧

٥۔       حضرت امام حسین علیہ السلام            ٢٢١               ١٤٨   تا     ١٦١

٦۔      حضرت امام سجاد علیہ السلام               ١٩٧               ١٦٢  تا   ١٧٣

٧۔      حضرت امام محمد باقر علیہ السلام            ٩٢                ١٧٤  تا    ١٧٩

٨۔     حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام         ٢٦٦              ١٨٠    تا   ١٩٦

٩۔     حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام            ٣٦              ١٩٧   تا    ١٩٩

١٠۔    حضرت امام علی رضا  علیہ السلام             ١٨١              ٢٠٠    تا    ٢١١

١١۔     حضرت امام محمد تقی الجوادعلیہ السلام            ١١               ٢١٢   تا    ٢١٣

١٢۔    حضرت امام علی نقی الھادی علیہ السلام        ٢١              ٢١٤   تا    ٢١٥

١٣۔   حضرت امام حسن عسکری  علیہ السلام          ٩                  ٢١٦

١٤۔     حضرت امام زمان علیہ السلام             ٣                  ٢١٧.

گذشتہ توضیحات کو سامنے رکھتے ہوئے چہاردہ معصومین علیہم صلوات رب العالمین سے تقریباًْ٢٧٣٥منقول اشعار اس معجم بحار میںموجود ہیں.

یہ اجمالی فہرست بنا کر دکھانے سے غرض یہ ہی ہے کہ گفتار کے اس جالب ، جاذب اور مؤثر پہلو کو ان معصوم ھستیوںنے بھی تشنہ نہیںرکھا . حتی کہ بعض معصومین جیسے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ، حضرت امام حسین علیہ السلام ....کے اشعار کے دیوان بھی موجود ہیں . پس شعر جہاںنثر سے بڑھ کر افکار متکلم کا آئینہ دار اور زیب و زینت گفتار ہے . وہاں سامعین ، مخا طبین اور قارئین کے اذھان پر انتہائی مؤثر نقش و نگار بھی ہے۔

خود حضرات معصومین علیہم السلام کا اپنے نورانیت بخش بیانات میںاس صنف کو اہمیت دینا اورشعری صورت میںاپنی ثنا ء ورثاء بیان کرنے کے خداوند متعال کی جانب سے عظیم فضائل بیان فرمانا ، شعراء اھلبیت  کو مدعو کر کے مجالس عزا کا انعقاد اورشعراء کو عظیم انعامات سے نوازنا اس امر کا باعث بنا کہ ان مقدس ہستیوںکی بارگاہ میںنثر کے ساتھ خصوصی اہتمام کے ہمراہ شعر اظہار ارادت کا ذریعہ قرار پایا اور اب دنیا بھر میںعزاداریاں، نوحہ خوانیاں، مرثیہ خوانیاں، قصیدہ خوانیاں، محافل جشن ،......ان گنت بر پا ہو رہی ہیں اور سب کے اندر اشعار کا کردار ہی نمایا ںہے . آئمہ معصومین صلوات اللہ علیھم اجمعین کے نزدیک ان کے فضائل و مصائب اشعار میںبیان کرنا اس قدر مطلوبیت و محبوبیت رکھتا ہے کہ ایک ایک شعر کہنے کی بہت پاداش ذکر فرماتے ہیں . یہ مطالب ایک مستقل عنوان کے تحت ذکر کریںگے .

حضرت اما م صادق علیہ السلام فرماتے ہیں؛ اے شیعو! عبدی ( ایک مخلص شاعر اھلبیت  ) کے اشعار اپنے بچوں کو یا د کروائو کہ وہ دین خدا پر ہے ، صادق القول ہے اور اس کے شعر اچھی روش پر ہیں ...

                  ( رجال کشی ص  ٢٥٤)     

معصوم ہستیوںکی مداحی کے شرف سے مشرف ہونے والے خوش قسمت شعراء کیلیے یہ مطلب بھی مزید تشویق وترغیب کا باعث بنتا ہے کہ حضر ت ابو طالب کفیل الرسول ۖ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی حمایت میںایک سو گیارہ (١١١) اشعار پر مشتمل طویل قصیدہ کہا اور اس طرح قریش کو بے چارہ کردیا .

( عمدة الطالب فی انساب آل ابیطالب )        

ایک لطیف و دقیق نکتہ جو شایان التفات ہے وہ یہ کہ حضرات آئمہ علیہم السلام جو کہ منصب امامت پر فائز ہیں، ان کی یہ امامت بلا شک و شبہ حضرت ختمی مرتبت ۖ کی نبوت و رسالت کا تسلسل ہے لہذا ئمہ علیہم السلام حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بر حق جانشین اور ان کے وارث ہیں ، ان کے افعال آنحضرت ۖ  کے افعال شمار ہوتے ہیںشعراء کو ان حضرات   کی طرف سے اجر و پاداش کا ملنا گویا آنحضرت ۖ  کی جانب سے حوصلہ افزائی ہونا ہے بلکہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ خود حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس مقدس خاندان کے شعراء کے قدر دان ہیںملاحظہ فرمائیں .

  مقبل اصفہانی ایک معروف شاعر اھلبیت  عرض ارادت کیلیے عشرہ محرم الحرام پڑھنے کے قصد سے گلپائیگان کے راہی ہوئے، شب عاشور بہت گریہ کیا ، آنکھ لگ گئی عالم خواب میںاپنے آپ کو حرم امام حسین علیہ السلام کے صحن میںپایا ، متوجہ  ہوتے ہیںکہ صحن حرم کے ایک گوشہ میںایک اجتماع ہے گویا مجلس عزا کا سماںہے ، پوچھتے ہیں: یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملتا ہے ؛ یہ ابراہیم ، نوح ، موسی اور عیسی ( علی نبینا وآلہ علیہم السلام ) ہیںاور ان کے آگے آگے حضرت پیغمبر اسلام ۖ ہیں، مقبل اصفہانی آگے بڑھتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ حضرت پیغمبر اکرم ۖ اپنا سر مبارک اٹھا کر فرماتے ہیں، محتشم کا شانی کو لے آئیں ، محتشم حاضر ہوئے ان کا قد کوتاہ اور چہرہ بہت زیبا تھا آنحضرت ۖ نے فرمایا ؛ اس منبرپر جائو اور میرے حسین  کا مرثیہ پڑھومحتشم منبر کی نویںسیڑھی تک اوپر گئے وہاںکھڑے ہو گئے اور مرثیہ پڑھنا شروع کیا ، پڑھتے پڑھتے اس شعر پر پہنچے .

    بودند دیو و دد ھمہ سیراب و می مکید           خاتم زقحط آب سلیمان کربلا

یعنی کربلا میںحیوانات تک سیراب ہو رہے تھے لیکن افسوس کہ قحط آب کی مصیبت جوامت کی طرف سے اھلبیت کے لیے پیدا کردی گئی تھی اس کی وجہ سے سلیمان کربلا انگشتری منہ میںرکھے چوس رہے تھے !

یہ شعر سن کر حضرت پیغمبر ۖ اور دیگر انبیا ء سب نے گریہ کیا ، محتشم نے کہا :

          روزی کہ شد بہ نیزہ سر آن بزرگوار          خورشید سر بر ھنہ برآمد زکھسار

یعنی جس دن اس امام بزرگوار کے سر اقدس کو نیزے پر بلند کیا گیا اس دن پہاڑ کے اوپر سے خورشید سر برہنہ نمودار ہو ا. آنحضرت ۖ رقت بار ہوئے محتشم نے منبر سے اترنا چاہا تو آنحضرت ۖ نے فرمایا ؛ ابھی ذکر مصیبت سننے سے ہمارا دل نہیں بھرا مزید پڑھو ، محتشم نے اپنا عمامہ زمین پر پھینک دیا ، امام حسین علیہ السلام کی قبر اطہر کی طرف اشارہ کیا اور کہا :

 این کشتہ فتادہ بہ ھامون حسین تو است        ایںصید دست و پازدہ در خون حسین تو است

پیغمبر اکرم ۖ  نے بہت گریہ کیا اور پھر ایک بہترین خلعت سے محتشم کو نوازا .

      ( داستانھا و پندھا  ج ٥  ، ص ٥٠ ، ٢٨) ''بنقل عدد السنہ مجلس ٣٢)           

حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا یہ واقعہ یا ایسے دیگر چند واقعات اور ان کے بر حق اوصیاء کے متعدد واقعات اسی واقعیت کو ظاہر کرتے ہیںکہ امام حسین علیہ السلام اور اسی طرح دیگر تمام معصومین علیہم السلام کے بارے میںاشعار کس قدر مطلوب ہیںاور جب یہ عمل خاصان خداوند منان کے ہاںایسا فضیلت و منزلت والاعمل ہے تو یقینا ً خداوند متعال کے ہاںبھی نہایت مرتبہ کا حامل ہے .

 شعر اور معصومین علیہم السلام

اس گرانمایہ بحث کو ہم دو حصوںمیںاختصار کی رعایت کے ساتھ پیش کریںگے .

(الف) شعر و شاعری اور حبیب خدا حضرت محمد مصطفے ۖ(ب) شعر و شاعری اور دیگر معصومین .

(الف) بطور کلی اس بحث کی ضرورت اس لیے پیش آئی تاکہ اصل موضوع کی بحث سمجھنے میںسہولت اور آسانی رہے اور وہ اس طرح کہ جب ہم اس امر کے درپے ہیں کہ نگاہ معصومین علیہم السلام میںشعراور شاعری کا مرتبہ و مقام سمجھ سکیںتو ضروری ہے پہلے ہمیںیہ معلوم ہو کہ شعر اور شاعری کے ساتھ خود ان معصوم ہستیوں کا تعلق اور رشتہ و ناطہ کیا ہے ؟

پس خود خداوند کریم سے استمداد خاص کرتے ہوئے یوںعرض کرتے ہیںکہ پیغمبر ھدایت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے دور میںمبعوث ہوئے کہ جب شعر عربوںکی ہر محفل و مجلس کی زینت محسوب ہوتا تھا اور شعر گوئی ایک بر تر ھنر جانا جاتا تھا . شعراء زمان ممتاز حیثیت وشخصیت رکھتے تھے اور خلاصہ احوال آنکہ اس وقت کے معاشرے کا وہ دور شعر شاعری اور فصاحت و بلاغت کا دور تھا .

حضرت موسی علی نبینا وآلہ وعلیہ السلام جس دور میںھدایت خلق خدا کیلیے بھیجے گئے تو اس وقت سحر و جادو اپنے عروج پر تھا اور معاشرے میںجادوگر ممتاز ترین منزلت کے حامل تھے ، خدائے حکیم نے اپنے نبیۖ کو ایسی صفت دے کر بھیجا کہ جو صنعت سحر و ساحری کے ضعف کو انظار معاشرہ کے رو برو بر ملا کردے اور حکمت الہیہ کا تقاضا بھی یہی تھا . ورنہ حق جو لوگ کس  طرح نبی ۖ خدا کی حقانیت کو پا سکتے ، کس طرح اتمام حجت ہو سکتا اور لوگ سعادت ابدیہ کے حصول کے لیے ھادی حقیقی کی اتباع کرسکتے .

حضرت عیسی ٰ  اور دیگر سفیران الہی کے ادوار کے بھی جیسے جیسے تقاضے تھے خداوند کریم نے اپنی حکمت بالغہ کے عین مطابق ہمیشہ اپنے سفراء کو احوال و اوضاع پر غالب رکھا تاکہ لوگوںکی طرف سے خدا پر حجت باقی نہ رہے بلکہ خداوند کریم کی جانب سے حجت تمام رہے .

تو پس اس مرحلے میںیہ امر واضح ہو گیا کہ حکمت بالغہ الھیہ ہمیشہ ید اللہ فوق ایدیھم  کے اثبات پر منتج رہتی ہے اور یہ ناقابل تبدیل و تغییر سنت الہی ہے لھذا ایسے میںخاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بحث بھی اسی امر کی مقتضی تھی کہ خداوند غالب و قاھر اپنی قدرت و حکمت سے اپنے حبیب ۖ  کو اپنی سنت برقرار رکھتے ہوئے ایسی صفت کے ساتھ متّصف رکھے کہ رسول خدا ۖ اپنے معاصرین پر فائق و غالب رہیںاور ھدایت واضح و روشن رہے . اگر شعراء کے عروج کے دور میںپیغمبر خدا ۖ  بھی ایک شاعر کی حیثیت کے حامل ہوئے تو اسے مساوات تو کہا جا سکتا  لیکن یہ امر برتری و فوقیت کہلانا مشکل تھا اور مساوات کی صورت میںکوئی امتیازی حیثیت منوانا بھی صعب تھا لھذا کلام و بیان کی حکومت کے اس دور میںخداوند حکیم نے بھی اگر چہ کلام و بیان ہی کو اپنے آخری پیغبر ۖ کے سپرد کیا اور قرآن مجید نازل فرمایا لیکن اس کے باوجود اسی پیرائے اور اس انداز سے اپنی قدرت نمائی فرمائی کہ سب سے پہلے خود اپنے مرسل اعظم ۖ کے شاعر ہونے کی نفی فرمائی

لہذا ارشاد ہوا:

وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَا وَمَا یَنْبَغِیْ لَہ ان ھو الا ذکر و قرآن مبین ( سورة یس ؛ ٦٩) .

یعنی ہم نے اپنے پیغمبر کو شعر کی تعلیم نہیںدی ، قرآن شعر و شاعری نہیںبلکہ شعر و شاعری سے بالا تر ہے لھذا اس زندہ معجزہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مختصر ترین سورت جب شہر عکاظ کے سالانہ ادبی مقابلے میںرکھی گئی اور فصحا ء و ادبا ء زمان کے منتخب فاضل ادیب نے سب آثار دیکھتے دیکھتے اس مقدس کلام کی قرائت کی تو بے ساختہ کہہ اٹھا .   '' مَا ھَذَا کلام ُ البشر ''

واقعیت بھی ایسی ہی تھی کیونکہ یہ کلام خالق کا کلام تھا ، مخلوق کا کلام نہیںتھا . اس وقت کی قضاوت کا اعلان کھلم کھلا سمجھا رہا ہے کہ قرآن مجید فوق شعر ہے اور اس دور کی فصاحتوںاور بلاغتوںکی دسترسی سے بالاتر ہے . البتہ بعض مخالفین اس معجزانہ کلام کے عمق کو درک نہ کر پائے تو شعراور سحر کہنے لگے اور اس طرح در حقیقت اپنے جہل و عجز کو عداوت کا روپ دے کر شاعر و ساحر کی تعبیروںسے ظاہر کرنے لگے کہ امیرالکلام حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا بر حق فرمان اسی امر کا عکاس و غماز ہے کہ فرماتے ہیں''الناس اعداء ماجھلوہ '' ۔

( نھج البلاغہ کلمات قصار )          

جب دار الندوہ میںقریش ولید بن مغیرہ مخزومی کے پاس آئے تو اس نے ان سے سوال کیا کہ تم لوگ پیغمبر کے بارے میںکیا کہتے ہو ؟ کہنے لگے :  وہ شاعر ہے . ولید نے برھم ہو کر کہا ؛ ہم نے بہت اشعار سنے ہیںپیغمبر کا کلام اشعار جیسا نہیں. قریش نے کہا : وہ کاھن ہے . ولید نے کہا ؛ اس کی گفتگو کاھنوںکی گفتگو کے مانند نہیں. انہوںنے کہا . وہ دیوانہ ہے . ولید کہنے لگا . آپ لوگ اس کے پاس جاتے رہتے ہیںوہ دیوانوں کی طرح بھی نہیںہے . کہنے لگے ؛ پس وہ ساحر ہے . ولید نے پوچھا سحر کیا ہے؟ کہنے لگے ؛ ساحر یعنی ایسا انسان جو دوستی کو دشمنی اور دشمنی و عداوت کو لوگوںکے درمیان دوستی میںتبدیل کردے . اس نے کہا تو پھر رسول خدا ساحر ہے . لیکن وہی ولید تھا کہ جب اس نے رسول خدا ۖ کی زبان مبارک سے قرآن کریم کی تلاوت سنی تو کہنے لگا '' یہ کلام کسی بشر یا جن کا کلام نہیںہو سکتا اس کے کلام میںایسی حلاوت اور مٹھاس ہے جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ کلام دوسرے ہر کلام سے بہتر و برتر ہے اور اس سے بہتر کوئی اور کلام نہیںہو سکتا .

اسی زمانے میںکہ جب علم بیان کی صنعت شعر و شاعری اپنے اوج و کمال کو چھورہی تھی ایک ایسے برحق پیغمبر ۖ الہی کا مدعی ہو نا اور اپنے دعوی کی دلیل کے طور پر قرآن کریم کو پیش کر نا، قرآن کریم ایسی مقدس کتاب جس کے ایک مختصر سے سورے کے مقابلے میںبڑے بڑے فصحاء و بلغاء عرب عاجز آگئے ہو ںاور دوسری طرف وہی برحق پیغمبر اپنے مختصر کلمات اور مفصل خطبات میںایسی فصیح عربی پیش کر رہے ہوںکہ جملہ رائج فصاحتیںاور بلاغتیںجھک جھک کرزانوئے ادب تہہ کر کے سلام و احترام کر تی ہوں، انصاف اور حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ ان صفات سے متصف فرستادہ الہی شخص کو اس کی مقدس کتاب کے فاقد شعر ہے جس کا اعتراف فصحا ء عرب کر رہے ہیں. حضرت پیغمبر اکرم ۖ کے بارے میں اس باب میںایک فارسی محقق دانشمند یوںرقمطراز ہیں کہ '' آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم '' سے مختلف مناسبتوںپر خطابات تو بہت نقل ہوئے ہیںلیکن شعر نقل نہیںہوا . (قصہ ء منظوم کربلا  مقدمہ صفحہ ١٧، استاد نظری منفرد )

جبکہ بحارالانوار  میںآنحضرت ۖ سے بھی ابیات و اشعار اندک تعداد میںمنقول ہیںخواہ خود حضرت ۖ  کے ہوںیا دیگر شعراء کے اور فقط حضرت نے مختلف موقع پر بطور استنادو اقتباس نقل فرمائے ہوں، بہر حال اشعار موجود ہیںاور ظاہرا ً بعض اشعار کا لھجہ یہ بتاتا ہے کہ خود آنحضرت کے شعر ہو ں جیسے :

            انا      النبی     لا       کذب              انا   ابن  عبد    المطلب

                  ھل انت الااصبح دمیت             وفی سبیل اللہ مالقیت

(معجم اشعار المصومین  الواردہ فی بحا ص ٤٣)                 

جو بات قطعی و حتمی ہے وہ یہ کہ قرآن مجید خداوند متعال کی جانب سے نازل ہونے والی کتاب ھدایت ہے اور حضرت ختمی مرتبت ۖ کے اشعار پر مشتمل کتاب نہیں ہے بلکہ اس کے اندر موجود کلام الہی اشعار سے بالاتر ہے .

اس حصے کی بحث کا دوسرا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ معارف الہی کی ترویج اور اھل بیت علیہم السلام کی مدح و مرثیہ میں شاعری حبیب خداۖ کے نزدیک بھی محبوب ہے . پیغمبر خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نھج الفصاحہ میںفرماتے ہیں: 

ان من البیان لسحر اً وان من الشعرلحکماً وان من القول عیا ً وان من طلب العلم جھلا. یعنی بعض بیانا ت جادو سا اثر رکھتے ہیں، بعض اشعار میںحکمت ہو تی ہے ، بعض گفتار لکنت رکھتی ہیں ۔

( رھگشای انسانیت ترجمہ ، نھج الفصاحہ ص ٢٨٥)             

اسی طرح فرماتے ہیں:

الشعر بمنزلة الکلام فحسنہ حسن الکلام و قبیحہ قبح الکلام .

یعنی شعر سخن و کلام کی طرح ہے پس اچھا شعر اچھا کلام اور برا شعر برا کلام ہے (ایضاً ).

قال ۖ : لان یمتلی جوف رجل قیحاً خیر لہ من ان یمتلی شعراً ْ.

برے شعر کی غیر مطلوبیت کے بارے میںارشادفرماتے ہیں: کسی شخص کا شکم میل کچیل سے پر ہو تو اس سے بہتر ہے کہ وہ برے شعر سے بھرے .''

اسی طرح میزان الحکمہ میںصحیح مسلم سے یہ حدیث منقول ہے کہ حضرت ۖ فرماتے ہیں:

اشعر کلمة تکلمت بھا العرب کلمة لبید

الا کل شی ئٍ ما خلا اللہ باطل . (میزان الحکمة مجلد ٢ ص ١٤٦٣)

ان چند احادیث سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ حضرت پیغمبر اکرم ۖ شعر کے محتوی ٰ کے پیش نظر اس کو اچھے اور برے یا مفید ومضر دو قسموں میںتقسیم فرماتے ہیںاچھے شعر کو حکمت آمیز اور برے یا مضر شعر کو قبیح اور میل کچیل سے بد تر قرار دیتے ہیں. توحید کا پر چار کرنے والے اشعار  وابیات کو باشعور ترین کلمہ اور صادق ترین قول قرار دیتے ہیںاور دوسرے ایک بیان میںاچھے اور تبلیغی شعر کو زبان کے جہاد کا مرتبہ فرمایا ہے او رفرماتے ہیں کہ مومن شاعر کے اشعار ایسے تیروںکی طرح ہیں جو دشمن کی طرف پھینکے جاتے ہیںلھذا مومن شاعر مجاھد فی سبیل اللہ ہے۔

  ان المومن مجاھد بسیفہ ولسانہ والذی نفسی بیدہ لکانما ینضجونھم بالنبل . (میزان الحکمہ ح ١٠٢٢.بنقل از نور الثقلین ٤، ٧٠، ١٠٥)

اسی بناء پر خدا کے رسول ۖ حسان بن ثابت سے فرماتے ہیں:

 اھج المشرکین فان ّ جبرئیل معک .

یعنی مشرکین پر ( اپنی مجاھدانہ شاعری کے ذریعے ) حملہ کردے بے شک جبرائیل آپ کے ساتھ ہیں             ( میزان الحکمہ بنقل از در منثور ٦، ٣٣٦)       

اس فرمان ذیشان میںگویا آنحضرت ایسی مجاھدانہ شاعری کو دشمن دین کے مقابلے میںکاری اسلحہ کا درجہ دے رہے ہیں.

بحث کے اس گوشے کے اجمالی ذکر کے بعد یہ گوشہ عیان کر دینا ضروری ہے کہ اھل بیت علیہم السلام کے بارے میںشاعری کو حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت پسند فرماتے ہیں دیگر معصومین علیہم السلام کے مصائب توآنحضرت کے بعد پیش آئے لیکن پھر بھی معلوم ہوتا ہے کہ معصومین علیہم السلام کی مدح خوانی اور مرثیہ خوانی رسول خدا کے نزدیک بہت منزلت رکھتی ہے وارثان رسالت کے اس باب میںبہت عمدہ بیانات موجود ہیں جو اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیںاور ہماری اس مختصر سی کا وش میں تشویق و ترغیب کے عنوان کے تحت ہونے والی بحث میںمقبل اصفہانی معروف شاعر اھلبیت سے محتشم کا شانی والامذکو ر واقعہ اسی امر کو روشن کررہا ہے کہ آنحضرت خود فرمارہے ہیں کہ ؛ منبر پر جائو اور میرے حسین کا مرثیہ پڑھو ، اس مرثیہ کے سننے سے بہت گریہ کرنا اور پھر اس شاعر کو خلعت سے نوازنا ایسے اشعار کی مطلوبیت و محبوبیت کی ہی دلیل ہے .    ( عدد السنة مجلس ٣٢)       

(ب)اب اس گرانمایہ بحث کے دوسرے حصے میںمختصر طور پر داخل ہوتے ہیں.

شعر و شاعری اور دیگر معصومین علیہم السلام

یہ بحث بھی اپنے محتویات کے پیش نظر بہت وسیع دامنہ رکھتی ہے لیکن ہم کوشش کرتے ہیںکہ مختصر انداز میںجامع مطالب پیش کر سکیں.

یہ حقیقت مد نظر رہے کہ حضرات معصومین علیہم السلام تمام کے تمام نور واحد ہیںایک کاکلام سب کا کلام ہے لھذا ضروری نہیںہے کہ مرتب طور پر ایک ایک معصوم علیہ السلام کے فرامین اس باب میںنقل کیے جائیں.

قال الصادق علیہ السلام . ما قال فینا قائل بیتاً من الشعر حتی ّ یئوید بروح القدس .

( مصابیح الھدی ص ٢٩٩ ، عیون اخبار ١، ٧ ، ینابیع الحکمہ ٣، ٢٧٥، ١)           

یعنی شعر کہنے والا ہمارے بارے میںجو شعر بھی کہتا ہے اس میںروح القدس کی تائید و نصرت ضرورشامل حال ہوتی ہے ۔

معصوم علیہ السلام کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعر اھلبیت کس قدر فضیلت رکھتا ہے کہ اس مقدس امر میںروح قدس کی بلافاصلہ تائید وامداد حاصل ہوتی ہے . جب معصوم علیہم السلام اپنے شعراء کو بلوا کر مجالس کے انعقاد کا اھتمام کر واتے تھے ، شعراء کو شعر پڑھنے کی دعوت دیتے ، خود سنتے ، اہل پردہ کے لیے بھی انتظام فرماتے کہ سنیںاور پھر شعراء کو انعامات و الطاف سے نوازنا یہ سیرئہ عصمت بہت کثرت سے قابل دید ہے .

کمیت بن زید معروف شاعر اھلبیت  کہتے  ہیں. حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میںشرفیاب ہوا حضرت  فرمایا : اے کمیت ! خدا کی قسم اگر ہمارے پاس کچھ مال ہوتا تو اس میںسے ہم تمہیںدیتے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ حسان ( شاعر بزگوار ) کو فرمایا تھا میںتمہارے بارے میںوہی کہتا ہوںکہ جب تک ( شعر و شاعری کے ذریعے ) ہمارا دفاع کرتے رہو گے ، روح القدس تمہارے ساتھ ہوگا  . ( مصابیح الھدی ص٣٠٢)      

اسی کمیت کو اھلبیت  کی خدمت کے نتیجے میںان کے ہاںاپنا مقام معلوم تھا لھذا اس قدر خدمت کی او راس قدر مجاھدت کی کہ مخالفین برداشت نہ کرسکے . اشعار کمیت جب ھشام بن عبد الملک کے کا نوںتک پہنچے تو اس نے والی کوفہ خالد کے نام خط لکھا جس میںیہ دستور دیا کہ کمیت کو گرفتار کر کے اس کے ہاتھ پائوںکا ٹ دو '' اس کا سرتن سے جدا کردو ، اسکا گھر ویران کر دو اور اس کے ویران گھر میں اس کے بدن کو تختہ دار پر لٹکا دو .

                          (قصہ منظوم کربلا مقدمہ ، ص١٨، بنقل از الغدیر ٢، ١٩٤)      

خصوصی الطاف

مشہور حدیث ہے کہ '' انما الاعمال بالنّینات ''یعنی اعمال کا دارو مدار اور نیتوںپر ہے . اگر نیت خالص ہو گی تو عمل بھی خالص ہو گا . اور پھر خالص عمل قبولیت سے فاصلہ نہیںرکھتا . اول تاریخ سے ہمارے اس دور تک ان گنت شعرا ء کرام حضرات معصومین  علیہم السلام کے الطاف خاصہ حاصل کر چکے ہیں۔

آئمہ علیہم السلام کے دور میںموجود شعراء پر انواع واقسام کے خصوصی الطاف کی باران رحمت و رأفت ہوتی رہی اور غیبت کبری کے اس دور میں بھی نگاہ عصمت کے فیوضات اسی طرح سے جاری و ساری ہیں . اس زمانے کی بھی بہت مثالیںتاریخ نے ابپنے سینے میںمحفوظ کر رکھی ہیںاور اس دور میںبھی تسلسل کے ساتھ ایسے نمونے تاریخ نے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں. فارسی کی ایک معروف ضرب المثل '' مشت نمونہ از خروار '' کی صداقت کے پیش نظر ایک معروف اشعار کے مشہور شاعر کی رثائی شاعری کے نقطة آغاز کا سچا واقعہ قلمبند کرتے ہیں. ایسا شاعر کہ جس کے کہے ہوئے اشعار جمھوری اسلامی ایران  میںخصوصا ً ایام عزا کے دوران مسجد و امامبارگاہ بلکہ ہر گھر اور گلی کوچوںمیںسیاہ پارچوں اوربینروںپر خاص و عام کی نظروںاور توجہات کو اپنی جانب جذب کرتے دکھائی دیتے ہیں.

                    '' باز این چہ شورش است کہ در خلق عالم است ''

                  ترجمہ   '' کیسا غوغا ہے یہ پھر خلق جہاںمیںیکسر ''

جی ہاںہماری مراد شاعراھلبیت  محتشم کا شانی   ہیں ملاحظہ فرمائیں:

'' عالم خواب میںمحتشم اپنے آقا ومولا حضرت علی علیہ السلام کی زیارت کے شرف سے مشرف ہوئے تو مولا نے فرمایا :حسین علیہ السلام کے لیے مرثیہ کیوںنہیںکہتے ہو ؟

عرض کی :یا امیر المومنین  ! حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب بے حد ہیںاس لیے نقطئہ آغاز نہیںمل پارہا اور متحیر ہوںکہ کس مصیبت سے شروع کروں؟مولا  نے فرمایا ؛ کہو     

                     باز این چہ شورش است کہ در خلق عالم است

محتشم خواب سے بیدار ہوئے تو اسی کادوسرامصرع کہہ رہے تھے کہ

                   ' باز این چہ  نوحہ و   چہ عزا  و چہ ماتم است 

یہ دو مصرعے ( ایک بیت ) محتشم کے بارہ بندوںپر مشتمل مرثیہ کا مطلع ٹھرے . یہ خوش قسمت شاعر اپنے آقا و مولا  کی ھدایت کے مطابق اس عظیم دینی خدمت میںمشغول تھا کہ اسی تسلسل میںایک مصرعہ کہا :

                     ھست از ملال گرچہ بری ذات ذوالجلال

اور پھر بیت ہونے کیلیے اس کے دوسرے مصرعے میںحیران و پریشان ہوگیا کہ ایسا کیا مصرع کہا جائے و مقام ذوالجلال کے سزاوار ہو ، حتی ٰ کہ حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف وسلام اللہ علیہ کی جانب سے دستیگیری نصیب ہوتی ہے اور خواب میںمحتشم کو امر ہوتا ہے کہ اس مصرع کا ثانی یہ کہے :

''اودر دل است و ھیچ دلی نیست بی ملال ''

پس بیدار ہوئے اور بیت مکمل کرلیا . ( کشکول احمد قاضی زاھدی ص ٢٤٢)

جی ہاںخوشنودی خداوند کریم کیلیے اس کی مقرب ہستیوںکی مداحی ومرثیہ نگاری کی شان ، عظمت او رمنزلت کس قدر انفرادیت کے ساتھ قابل صدر شک ہے کہ پہلے پہل امام اول علیہ السلام ایک شاعر کا ہاتھ پکڑ کر حضرت سید الشھداء علیہ السلام کے غم کی عظمت اور جہانگیر وسعت بیان کرنے کیلے پہلا مصرع عطا فرمارہے ہیںاور آگے جا کر پھر مشکل پیش آتی ہے تو مولا امیر علیہ السلام کے مشکل کشا فرزند حضرت امام زمان علیہ السلا م ایک اور مصرع عطا فرما کر مرثیہ مکمل کرنے میں مشکل کشائی فرمارہے ہیں.

یہیںسے ہم یہ نتیجہ بھی لے سکتے ہیں کہ فقط احکام فقہ ہی کو یہ امتیاز حاصل نہیںکہ اگر ایک فقیہ بزرگوار و نامدار ایک حکم فقہی کی تحقیق و تبیین میں مشکل کا شکار ہوتے ہیں تو انہیں ہی راہنمائی ہو تی ہے بلکہ اھلبیت علیہم السلام کے مخلص شعراء کرام کو بھی ایسے الطاف سے نوازا جاتا ہے ۔

بعض کو اس انداز میںاور بعض کو دوسرے طور اطوار سے کہ ان کی نگاہ لطف کی برکت سے کلام عطا ہو جیسا کہ مثلاً شہر یا ر کو ہوا  اور وقت کے ایک آیة .. العظمی ( مرعشی نجفی  ٰ) عالم خواب میںحرم امیر المومنین علیہ السلام میںاپنے اس فارسی ایرانی شاعر کی مولا امیر علیہ السلام کی جانب سے وہ تکریم مشاھدہ کریں۔

وہ حیرت زدہ ہو کر اظہار کریںکہ یہ کلام تو ابھی تک کسی کو بھی پڑھ کر نہیںسنایا ، آپ کو کیسے اس کا علم ہو گیا تو وہ قصہ ء اکرام و قبولیت امام علیہ السلام سنا کر اس شاعر کو اشکبار کر دیں. مطلع یہ تھا .        

     علی ای ھمای ِ رحمت تو چہ آیتی خدا را       (زندگی نامہ محمد حسین شھر یا ر )

جی ہاں کسی شاعر کو امام معصوم علیہ السلام کی طرف سے متبرک پیراہن عطا ہو رہا ہے تو کسی کو دیگر عطائوںسے نوازا جارہا ہے او رسب کو بیاض حیات کے حسن ختام اور آباد و شاد آخرت کے مژدے سنانے جارہے ہیں.

ہاںیہ حقیقت بھی فراموش او رتشنہ ء ذکر نہ رہے کہ یہ خصوصی الطاف اھل ایمان و اھل ولا شعراء کیلیے ہیںلیکن اگر کوئی غیر اھل ولا بھی کسی معصوم علیہ السلام کے بارے میںفضیلت یا مصیبت کا تأثر کے ساتھ کوئی شعر کہتا ہے تو اس کو بھی اجر و ثواب سے محروم نہیں رکھا جاتا البتہ اس فرق کے ساتھ کہ ایسے شاعر کو اس دنیا میںاس کے مرنے سے پہلے اس کا اجر دے کر فارغ کردیا جاتا ہے تاکہ آخرت میں اولیاء الہی سے کچھ مطالبہ نہ کرسکے . لیکن جہاںتک اھل ولا شعراء کی مدحی ورثائی شاعری کا تعلق ہے تو کسی حدیت میںایک بیت (شعر) کے بدلے میںایک بیت (گھر) دیے جانے کی خوشخبری سنائی جارہی ہے جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:   من قال فینا بیت شعر بنی اللہ تعالی لہ بیتاً فی الجنة .

 یعنی جو شخص ہمارے بارے میں ایک شعر کہے تو خداوند متعال اس کے لیے جنت میںایک گھر تعمیر فرمادیتا ہے .( عیون اخبار الرضا ١، ٧)

                      مدح اھلبیت میںمومن کہے گر  ایک  بیت

                     اپنی جنت میںاسے دے رب اکبر ایک بیت

او رکسی حدیث میں ایک گھر تو کیا ایک شعر کی پاداش کے طور پر ایک شھر عطا فرمانے کی ضمانت دی جارہی ہے .جیسا کہ امام رضا علیہ السلام کا فرمان ذیشان ہے کہ فرمایا :ما قال فینا مؤمن شعرا یمدحنا  الا بنی اللہ تعالی لہ مدینة فی الجنة اوسع من الدنیا بسبع مرات یزورہ فیھا کلّ ملک مقرب وکل نبی ئٍ مرسل۔ (مصابیح الھدی ص٣٠٠ بنقل از ینابیع الحکمة ج ٣ ، ص ٢٧٥)

امام ھشتم علیہ السلام فرمارہے ہیں: جو مومن ہمارے متعلق ایک شعر بھی کہتا ہے اور اس طرح ہماری مدح وثنا کرتا ہے تو خداوند متعال جنت میںاس کے لیے ایک شہر تعمیر فرمادیتا ہے کہ جو پوری دنیا سے سات برابر وسیع ہے اوراس شہر میںخداوند عالم کا ہر مقرب فرشتہ اور ہر نبی مرسل اس شاعر کی زیارت کے لیے آئے گا .

   شعر اک گر مدح اھلبیت  میں مومن کہے      نہ فقط اک گھر ملے بلکہ مدینہ ہو عطا .

                                                      والحمد للہ کما ھو اھلہ

فہرست منابع

١۔  قرآن مجید                              ٢۔  نہج البلاغہ                       ٣۔  کشکول  احمد زاھدی

٤۔  المفردات فی غریب القرآن              ٥۔  مجمع اشعار المعصومین  (بحار )       ٦ ۔  رجال کشی

٧۔  عمدة الطالب دی انساب آل ابیطالب      ٨۔  داستانھا و پندھا                   ٩۔  قصہ منظوم کربلا

١٠۔  رھگشای انسانیت ترجمہ نھج الفصاحہ       ١١۔  میزان الحکمة                     ١٢۔  عدد السنة

١٣۔  مصابیح الھدی                       ١٤۔  عیون اخبار الرضا علیہ السلام     ١٥ ۔  زندگی نامہ محمد حسین شھر یا ر

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عرض تسلیت

         بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان )  حوزہ علمیہ مشہد مقدس کی جانب سے اپنے ہر دلعزیز دوست جناب مولانا مجاہد علی مطہری کی دوران جوانی میں ناگہانی وفات حسرت آیات کی مناسبت سے حضرت امام رؤف ، حضرت امام زمان علیہما السلام اور مرحوم و مغفور کے والدین ان کی اہلیہ اور تمام پسماندگان کو تسلیت پیش کی جاتی ہے ۔ خداوندمنان سے ان کی مغفرت اور رفعت مرتبت کے طلبگار اور قارئین کرام سے سورہ فاتحہ کے خواہشمند ۔۔۔ بزم رأفت

  یہ پھول اپنی لطافت کی داد پائے گا              

حضور مولا  میں کھل کھل کے مسکرائے گا              

استاد محمد علی جوہر کے مختصر حالات زندگی

  جوہر شہید کربلا کی پیاس یاد کر

صلوٰة پڑھ ، سبیل پی، عباس  یاد کر

نام  :  آپ کا نام نامی سید محمد علی شاہ رضوی اور والد بزرگوار کا اسم گرامی سید علی شاہ رضوی ہے ۔

ولادت  :  آپ ٣  اگست  ١٩٣٠ھ بمطابق ١١ جمادی الاول بروز جمعة المبارک کو اپنے آبائی وطن کوٹ ڈی جی خیر پور میرس سندھ میں متولد ہوئے ۔

آغاز شاعری  :  موصوف شروع ہی سے خداداد استعداد اور عمدہ ذوق سے بہرہ مند تھے خصوصا ً اہل بیت علیہم السلام کی مدح و رثاء میں شاعری کو بہت پسند فرماتے تھے خصوصاً عزاداری کی شاعری سے ایک خاص لگاؤ تھا ۔

آپ کے آبائی علاقے میں ١٩٤٥ھ میں عشرہ محرم الحرام میں تعزیہ برآمد کرنے پر جب حکومت وقت کی طرف سے سخت پابندی لگادی گئی تو آپ نے عزاداران حسینی کے ہمراہ اپنی عقیدت و ارادت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے تعزیہ برآمد کیا جس کے نتیجے میں انہیں سینٹرل جیل بھیج دیا گیا ۔ شاید آپ کا یہ پرخلوص مجاہدانہ عمل خداوندکریم کو پسند آگیا اور قرآن کریم میں یہ عہد الٰہی ہے کہ ( والذین جاھدو ا فینا لنھتدینھم سبلنا) یعنی جو لوگ ہماری خاطر جہاد کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنی راہوں کی راہنمائی کریں گے ۔ اس مخلص سیّد کو خداوندمنان نے خدمت اہل بیت علیہم السلام کا ایسا صلہ دیا کہ انہیں تادم آخر اس مقدس گھرانے کی مخلصانہ خدمت نصیب رہی اور وہ آل رسول ۖ کے مصائب دلسوز نوحوں کے روپ میں منظوم کرتے رہے

تشویق و ترغیب :  استاد حاجی بنی بخش نے موصوف میں موجود شاعری کے خفیہ جوہر اجاگر کرنے میں بہترین کردار ادا کیا اور ان کی صلاحیت کو درک کرتے ہوئے '' جوہر '' کے تخلص سے نوازا۔

مختصر عرصے میں جوہر  کے نوحے صوبہ سندھ سے تجاوز کرکے پاکستان بھر میں مجالس و جلوس میں مشہور ہونے لگے۔

استاد جوہر کے شاگر  :  استاد موصوف نے خدمت اہل بیت علیہم السلام کے سلسلہ کو تداوم بخشا اور اس طرح شعرائے غم میں اضافے کا سبب بنے ان کے شاگردوں میں سید نذر عباس شاہ نذر، مرید عباس مرید ، سید مجاہد شاہ، سید اختیار شاہ اختیار (ببرلو) ، سید افضل شاہ  وغیرہ شامل ہیں ۔

نوحہ خوان انجمنیں پارٹیاں :  تقریبا ٰ ً ساٹھ بڑی انجمنیں فقط استاد جوہر  کے نوحے پڑھتی تھیں، علاوہ از این موصوف کے نوحے دنیا بھر میں پڑھے جاتے ہیں ۔

مشہور نوحہ خوان حضرات اور استاد کی شاعری  :  استاد جوہر خود بھی رثائی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ نوحہ خوان تھے ۔ ان کے نوحے پڑھنے والے مشہور نوحہ خوانوں میں استاد کریم بخش حاجانو عرف استاد کمن ، محسن شاہ ، سید رضا عباس شاہ، مختار علی شیدی  وغیرہ شامل ہیں ۔

ازدواجی زندگی  :  استاد جوہر نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کیں دونوں میں سے ہر ایک سے چار بیٹے اور تین بیٹیاں عطا ہوئیں ۔ خداوندمتعال ان سب کو سلامت رکھے اور وہ راہروان اہل بیت علیہم السلام میں شامل رہیں ۔

تاریخ رحلت  :  ٧٨برس کی کامیاب زندگی گزارنے کے بعد یہ مخلص خادم اہل بیت علیہم السلام  ٢٥ شعبان  ١٤٢٩ھ بروز جمعرات بمطابق ٢٨ اگست ٢٠٠٨ئ کو داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے چاہنے والوں کو سوگوار کرگئے ۔

 خدا بخشے بحق آل احمد ۖ جانے والے کو

استاد کے نوحوں کے چند نمونے : استاد جوہر نے سرائیکی زبان میں ان گنت نوحے لکھے اور اس کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی توفیق رفیق رہی ۔

ہم ان دونوں زبانوں کے مشہور نوحوں سے چند نوحوں کے مطلع بطور نمونہ پیش کرتے ہیں ۔

    اردو کے چند نوحے : 

   پردہ دنیا کو سکھانے والی آئی بازار میں زینب     گھر سے باہر بھی نہ آنے والی آئی بازار میں زینب

   جگ سارے میں جنت کے سرداروں کا ماتم             اللہ کی قسم دین کے غم خواروں کا ماتم

اعلان ہوا قیدی بازار میں آتے ہیں                   خوش ہوکے سبھی شامی بازار سجاتے ہیں

   کیا شام غریباں کی پردرد کہانی ہے                 جنگل ہے بیاباں ہے خیمے میں نہ پانی ہے

   کربل کے مسافر کو کبھی بھول نہ جانا                     زینب کے برادر کو کبھی بھول نہ جانا

سرائیکی کے چند نوحے :

   سولہ سومیل مک گئے آگئی بازار شام اے

  ام لیلی منگی دعا روکے میڈے اللہ سجاد  وس پووے

  خط مولا حسن  دا آیا ہے

  تربت وچ رو نہ سکینہ  دھی میڈاہے وعدہ میں ول آساں

تسلیت :  ہم بزم رأفت(انجمن شعر و ادب ) مشہد مقدس کے مسؤلین واراکین اس شاعر بزرگوار کی رحلت پر شہنشاہ دوراں حضرت امام زماں علیہ السلا م اور ان کے جملہ سوگواروں کی خدمت میں تسلیت عرض کرتے ہیں ۔

خداوندکریم انہیں حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے خصوصی الطاف کے زیر سایہ محشور فرمائے ۔ آمین

آہ جوہر

خدمت آل عبا   کا کیا شرف تھے شاہ جوہر                 نوکری کی  مخلصانہ  زندگی بھر  واہ جوہر

خود   اب  آل عبا  کے  زیر سایہ جا بسے                 مومنوں کو داغ فرقت دے گئے ہیں آہ جوہر


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 3 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن، اخبار ادبی
[ شنبه بیست و سوم مرداد 1389 ] [ 11:31 ] [ انجمن ] [ ]

                 وجہ خلقت کائنات ،سبب معرفت پروردگار ،  بضعة الرسول، کفو ولایت ، مادر امامت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ہر سال کی طرح امسال بھی ایک عظیم ''جشن میلاد کوثر ''منعقد ہوا جس کا مصرعہ طرح یہ تھا :

  مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا نے پائی ہے

شاعر :  جناب سبط محمد رضوی صاحب

طرحی کلام

نسیم  صبح  یثرب مژدۂ  عرفان  لائی ہے                ولائے سیدہ نے ہم  کو  کیا عظمت دلائی ہے

ولائے سیدہ  کی بات جب ہونٹوں پہ آئی ہے            قلم کاغذ نے  میری فکر کی  ہمت  بڑھائی ہے

شعور آگہی نے جب سے ان کی معرفت پائی       مری نظروں میں دولت اس جہاں کی کب سمائی ہے

ترے گھرمیں نبوت اور امامت نے کیے سجدے           یہیں پر تو فرشتوں نے  جبیں  اپنی  جھکائی ہے

رسالت  اور  امامت کا وہ محکم راہنما بن کر              کساء میں وہ  بلندی  کی سند زہرا  نے پائی ہے

فضائل اور  فضیلت  کا وہ روشن مجموعہ بن کر              مقام و  منزلت کی کیا  عطا  زہرا  نے پائی ہے

در زہرا  پہ آتے ہیں فرشتے بھی گدا بن کر             سخی زہرا  کی روٹی تو فرشتوں نے بھی کھائی ہے

کھڑی ہے سر  جھکائے آیۂ تطہیر چوکھٹ پر               مقام و  منزلت کی کیا  عطا  زہرا  نے پائی ہے

فرشتہ موت کا رکتا نہیں ہے ایک پل کو بھی                 مگر یہ  منزلت حسنین   کی مادر نے  پائی ہے

در زہرا  کے رتبے کی بلندی کا یہ عالم ہے                  یہاں پر پرورش حسنین سے بچوں نے پائی ہے

قیامت تک تحفظ کے لیے ہاتھوں کو پھیلائے                 شریعت سر جھکائے فاطمہ  کے در پہ آئی ہے

ظہور عصمت زہرا  پہ جبریل امیں بن کر                             مبارک  باد  کا   باد  صبا  پیغام  لائی ہے

علی  ہیں ساقی کوثر پسر سردار جنت ہیں                 زمیں سے آسماں تک فاطمہ  کی راہنمائی ہے

حسین  بن علی  نے کربلا میں اپنا سر دے کر               محمد مصطفی  ۖکے  دین کی عزت  بچائی ہے

کمر بستہ ہیں پھر اسلام کے دشمن زمانے میں            شریک  فاتح  خیبر  دم  مشکل  کشائی ہے

پہنچ  کر جنت شبیر  میں اہل عزا بولے                     جو آنکھوں نے لٹائی تھی وہ دولت کام آئی ہے

مکین عرش زہرا کی غلامی کا شرف پاکر              کبھی جھولا جھلائے ہیں کبھی  چکی  چلا ئی ہے

بہانے لے کے مسکینی یتیمی اور اسیری کے                در زہرا کی اکثر قدسیوں نے روٹی کھائی ہے

تری عظمت کے پھر کیوں کر قصائد نہ پڑھے خالق          نبی  نے  احتراما ً  بارہا  چادر  بچھائی ہے

یہی کافی ہے بس اپنی شفاعت کے لیے سبط

غلام مرتضی کی آپ کے در تک رسائی ہے

شاعر :  جناب عابد علی بھوجانی گجراتی صاحب

طرحی کلام

  کبھی کوثر کا سورہ تو کبھی تطہیر کی آیت                  زبان کبریائی میں ثنا  زہرا نے پائی ہے

  مسیحائے زماں پائے شفا زیرکساء آکر                  ردا بھی باخدا معجزنما زہرا نے پائی ہے

  پسر حسنین بابا مصطفی ۖشوہر علی  جیسا                   مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا نے پائی ہے

یہ عابد بھی سر محفل علی الاعلان کہتا ہے

کہ کیا نور الہی کی ضیا  زہرا نے پائی ہے

شاعر :  جناب الفت حسین جویا صاحب

طرحی کلام

مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا  نے پائی ہے            اٹھے تعظیم کو صدقے میں جس کے کل خدائی ہے

مرے ناقص گماں میں اس سے بڑھ کر یہ بڑائی ہے      نہ ہوتیں گر نہ ہوتے وہ سبب جن کے خدائی ہے

نبی  ۖکے گھر ظہور سیدہ پر رب کی جانب سے                      بہ  شکل سورۂ کوثر مبارک باد آئی ہے

نہ کوئی دے سکے گا طعنۂ ابتر پیمبر ۖ  کو                       بقاء نسل احمدۖ  کی ضمانت بن کے آئی ہے

یہ وہ ملکہ ہے الفت عالم امکان کے اندر                  وہاں تک سلطنت اس کی جہاں تک کبریائی ہے

پدر شوہر پسر سب سید وخود سیدہ زہرا            نسب میں بھی حسب میں بھی عجب توقیر پائی ہے

وہ جس کو باپ نے ام ابیھا کی سند دی ہو                  بجز  زہرا  زمانے  میں نہ بیٹی  ایسی آئی ہے

بتا کر بضعة منی یہ سمجھایا زمانے کو                   کہ زہرا  میرے جسم و جان و منصب کی اکائی ہے

نبی کی کل وراثت کی ہیں تنہا سیدہ وارث                  بہن ہے  فاطمہ   کی  بعد پیغمبر ۖنہ  بھائی ہے

فدک لینے نہیں ان غاصبوں کو تا قیام حشر                   ذلیل  و  خوار  کرنے  کو سر دربار آئی ہے

زمیں پر بیٹھ کے اہل کساء کی پاک محفل میں             فرشتوں سے خدا کی گفتگو ساری سنائی ہے

سجی جب فرش پر بزم کساء اس وقت خالق نے          فرشتوں  کی سر عرش بریں محفل سجائی ہے

پڑھی یہ منقبت رب نے کہ اے کروبیو سن لو                   محبت میں کساء والوں کی یہ دنیا بنائی ہے

کہا جبریل نے یہ کون ہیں چادر تلے یا رب ؟              جہاں دیکھو گھٹا اک نور کی ہر سمت چھائی ہے

نداآئی کہ یہ ہیں پاک پنجتن ایک زہرا  ہے                دو بیٹے اس کے اک بابا اور اک احمدۖ کا بھائی ہے

یہ جانیں شیخ جی کیا خوب و بدہے ہم تو یہ جانیں              نہ ہو گر الفت زہرا  تو نیکی بھی برائی ہے

جناب شیخ کی منطق میں دونوں ہیں رضی اللہ               لٹے ہیں جو لٹیرے بھی دہائی ہے دہائی ہے

شمع کو آندھیوں میں چھوڑ کربھاگیں جو پروانے                وفاداری نہیں ہے یہ یقینا بے وفائی ہے

چلا اک غار میں اک کو سلاکر اپنے بستر پر                      بتایا مصطفی ۖنے یار کیا ہے کون بھائی ہے

جو بوڑھا پاس پیغمبر ۖکے روئے مانند طفلاں              خدارا سوچیئے عظمت ہے یہ یا جگ ہنسائی ہے

بڑی تیزی سے پھیلی جارہی ہے ناصبیت پھر              بچو اے اہل دیں اس سے یہ بیماری وبائی ہے

غریب کربلا کی ماں دعائیں اس کو دیتی ہیں         خلوص دل سے جس نے بھی صف ماتم بچھائی ہے

مقدر کا سکندر ہوں میں الفت عالم ذر سے

نصیبوں میں عقیدت فاطمہ زہرا  کی پائی ہے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

(قطعہ)

یوں تو سب اہل بیت  ہی جان رسول  ۖہیں                    میزان حق ہیں، دیں کے حقیقی اصول ہیں

دوہستیوں کو بضعة سرور ۖ کا ہے شرف                         اک حضرت رضا ہیں اک حضرت بتول ہیں

(قطعہ)

رسول  ۖزندہ ہے آل رسول  زندہ ہے                        خدا کے دین کا ہر اک اصول زندہ ہے

فدک کو چھیننے والوہوا ہے کیا حاصل                           جہان بھر میں جو دیکھو بتو ل  زندہ ہے

(قطعہ)

نوری ہستی خاکیوں میں آکے پنہاں ہوگئی                     فاطمہ  کی منزلت پر عقل حیراں ہوگئی

لب ہیں ساکت اور نقوی کا قلم بے جان ہے                  ہوکے بیٹی اور اپنے باپ کی ماں ہوگئی

(قطعہ)

کون و مکاں میں بسنے والو غور کرو تو دیکھو                 ہو توفیق تو دیکھ سکوگے اک اک بات قدر کی

خالق کی خلقت کو دیکھو خالق کے کیا کہنے          سورج ایک ہے چاند ہیں بارہ ایک ہے رات قدر کی

طرحی کلام

مشاکل میں بہت ناد علی  بھی کا م آئی ہے                 عنایت فاطمہ  کی اس سے بڑھ کر آزمائی ہے

جہانوں کے لیے رحمت کی خاطر وہ ہی رحمت ہےعطا کیا منفرد سی اس کی قسمت میں ہی آئی ہے

خدا نے پانچ تن کے نور کو پہلے کیا ظاہر                پھر اس کے سامنے مخلوق کی محفل سجائی ہے

جہاں پر انبیاء  کے دل ، کلیجے کا نپ جاتے ہیں             وہ نگری فاطمہ زہرا   کے بیٹے نے بسائی ہے

نبوت انبیاء   کی پایۂ تکمیل تک پہنچی                            مودت اور محبت فاطمہ  کی کام آئی ہے

وہ سرتاج رسالت اٹھ کے استقبال کرتے تھے     کہ جب بھی باپ کی خدمت میں بیٹی چل کے آئی ہے

جب اتری آیۂ تطہیر تو دہلیز زہرا   پر                             نبی ۖ نے نو مہینے تک یہی آیت سنائی ہے

اے کلمہ گو ترے اسلام پر کیوں شک نہ ہو مجھ کو         وہی دہلیز بے دردی سے خود تونے جلائی ہے

وہ کتنا بے خبر تھا آگ لے کر آرہا تھا جو                      حقیقت میں تو آتش اپنی ہستی کو لگائی ہے

کہ چوکھٹ فاطمہ   کے گھر کی اس رفعت کی حامل ہے کہ سرور ۖ نے اجازت مانگ کر ، رک کر بتائی ہے

خدیجہ  کا بہت خرچہ ہوا دیں کی اشاعت میں           جو حفظ دیں کے کام آئی وہ زہرا   کی کمائی ہے

مجب نے گر خداوند کے معاصی سے فراہم کی                وہ آتش فاطمہ  کی پاک الفت نے بجھائی ہے

لگے گی کل حکومت فاطمہ  کی روز محشر میں                  شفاعت تو خدا نے بہر زہرا   ہی بنائی ہے

بنی ہے جب کوئی مشکل آئمہ  پر تو ملتا ہے               کہ اپنی ماں کا دے کر واسطہ مشکل ہٹائی ہے

امام عسکری  فرماتے ہیں ہم سب پہ حجت ہیں            ہماری ماں مگر ہم پربھی حجت بن کے آئی ہے

ہے سر خالق کے سجدے میں تو قدموں میں خدائی ہے    مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا  نے پائی ہے

بضاعت ہے مری مزجاة لیکن جو ہے خالص ہے             تری مدحت فریضہ جان کر میں نے سنائی ہے

نگاہ لطف اے خاتون جنت ،افضل امت                     میں شیعہ ہوں ترا اور میری فطرت ہی ولائی ہے

فرشتوں کو بھی چاہوں تو بلا لوں اپنی نصرت کو             غلام فاطمہ زہرا  کی اتنی تو رسائی ہے

اے نقوی تیری بخشش کی ضمانت یہ ہی کافی ہے 

در زہرا ئے اطہر  کی ملی تجھ کو گدائی ہے

٭٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

          عشق نے جوہر کوثر سے قصیدہ لکھا             میں نے قرطاس پہ بس اپنا عقیدہ لکھا

          خلد جب عید پہ حوروں نے سجائی اطہر          جاکے جبریل نے ہر پھول پہ زہرا  لکھا

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

(قطعہ)

نور ہی نور ہیں فاطمہ                          جلوہ طور ہیں فاطمہ

ہر کوئی کیسے مدحت کرے               رجس سے دور ہیں فاطمہ

(قطعہ)

       دین احمدۖ در جہان باشد نظام آخرین                    چون بود آئین او قرآن کلام آخرین

        گر محمد  ۖاسوہء کامل پئے مردان بود               فاطمہ زھرا  پئے نسواں پیام آخرین

طرحی کلام

میرے لب  پہ ثنائے مدحت زہرا   جو آئی ہے                     رضائے کبریا کا مژدہ اپنے ساتھ لائی ہے

وجود سیدہ  ہے خلقت افلاک کا باعث                        انہیں کے نور سے یہ صبح عالم جگمگائی ہے

نزول رحمت رب رحمة للعالمیں ۖکے گھر                    کہ گویا ہرطرف سے رحمتی برسات چھائی ہے

اٹھیں تعظیم کو خود مرسل اعظم ۖ تلک جس کی               مقام و منزلت کی کیا عطاء زہرا نے پائی ہے

کہاں سبط  کہاں مدح وثنائے فاطمہ زہرا 

یہ لفظ و فکر کی خود ان کے در سے بھیک پائی ہے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب نیر جلالپوری صاحب

اپنی ماں کہہ کے پکارے جسے خود باپ اس کا        ایسا  دنیا  میں کسی  بیٹی کو   رتبہ نہ  ملا

جس  کی  چادر  میں  نظر آئے بہتر پیوند               اس کی چادر میں کہیں ایک بھی دھبہ نہ ملا

٭٭٭

(قصیدہ)

مریم  ہیں  ہاجرہ  ہیں  نہ  سارا  ہیں  فاطمہ             قد آئینوں کے پست ہیں بالا ہیں فاطمہ

قدرت  نے جو  دیا ہے  و ہ تحفہ ہیں  فاطمہ              معراج  مصطفیۖ کا  نتیجہ ہیں فاطمہ

پرچھائیں بھی نہ دیکھی کبھی دن کی دھوپ نے             نکلا  نہ  جو  ردا  سے  وہ  چہرہ ہیں فاطمہ

بے  حد  و  بے  شمار  علی  کی  فضیلتیں               ان سب میں  ایک  اور اضافہ ہیں فاطمہ

گودی میں لے کے فخر سے جھومیں نہ کیوں رسول         کل  ز ندگی  کی  ایک  تمنا  ہیں  فا طمہ

وہ  گھر کہ جس کے  در  کی سوالی  ہیں جنتیں            جو  رزق  بانٹتا ہے  وہ  فاقہ ہیں  فاطمہ

خیبر  شکن  کے واسطے  پیسی  ہیں  چکیاں              مشکل  کشا  علی  کا  سہارا  ہیں  فاطمہ

حیدر ہیں  وہ  نماز  شجاعت  نے  جو  پڑھی             عصمت نے جو کیا ہے وہ سجدہ ہیں فاطمہ

پہنچی  خدا  کے گھر سے یہ نسبت نبی کے گھر         اترا جو آ سماں سے  و ہ  رشتہ  ہیں فاطمہ

لہجہ  وہی  مزاج   وہی  گفتگو  وہی                          قرآں  علی ہیں  نہج بلاغہ  ہیں  فاطمہ

جب آگئیں بتول کھڑے ہوگئے رسول                               ثابت  ہوا  کہ  ام  ابیھا  ہیں  فاطمہ

مانا کہ  انبیاء سے  سوا پائے ہیں لقب                   پھر بھی ہر اک لقب سے زیادہ ہیں فاطمہ

سوروں میں ڈھل گئی جو وہ تحریر ہیں  علی           مانگا  جو  آیتوں نے  وہ  لہجہ ہیں فاطمہ

لو  استخارہ  کرکے یہ  عقدہ بھی کھل گیا                  قدرت سے گفتگو  کا  وسیلہ  ہیں  فاطمہ

رضوان لے کے  آگیا حسنین کے لباس                 اب  تو  کہو  خدا  کا  ارادہ  ہیں  فاطمہ

مرکز سے  ٹوٹ سکتا نہیں  دائروں کا ربط                معصوم  سب  دلیل  ہیں  دعوی ہیں فاطمہ

پیکر میں ڈھل گئی  ہے  مشیت  کی روشنی        تطہیر  کی   ردا   کا   اجالا   ہیں   فاطمہ

آؤ  رسول  پاک  یہ  منظر  بھی دیکھ لو                 دربار  میں  ہجوم  ہے  تنہا   ہیں   فاطمہ

ٹوٹی  ہوئی  ہے  آج  تلک جنت البقیع                پہلو  تمہارے  اب  بھی  شکستہ ہیں فاطمہ

یوں بھی کتاب کرب وبلا کا ہے اک ورق                بے  شیر  ہیں  علی  تو  سکینہ  ہیں فاطمہ

جو  پڑھ  لیا  زمانے نے وہ  مرثیہ حسین                لکھا  نہ  جا سکا  جو  وہ  نوحہ  ہیں  فاطمہ

نیر  مری زباں  کوئی قرآن  تو نہیں 

  میں کس طرح بتاؤں بھلا کیا ہیں فاطمہ

٭٭٭٭٭

شاعر : جناب رضا سرسوی صاحب

(ماں)

موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں        تب کہیں جاکر رضا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں

موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں      جب پریشانی میں ہوں بچے تڑپ جاتی ہے ماں

جاتے جاتے پھر گلے بچے سے ملنے کے لئے              توڑ  کر  بند کفن  باہوں کو  پھیلاتی ہے ماں

روح کے رشتوں کی یہ گھرائیاں تو دیکھئے                   چوٹ  لگتی ہے  ہمارے اور چلاتی ہے ماں

بھوکا سونے ہی نہیں دیتی یتیموں کو کبھی      جانے کس کس سے کہاں سے مانگ کر لاتی ہے ماں

ہڈیوں کا رس پلاکر اپنے دل کے چین کو                   کتنی ہی  راتوں  کو خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں

جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول                  آنسووں کے  ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں

ماردیتی ہے طمانچہ گر کبھی جذبات میں                  چومتی ہے لب کبھی  رخسار سہلاتی ہے  ماں

کب ضرورت ہو مِری بچے کو اتنا سوچ کر                       جاگتی رہتی ہے ممتا اور سوجاتی ہے ماں

گھر سے جب پردیس کو جاتا ہے گودی کا پلا                ہاتھ میں قرآں لئے آگن میں آجاتی ہے ماں

دیکے بچے کو ضمانت میں رضائے پاک کی                   سامنا جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں

لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم           ڈال کر باہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں

ایسا لگتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں             کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں

دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں             ریت پہ مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں

مرتے دم بچہ نہ آئے گھر اگر پردیس سے                 اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں

حال دل جاکر سنا دیتا ہے معصومہ کو وہ                    جب کسی بچے کو اپنی قم میں یاد آتی ہے ماں

تھام کر روضے کی جالی جب تڑپتاہے کوئی                ایسا لگتاہے کہ جیسے سر کو سھلاتی ہے ماں

گمرہی کی گرد جم جائے نہ میرے چاند پر                      بارش ایمان میں یوں روز نھلاتی ہے ماں

اپنے پہلو میں لٹاکر روز طوطے کی طرح                         ایک بارہ پانچ چودہ ہم کو رٹواتی ہے ماں

عمر بھر غافل نہ ہونا ماتم شبیر سے                        رات دن اپنے عمل سے ہم کو سجمھاتی ہے ماں

دوڑ کر بچے لپٹ جاتے ہیں اس رومال سے               لیکے مجلس سے تبرک گھر میں جب آتی ہے ماں

یاد آتا ہے شب عاشور کا کڑیل جواں                    جب کبھی الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھاتی ہے ماں

اللہ اللہ اتحاد صبر لیلا اور حسین                            باپ نے کھینچی سناں سینے کو سہلاتی ہے ماں

سامنے آنکھوں کے نکلے گر جواں بیٹے کا دم                  زندگی بھر سر کو دیواروں سیٹکراتی ہے ماں

سب سے پہلے جان دینا فاطمہ کے لال پر                      رات بھر عون ومحمد سے یہ فرماتی ہے ماں

یہ بتا سکتی ہے بس ہم کو رباب خستہ تن                 کس طرح بن دودھ کے بچے کو بھلاتی ہے ماں

شمر کے خنجر سے یا سوکھے گلے سے پوچھئے            ماں ادھر منھ سے نکلتاہے ادہر آتی ہے ماں

اپنے غم کو بھول کر روتے ہیں جو شبیر کو                 ان کے اشکوں کے لئے جنت سے آجاتی ہے ماں

باپ سے بچے بچھڑجائیں اگر پردیس میں                کربلا سے ڈھونڈنے کوفے میں خود آتی ہے ماں

جب تلک یہ ہاتھ ہیں ہمشیر بے پردہ نہ ہو                       ایک بہادر باوفا بیٹے سے فرماتی ہے ماں

جب رسن بستہ گزرتی ہے کسی بازار سے                          ایک آوارہ وطن بیٹی کو یاد آتی ہے ماں

شکریہ  ہو  ہی  نہیں  سکتا  کبھی  اس  کا  ادا   

مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں

٭٭٭٭٭

جشن مولود کعبہ

شاعر :  جناب سبط محمد رضوی صاحب

جب علی  کے فضائل سنانے لگے                                    خلد میں مصطفی ۖ مسکرانے لگے

یہ علی  کی ولادت ہے ہر بام و در                                             خانۂ کعبہ کے جگمگانے لگے

یہ ہی وارث ہیں قرآن کے دیکھ لو                                            آتے دنیا میں قرآں سنانے لگے

خم کے منبر سے اعلان جب ہوگیا                                          لوگ بخ کے نعرے لگانے لگے

جو بھی بیٹھا ہے محفل میں خاموشی سے                      ان کو حیدر کے نعرے جگانے لگے

ایک ٹھوکر سے مردے کو زندہ کریں                                         لوگ اس طرح اسلام لانے لگے

ہاں در سیدہ کا ہے یہ مرتبہ                                                 جس پہ جبریل قرآن لانے لگے

یہ بھی تسبیح زہرا  کا اعجاز ہے                                  میرے گھر بھی ملک آنے جانے لگے

جس کی تعلیم کا ہے شرف اس قدر                                   فضہ جنت کھانے منگانے لگے

جس کا رومال حر کا مقدر بنے                                        حر کو جنت کے رضواں بلانے لگے

یہ بھی زہرا کی عظمت کا اعجاز ہے                                  جس کا رشتہ ستارے بتانے لگے

سبطتیرے قصیدے کا کیا ہے مکاں

خلد میں یہ مکاں خود بنانے لگے

شاعر:  جناب نیر عباس رضوی صاحب

تیرہویں تاریخ ہے عصمت کا منظر دیکھیے                            خانہء معبود میں نفس پیمبر  دیکھیے

کس کے استقبال پر یہ کھل کھلا اٹھی جدار                       بن گیا ہے خانہء حق میں نیا در دیکھیے

بند کرتے تھے جسے چالیس پہلوانوں کے ہاتھ                  ہے وہی دو انگلیوں پر باب خیبر دیکھیے

آپ کے ہیں پاؤں دوش عصمت کونین پر                           اپنی عظمت اے ابوطالب  کے دلبر دیکھیے

کل ایماں ملیںمیںگی ہر نبی کی خصلتیں                     جس نبی کو دیکھنا ہے روئے حیدر  دیکھیے

 خوف سے جس کے یہ بت سب منھ کے بل گرنے لگے   اس کو کہتے ہیں شجاعت کا سمندر  دیکھیے

لب پہ من کنت کا صیغہ دست میں دست علی                       کون ظاہرہے غدیر خم کا منبر  دیکھیے

کیا بتاؤ ںزور حیدر کیا بتاؤ ںذوالفقار                                   باب خیبر دیکھیے جبریل کا پر  دیکھیے

مدح مولا کی بدولت ہم کو عزت مل گئی

بندہ پرور آپ نیر کا مقدر  دیکھیے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب نیر جلالپوری صاحب

یہ کم نہیں علی کی فضیلت کے واسطے                         گھر دے دیا خدا نے ولادت کے واسطے

قرآن پاک نہج بلاغت کے واسطے                                    آئینہ جیسے رکھا ہو صورت کے واسطے

ہیں اہل خلد بھی جہاں خدمت کے واسطے                    ہم خاکسار ہیں وہاں مدحت کے واسطے

روشن ہے مصحف رخ مولائے کائنات                                           قرآن آرہا ہے تلاوت کے واسطے

چاندی سخاوتوں کی علی بانٹتے رہے                               سونا بچا لیا شب ہجرت کے واسطے

مدح علی سنائیے بچوں کو رات دن                                نسخہ بتا رہاہوں ذہانت کے واسطے

چہرا علی کا سورہ رحمان کی قسم                                   کام آگیا تعارف قدرت کے واسطے

میثم فراز دار سے اعلان کرگئے                                   دل چاہیے علی سے محبت کے واسطے

جو پوچھنا ہو مجھ نکیرین پوچھ لو                                  اب آگئے علی مری نصرت کے واسطے

مل جائے گا لٹی ہوئی آنکھوں کو اعتبار                           موسی چلو نجف کی زیارت کے واسطے

اے بوریا نشیں ترے در کا فقیر ہوں                                  رضواں اٹھا نہ مجھے جنت کے واسطے

نیر  علی کے نام کی کرنوں سے بھیک مانگ                 سورج کے پاس کیا ہے تری چھت کے واسطے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

نبوت کے دکھائے معجزے تو وہ نبی ۖ ہوگا                       نبیۖ کہہ دے وصی جس کو یقینا وہ وصی ہوگا

بتوں کو جھکنے والوں کو نہ کم عقلو ولی کہنا              خدا کے گھر سے آئے جو وہی حق کا ولی ہوگا

٭٭٭

کوئی فضیلت بھی لے کے دیکھو تو کہہ اٹھو گے                  فضیلتوں کے صدف کا گوہر علی ولی ہے

خدا کے گھر میں ہوا ہے نقوی نزول جس کا                         بتول  عذرا   کا  پاک شوہر علی  ولی ہے

٭٭٭

گر دیکھنا چاہو کبھی میزان ولایت                                        ہے حیدر و صفدر کی ولا جان ولایت

جو منکر حیدر ہے وہی شخص ہے ناداں                           ناداں کو سمجھ آئے گی کیا شان ولایت

٭٭٭

دعائیں مانگو خدا سے علی  کے صدقے میں                           گنہگاروں کو کتنا معاف کرتا ہے

طواف کرتے ہیں حاجی تو خانہ کعبہ کا                                  یہ خانہ کعبہ علی  کا طواف کرتا ہے

٭٭٭

فرصت ہے زندگی کی مناجات کے لیے                               تو فیق مانگتاہوں تو اک بات کے لیے

مولا علی  کو دیکھ کر کہدوں میں قبر میں                          چھوڑی ہے دنیا تیری ملاقات کے لیے

٭٭٭

ہر شخص کو تاریخ میںحیدر   نہیں کہتے                                     ہم رتبہ کوئی اور بہادر نہیں کہتے

وہ جس کا صدف خانۂ کعبہ سا مکاں ہو                                 جز مولا علی   کے کوئی گوہرنہیں کہتے

وہ جس میں ہر اک خوبی ، مگر خامی نہیں ہے                         ہم اس کے سوا اور کو رہبر نہیں کہتے

فرمودہ پیغمبر اکرم  ۖکے مطابق                                         جز حیدر  و صفدر کوئی محور نہیں کہتے

انصاف و عدالت کے تقاضوں کے مطابق                                   ہم ادنی و اعلی کو برابر نہیں کہتے

اک عمر جھکیں لوگ جو اصنام کے آگے                               چہرہ کبھی ہم ان کا منور نہیں کہتے

تم سب کی تساوی کے ہو قائل تو رہو ، ہم                             جولاہوں کو ہم پایۂ قنبر نہیں کہتے

ہم غالی نہیں ، عالی ہی عالی ہیں اے لوگو                     مخلوق کوئی نور سے بہتر نہیں کہتے

تاریک ہے وہ دل ہو جہاں بغض علی   کا                            ظلمت کدہ ہم کوئی منور نہیں کہتے

فرمان پیمبر ۖ پہ ہے ایمان ہمارا                                        ہم غیر علی ساقی کوثر نہیں کہتے

جو بستر احمد ۖ پہ بڑے چین سے سوئے                        حیدر  کے سوا کوئی بھی دلبر نہیں کہتے

ہاں سید فصحاء عرب ہے مرا آقا                                  بڑھ کر کوئی حیدر سے سخنور نہیں کہتے

نقوی  کو پلا آب ولا ساقی کوثر                                  ہم پیاسے ہر اک ظرف کو ساغر نہیں کہتے

شاعر  :  جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

تعلیم  ہمہیں  ہے  میر  ے  مو  لا  کی  محبت         انسان کی فطرت  میں  عقیدت  ہے  علی   سے

بنتا  ہے  وہی  شخص  کا لانعام  کا   مصداق         پڑھ پڑھ کے بھی جس دل میںعداوت ہے علی سے

شاعر:  جناب ریحان بنارسی صاحب

بام کعبہ سے اٹھی جو کالی گھٹا مے گذاری کا مجھکو بہانا ملا

سوچتے سوچتے راستے مل گئے ڈھونڈتے ڈھونڈتے بادہ خانہ ملا

جس میں ویرانیوں کے سوا کچھ نہ تھا وہ چمن بھی بڑا دلبرانا ملا          

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سیر کرتی ملی جس طرف دیکھا موسم سہانہ ملا          

جب چلا لے کے شوق زیارت مجھے چلتے چلتے وہ نوری ٹھکاناملا

ہاں تمنائے دیدار پوری ہوئی ملنے والا مگر غائبانہ ملا

جس کی مدحت کرے ساکنان جناں رشک سے دیکھے جس کا مکاں لا مکاں        

ایسا  اشرف  نہ  پایا  کوئی  خانداں  اتنا  طاہر  نہ  کوئی  گھرانہ  ملا        

(قصیدہ)

علی  پہ تہمت لگا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

رسول ۖ کا دل دکھا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

نبیۖ نے جس کو وصی بنایا بڑھایا حق نے وقار اس کا          

تم اس کی عظمت گھٹا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا          

علی بنے خم میں سب کے مولا کسی کا اس میں ہے کیا اجارہ 

بلا سبب تاؤ کھا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

ہوئی جو حیدر  کی تاج پوشی تو اس میں صدمے کی بات کیا ہے             

فضول آنسو بہا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا              

علی ہیں اعلی علی ہیں اولی علی ہیں دونوں جہاں کے مولا

یہ سن کے کیوں طلملا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

تمہاری طینت میں ہے خرابی نہ تم حسینی نہ بوترابی           

ہمیشہ تم بے وفا رہے ہو  کوئی سنے گا تو کیا کہے گا            

تمہارے رہبر جو کہہ گئے ہیں اسی کو دوہرارہے ہو تم بھی

سنی سنائی سنارہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

دیا زمانے کو جس نے پردہ رسول کہتے تھے جس کو زہرا            

تم اس کے گھر کو جلا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا            

یہ کیسی آخر بہادری ہے گئے ہو میداں میں جس سے لڑنے

اسی  کو  پیچھا  دکھا  رہے  ہو  کوئی سنے  گا تو کیا کہے گا

٭٭٭٭٭

 

شاعر :  جناب آغا سروش حیدرآبادی صاحب

در زہرا  کی جانب کہہ کے یہ بڑھنے لگا تارا           چلو اب آسمانوں سے ذرا اوپر نکلتے ہیں

٭٭٭٭٭

کیوں وقت گنواؤں طلب جاہ میں مولا                   سب کچھ ہے میسر تر ی درگاہ میں مولا

شاعر ہے ترا صرف تری داد کا طالب                     ہے  نشہ کوثر تری ایک واہ میں مولا

٭٭٭

اے ساقی سلمان میں کچھ سوچ رہاہوں              دے  ساغر عرفان  میں کچھ سوچ رہا ہوں

ہے ذہن پہ احساس ارے نہج بلاغت                     کھولے ہوئے قرآن میں کچھ سوچ رہا ہوں

٭٭٭

اپنی جبیں پہ مل کے در فاطمہ  کی گرد                             تارا چلا ہے جھاڑ کے ارض وسما کی گرد

یوں عرش پر گئے وہ پیمبرۖ سے پیش تر                             رف رف کو بھی ملی نہ رہ مرتضی  کی گرد

پہنچی جوآسمان پہ تو کہکشاں بنی                                   جھاڑی جو بوتراب نے اپنی قبا کی گرد

لگتاہے عرش پر ترا دربار یا علی                                      یہ تخت و تاج تو ہیں ترے کفش پا کی گرد

پائی نہیں فضائل حیدر  کی گرد بھی                                  اس دوڑ میں بہت اڑی فہم و ذکا کی گرد

ہوں منزلیں نہ کیوں مرے قدموں میں یا علی                       ہے خضرراہ مجھ کو ترے کفش پا کی گرد

منھ کو کفن سے ڈھانپ کے جاتے ہیں اس لیے                    راہ عدم میں ہوتی ہے ہر دم بلا کی گرد

ہاتھوں سے اپنے صاف کیا بوتراب نے                            تربت میں میرے رخ پہ جو دیکھی فنا کی گرد

محشر میں خود رسول ۖ  بڑھے پیشوائی کو                          دیکھی جو میرے سر پہ رہ کربلا کی گرد

افشاں سمجھ کے مانگ میں حوروں نے ڈال لی                  باغ جناں میں پہنچی جو فرش عزا کی گرد

ہر دم رہے صفائی ذہن و دل و نظر                                       ان آئینوں پہ جمنے نہ پائے انا کی گرد

کیوں تابناک ہو نہ مقدر ترا سروش                                       ماتھے پہ ضوفشاں ہے در فاطمہ کی گرد

 

شاعر :  جناب رضا سرسوی صاحب

فقیروں کا ہے کیا چاہے جہاں بستی بسا بیٹھے               علی  والے جہاں بیٹھے وہیں جنت بنا بیٹھے

فراز دار ہو مقتل ہو زنداں ہو کہ صحرا ہو                             جہاں ذکر علی  چھیڑا وہیں دیوانے آبیٹھے

کوئی موسم کوئی بھی وقت کوئی بھی علاقہ ہو                جلی عشق علی  شمع اور پروانے آبیٹھے

علی  والوں کا مرنا بھی کوئی مرنے میں مرنا ہے     چلے اپنے مکاں سے اور علی  کے در پہ جا بیٹھے

ادھر ہم نے کیا رخصت ادھر آئے علی  لینے                یہاں سب رورہے ہیں ہم وہاں محفل سجا بیٹھے

ابھی میں قبر میں لیٹا ہی تھا اک نور سا پھیلا                    مری بالیں پہ آگر خود علی مرتضی بیٹھے

ادب کے ساتھ میں نے سر رکھا مولا کے پیروں پر           کہا مجھ سے سناؤ بوذر و سلماں بھی آ بیٹھے

علی  کے نام کی محفل سجی شہر خموشاں میں تھے جتنے بافاوہ سب کے سب محفل میں آبیٹھے

صدارت کے لیے تشریف لے آئے ابو طالب                 چچا  کے  پاس  آکر خود  محمد مصطفی ۖ بیٹھے

علم عباس  کا آیا زیارت کو ملک اٹھے                      علم کے سائے میں جتنے تھے ماتم دار آ بیٹھے

عزاداروں کے مرنے کا ہے بس اتنا سا افسانہ      کہ جیسے کوئی مسجد سے عزا خانے میں جا بیٹھے

یہ کون آیا کہ استقبال کو سب انبیاء  اٹھے             نہ بیٹھے گا کوئی تب تک نہ جب تک فاطمہ  بیٹھے

نظامت کے لیے مولا نے خود میثم کو بلاوایا              وہ لہجہ تھا کہ سب دانتوں تلے انگلی دبا بیٹھے

عزادارو ں کے نعروں نے رضا ایسا سماں باندھا

کہ  خود  مولا  بھی  اپنے  نام کا نعرہ لگا بیٹھے

٭٭٭٭٭


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 3 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن، اخبار ادبی
[ شنبه بیست و سوم مرداد 1389 ] [ 11:20 ] [ انجمن ] [ ]

  جشن عشق و وفا

شاعر :  جناب نیر عباس رضوی صاحب

جن کا غم حسین سے ہی واسطہ نہیں                             محشر میں ہوگا ان کا کوئی پیشوا نہیں

دیںگے صدا فرشتے کہ اے دشمن حسین                        دوزخ کی رہ گذر کے سوا راستہ نہیں

روزہ نماز حج و زیارت ذکاة سے                                          بن حب اہل بیت  کوئی فائدہ نہیں

 باغ فدک کو چھین نے والے توہی بتا

وارث رسول ۖ پاک کی کیا فاطمہ   نہیں

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

دل کی نگری پہ ولایت کا علم رکھتے ہیں                  ہاتھ میں شاہ کی مدحت کا قلم رکھتے ہیں

مشکلیں رستے سے گھبراکے پلٹ جاتی ہیں             یا علی  کہہ کے جونہی ایک قدم رکھتے ہیں

٭٭٭

کیا جو کچھ غور میں نے نقوی قضاوتیں ساری کہہ رہی تھیں

 نبی ۖ  کا  د لبر ، علی   کا یاور مقام کتنا متین ہو گا

ہر ایک حسن و جمال مجھ کو دکھائی دیتا تھا رشک کرتا  

حسن  کا بھائی ، حسین  نامی امام کتنا حسین ہوگا

٭٭٭

دوش سرور ۖ پہ تلاوت کی جو عادت کی ہے              پاک شبیر  نے رفعت پہ عبادت کی ہے

روکے کہتے تھے ملائک سبھی سبحان اللہ               نوک  نیزہ  کی بلندی پہ تلاوت کی ہے

٭٭٭

خواب و خیال و ذکر میں جنت کی دھوم ہے                        رکھتے ہو جب کہ شیخ عداوت حسین  کی

جنت کی فکر دل میں پنپتی ہے کس طرح                             سرور ۖ بتاگئے ہیں ہے جنت حسین  کی

 

قربان کرکے پیاس کویوں فتحیاب ہے                             اب تا بہ ابد سینۂ دریا کباب ہے

تاشام روز حشر وفائوں کے سامنے                            شرمندگی سے پانی کا ہر قطرہ آب ہے

٭٭٭

دریائے عطش ایسے بہائے لب دریا                          اٹھتی ہیں ہر موج کے دل سے یہ صدائیں

اے شاہ وفا تو نے مسخر کیا ہم کو                                اب راج کریں حشر تلک پاک وفائیں

٭٭٭

دنیا کے زیب و زین سے آزاد کہتے ہیں                             تبلیغ حق کی دلنشیں فریاد کہتے ہیں

زندان کو رلادے جو صبر جمیل سے                                   نقوی اسی کو حضرت سجاد  کہتے ہیں

٭٭٭

مزاج صبر زین العابدیں  کی وہ ہوئی ہیبت                    گلے کا طوق نوحہ خوان بن کر بین کرتا ہے

صدائے ماتم مظلوم زنجیروں سے آتی ہے                    یزیدیت کو یہ منظر بہت بے چین کرتا ہے

٭٭٭

شاعر  :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

جن کے دلوں میں تازہ ہے عشق علی کی آگ                    ان کو جلانہ پائے گی کوئی کہیں کی آگ

یہ عاشق حسین ہے کیا وقت کا خلیل                        جس کے حضور برد وسلامت میں ڈھلی آگ

عشق حسین ہے کہ جو فطرت کو بدل دے                       ورنہ  کہیں  سنا ہے کہ گلزار بنی آگ

شعلوں سے گذر جاتے ہیں ہم عشق علی میں                   ہم  کونہیں پروا کہ ہے یہ پھول کلی آگ

سبط   تیرا  کلام  منافق  کے  واسطے

ہر حرف ہے کانٹا تو ہر اک لفظ چھری آگ

٭٭٭٭٭

 

شاعر :  جناب رضا سرسوی صاحب

ہم تو دو کوڑی میں بھی بک جانے کے قابل نہ تھے          الفت  شبیر  نے  انمول  ہیرہ کردیا

ہم غریبوں کے عزا خانے میں آئیں فاطمہ               اس عزا داری نے ہم کو کتنا اونچا کردیا

٭٭٭

متحد رکھے ہے کل قوم کو تسبیح عزا                             ڈور ٹوٹے گی تو دانے بھی بکھر جائیں گے

مچھلیاں زندہ کہاں رہتی ہیں پانی کے بغیر                    ہم غم شہ سے جدا ہوں گے تو مر جائیں گے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب فیاض رائبریلوی صاحب

مسیحائی نثار اس شخص پرسو بار ہوجائے                        جو عشق عابد بیمار  میں بیمار ہوجائے

یہ ممکن ہی نہیں وہ خلد کا حق دار ہوجائے                     کسی سے بنت پیغمبر  اگر بے زار ہوجائے

دیا ہے فکر کو عشق علی  کا واسطہ میں نے                            تعجب کیا اگر نوک قلم تلوار ہوجائے

وہاں سے طائر مدح علی  پرواز بھر تے ہیں                        خیال و فکر کا پنچھی جہاں لاچار ہوجائے

وہ جنگ کربلا ہو یا کہ صلح حضرت شبر                          ہے مقصد آدمی کو آدمی سے پیار ہوجائے

بہت جلد آرہا ہے اک جری تیغ علی  لے کر                      جسے بچنا ہو وہ سرور  کا ماتم دار ہوجائے

کہیں اک ساتھ گر عباس  اور اکبر  نکل جائیں                     تو بازار مدینہ مصر کا بازار ہوجائے

اسے عباس  کہتے ہیں جو دریائے شجاعت میں               فقط دوہاتھ میں اس پار سے اس پار ہوجائے

علی  کے نقش پا پر مل لے دیوانے جبیں اپنی                 عجب کیا ہے کہ تو بہلول سا ہشیار ہوجائے

در مولائے  بوذرہی فقط دنیا میں وہ در ہے

جہاں مجبور بھی آجائے تو مختار ہوجائے

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب نیر جلالپوری صاحب

جو مشیتوں کا ہے رازداں وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

جسے سجدہ کرتا ہے آسماں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

جو خدا کے دیں کا ثبات ہے جو نبوتوں کی حیات ہے             

جو شہید ہوکے ہے جاوداں وہ حسین ہے وہ حسین  ہے            

وہ اذان میں وہ نماز میں وہی کائنات کے راز میں

وہ ثبوت خالق کن فکاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

وہ جو بی بی بنت رسول ہے جو عظیم ہے جو بتول ہے            

وہی شاہزادی ہے جس کی ماں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے            

کبھی مقتلوں کی زمین پر تو کبھی شفق کی جبین پر

جو لہو نے لکھی ہے داستاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

وہ خدائے کن کی کتاب ہے وہ سوال ہے وہ جواب ہے            

جو خموشیوں کی بھی ہے زباں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے            

جوچراغ بن کے جلا کیا وہ جو آندھیوں سے لزا کیا

جو اندھیری شب میں ہے ضو فشاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

کوئی پوچھے سجدے کے طول پر کہ ہے کون پشت رسول پر           

وہی جان سجدہ ہے بے گماں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے           

جہاں جھک کے ملتی ہیں رفعتیں جہاں رزق پاتی ہیں غربتیں

جو فرات ہے پئے تشنگاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

وہ کریم ابن کریم ہے وہ ہر اک بشر سے عظیم ہے           

وہ ہے مونس دل بیکساں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے           

بڑی عاجزی سی ہے ذکر وہ نہ آئے گا حد فکر میں

وہ ہے اک فضیلت بیکراں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

مرے نطق و حرف کی آبرو مری خامشی مری گفتگو          

وہ امام نیر  خستہ جاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے          

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

تیرا سجدہ تری مسجد ترا کعبہ سجاد                              ہر عبادت میں ہے روشن ترا چہرا سجاد

اک طرف عظمت توریت و زبور و انجیل                                  اک طرف تیری دعاؤں کا صحیفہ سجاد

سو صحیفے ترے خطبے کے تقدس پہ نثار                     تونے کوفے میں بھی بدلا نہیں لہجہ سجاد

سب کے سب ہیں ترے کنبے کی جلالت پر گواہ                  سنگ اسود ہو صفا ہو کہ ہو مروہ سجاد

سر کے بل چلتا ہے کعبہ ترے پیچھے پیچھے                           تیرا ہر نقش قدم ایک مصلی سجاد

کہکشاں ہے کہ ترے پاؤں سے لپٹی ہوئی دھول                     چاند ہے یا ترے ناخن کا تراشاسجاد

سحرو شام ترے گیسو و رخسار کا عکس                             اور سورج ہے ترا نقش کف پا سجاد

جس کو مل جائے ترے ہاتھوں کا دھون مولا                          کیا کرے گا وہ زمانے کا خزانہ سجاد

پائی اسلام نے آکر ترے دامن میں پناہ                            تونے قرآں پہ کیا دھوپ میں سایہ سجاد

پھر تصور میں مرے آگئے تیرے آنسو                              پھر سمندر مجھے لگنے لگا قطرہ سجاد

بار وہ تونے اٹھا یا جو کسی سے نہ اٹھا                              ہے رسولوں سے بڑا تیرا کلیجہ سجاد

صبر شبیر سے آگے ترے دل کی ہمت                               عصر عاشور سے آگے ترا رستہ سجاد

وہاں ایوب بھی ہوتے تو جگر پھٹ جاتا                                  جہاں آیا نہ ترے رخ پہ پسینہ سجاد

میرے احساس کی دولت بھی ترے درد کی بھیک                     یہ میرا خطۂ جاں تیرا علاقہ سجاد

تیری زنجیر کی نسبت سے قوی ہیں مرے ہاتھ               طوق منت سے ہے گردن میں اجالا سجاد

میں فرزدق نہیں نیر ہوں مگر تیرا ہوں

بس اسی ناز پہ لکھتاہوں قصیدہ سجاد

 

(در مدح حضرت عباس )

آسماں والوں سے پوچھو مرتبہ عباس  کا                    نام لیتے ہیں ادب سے انبیا عباس  کا

کوئی پتا ہل نہیں سکتا اجازت کے بغیر                   ساری دنیا ہے خدا کی اور خدا عباس  کا

ہو بہوعباس  تھے شیر خدا کا آئینہ                           بن سکا لیکن نہ کوئی آئینہ عباس  کا

یا شب ہجرت نیند دیکھی وقت نے                             یا شب عاشور دیکھا جاگنا عباس  کا

مائیں اپنے نونہالوں کو بنادیتی ہیں شیر                  ان کو لوری میں سنا کر واقعہ  عباس  کا

حرملہ بے شیر سے نظریں ملا سکتا نہیں              آنکھیں اصغر  کی تھیں لیکن رعب تھا عباس  کا

شام کے بزدل سپاہی بچ کے جائیںگے کہاں                میمنہ عباس  کا ہے میسرہ عباس  کا

ہوکہاں جبریل آؤ اک قصیدہ پھر پڑھو                                 دیکھ لو دریا پہ انداز وغا  عباس  کا

شیر سے آگے ہے شیر انہ نگاہوں کا جلال           کس میں ہمت ہے جو روکے راستہ  عباس  کا

وہ تو کہیٔے سامنے زینب  کی مرضی آگئی                       ورنہ سہہ پاتی نہ غصہ علقمہ عباس  کا

واراور تلوار دل اور عزم آنکھیں اور جلال                         ڈھنگ سب اکبر نے پایا ہے چچا عباس  کا

بے وفا پڑھ ہی نہیں سکتا کتاب کربلا                              ہر ورق پر آج بھی ہے حاشیہ  عباس  کا

بہتے پانی پر کوئی بھی نقش رک سکتا نہیں               ہے مگر موجوں پہ اب تک نقش پا  عباس  کا

پوری ہوجائے گی ہاتھ اٹھنے سے پہلے ہرمراد                    مانگ لو دے کر خدا کو واسطہ  عباس  کا

ڈوبتا سورج ابھرتے چاند پر لکھ کر گیا                                   حشر تک ہوتا رہے گا تذکرہ  عباس  کا

سر کہیں سینہ کہیں بازو کہیں گردن کہیں                        گھاٹ پر بکھرا ہے لاشہ جابجا  عباس  کا

اپنے بیٹوں کو نہ روئیں عمر بھر ام البنیں                         کرسکی ماتم نہ اب تک مامتا  عباس  کا

ہائے پردے کا محافظ عمر بھر یاد آئے گا                  کیسے غم بھولے گی زینب  کی ردا  عباس  کا

حشر کا میدان بھی کرب و بلا ہوجائے گا                جب بھی دکھیا ماں پڑھے گی مرثیہ  عباس  کا

سراٹھا کر دیکھتا ہے آسماں نیر کی شان 

 کتنی اونچائی پہ ہے ذوق ثنا عباس  کا

 

جشن ظہور نور

شاعر  :جناب محسن نقوی صاحب

میں ہوا سجدہ ہوا مسجد ہوئی کعبہ ہوا                             ہر کوئی ہے آپ کے دیدار کو ترسا ہوا

دیکھتا رہتاہوں ہاتھوں کی لکیریں رات دن                              آپ  کا  دیدار  ہو شاید کہیں لکھا ہوا

مصطفی ۖتامہدی دین دستخط سب نے کیے                     سارے گھر کے فیصلے سے فیصلہ حر کا ہوا

وہ مجسم منتظر اور میں ادھورا انتظا ر                           العجل کہتے ہوئے میں یوں بھی شرمندہ ہوا

تو نہ گر آیا تو میں خود موت تک آجاؤں گا

میں نے بھی ملنے کا ہے اک راستہ دیکھا ہوا

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

دل سے دل اور تیری آنکھوں سے ملی ہیں آنکھیں        تو جہاں بھی ہے تجھے دیکھ رہی ہیں آنکھیں 

نام لیتے ہی کھڑا ہوگیا تعظیم کو میں                            تیرے  آگے  پئے تسلیم جھکی ہیں آنکھیں 

نور وہ جس نے کہ موسی کو کیا تھا بے ہوش            وہ میرے سامنے ہے پھر بھی کھلی ہیں آنکھیں 

تاکہ ہوجاؤں میں زیارت سے مشرف تیری                  اس لیے میں نے عریضہ میں رکھی ہیں آنکھیں 

محو گریہ تھیں جو کربل کی کہانی سنکر                        وہ  فقط  تیری  ولادت پہ  ہنسی ہیں آنکھیں 

منتظر کب سے ہے سبط  تیرا اے راحت جاں

اب  تو  آجا کہ  سر راہ  بچھی ہیں آنکھیں

٭٭٭

ہمارا آج بھی ایسا امام  قائم ہے                          کہ جس کی وجہ سے سارا نظام قائم ہے

بتوں کی طرح نکالے گا تم کو کعبہ سے                      نبی ۖ  کا  آخری  قائم  مقام قائم ہے

نبی ۖکی آل پہ ظلم و ستم کیے تو مگر                             رہے  خیال  کہ  ذوانتقام قائم ہے

زمیں کا ذکر ہی کیا عرش پہ بھی ہے محفل                      یہ  ایک  سلسلۂ  نا  تمام  قائم  ہے

دکھادیں  جلوہء  پرنور و  مہر سبط   کو

کہ اس کے دل میں یہی اک مرام قائم ہے

٭٭٭٭٭

شاعر  :جناب نیر جلالپوری صاحب

یہ میری شب زندہ دار آنکھیں کریں گی تارے شمار کب تک     

  بتاؤ  مولا  کہ ختم  ہوگی  یہ  مدت  انتظار  کب تک

زمیں کو اپنے قدم سے روشن کروگے اے شہسوار کب تک         

ہٹے گی نظروں سے دھول کب تک چھٹے گا دل کا غبار کب تک         

ہماری آنکھوں کو کب ملے گا تمہارے انوار کا جزیرہ

تھکے ہوئے بازؤوں سے ہوگا سمندر ہجر پار کب تک

تمہارے جلووں کی جستجو میں ہر ایک خوشبو کے پیچھے پیچھے         

پھراکروںگا میںلے کے کاندھوں پہ زندگی کا مزار کب تک         

جو تم کہو تو میں جاکے چپکے سے چشم نرگس میں بیٹھ جاؤں

تمہارے دیدار کی تڑپ میں پھراکروں یوںہی خوار کب تک

زمانہ کانٹوں کی زد پہ رکھ رکھ کے کھینچتا ہے وجود میرا          

شکستہ ہاتھوں سے میں سمیٹوں یہ چادر تارتار کب تک          

چراغ بن کے ہوا کی زد پہ نہ جانے کب سے کھڑا ہوا ہوں

یہ میری بے اعتبار سانسیںدلائیں گی اعتبار کب تک

تمہارے لہجے کی خوشبوؤں پر ہزار ہا زعفران صدقے

کروگے آخر سماعتوں کی یہ کھیتیاں لالہ زار کب تک

مری زمینوں کو غصب کب تک کریں گے یہ دست آمریت          

خود اپنے گھر میں پکاراجاؤں گا میں غریب الدیار کب تک          

جلاوطن ہوںگے کتنے بوذر زباں کٹائیں گے کتنے میثم

بچھائی جائے گی موت کب تک سجائے جائیںگے دار کب تک

اب اپنے شانوں پہ لے کے عباس  کا علم آبھی جاؤ مولا          

یہ فتوے یوں ہی لگیں گے ذکر حسین پر باربار کب تک          

کبھی تو بدلے کا وقت نیر  کہ آئے گا وقت کا وہ حیدر

کہ ذوالفقار علی  کا قرضہ رہے گا آخر ادھار کب تک

٭٭٭

شکل وصورت میں مصطفیۖ کی طرح                اور شجاعت میں مرتضی  کی طرح

ہو  نہ  جائے  نصیریوں  کو  خبر                           تم تو غائب بھی ہو خدا کی طرح

٭٭٭٭٭

شاعر  : جناب تحریرعلی نقوی صاحب

                        اے امام زمان  آجائیں     منتظر ہے جہان آجائیں

٭٭٭

یوسف کنعاں کا جلوہ مصر کے بازار میں           یوسف زہرا  کے جلوے سے ہے حیراں کائنات

دو دفعہ یوسف بکے تاریخ شاہد ہے مگر           یوسف زہرا  کو لینے سے ہیںعاجز شش جہات

٭٭٭٭٭

 

جشن کرم و سخا

(حشن میلاد مبارک حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام)

شاعر  :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

جشن  ولائے  سبط  رسول  ا  نام ہے                              مل  کر پڑھو درود کہ یہ فیض عام ہے

تبریک و تہنیت میں ملائک ہیں صف بہ صف                            فرش زمیں سے تابہ فلک اژدھام ہے

بیت  علی  و فاطمہ   میں پہلی  عید ہے                        جو  مانگنا  ہو  مانگو  خوشی کا مقام ہے

سیرت میں ہے رسول ۖشجاعت میں ہے علی                  صورت میں کیا حسین حسن اس کا نام ہے

جشن حسن ہے منعقد یوں ہر مقام پر                                 مسرور ہراک پیرو جواں خاص و عام ہے

عشق علی میں رند ہو مے کش کہ بادہ نوش                   دل کھول  کے پیو  یہ  ولایت کا جام ہے

سبط  یہ  دوسرا  ہے  امام  امم  مگر

تسبیح  فاطمہ   کا  یہ  پہلا  امام ہے

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب نیر جلالپوری صاحب

یہ نہ کہنا کہ مجھے وقت نے مجبور کیا                   میرے کردار نے باطل کا بھرم چور کیا

بعد میں صلح ہوئی پہلے مرے دشمن نے                    میری رکھی ہوئی ہر شرط کومنظور کیا

٭٭٭

کہیں پہ صلح کی شرطیں ہیں اور کہیں تعویذ             قلم سے جیتے ہوئے رن کی بات کرتے ہیں

ہے ایک یہ بھی تو عنوان مدح قاسم  کا                       چلو حسن  کے لڑکپن کی بات کرتے ہیں

٭٭٭

 

(قصیدہ در مدح امام حسن مجتبی علیہ السلام)

شجاعتوں نے عجیب انداز سے قصیدہ لکھا حسن  کا

جہاں پہ تھی ذوالفقار حیدر  وہیں قلم رکھ دیا حسن  کا

چمن چمن کی ہے سرخ پھولوں نے سبزشال اوڑھ کر تلاوت         

بہا ر  آئی ہے  ڈالی  ڈالی  پہ جشن ہونے لگا حسن  کا        

اسی کی شادابیوں کو طوبی کی چھاؤں کہنے لگے فرشتے

بہشت کو مل گیا تھا اک پیرہن اتارا ہوا حسن  کا

نشان قدموں پہ پتھروں پر ابھار دیتا تھا جو محمدۖ          

 اسی محمدۖ کے دوش اطہر کا چاند ہے نقش پا حسن  کا          

ورق ورق پڑھ رہا ہے قرآں اسی کے کردار کا قصیدہ

حکومتوں کے مٹائے سے مٹ سکے گا کیا تذکرہ حسن  کا

ہے کتنا روشن خدا کا چہرہ یہ صاحبان یقیں سے پوچھو          

بھلا تذبذب کی آنکھ دیکھے گی کس طرح معجزہ حسن  کا          

کہاں جلال جبین ہاشم کہاں امیہ کے اندھے وارث

یہ شام کی مصلحت کے چہرے کریں گے کیا سامنا حسن  کا

یہاں تو نوک قلم بھی پھولوں کی پنکھڑی کی طرح رواں ہے          

یہ دم کسی تیغ میں کہاں ہے جو روک لے راستہ حسن  کا          

ہے مطمئن چہرہ امامت حکومتیں تھرتھرا رہی ہیں

بجا ہے بروقت برمحل ہے قدم قدم فیصلہ حسن  کا

کہاں گیا ظلمتوں کا حاکم کہاں گئی شا م کی حکومت              

سبھی سویروں کی سرحدوں پر ہے آج تک دبدبہ حسن  کا             

جہاد کی منزلیں بھی آتی ہیں امن کی راہ سے گذر کر

اگر سمجھنا ہے کربلا کو تو صلح نامہ اٹھا حسن  کا

ہزار بدلے جہاں کے موسم ترا پھریرا ہے سبز اب تک            

سلام اے کربلا کے پرچم کہ رنگ تجھ کو ملا حسن  کا            

مدینے والوں سے کوئی کہد ے کہ دیکھ لیں پھر علی کی ہیبت

زمین مقتل اٹھانے والا ہے تیغ پر لاڈلا حسن  کا

جہاں لہو کی عبارتیں ہیں وہی پہ مسموم حرف بھی ہیں           

کتاب مقتل ہے یہ ہے متن حسین  پر حاشیہ حسن  کا          

جو شخص اب تک سمجھ نہ پایا نبیۖ کی صلح حدیبیہ کو

اسے قیامت تلک سمجھ میں نہ آئے گا فلسفہ حسن  کا

کلیجہ انسانیت کا کب تک چبائے گی سازشوں کی ڈائن           

جناب حمزہ سے ملتا جلتا ہے کس قدر واقعہ حسن  کا           

سوال تھا یہ لحد میں مجھ سے میں کون ہوں میرا دین کیا ہے

جواب میں میں اٹھا اور اٹھ کے قصیدہ پڑھنے لگا حسن  کا

توہی بتا اے خدا ئے برتر کہ اور کیسے میں تجھ سے مانگوں          

میرے لبوں نے دعا کے حرفوں میں رکھ دیا واسطہ حسن  کا         

مجال کس کی جو ایک قطرے میں کل سمندر سمو کے رکھ دے

ثناکے قرضے اتار پائے گا کیا کوئی قافیہ حسن  کا

قلم کو ہچکی سی آرہی ہے حروف نیلے پڑے ہیں نیر

مرے لہو اب جگر کے ٹکڑوں پہ تو ہی لکھ مرثیہ حسن  کا

٭٭٭٭٭


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 3 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن، اخبار ادبی
[ شنبه بیست و سوم مرداد 1389 ] [ 11:17 ] [ انجمن ] [ ]

(جشن رأفت)

بمناسبت ولادت با سعادت امام رؤف ، ولی نعمت ثامن الحجج حضرت علی بن موسی الرضا علیہ آلاف التحیّة و الثنائ

طرحی مصرعے:

کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

خدایا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف  کی ہر عطا کا سایہ

شاعر :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

(قطعہ)

جب بھی طوفان غم میں پکارا رضا                      مل گیا مجھ کو فورا ًکنارا رضا

سبط  طوفاں سے بچ کر یہ دل نے کہا                کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

٭٭٭

طرحی کلام

اسی کے دل میں ہے نور ایماں، ہے جس کے سرپر ولا کا سایہ

وہی ہے انسانیت میں کامل ،ہے ساتھ جس کے وفا کا سایہ

وہ ذات  بر حق منزہ جسم، اور جسم اصلی ہے مصطفی  ۖکا         

یہ باقی عالم انہی کا صدقہ، انہیں کے ہے نقش پا کا سایہ         

انہیں کا اصلی ہے جسم لیکن، یہ جسم ہے نور کبریا سے

اسی  لیے تو  نہیں ملا  ہے ، کہیں بھی آل عبا کا سایہ

وہ مصطفیۖ ہوں کہ مرتضی ہوں، حسن  ہوں یا کہ حسین و زہرا          

ہے جسم اطہر سبھی کا واحد، صمد ہے آل خدا کا سایہ           

خدا نے مدحت کی کردی بارش، قسم بہ عزو جلال کھاکر       

ہوا ہے جیسے ہی پنجتن  کے،  سروں پہ یمنی کسا کا سایہ        

فلک سے جبریل آرہے ہیں ،تطہیری آیت کا تحفہ لے کر           

برس رہی ہے خدائی رحمت، ہے ہر طرف انما کا سایہ           

یہ قوم زندہ ہے اور رہے گی ہمیشہ اس کو فنا نہیں ہے

عزائے کرب وبلا ہے ضامن، ہے سیدہ کی دعا کا سایہ        

وہ بچے کیسے ہراس کھائیں،وہ موت سے کیسے منھ چرائیں          

دلوں میں جن کے ہے عزم قاسم  سروں پہ ہے با وفا کا سایہ          

رؤف مولا  کے آستانے پہ بزم رأفت کی یہ دعا ہے        

خدایا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف  کی ہر عطا کا سایہ        

وطن سے سبط ہو دور لیکن کبھی نہ خود کو غریب کہنا           

ہے شہر غربت میں تیرا ضامن انیس و ہمدم رضا  کا سایہ          

٭٭٭

زمیں کو چھوڑ کے کرتا ہوں آسمان کی بات                مرے لبوں پہ ہے اب شاہ خراسان  کی بات

شہر مشہد ہے روایت میں ریاض جنت                      یہ روایت ہے مگر لگتی ہے قرآن کی بات

ذکر معصومہ  کا کیوں نہ کروں مشہد میں                 شہر معصومہ  میں ہے شاہ خراسان  کی بات

ہو ولایت کا اگر ذکر تو کفار صفت                          قول مرسلۖ  کو بھی کہہ دیتے ہیں ہذیان کی بات

مدح مولا میں عقیدے نہیں بکتے اپنے                      ہم نہیں کرتے کبھی ڈالر و تومان کی بات

یہ عقیدہ ہے مرا اور یہی مذہب سبط

مدح مولا ہی حقیقت میں ہے ایمان کی بات

٭٭٭٭٭      

شاعر :  جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

رب کا احسان ہیں امام رضا ،میرا ایمان ہیں امام رضا

زندگی تو انہیں کا صدقہ ہے،قلب کی جان ہیں امام رضا

کیسے مدحت بیان کروں ان کی ،وہ سمندر ہیں میں تو قطرہ ہوں    

ڈوب جاؤں کہیں نہ لہروں میں ،اس تخیل میں آکے ڈرتاہوں    

جن مدحت میں ہے کلام خدا ،ایسا قرآن ہیں امام رضا                

آدمی کیسے سمجھے ان کا مقام ،جن کا صدقہ ہیں دوجہان تمام

ایسی ہستی ہیں دو جہانوں میں ،ہیں ملائک انہیں کے در غلام

ساری دنیا فقیر ہے جن کی ،ایسے انسان ہیں امام رضا                

جو ہمیشہ کھلے ہی رہتے ہیں دوہیں ایک ایک سے صفا کا حرم

ایک مکے میں ہے خدا کا حرم ، ایک مشہد میں ہے رضا کا حرم

جھولیاں بھر کے سب کو دیتے ہیں ، ایسے سلطان ہیں امام رضا                

مولا ضامن ہیں کل غریبوں کے ، کل ایماں علی کے بیٹے ہیں

  جو یہاں پر فقیر آتے ہیں ، ان کی چوکھٹ کو چوم لیتے ہیں

بانٹتے ہیں بصیرتیں مولا ، کتنے ذیشان ہیں امام رضا                 

روضہ ایسا کہ جس سے بٹتی ہو ، ہر مرض کی دوا مریضوں کو

جالیاں چوم کرہی ملتی ہے ، اپنی اپنی مراد لوگوں کو

ان سے اپنی مراد لو اطہر ، تیرے درمان ہیں امام رضا                 

٭٭٭٭٭

 

طرحی کلام

رحمت دو جہاں کا دلارا رضا                               ہے علی اور زہرا کا پیارا رضا

رشک خورشید لگتاہے گنبد ترا                          عرش چھوتا ہے تیرا منارارضا

مجھ سے تیری سخاوت نے یوں کہدیا                 لکھ رہا تھا قصیدہ تمہار ا رضا

کیوں پریشاں ہو دریائے حیرت میں تم              کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

غرق ہونے کو تھا بحر ظلمت میں میں                   مل گیا مجھ کو تیرا کنارا رضا

سجدۂ شکر میں ہے جبین قلم                           تیری رأفت کا پاکر اشارہ رضا

مدحت آفتاب امامت میں ہوں                         اس سماں نے مرا دل سنوارا رضا

مشکلیں میری اطہر سبھی حل ہوئیں

صدق دل سے جو میں نے پکارا رضا

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب الفت حسین جویا صاحب

اک عرش نشیں آج کے دن اترا زمیں پر                                 انوار الہی کی تجلی ہے جبیں پر

عصمت کے گلستان کا گر پھول ہے دسواں                       تو آٹھواں ہے نقش ولایت کے نگیں پر

وہ حسن و ملاحت ہے کہ یوسف  سا حسیں بھی             انگشت بدندان ہے کاظم  کے حسیں پر

مظہر ہے یہ الطاف الہی کا جہاں میں                             ہے اس کا کرم عرش نشیں فرش نشین پر

کچھ شرطیں رکھیں ایسی ولی عہدی کی خاطر                      تنگ ارض خدا ہوگئی مامون لعیں پر

یہ موت کے لمحات سے فردوس بریں تک                           زائر کو اکیلا نہیں چھوڑے گا کہیں پر

الفت ہوا محسوس یہ مشہد میں پہنچ کر

عقبی میں جو دیکھیں گے وہ جنت ہے یہیں پر

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب فیاض رائبریلوی صاحب

رضا کے روضے پہ لایا مجھ کو رضا  کی مدح و ثنا کا سایہ 

بہشت میں بھی دلائے گا گھر ولایت مرتضی  کا سایہ

نہ کیوں اٹھاؤں وفا کا پرچم نہ کیوں کروں بے کسوں کا ماتم                

ہر ایک غم سے بچا رہا ہے ہمیں غم کربلا کا سایہ                   

کسی میں اتنی نہیں ہے ہمت جو آنکھ ایران سے ملائے 

خبر ہے سب کو علی  کے شیروں پہ ہے علی رضا  کا سایہ

علی  سے ہٹ کر نبی کی باتیں جو کر رہے ہیں وہ ناسمجھ ہیں                

بغیر حیدر  نہ مل سکے گا انہیں رسول خدا  ۖکا سایہ                

مصیبتیں توڑدیں گی دم آفتیں بلاؤں میں خود گھریں گی

پڑے گی مشکل میں خود ہی مشکل جہاں ہے مشکل کشا کا سایہ

یہ بات سچ ہے تمام دنیا پہ عرش سایہ فگن ہے لیکن

بلندی عرش ڈھونڈتی ہے زمیں پہ فرش عزا کا سایہ

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

موسی  کے بعد سر پہ ہے جس کے ولا کا تاج                 غرباء و مساکین کی رکھتاہے خوب لاج

حیرت میں ڈوب ڈوب کے دیکھو نہ فرش کو                     اے عرشیو تولد مولا رضا ہے آج

٭٭٭

میں چشم دل جماتا ہوںجو تیری آستانوں پر            نگاہیں جھک کے بوسے دیتی ہیں تیرے نشانوں پر

وہ چوکھٹ ہے تری چوکھٹ کہ رکھتا ہوں میں لب جس پر         تو اپنے آپ کو پھر دیکھتا ہوں آسمانوں پر

٭٭٭

وہ جن کے ساتھ ملائک زمین لگتے ہیں                         انہیں بلندی کا ہم آسمان کہتے ہیں

جہاں جھکائیں جبینوں کو جن و انس تمام                      رضائے فاطمہ  کی آستان کہتے ہیں ٭٭٭

آسمانوں سے اجازت جنہیں مل جاتی ہے                      رأ فت حق کی زیارت کو چلے آتے ہیں

بقعۂ نور ہے مشہد میں حرم مولا  کا                              یہ ملائک بھی عبادت کو چلے آتے ہیں

طرحی کلام

عقیدہ خالص دیا خدا نے ، ملا ہمیں انما کا سایہ

گھٹا ہو رحمت کی کیوں نہ سر پہ عطا ہے آل عبا کا سایہ

رؤف  کی ہر عطا کا سایہ نبی حق مصطفیۖ کا سایہ         

جسے عطا ہے رضا  کا سایہ اسے عطا مرتضی  کا سایہ         

ہے فخرشیعوں کا روز محشر عطا رہے گا خدا کا سایہ

بہ لفظ دیگر جناب زہرا کا یعنی خیر النساء کا سایہ

کریم آل نبی حسن ہیں ہے حسن میں کبریا کا سایہ          

جسے ملا ہے رضا  کا سایہ اسے ملا مجتبی کا سایہ          

یہ ایک سایہ ہے جس کے نیچے تمام اہل ولا ہی ہونگے

یہ پانچ تن کا چہادہ کا یہی شہ کربلا کا سایہ

تہی نہ دامن کبھی ہو میرا عطا رہے ہر سخا کا سایہ          

خدا یا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ          

میں گننا چاہوں عطائیں اس کی تو میری کوشش یہ بے ثمر ہے

خدا یا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ

غریب مولا  کی جن دلوں میں رہی ہے چاہت ہو ان کی نصرت         

قدم قدم پر سکون دل ہو ملے امام رضا کا سایہ          

دیار غربت میں رہنے والو تمہیں نہ غربت اداس کردے 

دعا کرو کہ غریب مولا کی مل سکے بس دعا کا سایہ

طلائی گنبد پہ آگیا جب علم وفائوں کا آتے آتے          

دعا کو اٹھے ہیں ہاتھ دل سے طلب کیا ہے وفا کا سایہ         

یہ شہر مشہد کی دل نشینی ترے ہی یمن وجود سے ہے

غریب آقا نصیب رکھنا علم کی ٹھنڈی ہوا کا سایہ

یہ دے دے باور کہ مال دنیا ہے ڈھلتی چھائوں فنا کی زد میں       

اسی کی برکت سے رکھنا دائم اس اپنی جنت فضا کا سایہ       

نہ دھوپ کوئی ہمیں ستائے گی اپنے لطف و کرم سے یا رب

ابد تلک گر ہمیں عطا رکھ علی  ولی کی ولا کا سایہ

نفاق و بغض و حسد کے ماروں کو تو ہمیشہ ہی مارتا ہے         

ہر ایک نعمت سے خالی دامن ہوں ان کو دے بس فنا کا سایہ         

ہو نفسا نفسی کا جبکہ عالم صدائے شیون ہو آسماں پر

ہمیں طفیل رئوف دے دے خدایا اپنے لوا کا سایہ

گناہ دیکھیں جو لوگ اپنے پسینے چھوٹیں کہ چشمے پھوٹیں        

بحق رأفت غریب کرب و بلا کا دینا عزا کا سایہ        

خدا کے چہرے کو کب فنا ہے بقا ہے وجہ خدا کو بے شک

غلامی چودہ کی جن کو حاصل ہے مل سکے گا بقاکا سایہ

سلام پر چم کا کرکے اٹھتی ہے جب ہوا تیرے اس حرم سے      

فرشتے بھی پھر بنا کے صف مانگتے ہیں تیری ہوا کا سایہ      

شرف یہ تونے ہی بخشا نقوی  رؤف مولا کا مدح خواں ہے

یہ فضل اپنا مدام رکھنا ملے ہمیشہ ثنا کا سایہ

طرحی کلام

کوئی بھی جب بھی دل سے پکارا رضا                              اس کوفورا ہی بخشے کنارا رضا 

لوح دل پہ مرے دست تقدیر نے                                            کرکے تحریر اور پھر نکھارا رضا

کیا کسی کے عقائد سے ہم کو غرض                                ہم نے دل میں اتارا سنوارا رضا 

ایک دے پائوں آکے جو خالص سلام                                    پھر بلالیں گے جلدی دوبارہ رضا 

ہوں رہ زندگی میں جو طوفاں تو کیا                                  کشتی زیست کا ہے سہارا رضا 

کون ہے شاہ رأفت یہ جلوہ فشاں                                       رحمت حق نبی کا ہے پارا رضا 

اس نے دین خدا سے کنا را کیا                                          جس کو ہرگز نہیں ہے گوارا رضا 

جب بھی موج حوادث بڑھے اس طرف

نقوی کی ہو اماں تم خدارا رضا 

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب محمدحسین بہشتی صاحب

ترے فقیر بھی شاہی مزاج رکھتے ہیں                          ہیں خرقہ پوش مگر سر پہ تاج رکھتے ہیں

ہے ان کے پیر کی مٹی بھی کیمیا اے دوست               یہ بڑھ کے لعل و گہر سے زجاج رکھتے ہیں

بہشتی ان کی بزرگی کا کیا بیاں کیجیے                     زمیں پہ چاند ستاروں پہ راج رکھتے ہیں

٭٭٭

 

ترے فقیر بھی شاہی مزاج ہوتے ہیں                       شراب ناب سے دامن کو اپنے دھوتے ہیں

ترے ہی عشق میں سرمست ہیں وہ شام و سحر             تجھی کو یاد کیا کرتے اور روتے ہیں

کہاں پہ جائیں ترے آستاں کو چھوڑ کے ہم                ہمیشہ خار تو پھولوں کے پاس ہوتے ہیں

بہشتی جاکے امام رؤف کے در پر 

فسانہ اپنا سناتے ہیں اور روتے ہیں

٭٭٭

اس بحر بے کراں کا کنارا رضا  ہی ہے                          دل کے ہمارے درد کا چارہ رضا  ہی ہے

حضرت کے نور ہی سے ہے روشن یہ کائنات                 افلاک پہ چمکتا ستارہ رضا  ہی ہے

عالم میں جھولیوں کو ہماری بھر ے گا کون                    ہم کو تو دینے والا ہمارا رضا  ہی ہے

ظلمت کی فکر اپنے خیالوں سے دے نکال                    بخشے گا تجھ کو نور نظارہ رضا  ہی ہے

جو مجھ کو لے کے آیا حقیقت کی راہ پر                         یہ مصطفی کا راج دلارا رضا  ہی ہے

یہ عرش یہ زمین ، مکان اور لامکاں                                 ان سب کا تاج دار ہمارا رضا ہی ہے

سلطان بحر و بر کی ہے آمد اے دوستو                            کیا فکر ہے نجات کا چارہ رضا  ہی ہے

مشکل میں جب گھر ے تو نگاہوں میں تھے یہی              اہل کرم ہے دل کا سہارا رضا  ہی ہے

شمش الشموس اور انیس النفوس ہے                      ہم سب کی کشتیوں کا کنارا رضا  ہی ہے

میرا جہاں میں کون ہے بس آپ کے سوا                مشکل میں میں نے جس کو پکارا رضا  ہی ہے

گھبرانہ اے بہشتی نہ دامن رضا کا چھوڑ 

نادان تیرے درد کا چارا رضا  ہی ہے

٭٭٭٭٭

 

شاعر  :  جناب ناطق علی پوری صاحب

ہم اپنے دل کا راز بتاتے ہیں آج بھی                          مولا تمہارا جشن مناتے ہیں آج بھی

باطل کو ہو شکست کا احساس ہر گھڑی                 ہم اس لیے علم کو اٹھاتے ہیں آج بھی

فرش عزا بچھاکے گھروں میں حسین کا                  جنت سے فاطمہ  کو بلاتے ہیں آج بھی

٭٭٭

اعلان کررہی ہے یہ ایران کی زمیں                            یورپ کی سرزمین ہے شیطان کی زمیں

حملہ کرے گا جو بھی وہ ہوجائے گا تباہ                         جنت کی آبرو ہے خراسان کی زمیں

ہم کرتے نہیں تخت کی سلطان کی باتیں                      ہیں زیب دہن قنبر و سلمان کی باتیں

کیوں کر نہ کریں قم کی خراسان کی باتیں                   عرفان کی باتیں ہیں یہ ایمان کی باتیں

سر خم ہے مرا شاہ خراسان  کے در پر                           مت کیجیے ا ب تخت سلیمان کی باتیں

الماس ہیں اقوال رضا  کے مرے آگے                                   اب کون کرے لولوو مرجان کی باتیں

جو بھی ہیں بھکاری در معصومہ ٔ  قم  کے                       کرتے ہی نہیں وہ کبھی نقصان کی باتیں

بہرے  ہیں سبھی دشمن اولاد پیمبر                                سنتے ہی نہیں فخر سلیمان کی باتیں

عرفان کہاں آل پیمبر  کا کسی کو                                    دنیا ابھی سمجھی نہیں قرآن کی باتیں

دیکھو کبھی تاریخ کے اوراق الٹ کر                                  کب کفر سمجھ پایا ہے ایمان کی باتیں

یہ شاہ خراسان  کی ہے پشت پناہی                               مغرب کو ہلا دیتی ہیں ایران کی باتیں

طرحی کلام

عطا ہو فکر رسا کو یا رب رضا  کی مدح ثنا کا سایہ 

میں واسطہ دے رہاہوں اس کا نہیں تھا جس مصطفی  ۖکا سایہ

زمین ایران پر جو پایا مری نظر نے رضا کا سایہ          

کہیں پہ دیکھا نجف کا سایہ کہیں ملا کربلا کا سایہ          

کلام رب کے ہر ایک قاری سے کہہ رہی ہے زمین مشہد

یہاں بھی ہے انما کا سایہ یہاں بھی ہے ھل اتی کا سایہ

مری نگا ہوںکے سامنے  ہیں حیات افزا حسیں مناظر        

جبین فطرت کی سادگی پر اتر رہا ہے رضا  کا سایہ         

رضائے حق کا یہ میکدہ ہے شراب کوثر عطا ہو یا رب

ہمارے دل میں رہے ہمیشہ خمار روز جزا کا سایہ

شعور مدحت بفیض مولافصیل ہستی پہ ضوفشاں ہے         

جدھر ٹھہرتی ہیں یہ نگاہیں ادھر ہے صدق و صفا کا سایہ         

تری مودت کے آئینے میں بقا کے چہرے چمک رہے ہیں

ہے تیری سیرت کا گوشہ گوشہ طہارت فاطمہ  کا سایہ

ہوا ہے مولا کے در پہ حاضر غلام بن کرپھر آج ناطق

خدایا سرپہ رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ

شاعر  :  جناب ریحان بنارسی صاحب

طرحی کلام

سفر میں ہر گام پر معاون رہا امام رضا  کا سایہ

یہی سبب ہے کہ دور ہی تھا ہر ایک رنج و بلا کا سایہ

کھلا ہے مے خانہ مودت چلو پیو تشنگان مدحت        

کہ آج ہر ساغر و صبو پر پڑاہے ان کی عطا کا سایہ        

کہیں پہ   مینا  کہیں پہ ساغر  کہیں پہ خم ہے کہیں صراحی

اور اس پہ ڈالے ہؤے ہے ساقی خود اپنی نوری ردا کا سایہ

 

شاعر  :  جناب فیروز رضا نقوی صاحب

طرحی کلام

جس نے تھاما نہ دامن تمہارا رضا                               اس کا گردش میں ہوگا ستارا رضا

رزق رب نے دیا گو یہ سچ ہے مگر                                   کھا رہا ہے جہاں تیرا صدقہ رضا

مشکلیں گھر گئیںمشکلوں میں سبھی                     میں نے جیسے ہی تم کو پکارا رضا

چاندو سورج میںپنہاں ہے تیری ضیاء                           تجھ سے دنیا میں پھیلا اجالا رضا

اس کے قدموں پہ شاہ جہاں جھک گئے                         جس نے سر کو رکھا تیرے در پہ رضا 

غیر کے در پہ جاؤں بھلا کس لیے                                   میری مدحت کا کعبہ ہے مولا رضا 

ٹھوکروں میں رہا تاج شاہی مگر                                           خاک پہ زندگی کو گذارا رضا 

مصطفی  ۖمل گئے ہیں خدا مل گیا                                 مل گیا جس کو قسمت سے مولا رضا 

فیصلہ ہوگا جادو ہے یا معجزہ                                          شیر قالین کو کر اشارہ رضا 

روشنی دین حق کی ملے گی وہاں                                      ذکر ہوگا جہاں پر تمہارا رضا 

مشکلیں جب پڑیں آیا در پہ ترے                                    ہونہ پایا کسی کا گذارا رضا

فخر ابن خلیل خدا آپ ہیں                                         حکم پہ تیرے پانی ہو صحرا رضا

حادثے خود بخود سب فنا ہوگئے                                       نام بازو پہ باندھا جو تیرا رضا

یہ زمیں آسماں چاند وسورج جبل                                  آپ ہی کا ہے صدقہ یہ مولا رضا 

مرقد غیر کا اب تصور نہیں                                         خانہ دل میں تیرا ہے روضہ رضا 

مجھ کو محشر کا کچھ بھی نہیں خوف ہے                                   کشتی زیست کا ہے سہارا رضا 

شاہ دنیا سے فیروز اعلی ہے وہ 

مل گیا جس کو بھی تیرا صدقہ رضا 

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب نصیر اعظمی صاحب

مولا تیری دعوت ہی وہ دعوت ہے کہ جس میں            ہم کھنچ کے خود آتے ہیں بلایا نہیں جاتا

سب جیسے ترے در کی طرف دوڑ رہے ہیں              اس طرح تو جنت میں بھی جایا نہیں جاتا

طرحی کلام

ہماری فکر رسا پہ ہے اس طرح کتاب خدا کا سایہ

لبوں پہ ہے آیہ ولایت سروں پہ ہے انما کا سایہ

توبغض عترت کی دھوپ میں ہے نہ ہو گا اللہ تجھ سے راضی        

رضا  کی محفل میں آ ملے گاتجھے خدا کی رضا  کا سایہ         

منائیں وہ لو گ خیر اپنی جو حشر میں بے اماں رہیں گے

حسینیوں پر بروز محشر رہے گا فرش عزا کا سایہ

یہ پاک مشہد کا ہے علاقہ وہ سر زمین مقدس قم         

ادھر بھی حق کی عنایتیں ہیںادھر بھی رب کی عطا کا سایہ         

یہاں سے قم تک جدھر بھی دیکھو خدا کی رحمت برس رہی ہے

ادھر سروں پر علی  کا سایہ تو اس طرف فاطمہ  کا سایہ

یہ کہدو امریکیوں سے جاکر نظر اٹھائیں ذرا سنبھل کر        

پڑے گا ایران پر نہ ہر گز تمہاری جور و جفا کا سایہ        

کرم محبت وفا عنایت شفا ہدایت نجات جنت

خدایا سرپر رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ

زمانہ مل کر مٹانا چاہے تو مٹ نہیں سکتی قوم شیعہ

نصیر اس قوم پر ہے بنت رسول حق کی دعا کا سایہ

٭٭٭٭٭

 

شاعر  :  جناب محمد معراج خان صاحب

فاطمہ معصومہ قم مرجع عالیمقام                           ہے سوالی در پہ ان کے خاص ہو یا کہ عام

ہر گھڑی مجمع لگاہے صبح ہو یا کہ شام                       ان کی زیارت کے لئے آئے زمانہ کا امام

دختر معصوم ہیں اور خواہر معصوم بھی

کرلے سجدہ در پہ ان کے یہ مرا منظوم بھی 

لطف زہرا کے حوالے سے بنی محکم دلیل                         ہے کریمہ سب کی خاطر چہ مجرد چہ معیل

 آسرا بے آسروں کا بے کفیلوں کی کفیل                     ان کی چوکھٹ ان کی جالی ان کا گنبد بے مثیل

گنبد زریں پر چشم بشر رکتی نہیں

کون سی گردن ہے جو تعظیم کو جھکتی نہیں

ہوگئی جس پر نظر وہ خادم در ہوگیا                                کرلیا جس نے جبیں سائی وہ اختر ہوگیا

بالاخص ان پہ یہ لطف رب اکبر ہوگیا                              کردیا جس جا عبادت نور کا گھر ہوگیا

ان قدم پاک سے جو بھی زمیں مس ہوگئی

بے تقدس تھی وہ پہلے اب مقدس ہوگئی

اک طرف صحن عتیق و صحن نجمہ دیکھ کر                             کیف میں دل آگیا جنت کا نقشہ دیکھ کر

رشک کرتے ہیں ملک رحمت کا پردہ دیکھ کر                     چھپ گیا مہر منور ان کا روضہ دیکھ کر

وجد میں خورشید ہے تابانیت کو دیکھ کر

خیراں ہے چشم بشر نورانیت کو دیکھ کر

اس طرح ان کے حرم میں ہے شبستان امام                    عرش کی آغوش میں ہو جس طرح ماہ تمام

نام کی دنیا میں بھی تھا سب سے عالی جس کا نام              فعل احسن کے مساوی جس کا تھا ہر اک کام

جس کا تنہا ساری دنیا میں دل و معراج تھا

در حقیقت ذہن انسانی کی جو معراج تھا

 

شاعر  :  جناب سبط محمد رضوی صاحب

طرحی کلام

مؤمنوں نے ہے جب بھی پکارا رضا                             مشکلوں میں بنے ہیں سہارا رضا 

تیرے دادا علی  دادی ہیں فاطمہ                                    ہے امامت کا ہشتم ستارہ رضا

مشکلوں میں یہ امداد سب کی کریں                                دوست دشمن نہ دیکھے ہمارا رضا 

کوئی غربت میں زائر نہ بھوکا رہے                                   ہے کرشمہ یہ سفرہ تمہارا رضا

رہ کے مشہد میں غربت یہ ممکن نہیں                             سب پہ نعمت کا بہتا ہے دھارا رضا

گر ملے تیرے قدموںمیںجنت مجھے                         موت پردیس میں ہے گوارا رضا

تیرے روضے پہ آکے مجھے یوں لگا                               خلد کا جس طرح ہو نظارہ رضا

در پہ بن کے گدا میں ہمیشہ رہوں                                اور  راضی رہے بس ہمارا رضا

دشمن دیں کو زندہ نگل جائے وہ                                  کردیں قالین کو گر اشارہ رضا

مرحبا مجھ کو کہہ کے پکاریں ملک                             لب پہ آیا میرے جب دوبارہ رضا

کرکے ورد زباں مشکلیں ٹل گئیں                                 کتنا ہے بااثر نام پیارا رضا

جو بھی محفل میں بیٹھا ہے حاجت لیے                             رہ نہ پائے کبھی وہ کنوارا رضا 

چھوڑ کر اس کو کیسے بجھے تشنگی                                    حوض کوثر کا ہے جب کنارا رضا

تھک کے مامون کو بھی یہ کہنا پڑا                                کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

غیر ہوں یا کہ اپنے سبھی کے لیے                              درد  و  رنج  و  الم کا مدارارضا

سبط  مولا مدد کے لیے آگئے

جب لحد میں کہا دیں سہارا رضا

٭٭٭٭٭

 

شاعر  :  جناب محسن نقوی صاحب

المدد مولا رضا  مولا رضا                  اے مرے مشکل کشا  مولا رضا 

 آپ ہیں جان علی  و سیدہ                     آپ ہیں نور خدا  مولا رضا 

دربدر دنیا میں پھرتا میں مگر                    آپ کا در مل گیا  مولا رضا 

دیکھنی ہے جس کو جنت جیتے جی               دیکھ لے روضہ ترا  مولا رضا 

عمر بھی کرتا رہے تیری ثنا

آپ کا محسن رضا  مولا رضا 

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب  نیر جلالپوری صاحب

دیار عشق کے بے خواب جگنو بات کرتے ہیں

ثنائے ثامن ضامن ہے آہو بات کرتے ہیں

علی ہیں اور علی کے لعل ہیں اصلا ًبھی نسلا ًبھی            

سخن میں گھول کر قرآں کی خوشبو بات کرتے ہیں           

وہی تعداد خرموں کی وہی تیور عطاؤں کے

لیے ہررخ سے اپنے کی خو بو  بات کرتے ہیں

ہے ماتھے کی جلالت پر فدا والشمس کا سورہ            

گھٹا واللیل پڑھتی ہے جو گیسو  بات کرتے ہیں           

علی  جیسا ہے تو لیکن نصیری ہم نہیں مولا

ہم اپنے ذہن و دل پہ رکھ کہ قابو  بات کرتے ہیں

ترا احساس دشت جاں میں رم کرتا ہے رہ رہ کر           

سماعت میں تری چاہت کے گھنگرو  بات کرتے ہیں           

سفر کا حوصلہ دیتی ہے تیرے نام کی ڈھارس

ضمانت تیری پاتے ہیں تو بازو  بات کرتے ہیں

جناں کی آبرو ہے تیرے دسترخوان کی وسعت         

ترے ٹکڑوں پہ پلنے والے ہر سو  بات کرتے ہیں         

ترے روضے کے چشمے پر کھڑے ہیں تیرے فریادی

کئی صدیوں کے پیاسے ہیں لب جو  بات کرتے ہیں

مری  مٹی  سے  بھی آتی  ہے  نیشاپور  کی  خوشبو        

ترے بارے میں جب بھارت کے ہندو  بات کرتے ہیں       

کمیت و دعبل و نیر ہیں راہی ایک رستے کے

تری مدحت میں سب پہلو بہ پہلو  بات کرتے ہیں

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب آغا سروش حیدرآبادی صاحب      

اے میثم کو زور بیاں دینے والے                             مجھے با زباں کر زباںدینے والے

مری فکر کو شہ پر قدسیاں دے                                 سلیماں کو تخت رواں دینے والے

علی  کی ولایت سے انکار کیسا                           زباں دے چکے ہیں زباں دینے والے

علی  تھے گلدستہ ٔ کن فکاں پر                                 خدائی میں پہلی اذان دینے والے

ملیں گے فقط خانۂ فاطمہ  میں                                 فقیر وں کو کون و مکاں دینے والے

صحابہ کہاں اور کہاں آل احمد                                 کہاں لینے والے کہاں دینے والے

بتائے کوئی شام ہجرت کہاں تھے                           نبی  ۖکے اشاروں پہ جاں دینے والے

اٹھاتے نہیں کیوں نبی کا جنازہ                                 کہاں مرگئے بیٹیاں دینے والے

فدک کے لیے پیش حاکم کھڑے ہیں                          اک آنسوپہ باغ جناں دینے والے

فدک تو امام زمانہ  ہی لیں گے                                   ہیں یہ لوگ ایسے کہاں دینے والے

سر  دار میثم کو تنہا نہ سمجھو                                           ابھی اور ہیں امتحاں دینے والے

دعائے ملک ہے در فاطمہ  پر                                    سلامت رہیں روٹیاں دینے والے

بتائیں وہاں بھی کوئی کربلا ہے                                    ہمیں دعوت آسماں دینے والے

سروش آج میری نظر میں نہیں ہے 

نصیری سے بہتر اذاں دینے والے

طرحی کلام

رضا  کی چشم کرم ہے ہم پرکہ ہے یہ دست خدا کا سایہ

ملی بقائے دوام اس کو ہے جس پہ ان کی رضا کا سایہ

وہ دعبل و میر و انوری ہو  وہ باشاہ سخنوری ہو              

ہو جس کے سر پہ رؤف تیرے ہمائے لطف و عطا کا سایہ              

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب رضا سرسوی صاحب

یہ تو بس موسی کاظم  ہی بتا سکتے ہیں                       کتنا  پیارا  مرا  مولا  ہے  بتاؤ ں  کیسے

لاکھوں پیشانیاں پہلے ہی سے رکھی ہیں رضا             اس کے قدموں کے نشاں سر پہ اٹھاؤں کیسے

٭٭٭

جشن ظہور نور ہے روز سعید ہے                            خوش مصطفی  ۖہیں سارے زمانے میں عید ہے

بغض و حسد نفاق و کدورت نکال کر                                 جو آج بھی گلے نہ ملے وہ یزید ہے

٭٭٭

باغ فدک کے چھین نے والے تو مٹ گئے                     سکہ رضا ئے پاک کا چلتا ہے آج بھی

جس نے دیا تھا زہر وہ صدیوں کا مٹ گیا                     جس نے پیا تھا زہر وہ زندہ ہے آج بھی

 

(  در مدح حضرت معصومہ قم  )

تیرا کرم تیرے در کی عطا سبحان اللہ                              تیرے دیار کی آب و ہوا سبحان اللہ

تیرا وقار تیرا مرتبہ سبحان اللہ                                 یہاں پہ آتے ہی دل نے کہا سبحان اللہ

امام موسی کاظم کی یادگار ہے تو

حسینیت کے گلستان کی بھار ہے تو

غموں کے ماروں کو آکر یھاں سکون ملا                              امام زادی ہے تو خواہر امام رضا

ہے نام فاطمہ تیرا لقب ہے معصومہ                                 یہاں پہ ہوتا ہے تقسیم علم کا صدقہ

حسین والوں کی عزت ہے زندگی ہے تو

چراغ شام غریباں کی روشنی ہے تو

تیرے حرم میں جو ایک بار آیا معصومہ                           لپٹ کے جالی سے رویا تو اس کو ایسا لگا

کسی یتیم کو جیسے کہ ماں کاپیار ملا                                  دعائیں مانگیں تو پایا حسین کا صدقہ

نہیں ہے جس کا کوئی اس کا آسرا تو ہے

کئی اماموں کی مانگی ہوئی دعا تو ہے

رسول پاک نے چودہ سو سال پہلے کہا تھا                               ہے آشیانہ آل رسول قم بہ خدا

یہاں بھے گا صدا میرے علم کا دریا                                  یہاں چلے گا صدا مومنین کا سکہ

یہاں کبھی کوئی شیطان آ نہیں سکتا

چراغ قم کوئی طوفاں بجھا نہیں سکتا

بجھانے تشنگیء علم ، علم کے پیاسے                            گھروں کو چھوڑ کے تیرے دیار میں آئے

یہاں پہ آئے ہیں ماووں کو چھوڑ کے بچے                  اٹھائے ہاتھوں کو کہتے ہیں رب سے روروکے

الہی گلشن قم میں خزاں نہ آئے کبھی

کوئی یزید زمانہ یہاں نہ آئے کبھی

یہاں پہ ہوتے رہے روز مجلس وماتم                         ہر ایک دل میں سمایا رہے حسین کا غم

صدا بلند رہے شاہ کربلا کا علم                                  چھٹے نہ ہاتھوں سے اپنے حسین کا پرچم

ہیں جس کی چاہ میں خود منزلیں وہ راہی ہیں

امام عصر کے لشکر کے ہم سپاہی ہیں

یہاں پہ بیٹیاں رہتی ہیں سر چھپائے ہوئے                    گھروں پہ پرچم عباس ہیں سجائے ہوئے

گلی گلی میں عزا خانے ہیں بنائے ہوئے                    ہیں مسجدوں میں نمازی صفیں بچھائے ہوئے

یہاں پہ ہوتی ہے دن رات تعزیہ داری

یہاں دعاوں میں ہوتی ہے گریہ و زاری

یزیدیوں کو زمانے سے ہم مٹائیں گے                          دیار امن و اماں قم کو ہم بنائیں گے

ہمیشہ پرچم عباس کو اٹھائیں گے                             چراغ کفر و ضلالت کو ہم بجھائیں گے

خوشی ہے اپنی غم شاہ مشرقین کے ساتھ

ہے بچہ بچہ ہمارا رضا حسین کے ساتھ

٭٭٭

طرحی کلام

نصیب ہوگا  بتاؤ  کیسے  اس  آدمی  کو  ر ضا  کا سایہ 

عذاب بن کر جلائے جس کو خود اس کی ماں کی خطا کا سایہ

بچا رہا ہے ہر اک بلا سے حسین  تیری عطا کا سایہ           

بدن کو اشک عزا کا سایہ کفن کو خا ک شفا کا سایہ           

٭٭٭٭٭

 بزم رأفت

رؤف مولا نے اپنے قدموں میں کیا سجائی ہے بزم رأفت 

دیا ہے شعر و ادب  کا خود  ذوق ، پھر بنائی ہے بزم رأفت

رؤف مولا کی بارگاہ میں ، یوں دل کو بھائی ہے بزم رأفت         

کہ باغ جنت کی سر زمیں پہ، سنور کے آئی ہے بزم رأفت         

جہاں خدا کے فرشتے آکر ، سلام کرتے ہیں رات اور دن

وہیں پہ عرض ادب کی خاطر ، ابھر کے آئی ہے بزم رأفت

عقیدتوں کے خراج دے کر ، یہ اپنے پہلے ہی مرحلے میں        

جناب  زہرا   کی بارگاہ  میں ، تو مسکرائی ہے بزم رأفت        

ستارے آپس میں کہہ رہے ہیں ، اے عرشیو فرش کو تو دیکھو

زمین رأفت پہ رشک انجم ، وہ بن کے چھائی ہے بزم رأفت

سماعتوں کا سکون بن کر، دلوں میں گھر کرلیے ہیں اس نے         

نگاہیں مبہوت  رہ گئی  ہیں  ،  جو جگمگائی  ہے بزم رأفت         

یہ تبصرے ہورہے ہیں حوزے میں تھی ضرورت نہایت اس کی

فضائے راکد  کی قید و بند  سے  ،  بنی رہائی ہے بزم رأفت

مبلغین کرام مذہب  ،  ادیب  ہونگے تو  لطف  ہوگا        

ہنر ادب کا سکھانے کو اب،عجب رسائی ہے بزم رأفت        

شکوفہ ہوںگے جو غنچہ سارے ، تو اک نیا ہی سماں بندھے گا

جو خوشبو پھیلائے شش جہت وہ ، بہار لائی ہے بزم رأفت

حسن عسکری ہوں کہ تحریر نقوی ، ہوں سبط رضوی کہ فیروز نقوی            

سبھی نے  گوندھا  خمیر اس کا  سبھی کو  بھائی  ہے بزم رأفت            

رضوی نیر  ہوں  یا  بہشتی ،  یا کہ  الفت حسین جویا

انہی کی بھر پور کا وشوں نے ، عجب سجائی ہے بزم رأفت

سجا ہے  سبط کے  سر پہ سہرا ، اس انجمن کی مدیریت کا             

اسی کی محنت کا یہ صلہ ہے ، کہ رنگ لائی ہے بزم رأفت             

٭٭٭٭٭٭

٭٭٭

اطلاعیہ

باسمہ تعالی

(وفدیناہ بذبح عظیم)

امام راہ ہدی، منجی دین خدا، خامس آل عبا ، زین الاوصیاء اور خاتم الانبیاء کے دل کے چین حضرت امام حسین علیہ الصلوة و السلام کے عشق الہی سے بھر پور بے مثال اور انمٹ نقوش کی نورانی شعاعوں سے اہل ایمان کے دلوں کو زیادہ سے زیادہ نورانیت بخشنے کے لیے ایک بین الاقوامی علمی ادبی عظیم الشان سمینار بعنوان  (ذبح عظیم )  کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں درج ذیل موضوعات پر مقالہ نویسی کا ایک جامع مقابلہ ترتیب دیا گیا ہے ۔ اہل قلم ، محققین ،  ادباء  اور شعراء حضرات سے تعاون اور بھر پور شرکت کی استدعا ہے ۔

 

سمینار میں مقالہ نویسی کے لیے موضوعات

          علمی                                   ادبی

١۔  ذبح عظیم کی تفسیر                                ١٥۔کربلا کی تبلیغ میںشعر کا کردار 

٢۔حسین منی و انا من الحسین                          ١٦۔  ارتقاء شاعری میں کربلا کا کردار 

٣۔حسین ،سفینہ نجات سرچشمہ حیات                  ١٧ ۔  کربلا غیر مسلم شعراء کی نظر میں

٤۔ کربلا ،  رمز بقاء دین خدا                          ١٨ ۔  کربلا غیر شیعہ شعراء کی نظر میں                              

٥۔ کربلا اور عصر حاضر کے تقاضے                      ١٩۔  بر صغیر میں اردو ادب پر کربلا کی تاثیر

٦۔ کربلا اور ہماری ذمہ داریاں                       ٢٠۔  کربلائی شعراء کا تعارف 

٧۔ کربلا اور شوق شہادت                          

٨۔کربلا اور ولایت مداری                                         مقالہ کے ارسال کی آخری تاریخ:              

٩۔ کربلا کا جوان دین خدا کی جوانی                    اربعین حسینی ـ ٢٠  صفر١٤٣١ھ   

 ١٠۔رشک شجاعت و وفا اور ضبط کی انتہا                مقام تحویل مقالہ :

١١۔ انصار امامت کا عشق شہادت                    مشہد مقدس ، چہار راہ شہداء  نمائندگی جامعة

١٢۔عزاردی کی اہمیت و اثرات                        المصطفیۖ العالمیہ اتحادیہ انجمن ھای فرہنگی طلاب

١٣۔عزاداری مراجع کی نظر میں                   بزم رأفت  (انجمن شعر و ادب اردو زبان)

١٤۔ انقلاب اسلامی پر عاشورا کے اثرات                    کنوینر :سیدسبط حیدر زیدی 

  Tel; 0098-511-2563085

mail; alhaq110@yahoo.co.in     Mub; 09359750753 www.urdu.blogfa.com 

بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان) کی جانب سے امسال بھی ایک عظیم الشأن سیمنار بعنوان

( ذبح عظیم) منعقد ہورہا ہے اہل قلم اور ارباب ذوق حضرات سے تعاون کی استدعا ہے۔


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 3 (نشريه بزم رأفت)، فعالیتهای انجمن
[ پنجشنبه بیست و یکم مرداد 1389 ] [ 15:17 ] [ انجمن ] [ ]

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زیر سر پرستی حضرت بقیة اللہ الاعظم صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف

مجلس ادارت

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا الفت حسین جویاصاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا تحریر علی نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا حسن عسکری نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط محمد رضوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا فیروز رضا نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا محمد حسین بہشتی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانانیر عباس رضوی صاحب

مدیر : حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط حیدر زیدی صاحب

پیام رأفت

علمی ثقافتی ادبی مجلہ

بزم رأفت

انجمن شعر و ادب اردو زبان

 مشہد مقدس کا عظیم شاہکار

دوسرا سال۔   دوسرا شمارہ

از  محرم الحرام  تا  جمادی الاول   ١٤٣٠ھ

کمپوزنگ:

حجة الاسلام و المسلمین مرتضی حسین نقوی

ڈزائننگ:

حجة الاسلام و المسلمین شاہزادہ حیدری زائر

Web: www.urdu.blogfa.com  E-mail : alhaq110@yahoo.co.in 

Tel : 0098-511-2563085 Mob: 09359750753

 

فہرست مطالب

 

اداریہ           (ممدوح و مذموم شعرائ)               مدیر

مقام رسالت اور ہنر شعر                                جناب سبط حیدر زید ی صاحب

عصر رسالت کے شعراء کا تعارف                   جناب مجاہد علی مطہری صاحب

شعراء اہل بیت علیہم السلام                            جناب محمد باقر نقوی صاحب

یوں  ابر شوق جھوم کے برسا غدیر میں            جناب عابد علی بھوجانی  صاحب

کہاںسے لفظ لائوںانکی نعتوںکے برابر میں       جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا  غدیر  میں            جناب الفت حسین جویا صاحب

خلق حق میںدیکھو مقدار  فضائے  مصطفیٰۖ        جناب تحریر علی نقوی صاحب

فضیلتیں آئی ہیں ساری ایک مظھر میں             جناب حسن عسکری نقوی صاحب

مولا نبیۖ نے سب کو دکھایا غدیر میں               جناب فیروز رضا نقوی صاحب

خدا کی رحمتیںسمٹی ہے ساری ایک پیکر میں    جناب محمد حسین بہشتی صاحب

خود آکے آیتوںنے بتایا غدیر میں                    جناب سبط محمد رضوی صاحب

حیدر کو جب نبی ۖنے اٹھایا غدیر میں               جناب نیر عباس رضوی صاحب

بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں                  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

رؤف مولا نے اپنے قدموں میں کیا سجائی ہے بزم رأفت            ادارہ

 

 

اداریہ

ممدوح و مذموم شعرائ

باسم رب الشعرائ

(والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا وانتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )  سورہ شعراء کی آخری آیات

ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی خیال میں سرگرداں پھرتے ہیں ، اور یہ کہ وہ کہتے جو کرتے نہیں۔ سوائے ان شعراء کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔اور اللہ تعالی کو بہت یاد کیا ۔ اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا بدلہ لے لیا ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلدہی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیںگے ۔

ان آیات میں قرآن کریم نے شعراء کے متعلق نظریہ الٰھی کو بیان فرمایا ہے لہذا شعراء کی دو قسمیں ہیں ایک شعراء مذموم ، دوسرے شعراء ممدوح ۔یعنی خداوندعالم کی نظر میں شعر وشاعری نہ بری شٔ ہے اور نہ اچھی شٔ بلکہ یہ ایک فن ہے کہ اس سے اگر اچھا استفادہ کیا جائے تو اچھی شٔ ہے اور اگر برے کام میں لایا جائے تو بری شٔ ہوگی۔لہذا دونوں طرح کے شعراء اور ان کی صفات بیان فرمائی ہیں۔

 مذموم شعرائ

قرآن کریم نے ان مذکورہ آیات میں مذموم شعراء کی چند علامتیں اور صفات بیان کیے ہیں کہ جو مندرجہ ذیل ہیں :

٭  جھوٹ اور گناہ

(ھل انبئکم علی من تنزل الشیاطین۔ تنزل الشیاطین علی کل افاک اثیم) یہ آیات اسی سورہ شعراء کی مذکورہ بالا آیات سے پہلی آیتیں ہیں کہ جن میں خداوندعالم کفار و مشرکین عرب کے عقیدے کو بیان فرمارہا ہے کہ وہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہر شاعرپر شیطان سوار رہتاہے اور وہ اس پر اشعار القاء کرتا ہے لہذا ارشاد ہوا کہ ہم بتائیں کہ کن پر شیطان نازل ہوتا ہے شیاطین ہر جھوٹے اور گناہگار پر نازل ہوتے ہیں یعنی وہ شعراء کہ جو گناہگار ہیں شیاطین ان کی راہنمائی کرتے ہیںاور ایسے ہی شعراء شیاطین کے بہکاوے و گمراہی میں آتے ہیں ۔

٭٭گمرا ہ و گمراہ پروری

(والشعراء یتبعھم الغاوون) شعراء ایسے افرادہیں کہ جن کی گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں

اس کی وجہ یہ ہے کہ شعر میں تصور و تخیل رکن و قوام کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی نفوس میں اثر انداز ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے چونکہ تصور و تخیل اور تمثیل خیالات کوبھڑکاتی ہیں، اعجاب پیدا کرتی ہیں کہ جو نفس کے لیے باعث شادمانی و موجب التذاذ ہوتا ہے۔ یہی تصورات و تخیلات اگر شیطان کی جانب سے ہوںتو اور بھی زیادہ شہوت انگیز ہونگے،لہذا ایسے شعراء خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کے بھی گمراہ ہونے کا سبب بنتے ہیں ۔

٭٭٭بے ہدف سرگردانی

(الم تر انھم فی کل واد یھیمون) مذموم شعراء کی تیسری علامت وصفت یہ ہے کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں ہیں یہاں وادی خود اصطلاح شاعری ہے یعنی ہر میدان میں ہرزمین میں شعر کہنا کبھی اس کی ہجو تو کبھی اس کی تعریف و تمجید،گویا ہرجائی پن گمراہ شعراء کی صفت ہے ۔

٭٭٭٭قول وعمل میں فرق

 (وانھم یقولون مالا یفعلون) مذموم شعراء کی ایک اور صفت یہ ہے کہ ان کے اقوال ہمیشہ ان کے اعمال و افعال کے خلاف ہوتے ہیں یعنی وہ جو کہتے ہیں کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں زبان پر نہیں لاتے ۔

ممدوح شعرائ

قرآن کریم نے اس نظریہ کی رد میں کہ قرآن شعرنہیں ہے اور نہ ہی رسول اکرمۖ شاعر ہیں بہت زیادہ اصرار کیا ہے کہ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ قرآن کریم فن شاعری کا مخالف ہے اگرچہ قرآن کریم کے اصرار کی وجہ خود کفار و مشرکین ہیں کہ وہ اس بات پر مصر ہیں کہ رسولۖ شاعر اور قرآن کلام شاعر ہے لہذا قرآن اس مطلب کی رد و انکار میں مصر ہے جبکہ فن شاعری کا مخالف نہیں ہے بلکہ جہاںسورہ شعراء کی  مذکورہ آیات میں شعراء کی مذمت فرمائی ہے وہیں ممدوح و مطلوب شعراء کی مدح بھی کی ہے اور پھر ان کے مجبوب ہونے کی وجہ بھی موجود ہے  لہذا قرآن کریم نے کبھی شعرو شاعری کے کمالات کاانکار نہیں کیا  لیکن ہاں یہ کمالات اگر راہ حق کے لیے ہوں تو صحیح معنی میں کمالات ہیں ورنہ وسوسہ شیطانی کے علاوہ کچھ بھی ہیں ۔لہذا خداوندعالم کی جانب سے ممدوح شعراء کی صفات بیان ہوئی ہیں، لیکن مذموم شعراء کے اوصاف کی نفی کے ساتھ ساتھ چونکہ( تعرف الاشیاء باضدادھا)، لہذا ممدوح شعراء میں مذموم شعراء کی صفات جھوٹ و گنا ہ ، گمراہ و گمراہ پروری،قول وعمل میں فرق اور بے ہدف سرگردانی نہ ہوں ان کے علاوہ یہ صفات ہوں کہ جن کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے ۔

٭ایمان

(الا الذین آمنوا) گمراہ اور مذموم شعراء کے اوصاف بیان کرنے کے بعد پھر فرماتا ہے سوائے ان شعراء کے کہ جوایمان لائے یعنی ایمان ممدوح شعراء کی پہلی صفت و علامت ہے اور واضح ہے کہ شاعر اگر ایماندار و مومن ہوا تو یقینا حق کہے گا اور کبھی زبان پر ناحق جاری نہیں کرسکتا ۔

٭٭عمل صالح

(و عملواالصالحات)مجبوب شعراء کی دوسری صفت یہ ہے کہ عمل صالح انجام دیتے ہیں اور ظاہر ہے یہ صفت خود اسم بامسمی کی حیثیت رکھتی ہے چونکہ اگر شاعراپنے کسی بھی شعر کے ذریعہ خلاف حق کام انجام دیے گا تو وہ عمل صالح نہیں کہلائے گا اور اس صفت کے حامل ہونے کے لیے ہمیشہ حق گوئی کو ساتھ رکھنا ہوگا ۔

٭٭٭کثرت سے ذکر الٰھی (ذاکرالٰھی ہونا )

(و ذکرو ا اللہ کثیرا )شاعر ہمیشہ ذکر الٰھی میں مشغول رہے، ممدوح شعراء کی دوسری صفت عمل صالح کے بعد اس صفت کا ذکر کرنا خود ایک خاص نکتے کی طرف اشارہ ہے چونکہ ذکر الٰھی خود اعمال صالحہ میں سے ہے لیکن شاعر کے لیے ذکر الٰہی کے کثرت سے انجام دینے کو جداگانہ بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعر کی زبان کہ جو بہت عظیم آلہ ہے اس طرح کہ شاعر کی زبان پر جاری ہونے والے شعرکو مجاہد کی شمشیر سے تشبیہ دی گئی ہے اور علم معرفت کے میدان میں کہا گیا ہے کہ شعر ایک وسیلہ معرفت ہے اور اس کا کام فلسفہ و علم سے متفاوت ہے بلکہ برترین و والاترین آلہ معرفت ہے اور شعر کی تاثیر فلسفہ سے کہیںزیادہ ہے ۔  شعراء اپنے شعر کے ذریعہ ایک نیا منظر کھینچ سکتے ہیں  اور فلاسفہ و عرفاء سے کہیں زیادہ دل انگیز نقشہ پیش کرسکتے ہیں حتی خود عرفاء بھی جب کوئی حال و کیفیت بیان کرنا چاہتے ہیں تو شعر ہی کا سہارا لیتے ہیں ۔لہذا خداوندعالم نے اعمال صالحہ کے بعد خصوصا شائستہ شاعر کی علامت وصفت یہ قرار دی کہ ہمیشہ ذکرالٰھی میں مشغول رہے گویا ممدوح شاعر کی صفت یہ ہے کہ مدح و ثناء نعت ومنقبت اس کی طینت و طبیعت بن جائے ۔

٭٭٭٭مظلوم کی مدد

(وانتصروا من بعد ما ظلموا )اچھے شاعر کی چوتھی صفت یہ ہے کہ مظلوم کا مددگار ہو،اور ظاہر ہے کہ شاعر سے ایسی توقع کا مطلب یہ ہے کہ اپنے شعر سے مظلوم کی مدد کرے چونکہ شاعر کی زبان پر جاری ہونے والے شعرمجاہد کی شمشیر کا مرتبہ رکھتے ہیں گویا نظرالٰہی میں مظلوم کے لیے نوحہ مرثیہ اور سوز و سلام کہنا ایک عظیم کمال و مقام کا حامل ہے۔

بہر حال یہ وہ صفا ت ہیں کہ جو خداوندعالم نے اپنے قرآن کریم میں ممدوح شعراء کے لیے بیان فرمائی ہیں کہ جن میں سے دو صفتیں شاعر کی ذاتی ہیں ایک ایمان اور دوسری عمل صالح لیکن باقی دوصفات یعنی کثرت سے ذکر الٰھی اور مظلوم کی مدد ،ان کا تعلق معاشرے سے ہے چو نکہ ایمان اور عمل صالح خاموشی سے بھی انجام دیے جاسکتے ہیں لیکن کثر ت سے ذکر الٰہی اور مظلوم کی مدد ،وہ بھی شاعر ی کے ذریعہ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوندعالم چاہتا ہے کہ شاعر معاشرے کے درمیان پرچمدار الٰہی کی حیثیت سے سامنے آئے

 اور حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے میں کبھی ہچکچائے نہیں ۔اور پھر شاعرکا یہی کلام کہ جو حق کی حمایت میں ہوگا انسانی ہدایت کے لیے صحیفہ قرار پائے گا۔نیز یہ دوصفات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ حمد و ثناء ، نعت ومنقبت اور سوز و سلام ، نوحہ و مرثیہ ممدوح الٰہی ہیں اور یہ ممدوح شعراء کی علامت ہیں ۔یا پھر یوں کہا جائے کہ اس صنف شاعر کی تائید میں مذکورہ آیات نازل ہوئی ہیںلہٰذا انہیںاس صنف کے اثبات میں استدلال کے طور پر پیش کیا جاسکتاہے ۔

اس بات کی تائید کے طور پر مذکورہ سورہ کی آخری آیت آخری حصہ(و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون) ملاحظہ فرمائیں،  یہ وہ ٹکڑاہے کہ دنیا ہر حظیب و ذاکر جب کبھی بھی اپنے بیان کو مصائب مظلوم کربلا بیان کرکے ختم کرتا ہے تو اس آیت کے اس حصے کی تلاوت کرتا ہے گویا اس آیت میں ظالمین کربلا سے انتقام کا تذکرہ ہے تو واضح ہے کہ جب یہاں ظالمین کربلا سے انتقام کا ذکر ہے تو اس سے ماقبل مظلوم کربلا کی حمایت کا ذکر ہوگا  لہذا یہ آیات ان ممدوح شعراء کی شان میں ہیں کہ جو اہل بیت علیہم السلام  کی ثناء و رثاء میں مصروف ہیں ۔

کچھ اسی طرح کے ممدوح شعراء کی ایک انجمن بنام بزم رافت امام رؤف حضرت علی بن موسی الرضا علیہ التحیة و الثناء کے مبارک جوار میں تشکیل پائی اور جن کے انتھک کوششوں کے نتیجہ میں شہر مشہد مقدس میں معصومین علیہم السلام کی اعیاد مبارکہ پر عظیم محافل کا انقعادہوتا رہتا ہے پھر ان محافل کی روئیدادکو مجلہ کی شکل میںپیش کیا جاتا ہے تاکہ شریک محفل نہ ہونے والے موالیان بھی فضائل اہل بیت  پڑھنے کے ثواب میںشریک ہوسکیں۔ لہٰذا اس شمارے میں جشن غدیر اور جشن میلاد مصطفیۖ میں ہونے والے پروگرام کو بطور مختصر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

جشن غدیر میں دو عدد مصرعہ طرح رہے جو حسب ذیل ہیں:

١  جام کوثر کی طلب ہو پیجیئے جام غدیر                    ٢  بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں

اس عظیم جشن مبارک میں ہندو پاک سے میزبان و مہمان اور عظیم شعراء حضرات نے نذرانہء عقیدت پیش کیا۔ جن کے طرحی کلام کا اقتباس پیش کیا جارہا ہے ۔

اس کے بعد کی محفل ولادت با سعادت حضرت رسول اکرمۖ و حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام پر منقعد ہوئی کہ جو ایک ادبی سیمنار کی صورت میں برگذار ہوئی جس کے لیے تقریبا تین مہینے پہلے گویا غدیر کے بعد سے مقالہ نویسی کے لیے عناوین کااعلان کردیا گیا تھا کہ جو حسب ذیل تھے :

١ـ سید الفصحائۖ سے نفی شاعری کا فلسفہ          ٢ـ دین کی تبلیغ و ترویج میں شعر و ادب کا کردار

٣ـ مقام رسالت اور ہنر شعر               ٤ـ رسول اکرم ۖ کے معاصرشعراء کا تعارف

٥ـ آئمہ طاہرین علیہم السلام کے معاصر شعراء کا تعارف         ٦ـ مقام و منزلت شعراء

٧ـ جمع آوری دیوان حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام

کہ مذکورہ عناوین پر تقریبا ٢٢ مقالات ،ادارہ کو موصول ہوئے اور پھر موصول شدہ مقالات میں درجہ  بندی کی گئی کہ جن میں سے پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے مقالات پر خصوصی انعامات سے نوازا گیا اور باقی سب ہی مقالہ نگاروں کوحوصلہ افزائی کا انعام عطا کیا گیا ۔

اس سیمینا رمیں مذکورہ مصرعہ طرح پر شعراء کرام نے طبع آزمائی فرمائی :

١  خدا کی رحمتیں سمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں           ٢  آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفی ۖ

اس عظیم و پرشکوہ سیمینار میں ہند و پاک کے علاوہ ایران ،آذربائجان ،افغانستان ،لبنان ، ٹرکی اور سعودی عرب سے بڑی بڑی شخصیتوں نے شرکت فرمائی ۔اور اس پروگرام کی رپورٹ ایران ٹی وی کے علاوہ ایران کے مشہورروزناموں میںشائع ہوئی۔

بہر حال بزم رافت (انجمن شعر وادب اردو زبان) تمام ہی شرکاء اور اہل ادب وارباب ذوق کا شکر اداکرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ بھی اس طرح کے پروگراموں میں شرکت وتعاون کی منتظر ہے ۔

والسلام

مدیر بزم رأفت

سید سبط حیدر زیدی


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 2 (نشريه بزم رأفت)
[ پنجشنبه هفتم مرداد 1389 ] [ 11:35 ] [ انجمن ] [ ]

مقام رسالت اور ہنر شعر

بقلم:سیدسبط حیدرزیدی        

مقدمہ

مقالہ ھذا میں عنوان کو مدنظر رکھتے ہوئے (مقام رسالت اور ہنر شعر)  مطالب کوتین مرحلوں میں پیش کیا جائے گا۔

مرحلہ اول :مقام رسالت ،  مرحلہ دوم :  ہنر شعر

اور تیسرے مرحلے میں ان دونوںکے درمیان نسبت و تلازم کو مد نظر رکھتے ہوئے نتیجہ پیش کیا جائے گا ۔

مقام رسالت

مقام رساست بیان کرنے کے لیے مستقل کتاب درکار ہے نہ کہ فقط کسی ایک مقالہ کا صرف ایک حصہ ، لیکن یہاں پر مقام رسالت ، ہنر شعر کے مقابل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے لہذا انتہائی اختصار مقصود ہے تاکہ بوقت نتیجہ اور دوران نسبت و تلازم استفادہ کیا جاسکے۔

رسالت ایک الٰھی منصب ہے اگر چہ مناصب الٰھی متعدد ہیں اور ان میںسے ایک کو دوسرے پر فوقیت حاصل ہے جس کو علماء علم کلام نے مفصل ذکر کیا ہے لیکن یہاں پر فقط منصب رسالت ہی مراد نہیں ہے بلکہ مطلق منصب و عھدہ الٰھی مقصود ہے یعنی رسالت ،نبوت، اولوالعزم حتی امامت کو بھی شامل ہے یعنی ہر وہ عنوان کہ جو جحت الٰھی پر صادق آتاہے اور پھر یہ دیکھنا ہے کہ حجج الٰہی شاعر گذرے ہیں یا نہیں اور اگر گزرے ہیں تو پھر خصوصا حضرت پیغمبر اکرم ۖ سے ہی کیوں اس صفت کو مستثنی رکھا گیا ۔اور خصوصا یہ مطلب کہ شاعری ایک فن و ہنر ہے جبکہ رسالت وغیرہ خداوند عالم کی جانب سے ایک عھدہ و منصب وعنایت خاصہ ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے  (اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ)(١) ۔

خداوند عالم کی جانب سے انسانی ہدایت کے لیے اور اس کی طرف سے خلائق پر حجت کے طور پر آنے والی شخصیت کو نبی،رسول اور امام وغیرہ کے لقب و منصب سے یاد کیا جاتا ہے علماء علم کلام نے پروردگار کے مناصب کو چند صورتوں میں پیش کیا ہے۔

مناصب الٰہی

نبوت ،  رسالت ،  اولوالعزم ،  امامت اور اس تقسیم پر خود قرآن کریم دلالت کرتا ہے لہذا ارشاد ہے ۔

(وما ارسلنا من قبلک من رسول ولانبی)(٢)کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبوت اور رسالت دو الگ الگ عہدے ہیں ۔

( فاصبر کما صبر اولواالعزم من الرسل)(٣)کہ یہ آیت اس بات پر لالت کرتی ہے کہ کچھ رسول اولوالعزم ہیں اورکچھ نہیں ہیں یعنی اولوالعزم رسالت سے جدا گانہ عہدہ ہے۔

(قال انی جاعلک للناس اماما)(٤)  یہ آیت اس بات پر دال ہے کہ امامت مذکورہ عہدوں سے جداگانہ عہدہ ہے۔

ان مناصب میں چونکہ مرتبتا فرق ہے لہذا ان کی تعریفیں بھی مختلف ہیں اور پھر علماء نے بھی اپنے اپنے نظریہ و ذوق کے اعتبار سے ہر ایک کی جداگانہ تعریف کی ہے لہذا خلاصتا ان مناصب کی اس طرح تعریف کی جاسکتی ہے۔

نبوت: ایسا عہدہ الٰہی ہے کہ جس پر فائز ہونے والا شخص خداوندعالم کی طرف سے خبر دیتاہو، اس پر شریعت و کتاب نازل نہ ہوئی ہو، اور حکم الٰہی کو سنتے وقت فرشتے کو نہ دیکھتا ہو،اور لوگوں کے لیے تبلیغ پر مامور بھی نہ ہو۔

رسالت: ایسا عہدہ ہے کہ جو شخص اس عہدہ پر فائز ہو وہ حکم الٰھی کے نزول کے وقت فرشتے کو دیکھ سکتا ہو اور لوگوں کے لیے تبلیغ پر بھی مامور ہو ، خواہ اس پر کتاب و شریعت نازل ہوئی ہو یا نازل نہ ہوئی ہو۔

اولوالعزم : رسالت سے ما فوق عہدہ ہے یعنی ہر وہ رسول اولوالعزم ہے کہ جو صاحب شریعت ہو۔

امامت : یہ عہدہ  اگر چہ مذکورہ عہدوں کی ردیف اور ان کے عرض ہی میں ہے اور آیت قرآنی کے لحاظ سے سب سے بلند مرتبہ ہے جیساکہ ارشاد رب العزت ہے (واذابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماما قال ومن ذریتی قال لاینال عھدی الظالمین)(٥)۔ کہ حضرت ابراہیم کو تمام مذکورہ عہدے حاصل ہونے کے بعد منصب امامت پر فائز کیا گیا اور پھر آپ نے کسی بھی منصب کے حصول کے وقت اپنی ذریت کے لیے خواہش نہیں کی سوائے امامت کے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امامت مذکورہ تمام عہدوں سے بلند و بالا ہے ۔ لیکن دوسری طرف اس منصب کو مذکورہ مناصب کے عرض میں نہیں بلکہ طول میں رکھا جاتاہے  چونکہ اس کی تعریف میں ''نیابتا عن النبی'' کی عبارت لاتے ہیں یعنی امام وہ ہوتا ہے کہ جو نبی کا نائب ہو۔

اس تقسیم بندی کے سلسلے میں علم کلا م میں مفصل بحث ہے اور احادیث بھی اس ماب میں بہت زیادہ ہیں ۔لیکن ہمارا نصب العین فقط تنہا منصب رسالت نہیں ہے بلکہ مطلق عہدہ و منصب الٰھی ہے لہذا یہاں پر لفظ رسالت تسامحا ذکر ہوا ہے لیکن ہم یہاں پر کلمہ منصب الٰھی یا حجت الٰھی سے تعبیر کریں گے ۔

شرائط منصب الٰہی

شرط اول:  ہر حجت الٰھی کے لیے معصوم ہو نا ضروری ہے ۔

شرط دوم:  حجت الٰھی اپنے زمانے میں سب سے افضل ہو۔

شرط سوم :  حجت الٰھی اپنے زمانے میں سب سے زیادہ عقل مند و ذہین و زیرک ہو ۔

شرط چہارم :  حجت الٰھی ہر طرح سے پاک و پاکیزہ ہو کہ اس سے لوگوں کی طبیعت متنفر نہ ہو۔

شرط پنجم:  حجت الٰھی کے ماں باپ کافر نہ ہوں ۔

شرط ششم :  حجت الٰھی صاحب معجزہ ہو۔

یہ شرائط مستقل عنوان و گفتگو کے محتاج ہیں ان کی اثبات و نفی میں مفصل بحث ہے اوران شرائط پر متعدد لائل براہین علماء علم کلام نے تحریر فرمائے ہیں ۔صاحبان ذوق مفصل کتابوں میں مراجعہ کرسکتے ہیں ۔

لیکن مذکورہ شرائط میں دو شرطیں ،شرط اول اور شرط ششم یعنی اول و آخر گو یا حجت الٰھی کا معصوم ہونا اور صاحب معجزہ ہونا بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں یوں تو کسی بھی شٔ کی ہر شرط ایک رکن  وعلت کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے فقدان سے معلول مفقود و معدوم ہوجاتا ہے یہی کیفیت یہاں پر بھی ہے لیکن اس باب میں یہ مذکورہ دو شرطیں کچھ زیادہ ہی خاص امتیاز کی حامل ہیں اس لیے کہ شاید ممکن ہے کہ باقی شرائط بحیثیت صفات کسی غیر حجت الٰھی میں پائی جاسکیں لیکن یہ دو شرطیں صرف حجت الٰھی ہی سے مخصوص ہیں لہذا ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ ان دو شرطوں پر کچھ بیشتر توجہ کی جائے ۔

عصمت

عصمت ایک فوق العادہ باطنی قوت اور ایک ایسی عظیم صفت کو کہتے ہیں کہ جس کے اثر سے موجودات عالم کی حقیقت اور دنیائے باطنی کا مشاہدہ ہوسکے اور اس کی وجہ سے خطا کاری اور گناہ کرنے سے بچا جاسکے ۔ یعنی صحیح ریاضت نفس سے ایک طاقت حاصل ہوجائے جس کے ذریعہ گناہ سے مصونیت مل سکے۔ اگر چہ اس صحیح ریاضت نفس کا منبع علم لدنی ہے کہ اسی سے تقوی اور مصونیت حاصل ہوتی ہے  اور یہ علم لدنی جس کے پاس جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی عصمت کے درجہ میں بلند ہوگا۔چونکہ علم اکتسابی میں احتمال خطا ہے کہ جو خود خلاف عصمت ہے ۔

مذہب امامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حجت الٰھی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور اس مطلب پر چند دلیلیں قائم کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے :

١ـ  اگرحجت الٰہی معصوم نہ ہو تو تسلسل لازم آئے گا جو کہ عقلا محال ہے کیونکہ حجت الٰہی مخلوق کی ہدایت کرنے اور ان کی خطاکاریوں کو دور کرنے کے لیے معین کی گئی ہے اور اگر خود اسی میں خطا پائی جائے یا احتمال خطا ہو تو اس کا فائدہ کیا ہے ؟ پھر ضرورت ہوگی کہ کوئی اس کی رہنمائی کرے اوروہ بھی ایسی ہو کہ جس میں خطا کا احتمال نہ ہو اگر ایسی حجت الٰھی مل جائے کہ جو احتمال خطا سے منزہ ہو تو مقصود ثابت ، ورنہ پھر کسی اور رہبر کی ضرورت ہوگی اور اگر اس میں بھی خطا موجود ہو تو کسی اور کی تلاش اسی طرح تیسرے اور اس کے بعد چوتھے الی آخر، اور یہ قطعا درست نہیں ہے کیونکہ تسلسل لازم آئے گا کہ جس کا بطلان واضح ہے ۔

٢ـ اگر حجت الٰھی معصوم نہ ہو تو اس کے قو ل پر وثوق و اطمینان نہیں ہوگا ۔کیونکہ ہوسکتا ہے غلط کہہ رہا ہو۔ لہذا حجت الٰھی کا بھیجنا عبث ہوجائے گا اور نتیجہ میں لوگ گمراہ ہوجائیں گے ۔

٣ـ اگر حجت الٰھی معصوم نہ ہو تو امت اس کے قول و حکم سے انکار کرسکے گی اور یہ لزوم اطاعت کے منافی ہے کیونکہ قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ ارشاد خداوند ی ہے (اطیعواا للہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم ) یعنی اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ۖو اولی الامر کی اطاعت کرو ۔ یہاں اولی الامر کی اطاعت، رسول کی اطاعت کے ساتھ ذکر کی گئی ہے پس ضروری ہے کہ رسول و اولی الامر معصوم ہوں تاکہ ان کے قول و حکم پر عمل کرتے ہوئے کسی قسم کی خطا کا اندیشہ نہ ہو، لوگ ان کی اطاعت کرنے میں خدشہ نہ کریں ۔

اعجاز

اعجاز کا لغوی معنی عاجزکرنا ہے اور اصطلاح میں خلاف عادت کا م انجام دینے کو اعجاز کہا جاتا ہے اسی وجہ سے خلاف عادت چیز کومعجزے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر لوگ جس کام کے انجام دینے سے عاجز ہوں وہ واقع ہوجائے جیسے سنگریزوں کا حضرت پیغمبراکرم ۖسے کلام کرنا نباتات کا آپۖ  کی رسالت کی گواہی دیتے ہوئے کلمہ پڑھنا ، حضرت موسی  کے عصا کا مختلف صورتو ں میںتبدیل ہونا حضرت امام رضا  کاقالین پر شیر کی تصویر کو اصلی شیر میں تبدیل کردینا  وغیرہ۔

اثبات منصب الٰہی

منصب الٰہی کوئی امر محسوس نہیں ہے کہ اگر کوئی دعوی کرے تو اس کے دعوی کو حواس خمسہ سے احساس کیا جائے اور قبول کرلیا جائے بلکہ ایک امر معنوی ہے کہ جس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے لہذا منصب الٰھی کے دعوی کے اثبات کے لیے کم از کم دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔

اول : یہ کہ اس سے پہلے خدا کی جانب سے کسی بھی وسیلے سے اعلان ہوا ہو یا اس سے پہلے نبی نے بتایا ہو،اسی کو علمی اصطلاح میں نص کہتے ہیں ،یعنی اثبات حجت الٰھی میں  پہلی چیز نص کا ہونا ہے ۔

دوم:  یہ کہ اس کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر ہوتا ہو۔(٦)

ہنر شعر

فن شاعری قدیم الایام ہی سے رائج ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ شعر گوئی کی صلاحیت انسان کی طبیعت میں گفتگو  وسخن گوئی کے ہمراہ ہے ۔ اور بعض افراد کا نظریہ یہ ہے کہ شاعری انسان کی فطری غرائز میں سے ہے ، اور اس بات پر دلیل یہ ہے کہ ماں جب بچوں کو بہلانے کی خاطر لوریاں سناتی ہے تو وہ بھی کسی حد تک شعر ہی کی شکل میں ہوتی ہیں خواہ ان میں وزن و قافیہ کا خاص خیال نہ ہو اور بچے کو بھی ان لوریوں ہی میںآرام سے نیند آتی ہے  اسی طرح خوشیوں میں گیت و ترانے اور مصائب و آلام میں گریہ و ز اری کو نظم و شعر کی شکل میں انجام دینا اس امر کی تائید ہے ۔

لیکن شعر گوئی بحیثیت علم کس زمانے سے رائج ہوئی  یہ اختلافی امر ہے ،انتہائی چیز کہ جو شاعری کے آغاز کے سلسلے میں پیش کی جاسکتی ہے وہ  ارسطو کا تالیف کردہ رسالہ ہے کہ جس میں فن شاعری اور شعر و ادب کو بحیثیت ایک علم متعارف کرایا گیا ہے ۔

اور اس کے بعد سے علماء علم منطق نے صناعات خمس میںایک صنعت ، شعر کو قرار دیا ہے اسی باب میںصنعت شعر کے متعلق گفتگو کی جاتی ہے ، اگر چہ اصطلاح علم منطق میں شعر کی تعریف ، اصطلاح علم عروض و قافیہ اور علم بدیع میں شعر کی تعریف سے متفاوت ہے ،جس کو بطور اختصار یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ شعر منطقیین کے نزدیک فقط ایک تخیل و تصورکا نام ہے اور علم عروض و بدیع میں تخیل ، ردیف و قافیہ و وزن کے ساتھ شعر کہلاتا ہے ۔

اگر چہ ارتقاء شاعری نے دونوں کو مدغم کردیا ہے اور جہاں وزن و ردیف و قافیہ کے ساتھ شاعری ہورہی ہے وہاں آزاد شاعری میں فقط تخیل ہی تخیل ہے ۔

تعریف شعر

مذکورہ مطالب کو مدنظر رکھتے ہوئے شعر کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ'' تخیل اور عطوفت بھرے الفاظ کو ایک خاص شکل میں باندھنا شعر کہلاتا ہے'' اور اگر اس تعریف میں شرط وزن و قافیہ کا اضافہ کردیا جائے تو نظم کو شامل ہوجائے گا ، اسی وجہ سے اہل منطق شعر کی دو قسمیں کرتے ہیں

١ـ شعر ارسطوئی : کہ جس میں فقط تخیل ہو ۔

٢ـ شعر عروضی : وہ کہ جس میں تخیل ، وزن و قافیہ کے ہمراہ ہو ۔

شعر کی خاصیت، جلب توجہ و نفوس پر اثر انداز ہونا ہے اور اس کا اثر وزن و قافیہ کے ہمراہ زیادہ حاصل ہوتا ہے لہذا اہل منطق نے بھی شعر میں اوزان و قافیہ کا اضافہ کیا ہے شیخ الرئیس کی فرمائش کے مطابق اب ارسطوئی شاعری  یعنی یونان میں بھی عرب زبان کی طرح اوزان شعر ایجاد کرلیے گیے ہیں ۔

لہذا متاخرین اہل منطق اب علم منطق میں صنعت شعر کے متعلق یوں بیان فرماتے ہیں کہ شعر ایک ایسا خیال انگیز کلام ہے کہ جو موزون ،برابر اور قافیہ دار عبارت  سے مرکب ہو ۔

فوائد شعر

شعر کے بطور مختصر مندوجہ ذیل فوائد پیش کیے جا سکتے ہیں

١ـ جنگ میں سپاہیوں کی سجاعت و دلیری کو ابھارنا ۔

٢ـ کسی دینی یا سیاسی عقیدہ کے متعلق لوگوں میں جوش و جذبہ پیدا کرنا ۔یاپھر فکری  یا اقتصادی انقلاب کی خاطر لوگوں کے عواطف میں ہیجان پیدا کرنا ۔

٣ـ اپنے بزرگوں و رہبروں کی مدح و ثناء کرنا یا دشمنوں کی مذمت و ہجو کرنا ۔

٤ـ مقام خوشی و مستی میں ایجاد شادمانی، سرور و نشاط۔

٥ـ مقام غم و آلام میں ایجاد غم و اندوہ اور گریہ و دلتنگی ۔

٦ـ ایجاد اشتیاق ملاقات دوست  یا تحریک شہوت جنسی ۔

٧ ـ برے کاموں سے روکنا ، آتش شہوت کو خاموش کرنا یا تہذیب نفس اور اچھے کاموں کی انجام دہی کی تمرین و مشق۔

علامہ جعفری اپنی کتاب' ' حکمت و عرفان درشعر نظامی '' میں تحریر فرماتے ہیں کہ شعر ایک وسیلہ معرفت ہے اور اس کا کام فلسفہ و علم سے متفاوت ہے بلکہ برترین و والاترین آلہ معرفت ہے اور شعر کی تاثیر فلسفہ سے کہیںزیادہ ہے ۔

جبران خلیل جبران کہتاہے کہ شعراء اپنے شعر کے ذریعہ ایک نیا منظر کھیچ سکتے ہیں  اور فلاسفہ و عرفاء سے کہیں زیادہ دل انگیز نقشہ پیش کرسکتے ہیں حتی خود عرفاء بھی جب کوئی حال و کیفیت بیان کرنا چاہتے ہیں تو شعر ہی کا سہارا لیتے ہیں ۔

نفوس میں شعرکی تاثیر کے اسباب

شعر میں تصور و تخیل رکن و قوام کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی نفوس میں اثر انداز ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے چونکہ تصور و تخیل اور تمثیل  خیالات کوبھڑکاتی ہیں اور اعجاب پیدا کرتی ہیں کہ جو نفس کے لیے باعث شادمانی و موجب التذاذ ہوتا ہے ۔ لیکن اگر انسان ، تصور وتمثیل سے پہلے حوادث کی واقعیت کو مشاہدہ کرلے تو پھر یہ لذت اس قدر نہیں حاصل ہوسکتی ۔

لیکن خود شعر میں تصور و تخیل تین چیزوں سے پیدا ہوتاہے ۔

١ـ وزن :  نفس کے حالات کو تغییر دینے میں ہر ایک وزن خاص اثر رکھتا ہے اور نفس میں انفعالی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔

٢ـ عطوفت بھرے ا لفاظ : یوں تو ہر حرف میں ایک آہنگ و نغمہ پایاجاتاہے لیکن اگر یہی کسی خاص ترکیب کے ساتھ پیش کیا جائے تو اور بھی زیادہ انفعالی کیفیت ایجاد کرتا ہے ۔

٣ـ مخیل ومصور کلام : یعنی خود کلام کے معانی خیالات کوبھڑکاتے ہیںاور یہ وہی شعر کا رکن و قوام ہے کہ جس سے شعر اصل میں شعر کہلاتا ہے اور جب یہ تینوں چیزیں شعر میں جمع ہوجائیں تو صحیح معنوں میں شعر شعر کہلاتا ہے۔(٧)

بہر حال شعراء نے اسی جامع صنف کو اختیار کرتے ہو ئے اور خالص تخیل کی دنیا سے باہر نکل کر بہت سے حقائق کو منظوم کیا ہے کہ جس میں واقعیت ہی واقعیت ہے جیسا کہ بہت سے شعراء نے متعدد علوم کو نظم کیا مانند نصاب الصبیان ، الفیہ، منظومہ اور مختلف ارجوزہ  وغیرہ۔ لیکن شاعر پھر بھی شاعر ہے لہذا کسی بھی حقیقت کو کتنی بھی سچائی سے نظم کرے پھر بھی اس میں کنایہ و استعارہ کے ذریعہ کمی یا زیادتی اور اپنا تصرف ضرور کرتا ہے اسی لیے قرآن کریم میں جہاں شعراء کی مذمت ہوئی ہے وہیں استثناء کے ذریعہ مدح بھی ہے ۔

زمانہ ء جاہلیت میں شعر و شاعر کا مقام

زمانہء جاہلیت میں شعر و شاعری اس قدر اہمیت کی حامل تھی کہ اس کو شمشیر و بہادر پر بھی فوقیت دی جاتی تھی بلکہ شعر و شاعر ، خطابت و خطیب پر بھی مقدم تھے چونکہ شاعر قبیلہ و خاندان کی زبان تھا کہ جس کے ذریعہ اپنے قبیلے کی مدح ثناء ودشمن کی ہجو کرتے اور دوران جنگ رجز پڑھ کر لشکر کو ابھار تے ان کے احساسات کو بھڑکا کر کامیابی و فتح سے ہمکنار ہوتے لہذا اگر کسی قبیلہ میں کوئی شاعر نامور ہوجاتا تو اس کا جشن منایا جاتا تھا

اس دور کے حالات کو قلمبند کرنے والے مورخین نے شعر و شاعر کی اہمیت کے بارے میں یوں تحریر کیا ہے ''زمانہء جاہلیت میں اجتماعی امور اور تہذیب و تمدن کی باگ ڈور شعراء کے ہاتھ میں تھی ، شاعر کی عظمت خطیب سے زیادہ تھی چونکہ شاعربہت جلدی احساسات و حوادث کو الفاظ میں پروکر دلوں پر نقش باندھ دیتے تھے اسی لیے شاعر وں کے لیے لوگوں میں خاص خیال و عقیدے پائے جاتے تھے کہ شاعر کے ساتھ کوئی بیرونی طاقت ہے جیسے جن یا شیطان وغیرہ کہ جو اس پر الہام کرتا رہتا ہے ۔

ظہور اسلام اور شعری ارتقائ

ظہور اسلام کے بعد شعر و شاعری نہ یہ کہ زوال پذیر نہیںہوئی بلکہ اس کا مقام و مرتبہ بلند تر ہوا اور پیغمبر اکرم ۖ  کی خاص توجہ کی خاطر شعر و شاعری کو خاص عروج حاصل ہوا چنانچہ تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ جنگ احد میں رسول اکرم ۖ  نے تمام اسیروں کو فدیہ لے کر آزاد کیا جبکہ شعراء کو بغیر فدیہ کے صرف یہ کہہ کر آزاد کردیا کہ اسلام و مسلمین کی مذمت میں شعر نہ کہیں ، یا دوسری طرف کعب بن زہیر کہ جو مہدور الدم شاعر تھا اسلام کی مدح میں شعر کہنے کی خاطراسے معاف کردیا یا پھر بعض روایات میں جہاں پیغمبر اکرم ۖ  نے تعلیم قرآن کا حکم دیا وہیں پر حفظ شعر اور شعر گوئی کی تشویق و ترغیب بھی فرمائی ہے ۔

قرآن کریم اور شعر

اسلام میں شعر کی بہت اہمیت ہے اور رسول اکرمۖ نے بھی اپنے معاصر شعراء کو کافی عزت و احترام بخشا ہے او ر جہاں پر قرآن کریم شعراء کو گمراہ  و بے راہ معرفی کرتا ہے وہیں ایمان دار شعراء کو بہت سراہتا ہے  اور ان کی تمجید و تکریم کرتا ہے۔

  لہذا ارشاد ہوتا ہے(والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملو االصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا و انتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )(٨)۔

ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی خیال میں سرگرداں پھرتے ہیں ، اور یہ کہ وہ کہتے ہیںجو کرتے نہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔اور اللہ تعالی کو بہت یاد کیا ۔ اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا بدلہ لے لیا ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلدی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیںگے ۔

احادیث شریفہ اور شعر

جس طرح قرآن کریم شعر وشاعر ی کی مطلق مدح بھی نہیں کرتا اور نہ ہی مطلقا تایید بلکہ ایک طرف جہاں شعراء کو گمراہ و بے راہ اعلان کرتا ہے تو دوسری طرف ایمان دار شعراء کی تمجید و تکریم کرتا ہے ۔ اسی طرح معصومیں علیہم السلام سے مروی احادیث شریفہ میںبھی کہیں شعرو شعراء کی خیال پردازی کفر آمیزی اور لغویات پر مذمت کی توکہیںشعر کو تبلیغ دین کا بہترین ذریعہ قرار دیا اورمؤمنین شعراء کی مدح،تشویق و ترغیب فرمائی ہے ۔ حضرت رسول اکرمۖ نے ایک مسلمان شاعر کے کفار کی ہجو کرنے پر اس طرح فرمایا (والذی نفس محمد بیدہ  فکانکم تنحضونھم بالنبل) (٩)یعنی اس ذات کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے  اس طرح کے اشعار کہہ کر گویا تم دشمنوں پر تیراندازی کر رہے ہو۔اور دوسرے مقام پر ایک مسلمان شاعر سے مخاطب ہوئے اور فرمایا ( اھجھم فان جبرئیل معک)(١٠) دشمنوں کی ہجو کرکہ بیشک جبرئیل تیرے ساتھ ہے۔بلکہ حضرت رسول اکرم ۖ نے اسلا م کی حمایت اور دشمن و کفار کی مذمت میں شعر کہنے کو جہاد سے تعبیر کیا ہے لہذا جب سورہ شعراء کی آیات نمبر٢٢٤ـ٢٢٧(والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا و انتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ) نازل ہوئیں تو  شاعر صحابہ جناب کعب بن مالک اور حسان بن ثابت انصاری وغیرہ روتے ہوئے خدمت حضور انور میں تشریف لائے اور اپنی شعر و شاعری کے متعلق ان آیات کے ذیل میں حکم معلوم کیا تب آپ نے فرمایا ( ان المؤمن یجاھد بنفسہ وسیفہ و لسانہ)(١١)مؤمن جان، شمشیراور زبان سے جہاد کرتا ہے گویا شاعری اسلام کی خدمت کے لیے ہو تو جہاد باللسان ہے ۔اسی طرح آئمہ معصومین علیہم السلا م نے بھی اپنے معاصر شعراء کا خاص خیال رکھا اور عملی طور پر شعراء کو بلاکر ان سے کلام سننا اور ان کو ہدایا و تحایف پیش کرنا خصوصا آئمہ معصومین علیہم السلا م  کے معاصر شعراء کے مراثی  و مناقب بہت مشہور ہیں جیسے دعبل خزاعی کا امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں آکر مرثیہ پڑھنا اور امام زین العابدین علیہ السلام کا فرزدق شاعرکو منقبت و قصیدہ خوانی پر انعام پیش کرنا وغیرہ

اور ان کے علاوہ متعدد احایث معصومین علیہم السلا م سے مروی ہیں کہ خدمت، تبلیغ دین  اور منقبت اہل بیت علیہم السلا م میں شعر کہنا اس قدر ثواب و فضیلت رکھتاہے کہ ہر ایک بیت وشعر پر جنت میں ایک گھر کا وعدہ فرمایا ہے ۔

پیغمبر اکرم ۖ  کو شاعر کہنے کے اسباب ؟

یوں تو ہر چیز کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے اور پیغمبر اکرمۖ  کو بھی شاعر یا ساحر کہنے کا بھی کوئی نہ کوئی فلسفہ و سبب ضرور ہے لیکن جو متفق علیہ قول ہے وہ یہ ہے کہ کفار و مشرکین اپنے زخم دل کے مرحم کے لیے یہ تہمتیں لگاتے اور اس خیال میں خوش رہتے کہ یہ ایک شاعر ہے کہ جو آخر کا ر فوت ہوجائے گا اور اس نام و نشان بھی دوسرے شاعروں کی طرح مٹ جائے گا ۔ لہذا آپ کے ساحر ہونے کے متعلق بھی ولید بن مغیرہ نے جب اپنی قوم سے قرآن سمجھنے کی مہلت مانگی  اور جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو پیغمبر اکرم ۖ  کو ساحر بتا دیا اور اس پر یہ دلیل دی کہ جومحمد ۖکے کہنے پر آگیا اوراس کا دین اختیارکرلیا وہ اپنے قوم و قبیلہ اور عزیز و اقارب کو چھوڑدیتا ہے لہذا یہ سحر و جادو نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے ؟! ۔

اسی طرح آپ پر شاعر ہو نے کی تہمت لگانے کا قضیہ ہے چونکہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت ، سلاست و روانی ، معانی وبیان اور استعارہ وکنایات ان کی سطح سے بلند اور خود انہی کے اعتراف کے مطابق

 مافوق قول بشر تھا اور اس زمانے میں لوگ شعراء کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ان پر کوئی جن یا شیطان سوار رہتا ہے کہ جو ان پر یہ اشعار القاء کرتا ہے اسی جن یا شیطان کی وجہ سے شاعر کو مافوق طبیعت بشری جانتے تھے جیسا کہ تاریخ ادبیات عرب میں موجود ہے اور بعض مورخین نے تو مفصلا اس دور کے شعراء کے جنوں یا شیاطین کے نام بھی تحریر کیے ہیں مثلا اعشی کے شیطان کا نام مسحل تھا ، امرء القیس کے شیطان کا نام لافظ تھا اور عبید بن ابرص کے شیطان کا نام ہبید تھا وغیرہ۔(١٢)

لہذا قریش پیغمبراکرمۖ  کی زبان مبارک پر جاری کلام الٰھی کو مافوق بشر جانتے ہوئے کسی جن یا شیطان کی طرف نسبت دیتے کہ آپ پر بھی کوئی جن یا شیطان ہے کہ جو آپ پر یہ کلام القاء کرتا ہے (نعوذ باللہ) ۔

حضرت پیغمبراکرمۖ شاعر نہیں ہیں

 قرآن کریم نے شعر و شاعری کو مطلقا برا نہیں کہا ہے بلکہ اہل ایمان شعراء کی مدح کی ہے لیکن پھر بھی حضور انور ۖ کے شاعر ہونے سے صراحتا انکار کرتا ہے اورخود قرآن کریم کے شعر ہونے کا بھی منکر ہے لہذا ان آیات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ جو قرآن کریم کے شعر اور پیغمبر اکرم کے شاعر ہونے سے صراحتا انکار کرتی ہیں۔

قرآن کریم نے شعر و شاعری کے متعلق اور اس سلسلے میں کہ نہ قرآن شعرہے اور نہ پیغمبر اکرم ۖ  شاعر چھ سوروں میں تذکرہ کیا ہے ، وہ یہ ہیں:

١ـ( بل قالوا اضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر فلیاتنا بآیة کماارسل الاولون)(١٣)

ترجمہ:  بلکہ انہوں نے کہدیا کہ یہ تو طرح طرح کے خیالی خواب ہیں بلکہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے بلکہ وہ شاعر ہے ۔ پھر چاہیے کہ وہ ہمارے لیے کوئی معجزہ لائے جیسا کہ پہلوں کو دیکر بھیجا گیا تھا ۔

٢ـ (والشعراء یتبعھم الغاون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملو الصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا و انتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )(١٤)

ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر جنگل میں سرگرداں پھرتے ہیں ، اور یہ کہ وہ کہتے جو کرتے نہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔اور اللہ تعالی کو بہت یاد کیا ۔ اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا بدلہ لے لیا ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلدی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیںگے ۔

٣ـ (وماعلمنا ہ الشعر وما ینبغی لہ ان ھو الا ذکر و قرآن مبین)(١٥)

ترجمہ: اور ہم نے اسے شعرکا علم نہیں دیا اور نہ ہی وہ اس کی شان کے لائق تھا ، یہ نہیں ہے مگر نصیحت اور بیان کردینے والا قرآن۔

٤ـ ( و یقولون ا ئنالتارکوا آلھتنا لشاعر مجنون)(١٦)

ترجمہ: اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی خاطر چھوڑدینے والے ہیں ۔

 ٥ـ ( ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون)(١٧)

ترجمہ : یا وہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ۔ پس ہم انتظار کررہے ہیں اس کی حادثاتی موت کا ۔

٦ـ (وما بقول شاعر قلیلا ما تومنون )(١٨)

ترجمہ: اور وہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے تم لوگ جو ایمان لاتے ہو وہ بہت تھوڑا ہے ۔

شان نزول آیات

اولا یہ تمام آیات مکی ہیں بلکہ جن سوروں میں یہ آیات ہیں وہ سورے بھی مکی ہیں ۔ ثانیا مطلب کی حقیقت تک پہونچنے کے لیے ان آیا ت کی اجمالی شان نزول سے آشنا ہوا جائے ۔

کفارقریش قرآن کریم کی جذابیت سے خوب واقف تھے اور بہت زیادہ متاثر ہوا کرتے تھے خصوصا اگر کلام الٰھی خود پیغمبر اکرم ۖ  کی شیرین زبان ، لحن خاص و پرکشش آواز میں سنتے یہاں تک کہ اس کلام کی تاثیر اتنی تھی کہ بزرگان قریش رات کی تاریکی میں گوشہ و کنار میں چھپ چھپ کر کلام الٰھی کی تلاوت پیغمبر اکرم ۖ  کی زبانی سنا کرتے تھے اور ان کی عقلیں قرآن کریم کے اعجاز کو درک کرنے میں متحیر رہتی تھیں۔(١٩)

لیکن جب ان کے عقیدے کے خلاف بات آتی تو پھر وہ کسی بھی وہ کسی بھی طرح تہمت لگانے سے باز نہ آتے کبھی آپ کو شاعر کہتے تو کبھی ساحر اور کبھی مجنون حتی کبھی مفتر و جھوٹا یعنی اپنی طرف سے باتیں بنانے والا بھی کہا کرتے جبکہ یہ تہمتیں خود ایک دوسرے کی متضاد ہیں  اور اس بات کی نشاندہی ہیں کہ وہ لوگ پیغمبر اکرمۖ  کودرک کرنے میں ناکام رہے ہیں یاپھر حق کو درک کر چکے ہیں لیکن ہٹ دھرمی میں اپنے آباء و اجداد کے دین پر اٹل ہیں اس کے دفاع میں آپ پر طرح طرح کی تہمتیں لگارہے ہیں تاکہ لوگ آپ کی طرف مائل نہ ہوسکیں اور آپ کا دین پروان نہ چڑھ سکے۔

اس مطلب کی تائید وہ روایات بھی کرتی ہیں کہ جو علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں نقل کی ہیں کہ ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ : قریش نے ایک گھر میں اجتماع کیا اور مشورے کے بعد عتبہ بن ربیعہ کو رسول اکرم ۖ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ وہ آپۖ سے اس طرح کہے کہ آپ ۖ  کی قوم وقبیلے والے کہتے ہیںکہ آپ  ایک عجیب و غریب اور امر عظیم لے کر آئے ہیںکہ آپ کے آباء و اجداد بھی اس آئین و دین پر نہ تھے اور ہم میں سے بھی کوئی فرد اس پر اعتماد نہیں کرتا اور نہ ہی آپ کی اس امر میں اتباع کرنے کو تیار ہیں جبکہ یقینا آپ کو کسی نہ کسی چیز کی ضرورت و احتیاج ہے کہ جس کو ہم پورا کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔

 آپ کو جس قدر مال و دولت چاہیے ہم دیں گے آپ فقط اس کام سے ہاتھ اٹھالیں عتبہ نے یہ پیغام آپ تک پہونچایا، تب آپ ۖ نے فرمایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔حم۔ تنزیل من الرحمن الرحیم۔کتاب فصلت آیاتہ قرآنا عربیا لقوم یعلمون ۔ تا آیت۔فان اعرضوا  فقل انذرتکم صاعقة مثل صاعقة عاد و ثمود۔تلاوت فرمائی ۔

عتبہ ان آیات کو سننے کے بعد قریش کی جانب واپس ہوا اور سارا ماجرا ان کو سنایا اور کہا :کلمنی بکلام ما ھو بشعر ولا بسحر انہ لکلام عجب ما ھو بکلام بشر(کہ آپ نے مجھ سے کچھ ایسا کلام کیا کہ جو نہ شعر تھا اور نہ سحر و جادو بلکہ وہ ایک عجیب کلام تھا بلکہ وہ انسانی کلام بھی نہیں تھا ۔

اسی طرح کا واقعہ ولید بن مغیرہ کے ساتھ ہوا کہ جو سورہ حم کو سننے کے بعد اپنے گھر واپس گیا اور پھر گھر سے ایک مدت تک باہر نہ نکلا ۔

ولید بن مغیرہ چونکہ ابوجہل کا چچا تھا لہذا قریش نے ابوجہل پر اعتراض کیا کہ تیرے چچا نے دین محمد کو اختیار کرلیا ہے یہ سن کر ابوجہل اور اس خاندان کے دوسرے لوگ بہت غضبناک ہوئے ۔

اگلے روز صبح کو ابوجہل اپنے چچا ولید کے گھر گیا اور اس سے کہا کہ آپ نے مجھے شرمندہ کیا ہے اور ہماری بے عزتی کرادی ہے اور آپ نے دین محمدۖ اختیار کرلیا ۔ اس نے کہا نہیں میں ابھی تک اپنے آباء و اجداد کے دین پر ہوں لیکن میں نے محمدۖ سے ایسا کلام سنا ہے جس سے میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوگیے ! پھر جب لوگوں نے معلوم کیا کہ کیا وہ کلام شعر تھا اس نے کہا نہیں ۔ تو پھر کہا کہ کیا تقریر و خطابت تھی کہا نہیں آخر کا رجو بھی معلوم کرتے وہ کہتا نہیں تو پھر کہا کہ آخر وہ کیا تھا تب ولید نے کہا مجھے مہلت دو تا کہ سوچ کر بتائوں کہ وہ کیا تھا ۔(٢٠)

یہ روایت اور اس طرح کی بہت سی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قریش قرآن کریم کے متعلق متحیرتھے لہذا مسلسل آپس میں اجتماع کرتے میٹنگ بٹھاتے اور مشورہ کرتے تاکہ قرآن کے مقابلے کچھ جواب لاسکیں لیکن جب لاجواب ہوتے تو حضور اکرم ۖ پر طرح طرح کی تہمتیں لگاتے۔

شیخ طوسی تفسیر تبیان میں ان آیات کے ذیل میں فرماتے ہیں : کفار و مشرکین یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ شاعر نہیں ہیں اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ مجنون بھی نہیں ہیں لیکن یہ تہمتیں اس لیے لگاتے تھے کہ وحی و نبوت کی تکذیب کرسکیں اور خود کو ہرطرح کی ذمہ داری و وظیفے سے سبکدوش کرسکیں۔

سید قطب تفسیر ظلال القرآن میں رقمطراز ہیں : جی ہاں قریش اس وقت کہتے تھے کہ قرآن شعر ہے اور رسول اکرم ۖ شاعر کہ جب آپ کے کلام کے مقابل متحیر رہ جاتے اور لاجواب ہوتے اور عجیب و غریب و لطیف کلام سنتے کہ لوگ جس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے چلے جاتے ہیں اور کفر و شرک سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔

 رسول خدا ۖ  علم شعر رکھتے تھے  یا نہیں؟

ظاہرا ان آیات سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکر م ۖ  شعر کا علم نہیں رکھتے تھے چونکہ آپ سے اس علم کی نفی کی گئی ہے ، اصلا خداوند عالم نے آپ کو ذوق و قریحہ شعر عطا ہی نہیں کیا تھا۔

 جناب طبرسی نے بھی یہی تحریر فرمایا ہے: ماعلمناہ الشعر ای ما اعطیناہ العلم بالشعر و انشائہ۔

علامہ طباطبائی کا بھی یہی نظریہ ہے ۔

ظاہرا مفاد آیات بھی یہی ہے اگر چہ شعر گوئی تقریبا فطری امر ہے لیکن یہی کمال اعجاز ہے کہ آپ کو یہ ذوق بھی عطا نہیں ہوا تاکہ قرآن کریم کے کلام الٰھی ہونے میں شک نہ ہو۔بلکہ معنی معجزہ یہی ہے کہ خارق عادت و خلاف فطرت ہو لہذا جہاں ایک شخص بغیر کسی سے تعلیم حاصل کیے تمام کائنات میں کائن و ماکان و مایکون کا عالم ہوسکتاہے وہاں ایک فن کو  اسی کی مصلحت کے مدنظر  اس سے سلب کرایا جاسکتاہے ۔

کیا دیگر حجج الٰھی شاعر تھے؟

شعر و شاعری کے لیے جو اسباب و علل پیغمبر اکرم ۖ کے متعلق قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں وہ اگر چہ صرف آپ ہی سے مخصوص ہیں لیکن پھر بھی ظاہرا اس طرح کے ہیں کہ شاید تمام انبیاء و رسل میں کوئی فردبھی شاعر نہ تھا  چو نکہ جو اسباب وعلل آپ کے یہاں ہیں وہی دیگر انبیاء و رسل میں بھی پائے جاتے ہیں ۔کہ آپ کے کلام کو کوئی شعر کہکر رد نہ کردے اور کلا م ا لہی کی قدر و قیمت اور شان ومنزلت کم ہوجائے اور اعتبار ساقط ہوجائے ۔ اگرچہ اس وقت دنیا میں انبیاء و رسل میں سے کسی کا بھی کلام موجود نہیں ہے اس لیے کہ مسلمانوں کے یہاں جو انبیاء و رسل  کے فرامین ہیں وہ غیر مستقیم ہیں مثلا یا بنقل قرآن کریم ہیں یا بنقل معصومین علیہم السلام یعنی نقل قول ہیں کہ جس سے اثبات و نفی میں کوئی بھی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی۔ اور جو کلام دوسرے ادیان کے پاس ہے وہ تحریف شدہ ہے اس لیے کہ اگرکتب آسمانی کو سامنے رکھیں تو وہ خود کلام الٰہی ہیںنہ کلام انبیاء و رسل ،اور وہ بھی تحریف یافتہ۔

اگر چہ بعض روایات سے استفادہ ہوتاہے کہ نفی شاعری صرف ہمارے پیغمبر ۖ سے ہے لہٰذا دیگر انبیاء میں شاعر گزرے ہیں بلکہ سب سے پہلے شاعر خود ابوالبشر حضرت آدم  تھے اور وہ دلائل و وجوہات کہ جو آپ ۖ کی نفی شاعری پر پائی جاتی ہیں وہ صرف آپ ہی کے زمانے میں منحصر ہیں کسی اور زمانے میں شاعری اس عروج پر نہیں تھی کہ کسی نبی کو شاعر سے تعبیر کیا جاتا۔

بہر حال اس دور حاضر میں ہمارے پیغمبر اکرم ۖ کے علاوہ انبیاء و رسل میں سے کسی کا بھی متن کلام موجود نہیں ہے کہ جس کے بارے میں شعر و عدم شعر پر گفتگو کی جائے ۔

لیکن آئمہ طاہرین علیہم السلام ؟ آپ حضرات سب کے سب شاعر تھے حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کا دیوان اور حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کا مرثیہ اور اسی طرح ہر امام کے اشعار کہ جو مختلف مواقع پر ارشاد فرمائے کبھی مناجات کی صورت میں تو کبھی مرثیہ کی شکل میں سب آپ حضرات کے شاعر ہونے پر دلیل ہیں  اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ شاعری خود ایک فن و ہنر ہے کہ جس کا پایاجانا کوئی عیب نہیں بلکہ کمال ہے اور پھر وہ وجوہات کہ جن کی وجہ سے حضرت پیغمبراکرمۖ کے شاعرہونے سے انکارہے وہ یہاں پر نہیں ہیں چونکہ  حضرت پیغمبراکرمۖ صاحب شریعت اور آئمہ طاہرین محافظ شریعت ہیں ، حضرت پیغمبراکرمۖ  کی حیات مبارک میں دین کامل ہوچکا ہے اب کوئی دین میں اپنی جانب یا بحیثیت شاعر کمی یا زیادتی کی تہمت نہیں لگا سکتا اور اگر کوئی تہمت لگائے بھی تواس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

پیغمبر اکرم ۖ  کے شاعر نہ ہونے کی وجہ

حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفیۖ کے شاعر نہ ہونے کا اصلی فلسفہ یہ ہے کہ اولا آپ کی ذات والا صفات کو امتیازی صورت بچشنی تھی تاکہ آپ کا قیاس شعراء پر نہ کیا جاسکے ،ثانیا قرآن کریم کی عظمت کو محفوظ رکھنا تھا تاکہ کوئی اس کو شعر کہہ کر نہ ٹال دے، ثالثا شعر گوئی میں دوسروں کی مدح و ثناء ہوتی ہے اور حضرت رسول اکرمۖ اس مرتبہ کمال پر فائز ہیں کہ جن سے بلند ماسوی اللہ کوئی نہیں تو وہ کس کی مدح کرتے یعنی آپۖ  کو صفت شاعری سے منزہ رکھنے کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ آپ خودممدوح ہیں نہ کہ مداح۔

 حضرت پیغمبراکرم ۖ کے شاعرنہ ہونے کی خاص اور اصل وجہ یہ ہے کہ آپ پراحکام شریعت خداوندعالم کی جانب سے وحی کے ذریعہ سے پہونچتے ہیں او روحی کا ادراک ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے لہذا کفار و مشرکین اس کو شعر کی نسبت دیتے تھے جبکہ وحی و شعر میں بہت زیادہ فرق ہے  مثلا:

٭ شاعر از خود الہام لیتا ہے اور پیغمبر از غیر یعنی خداوند عالم سے، پس وحی و شعر متفاوت ہوئے لہذا شعرکی وحی سے تشبیہ نادرست ہے ۔

شعراء منبع الہام کو داخل اور انبیاء منبع الہا م کو خارج جانتے ہیں لیکن جو لوگ مسائل فلسفی و عرفانی سے آگاہ نہیں ہیں وہ اس فرق کو درک نہیں کرسکتے کہ احساس و الہام کی ان دونوں قسموں میں کیا فرق ہے ۔

کفار معاصر رسول ۖ بھی چونکہ علم عرفان و فلسفہ سے ناواقف تھے لہذا اس مطلب کو درک نہ کر پائے اور نہ سمجھ سکے کہ خارج از خود بھی منبع الہام ہوسکتا ہے ۔

واضح ہے کہ اگر منبع الہام و احساس داخل یعنی خود انسان ہو جیسا کہ شعراء میں پایا جاتا ہے تو اچھے برے ہر طرح کے خیالات و احساسات کو ہر طرح کے الفاظ میں باندھ کر پیش کیا جا سکتا ہے ، لیکن اگر منبع الہام خارج از خود یعنی خداوندعالم کی ذات مقدس ہو تو پھر الہامات کے معانی بھی معجزہ ہونگے اور الفاظ بھی ۔ لیکن یہ بات اس دور کے کفار کی سطح سے بالا تھی ، لہذا قرآن نے اس فکر کو اس طرح پیش کیا ہے ۔

(ا کان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منھم۔۔۔)(٢١) لوگوں کو یہ دیکھ کر تعجب ہوتاہے کہ کیسے ہم میں سے ہی ایک شخص پر خداوندعالم کی جانب سے وحی نازل ہوتی ہے۔

٭ ٭ شاعر ، شعر کہنے کے بعد اگر چہ بہت اچھے شعر پر آمد کا احساس بھی کرے تو بھی ماوراء شاعر کوئی شٔ نہیں ہے کہ جس کی طرف اس القاء کی نسبت دی جائے۔ جبکہ وحی میں تین مستقل وجود ہیں ١ـ وحی بھیجنے والا ، خداوندعالم۔ ٢۔ وحی لانے والا ،فرشتہ ۔ ٣۔ وحی دریافت کرنے والا ، نبی۔

٭٭٭ شعر کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اس کا جواب اور توڑ مل جاتا ہے اور آج تک کسی شاعر نے بھی یہ چیلنج و دعوی نہیں کیا کہ میرے شعرکا جواب لائو اور نہ ہی کوئی کرسکتا ہے ۔ جبکہ قرآن کریم اپنے مقابلہ کے لیے بارہا چیلنج کرتا رہا ہے ۔جیسا کہ یہ مندرجہ ذیل آیات:

١ـ (ام یقولون مفتریات قل فاتوا بعشر سورمثلہ مفتریات وادعوامن استطعتم من دون اللہ ان کنتم صادقین)(٢٢)  یعنی کیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ خود  کا گھڑ ا ہوا ہے، آپ کہدیجیے کہ تم بھی اس طرح کے گھڑے ہوئے دس سورے لے کرآئو اور اللہ کے علاوہ جس کو بلاسکتے ہو بلائو  اگر تم سچے ہو ۔

٢ ـ (ام یقولون افتراہ قل فاتوا بسورة مثلہ وادعو ا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صادقین)(٢٣) یعنی کیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس نے خود نے گھڑ لیا ہے آپ کہدیجیے اس طرح کا کوئی سورہ لے کرآئو اور اللہ کے علاوہ جس کو بلاسکتے ہو بلائو  اگر تم سچے ہو ۔

٣ـ  (وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ  وادعو ا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین)(٢٤)  اور اگرتم شک میں ہو جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا تو تم بھی ویسی ہی سورت لے آئو اور اللہ تعالی کے علاوہ اپنے سب گواہوں کو بلالائواگر تم سچے ہو۔

٭٭٭٭اگر منشاء وحی  اور منشاء شعر ایک ہی ہوتے تو پھر کیوں شعر کو اقسام ہنر میں سے شمار کیا جاتا ہے جبکہ وحی کواقسام ہنر میں سے شمار نہیں کیا جاتاہے ۔

اور ان کے علاوہ بہت زیادہ  وحی وشعر کے درمیان فرق و تفاوت پایا جاتا ہے کہ جو اہل بصیرت  پر مخفی نہیں ہے ۔

نتیجہ

اس مکمل گفتگو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ

مقام رسالت ایک منصب و عہدہ الٰھی ہے کہ جو انتخابی نہیں ہے بلکہ خدا وندعالم کی جانب سے عطا ہوتا ہے ۔(وربک یخلق مایشاء و یختار ما کان لھم الخیرة)(٢٥) آپ کا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا اور جس کو چاہتا ہے منتخب کرتا ہے لوگوں کو کسی کے اختیار کا حق نہیں ہے ۔

مقام رسالت اس قدرزیادہ امتیازات کا حامل ہے کہ جس کا کسی دنیاوی منصب و عہدہ سے یا کسی فن و ہنر سے قیاس نہیں کیا جاسکتاہے۔

مقام رسالت عصمت  کے ہمراہ ہے ۔

مقام رسالت  حامل معجزہ ہے۔

لیکن شاعری ایک ہنر ہے کہ جس کو ہرکس و ناکس کسب کرسکتا ہے اگرچہ استعداد و صلاحیت خداداد ہوتی ہے تو وہ ہر فن و ہنر میں ایسا ہی ہے بلکہ مطلق وجود انسان خداداد ہے کہ جس کا عھدہ و منصب الہٰی اور حجج کبریا سے تقابل غیرقابل قیاس ہے ۔

٭٭٭٭٭

منابع ومدارک

١ـ  سورہ انعام آیت ١٢٤                                ٢ـ  سورہ حج  آیت٥٢

٣ـ  سورہ احقاف آیت٣٥                             ٤ـ  سورہ بقرہ  آیت ١٢٤

٥ـ  سورہ بقرہ  آیت ١٢٤  

٦ـ  اقتباس از کتاب صراط الحق  جلد ٢ ،مبحث نبوت ورسالت۔ آیت اللہ محسنی

٧ـ  اقتباس از کتاب المنطق ، صناعات خمس ۔آیت اللہ محمد رضا مظفر

٨ـ  سورہ شعراء آیت ٢٢٤ـ٢٢٧                          ٩ـ  مسند احمد بن حنبل ج٣ ، ص٤٦٠

١٠ـ  مسند احمد بن حنبل ، ج٣ ، ص٢٩٩                      ١١ـ  تفسیر قرطبی ، ج٧، ص ٤٨٦٩

١٢ـ  خاتم المرسلین ، محمد ابو زہرہ ، ج٢ ، ص ٣٤٥              ١٣ـ   سورہ انبیاء  آیت٥

١٤ـ  سورہ شعراء آیت ٢٢٤ـ٢٢٧                        ١٥ـ  سورہ یاسین آیت ٦٩

١٦ـ  سورہ صافات آیت ٣٦                            ١٧ـ  سورہ طور آیت ٣٠

١٨ـ  سورہ حاقہ آیت ٤١                                ١٩ـ  خاتم المرسلین ، محمد ابو زہرہ ، ج٢ ، ص ٢٣٤

٢٠ـ  بحار الانوار ، علامہ مجلسی، ج ١٤ ،ص ١٢٣                ٢١ـ  سورہ یونس آیت ٢

٢٢ـ  سورہ ھود آیت ١٣                                 ٢٣ـ  سورہ یونس آیت ٣٨

٢٤ـ  سورہ بقرہ آیت ٢٣                               ٢٥ـ  سورہ قصص آیت ٦٨


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 2 (نشريه بزم رأفت)
[ پنجشنبه هفتم مرداد 1389 ] [ 11:34 ] [ انجمن ] [ ]

عصر رسالت کے شعرا ء کا تعارف

                                                          (بقلم:مجاھد علی مطھری)

جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٥٧٠ ئ میںمتولد ہوئے تو اس وقت جزیرةالعرب اور قوم عرب سیاسی اور اجتماعی بحران سے دوچار تھے . محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ابتدائی زندگی یعنی بچپن یتیمی میںگزارا ، وہ اپنی قوم کے حالات سے خوب واقف تھے ، اپنی قوم کے حالات دیکھ کر بہت رنجیدہ رہتے تھے . جب جوانی میں داخل ہوئے اور لوگوں کو بتایا کہ میں خدا کا منتخب کردہ نبی ہوں ، دین اور کتاب لایا ہوں اس وقت لوگوںکو توحید اور اسلام کی دعوت دینا شروع کردی . عرب کے لوگ اس وقت دو گروہوںمیںبٹ گئے . ایک گروہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا ساتھ دیا اور دوسرا گروہ ان کا دشمن بن گیا اور ان کے مقابلے میں آگیا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اور کفار مکہ کے درمیان اختلافات حد سے زیادہ بڑھ گئے اور انہوںنے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو اذیت دینا شروع کردی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ  ٦٢٢ ئ کو مکہ سے ہجرت کرکے یثرب یعنی مدینہ تشریف لائے ،یہ واقعہ مسلمانوں کی تاریخ کا آغاز تھا . اس کے بعد مسلمانوں اور کفار کے درمیان بہت سی جنگیں ہوئیں جن میں اکثر میںاسلام کو کامیابی ملی . رسول خدا ۖ نے اپنے اخلاق او رحسن سلوک کے ذریعہ بیشتر عرب قبائل کو اسلام لانے پر راغب فرمایا او ران کو اپنی رعیت میں شامل کردیا . وہ عرب رسول خدا ۖ سے اتنے مانوس ہوئے کہ اپنی جانیں رسول خدا ۖ  پر دینے کے لیے تیار ہو گئے . اور ایک بہت بڑی فوجی طاقت کی بنا ڈالی کئی ملک او رشھر فتح کئے اور اس طریقے سے ایک عرب یا اسلامی حکومت وجود میںآئی. جو وحدت عرب کا جلوہ بھی تھی اور وحدت اسلامی کے ثمرہ سے سرشاربھی . خدا وند عالم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو جزیرہ عرب میں ہدایت کے لیے منتخب فرمایا تھا اور اس وقت عرب میں شعر و شاعری کا عروج تھا بڑے بڑے شعراء اس وقت موجود تھے کہا گیا ہے شاعری اس وقت اتنی عروج پر تھی کہ اکثر لوگ آپس میں بات بھی نظم یا شعر سے کیا کرتے تھے . اس وقت شاعری کے لحاظ سے دو بڑے قبیلے اوس اور خزرج مشہور تھے جن قبیلوں میں شعراء کی تعداد بہت زیادہ تھی ذیل میںہم ان شعراء کا تذکرہ کریں گے ۔

 اس زمانے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے آکر حق کی آواز بلند کی اس حق کی آواز کو معروف کرنے اور اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے آپ کو ان شعراء اور ادیبوںکا مقابلہ کرنا تھا . اس لیے خدا وند عالم نے آپ کو قرآن بطور معجزہ دے کر بھیجا تاکہ آپ ۖان عربوں ، شاعروںاور ادیبوںکا مقابلہ کرسکیں . وہ جوعربی ادب کے دعوی دار تھے وہ بھی سر جھکا کر قرآنی آیات کو سلام کرنے لگے . اور کہنے لگے کلام محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ فصیح ہے تاریخ عرب میں نہ ایسا فصیح کلام ملا ہے نہ ملے گا . اس لیے کہ خدا نے ہر نبی کو اس دور کے مطابق معجزہ عطاکیا ہے . حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں سحر زیادہ تھا تو ان کو عصا کا معجزہ ملا . حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں مرض اور طبابت کا عروج تھا اس لیے ان کو مسیح بناکر بھیجا گیا جو برص اور بڑے بڑے مرضوں کا معالج قرار دیا گیا حتی کہ مردوںکو زندہ کرنے لگے . رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے زمانے میں شعر و شاعری کا عروج تھا اس لیے آپ کو قرآن جیسا فصیح کلام دے کر دیگر عرب ادیبوں پر برتری دے دی . نثر عرب زبان میں شعر سے کم دریافت ہو ئی ہے . کیونکہ عرب زبان خود زمانہ جاہلیت میںجو عرب زبان کا ادبی لحاظ سے سنہری دور شمار کیا جاتا ہے . نثر بہت کم مقدار میں دریافت ہوئی ہے لیکن اس کے مقابلے میں شعر بہت زیادہ ملا ہے . نثر کا کم ہونا اس کا سبب یہ نہیں کہ عرب نثر سے روگردان تھے بلکہ ہم دیکھتے آئے ہیں کہ اہل قوم خطابت ، ضرب المثل ، روایت قصو ںاور تاریخی خیالات کے مشتاق تھے لیکن پھر بھی نثرکے مقابلے میں شعر کو ترجیح دیا کرتے تھے اور نثر کے ادیب لوگ اتنے مشہور نہیں تھے جتنے شعر کے ادیب لوگ یعنی شعراء حضرات مشہور اور پسندیدہ تھے . خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے پہلے اور بعد میں دنیائے شعر میں ایسی ایسی شخصیتیںملی ہیں جن کا ثانی آج تک نہیں ملتا . وہ بڑے بڑے شعراء تھے ان میں سے جو عصر رسالت میں موجود تھے ان میں سے بعض ایمان لائے اور بعض کافر مرے ہیں لیکن ان کا ادب کے لحاظ سے ثانی موجودد نہیں . کیونکہ ہمارے مضمون کا عنوان بھی یہ ہے کہ عصر رسالت کے شعراء کا تعارف اعم از مسلم ہے و غیرہ . اس لیے بندہ حقیر نے کوشش اور سعی کی ہے کہ جتنا ہو سکے عصر رسالت کے شعراء کا کچھ مختصر تعارف کرایا جائے اور اسکے ساتھ میں '' بزم رأفت '' والے برادران شعراء کا بہت شکر گذار ہوں جنہوں نے یہ برنامہ تشکیل دیا ہے۔ تاکہ ہم تحقیق بھی کریں اور ادب سے دلچسپی بھی بڑھے . ویسے تو عصر رسالت میں بہت سارے مشہور شعراء ملتے ہیں لیکن ہم یہاں پر بعض کا ذکر کریں گے جو کہ زیادہ مشہور تھے ان شعراء کے زندگی ناموں کو لینے کے لیے بہت سی کتابوںکا سہارا لیا گیا ہے .

 حسان بن ثابت

حسان بن ثابت کا پورا نام ابو الولید حسان بن ثابت تھا اور یہ خزرج قبیلے سے تعلق رکھتا تھا . یہ قبیلہ یمن سے ہجرت کر کے حجاز میں آیا تھا اور یہ قبیلہ اوس کے ساتھ مدینے میںسکون پذیر ہوا تھا . حسان بن ثابت ولادت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آٹھ سال پہلے مدینے میںپیدا ہوا . اس کا خاندان نہایت شریف ، ہر دلعزیز  اور غزل کا مشتاق تھا . ایسے ماحول میںحسان نے پرورش پائی. زمانہ جاہلیت میںمدینہ میدان نزاع اور کشمکش کی جگہ تھی جہاںاوس اور خزرج جیسے دوبڑے قبیلے مد مقابل تھے . اور دونوںقبیلے شاعری کے لحاظ سے قوی تھے . قبیلہ اوس کا مشہور شاعر قیس بن خطیم اور قبیلہ خزرج کا شاعر حسان بن ثابت تھا.

حسان نے اپنے خاندان اور قبیلے کا دفاع کیا اور خودان کے بزرگوں نے اسکی حوصلہ افزائی کی اور بہت کم مدت میںاس نے عرب کے دوسرے بلاد میںبھی شہرت حاصل کرلی حسان بادشاہوںکیے دربار میںبھی گیا اور وہاںاپنے فن کا مظاہرہ کیا اور عرب کے بڑے بڑے شعراء مثلاً نابغہ الذبیانی اور علقمہ الفحل کے ساتھ اپنے شعر پڑھے اوردربار سے انعامات اور جائزے حاصل کئے،جن کی وجہ سے حسان توانگر ہوگیا . اس زمانے میںحیرہ بادشاہ کے پاس ابو قاموس نعمان بن منذر گیا اور نابغہ کا جانشین بن کر وہاں شعر پڑھنے لگا. جب اس نے حسان کی ادبی صلاحیتوںکو دیکھا تو اس کو نابغہ کی جگہ پر آنے کو کہا لیکن حسان اپنے قبیلے میںاستاد کی حیثیت حاصل کر چکا تھا اور اسلام بھی لاچکا تھا اور رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھی رہ چکا تھا اور مدح رسالت بھی کر چکا تھا اس لیے اس نے حیرہ کو جواب دے دیا ، حسان ساٹھ سال کی عمر میں اسلام لایا .   اور اپنی شاعری کو دین کی خدمت میںوقف کردیا . قریش کے شاعروںکے حملوںکا جواب دیتا رہا . رسول خدا ۖ اور اسلام کا دفاع کرتا رہا . رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا ن کے اشعار کو سراھا اور خود رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا حجرہ اپنے گھر کے ساتھ بنایا اور بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر کیا .

 سیرین نامی عورت جو رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ماریہ قبطیہ مادر ابراہیم کی بہن تھی اسکو بخش دی اور وہ قصرجو ابو طلحہ نے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وقف کیا تھا حسان کو بخش دیا . لیکن حسان ایک بزدل انسان تھا اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں فقط اشعار پر اکتفا کیا شمشیر کے ساتھ کسی بھی جنگ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیںگیا. رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد حسان مہاجر اور انصار کے درمیان نزاع میںآگیا اور آخر کار انصار والوںکا ساتھ دیا اور عثمان کے طرفداروںمیںسے ہو گیا. اور اور قتل عثمان پر اس نے نوحہ لکھا . حضرت علی علیہ السلام کو عثمان کے قتل کا ذمہ دار ٹہرایا . حسان بن ثابت کا ایک دیوان ہے جو بارھا مرتبہ چاپ ہو چکا ہے خصوصا ً نوین صدی ہجری میںوہ مصر ہندوستان ، تیونس میںطبع ہو چکا ہے . کیونکہ حسان دینی اور سیاسی لحاظ سے خاص موقعیت رکھتا تھا اس  لیے اس کے اشعار بہت زیادہ مشہورہو گئے . اور یہ کا م دشمنان اسلام پر بہت گراںگزرتا تھا . بعض تاریخ پیغمبرۖ لکھنے والوںمثلا ً ابن اسحاق ، ابن ہشام نے ان کے اشعار کو بہت تلخیص اور تہذیب کے ساتھ سیرت پیغمبرۖ میںلکھا ہے . اور ان اشعار کا بھی تذکرہ کیاہے جو اس نے مدح نبی ۖ میں لکھے تھے . حسان کے اکثر شعرہجائی ہیںباقی انصار کے افتخارات ، مدح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،بادشادہ غسانی ، بادشاہ حیرہ کی مدح اور دیگر عرب اشراف اور سرداروںکی مدح میں لکھے ہوئے ہیں. حسان بن ثابت کے اشعار کو چار حصوںمیںتقسیم کیا گیا ہے

(١) حسان شاعر قبیلائی : یہ حصہ حسان کی شاعری کا زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتا ہے . اور اس میں فخریہ اشعار ہیں.

(٢) حسان شاعر تکسب: یہ وہ قسم ہے جس میں حسان نے دربار کی مدح اور بادشاہوں کی مدح میںشعر کہے ہیں انعامات حاصل کرنے کے لیے .

(٣) حسان شاعر اسلام: اس قسم میںحسان نے سیاسی مذہبی اور دینی شعر کہے ہیں اور اس قسم میں مدح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  والے اشعار بھی شامل ہیں.

(٤) حسان شاعر لھو: اس قسم میں وہ اشعاراور غزل شامل ہیں جولھو ولعب اور شراب خوری کے متعلق ہیں . اس قسم کا تعلق بھی زمانہ جاہلیت سے ہے .

اس سے پہلے کہ حسان اسلام کی طرف آئے اس کے اشعار جاہلی تھے . وہ اپنے قبیلے کے دفاع میں تھے . حسان نے اپنی قوم کے دفاع کو اپنا وظیفہ سمجھا تھا . حسان کے لیے وہ وقت آزمایش کا تھا جس وقت اس کے قبیلے کا جھگڑا اوس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا .دونوں کے درمیان ادبی جنگ شروع ہوئی . ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ وہ دوسرے قبیلے کونیچا دکھا کر اپنے قبیلے کو بلند کرے . اور ان کے فخر کو آشکار کرے .

حسان نے اس دور میںاپنی قوم کا فخر ظاھر کیا اور اپنی قوم کے متعلق ان کی شجاعت ،کرم ، شرف ، حسب و نسب کو عیاںکیا حسان بن ثابت نے اپنے دشمن شاعر قیس بن خطیم کے رد میںیہ غزل لکھی جو بہت مشہور ہے .

لعمر ابیک الخیر یا شعث                        ما بنا علی لسانی فی الخطوب ولا یدی

لسانی و سیفی صامان کلھما                 و تبلغ  مالا  یبلغ  السف  مذودی

وانی لمعط ماوجدت و قائل                   لموقد ناری لیلة الریح '' اوقد''

حسان نے اس کے علاوہ مدح اسلام اور مدح رسول خدا ۖ میں بھی کافی اشعار کہے ہیں ایک مشہور شعر جو حسان نے مدح اسلام اور رسول ۖ میںکہا تھا. اس میںاثبات رسالت پیامبر ۖ کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے . اس شعر میں حسان نے اپنے قلبی عقیدہ کا اظہار کیا ہے . یہ شعر دنیا اور مادیات سے خالی ہے .

بھنی اتانا  بعد  یاس و فترہ                          من الرسل والاوثان فی الارض تعبد

خامسی نالاً مستنیراً وھادیا ً                       یلوم   کما لام    المقیل     المھند

وانذر  نا نالاً و   بشر جفة                            وعلمنا   الاسلام   فا  اللہ  نحمد

وانت الہ الخلق ربی و خلقی                       بذالک ماعمرت فی الناس اشھد ''

اس کے علاوہ بھی حسان نے مدح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اشعار کہے  تھے . آخر کا ر یہ مداح رسول ۖ اور عرب کا بزرگ ترین شاعر عھد معاویہ میں ٥٤ھ کو دار فانی سے کوچ کر گیا . حسان بن ثابت کا زندگی نامہ حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الحیاة الادبیة بعد ظہور الاسلام ، چاپ قاھرہ۔   (٢) الروائع حسان بن ثابت، چاپ بیروت ۔

(٣) شاعر الرسول الثقافة فی الاعداد ۔             (٤) ادباء العرب ، ج  ١ ، چاپ بیروت ۔

کعب  بن زھیر

جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی دعوت عام شروع کی تو ان کے اور قریش مکہ کے درمیان ایک آگ والی جنگ شروع ہو گئی شاعران قریش نے خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی دعوت کو قریش پر ہجوم قرار دیا، اس طرف سے عربی ادب کے بڑھ بڑھ شاعر موجود تھے . جو اپنی ادبی صلاحیتوںسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کو حقیر کرنے کی پے در پے کوشش کر رہے تھے . جن میں عبد اللہ بن زبعری ، عمرو بن العاص . ابو سفیان بن حارث سر فہرست تھے . ان لوگوںکا کہنا تھا کہ جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرفداری کررہے ہیںان کے پاس کیا ہے جو ان کے طرف جارہے ہیں.

اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول خداۖ سے اجازت مانگی کہ ان سے مقابلہ کریں. ان میںسے حسان بن ثابت ، کعب بن مالک اور عبد اللہ بن رواحہ تھے کہ وہ شعراء قریش سے مقابلہ کریں، اسلام اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کریں کیونکہ قریش کے اشعارنبیۖ کے خلاف تھے . اور اسلام کی اہانت میںتھے . اگر یہ مقابلہ ہوتا تو وہ اشعار آشکار ہوتے اور مقام رسالت کی اہانت ہوتی . مسلمانوںکے درمیان فساد ہوتا کفار متحد ہوتے . اس لیے نبی اکرم ۖ نے اس مبارزہ کی اجازت نہیںدی تھی .

کعب بن زھیر وہ پہلا قریش کا شاعر تھا جس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کے خلاف اشعار لکھے تھے پھر بعد میں پشیمان ہوا اور ان اشعار کا ازالہ کیا . کعب بن زھیر بن ابی سلمی قبیلہ غظفان سے تھا اسکی ماںقبیلہ ام کبشہ سے تھی . وہ اس  ماحول میں پرورش پاتا ہے جو سب کے سب ادیب تھے .نسل ابو سلمی ' جو کعب کا جد تھا ' سے گیارہ نسلیں شاعر تھیں کعب نے اپنے بچپن میںہی نظم پر عبور حاصل کر لیا تھا . لیکن اس کے باپ نے اس سے منع کیا کہ وہ اپنے اشعار کو ظاہر کرے . جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعوت کو آشکار کیا تو اس زمانے میںکعب کے اشعار بہت مشہور تھے . اس کے بھائی بجیر نے اسلام قبول کیا تو کعب نے اس کی ملامت کی کہا کہ تم نے وہ دین قبول کیا ہے جو ہمارے آباء واجداد میںسے کسی کا نہیںہے . اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بد دعا دی وہ مھدور الدم ہو گیا . کعب نے ہر قبیلے سے پناہ مانگی لیکن کسی نے اس کو پناہ نہ دی ۔

 اس کے بھائی نے اس کو اسلام کی جانب مائل کیا کیونکہ کعب کے پاس کوئی اور پناہ گاہ نہ تھی . اس نے اسلام قبول کیا اور ایک قصیدہ لکھا بنام '' بانت سعاد'' پھر وہ مدینے آیا وہ قصیدہ رسول خدا ۖ کے سامنے پڑھا آپ نے اسے معاف کر دیا اور پناہ دے دی .

کعب کا ایک دیوان بھی ہے لیکن وہ اتنا گرانقدر نہیںہے کیونکہ اگر اس سے قصیدہ '' بانت سعاد '' نکال لیا جائے تو اس میںکوئی بھی اچھی چیز باقی نہیں رہتی . کیونکہ اس کے کچھ موضوعات معمولی ہیں . اس میںمدح و غزل اور ورثاء جیسے اہم چیزیں کم ہیں . لیکن اسکے بہترین اور گرانقدر اشعار وہ قصیدہ بانت سعاد ہے یہ قصیدہ'' المشوبات '' کے زمرے میں آتا ہے . اس قصیدے میں تقریباً ٥٨بیت ہیں . جن کی شرح کافی علماء نے کی ہے . جن میں ابن درید خطیب تبریزی ، ابن ہشام ، باجوری ، یہ قصیدہ بارہا ایشیا اور یورپ کی مختلف زبانوںمیں چھپ چکا ہے . مثلا ً  لا طینی ، فرینچ ، جرمنی ، انگلش اور اٹلی وغیرہ. قصیدہ بانت سعاد میںتین قسم کے اشعار ہیں .

(١) مقدمہ غزل میںقدیم شاعروںکے عادت  ۔١۔ ١٢.

(٢) اس ناقہ کی وصف جو شاعر کو معشوق تک پہنچائے  .  ١٣۔ ٣٣.

(٣) مدح پیامبر ۖ اور مدح مہاجرین  ٣٤۔٥٨.

کعب اپنے باپ اور استاد کے بہت زیادہ اوصاف رکھتا تھا وہ جزئیات جن کو اس کے باپ نے اس کو پرورش کئے تھے . تجلی کرنے لگے . اس کے ایسے اوصاف تھے . جو اس کے کلام میں موجود رہتے تھے . وہ اوصاف اتنے طاقتور و حرکت والے تھے جو اس کی شاعری کو عیاں کر دیتے تھے . کعب کے اشعار میں صناعت آشکار ہے  بعض اس کے ایسے اشعار دیکھے گئے ہیں . جن کی مضامین ذہن کو جذب کر دیتے ہیں . جو اس کی فصاحت و بلاغت کا واضح ثبوت ہے . کعب بن زھیر نے بھی مدح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہت سارے اشعار کہے ہیں اس کی ایک غزل جو مشہور ہے اس میں اس نے رسول خدا ۖ کو نور سے تشبیہ دی ہے . جس نور سے تلواریںبھی روشنی لیتی ہیں.

ان الرسول لسیف یستضاء بہ                         مھند من سیوف اللہ مسلول

عصبہ من قریش قال قائلھم                             ببطن ملہ لما اسلو''معازیل ''

زالو خمازال انکا س ولاکشف                          ون اللقاء ولامیل معازیل ''

جب کعب نے اسلام قبول کیا تو مکہ والوں نے اس کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا بالآخر اس نے مکہپ سے مدینے کی طرف ہجرت کی، یہ کعب بن زھیر کے اشعار تھے جن سے بلاغت و فصاحت کے چشمے پھوٹ رہے تھے .  کعب بن زھیر کی زندگی نامہ کے لیے مندرجہ ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا ہے .

(١) الروائع کعب بن زھیر، چاپ بیروت ۔          

(٢) شعر الطبیوفی ادب العربیہ ، چاپ قاھرہ

(٣)  حدیث الاربعاء ،ج١ ، چاپ ثانوی .

ابو  ذئویب الھذلی

ابو ذئویب خویلد بن خالد الھذلی النزاعی کا شمار ان شعراء میں ہوتاہے جنہوں نے زمانہ جاہلیت کو درک کیا تھا .ابو ذئویب نے اسلام کو قبول کرنے کے بعد مدینہ میں سکونت اختیار کی ابتدائی اسلام کی بہت ساری غزواة اور فتوحات میں شریک ہوا اس نے عثمان کا دور خلافت بھی درک کیا . ابوذئویب عبد اللہ بن سعد کے لشکر کے ساتھ شمال آفریکا گیا . اوراس فتح میںشریک ہوا . بعد میںعبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ مصر میں آیا اور تقریبا ً  ٦٤٢ئبمطابق ٢٦ ھ کو وہاںہی وفات پائی . ابو ذئویب کے قصائد بہت سارے ملتے ہیں. ابن قتیبہ ان میںسے بعض کو اپنے کتاب '' الشعرو الشعراء '' میںلایا ہے . ابو ذئویب کا مشہور ترین شعر '' قصیدہ عینیہ '' ہے جو اس نے اپنے پانچ بیٹوں جو مصر میں طاغوت کے ظلم سے وفات کر گئے تھے کے رنج میںلکھا تھا وہ یہ ہے .

والد ھر سیس معتب من یجزع                          امن المنون و ریبہ تتوجع ''

ابو ذئویب کے اشعار رنج دہندہ تھے جس طرح ایک اور ان کا مصرع ہے جو کہ بہت غم دینے والا ہے .

 ''فالعین بعدھم کا حداقھا                          کحلت بشوک فھی عور تدمع ''

ابو ذئویب نے یہ اشعار اپنی روح کی تسکین کے لیے کہے تھے اور وہ ان بیتوں کی وجہ سے بہت مشہور ہوا

واذا المنیةانشبت اظفارھا                              الفیت کل تمیة لاتنفع 

اس کا سخن، روان اور منسجم ہے اور تکلف سے عاری ہیں ۔

 ابو ذئویب کے زندگی نامے کیلیے حسب ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا .

(١)دایرة المعارف ، ص ١٥٠۔        (٢) حیاة الادبیہ بعد ظہور الاسلام ص ٢٣٨ ، چاپ قاھرہ۔

نابغہ الجعدی

ابو لیلی حسان بن عبد اللہ الجعدی العامریکو نابغہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے عصر جاہلیت کو درک کیا اور فوراً جب اسلام نے ظہور کیا تو وہ اسلام میں داخل ہو گیا نابغہ زمانہ جاہلیت میںعزت دار زندگی گزار رہا تھا۔جب اسلام نے ظہور کیا وہ ایک گروہ کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لایا ایسی بہت ساری زندگی مہاجرت میں گزاری اس کا شمار یاران حضرت علی علیہ السلام میںہوتا ہے . اور اس نے معاویہ اور بنی امیہ سے بہت سختیا ں برداشت کیں . جنگ صفین میںحضرت علی علیہ السلام کے لشکر میںشامل تھا اپنی زبان اور شاعری کے ذریعے ان کی مدد کی .

حضرت علی علیہ السلام کے بعد جب عبد اللہ بن زبیر نے یزید اور مروان پر خروج کیا تو وہ عبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ ہو گیا اس کی مدح میں اشعار لکھے اور ابن زبیر سے انعامات حاصل کئے . جب فتنے زیادہ ہو گئے تو اس نے ان بلاد کا قصد کیا جو مفتوح ہو چکے تھے . باالاخر وہ اصفہان میں آیا وہاں اپنی باقی زندگی گزاری نابغہ سے بہت سارے اشعار، ھجا ، مدح اور رثاء میں ملتے ہیں . وہ اپنے اشعار میںگھوڑے کی وصف کرنے میںبہت مشہور تھا اس کے مشہور قصائد میں سے یہ قصیدہ ہے جو اس نے مدح رسول خدا ۖ میں لکھا تھا ۔

 '' خلیلی عوجا ً ساعة و تھجرا               ونوحا علی مااحدث الدھر او ذرا .

نابغہ ایک طبیعی شاعر تھا . نابغہ نے اپنے اشعار میںتنقیح کو ظاہر کیا ہے

 . نابغہ   ٦٩٩ئ  برابر  ٨٠ھ کو اصفہان میں انتقال کر گیا . نابغہ کی زندگی نامے کو مندرجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) جواھر الادب، ج ٢، ص ١٦٢.

(٢) الحیاة الادبیہ بعد ظہور الاسلام، ص ٢٩٨.

قیس بن سا عدہ

قس بن ساعدہ اپنے زمانہ کا خطیب ، حکیم او رقاضی العرب تھا وہ نجران میں رہتا تھا . قیس بن ساعدہ بازار میں زیادہ جایا کرتا تھا  . لوگوں کو اپنے اشعار سناتا تھا . لوگوں کو بت پرستی سے اپنے اشعار کے ذریعے روکتا تھا . خداوند کے غضب اور قہر سے لوگوں کو ڈراتا تھا . وہ خود دنیا اور اس کی رنگینیوں سے بیزار تھا . اپنی حاجت کے مطابق اکتفا کرتا تھا . لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتا تاکہ وہ ایک کی عبادت کریں اور اس کو سجدہ کریں .

وہ بہت بڑی عمر کے ساتھ  ٦٠٠ء کو انتقال کر گیا . اس کے سخن صنایع لفظی سے دور تھے اس نے بڑے بڑے مطالب کو کوتاہ جملوں بند کر دیا تھا .وہ اپنے کلام میں مثال لاتے وقت بڑی توجہ رکھتا تھا اس کا وہ خطبہ جو اس نے بازار '' عکاظ '' میں کہا تھا . جو راویوں نے روایت کیا ہے . وہ ایک ادب کا شاہکار ہے اس خطبے کا ثانی  عربی ادب میں نہ ملا ہے نہ ملے گا . وہ خطبہ یہ ہے .

ایھا الناس اسمعو ا وعو و اذا وعیتم فانتھو آت آت . مطر و نبات و ارزق و اقوات و آبا ء و امھات و احیاء و اموات و جمع و شتات و آیات بعد آیات لیل موضوع و سقف مرفوع''

قیس بن ساعدہ نے دوسرے بھی بہت سارے خطبے لکھے ہیں اور بہت ساری غزل ،بیت، مدح والے اشعار لکھے ہیں جو مختلف کتابوں میںموجود ہیں . ان کا زندگی نامہ حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١)حجز الاسلام،ص٦٠، چاپ قاھر ہ

(٢) الفن و مذاھبہ فی النشر العربی،ص٣،چاپ قاھر ہ .

(٣) قطور الاسالیب النشریہ دی الادب العربیہ،ص٢٦،چاپ بیروت .

اکثم  بن صیفی

اکثم بن صیفی بن ریاح بن حارث تمیمی اپنے زمانے کا مشہور ترین حاکم ، خطیب اور قاضی العرب تھا .

 زمانہ جاہلیت میں وہ نیک مرد مشہور تھا. اسکی قضاوت سے عرب بہت مانوس تھے جو بھی وہ فیصلہ کرتا تھا لوگ اس کی خلاف ورزی نہیںکیا کرتے تھے . کیونکہ اس کے سخن حکمت آمیز تھے جو بعد میں ضرب المثل بن جاتے تھے . ۔

کہا جاتا ہے کہ نعمان منذر نے نوشیروان کی دربار سے عربوں کے بارے میں کوئی بات سنی تھی . جو اس پر گراں گزری تھی اس نے سوچا کہ عربوں کی ہوشیاری اور فضل کو نوشیروان کی کسری میں پہنچا ئے ،اس گروہ میں اکثم بن صیفی بھی تھا اکثم نے وہاں اپنا مشہور خطبہ خسرو کی دربار میںپڑھا جو عظمت اور حکمت سے سرشار تھا . وہ یہ ہے .

        '' ان افضل الاشیا ء اعالیھا          واعلی الرجال ملوکھم و افضل

           الملوک اعمھا نقعا ً...  اصلاح فساد الرعیة خیر من اصلاح

          فساد الراعی شر البلاد لا امیر شر الملو ک من خافة البریئ.

         جب اکثم کا ووقت مرگ قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوںکو جمع کیا ان کو نصیحتا ً کہا

'' یا بنی الذھر ادبنی و قر احببت ان اودیکم و ازودیکم امر اً یکون لکم بعدی معملاً یا بنی تبارو فان البر ینسی فی الاجل و ینھی العدد و کفو السنتکم فان مقتل الرجال بین فکیہ ''

اکثم کا یہ شیوہ تھا کہ وہ عقل کو اپنے سخن پر حاکم رکھتا تھا . غلو اور مبالغہ سے دوری رکھتا تھا . اپنے کلام میںاعجاز حکیمانہ کو بیان کیا کرتا تھا . تالیف وحدتی کی رعیت کرتاتھا . اکثم نے   ٦٣٠ئ  برابر  ٩ھ  میں وفات کی . اکثم کا زندگی نامہ مندوجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الخطابہ عبد العرب،چاپ قاھرہ،٢المشرق،ص٩٩.

(٢) ایام العرب دی الجاھلیة، چاپ قاھرہ .

حطئیہ

اس کا اصل نام جرول بن اوس معروف بہ حطئیہ تھا . جو عبس کا رہنے والاتھا . اس کی والدہ کا نام ضراء تھا . اس کے بھائیوں نے چاہا کہ اس کو اپنے ساتھ خاندان میں ملحق کر دیں. لیکن اسنے قبول نہ کیا۔

 اس کی ماںبنی ذھل قبیلے سے تھی انہوںنے بھی درخواست کہ وہ ان کے ساتھ مل جائے لیکن اس نے انکار کردیا .

 

اس کے بعد اس کی زندگی بے رنگ ہو گئی . پھر وہ قبیلہ بہ قبیلہ پھرتا رہا کچھ کچھ شرم کے فضائل اس میں موجود تھے پس اس نے اپنے کسب کا ذریعہ شاعری کو قرار دیا اگر کوئی اس کو کوئی چیز دے دیتا تو وہ اس کی مدح کرتا اگر نہ دیتا تو وہ اس کی ھجا کرتا . اس کی زندگی سخت گزرنے لگی . وہ مشکلات میںگھرتا گیا .

بالاخر حطئیہ نے ام ملیکہ نامی ایک عورت سے شادی کردلی، وہ دوسرے لوگوں کی نسبت اپنی بیوی اور بیٹوں سے سخت رویا رکھتا تھا . اس سے آشکار ہوتا ہے کہ اس کوعکس العمل کہا جاتا ہے . اس کی زندگی سخت پر تلاش اور بی ثمر ہونے کے علاوہ او رکچھ بھی نہ تھی۔ حطئیہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری زندگی میںاسلام لایا . پھر بھی اس کا ایمان اسقدر نہ تھا اس کا ایمان دل میںداخل نہیں ہوا تھا . وہ آخری عمر تک ضعیف الایمان رہا . حطئیہ تقریباً   ٦٧٩ئ  میںوفات کرگیا اس نے آخری عمر میںجب موت کو قریب دیکھا تو کہا مجھے گدھی پر سوار کرائو . مرد بزرگ بستر پر نہیںمرا کرتے . اس نے دم نہ توڑا .گدھے سواری کرتا رہا . آخر میںاس نے یہ اشعار کہے ''

لا احدالام من حطئیہ ھجا بینہ و ھجا المریہ ۔۔ من لئومہ مات علی ضریہ

 حطئیہ کا ایک دیوان ہے جو کہ کافی راویان کے پاس موجود تھا اس دیوان کو پہلی مرتبہ  ١٨٩٠ئ  قسطنطنیہ میں، دوسری مرتبہ  ١٨٩٣ ء  لایپزیک میں، تیسری مرتبہ  ١٨٠٥  ء کو مصر میںچھپا. اس کا دیوان مدح ، ھجو ،فخر ، اور غزل پر مشتمل ہے . حطئیہ نے اپنی ما ں کے دوسرے شوہر کے ہجا میںیہ شعر کہا ؛

               لماک  اللہ ثم لماک حقا                                   ابا ولعاک من عم و خال 

     فنعم الشیخ انت لدی المضازی                                وبئس الشیخ انت لدی المعالی

        صمت اللوم لا حیاک رہی                                      وابواب    الشفاھة   و الضلال

حطئیہ نے شاعری کو وسیلہ معاش قرار دیا تھا لیکن پھر بھی وہ ہنر شاعری سے غافل نہ تھا . پس یہ زھیر ابن ابی سلمی کا پیر و تھا اور اس کی تقلید کیا کرتا تھا . حطئیہ کا زندگی نامہ حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الاربعا ء ج١ چاپ قاھرہ          (٢) الروائع حطئیہ  ص ٢٩  چاپ بیروت                                       (٣) الادیب ص ٩.

خنسائ

اس کا اصلی نام ام عمر و بنت عمرو ابن شریر تھا یہ خنساء کے نام سے مشہور تھی . اسکا تعلق بنی سلیم سے تھا .

اور وہ تقریباً ٥٧٥ئ میں پیدا ہوئی . اسنے دو شادیاںکیںپہلے شوہر کا نام عبدلعزی تھا جس سے اس کو ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عمرو تھا . اس کا دوسرا شوہر مرداس السلمی تھاجس سے اس کو کافی بیٹے پیدا ہوئے . اسکے دو بھائی معاوضہ اور صخر بنی سلیم کے بزرگ تھے جب وہ مارے گئے تو خنساء نے ان کے لیے بہت گریہ کیا . حتی کہ نابینا ہوگئی . صخر ایک صفات عالیہ عرب بدو تھاجو شجاعت کرم اور وفا سے آراستہ تھا . خنساء سے بہت ساری عمر پائی حتی اسلام دریافت کیا جب مسلمانوںنے ایران پر حملہ کیا تواس کے بیٹے قادسیہ کے مقام پر قتل ہو گئے . جب یہ خبر خنساء تک پہنچی کہ اس کے بیٹے مارے گئے ہیںتو اس نے کہا خدا کا شکر ہے کہ وہ مقام شہادت پر فائز ہوئے خدا مجھے بھی ان کے ساتھ جائے رحمت میںجگہ دے . خنساء نے تقریبا  ٦٦٤ئ  ٨٩ سال کی عمر میںوفات پائی . خنساء کا ایک دیوان ہے جو سارا اس نے اپنے بھائیوںخصوصا ً صخر کے مرثیے میںلکھا ہے . یہ دیوان کئی مرتبہ چاپ ہوا اور اس کا ترجمہ بھی کئی زبانوں میںہوچکا ہے . الیسوئی نے خنساء کے دیوان پر خاص توجہ دی ہے . اور اس پر ایک شرح بھی لکھی ہے .

 بنام ''انیس الجلساء فی شرح دیوان الخنساء '' جو ٨٩٥ئ میںطبع ہو چکا ہے . خنساء وہ عورت تھی  جو اپنے درد دل کا احساس کرتی تھی . وہ اپنے بھائیوںسے بے حد محبت کرتی تھی . بھائی بھی اسکی زندگی میںتکیہ گاہ تھے . جب اس کا بھائی صخر مرگیا تو اس کی آنکھوں سے خون جاری ہوا .اس کی دل سے دلسوز شعر محبت کہا گیا ہے .اس کی شاعری کا مصدر عاطفہ تھا . جو اس کی شاعری میںحرارت پیدا کردیتا تھا . اسکی شاعری گریہ اور نالہ کرنے پر مجبور کر دیتی تھی . اگر چہ خنساء کی شاعری میںعاطفہ تھا پھر بھی اس کی شاعری مبالغہ سے خالی نہ تھی . مثلا ً

       فلا واللہ ما انساک حتی         افارق  مھجتی     و یشق     رمسی

        فیا لہفی علیہ و لہف امی        ایصبح فی الصنریح و فیہ یمسی

خنساء کی تاریخ زندگی حسب ذیل کتب سے لی گئی ہے . (١) شہیرات النساء فی العالم الاسلامی،ص٢۔(٢ )الودائع خنساء ص ٢٨۔(٣)الخنساء شاعرة البکائ، چاپ دمشق.

لبید  بن  ربیعہ

اس کا پورا نام ابوعقیل لبید بن ربیعہ تھا وہ شجعان قوم سے تعلق رکھتا تھا . بخشنے والا ، مھربان ، دلیر اور غریبوں کی مدد کرنے والا شخص تھا اس کا دسترخوان ہمیشہ مہمانوں کی پذیرائی کے لیے کھلا رہتا تھا اس نے  ٦٢٩ئ کو اسلام قبول کیا . وہ شاعری کرتا تھا . اس نے کوفہ میں اپنی سکونت اختیار کی اس نے کئی سال اپنی عمر کے وہاں گزارے .آخر کا ر اس نے  ٦٦١ئ میںوفات کی. لبید کا ایک دیوان ہے جو پہلی مرتبہ ١٨٨٠ئ میںطبع ہوا اس کا جرمن زبان میںبھی ترجمہ کیا گیا ۔

 اس کا مشہور کلام ،قصیدہ معلقہ تھا جو ٨٨ بیت پر مشتمل ہے . اس قصیدہ میںاس نے دیار کا ذکر کیا ہے . ناقہ کی وصف ، ایام لھو و لعب کا ذکر شاعر کے افتخارات کا ذکر اور اپنی قوم کی شجاعت کا ذکر کیا ہے . اس  کاایک شعر حسب ذیل ہے .

       عفت الدیار مصلھا فمقامھا             بمغی تابر غولھا فرجامھا

لبید وہ شاعر ہے جس نے شعروںاور ان کی تاثرات کو اپنی شاعری میںنقش کیا ہے . لبید ایک پرجوش اور صداقت سے سرشار شاعر ہے . لبید کے اشعار سادہ اور صلابت سے سرشار ہیں اس کے اشعار میںصداقت اور سادگی ظاہر ہوتی ہے . وہ خود بھی سادہ اور صداقت والی زندگی گزارتا ہو گا . اس کے اشعار اس کی زندگی کی عکاسی کر رہے ہیں. لبید کے اشعار اور مرثیہ پر سوز تھے وہ دل میںعمیق اثر چھوڑ جاتے تھے لبید کا زندگی نامہ مندرجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الروائع لبید بن ربیعہ، چاپ بیروت .    (٢) المعلقات العشر واخبار شعرائھا، چاپ قاھرہ .

اعشی الاکبر

ابو بصیر میمون بن قیس البکری معروف بہ اعشی الاکبر ٥٣٠ئ میںیمامہ میں منفوحہ کے مقام پر متولد ہوا . اس کا پہلا راوی خود اس کا مامو مسیب بن علس تھا۔

. اعشی ایک عشرت طلب آدمی تھا . یہ قمار بازی اور دوسری لگویات میںمصروف رہتا تھا .انکی وجہ سے وہ اسراف اور اتلاف میںگرفتار ہو گیا . اس لیے اس کو مال جمع کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا .

 وہ یمامہ سے یمن ، بادیہ ، حجاز ، حیرہ ، عمان ، فلسطین ، عراق ، اور ایران گیا . کوئی ایسا بادشاہ نہ تھا . جس سے اس نے مالی مدد طلب نہ کی ہو .اعشی اپنے زمانے میں خاصہ اثر والا شخص تھا زمانہ جاہلیت میںجس کی وہ مدح کرتا تھا وہ اس کو مال بخش دیتا تھا . جس کے لیے اس نے مدح کی اس کی منزلت بڑھ گئی،

جو چاہتا تھا کہ اعشی اس کو اپنے اشعار میں یاد کرے اسے کچھ مال دے دیتا تھا .وہ اس کو اپنے اشعار میں یاد کرتا تھا .اعشی ٦٢٩ئ میں وفات کر گیا . ابو الفرج اصفہانی اعشی کے زمانے کا تھا . وہ روایت کر تا ہے کہ اس کی قبر کو میںنے دیکھاکچھ نوجوان اس کی قبر پر موجود تھے . وہ اس پر مٹی برسار ہے تھے . تاکہ اس کے استخوان کو زمین میںدفن کردیں . اعشی کا ایک بہت بڑا دیوان ہے . اس نے تمام ابواب میںطبع آزمائی کی ہے لیکن اسکے  بیشتر اشعار مدح میں ہیں. غزل ، وصف ، اور خمر میںبھی اس نے کافی اشعار لکھے ہیں . اس کے مشہور قصائد میںایک قصیدہ معلقہ ہے .''

     ودع ھریرہ ان الرکب مرتحل                     وھل تطیق وادعا ً ایھا الرجل ''

قصیدہ معلقہ تقریبا ً  ٦٥ بیت پر مشتمل ہے .اس کا جرمن ، فرانسوی اور فارسی میں ترجمہ ہو چکا ہے .اعشی شعر کہنے میں نابغہ کا پیرو تھا . اس نے اپنے اشعار میں بادشاہوںاور عام لوگوں میںفرق نہیں کیا . ہر وہ جو اس کو کچھ دیتا وہ اس کی مدح کرتا تھا . اس عمل کی وجہ سے گداگر ہو گیا . کہا گیاہے کہ وہ پہلا آدمی تھا . جس نے شاعری کے ذریعے گدائی کی ہے .

اس کی مداحی کا طریقہ کا ر وہی پرانا تھا . یعنی وہ قصیدہ کی ابتدا یا غزل یا وصف فخر یا مجالس لھو لعب سے کیا کرتا تھا . اس کے بعد وہ ناقہ کی وصف اور سفر کو بیان کرتا تھا .یعنی شجاعت ، شرافت ، نسب ،کرم اور فریا د رسی وغیرہ . اعشی کے شعر میں وصف زیادہ ہے .لیکن اس کی وصف تشبیہ مادی پرموقوف تھی جو موصوف کو مجازا ً مجسم کر دیتی تھی .

 وہ دقایق او رحرکا ت کو اچھی وصف سے بیان کرتا تھا . وہ اپنی وصف میںان قصوںکو بیان کرتا تھا . جو وہ روزانہ لھو لعب کی مجلسوںمیں اپنے دوستوںکے ساتھ برپا کرتا تھا . اور و ہ چیزیں لاتا تھا جو وصف انسانی کو بیان کرتی ہوں.

اعشی کے دیوان میںشراب کی وصف اکثر دیکھی گئی ہے .

 وہ شراب کو تفاخر کی خاطر نہیںبلکہ عادت شاعری کیوجہ سے پیا کرتا تھا اور اسکی وصفیںبیان کرتا تھا . اعشی ایک ایسا شاعر تھا جس نے فرہنگ عربی سے بہرہ مندی حاصل کی۔ اور اپنا شیوہ زندگی ایرانیوںسے سیکھا . اس کے عصر کے شعراء اسکو '' صناحة العرب '' کے لقب سے پکارتے تھے . جس کا معنی ہے چنگی عرب . اس کی زندگی کو حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) دراستہ الشعراء  ص ٢٨٦ ، چاپ قاھر ہ ۔      (٢) الروائع ص ٣١، چاپ بیروت .

عنترہ  بن شداد العبس

عنترہ بن شداد بن العبسی المصری ٥٢٥ئ کو نجد میں پیدا ہوا . اس کا باپ عبس کے اشراف خاندان سے تھا اس کی ماںایک حبش کنیز تھی جس کا نام زبیبہ تھا . جس کو شداد نے ایک جنگ میںاسیر کیا تھا .

 زمانہ جاہلیت میںیہ رواج تھا کہ کنیزوںکے بیٹوںکو باپ اپنے بیٹے تصور کرتے تھے جب وہ کوئی کا ر خطا نہ کریں .عنترہ اپنے باپ کے گھر میںرہتا تھا . گھوڑوںاور اونٹوںکو چرایا کرتا تھا . ان دنوںاس کی دلیری ، سواری ، مشہور ہو گئی . عنترہ ان دنوںداستان اور افسانہ نگاری سے خوب واقف ہو گیا تھا . اس کی وجہ سے اس کی مدح سرائی کی . اور ان کا اپنی شاعری میںاچھے انداز سے ذکر کیا . ان دنوںاتفاق ہو اکہ قبیلہ طیئی والوںنے قبیلہ عبس پر حملہ کردیا .طیئی والے چاہتے تھے کہ عبس والوں کے اونٹ اپنے ساتھ لیجائیں،طئیی والوںنے عنترہ کو ایک حملہ میںقبضے میںلے لیا تھا لیکن عنترہ سرباز تھا ا سنے جوابی حملے میںاپنے آپ کو آزاد کر الیا . عنترہ کا ایک دیوان ہے جس میں١٥٠٠ بیت ہیں . جو بیروت میںچاپ ہو چکا ہے . اس کے بہت سارے قصائد ہیںجن میں مشہور قصیدہ کا '' مطلع'' ہے :

   ھل دار عبلة بالجوء تکلمی         وعمی صباحاً دار عبلة واسلمی ٰ ''

عنترہ کو حرب سباق میںقتل کیا گیا تھا . عنترہ ایک بزرگ شخصیت تھا اس جیسے شاعر عصر جاہلیت میںکم دیکھے گئے ہیں. عنترہ  ٦١٥ئ میںقتل کیا گیا . عنترہ کا زندگی نامہ مندرجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الروائع عنترہ بن شداد،  چاپ بیروت .(٢) شعراء النصرانیہ، چاپ بیروت .

زھیربن ابی سلمی

زہیر بن ابی سلمی ربیعہ قبیلہ مزینہ سے اور مزینہ قبیلہ مضر سے تھا . زہیر ٥٣٠ئ کو نجد میںپیدا ہوا اس کا باپ ربیعہ اپنی قوم مزینہ سے خارج ہو کر قوم غطفان میںشامل ہو گیا . اس قبیلے کی ایک لڑکی ام عبرہ سے شادی کی. اس عورت سے زہیر پیدا ہوا . پھر زہیرنے قبیلہ غطفان میںتربیت حاصل کی غطفان قبیلے میںایک شخص زمینگیر تھا . جو توانگر تھا . وہ زہیر کے باپ ربیعہ کا ماموںتھا . اور شاعر بھی تھا . زہیر نے اس کی ملازمت اختیار کر لی پھر وہ اپنی ماںکے دوسرے شوہر اوس بن زعیم جو مکتب مضر کا پیرو تھا .سے شاعری سیکھی .

زھیر نے غطفان قبیلے میںدو مرتبہ شادی کی . پہلی کا نام ام اوفی ہے بعد میںاس کو طلاق دے دی . پھر اس نے کبشہ نامی عورت سے شادی کی اس سے دو بیٹوںکا باپ بنا . اس کا ایک بیٹا کعب بن زہیر صاحب قصیدہ ''بانت سعاد'' دوسرا بحیر تھا زہیر نے تقریبا ٩٠ سال کی عمر میں٦٢٧ئ کو وفات کی . زہیر نے ساری زندگی وقار اور بردباری سے گذاری . وہ صلح اور نیکی کا دوستدار تھا . بعض مورخان نے لکھا ہے کہ وہ نصرانی تھا کیونکہ ایک دیندار ، سچا اور ایمان دار شخص تھا۔

 زھیر کا ایک دیوان ہے . اس دیوان میںاشراق غطفان ، مدح ہرم بن سنان ، غزل فخر ، ھجو موجودہے . اس کے مشہور قصیدہ کا مطلع حسب زیل ہے .

       ''امن ام اوفی دمنہ لم تکلم                 بحو  ماتة    الدراج    فالمثلم ''

زہیر نے تربیت اپنے باپ اور ماموں سے حاصل کی، زہیر ایک قاضی اور حکیم اور صلح پسند انسان تھا۔

 اس کی زندگینامہ مندرجہ ذیل کتب سے اخذ کیا گیا ہے۔

(١) الادب الجاہلی، ص ٢٩٩،چاپ قاہرہ۔

 (٢) الشعر الطبیعة فی الادب الاربیة،ص٨٧، چاپ قاہرہ۔


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 2 (نشريه بزم رأفت)
[ پنجشنبه هفتم مرداد 1389 ] [ 11:29 ] [ انجمن ] [ ]

  شعراء اہل بیت 

بقلم:  سید محمد باقر نقوی        

الحمد للہ رب العالمین والصلوة والسلام علی سید المرسلین وعلی آلہ الطیبین الطاھرین المعصومین اما بعد ؛

اللہ تبارک تعالی نے اس کائنات کو خلق فرمایا اور اسکی تدبیر وتنظیم کو احسن طریقے سے انجام دیا اس نے ہر مخلوق کو نرالے اعضاء وافعال عطاکیے اس لیے اس وسیع کائنات کی جس چیز کو بھی عاقل انسان دیکھتا ہے تو وہ اسے تعجب میں ڈال دیتی ہے اور وہ بے اختیار اسکے خالق ومالک کی حکمت واحسن تدبیرکی تعریف کرنے لگتاہے .

اسکی حسن صفت کی مثالوں میں سے ایک انسان اور اسکی زبان ہے اس نعمت کے متعلق ایک مفصل بحث کی جاسکتی ہے اسکے فوائد لا محدود ہیں لیکن چونکہ انسان کو مختار قرار دیا گیا ہے اس لیے اس بحث کو مختصر مقدمہ میں سمویا نہیں جاسکتااتنا نہایت واضح ہے کہ اللہ تعالی کی اس نعمت کا اصل مقصد افھام وتفہیم ہے اسی سے انسان اپنی ضروریات کو پورا کرتاہے اب زبان سے نکلنے والے کلمات کو جملوں میں ترتیب دیا جاتاہے اسکی دو قسمیں ہیں .

 (١)نثر(٢) نظم

دونوں میں چونکہ فرق واضح ہے اولی الذکر میں فصاحت و بلاغت کا قطعاً انکار نہیں لیکن ماہرین ادب کے بقول ثانی الذکر کی فصاحت و بلاغت میں ایک چیز موجود ہے جادوئی تاثیر سے بھی تعبیر کیا جاتاہے .

جیساکہ بنی اکرمۖ سے امالی شیخ صدوق  بلکہ اھل سنت کے کئی مدارک میں منقول ہے کہ ؛ انّ من البیان لحکمة ً وانّ من الشعر لسحراً .

یعنی شعروں کے وزن و قافیے اور اسکی مواد تخییل کی وجہ سے اسکی زیادہ تاثیر ہے .ہر دور میں شعر وشعراء کی عظمت کو ماناگیا ہے.قوم عرب زمانہ جاہلیت میں اپنے شعراء کو نہایت عظمت و عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے . اسلام نے بھی شعراء صالحین کو یقینا بے عظمت و بے قیمت قرار نہیں دیا بلکہ شعراء کی تقسیم کردی جو شعراء ظلم و جور کی تائید کرنے میں اپنے اشعار پیش کرتے تھے اور جوشہرت انگیز گھٹیا مقاصد کیلیے اشعار کہتے تھے انکو مذموم قرار دیا گیا بلکہ اپنے شعراء کے اشعار کو گندگی سے تعبیر کیا .

مگر جو شعراء ظالم و جابر حکمرانوں کے افعال پر نکتہ چینی کرتے تھے اور اعلی اخلاق کی تعلیمات و معارف کو اپنے اشعار میں پیش کرتے تھے اور مظلوم و حقدار افراد کی مظلومیت کو منظوم کرتے تھے خصوصا ً اھل بیت کے مناقب وفضائل کو اشعار میں بند کرتے تھے انکی ہر گز مذمت نہیں کی گئی بلکہ انکو تائید الہی اور توفیق خداوندی کے علاوہ معصومین  کی تعریف و ثناء شامل حال رہی ہے.

میںنے اپنے اس مقالہ میں کوشش کی ہے کہ جید شعراء اھل البیت  کے متعلق مستند اور معتبر روایات معصومین  اور تاریخی حوالہ جات کے ذریعے مختصر بیانات پیش کیے جائیں . اور امید رکھتا ہوں کہ خداوند متعال میری اس کو شش کو شرف قبولیت بخشے اور لغزش قلم سے بچائے۔

فرزدق شاعر بیباک

فرزدق کے حالات زندگی:

فرزدق کا اصل نام : ھما م بن غالب بن صعصہ تھا ۔  ولادت  ٠٣٨ ھ   وفات  ١١٠ھ

یہاں ہم اعیان الشیعہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس میں اما م علی  نے فرزدق کے باپ سے پوچھا تو کون ہے تو اس نے عرض کی غالب بن صعصہ مجاشعی۔

امام نے پوچھا تیرے پاس بہت زیادہ اونٹ ہیں ؟ اس نے عرض کی جی ہاں .

امام نے پوچھا تو نے اپنے اونٹوں کو کیا کیا ؟ اس نے عرض کی مصیبتوں نے انکو لے لیا اور حقوق انکو کھاگئے امام نے فرمایا یہ انکے لیے بہترین راہ خرچ ہے.

پھر امام  نے پوچھا کہ اے ابو الخطل یہ جوان کون ہے اس نے عرض کی یہ میرا بیٹا فرزدق ہے جو شاعر ہے

امام نے فرمایا :علّمہ القران فانّہ خیر لہ من الشعر ۔

اسے قرآن پڑھائو کہ یہ اس کیلیے شعروں سے بہتر ہے تو فرزدق نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور قسم اٹھائی کہ جب تک قرآن حفظ نہ کر لے ان قیود سے رہا نہ ہو گا .

حوالہ: اعیان الشیعہ ج ١٠ ص ٢٦٧ طبع دار التعارف بیروت ١٩٨٦ ْ١٤٠٦ ۔

فرزدق کا گھرانہ بنی تمیم میں شریف ترین گھرانہ تھا اسکا والد غالب سخی اور شریف تھا اسکے دادا صعصہ نے نبی اکرم ۖ کے پاس آکر اسلام قبول کیا تھا اور اس نے زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے سے منع کیا ہوا تھا اور بنی تمیم میں سے کسی لڑکی کو زندہ دفن نہیں کرنے دیتے تھے اور فرزدق کے والد کی کنیت ابو الاخطل تھی اور انکی قبر کا ظمیہ میں زیارت گاہ ہے خوفزدہ لوگ وہاں جائیں تو امان پاتے ہیں اور پناہ ڈھونڈنے والوں کو پناہ ملتی ہے ( حوالہ سابق )

فرزدق ہشام بن عبدالملک اور جریر کا ہم عصر تھا اور اس نے معصومین کی مدح کو اپنا دین سمجھا ہوا تھا وہ ایک فاضل انسان تھا وہ حافظ قرآن اور اسکے معانی پر گہری نگاہ رکھتا تھا .

کشی بسند خود محمد بن عایشہ سے روایت کرتے ہیں ھشام بن عبدالملک نے نے عبدالملک اور ولید کے زمانہ خلافت میں حج کیا اس نے خانہ خدا کا طواف تو کر لیا مگر جب حجر اسود کا بوسہ لینے لگا تو لوگوں کے ہجوم کیوجہ سے قریب نہ جا سکا پھر اسکے لیے منبر لگا یا گیا وہ اس پر بیٹھ گیا اور اھل شام اس کے گرد کھڑ ے ہو گئے اسوقت اما م علی بن الحسین زین العابدین  تشریف لا ئے خوبصورت نورانی چہرہ میٹھی میٹھی خوشبواور کثرت سجود کے نشانات آپ نے خانہ خدا کاطواف کیا جب حجر اسود کے مقام پر پہنچے تمام لوگ آپکے رعب اور احترام کیوجہ سے پیچھے ہٹ گئے یہ منظر دیکھ کر ہشام کو بہت غصہ آیا تو ایک شامی نے پوچھا کہ اے ہشام یہ کون شخص ہے جسکی ھیبت نے لوگوں کے ہجوم کو منتشر کردیا اور وہ حجر اسود سے دور ہو گئے تو ہشام نے کہا میں اسے نہیں جانتا اسکی وجہ یہ تھی کہ کہیں اھل شام انکی طرف رغبت نہ کریں اس مقام پر فرزدق موجود تھا اس نے کہا میں انہیں جانتا ہوں تو اس شامی نے کہا کہ اے ابو فراس یہ کو ن ہیں . ؛ تو انہوں نے کہا :

 (١) ھذا الذی تعرف البطحاء وکانہ           والبیت تعرفہ والحل ّ والحرم

یہ وہ شخصیت ہیں جنکے نشان و قدم کو وادی بطحا جانتی ہے اور خانہ خدا اور حرم و حرم سے باہر بسنے والی مخلوقات انہیں جانتی ہیں .

(٢)ھذا ابن خیر عباد اللہ کلھم            ھذ االتقی النقی الطاھرالعلم

یہ تمام بندگان خدا میں سے بہتر ین فرد ہیں اور یہ متقی و پرھیز گار پاک و پاکیزہ اور نشان ھدایت ہیں

(٣) ھذا علی رسول اللہ والدہ           امت بنور ھداہ تھتدی الظلم

یہ علی ( زین العابدین ) ہیں جنکے والد گرامی رسول اکرم ۖ ہیں جنکے نور ہدایت سے تاریکیاں چھٹ گئیں ؛

(٤) اذا راتہ قریش قال قائلھا           الی مکارم ھذا انتھی الکرم

جب قریش انہیں دیکھتے ہیں تو کہنے والے کہتے ہیں انکے بلند مرتبہ اخلاق پہ جو د و سخا کی انتھا ء ہوتی ہے .

(٥)ینمی الی ذروة العز الذی قصرت        عن نیلھا عرب الاسلام والعجم

انہیں عزت و شرف کی وہ بلندی نصیب ہوئی ہے جسکو پانے سے عرب و عجم قاصر ہیں

(٦) یکاد یمسکہ عرفان راحتہ            رکن الحطیم اذا ما جاء یستلم

رکن حطیم شاید ہی انکو انکی سخاوت سے روک سکے جب آپ  حجر اسود کا بوسہ لینے آتے ہیں .

(٧)یفضی حیاء ویفضی من مھابتہ             فما تکلم الاّ حین یتبسم

یہ اپنی طبیعی حیاداری اور شرافت کیوجہ سے آنکھیں جھکا ئے رکتھے ہیں اور لوگ انکے رعب ودبدبہ کیوجہ سے آنکھیں نیچی رکھتے ہیں اور ان سے صرف اسوقت بات کی جاسکتی ہے جب آپ مسکرا رہے ہوں .

(٨)ینشق نورالھدی عن نور غرتہ     کا لشمس تنجاب عن اشراقھا الظلم

نو ر ھدایت انکے نور جبیں سے پھوٹتا ہے جیسے سورج کے چمکنے سے تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں .

(٩) بکفہ خیزران ریحھاعبق           من کف اروع فی عرنینہ شم

انکی خیزران کی نسبت نرم و نازک ہتھیلی جس سے میٹھی میٹھی خوشبو پھوٹتی ہے اور جسکا رجحان تمہیں حیرت زدہ کرتاہے اور انکے چہرے پہ خوبصورت آنکہیں اور ناک کا قیافہ نہایت حسین ہے.

 (١٠) مشتقہ من رسول اللہ نبعتہ              طابت عناصر ہ والخیم والشیم

آپکی ریش مبارک رسول اکرم  کے روئے مبارک کی شبیہ ہے اور آپکی طبیعت اخلاق اور افعال پاک و پاکیزہ ہیں .

(١١) حمال اثقال اقوام اذا فئہ  حو           حلو ا شمائل یحلو عندہ النعم

جب لوگ اپنے وزن نہیں اٹھا سکتے تو یہ انکی مدد کرتے ہی اور جب آپ سے سوال کیا جاتا ہے اور آپ ہاں میں جواب دیتے ہیں اسوقت آپکے شکل و شمائل بہت پیارے ہوتے ہیں .

(١٢) ھذا ابن فاطمہ ان کنت جاھلہ            بجدہ انبیاء اللہ قد ختموہ

یہ فرزند فاطمہ ہے اگر تو انکو نہیں جانتا انکے جد امجد  پر تمام انبیا ء کا اختتام ہوتاہے .

(١٣)اللہ فضّلہ قدماء شرفہ              جری بذاک لہ فی لوحہ القلم

اللہ تعالی نے انہیں زمان قدیم سے فضیلت اور شرافت دی ہے اور انکی عظمت کے قصیدے لوح محفوظ میں لکھ دئیے ہیں .

(١٤) من جدہ دان فضل الانبیاء لہ            و فضل امّتہ دانت لہ الامم

انکے جد امجد کی عظمت کو انبیاء کی فضیلتیں نہیں پہنچ پاتیں اور انکی امت کی عظمت کے سامنے تمام امتوں کی عظمتیں کم نظر آتی ہیں .

(١٥) عم البریہ باالاحسان وانقشت           عنھا الفمایہ ولاملاق والظلم

جنکے احسن بنی نوع انسان پر چھائے ہوئے ہیں اور ان سے جھالت و فقر کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں .

(١٦)کلتایہ  یہ غیاث عم ّ نفعھما           یستو کفان ولا یعر وھماعدم

آپکے مبارک ہاتھوں کی باران کرم تمام لوگوں پر برستی ہے اور کبھی بھی انہیں عدم و نابود عارض نہیں ہوتی .

(١٧) سھل الخلیفة لا تخشی بوادرہ        یزینہ خصلتان الخلق والکرم

آپ نرم و مزاج ہیں اور انکے غصے کا ڈر نہیں اور دو خصلتوں ( احسن خلق اور جود سخا ) نے انہیں مزین کردیا ہے .

 (١٨) لا یخلف الوعد میمون نقیبتہ         رحب الفناء ادیب حین یعتزم

آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے آپکی طبیعت ومزاح نہایت قابل تعریف ہے .

(١٩)من معشر حبھم دین و بغضھم          کفر وقربھم منجی ومعتصم

لوگوں کا ان سے محبت کرنا عین دین ہے اور ان سے بغض وکینہ رکھنا عین کفر ہے انکا قرب ہی نجات دینے والا اور بچانے والاہے .

(٢٠)یستدفع اسور والبلوی بحبھم         ویسترب بہ الاحسان و النعم

انکی محبت کے صدقہ میں بلائیں دور ، اور انکے وسیلے سے احسان خدا اور نعمات الہی کو حاصل کیا جاتاہے .

(٢١)مقدم بعد ذکر اللہ ذکرھم         فی کل یوم و مختوم بہ الکلم

ذکر خدا کے بعد ہر روز انکا ذکر سب سے مقدم ہے اور انہی کے ذکر کے ساتھ کلام کا اختتام ہوتا ہے .

(٢٢)ان عدّ اھل التقی کا نوا ائمتھم     او قیل بن خیر اھل الارض قیل ھم

اگر اھل تقوا کو شمار کیا جائے تو یہ متقیوں کے امام نظر آئینگے اور اگر روئے زمین پر بسنے والوں میں سے سب سے بہترین افراد کے متعلق سوال کیا جائے تو بھی سب سے بہترین ہونگے .

(٢٣) لا یستطیع جواد بعد غایتھم       ولا یدانیھم قوم وان کرموا

کوئی بھی سخی انکی بلندی و عظمت کو نہیں پہنچ سکتا اور کوئی قوم جتنی بھی کریم و شریف ہوانکا مقابلہ نہیں کر سکتی

(٢٤) ھم الغیوث ماازمہ ازمت         ولا سد اسد اشری والناس محتدم

جب قحط سالی کا زمانہ ہو تو انہی کے صدقے میں باران ہوتی ہے اور جب لوگوں کا ہجوم ہو تو یہ بہادر شیروں کی مانند ہوتے ہیں

(٢٥) یابی لھم ان یحل الذم ساحتھم    خیم کریم واید بالندی ھضم

کریم اخلاق انکے در پر مذمت کو آنے نہیں دیتے اور انکے ہاتھوں کی سخاوتیں ہر وقت جاری ہیں .

(٢٦)لاینقص العسر بسطامن اکفھم          سیان ذلک ان اثروا وان عدموا

حالات کی تنگی انکے سخا کو کم نہیں کرتی چاہے انکے پاس مال ہو یا کچھ نہ ہو انکی سخاوت کے انداز نہیں بدلتے

 (٢٧)ای الخلائق لیست فی رقابھم             لا وّلیّة ھذا  اولہ نعم

مخلوقات میں سے کسی کا بھی احسان انکی گردن پرنہیں ہے کیونکہ انکے آباواجداد اور خود انکے احسان لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں .

(٢٨) من یعرف اللہ اولیة ذا         فالدین من بیت ھذا نالہ الامم

جو شخص اللہ تعالی کی معرفت رکھتاہے وہ انکے آباو اجداد اور خود انکی بھی معرفت رکھتاہے دین تو انکے گھر سے لوگوں نے پایا ہے .

یہ سنکر ہشام کو بہت غصہ آیا اس نے فرزدق کو قید کرنیکا حکم دیا تو انہیں مکہ و مدینہ کے درمیان مقام عسفان میں قید کیا گیا . جب امام علی زین العابدین کو معلوم ہو اتو آپ نے انکی طرف بارہ ہزار درھم بھیجے اور فرمایا اے ابو فراس معاف رکھنا اگر ہمارے پاس اس سے زیادہ ہوتے تو بھی تیرے پاس پہنچاتے مگر فرزدق نے وہ رقم واپس کردی اور عرض کی اے فرزند رسول وہ جو میں نے اشعار کہے تھے مجھے خدا اور اسکے رسول کیخاطر غیظ و غضب تھا میں اسکے ذریعے کچھ کمانانہیں چاہتا تھا مگر امام نے درھم پھر واپس کیے اور فرمایا اب میرے حق امامت کے واسطے انکو قبول کر لو تیری عظمت نیت کو خدا خوب جانتاہے تو فرزدق نے وہ درھم قبول کر لیے اور اس نے قید میں ہشام کی ہجو کرنا شروع کردی ان میں سے دو شعر یہ تھے

اتجسن بین المد ینہ والتی           الیھا قلوب الناس لھوی منیبھا

تقلب رئاسالم یکن سید             وعینالہ حولاء بادٍ عیوبھا

تو اس نے فورا انہیں رہا کردیا .

منابع و مدارک:

 رجال کشی ص ١٣٣۔١٢٩  روایت ٢٠٧ ۔

اعیان الشیعہ ص ٢٦٩۔ ٢٦٨،ج١٠۔

کمیت بن زید اسدی ابو المستھل شھیدولایت

ولادت     ٦٠ھ   شھادت    ١٢٦

ابوالمستھل کمیت درجہ اول کے شعرا میں سے تھے لغات عرب اور تاریخ عرب پر گہری نگاہ رکھتے تھے معاذ ھراء سے سب سے بڑے شاعر کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ کمیت اشعر االاولین والاخرین کمیت اولین اور آخرین میں سے سب سے بڑے شاعر ہیں .

حوالہ: آغانی جلد ١٧ صفحہ ٣٥

کمیت کا بیان ہے کہ میں نے جب اپنا پہلا قصیدہ لکھا تو اسے فرزدق کے حضور پیش کیا

طربت وما شوقاً الی البیض اطرب               ولا لعبا ً منّی وذو الشیب یلعب

''میں حد سے زیادہ خوش ہوا جبکہ میری یہ خوشی سفید چہروں کے شوق سے نہیں تھی میری یہ خوشی لھو و لعب کیوجہ سے بھی نہیں تھی کیونکہ کوئی بزرگ لھو ولعب میں نہیں پڑتا ''

تو فرزدق نے کہا ارے تم تو ابھی جوان ہو تم کھیلو کو دو بتائو پھر تمھاری خوشی کیوجہ سے تھی میں نے کہا .

ولکن الی اھل الفضائل والتقی               وخیر بنی حوّا والخیر یطلب

میری خوشی اھل فضائل و تقوی کی محبت کیوجہ سے ہے جو کہ اولاد آدم وحوا ء میں سے بہترین لوگ ہیں اور ایسے بہترین لوگوں کی محبت ہی رکھنی چاہیے۔ فرزدق نے کہا وہ کون ہیں تو میں نے کہا ؛

بنی ہاشم رحط التی فاننی                  بھم ولھم ارضی ٰ مرارً ا واغضب

وہ بنی ہاشم ہیں جو بنی اکرم ۖ کے گروہ میں سے ہیں اب میری خوشیاں اور غم انہی کیخاطر ہیں۔ تو فرزدق نے کہا خدا کی قسم تم سابقہ اور باقی تما م شعراء سے بڑے شاعر ہو .

کشی نے بسند خود امام باقر سے کمیت کے بارے میں نقل فرمایا کہ کمیت نے آپ سے شیخین کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا قیامت تک جو بھی نا حق خون بہایا جائیگا اور جتنے بھی فیصلے حکم خدا اور حکم رسول کے خلاف کیے جائینگے وہ انکی گردنوں میں پڑیں گے کمیت نے عرض کی مولا کافی ہے .

 حوالہ :رجال کشی روایت نمبر ٣٦١.

امام باقر   سے منقول ہے کہ آپ نے کمیت سے فرمایا اے کمیت اگر ہمارے پاس دولت کا ڈھیر ہوتا تو ہم ضرور تمہیں دیتے لیکن ہم تیرے لیے وہی کہتے ہیں جو نبی اکرم ۖ نے حسان کیلیے کہا تھا :

''لا یزال معک روح القدس ما ذببت اناّ ''

جب تک تو ہمارا دفاع کرتا رہیگا اسوقت تک روح القدس تمہاری تائید کرتا رہیگا .

حوالہ :رجا ل کشی روایت ٣٦٥۔بحار الانوار ص٣٢٢ وبعد۔

رجال کشی میں ایک روایت منقول ہے راوی کہتاہے کہ میں امام موسی کاظم کے حضور موجود تھا کہ کمیت تشریف لائے آپ نے فرمایا یہ شعر تیرا ہی ہے کہ اب میں بنی امیہ کیطرف جاتا ہوں اور امور اپنے نتائج سے پہچانے جاتے ہیں کمیت نے عرض کی مولا یہ میرا ہی شعر ہے لیکن خدا کی قسم میں نے اپنے ایمان سے نہیں پھرا لیکن میں نے یہ اشعار تقیہ کیوجہ سے کہے ہیں .

تبصرہ و تحلیل ؛

ظاہر اراوی سے اشتباہ ہوا ہے صحیح یہ ہے کہ یہ سوال و جواب حضرت امام صادق  کے پاس ہوئے چونکہ کمیت حضرت امام موسی کاظم  سے دو سال قبل فوت ہو چکے تھے .

بعض ماہرین کا قول ہے کمیت میں دس ایسی صفات تھیں جو کسی شاعر میں جمع نہیں تھیں وہ قبیلہ بنی اسد کے خطیب تھے . وہ قوم شیعہ کے فقیہ اور مجتہد تھے وہ قرآن مجید کے حافظ تھے . انکا حافظہ قوی تھا ،خوش نویس کاتب تھے ،انساب عرب کے ماہرین میں شمار ہوتے تھے . بہترین مناظر تھے ( بلکہ جاحظ نے تو یہ سمجھ لیا ہے کہ قوم شیعہ کے پہلے مناظر تھے لیکن اسکا جواب شیخ مفید نے یوں دیا کہ وہ قوم شیعہ کے پہلے مناظر نہیں تھے ان سے پہلے اصحاب پیامبر ۖ اور اصحاب آئمہ معصومین  نے مناظر ے کیے تھے اور مذھب حقہ کی ادلہ پیش کی تھیں ) بنی اسدمیں ان سے بڑا کوئی تیر انداز نہیں تھا . نہایت بہادر اور شجاع گہوڑے سوار تھے سخی اور دین دار تھے

حوالہ: شرح شواہد معنی جلد ١ صفحہ ٣٨ ؛

(کمیت کا مشہور ومعروف قصیدہ (ہاشمیات ))

نفی عن عینک الارق الھجوعا               وھم یمتری منہا الدموعا

راتوں کو جاگنے سے تیری آنکھوں سے نیند اڑگئی .

دخیل فی الفئواد یہیج سقماً            وحزناً کان من جذل ٍ منوعا

غم اشک آور جس نے خوشی کو بھلادیا دل پر سوار ہے .

وتو کاف الدموع علی اکتئاب ٍ        احلّ الدّھر موجعہ الضلوعا

آنسو ئوں بہتے ہیں اور غم واندوہ کی حالت طاری ہے جس سے درد مصیبت دل پر جملہ آور ہے .

تر قرق اسمحاً درئًاوسکباً              یشہ سحماغرباّ ھموعاً

آنسوئوں کی بارش آنکھوں سے جاری رہتی ہے جن کے بہنے سے بڑے بڑے ظروف پر ہوجاتے ہیں .

لفقدان الخضار م من قریش          وخیرا الشافعین معاً شفیعا

یہ سب دکھ درد اور اشک و آنسو قریش کے بزرگان اور بہترین مخلوق (رسول اکرمۖ ) کے فقدان کے سبب سے ہیں جو سب خدا وند رحیم و کریم کی بارگاہ میں شفاعت کرنیوالے ہیں .

لدی الرحمن یصدع بالمثانی       وکان لہ ابو حسن ٍ قریعا

وہ پیغمبر خدا جو با آواز بلند مثالی (سورہ حمد ) کی تلاوت کرتے ابوالحسن (علی ) انکے برگز یدہ فرد تھے .

حطوطا ً فی مسرتہ و مولی           الی مرضاة خالقہ سریعاً

وہ علی جو اپنی خوشیاں بھول کر خوشیاں بھول کر خوشنودی خدا کے لیے جلدی کرتے تھے .

واصفاہ النبی علی اختیار           بمااعیاالرفوض لہ المذیعا

پیغمبر ۖ اکرم نے انہیں اس لیے اختیار کیا تاکہ جو لوگ آپکے ذکر سے گریزاں تھے انکو دھونڈا جائے .

ویوم الدوح دوح غدیر خم           ابان لہ الولایة لو اُطیعا

غدیر خم میں ایک لمبے درخت کے نیچے نبی اکرم ۖنے ولایت کو خوب واضح کردیا کاش اسکی اطاعت کیجاتی .

ولکنّ الرجال تبایعوھا              فلم ارمثلھا خطراً مبیعا

لیکن ان لوگوں نے عھد و پیمان ولایت کو توڑ دیا مجھے تو اس جیسا عظیم عھدوپیمان کوئی دوسرا نظر نہیں آیا

فلم ابلغ لعناً ولکن                 اساء بذاک اوّلھم صنیعا

میں ان پر لعنت تو نہیں بھیجتا مگر اس عھد و پیمان کو توڑ کر اول نے بدکاری کی .

فصار بذاک اقربہم لعدل ٍ         الی جودٍ واحفظھم معنیھا

اور اس کام کے ذریعے دوسرا جو عدل و انصاف کا پاسداری تھا وہ ظالم اور ستمگر بن گیا .

اضاعو امر قائدھم فضلّوا               اوقومھم لدی الحد ثان ریعا

انہوں نے اپنی پیشوا (حضرت محمد مصطفی ) کے حکم ضائع کردیا آپ ایسے آقاتھے جو حوادث روزگار میں استوار رہنے والے تھے مگر اس فرمان کو ضائع کر کے وہ گمراہی میں پڑگئے .

تناسوا حقہ و بغو علیہ                 بلا ترةٍ وکان لھم قریعا

انکے حق کو انہوں نے بھلا دیا حالانکہ وہ سب کیلیے باعث خوشی تھے اور انہوں نے کوئی گناہ بھی نہیں کیا مگر انہوں نے ان پر ظلم روا رکھا .

فقل لبنی امیّہ حیث حلّوا             وان حفت المھند و القطیعا

بنو امیہ تجھے جہاں ملیں ان سے کہہ دے اگر چہ تو انکی شمشیر اور تازیانوں سے ڈرتا ہو .

الاافٍّ لدھرٍ کنت فیہ                 ھدانا طائعاًلکم مطیعا

آہ افسوس اس زمانے پر کہ جس میں خوف سے تمھاری اطاعت کیلیے میں مجبور ہوں .

اجاع اللہ من اشبعتموہ            واشبع من بجوکم اجیعا

خدا اس شخص کو بھوکا و پیاسا رکھے جسکو تم سیر کیا او راس شخص کو سیراب کرے جسکو تم نے بھوکا رکھا .

ویلعن فذا امّتہ جھاداً                اذا اساس البریّة والخلیعا

اللہ تمھارے پہلے بے پردہ شخص (معاویہ ) اور خلیع ( ولید بن عبدالملک ) پر لعنت کرے .

عرضی السّیاسہھاشمیٍ           یکون حیاً  لامّتہ ربیعا

کیونکہ انہوں نے اس ھاشمی نسب سیاستمدار کی جگہ حکومت قائم کی جس پر امت مسلمہ راضی و خوش تھی اور انکا وجود امت مسلمہ کیلیے بابرکت اور مثل موسم بہار سر سبز تھا .

ولیثاً فی المشاھد غیر نکسٍ      لتقویم البریّة مستطیعا

وہ جنگ کے میدانوں میں شکست ناپذیر تھا اور لوگوں کو راہ راست پر لانے میں قدرت و طاقت رکھتاتھا .

یقیم امورھا و یذبّ عنھا          ویترک جدبھا ابداء عریعا

وہ امت مسلمہ کے معاملات کو سلجھانے والا تھا اور انکا دفاع کرنے والا تھا اور خشک سالیوں کیلیے فراواں نعمتوں سے پر کرنیوالاتھا .

کمیت کی شھادت

کمیت باسعادت زندگی گزار کر امام سجاد  کے دعاکے مطابق شھادت کے درجے پر فائز ہوئے اور انہیں ایک سو چھبیس ہجری میں ظلم و جو ر کے ساتھ شھید کیا گیا . خالد قسری منبر پر خطبہ دے رہا تھا ادھر سے جعفر یہ ( مغیر ہ بن سعید اور اسکے گمراہ ساتھی ) نے خروج کردیا خالد کو جب پتہ چلا تو وہ خوف زدہ ہو گیا اس نے کہا مجھے پانی دو لوگوں نے جاکر ان خروج کرنیوالوں کو گرفتار کیا اور انکو مسجد میں لا کر قتل کر کے جلا دیا خالد کے معزول ہو نیکے بعد اسکی جگہ یوسف بن عمر نے لے لی کمیت پہلے اسکی مدح کر چکے تھے اس لیے انکے پاس چند اشعار پڑھے جن مین خالد کی ہجو تھی یوسف کے پاس کھڑے ہوئے آتھ سپاہیوں کو خالد کی خاطر تعصب اور غصہ آیا

 انہوں نے تلوار یں کمیت کے سینے میں پیوست کر دیں حتی کمیت اللہ کو پیارے ہو گئے انکے آخری جملے     اللھم آل محمد ۖ        اللھم آل محمد ۖ         اللھم آل محمد ۖ

 آغاغی جلد ١٧ صفحہ ٤٣ الغدیر جلد دو صفحہ ٣٠٧.

سید اسماعیل بن محمد حمیری  (وفات ١٧٣ھ)

حمیری اھل بیت علیھم السلام کے مشہور شعراء میںسے ہے جو نسل بنی ھاشم میںسے نہیںتھے سید انکا لقب ہے جو کہ بچپن میںبھی انہیںسید کے لقب سے پکارا جاتا تھا . کشی نے روایت کی ہے کہ امام صادق  نے جب حمیری شاعر سے ملاقات کی تو فرمایا سمّیتک اُمّک سید ا ً و وفّقت فی ذالک انت سید الشعراء .تیری ماںنے تیرا نام سید رکھا اور اس میں توفیق خدا سے نوازی گئی تو شعراء کا سردار ہے سید نے اس مناسبت سے ایک قصیدہ بھی کہا تھا سید اھل بیت کی محبت میں نہایت راسخ تھے اور دشمنان اھل بیت سے کسی قسم کاتقیہ نہیںکرتے تھے بلکہ انہیںسر عام ذلیل و رسوا کرتے تھے سید کے والدین اباضی ( خارجی ) عقیدے سے متعلق تھے سید نے انہیںبہت نصیحت کی حتی انکے چند قصائد اپنے والد کو نصیحت پر مشتمل ہیں .

سید خود ابتدا میںمیںکیسانی المذھب تھے لیکن بعد میںامام صادق  کے توسل سے انہیںاس سے نجات ملی اور سید امامیہ اثناء عشری شیعہ میںداخل ہو گئے کشی نے روایت کی ہے کہ سید کا ایک مرتبہ سخت بیماری میں چہرہ سیاہ ہو گیا تھا اسوقت امام جعفر صادق  کو فہ تشریف لا چکے تھے کیونکہ آپ اسی وقت ابو جعفر منصور دوانقی کے پاس سے لوٹے تھے راوی کا بیان ہے کہ میںامام کے پاس پہنچا اور عرض کی مولا میں آپ پر قربان جائوں میں سید حمیری کو اس حال میں چھوڑ آیا ہوں کہ انکا چہرہ سیاہ ہو چکا . ہے اسکی آنکھوں سے سفیدی ظاہر ہو چکی ہے اور انھیں سخت پیاس کا سامنا ہے اور وہ بول بھی نہیںسکتے اس سے پہلے وہ نشہ بھی کیاکرتے تھے امام  نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا آپ سید کے پاس پہنچے وہاں لوگوں کا ہجوم تھا امام سید کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا اے سید اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں وہ امام کی زیارت کرنے لگا مگر بات نہیں کر سکتا تھا ہم نے جان لیا کہ وہ بولنا چاہتا تھا مگر قدرت نہیںرکھتا تو ہم نے دیکھا کہ امام نے اپنے لب ھائے مبارک کو حرکت دی تو سید بولنے لگا اور عرض کی میںآپ پر قربان جائوں  ھکذا ا  با ولیا ء ک یفعل ھذا .

کیاآپکے دوست داروں کے ساتھ اسطرح سلوک کیا جاتا ہے تو امام  نے  فرمایا کہ اے سید حق کا اقرار کرلو تو خدا تعالی تیری مصیبتیںختم کر دیگا اور تجھ پر رحم فرمائیگا . اور تجھے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے گا . جسکا اس نے اپنے اولیا ء سے وعدہ کر رکھا ہے تو سید نے ایک مشہور قصید ہ کہا تھا .

تجعضرت بسم اللہ واللہ اکبر ؛    میں اللہ کے مبارک نام سے امام صاوق کا عقیدہ اپناتا ہوں راوی کہتا ہے کہ امام  ابھی وہیں تشریف فرماتھے کہ سید خود بخود اٹھ بیٹھے ( تنقیح المقال ص ٣٢٢الغدیر ص ١٢٤، مجالس المومنین ص ٥٠٦، ٢ .)

سید حمیری اسکے بعد ایک طویل عرصہ زندہ رہے اور انہوںنے فضائل اھلبیت  کو مفصل قصیدو ںمیں لکھا او راس واقعہ کے بعد انکے متعلق نشہ آور چیزوں سوال کرنیکا کوئی ثبوت نہیںملتا بلکہ کشی کی ایک روایت کے مطابق سید کا شمار علماء و فقھاء شیعہ میںہوتاہے سید کو اس بات پر فخر تھا کہ اس نے اھل بیت معصومین کے تمام فضائل کو اپنے منظومہ کلام میں پیش کیا ہے اس لیے انکی زندگی میں ایک واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے مجمع عام میں کہا کہ اگر کوئی ایسی فضیلت معصومین   کی جو روایات میں بیان ہوئی ہو پیش کرے اورمیں نے اسکو اپنے قصائد میں ذکر نہ کیا ہو تو کا فی دیر کے بعد صرف ایک شخص نے ایک روایت کا ذکر کیا جس پر پہلے سید نے قصیدہ کہا اور پھر اس راوی کو انعام دیا سید کی علم تاریخ اور ادب میں مھارت تامہ کا اقرار انکے ہم عصر اور انکے بعد آنیوالے مشہور شعراء اور ادباء نے کیا ہے سید کے قصائد جو میمیہ کے عنوان سے مشہور تھے انکی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ابن معتز نے طبقات الشعراء میں ذکر کیا ہے کہ اس سے کئی اونٹوں کا وزن بنتا تھا . سید کی زندگی کا یہ ایک انوکھا انداز ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی ایسی محافل میںگزاری کہ جن میں ذکر آل محمد  ہوتا ہو .

ابن فرزدق جو اپنے باپ کیطرح فصیح و بلیغ شاعر تھے انکا بیان ہے  کہ ایک مرتبہ سید ہماری محفل میںتشریف فرماتھے جب موضوع گفتگو فضائل اھل بیت  سے دنیاوی موضوعات کیطف مڑاتو سید اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میںایسی محفل میںبیٹھنا پسند نہیںکرتا جسمیںذکر آل محمد ۖ نہ ہو سید نے بہت سے

 خلفاء کے دور میںزندگی گزاری جنکی مجالس میںسید کو بلند مرتبہ حاصل تھا اسکے باوجود بھی انہوںنے اھل بیت  کے فضائل اور مناقب کو اشعار میںپیش کیا اور دشمنوںکی سازشوںکی کوئی پرواہ نہیںکی اس قسم کے کئی  واقعات قاضی سوار کے ساتھ انکے مشہور ہیں. سید کے قصائد اور اشعار امام صادق کے سامنے پڑھے جاتے تھے بلکہ امام خود اپنے اصحاب سے اسکے اشعار پیش کرنیکا تقاضا کرتے تھے اور یہ خود سید کی عظمت کی ایک قوی دلیل ہے .

کشی نے فضیل رسان سے روایت کی ہے کہ میںنے امام  کے سامنے جب سید کے مشہور اشعار :

لام ّ امرٍ بانلو یہ مربع .......... پڑھے تو امام نے پوچھایہ کس کے اشعار ہیںمیں نے کہا یہ سید حمیری کے ہیں. پھرمیںنے عرض کی مولا وہ تو نبیذ استعمال کرتے ہیںتو آپ نے فرمایا خدا اس پر رحم کرے

 خدا پر یہ گران نہیںکہ ایک محب علی  کو بخش دے اور ہم اس سے پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ سید اپنی وفات سے بہت عرصہ پہلے نشہ ترک کرکے تائب ہو گئے تھے.

سید کی وفات حسرت آیات کا واقعہ بھی نہایت سبق آموز واقعہ ہے . روایات میںہے کہ سید کی وفات کے وقت دوسری مرتبہ انکا چہرہ سیاہ ہوا تو سید نے بلند آواز سے کہا کہ یا امیر المومنین ؛ ھکذایفعل باولیائکم ؛ آپکے دوست داروںکے ساتھ اسطرح سلوک کیا جاتا ہے جبکہ وہاںپر موجود عثمانی اور غیر امامی سید کی وہ حالت دیکھ کر خوش ہورہے تھے تو اسی وقت سید کا چہرہ چوہویںکیے چاند کیطرح روشن ہو گیا اور سید نے جان دیے دی سید کی وفات کے بعد ستر کفن انکے عقیدت مندوںکیطرف سے پیش کیے گئے لیکن انھیں ھارون الرشید کا بھیجا ہوا کفن دیا گیا اور عزت اور احترام کے ساتھ دعائے مغفرت اور دعائے خیر کی گونجوںمیںسپرد خاک کر دیا گیا .

 ابو محمد سفیان بن مصعب عبدی کوفی

ابو محمد سفیان بن مصعب کوفی پاک پیغمبر ۖکے خاندان کے شعراء میںسے تھے . اور انکے ساتھ محبت و شعر کیوجہ سے قرب حاصل کیا اور صدق نیت اور خلوص ارادت کیوجہ سے انکی درگاہ میںمقبولیت حاصل کی . شیخ

 طایفہ نے اپنی کتاب رجال میںعبدی کو اصحاب امام صادق علیہ السلام میں شمار کیا ہے البتہ اسکا امام کے ساتھ ہونا فقط امام کے ساتھ آمد و رفت نہیںتھی بلکہ وہ خالص محبت و ارادت اور ایمان کہ جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک تھا ،کیوجہ سے امام  کے حضور بلند منزلت رکھتے تھے .

عبدی کے بہت سارے شعر مشہور مناقب امیر المومنین  ،فضائل اور آپکے خاندان پاک پر ہیں کہ بہت خوبصورت پڑھے ہیں اور مصائب اھل بیت علیہم السلام پر بھی شعر کہے ہیںاور جو مصائب کہ ان پر گزرے ہیں انکو مرثیہ کی شکل میںکہا ہے . اور ہم نے اسکے شعر غیر  اھل بیت  کے بارے میںنہیں دیکھے ہیں .

امام صادق  کی روایت ثقة الاسلام کلینی روضہ کافی میںہے کہ عبدی سے فرمایاکی کہ اپنے شعر پڑھے کلینی باسناد خود از (ابی داود مسترق) اور وہ خود عبدی سے نقل کرتے ہیں کہ عبدی کہتاہے کہ میں ابی عبد اللہ کی خدمت میںحاضر ہو ا  آپ نے فرمایا کہ ام فروہ سے کہو کہ آئے اور جو اسکے جد پر مصائب گزرے ہیں وہ سنے

 ام فروہ تشریف لائیں اور پشت پردہ بیٹھ گئیں. پس امام نے کہا ہمارے لیے شعر پڑھو اور میںنے پڑھے

       فرو جودی بدمعک المسکوب

خواتین نے گریہ و بکا کیا ابی عبد اللہ نے فرمایا کہ گھر کے دروازہ کو دیکھو اھل مدینہ دروازے پر جمع ہو چکے تھے امام  نے کسی کو بھیجا اور کہا کہ کہو کچھ نہیں ہو ا ہمارا ایک بچہ بیہوش ہو گیا تھا جسکی وجہ سے خواتین نے آہ و بکا کی . امام صادق علیہ السلام نے ابی عمارہ جو کہ شعر پڑھتا تھا سے فرمایاکہ عبدی کے شعر پڑھو خود ابی عمارہ کہتا ہے کہ ابو عبد اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابی عمارہ وہ شعرجو عبدی نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں کہے ہیں ہمارے لیے پڑھو میںنے پڑھے اور وہ روئے پھر پڑھے وہ اور روئے دوبار میں نے پڑھے تو انہوںنے آنسو بہائے خدا کی قسم میں لگاتار پڑھتا رہا اور وہ روتے رہے حتی کہ آہ و بکا کی آواز گھر سے باہر نکل گئی . اسی لیے امام  نے اپنے شیعوں کو حکم دیا کہ اپنے بچوں کو عبدی کے شعر یاد کرائو .

عبدی آئین خدا پر ہے اسی طرح کہ کشی نے اپنی کتاب رجال میں صفحہ ٢٥٤ پر اپنی اسناد کے ساتھ سماعہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اے گروہ شیعیان عبدی کے اشعار اپنے بچوں کو سکھائو کیونکہ وہ دین خدا پر ہے کیونکہ اسکی گفتارصادق اور شیوہ شعردرست اور انکے معانی کی ہر نقص سے سالم ہیں فرمان امام ہے کہ جسکو کشی نے اپنی کتاب رجال کے صفحہ ٢٥٤ پر نقل کیا ہے عبدی سے فرمایا کہ خواتین جو

 نوحے بوقت ماتم کہتی ہیں انکو شعر میں لے آئو .عبدی کا شیوہ یہ تھا کہ امام صادق علیہ السلام سے مناقب عترت طاہرہ کے بارے میں حدیثیںیا دکرتا تھا اور اسی وقت انکو نظم کی شکل میں ڈھال کر امام  کی خدمت میں پیش کرتا تھا .

ابن عیاش نے ( مقتضب الاثر ) میں احمد بن زیادھمدانی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ علی بن ابراھیم بن ھاشم نے مجھے کہا میرے باپ نے حسن بن علی سجادہ سے اس نے ابان بن عمر خشن آل میثم سے حدیث کی اور کہا میں ابی عبد اللہ کی خدمت میںتھا کہ سفیان بن مصعب عبدی شرفیاب ہوا اور کہا آپ پر قربان جائوں اللہ تعالی کے اس کلام کے بارے میں کہ ؛    وعلی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماھم .

کیا فرماتے ہیں؟آپنے فرمایا کہ و ہ آل محمد ۖ سے اوصیا ء دوازدہ گانہ ہیں کہ جو انکو نہیںپہچانتا وہ خدا کو نہیں پہچانتا مگر یہ کہ وہ بھی اسکو پہچانتے ہوں. .تو عبدی نے کہاکہ میں آپ پر قربان جائوں'' اعراف '' کیا ہے ؟

تو آپ  نے فرمایاکہ یہ مشک کے ٹیلے ہیں جن پر رسول خدا ۖاور اولیا ء خدا بیٹھے ہیں اور سب کے چہروں کو پہچانتے ہیں تو عبدی نے کہا کہ آیا اس بارے میں شعر کہوںاور اسی وقت قصید ہ کہا ؛

    ایا ربعھم ھل فیک لی الیوم مربع        وھل للیال ٍ کن لی فیک مر جع

اے پیشوایان دین آپ روز حشر و نشر حکمران اور روز سخت و خوفناک پناہ گاہ ہیں اور اعراف پر کہ مشک کے ٹیلے ہیں اور آپکی برکت سے خوش بو اس سے پھوٹتی ہے بیٹھے ہیں آپ میں سے آٹھ عرش پر ہیں کہ فرشتے انکو اپنے کندھوںپر اٹھائے پھر رہے ہیں اور چار زمین پر خلق خدا کی ہدایت میں مشغول ہیں . (  ترجمہ الغدیر فارسی جلد ٤ ، صفحہ ١٦٩)

 دعبل بن علی زرین خزاعی شھید ولایت

(ولادت ١٤٨  شھادت   ٢٤٦)

شیخ صدوق   نے اپنی کتا ب عیون اخبار الرضا میں عبد السلام بن صالح ہروی سے نقل کیا ہے کہ جب دعبل بن خزاعی رحمة اللہ علیہ شھر مرو میں حضرت ابوالحسن علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا

 اور اس نے امام رضا کی خدمت میں عرض کی اے فرزند رسول میں نے آپ کی شان میں ایک قصید ہ لکھا ہے او رمیں نے قسم کھائی ہے کہ یہ قصیدہ میںسوائے آپ کے کسی کو نہیں سنائوںگا تو امام رضا  نے دعبل سے کہا کہ وہ قصید ہ ہمیںسنائو چنانچہ دعبل نے قصیدہ پڑھنا شروع کیا .

      مدا رس آیات خلت من تلاوة          ومنزل وحی مقفر العرصات

وہ مدارس اور محافل جہاں قرآن کی تلاوت ہوتی اور تفسیر کا درس دیا جاتا تھا اب خالی پڑے ہوئے ہیںاور وہ مقام جو مرکز نزول وحی تھا اس وقت بے آب وگیا ہ اور خشک صحرا کی مانند نظر آرہا ہے .

       اری فیئھم وغیرھم مستقسما ً      واید یھم من فیئھم صفرات

مسلمانوں کے غنائم اور بیت المال کو دیکھ رہا ہوں کہ دوسروں کے درمیان تقسیم ہورہے ہیں جبکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ان ( آل رسول )  کے ہاتھ ان ( غنائم سے خالی ہیں ) یہ شعر سننے کے بعد حضرت امام رضا نے گریہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دعبل خزاعی واقعاً تم نے صیحیح کہا ہے اور ایسا ہی ہے . پھر جب دعبل نے یہ شعر پڑھا کہ .

      اذا وتر و امدو ا الی واتر یھم          اکفا عن الاوتار منقبضات

جب کبھی بھی وہ دشمنوں کے ظلم و ستم اور اذیتوں کا نشانہ بنتے ہیں تو اپنے ان ہاتھوں کو جو ہر قسم کے حربہ جنگ سے تہی اور بندھے ہوئے ہو تے ہیں اپنے دشمنوںکیطرف بڑھا دیتے ہیں .جب دعبل یہ شعر پڑھا رہا تھا حضرت امام رضا  اپنے دونوںدست ہائے مبارک کو گھماتے جاتے اور فرماتے خدا کی قسم ؛ اپنے ہاتھوں کو دشمن کی اذیت و ظلم کی سزا کے لیے بروئے کا ر لانے سے بچاتے ہیں پھر جب دعبل نے یہ شعر پڑھا .

(٤)   لقد خفت فی الدنیا و ایام سعیھا       وانی لارجو االامن بعد وفاتی

ترجمہ؛میںچونکہ آپکی اور آپکے خاندان کی محبت رکھتا ہوں اس لیے میں نے اپنی ساری زندگی وحشت اور خوف میں گذاری ہے لیکن میری آرزو یہی ہے کہ میرے مرنے کے بعد عذاب سے امان اور نجات پاسکوں . امام رضا  نے فرمایا اللہ تعالی تمھیں ''فزع اکبر '' سے نجات عطا فرمائے اسکے بعد جب دعبل نے یہ شعر پڑھا .

        وقبر ببغداد لنفس زکیہ        تضمنھا الرحمن فی الغرفات

ترجمہ :اور بغداد میں ْقبر ہے اس نفس زکیہ کی جس کے لیے اللہ سبحانہ و تعالی نے بہشت کے غرفوںمیں سے ایک غرفے کو اسکا مسکن قرار دیا ہے ( مراد امام موسی کاظم  کی قبر ہے ) .

اس شعر کو سننے کے بعد امام رضا  نے فرمایا دعبل یہاں ان دو ابیات کا میں اضافہ کردوں تاکہ یہ قصیدہ مکمل ہو جائے ؟  دعبل نے عرض کی ؛ جی ہاں ؛ اے فرزند رسول ضرور اضافہ فرمائیں چنانچہ امام رضا نے دو شعر پڑھے :        و قبر بطوس یا لھا من مصیبة       توقد فی الاحشاء بالحرقات

           الی الحشرحتی یبعث اللہ قائماً     یفرج  عنا  الھم و  امکربات

او رایک قبر طوس میں ہے افسوس ہے اس قبر والے کی مصیبت پر کہ جسکی موت کے سانحہ کی آگ جسم کے رگ وپا اور اعضاء میںشعلہ زن رہیگی روز محشر تک ، مگر یہ خدائے متعال اس قائم (عج) کو مبعوث فرمائے گا جو ظالموں کے ظلم و ستم پر فتح و ظفر حاصل کر کے ہمارے رنج و غم کو کسی حد تک کم کرنے اور سکون کا باعث بننے کا سامان  کرے گا . دعبل نے عرض کی مولا یہ تو بتائیں کہ طوس میں کس کی قبر ہو گی . امام رضا  نے فرمایا وہ میری قبر ہوگی جہاں ابھی زیادہ عرصہ نہیںگزرے گا کہ وہ قبر ہمارے شیعوں اور زائرین کی آمد و رفت کا مرکز بن جائیگی اور میںاعلان کرتا ہوں کہ جو کوئی بھی عالم غربت میں میری قبر مطہر کی زیارت کرنیکے لیے طوس آئیگا اسے قیامت کے دن میرے ساتھ محشور کیا جائیگا اور اسکے تمام گناہ بخش دیے جائیںگے . دعبل جب اپنے اشعار سنا چکا حضرت امام رضا  وہاں سے اٹھ کر گھر کے اندر تشریف لے گئے اور دعبل سے فرمایا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھے امام رضا  نے گھر میںجانے کے بعد اپنے ایک غلام کو سود ینار کے سکے جن پر امام رضا کا اسم مبارک نقش تھا دیکر بھجوائے غلام نے یہ سکے دعبل کو دیئے اورکہا کہ مولا نے فرمایا ہے کہ ان سکوں کو اپنے اخراجات کیلیے رکھ لو دعبل نے کہا کہ خدا کی قسم میں مال دنیا کے حصول کیلیے نہیں آیا تھا میںنے یہ قصید ہ اس لیے نہیں کہا کہ امام رضا  مجھے اسکا صلہ عطا فرمائیںلہذا یہ سکے مولا کو واپس کر دو اور اسکی جگہ بطور تبرک امام  اگر اپنا لباس مجھے عنایت فرمائیں تو یہ بات میرے لیے باعث شرف افتخار ہو گی غلام نے واپس جاکر امام  کو دعبل کو پیغام پہنچایا امام رضا  نے اپنا ایک پیراہن ان سکوں کے ہمراہ دوبارہ بھجوادیا اور غلام سے کہا کہ دعبل سے کہو واپس نہ کرے جلد تمہیںانکی ضرورت پڑے گی .

چنانچہ دعبل امام رضا  کا پیراہن اور وہ سکے لینے کے بعد مرو سے اپنے قافلے کے ہمراہ واپس روانہ ہو گیا ابھی قافلہ مرو اور قوھان کے درمیان پہنچاتھا کہ وہاںڈاکووں کے ایک گروہ نے قافلے پر حملہ کردیا اور قافلے والوں کو گرفتا ر کرلیا اور انکا تمام مال و اسباب لوٹ لیا جن افراد کوگرفتار کرکے رسیوں سے باندھا گیا ان میں دعبل بھی شامل تھا جب ڈاکووں نے لوٹا ہوا مال اپنے درمیان تقسیم کرنا شروع کیا تو ان میںسے ایک نے ضرب المثل کے طور پر دعبل کا شعر پڑھا .

            اری فیئھم فی غیر ھم مستقسماً        وایدیھم من فیئھم صفرات   

دعبل نے جب یہ شعر سنا تو اس نے ڈاکووں سے کہا تمہیںمعلوم ہے کہ یہ شعر کس کا ہے؟

جس شخص نے یہ شعر پڑھا تھا اس نے کہا کہ یہ شعرقبیلہ خزاعی سے تعلق رکھنے والے دعبل بن علی نامی شاعر نے کہا ہے . دعبل نے اسے کہا کہ وہ دعبل خزاعی میںہوں اور یہ میرے کہے ہوئے قصیدہ کا شعر ہے وہ شخص دعبل کی بات سننے کے بعد اپنے سرگروہ کے پاس گیا جو کہ شیعوں میں سے تھا . اور اسے بتایا کہ گرفتار ہونے والوںمیں دعبل خزاعی بھی شامل ہے .ڈاکووںکے سرگروہ کو جب یہ خبر ملی تو اس نے خود آکر دعبل سے پوچھا واقعا ً یہ شعر تمہارے قصیدہ کا ہے دعبل نے کہا ہاںیہ میرے قصیدے کا ہے اس نے دعبل سے پورا قصیدہ سنانے کو کہا جب دعبل نے اسے پورا  قصیدہ سنایا تو اس نے اپنے ساتھیوںسے کہا کہ دعبل اور اسکے تمام ساتھیوںکی رسیاں کھول دو پھر اس نے تمام لوٹا ہوا مال بھی واپس کردیا جسکے بعد دعبل اپنے قافلے کے ہمراہ جب قم پہنچا تو اھل قم نے اس سے یہی قصیدہ سنانے کی درخواست کی . دعبل نے جواب میں کہا سب لوگ قم کی جامع مسجد میںجمع ہو جائیںجب لوگ مسجد میں جمع ہوگئے تو دعبل نے منبر پر جاکر لوگوں کو یہ قصیدہ سنایا جسے سننے کے بعد اہل قم نے نقد مال کے علاوہ قیمتی خلعتو ں سے بھی دعبل کو نوازا اہل قم کو جب پتا چلا کہ حضرت امام رضا  نے دعبل کو ایک پیراہن عطا فرمایا تو قم کے لوگوںنے دعبل سے کہا کہ وہ پیراہن ایک ہزار درہم کے بدلے فروخت کردے مگر دعبل نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اسکے بعد دعبل جب قم سے روانہ ہوا تو رات کی تاریکی میںکچھ عرب نوجوانوں نے اس پر حملہ کردیا اور اس سے حضرت امام رضا  کا پیراھن چھین کر بھاگ گئے چنانچہ دعبل دوبارہ قم واپس آیا جہاں اس نے پیراہن کی واپسی کیلیے کوشش کی مگر اسے جواب دیا

 گیا کہ وہ پیراہن اسے نہیںمل سکتا ہاں البتہ ایک ہزار دینار کی رقم واپس نہیں ہو سکتی دعبل نے ان لوگوںسے یہ تقاضا کیا کہ وہ اسے اس پیراھن کا کچھ حصہ ہی واپس کردیں جوانوںنے اسکی بات مان لی اور اسے پیراہن کا ایک حصہ واپس کردیا اور ساتھ ہی اسے ایک ہزار دینار بھی دے دیے اسکے بعد دعبل وطن روانہ ہوا جب وہ اپنے گھر پہنچا تو اسے پتا چلا کہ ڈاکووں نے اسکی عدم موجودگی میںاسکے گھر کا صفایا کردیا ہے اس صورتحال کے پیش نظر دعبل نے امام رضا کے عطا کردہ ایک سو دینا روالے سکے امام کے شیعوںکے ہاتھ فروخت کردیے دعبل نے ایک دینار سودینا ر کے عوض فروخت کیا

 ( کیونکہ اس پر حضرت امام رضا کا ااسم مبارک نقش تھا ).اور اس طرح اسے ایک سو دینار کے دس ہزار دینار مل گئے اس موقع پر دعبل کو یاد آیا کہ امام  نے کیوں فرمایاکہ یہ سکے واپس مت کرو جلد تمھیںانکی ضرورت پڑ جائیگی کہتے ہیں  دعبل کی ایک کنیز تھی جسے وہ بہت زیادہ چاہتا تھا اس کنیز کو کافی عرصے سے مرض چشم کا عارضہ لا حق تھا طبیبوں نے اسکی آنکھوںکا معاینہ کرنے کے بعد بتایا تھا کہ اس کی دائیں آنکھ قطعی طور پر لاعلاج ہے البتہ بائیں آنکھ کا علاج ہو سکتا ہے . اس خبر کی وجہ سے دعبل کافی مغموم تھا کہ اچانک اسے خیال آیا کہ حضرت امام رضا  نے اسے جو پیراہن عطا کیا تھا اسکا ایک حصہ اسے واپس مل گیا تھا کیوں نہ اس مبارک پیراھن کو کنیز کی آنکھوں پر لگا کر شفالے لی جائے؟یہ خیال آتے ہی دعبل نے اس پیراھن کے ایک حصے میں سے رومال کے برابرکا ٹکڑا لیااور اسے کنیز کی دونوںآنکھوںپر ملا جسکی وجہ سے کنیز کی دونوں آنکھیںصیحیح ہو گئیں

ایک اور روایت میں شیخ صدوق نے نقل کیا ہے کہ احمد بن زیااد بن جعفر ھمدانی  نے بتایا ہے کہ ہم نے علی ابن ابراہیم بن ھاشم اور اس نے اپنے جد سے اور انہوں نے عبد السلام صالح ہروی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ میں نے دعبل بن خزاعی کو یہ کہتے سنا کہ میں حضرت اما  م  رضا کی شان میں ایک قصیدہ کہا جسکا پہلامصرعہ یہ ہے .

         مدارس آیات خلت من تلاوة       یقوم علی اسم اللہ والبرکات

اسکے بعد اس نے باقی قصیدہ سنایا او رجب وہ یہ اشعار پڑھ چکا کہ ؛

          خروج امام لا محالہ خارج         یقوم علی اسم اللہ والبرکات

           یمیز فینا کل حق و باطل          ویجزی  علی النعماء و النقمات

یقینی طور پر اس امام کا ظہور ہو گا جوظاہر ہو کر قیام کرنے پر ناچار ہے وہ اللہ کے نام کے ساتھ تمام برکات اپنے ہمراہ لیکر آئیگا اور ہمارے درمیان حق کو باطل سے علیحدہ کرنے کے علاوہ  ہر نیکی و بدی کی جزا و سزا دیگا جس نے بھی نیکی کی ہو گی اسے جزا گی اور جس نے بدی کی ہو گی اسے سزا دی جائیگی .

یہ اشعار سنکر حضرت امام رضا  شدت سے گریہ فرمانے لگے پھر امام نے اپنا سر مبارک بلند فرما کر مجھے کہا کہ اے دعبل روح القدس نے تیری زبان سے دو ابیات کو جاری کرایا اور تم نے یہ بات کہہ دی۔

کیا تمھیں معلوم کہ وہ امام (عج ) جو ظہور فرمائیگا کو ن ہے اور کس زمانے میں وہ قیام فرمائے گا ؟خزاعی کہتا ہے کہ میں نے عرض کی مولا مجھے اس بارے میں کوئی علم  نہیں سوائے اسکے کہ میں نے یہ بات سن  رکھی ہے کہ آپ اہلبیت کے گھرانے سے ایک امام کا ظہور ہو گا جو روئے زمین پر چھا جانے والے فتنہ و فساد کا خاتمہ کر کے ارض خداوندی میں عدل و انصاف کا بول بالا کریگا . امام رضا  نے فرمایا کہ اے دعبل وہ امام (عج ) میری اولاد میں سے ہو گا میرے بعد میرا بیٹا محمدتقی  امام ہو گا اسکے بعد اسکا بیٹا علی ابن محمد النقی  امام ہو گا اسکے بعد اسکا فرزند حسن عسکری  امام ہوگا . اور حسن  کے فرزند کا نام ( محمد ) ہو گا جو حجت قائم ( عج ) کے نام سے مشہور  ہو گا اسکی غیبت کے زمانہ میں اسکا انتظار کیا جائیگا اور جب وہ ظہور فرمائیگا تو دو جہانوں پر اسکی اطاعت و فرمانبرداری واجب ہو گی اگر کائنات کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی ہو کہ اللہ تعالی اس ایک دن کو اتناطویل فرمائے گا کہ وہ ظہور فرمانے کے بعد روئے زمین پر عدل و انصاف کو اسطرح غلبہ دلا سکے جس طرح ظلم و جور سے دنیا بھر چکی ہو گی . لیکن یہ واقعہ ظہور کس وقت رونما ہو گا ؟ یہ ویسا ہی سوال ہے کہ جیسا یہ پوچھا جائے کہ قیامت کب آئیگی ؟ اور میرے پدر بزرگوار  نے اپنے آباء و اجداد  کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جناب رسولخداۖ  سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ آپ کی ذریت میں سے قائم آل محمد (عج ) کب ظہور فرمائیںگے تو آنحضور ۖ نے جواب میں فرمایا تھا کہ اسکی کی مثال یوم قیامت کی مانند ہے کہ جو کسی پر بھی آشکار انہیں  سوائے اللہ تعالی کے کسی کو اس بارے میں علم نہیں یعنی جس طرح قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں اسی طرح ظہور قائم (عج )  کا بھی کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس وقت ظاہر ہونگے البتہ یہ حتمی امر ہے کہ وہ ضرور آئیںگے .

دعبل اپنے دور کے مشہور شاعر تھے جنکی شاعری کا ڈنکا چار سو بجتا تھا . وہ علم تاریخ اور انساب عرب میں بھی

 مہارت تا مہ رکھتے تھے دعبل نے کمیت کے جواب میں بہت سے قصیدے لکھے مگر بعد میں معصومین کے روکنے کیوجہ سے اس سلسلے کو مزید آگے نہ بڑھایا دعبل نے اپنے دور کے عباسی حکام کی ہجو میں شعر کہے تھے جو آخر کا ر انکی شہادت کا سبب بنے .

                                 دعبل کی شہادت

دعبل ستانوے سال اور چند ماہ کی عمر پا کر ظلم و ستم کا نشانہ بن گئے انہیں جابر حکمرانوں نے دو سو چھیالیس ہجری میں شھید کردیا بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے مالک بن طوق کی ہجو  میں شعر کہے تھے جب اسکو علم ہوا تو اس نے دعبل کو طلب کیا دعبل وہاںسے بھاگ کر بصرہ آگئے بصرہ کے فرمانروا اسحاق بن عباس عباسی دعبل کی قبیلہ نزاد کی ہجو کو جانتا تھا اس نے انہیں گرفتار کر کے قتل کرنا چاہا مگر دعبل نے کہا میں نے یہ ہجو نہیں کی میرے دشمنوں نے میری خاطر یہ سازش کی ہے اس نے کہا اگر تجھے قتل نہ کروں تو رسوا ضرور کروں گا پھر انکو عصا سے اتنامارا کہ عصا ٹوٹ گیا پھر بے ادبی کرتا رہادعبل رہائی کے بعد اھواز کیطرف بھاگ گئے مالک بن طوق نے ایک زیرک شخص کو انکے قتل کی خاطر انکے پیچھے لگا دیا جسے اس نے دس ہزار درھم دیئے اس نے دعبل کو سوس کے قریبی گائوں میں نماز  عشاء کے بعد پکڑ اا اور زھر آلود عصا سے انکی پشت پر مارا جسکی تاب نہ لا کر دعبل دوسرے دن چل بسے اور انہیں وہیں دفن کردیا گیا ( اغانی ص ٢٠٠۔ ٢٠، الغدیر ص ٢)     

 مصادر و ماخذتحقیق  

  (!)  رجال کشی  مصنف ابو عمر و محمد بن عمر بن عبد العزیز کشی طبع جامع مشھد ١٣٤٨

(٢)ترجمہ عیون اخبارالرضا  مصنف شیخ صدوق محمدبن علی بن بابویہ قمی ترجمہ سید شبر رضا کاظمی منیر الحسن جعفری  . طبع مکتبہ الرضا لاہور .

(٣) الغدیر مصنف علامہ عبد الحسین امینی طبع مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ ١٤١٦

(٥)اغانی مصنف ابو الفرج اصفہانی طبع اولی ٤٠٧ٍ١  دار الفکر بیروت

(٦) الکافی مصنف محمد بن یعقوب کلینی طبع مئوسسہ انصاریان فمن الکتب الاربعہ تنظیم صادق بزرگر بفروعی  ١٤٢٨

(٦) مجالس المئومنین جلد ٢ مصنف علامہ قاضی نو اللہ شو شستری شھید طبع مکتبہ اسلامیہ طہران ١٣٦٥

(٧)اعیان الشیعہ جلد ١ مصنف سید محسن امین عاملی  طبع دار التعارف بیروت   ١٤٠٦

(٨) بحار الانوار جلد ٤٧ مصنف محمد باقر بن محمد تقی مجلسی ١١١١ طبع مکتبہ اسلامیہ طہران ١٤٠٤

(٩) تنقیح المقال ج  ١٠ مصنف علامہ عبد اللہ مامقانی  طبع مئو سسہ آل البیت لاحیا التراث قم ١٤٢٣

(١٠) المنجد ؛


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 2 (نشريه بزم رأفت)
[ پنجشنبه هفتم مرداد 1389 ] [ 11:25 ] [ انجمن ] [ ]

شاعر :  جناب عابد علی بھوجانی  صاحب

طرحی مصرعہ :    بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں

یوں  ابر شوق جھوم کے برسا غدیر میں                کاسوں سے جام خوب ہی چھلکا غدیر میں

دست نبی پہ  ایسا تھا جلوہ  غدیر میں                  قرآن   پڑھ   رہا  تھا    قصیدہ     غدیر   میں

پہلے فرات اشک پہ جا کے وضو کرے                      جائے   اگر   خیال   کا  کنبہ    غدیر     میں

فانوس دیں میںشمع ولایت  کو دیکھ کر                   کعبہ  طواف  کرنے   کو   آیا   غدیر      میں

معراج  ہو  رہی ہے  جناب  امیر کو                           دست  نبی ہے  مسجد  اقصی  غدیر میں

بخ  لک  اگر  وہ  نہ کہتا  غدیر  میں                          اٹھتا  منافقت   کا   جنازہ    غدیر      میں

کر دی علی کے نام خلافت کی  ملکیت                    بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا  غدیر میں

حج کیا تھا چھوڑ دیتے وہ دین نبی جناب                   معلوم  ہوتا  ہو گا  جو  ایسا   غدیر   میں

اچھا رہے جو ساتھ میرا چھوڑ دے حیات                     ہے  کاروان  زیست  کا  خیمہ  غدیر  میں

روز غدیر دھوپ کی شدت   بتائے  ہے                   سورج  بھی  محو سجدہ  ہے گویا غدیر میں

ہاںخیریت تھی بات جو پتھرپے رک گئی                  کم تھا جو  کوہ سنگ  بھی گرتا غدیر  میں

کیسے  ہو  ا تحا  د کہ  تا  ریخ  ہے گو  اہ                حارث  پہ  تھا   عذاب   بلا   کا  غدیر    میں

قبروںمیںان کے آج بھی اجداد روتے ہیں                   کچھ  اس طرح  لگا ہے  طمانچہ غدیر میں

دل میںچھپا کے حشر میںلے جائونگا ضرور              عابد  مجھے  ملا ہے  جو  صدقہ غدیر میں

 

شاعر :    جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

مصرعہ طرح:  خداکی رحمتیںسمٹی ہے ساری  ایک  پیکر  میں

کہاںسے لفظ لائوںانکی نعتوںکے برابر میں             مثالیں مل نہیں پاتیں کہیں  مخلوق  داور  میں

محمدۖ مصطفیٰ ۖ کی ذات  کی  رفعت کا  کیا  کہنا          ہے  انکی آل کی توصیف  قرآن  او ر کوثر  میں

محمد ۖ کے  سہارے  نا  خدائی کر رہا  ہوںمیں           مری کشتی پڑی ہے  ایک  دریائے  شناور  میں

سلام اے آمنہ  تو  رحمتوں کی  بن گئی  مادر         خدا نے عظمتیںرکھی ہیں ساری تیرے دلبر میں

عطا ، لطف  وکرم ، رحم و  محبت، کوثر و  جنت       خداکی رحمتیںسمٹی ہے ساری  ایک  پیکر  میں

زبا ںکیوںہڈیوںکے درمیان محبوس رکھوںمیں           جو  ذکر  مصطفیٰ  و آل  ہے میرے  مقدر    میں

کوئی دیکھے اگر کرب و  بلا کی  جنگ  کا  منظر            مز ا  ج   لا  فتی  ٰ پائے  گا  عباس دلاور  میں

ہنسی کے وار سے دشمن کا دل چیرا ہے میداںمیں     کو  ئی  ایسا  بھی  بچہ  آ  گیا آ ل  پیمبر ۖ میں

حسین بس اس لیے تھے چاہتے شدت سے بیٹے کو کہ جلوہ مصطفیٰ ۖ کے حسن کا تھا شکل اکبر میں

دکھایا دے کے خطبے شام کے مجمع  میں  زینب  نے      اثر کونین کے سرکا  ر کا  ہے بنت حیدر میں

محمد مصطفی  ۖ  کے واسطے پوری کرے یا رب            کمی جو رہ گئی ہے باقی اب تک فکر اطہر میں

 

شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب الفت حسین جویا صاحب

مصرعہ طرح :بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں

بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا  غدیر  میں                      سرور ۖ  نے حاجیوں  کو  بلایا  غدیر  میں

وقت نمازتھا نہیں  چونکے سبھی  جونہی                  حی  ّعلی  خیر  العمل  گو  نجا  غد  یر میں

سوالاکھ حاجیوںکے  مقابل  حضورۖنے                       نعر   ہ  علی   و  لی  کا  لگا  یا  غد  یر  میں

کچھ کھل اٹھے کچھ جل گئے کچھ سوچنے لگے            سر پر علی  کے  تا  ج  جو  آ  یا  غدیر میں

اعلاں ہوا علی کی ولایت کا  جس  گھڑی                         اکما  ل  دیں کا  آ  گیا  تحفہ  غد یر  میں

بھولا خدا کو بھو  لا  نبی  ۖ کو  کتاب  کو                     جس نے بھی کر کے وعدہ بھلایا  غد  یر میں

طرحی مصرعہ:        (جام کوثر کی طلب ہو تو پیجیے جام غدیر)

محو ہو  سکتا  نہیں  تاریخ  سے  نام   غدیر            بھول  پائے  گا  بشر  ہر گز  نہ  ایام  غدیر

کا   م    تبلیغ  کا  کو  ئی  بھی   نہ  ہو                   گر نہ پہنچائیں   پیغمبر ٔۖ   آج  پیغام  غدیر

دین کا  کمال ،  اتما  م  نعم ،  مرضی  حق             اک ولایت کے ہے صدقے میںیہ انعام غدیر

 اپنا    اپنا  ہے  مقدر  ہو  مبارک   منکرو              تم کو  اسلام   سقیفہ  ہم  کو ا  سلام  غدیر

شیخ جی! تیرے نصیبوں کا ہے چکر یہ طواف        کیوںنہین میقات خم سے باندھا احرام غدیر

اس قدر رسوا نہ ہوتے اہل دیں  ہر گز  کبھی          یاد رکھتے گر دل و  جاں سے  وہ  پیغام  غدیر

ساقی کوثر علی ہیںاس  لیے  اے  شیخ  جی!        جام کوثر  کی  طلب  ہو  پیجیے  جام  غدیر

 ہے   دعا ا  لفت  ولی  امر  آئیں  بارہویں                دیکھ لیں ہم بھی  بڑھیںتکمیل  کو گام غدیر

 

شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب الفت حسین جویا صاحب

مصرعہ طرح :         آگئی فصل ربیع تشریف  لائے  مصطفےٰ ۖ

 

آگئی فصل ربیع تشریف  لائے  مصطفےٰ ۖ                          ذرہ ذرہ دوجہاںکا  گنگنائے   مصطفےٰۖ

ابتداء جس کے فضائل کی وہ  ''لولاک کا''                کون سمجھے گا بھلا  پھر  انتہائے  مصطفےٰ ۖ

کہہ رہا ہے ''حسین  منی '' کا ہم سے بیان                  کربلا شبیر  کی  ہے  کربلا ئے  مصطفےٰ ۖ

کاش پوری ہوسکے اک بار الفت آرزو                        وہ  جگہ چوموںجہاںہیںنقش پائے مصطفےٰۖ

مصرعہ طرح :       خدا کی رحمتیںسمٹی  ہیں  ساری ایک  پیکر میں

خدا کی رحمتیںسمٹی  ہیں  ساری ایک  پیکر میں

جو  چاہو  دیکھنا  دیکھو  سبھی  چہرہ  سرور   میں

بھلا مجھ سے یا مجھ جیسوںسے ممکن ہے ثناء ان کی

جہاں مصروف قرآن میں خدا ہو  مدح  سرورۖ  میں

علی  نفس  پیغمبر ۖ  ہیں ،  پیغمبر ۖ   نفس  حیدر  ہیں

کہاں  ایسی  محبت    او ر قرابت   دو      برادر    میں

پیغمبر ۖ سے  پیغمبر  کے  صحابہ  میں نہیں ملتی

عقیدت سبط  پیغمبر ۖ سے  دیکھی  جو  بہترّ  میں

کہے جاتے ہیں کچھ نامرد بدعت ہے یہ بدعت ہے

علم اک مرد کو جب سے ملا ہے جنگ خیبر میں

اگر قرآن و عترت کا نہ دامن چھوڑ تی امت

 یہ  واحد  ہی بنی  رہتی نہ بٹتی یوں  ٧٣ میں

 نہیں کچھ  خوف  الفت  کل  بروز  حشر  کیا  ہوگا ؟ 

یقیں ہے مصطفیٰ ۖ تھامیںگے میرا ہاتھ محشر میں

 

      شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب تحریر علی نقوی صاحب

مصرعہ طرح : آگئی فصل ربیع تشریف  لائے  مصطفےٰ ۖ   

خلق حق میںدیکھو مقدار  فضائے  مصطفیٰۖ             ماسوی اللہ میںہے تو آب وہوا ئے مصطفیٰۖ

اے  خدائے  نور مجھ پر ہو عطائے مرتضیٰ             تاکہ میںبھی  کر سکوں کچھ  دم ثناء مصطفیٰۖ

خلق خالق میںہے سرورۖ اک حبیب کبریا ۖ                    اک  غلام  باوفا  صاحب  لوائے  مصطفی ٰۖ

جو غلام مصطفی ٰۖ  حیدر  سے  دوری  میںرہا     وہ نہیںسمجھا  سمجھ  لو  الف و بائے  مصطفی ٰۖ

مرتبے میںمرتضیٰ کون ومکان میںبے مثال               جس کے دل میںموجزن روح ولائے مصطفیٰۖ

اس  کو دل اس کا خلیفہ مان لیتاہے ضرور             ہاتھ جس کا ہاتھ میںتھامے  ، اٹھائے مصطفیٰۖ

مرتضی  وفاطمہ  ہیں  اپنے فرزند کے ساتھ             پانچویںسرورۖ ہیں، سب پر ہے ردائے مصطفیۖ

مصطفی  ۖ ومرتضی   میں  فاصلہ  کوئی نہیں          روز  روشن  حا جیوںکو جب  دکھائے مصطفیۖ

اس ردا کی شان جبریل امیں  سے پوچھ لو                    آرزو دل میںلیے بولے ''خدائے  مصطفیٰ'ۖ

ہو  اجازت  تو مدینے کی زمیںپر پہنچ کر                پانچتن  کی  بزم  میں  پہنچے گدائے مصطفیٰۖ

لی  اجازت  آیہ تطہیر  لے  کر آگئے                      سر جھکائے  رک گئے دیکھی کسائے مصطفیٰۖ

باادب مانگی اجازت ،جب ملی داخل ہوئے                        واقف آداب  تھے  وہ  آشنائے  مصطفیٰۖ

 کلمہ گوتو بھی امین وحی حق سے لے سبق            بے اجازت  گھر نہ آ، گر  نہ بلائے مصطفیٰۖ

آیت  تطہیر والاگھر جلانے کی نہ سوچ                     ورنہ  غیظ حق سے تیرا دل جلائے  مصطفیٰۖ

شان زہرائے حبیب کبریا ۖ  بھی  دیکھ لو               وہ ہے جس کو دیکھ کر اٹھ کر دکھا ئے  مصطفیٰۖ

بضعة منی  کہے  یعنی  یہ ٹکڑا  ہے  میرا              اپنی بیٹی اپنی ماں  کہہ کر  سنائے  مصطفیٰۖ

رحمةً للعالمین  کی ساری  رحمت فاطمہ            مانگو  اس کے  نام پر ،  دریا   بہائے  مصطفیٰۖ

سرور عالم کہے سردار  جنت  کے  ہیں  دو        جان ودل سے ان کو پیارے جن کو بھائے مصطفیٰۖ

اک حسن ہیںمجتبی  او راک حسین پادشاہ            سیرت  وکردار  میں  دونوں  ادائے  مصطفیٰۖ

واسطہ دے کر تو دیکھو دونواسوںکااسے              روشنائی میںبد ل  دے غم کے سائے مصطفیٰۖ

سبط پیغمبر ۖ  شھیدکربلا  کے باب  میں             کہنے  والو  شعر  کہہ کر  لو  دعائے  مصطفیٰۖ

 جس کے در پر صف بہ صف سارے ملائک سر نگوں    اے بشر تیری  سمجھ  میں کیسے  آئے  مصطفیٰۖ

 جس کی بند مٹھی میںہو دانے کی مانند کل زمین         پھر  زمین میںکیسے  ممکن  ہے سمائے مصطفیٰۖ

چاند سورج اور ستارے شرم کے مارے مریں         اک دفعہ جب رخ کرے اور مسکرائے مصطفیٰۖ

دردمندواسکی چوکھٹ ہے  شفا  خانہ  عجب          جو  مریض آئے مرض پل  میںہٹائے مصطفیٰۖ

آنہیںسکتی کبھی مرگ خزاںاس کے قریب میں        اے  خوشاجو  آنگن  دل  میںسجائے مصطفیٰۖ

 تھا سماںساراخزاںجب تک نہ آئے مصطفےٰۖ          آگئی  فصل  ربیع ،  تشریف   لائے  مصطفےٰۖ

رک گئے جبریل پیچھے ،بڑھ گئے آگئے نبیۖ            ان  سے  توآگے  بہت تھی گرد پائے مصطفیٰۖ

 ہاںمگر نفس پیمبرۖ کی جداہی بات ہے                انکے  لہجے  میں  تھا  جلوہ گر  خدائے مصطفیٰۖ

نقوی کیاتقدیر کا کھٹکا ہو، قسمت کا ہو غم!             جبکہ  بگڑی  پر کرم  کر  کے  بنا ئے مصطفیٰۖ

مصرعہ طرح :       خدا کی رحمتیںسمٹی  ہیں  ساری ایک  پیکر میں

اگر  چاہو کہ  دیکھو  رحمت  حق  ایک  جوھر  میں

  خدا کی  رحمتیں  سمٹی  ہیں  سار ی ایک  پیکر  میں

 ہیںجتنی خوبیاںپھیلی ہوئی اس سارے  عالم  میں      

  نمونہ ان کے مرکز  کا  ہے  سرور   ۖ اور  جعفر میں      

 رسالت اور امامت کی سیادت حق کی جانب سے

ہے رشک عالم امکاں'  پیمبر  ۖ اور  حیدر  میں''

صدف کعبہ ، رجب کی تیرہویں'ہاتھوںپہ گوھر ہے

امامت بچپنے میںہے رسالت ہی کے  محضر  میں

    نبی ۖ کے بعد شکل و صورت و  منطق  میں  ویسا  ہی       

 اگر دیکھا  زمانے نے تو  دیکھا  ایک  اکبر   میں       

صفات  احمد  مختار  ۖ ہم  نے  جلوہ گر  دیکھیں

علی  حق کے  و لی ،  شیر  جلی  نفس  پیمبر  ۖ میں

    خدا کے دین پر مشکل بنی ،  مشکل  کشا  آئے      

 نبی ۖ سے پوچھو لو ، خود  دیکھ لو خندق میں،خیبر میں      

علی  ہر بات میںمرضی نبیۖ  کی دیکھ  لیتے  ہیں

  خدا کا حکم لیتے ہیں نبیۖ  کے  ایک  تیور  میں

سکون دل کا باعث ہم نے یاد یںان کی پائی ہیں     

ہے کتنی تازہ لذت ان کے ہر  حرف  مکررمیں     

نبیۖ کو اپنا بھائی ایسے ویسے کہہ نہ  سکتے تھے

اخوت گر نبیۖ کی دیکھتے نہ پاک حیدر  میں

نبیۖ کے ہاتھ پر پتھر بھی آکر کلمہ پڑھتے ہی        

تفاوت کچھ ہے لازم کلمہ گو میں اور پتھر میں        

علی  کی جب ثناء  کو  لب  ہلے ،  امر  نبی ۖ  آیا

ںاے روح القدس جائو کچھ لکھو شاعر کے دفتر میں

اے نقوی محضر رضوی  میںمانگو دوجہاں  اچھے

ابھی سے مانگ لو پڑھنے کی نوبت روز محشر میں

 

شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب تحریر علی نقوی صاحب

مصرعہ طرح :    بلغ کا  حکم  جیسے ہی   آیا    غد  یر میں

  امر  خدا  نبی ۖ  نے  سنایا  غدیر  میں                چہرہ  وصی  کا سب  کو دکھایاغدیر  میں

حق سے خلیفہ اس گھڑی پایا غدیر میں                 بلغ  کا  حکم   جیسے  ہی  آیا  غدیر  میں

پالان جمع کر لیے  حجاج  روک  کر                منبر  نئی  طرح  سے  سجایا  غد   یر میں

بعد از نبی ۖ تھی دھوپ کڑی انتظار میں                 دیں  کو  ملا  ہے  اس لیے سایہ غدیر میں

دست نبیۖ میںدست علی کا سماںیہ تھا                جیسے  چمن  میں  پھول  کھلا  یا غدیر میں

نفس نبیۖ وصی ہوئے بے شک بغیر فصل               قول  و  عمل  سے  یہ  ہی  بتایا غدیر میں

دین خدا کی بن  گئی کا یا   غدیر     میں              بلغ کا  حکم  جیسے ہی   آیا    غد  یر میں

مولا میںجس کا  اس کا ہے مولا علی  ولی                روشن  بیان  میںسب کو سنایا  غدیر   میں

کوثر کی تھی طلب جنہیں دست امیر سے                جام   غدیر  ان  کو   پلایا   غدیر  میں

کفر خداپہ مولا   جلاتے   رہے  محب                کفر  علی  پہ   حق نے   جلایا  غدیر میں

تبلیغیو  نمونہ یہ  سیرت  سے  دیکھ  لو              بلغ کا  جشن  کس نے  منایا  غدیر  میں

سنّت کے اہل ہو جو  حقیقت  میں  دوستو             دیکھ   امیر  کس  کو   بنایا   غدیر میں

رشک جنان نقوی خلافت  ہوئی  عجب               بلغ  کا  حکم   جیسے  ہی  آیا  غدیر  میں

مصرعہ طرح :        جام کوثر کی طلب  ہو  پیجیے  جام  غدیر

 دین  کا مل  ہو گیا  ، ملتا ہے  انعام  غدیر           دین  ہے  اسلام  اور اسلام  ،  اسلام غدیر

واسطہ مولا  کا ہو چند   لمحے  الہام  غدیر           تاکہ کچھ پہنچاسکوں یا رب !  میں  پیغام  غدیر

جس کی قسمت میںرہا روز ازل جام الست           مل سکا  اس  کے مقدر  کو  فقط   جام  غدیر

ہے خوشی کی انتہا  سلمان   کی  آواز   میں          آئو  تو  خیر  العمل  میںلے  لو ا  نعام  غدیر

حاجیو سن لو کہ  ہے  مقبول  حج  اسکا  فقط           جس نے باندھا آج اس میداںمیں احرام غدیر

رکھ  کے پالانوںپہ پالانیںبہت اونچا کیا            بہر   اعلان   ولایت   منبر  و   بام  غدیر

ہو گئے  مولا علی  سب کے و لی  اب  تا ابد           ہو گیا  واجب  ہر  اک  مسلم  پہ  ا کرام غدیر

دست ساقی  ہاتھ  میںکر کے  بلند بتلا دیا           جام  کوثر  کی  طلب  ہو   پیجیے  جام  غدیر

مبغضوں  کی  خام خیالی کے سروںپر دفعة ً         حق  نے  حق  دکھلا  کے خود ہی رکھ دیا گام غدیر

ایک دشمن نے جو  اظہار  عداوت  کردیا          ا س  پہ فوراً  پڑ گئی  اک  ضرب  صمصا م  غدیر

اور  الباقی ر  ہے  دل میںہی روتے پیٹتے         چہرے  گویا  تھے  کہ ہیںتا زیست آلام غدیر

کام  کچھ نہ  آسکیں شیطان کی شیطانیاں         خاک  منصوبے  ہو ئے  ہیں،  آہ اقدام غدیر

 سوچنے  بیٹھے  کہ کیسے کر سکیںاب اک ھنر       کیسے  پیدا  کر سکیں  ہر  دل  میں  ابہام غدیر

نقویکہہ دو دشمنوں! اب بھاگنے سے کیا ثمر !        سامنے  ہے  جبکہ  ظاہر  حق  کا ضرغام غدیر

 

شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب حسن عسکری نقوی صاحب

مصرعہ طرح : خدا کی رحمتیں سمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں

 

فضیلتیں  آئی  ہیں  ساری  ایک مظھر میں            خدا کی  رحمتیں سمٹی  ہیں ساری ایک پیکر میں

ولا جس کی عبادات خلائق کے لیے روح ہے         ہے وقعت کیا اگر روح ہی نہ ہو اک خالی پیکر میں

 تصور  بھی نہیں  ممکن  خدا و مصطفیۖ جانیں            ہوئے  بنت  اسد پر جو  کرم اللہ کے گھر میں

جو  اپنی جان  دیکر  مول لے اللہ کی مرضی            وہ  سو داگر ہمیں ملتا ہے  بس اللہ کے گھر میں

 علی  کے عشق میں جو ڈوب جائیں زندگی ساری         انہیں  پرواہ  نہیں ہوتی کبھی میدان محشر میں

فقط اس کی امامت کے ہیںقائل ہم علی والے         ضیا  خورشید  ملتی  ہوجس کے  نور  انور ہیں

بہار  تازہ  آئی  گلشن  عالم  مہکتا  ہے            موالی  مست ہیں گویا سبھی اک حوض کوثر میں

ہلا  دیتے ہیں،  دنیا کو  مجاہد یاعلی کہہ کے            یہی  اک  نعرہ سن سکتے ہیں گفتار  پیغمبر ۖ میں

طبیعت کھینچے لے جاتی ہے اپنی اصل کی جانب          ولی  ا للہ  سے  ملتا کوئی ہے  کوئی آذر میں                       

بپا ہے شور کہ ہیں  معراج  کے  اسرار کھلتے ہیں         علی کا  لہجہ پاتے  ہیں بنیۖ  گفتار  داور میں

مصرعہ طرح :       بلغ  کا حکم  جیسے  ہی آیا غدیر میں 

 بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا  غدیر میں               کھلنے  لگا   ہر  دشمن  مولا   غدیر میں

مولا علی کا بغض تھاجن جن کے قلب میں             سمجھے  نہیں و ہ  معنی  مولا  غدیر  میں

اکمال  دین نعمت  تمام  راضی ہوا خدا                مولا  علی کا  ایک ہے  جلوہ  غدیر میں

 ظاہر میں کچھ لعینوں نے مجبوریوں کے ساتھ            نام  علی  کا  پڑ ھ  لیا  کلمہ غدیر میں

ساری  فضیلتوں  نے بصد  حترام شوق              پائے علی پے  کرلیا  سجدہ  غدیر میں 

اک حشر  بھی  بپا  ہوا   ایسا   غدیر میں             جھپکی پلک  بدل  گئی  دنیا  غدیر میں

 قرآن لے کے ہاتھوں پے انصاف سے کہو            مولا  کسے  نبیۖ نے کہا  تھا  غدیر میں

دیکھے  کوئی  غدیر  نصیری  کی آنکھ سے              دیکھے  کوئی  علی  کا سراپا  غدیر میں

تاریکیوں  کے  ختم  کا  اعلان  ہوگیا               کتنا  عظیم  ہے  یہ  اجالا  غدیرمیں

سلمان کے  ا یمان  کی معراج  دیکھیے                خیر العمل کا  نعرہ  لگایا   غدیر   میں

یہ  میثم  تمار   حذیفہ  ہو   یا  عدی                 سب  کی زباں پہ صل علی  تھا غدیر میں

جبریل و میکائیل تھے مولا کے دو طرف               رحمت  کا  چا ر سو  تھا  ھالہ  غدیر میں

منکر علی کا سب سے پہلے ہو ا  تھا وہ                   بخ کا جس نے  نعرہ  لگایا   غدیر میں

منکر علی کا آج بھی حارث پر ست ہے              چہرہ  تھا  ایسے  لوگوں  کا لا  غدیر  میں

 ہاتھوں پہ جانشین  پیمبرۖ کو   دیکھ  کر               چہرہ بجھا  بجھا  سا  ہے کن کا  غدیر  میں

یہ مسکراتے پھولو سے چہرو نکے درمیاں               یہ کون  خا ر کس کا  ہے  نالہ  غدیر  میں

چہرہ  جلا  ہوا  ہے  سقیفہ کا آج  تک              مارا نبیۖ  نے  ایسا  طمانچہ    غدیر  میں

ہونٹوں  پہ تھی کسی کے تبسم کی   چاندنی              ماتھے  پہ تھا  کسی کہ پسینہ   غدیر   میں

حارث مزاج دیکھ لے حارث کا واقعہ              قدرت  نے کیسا کھینچ کے مارا   غدیر میں

اب دیکھناہے یہ کہ مکرتا ہے کون کون               بخ تو مل کر سب نے کہا  تھا   غدیر   میں

جنت میں  مومنین کا اذن دخول ہے              کعبے میں  در  بنا  تھا کھلا تھا   غدیر  میں

دشمن  علی کا ماں کی خرابی کا ہے  ثمر                اس پر نبیۖ  کا  بھی تھا اشارہ  غدیر  میں

یہ جو خمینی  لائے ہیں اسلامی انقلاب               اس  کو  نبیۖ نے  بذر کیا تھا   غدیر  میں

مولا علی کے نام پہ جل جل کہ جو مرے             لگتا  ہے اچھا  ان  کو  جلانا   غدیر  میں

مولا علی کے عشق سے ملتی ہے روح کو جاں          لکھا  حسن نے  تیرا  قصیدہ   غدیر  میں

شاعر: 

حجة الاسلام و المسلمین جناب فیروز رضا نقوی صاحب     

مصرعہ طرح :   بلغ  کا حکم  جیسے  ہی آیا غدیر میں

 

 مولا نبیۖ  نے سب  کو  دکھایا غدیر میں              اندھوں  کو  پر  نظر نہیںآیا غدیر میں

ہے  کو ن کہہ  رہا ہے  بخٍ لک علی!                دست نبی ۖ  پہ  دیکھ کے  مولا غدیر میں

تاریکیوںسے کہہ دو کہیںدور جا بسیں                مئومن کو مل  گیا ہے  اجالاغدیر  میں

ظلم و ستم کی دھوپ جلا پائے گی نہ دین               روح کربلا سے  مل گئی  سایہ  غدیر میں

مولا   بنا  دو  آج   پیغمبرۖ  علی  کو تم              قرآن  پڑھ ر ہا  ہے  قصیدہ  غدیر میں

کفر و نفاق بغض سب روتے ہیںایک ساتھ          اسلام  ہنس رہاہے  اکیلا   غد  یر میں

قرآنایک آگیا قرآن کے ساتھ ساتھ              بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا   غدیر میں

منکر ہے  جو ولایت  حیدر  کابا  خدا               اس پر عذاب  عرش آیاسے  غدیر  میں

بدعت کے  بانیوں  کو  محمد ۖنے با خدا              خطبہ  سنا  سنا  کے  رلایا   غدیر  میں

الیوم  پڑھ رہے  ہیںپتا کچھ نہیںمگر                قرآن  کہہ  رہا  ہے  ہوا کیا غدیر میں

فیروز  کو  نہیںہے  ذرا خوف تشنگی                جام  ولا  نبی ۖ  نے  پلا  یا  غد یر  میں

مصرعہ طرح :    خدا کی رحمتیںسمٹیںہیںساری ایک پیکر میں                      

کسی بھی مشک میںدیکھی ہے نہ ہم نے گل تر میں

مہک  دیکھی گئی  جو آپ  کے  عرق  معطّر میں

نبی کیسا تھ میں  گر  الفت  آل  نبی  نہ  ہو            

نہیںہے پھر طواف کعبہ ہے  بندر وہ  چکر میں            

رضی  اللہ  سبھی کو کہہ  رہا  ہے  ہوش  کر  مفتی         

رضا ء رب کہاںہے دیکھ لے ھجرت کے بستر میں        

لگائی خلق کی ضربت جو  مولاکفر کے  سر  پے         

کہاںہے کاٹ تلواروںمیں  ایسی اور  خنجر میں        

تقابل خاک  کا  کیا  ہو  بھلانور  مجسم  سے         

شباھت آپ کی دیکھی گئی  بس آپ کے گھر میں         

فضیلت خون کی آخر بیان  ہو  کس  طرح  واللہ        

ہیںخوشبوئوںکے جوہر  آپکے  عرق  معطر  میں       

قلم عا  جز ہے لکھنے سے  تیری عظمت تو کیا  لکھے        

ہوئے جب مردے زندہ آپ کے حیدر کی ٹھوکر میں        

شباہت کس قدر ہے خلق میںاور خُلق ومنط میں        

سمٹ  کر  آگیا  سرور  کا   ہر کردار اکبر میں        

پسینہ آگیا مرحب  کو  لرزا  خوف  میں  آکر       

علم گاڑا ہے حیدر نے جو بڑھ کے ایک پتھر  میں       

     بتائے  گا تجھے  خیبر کا  وہ در پوچھ اژدرسے        

نہ پوچھو زورکیاہے ہم سے تم انگشت حیدر میں        

یہ ستر پشتوںتک  کو دیکھ کر پھر وار کرتی ہے       

بلا  کا علم ہے   پنہاں  علی کی تیغ  ا طہر  میں         

علی کے علم کی معراج کیا ہے کون بتلائے          

 نبی ۖسے پایا ہے جو علم ہے موجود حیدر میں          

 جب علم عبد مرسل کو نہ کوئی  جان پایا ہے          

بھلا کیا علم ہو گا کون بتلائے  پیمبرۖ  میں          

ابوطالب  کی آغوش  مطہر کا  یہ  عالم  ہے        

خدا کی رحمتیںسمٹیںہیںساری ایک پیکر میں        

ابوطالب  کے بچے  تیر  کھا کے مسکراتے  ہیں        

تڑپ کے رویا ہے ایک پیر تھا جو خوف میں ڈر میں       

تبسم سے گلا بیعت کا کس نے  کا ٹ  ڈ الا  ہے

نہیں  ملتا کسی میں  فن ہے یہ  فیروز  ا  صغر میں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شاعر:  حجة الاسلام و المسلمین جناب محمد حسین بہشتی صاحب

مصرعہ طرح :  خدا کی رحمتیںسمٹیںہیںساری ایک پیکر میں  

 

خدا کی  رحمتیںسمٹی ہیں  ساری  ایک پیکر میں         یہ ساری  خوبیاں  ملتی ہیںہم کو نام حیدر میں

جو میداںمیںلڑا دشمن سے اپنی جاںفدا کر دی         ہزاروںخوبیاں  ہم  کو نظر آتی ہیں اکبر میں

علی   شیر خدا  ، خیبر  شکن ہے  شیر یزدانی           محمد ۖ ہی کی  ساری خوبیاں  ملتی ہے  حیدر میں

 وہ  سالار  شہیدان حیدر کرار  کا  بیٹا            کہ جسکے نام کا دن رات  ماتم ہیںہر ایک گھر میں

یہی  ایک  آرزو  ہے  دنیا میںبہشتی کا             میرا  نام بھی لکھ لے  اے مولا  اپنے دفتر میں

مصرعہ طرح :     آگئی فصل ربیع  تشریف  لائے  مصطفے ٰۖ   

آگئی فصل ربیع  تشریف  لائے  مصطفے ٰۖ                سب خدا کی رحمتوں کو ساتھ لائے مصطفے ٰۖ

رحمة  اللعالمین ہیں  سرور  کونین ہیں                  ہر کس و ناکس کی بگڑی کو بنائے مصطفے ٰۖ

رحمت حق ہیں محمدۖ  بزم  عالم  کے  لیے             نور کے جلوے ہر ایک جانب دکھائے مصطفے ۖ

ہے  محمد ۖہی کے دم سے یہ گلستان جہان                  رہتی  ہے جنت  ہمیشہ زیر پائے مصطفے ٰ ۖ

  حوض کوثر ، باغ رضواںہے محمد ۖکے لیے                 یہ  زمین و آسماںسب ہیںبرائے مصطفےٰ ۖ

تاقیامت ہے بہشتی لطف ہیغمبر ۖ  قرین                  دو جہاںمیں کون ہیں اپنا  سوائے مصطفےۖ

مصرعہ طرح :      بلّغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں

بلّغ  کا حکم  جیسے  ہی  آیا غدیر میں                 احمدۖ نے  جانشین  بنایا  غدیر میں

آواز  کر دگار  ہے  مانو علی کو سب                  تنہا  رہ  نجات ہے آ یا غدیر میں

جشن  و لا  منانا ہے  با ہم گلے  ملو                  عشق  علی   کا جام پلایا غدیر میں

تاریخ  انبیاء  پہ  نظرڈال کر تو دیکھ                  پورے  نظام عدل کو لایا غدیر میں

خوشیاںتیری عروج پہ پہنچیں نہ کس لیے              مئومن تیرا امیر ہے آیا   غدیر  میں

تکمیل دین کے واسطے شرط و شروط ہیں                مشروط  شرط  دیکھ دکھایا غدیر میں

دشمن حسد کی آگ میں اکثر جلا کرے                 حاسد کے بت کو خوب جلایا غدیر میں

نقشہ بدل گیا ہے  سب کفر و  نفاق کا                  جب  سے  علی کو مولا بنایا  غدیر میں

ہم سب کو مشکلوں سے چھڑانے کے واسطے               مشکل کشا ء  نبی ۖنے دکھایا  غدیر میں

ایوان کفر  خوف سے  لرزاں  ہنوز ہے               گلشن ولا کا جب سے بسایا غدیر  میں

 پرواز فکر  اور  بھشتی  کا  ہے  قلم                     منظر ولا کا دل میںسمایا   غدیر   میں        

 

 

شاعر: 

حجة الاسلام و المسلمین جناب سبط محمد رضوی صاحب

مصرعہ طرح :   بلّغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں  

 

خود  آکے آیتوںنے  بتایا غدیر میں              اللہ  کا بھی یہی تھا  منشاء غدیر میں

کیا  پوچھتے ہو  ہمکو ملا کیا  غدیر میں             ہم نے نبی ۖ سے پایا ہے مولاغدیر میں

بخٍ لک سے گونج رہی ہے فضائے  خم             دشمن بھی پڑھ رہا ہے قصیدہ غدیر میں

حیدر  کو کیا نبی ۖنے اٹھایا غدیر میں               قرآن  کا  سراپا  دکھایا  غدیر میں

روز  ازل کے  ساز  کو آواز مل گئی              چھیڑا  گیا  الست  کا  نغمہ غدیر میں

بخٍتو کہہ رہے تھے کچھ اصحاب مصطفی               چہرہ  مگر  تھا  دیکھنے  والا غدیر میں

آنکھیںتیری نہ پھر بھی کھلیںمنکر غدیر             حارث کا حشر دیکھ چکا تھا غدیر میں

اعلان اب علی  کی ولایت کا کیجیے                  پہونچا  نبی ۖ  کو  حکم خدا کا غدیر میں

جو  نور  کو ہ طور پہ دیکھے تھے ایک بار             پھر دیکھنے  کو آئے ہیںموسی غدیر میں

محفوظ اب بھی  سینئہ تاریخ میںہے یہ             مرسل نے جو  سنا یا  تھا خطبہ غدیر میں

اللہ  کی عظیم  عدالت  میںجو  ہوا               وہ  فیصلہ  نبی ۖ  نے  سنایا  غدیر میں

شدت کی دھوپ خنکی جنتّ بنی رہی               مولا  علی   کا  جن پہ تھا سایہ غدیر میں

اصحاب کو بھی روکا نبی ۖ خود بھی رک گئے             بلّغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا غدیر میں

یہ محفل غدیر ہے سبط ہے مدح خواں             یا ںپڑھ رہا ہوںمیں بھی قصیدہ غدیر میں

مصرعہ طرح :     جام کوثر کی طلب ہو تو پیجیے جام غدیر

ہے  قصیدہ میرے لب پر کرتا ہوںمدح علی          آج  میں  دست  نبی ۖ سے  لونگا انعام غدیر

ساری دنیا میںعلی  والے ہیںجب پھیلے ہوئے        کیوںنہ ہوسارے جہاںمیںعام پیغام غدیر

حکم ہے  اللہ کا پہنچانے والے ہیںرسول ۖ          کیوںنہ ہو ںواجب کی حد میںسارے احکام غدیر

اس میںملتے ہیںحسین  اس میں ملتا ہے یزید          ایک  انجام  سقیفہ  ،  ایک  انجام  غدیر

میںغدیری ہوںزبان پر کیوںنہ ہو نام غدیر          جام  کوثر  کی  طلب  ہو  تو پیجیے جام غدیر

اس کی اے سبط ضمانت لی ہے خود قرآن نے          اور  سب جھوٹے ہیںبس  سچا ہے اسلام غدیر

مصرعہ طرح :     آگئی فصل ربیع  تشریف  لائے  مصطفے ٰۖ   

آج کرنی  ہے  مجھے جی  بھر  ثنائے مصطفی             اے خدا ہو جائے کچھ مجھ کو عطائے مصطفی ۖ

ساری دنیا مل کے بھی جس کا نہ لا پائی جواب              ایسے دونا یا ب قرآن ساتھ لائے مصطفی ۖ

زندگی کا  درس  کچھ  ایسا دیا ہے آپ نے              ڈھونڈتی پھرتی ہے دنیا نقش پائے مصطفی ۖ

کر کے ان کا  ذکر ہم بھی با فضیلت ہو گئے              ہم  کو  کہتا ہے زمانہ اب گدائے .مصطفی ۖ

ان کی سیرت کے نمونے سن کے حیراںہے جہاں         کر رہا  ہے  ہر بشر  حمد و  ثنائے.مصطفی ۖ

بالا تر وہم گماںسے ہے تیری ذات ولاء                 کوئی  پاسکتا  نہیںجو ہے فضائے مصطفی ۖ

برزخ ومحشر کا مجھکو کچھ نہیںخوف و خطر                    سر پہ  سبط  کے نچھاور ہے قبائے مصطفی ۖ

وجد میںکیونکرنہ آئیںپھر زمین وآسماں                  مجھکو کرنا ہے دل و جاںسے ثنائے مصطفی ۖ

دھوم ہے صل علی کی اس لیے چاروںطرف                آگئی  فصل ربیع  تشریف  لائے مصطفی ۖ

اللھم صلی علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم واحشرنا معھم والعن اعدائھم من الجن و الانس من الاولین و الآخرین

 

   شاعر : حجة الاسلام والمسلمین جناب نیر عباس رضوی صاحب

مصرعہ طرح : بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں

 

حیدر  کو جب  نبی ۖنے  اٹھایا  غدیر میں               پھیلا  علی  کے  نور  کا جلوہ غدیر میں

جن کے دلوں میں بغض تھا عمراں کے لعل کا               ان  کا  جھلس کے رہ گیا چہرا غدیر میں

لفظ  غدیر  دین کا  عنوان  کیوں  نہ ہو                کامل  ہوا ہے  د ین  خدا  کا غدیر میں

عمدا ًنبی نے دھوپ میں روکا تھا اس لیے                  تاکہ کہے  نہ  کوئی  ہوا کیا غدیر میں

دعوت میں ذوالعشیرہ کی وعدہ کیا تھا جو                 کس  شان سے نبی نے نبھایا  غدیر میں

رب نے نبی ۖسے کہدیا خطرہ نہیں کوئی                   جبریل   ہیں کیے  ہوئے سایہ غدیر میں

عشق  علی کا  آگیا  ہر  ایک  کو نشہ                   ساغر  ولا کا  اس طرح  چھلکا غدیر میں

اے  شیخ یہ بھی حکم  خدا ہے طواف کر                    شکل  علی میں  بن  گیا کعبہ غدیر میں

دین  نبی  سے  بر  سر منبر  علی علی                       تاریخ  کا  ہے  پہلا  تبرا  غدیر  میں

بغض علی تھا جن کے دلوں میں وہ مرمٹے                  بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا  غدیر میں

کوثر کا جام صرف اسی کو ملے نہ کیوں                     جس نے  ولا کا  جام  پیا  تھا  غدیر میں

عشق علی میں ہوگئے کچھ لوگ تو جواں                     کچھ  کو علی نے کردیا  بوڑھا  غدیر میں

قدموں میں ہیں علی کے بصد ناز انبیاء                      رتبہ  علی  کو  مل گیا  ایسا  غدیر میں

نیر  میرے  علی کے برابر نہیں کوئی                          اتنا  علی   کا  قدہوا  اونچا  غدیر میں

 

 

    شاعر: حجة الاسلام والمسلمین جناب سبط حیدر زیدی صاحب

 طرحی مصرعہ: بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں 

     

  (مسدس)

  بلغ کا حکم جیسے  ہی آیا غدیر میں                  سارے ہی حاجیوں کو بلایا غدیر میں

پھر اک طویل خطبہ سنایا غدیر میں                حکم  الہی  سب  کو  بتایا  غدیر میں

                     ذکر  ولا نہ  ہو تو ہدایت ہے نا تمام

                    اس کے بغیر میری رسالت ہے نا تمام

پھر اس طرح علی کو اٹھایا  غدیر میں                 ہاتھوں پہ لے کے سب کو دکھایاغدیر میں

یوں دشمنوں کو خوب رلایا غدیر میں                 اور  دوستوں کو کھل کے  ہنسایا  غدیر میں

                      دین مبیں کی اصل ولایت ہے  حاجیو

                     اب تم پہ فرض اس کی اطاعت ہے حاجیو

یہ کہہ کے ختم کردیا  خطبہ غدیر میں                 سب کے ہیں اب علی ولی مولا غدیر میں

خوشیوں کا ہے مقام سراپا غدیر میں                 جبریل لے کے آگئے  مژدہ  غدیر میں

                       راضی ہے رب کہ حکم کی تعمیل ہوگئی

                       اب اس خوشی پہ دین کی تکمیل ہوگئی

خوش ہیں رسول جانشیں پایا غدیر میں               جبریل خوش کہ مل گئے مولا غدیر میں

ہے مؤمنوں کے دل کی تمنا غدیر میں                مسرور ہیں علی ہوئے آقا غدیر میں

                       ان کی ولا سے سب کو بقا ہے ملی ہوئی

                      اھل ولا خوش تو ہیں باچھیں کھلی ہوئی

بخ  لک علی،  کا  تھا  نعرہ  غدیر میں              اپنے پرائے سب نے کہا تھا غدیر میں

سب مؤمنوں کے ہوگئے مولا غدیر میں             نام  علی کا  پڑھ  لیا  کلمہ  غدیر میں

                            مؤمن منافق اچھا برا بے قرار تھا

                            رعب و جلال کبریا یوں آشکار تھا

لیکن پھر اک نصیب کا مارا غدیر میں                 اٹھا  بڑھا  تو یوں وہ  پکارا غدیر میں

مجھ  کو علی نہیں ہیں گوارا غدیر میں                  برسادے مجھ پہ سنگ خدارا غدیر میں

                         اتنا  کہا کہ  سنگ  گرا آسمان سے

                        بغض علی میں مٹ گیا حارث جہان سے

بغض علی کا  د یکھا  نتیجہ غدیر میں                   حب علی کا  جب کہ ہے پہراغدیر میں

حق کو ملا ہے تاج ولاء کا غدیر میں                   باطل  کا  ہوگیا  ہے  صفایا  غدیر میں

                       بخشش ولا کے ساتھ ہے اعلان ہو گیا

                          سبط   تیری  نجات کا سامان ہوگیا

مصرعہ طرح :    جام کوثر کی طلب ہو پیجیے جام غدیر

محفل  جشن ولا  ہے  گام بر گام غدیر                اب  وظیفہ ہے  ہمارا  نشر پیغام غدیر

ہے ولایت دین کی تکمیل انعام غدیر                  مرضی معبود ہے  او ر  اصل اسلام غدیر

یک بیک فق ہوگیا چہرا جناب شیخ کا                  میرے ہونٹوں پر ابھی آیاہی تھا نام غدیر

آرزو  جنت کی ہو  تو کربلا میں آئیے                جام  کوثر کی طلب  ہو  پیجیے  جام غدیر

دوستوں کے حق میں شیریں دشمنوں پر تلخ ہے          ساری  دنیا کو  بتادو  ہے  یہی طعم  غدیر

حارث نعمان فہری یوں بلائوں میں گھر ا               تھا  بڑا  عابد مگر  اعمال  تھے  خام  غدیر

کہہ دیا بخ لک حالات کے پیش نظر                 شیخ جی کے چل رہی  تھی دل پہ صمصام غدیر

جو بھی منکر ہو ولا کا سنگ باری اس پہ ہو               تا  ابد  باقی  رہے  گا  اب یہ  پیغام غدیر

سبطہے عشق علی میں ہر  گھڑی  محو ثنا               صبح ہے  صبح غدیر  و  شام ہے  شام غدیر

مصرعہ طرح :    خدا کی رحمتیں سمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں

شروع  کرتا ہوں اپنی گفتگو نعت پیمبر ۖمیں              ذخیرہ ہے یہی بس اک مرا  دنیا میں محشر میں

قلم نے غوطہ زن ہوکر لکھا یوں حوض کوثر میں           کہ ہے ہر شعر پر اک بیت جنت مدح حیدر میں

خدا کے سارے ہی اوصاف کے مظہر ہیں پیغمبر           خدا کی  رحمتیں سمٹی ہیں ساری  ایک پیکر میں

وہی  مرجع ، وہی منبع ، وہی مبداء ، وہی ماوی               وہی دنیا میں عقبی میں وہی جنت میں کوثر میں

وہی  عابد،  وہی زاہد،  وہی اصلح، وہی اشجع                وہی ہے امن کا پیکر وہی حاکم ہے خیبر میں

وہی قانع ، وہی صانع ،وہی سامع ، وہی شارع           وہی ہے حامل قرآن ہے داور بیت داور میں

وہی  اعلی ، وہی  اتقی، وہی  طہ ، وہی  ارفع              وہی  نور مجسم ہے  وہی ہے  نوری پیکر میں

وہی ظاہر ، وہی باطن ، وہی طاہر ، وہی اطہر               مزمل ہے  مدثر ہے  وہی تطہیری  چادر میں

گلوں کی طرح چن چن کر بنایا سبط نے سہرا             گلستاں ہوگیا ہے یوں لکھے  ا شعار دفتر میں 

طرحی مصرعہ:           آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفی

میں نے لکھا ہے قصیدہ یوں برائے مصطفی  ۖ              جامعة المصطفی میں  ہے  ثنائے مصطفیۖ

چاند سورج عکس روئے پر ضیائے مصطفی  ۖ                لیلة المعراج ہے  زلف رسائے مصطفیۖ

منزل قوسین او   ادنی ہے جائے  مصطفی   ۖ             سرمہء چشم ملک ہے خاک پائے مصطفیۖ

خانہ ء دل میں ہے میرے بسکہ جائے مصطفی   ۖ          سانس لیتا ہوں تو آتی ہے صدائے مصطفیۖ

لہلہا  اٹھا  یہ  عالم  اور  منور  ہو  گیا                آگئی  فصل  ربیع  تشریف لائے مصطفیۖ

خار پہلو میں ہیں پر کچھ گل کا کرسکتے نہیں              یہ بندھی ہے سارے عالم میں ہوائے مصطفیۖ

آکے  یاں سائل  کوئی محروم ہوسکتا نہیں               بند  ہوتا ہی  نہیں دست سخائے  مصطفیۖ

کچھ مجھے  دنیا  و ما فیھا سے آگاہی نہیں                 بے  خبر عالم سے رکھتی ہے ولائے مصطفیۖ

مل گئی ہے بادشاہت سارے عالم کی اسے               ہوگیا  ہے دل سے جو سبط گدائے مصطفیۖ

(مذکورہ طرحی مصرعہ پر فارسی زبان میں قصیدہ)

می نویسم یک قصیدہ در ثنأمصطفی                       دادہ  این توفیق عظمی را خدأ مصطفی

گر دھد توفیق دیدار مدینہ کردگار                        طوطیأ چشم سازم خاک پأ مصطفی

 رحمةللعالمین است سرور کون و مکان                     چونکہ جبریل امین باشد گدأ مصطفی

جان عالم کے نماید در رھش خود را فدا                      تاکہ حیدر می کند جان را فدأ مصطفی

خلقت افلاک را پروردگار ذوالمنن                      کرد  تقدیم  نگار  دلربأ  مصطفی

چون وجود نازنین وجہ بنأ عالمین                        بر ھمہ عالم  بود لازم  ولأ مصطفی

معنی  ختم نبوت نطقہ اوج کمال                          انتہأ انبیاء است ابتدأ مصطفی

فھم انسانی چہ داند رفعت والأ او                      ھمچوواجب نیست ممکن ماسوأ مصطفی

بود گر بالا تر از عرش بریں جأ دگر                      معتقد بودم کہ آنجا ھست جأ مصطفی

سبط  چہ گوید ثنأ رحمة للعالمین                         حال  آنکہ خود  خدا گویدثنأ مصطفی

 بزم رأفت

رؤف مولا نے اپنے قدموں میں کیا سجائی ہے بزم رأفت 

دیا ہے شعر و ادب  کا خود  ذوق ، پھر بنائی ہے بزم رأفت

رؤف مولا کی بارگاہ میں ، یوں دل کو بھائی ہے بزم رأفت         

کہ باغ جنت کی سر زمیں پہ، سنور کے آئی ہے بزم رأفت         

جہاں خدا کے فرشتے آکر ، سلام کرتے ہیں رات اور دن

وہیں پہ عرض ادب کی خاطر ، ابھر کے آئی ہے بزم رأفت

عقیدتوں کے خراج دے کر ، یہ اپنے پہلے ہی مرحلے میں        

جناب  زہرا   کی بارگاہ  میں ، تو مسکرائی ہے بزم رأفت        

ستارے آپس میں کہہ رہے ہیں ، اے عرشیو فرش کو تو دیکھو

زمین رأفت پہ رشک انجم ، وہ بن کے چھائی ہے بزم رأفت

سماعتوں کا سکون بن کر، دلوں میں گھر کرلیے ہیں اس نے         

نگاہیں مبہوت  رہ گئی  ہیں  ،  جو جگمگائی  ہے بزم رأفت         

یہ تبصرے ہورہے ہیں حوزے میں تھی ضرورت نہایت اس کی

فضائے راکد  کی قید و بند  سے  ،  بنی رہائی ہے بزم رأفت

مبلغین کرام مذہب  ،  ادیب  ہونگے تو  لطف  ہوگا        

ہنر ادب کا سکھانے کو اب ۔ عجب رسائی ہے بزم رأفت        

شکوفہ ہوںگے جو غنچہ سارے ، تو اک نیا ہی سماں بندھے گا

جو خوشبو پھیلائے شش جہت وہ ، بہار لائی ہے بزم رأفت

حسن عسکری ہوں کہ تحریر نقوی ، ہوں سبط رضوی کہ فیروز نقوی         

سبھی نے  گوندھا  خمیر اس کا  سبھی کو  بھائی  ہے بزم رأفت        

رضوی نیر  ہوں  یا  بہشتی ،  یا کہ  الفت حسین جویا

انہی کی بھر پور کا وشوں نے ، عجب سجائی ہے بزم رأفت

سجا ہے  سبط کے  سر پہ سہرا ، اس انجمن کی مدیریت کا             

اسی کی محنت کا یہ صلہ ہے ، کہ رنگ لائی ہے بزم رأفت             

٭٭٭٭٭٭


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 2 (نشريه بزم رأفت)
[ چهارشنبه ششم مرداد 1389 ] [ 13:1 ] [ انجمن ] [ ]

باسمہ تعالی

زیر سرپرستی حضرت  بقیۃ اللہ صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف

پیام رأفت

علمی فرہنگی ادبی مجلہ

بزم رأفت

انجمن شعر و ادب اردو زبان مشہد مقدس

کا عظیم شاہکار   اور  خصوصی شمارہ

سال : اول              شمارہ : اول

مجلس ادارت:

الفت حسین جویا

تحریر علی نقوی

حسن عسکری نقوی

سبط حیدر زیدی

سبط محمد رضوی

مدیر :       سبط حیدر زیدی

کمپوزنگ :     ادارہ

ڈزائننگ و طرح جلد :  حیدری زائر

Web: www.urdu.blogfa.com 

دفتر : حسینیہ حضرت امام جعفر صادق (ع) مشہد مقدس،خیابان طبرسی،   کوچہ حاج تقی بعد از چہار راہ دوم  پلاک 17 170-Tel: 0098-511-3683790-

مدیر : E-mail:alhaq110@yahoo.co.in ,Tel: 0098-511-2563085 , Mob :  09359750753


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 1 (نشريه بزم رأفت)
[ سه شنبه بیست و هشتم اردیبهشت 1389 ] [ 12:15 ] [ انجمن ] [ ]

بسم اللہ الرحمن الرحیم

  اداریہ

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا   نم  ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز  ہے ساقی

                خداوند سبحان نے انسان کو اپنی پاک و پاکیزہ فطرت پر پیدا فرمایا ہے "فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا " فطرت کی یہ پاکیزگی حقائق کے ساتھ مانوس ہے لھذا سلیم الفطرت انسان ہمیشہ تشنہء حقائق رہتا ہے اور زندگی کی خدا داد نعمت سے اس تشنگی کو سیراب کرنے کے راستے میں حتی الامکان استفادہ کرتا ہے۔

              خالق ہستی کے وضع کردہ عالمگیر اصول کے مطابق " وان لیس للانسان الا ما سعی"  اپنی اس مقدس کاوش کے شیرین ثمرات سے بے بہرہ نہیں رہتا اور جویندہ یابندہ کی جہانگیر سچائی کے مطابق معارف الھیہ سے مطلع ہوتا رہتا ہے۔

              ارسال رسل اور انزال کتب کے فلسفے سے روشناس ہوجاتاہے اور معرفت حقیقی کی یہ شعائیں اس کو معبود حقیقی اور نور ازلی کی با ہدف اطاعت و عبادت کی سمت لے چلتی ہیں جہاں نہ فقط یہ کہ وہ اطمینان قلب کی عظیم ترین نعمت سے بہرہ مند ہوتا ہے " الا بذکراللہ تطمئن القلوب"  بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ہدف خلقت " وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون"  پر بھی پورا اترتا نظر آتا ہے۔

               انسانی فطرت ہر اس پاک وسیلے کی تلاش اور جستجو میں رہتی ہے جو اسے فاطر السماوات و الارضین کی جانب رہنمائی کرے۔ یہی وجہ ہے کہ حبیب خدا ختمی مرتبت حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم اور ان کی آل اطہر سلام اللہ علیہم کی متین رفتار اور دلنشین گفتار میں حقیقت کے متلاشی افراد کے لیے اس قدر جاذبہ و کشش نمایاں ہے کہ لوگ ان مقدس اور مبلغ ہستیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی جانوں تک کے نذرانے نچھاور کرنے پر افتخار کرتے ہیں۔

              اس انسانی فطرت کا ایک عمدہ جوہر تعقل و تفکر ہے اگر معارف حقہ کو حسن بیان کی شکل میں عیاں کیا جائے تو انسان کا یہ عقلی و فکری فطری جوہر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شایان شان استقبال کرتے ہوئے ان حقائق کے شرف قبولیت سے مشرف ہوتا ہے یہ حسن بیان کوئی عام سا مقولہ نہیں ہے بلکہ ایک بہترین علم کی صورت میں عظیم نعمت ہے جو خود خالق انسان نے انسان کو مرحمت فرمائی ہے " الرحمن علم القرآن خلق الانسان علمہ البیان"  آیت کریمہ میں مختصر غور و خوض سے یہ لطیف نکتہ بھی قابل فہم ہے کہ بیان کی یہ عظیم ترین نعمت خداوند سبحان کی رحمت رحمانیہ کے چشمے سے انسان تک پہنچتی ہے ۔

انسان اپنے مافی الضمیر کو شائستہ اور مؤثر انداز میں دو طرح سے بیان کرسکتا ہے :

1۔ نثر کی شکل میں

2۔ نظم و شعر کی صورت میں

              مخصوص قواعد و ضوابط کی رعایت کرتے ہوئے فصیح و بلیغ الفاظ ، اشارات ، کنایات ، تشبیھات، استعارات، تلویحات ۔ ۔ ۔ کی تزئین کے ساتھ اپنے مدعا کو مزین ترین کلمات کے پیرائے میں بیان کرنا کسی بھی زبان کا "ادب" کہلاتاہے اور بہر حال نفوس انسانی میں انتہائی تاثیر رکھتا ہے ۔ بلاشبہہ قرآن مجید کے اعجاز ، جاودانی اور اثر آفرینی کا ایک اھم سبب اس کی فصاحت و بلاغت ہے اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سلم اور دیگر معصومین علیھم السلام کے نورانی کلام کی سحر انگیز اور انقلاب خیز تاثیر میں فصاحت و بلاغت کا کافی دخل ہے ۔

              تبلیغ معارف میں شعر یا نثر جس کو بھی ذریعہ بنایا جائے، بجا ہے لیکن شعر کی صورت میں جو مطلب ادا کیا جائے وہ نسبتا بہتر انداز میں سامعین و مخاطبین کے دل و دماغ پر اپنا اثر چھوڑتاہے۔

              قریب کے گذرے ہوئے زمانے میں قلم ، بوعلی و فارابی کی حکمت کے انتقال کا وسیلہ ، شیخ اشراق، ابن عربی اور امام خمینی کے چشمہ ھائے اشراق کے افاضات کا ذریعہ، سید مرتضی ، سید رضی ، شیخ طوسی اور شیخ انصاری جیسے عظیم الشان فقھاء کا چراغ دانش اور حافظ، سعدی، مولانا رومی، میر ببرعلی انیس، مرزا دبیر ، اقبال  اور جوش ملیح آبادی جیسے گرانقدر شعراء کا آئینہ بینش رہا بلکہ ہر دور میں اہل بیت عصمت و طہارت علیھم السلام کے فضائل ، معارف اور مصائب کو شعراء و ادباء نے اپنے شعر و ادب کے ذریعہ لوگوں تک پہنچایاہے ۔ آج بھی وہ مقدس وسیلہ اپنی افادیت اور اہمیت رکھتاہے ۔ آئمہ اطہار علیہم السلام کی شان میں شعر کہنے والوں کی بہت تعریف و تمجید اور حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور اس کا بہت ثواب بیان ہوا ہے ۔

·                     حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :  "من قال فینا بیتا من الشعر بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ"  یعنی جو شخص ہمارے بارے میں ایک بیت(شعر) کہے خداوندمتعال اس کے عوض میں اس کے لیے جنت میں ایک بیت (گھر) تعمیر فرماتاہے ۔

·           حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:  "ما قال فینا مؤمن یمدحنابہ الا بنی اللہ تعالی لہ مدینۃ فی الجنۃ اوسع من الدنیا سبع مرات یزورہ فیھا کل ملک و نبی مرسل"  یعنی مؤمن جب ایک شعر کے ذریعہ ہماری مدح کرتا ہے تو خداوندمتعال  اس کے لیے جنت میں ایسا شہر تعمیر فرمادیتا ہے جو دنیا بھر سے سات گنا بڑا ہے اور اس شھر میں تمام فرشتے اور نبی مرسل اس شاعر سے ملاقات کریں گے ۔

            مکتب اہلبیت علیھم السلام کے مدافع ، مروّج اور مبلغ علماء کرام نے ہر دور میں جہاں مذہب اہلبیت علیھم السلام کے دفاع ، تبلیغ و ترویج میں دلیل، منطق اور برہان سے بھر پور کتب لکھی ہیں وہاں شعر کی مختلف اصناف کے ذریعہ بھی اس مکتب کی مؤثر نشر و اشاعت کا کام انجام دیا ہے ۔ اردو زبان میں علماء و غیر علماء نے اھلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کے فضائل ، معارف اور مصائب کے بیان میں شعر کی ہر صنف میں بہت کچھ لکھا ہے ۔ بالخصوص دور حاضر میں رثائی اور ثنائی شاعری کے حوالے سے جس قدر اردو زبان میں کام ہورہا ہے شاید ہی کسی اور زبان میں اس قدر کام ہو رہا ہو۔

              رہبر معظم انقلاب اسلامی دام ظلہ الوارف کی طرف سے سال نوآوری و شکوفائی اور اقوام متحدہ کی جانب سے مادری زبانوں کا سال قرار دیئے جانے والے موجودہ سال میں " شعر و ادب کی اہمیت، افادیت اور سحر آفرین تاثیر کے پیش نظر یہ انجمن تشکیل دی گئی ہے تاکہ  انشاء اللہ حوزہ علمیہ مشہد مقدس میں موجود اردو زبان طلباء کے شعری ، ادبی ذوق کو پروان چڑھایا جائے اور اس طرح اس اہم اور منفرد ذریعہء تبلیغ سے کما حقہ استفادہ کیا جا سکے ۔

والسلام علی من اتبع الھدی

(بزم رأفت)


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 1 (نشريه بزم رأفت)
[ سه شنبه بیست و هشتم اردیبهشت 1389 ] [ 12:8 ] [ انجمن ] [ ]

اقبال، مشرق کا بلند ستارہ

و لی امرمسلمین حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ اي حفظہ اللہ کی نگاہ میں
{کہنے کو تو یہ ایک تقریر ہے لیکن علامہ اقبال کی شخصیت ،افکار،احساسات،زندگی غرض یہ کہ اس ایک تقریر میں آپ سے متعلق وہ سب کچھ ہے کہ جس سے علامہ اقبال کا مشرق کا بلند ستارہ ہونا ثابت ہے۔ انہوں نے علامہ اقبال بین الا قوامی کانفرنس بتاریخ ١٩٨٦ء کو تہران یونیورسٹی میں خطاب فرمایا}

بسم اللہ الرحمن الرحیم

میں خلوص دل سے عرض کررہا ہوں کہ آج حضرت اقبال کی عظمت میں جلسہ منعقد کیا جارہا ہے تو یا میری زندگی کے پر جوش اورانتہائی یادگار دنوں میں سے ہے۔وہ درخشاں ستارہ جس کی یاد ،جس کا شعر ،جس کی نصیحت اور سبق گٹھن کے تاریک ترین ایام میں ایک روشن مستقبل کو ہماری نگاہوں کے سامنے مجسم کررہا تھا،آج خوش قسمتی سے ایک مشعل فروزاں کی طرح ہماری قوم کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کیے ہوئے ہے۔

ہماری عوام جو دنیا میں اقبال کے پہلے مخاطب تھے،افسوس کہ وہ کافی بعد میں اس سے آگاہ ہوئے ،ہمارے ملک کی خاص صورت حال ،خصوصاً اقبال کی زندگی کے آخری ایام میں ان کے محبوب ملک ایران میں منحوس استعماری سیاست کا غلبہ اس امر کا باعث بنا کہ وہ کبھی ایران نہ آئے۔

فارسی کے اس عظیم شاعر جس نے اپنے زیادہ تر اشعار اپنی مادری زبان میں نہیں بلکہ فارسی میں کہے ،کبھی اپنی پسندیدہ اور مطلوب فضا، ایران میں قدم نہیں رکھا ،اور نہ صرف یہ کہ وہ ایران نہ آئے بلکہ سیاست نے،جس کے خلاف اقبال عرصہ درازتک برسرِ پیکار رہے ،اس بات کی اجازت نہ دی کہ اقبال کے نظریات و افکار کا بتایا ہوا راستہ اور درس ایرانی عوام کے کانوں تک پہنچے جسے سننے کیلئے وہ سب سے زیادہ بے تاب تھے۔اس سوال کا جواب کہ کیوں اقبال ایران نہیں آئے ،میرے پاس ہے۔

جب اقبال کی عزت و شہرت عروج پر تھی اور جب بر صغیر کے گوشہ و کنار میں اور دنیا کی مشہور یونیورسٹیوں میں انہیں ایک عظیم مفکر،فلسفی ،دانشور ،انسان شناس اور ماہر عمرانیات کے طور پر یاد کیاجاتا تھا،ہمارے ملک میں ایک ایسی سیاست  نافذ تھی  کہ ایران آنے کی دعوت نہ دی گئی اور ان کے ایران آنے کے امکانات فراہم نہ کئے گئے۔سالہا سال تک ان کی کتابیں ایران میں شائع نہ ہوئیں ۔حالانکہ یہ وہ زمانہ تھا جب اس ملک میں ایرانی اور مسلمان کے تشخص کو نابود کرنے کیلئے غیر ملکی ادب و ثقافت کا تباہ کن سیلاب رواں تھا۔اقبال کا کوئی شعر اور کوئی تصنیف مجالس و محافل میں عوام کے سامنے نہ لائی  گئی۔

آج اقبال کی آرزو   یعنی اسلامی جمہوریت نے ہمارے ملک میں جامہ عمل پہن لیا ہے ۔اقبال لوگوں کی انسانی اور اسلامی شخصیت کے فقدان سے غمگین رہتے تھے اور اسلامی معاشروں کی معنوی ذلت اور ناامیدی کو سب سے بڑے خطرے کی نگاہ سے دیکھتےتھے ،لہذا انہوں نے اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ مشرقی انسان اورخصوصاً مسلمان کی ذات اوروجود کیلیے کام کیا۔

فارسی زبان جس نے اپنے اقبال کے ذہن کے ساتھ زندگی گذاری ہے ،بات کروں تاکہ اس عظیم اجتماع میں  اپنے اوپر ان کے عظیم احسان اور اپنے عزیز لوگوں کے ذہن پر ان کے اثرا ت کے عظیم حق کو کسی حد تک ادا کرسکیں ۔

اقبال تاریخ اسلام کے نمایاں ،عمیق اوراعلی شخصیتوں میں سے ہیں کہ ان کی خصوصیات اور زندگی کے صرف ایک پہلو کو مد نظر رکھا جاسکتا اور ان کے صرف اس پہلو اور اس خصوصیت کے لحاظ سے تعریف نہیں جاسکتی ۔اگر ہم صرف اسی پر اکتفا کریں اور کہیں کہ اقبال ایک فلسفی ہیں اور ایک  عالم  ہیں تو ہم نے حق ادا  نہیں کیا  ۔اقبال بلاشک ایک  عظیم شاعر  ہیں اور ان کا بڑے شعراء میں شمار ہوتا ہے ۔اقبال کے اردو کلام کے بارے میں  اردو زبان و ادب کے ماہرین کہتے ہیں کہ بہترین ہے،شاید یہ تعریف، اقبال کی بڑی تعریف نہ ہو کیونکہ اردو زبان کی ثقافت اور نظم کا سابقہ زیادہ نہيں ہے ليکن اس بات ميں کوئي شک نہيں کہ اقبال کے اردو کلام نے بيسويں صدي کے ابتدائي برسوں ميں بر صغير کے افراد پر(خواہ ہندو ہوں یا مسلمان )گہرا اثر ڈالا ہے اور ان کو اس جد وجہد ميں اس وقت تدريجي طور پر بڑھ رہي تھي ،زيادہ سے زيادہ جوش دلايا ہے۔خود اقبال بھي مثنوي اسرار خودي ميں کہتے ہيں :

باغبان زور کلامم آزمود                                                      مصرعي کاريد و شمشير ي درود

اور ميرا استنباط يہ ہے کہ وہ يہاں پر اپنے اردو کلام کے بارے ميں کہتے ہيں جو اس وقت بر صغير کے تمام لوگوں کے لئے جانا پہچانا تھا۔

اقبال کا فارسي کلام بھي ميرے نزديک شعري معجزات ميں سے ہے ۔ہمارے ادب کي تاریخ ميں فارسي ميں شعر کہنے والے غير ايراني بہت زيادہ ہيں ليکن کسي کي بھي نشان دہي نہيں کی جاسکتي جو فارسي ميں شعر کہنے ميں اقبال کي خصو صيات کا حامل ہو۔

اقبال فارسي بات چيت اور محاورے سے ناواقف تھے اور اپنے گھر ميں اور اپنے دوستوں سے اردو يا انگريزي ميں بات کرتے تھے ۔اقبال کو فارسي مضمون نگاري اور فارسي نثر سے واقفيت نہيں تھي اور اقبال کي فارسي نثر وہي تعبيرات ہيں جو انہوں نے ،اسرا رخودي ،اور رموز بے خودي کي ابتدائ ميں تحرير کي ہيں اور آپ ديکھتے ہيں کہ ان کا سمجھنا فارسي زبان والوں کے لئے مشکل ہے۔

اقبال نے ايام طفلي اور جواني ميں کسي بھي مدرسے ميں فارسي نہيں پڑھي تھي اور اپنے والد کے گھر ميں اردو بولتے تھے لہذا انہوں نے فارسي کا انتخاب صرف اس لئے کيا کہ وہ محسوس کرتے تھے کہ ان کے افکار اور مضامين اردو کے سانچے ميں نہيں سما تے تھے اور اس طرح انہوں نے فارسي سے انسيت حاصل کي۔

انہوں نے سعدي اور حافظ کے ديوان اور مثنوي مولانا اور سبک ہندي کے شعرا ئ مثلاً عرفي،نظيري اور غالب دہلوي نيز ديگر شعرائ کے کلام کو پڑھ کر فارسي سيکھي۔اگر چہ وہ فارسي ماحول ميں نہيں رہے او ر انہوں نے فارسي کي پرورش گاہ ميں کبھي زندگي نہيں گزاري تھي ليکن انہوں نے لطيف ترين ،دقيق ترين اور ناياب ترين ذہيني مضامين کو اپني طويل (بعض نہايت اعليٰ)نظموں کے سانچے ميں ڈھال کر پيش کيا اور يہ چيز ميري رائے ميں اعليٰ شعري استعداد اور صلاحيت ہے۔اگر آپ ان لوگوں کے اشعار کو ديکھيں جو ايراني نہيں تھے ليکن انہوں نے فارسي کلام کہا تھااور ان کا اقبال سے موازنہ کريں تو آپ سامنے اقبال کي عظمت واضح تر ہوجائیگي۔

اقبال کے بعض مضامين جن کو انہوں ايک شعر ميں بيان کرديا ايسے ہيں کہ اگر انسان چاہے کہ نثر ميں بيان کرے تو نہيں کر سکتا اور ہميں ايک مدت تک زحمت اٹھاني پڑے گي کہ ايک شعر کو جس کو انہوں نے آساني کے ساتھ بيان کرديا ہے ،فارسي نثرميں جو ہماري اپني زبان بھي ہے ،بيان کريں۔

ميں جناب ڈاکٹر مجبتوي کا ان اشعار کیلئے جو انہوں نے پڑھے ہيں ممنون ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ آپ اقبال کے کلام کو زندہ کيجئے کيونکہ اقبال کو متعارف کرانے کا بہترين ذريعہ ان کا کلام ہے اور اقبال کو کو ئي بھي بيان متعارف نہيں کراسکتا۔

اقبال مانند آفتاب شاعر ہيں اور ان کے بعض فارسي اشعار اپنے عروج ر پہنچے ہوئے ہيں ۔اقبال نے مختلف طرزوں مثلاً ہندي طرز،عراقي طرز اور حتي کہ خراساني طرز ميں بھي شعر کہے ہيں اور نہ صرف يہ کہ صرف شعر کہے بلکہ اچھے شعر کہے ہيں انہوں نے مختلف شعري قالبوں یعني مثنوي،غزل،قطعہ،دوبيتي اور رباعي کا استعمال کيا ہے۔اور جيسا کہ ميں نے عرض کيا کہ قابل تعريف اشعار ہيں اور اعليٰ مضامين کو باندھا ہے ۔بعض اوقات تو ان کا کلام ساتويں آسمان پر پہنچا ہوا ہے اور نماياں حيثيت رکھتا ہے جب کہ اس شخص کو مروجہ فارسي بولنے کي مشق نہيں ہے اور فارسي گھرانے ميں پيدا نہيں ہوا اور فارسي کے مرکز ميں بھي زندگي نہيں گزاري ۔يہ استعداد ہے لہذا اقبال کي ايک صرف ايک شاعر کي حيثيت سے تعريف ان کے حق ميں کوتاہي ہے۔

اقبال ايک عظيم مصلح اور حريت پسند شخص ہيں اگرچہ حريت پسندي اور سماجي اصلاح ميں اقبال کا رتبہ بہت زيادہ اہم ہے ليکن اقبال کو صرف سماجي مصلح نہيں کہا جا سکتا کيونکہ اسي بر صغير ميں اقبال کے ہم عصروں ميں کچھ ہندو اور مسلمان لوگ ہندوستان کے سماجي مصلح مانے جاتے ہيں جن ميں سے اکثر کو ہم پہچانتے ہيں اور ان کي تصنيفات موجود ہيں اور ان کي جدوجہد واضح ہے ۔

خود مسلمانوں ميں مولانا ابوالکلام آزاد،مولانا محمدعلي ،مولانا شوکت علي،مرحوم قائد اعظم (محمد علي جناح)جيسي نماياں شخصيتيں موجود تھيں جن کي زندگي کے ايام بھي اقبال کي حيات کے مانند تھے۔اور وہ لوگ ايک ہي نسل سے اور ايک ہي عہد سے تعلق رکھتے تھے اورحریت پسندوں و مجاہدوں ميں شامل تھے ليکن اقبال ان سب سے بڑے اور اعلي مقام ہيں ،اقبال کے کام کي عظمت کا ان ميں سے کسي سے بھي موازنہ نہيں کيا جاسکتا ۔يعني زيادہ سے زيادہ اہميت اور قدر جو مولانا ابوالکلام کے لئے قائل ہيں جو ايک نماياشخصيت رکھتے ہيں اور حقيقتاً ان کي اہميت کو کم نہيں سمجھنا چاہئے ،يا مولانا محمد علي يا مولانا شوکت علي کے سلسلے ميں ہم جس اہميت کے قائل ہيں ،يہ ہے کہ يہ لوگ انتھک مسلمان مجاہد تھے جنہوں نے اپنے ملک سے برطانيہ کو نکالنے کیلئے سال ہا سال کوشش کي اور اس سلسلے ميں بہت زيادہ جدوجہد کي۔ليکن اقبال کا مسئلہ صرف ہندوستان کا مسئلہ نہيں ہے بلکہ اسلامي دنيا اور مشرق کا مسئلہ ہے ۔وہ اپني مثنوي (پس چہ بايد کرد اے اقوام شرق )اس بات کي نشان دہي کرتے ہيں کہ اقبال کي تيز نگاہيں کس طرح اس دنيا کي طرف متوجہ ہيں جو ظلم و ستم کا شکار ہے اور ان کي توجہ اسلامي دنيا کے تمام شعبوں کي جانب ہے۔اقبال کیلئے مسئلہ صرف مسئلہ ہند نہيں ہے لہذا اگر اقبال کوايک اجتماعي مصلح بھي پکاريں تو حقيقت ميں ہم اقبال کي پوري شخصيت کو بيان نہيں کرتے اور مجھے وہ لفط اور عبارت نہيں ملتي جس سے ہم اقبال کي تعريف کر سکيں۔

لہذا آپ ديکھئے کہ يہ شخصيت ،يہ عظمت اور اس عظيم انسان کي ذات اور اس کے ذہن ميں معاني کي گہرائي کہاں اور ہمارے لوگوں کي ان کے متعلق واقفيت کہاں اور حق تو يہ ہے کہ ہم اقبال کي شناخت کے مسئلے سے دور ہيں ۔

بہرحال يہ سيمينار بہرترين کاموں ميں سے ہے جو انجام پائے ليکن اس پر بھي اکتفا نہيں کرنا چاہئے اور ميں ثقافت و تعليمات کے محترم وزير اور يونيورسٹي سے منسلک بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ملک ميں اقبال کے نام پر فاونڈيشن کے قيام اور يونيورسٹيوں ،ہالوں اور ثقافتي اداروں کے ناموں کو اقبال کے نام پر رکھنے کي فکر ميں رہيں ۔اقبال کا تعلق ہم سے ،اس قوم سے اور اس ملک سے ہے جس طرح کہ اس غزل ميں جو جناب ڈاکٹر مجتبوي نے پڑھي اور آپ نے سني ۔اقبال ايراني عوام سے اپنے لگاو کو بيان کرتے ہيں اور کہتے ہيں :

چون چراغ لالہ سوزم در خيابان شما          اے جوانان عجم جان من و جان شما

اور آخر ميں کہتے ہيں :

مي رسد مردي کہ زنجير غلامان بشکند                ديدہ ام از روزن ديوار زندان شما

اور يہ ميري اس بات کي تائید ہے جو اقبال کے ايران نہ آنے کي وجہ کے بيان ميں ،پہلے عرض کرچکا ہوں ۔وہ اس جگہ کو زنداں سمجھتے ہيں اور قيديوں سے مخاطب ہو کر بولتے ہيں ۔اقبال کے ديوان ميں بہت سي مثاليں ہيں جو اس بات کي نشان دہي کرتي ہيں کہ وہ ہندوستان سے نا اميد ہوچکے ہيں (کم ازکم اپنے زمانے کے ہندوستان سے) اور ايران کي جانب متوجہ ہيں ۔وہ چاہتے ہيں کہ وہ مشعل جس کو انہوں نے جلارکھا ہے ايران ميں مزيد روشن ہو اور انہيں اس بات کي اميد ہے کہ يہاں پر کوئي معجزہ رونما ہو ۔يہ اقبال کا ہم پر حق ہے اور ہميں چاہئے کہ اس حق کا احترام کريں ۔

اب رہي بات اقبال کي شخصيت کي تو اگر ہم اقبال کي شناخت کرنا چاہيں اور اقبال کے پيغام کي عظمت کو جانيں تو ہميں خواہ مخواہ اقبال کے دور کے برصغير کو اور اس دور کو پہچاننا پڑے گا جو اقبال کے دور پر ختم ہوتا ہے کيونکہ اس شنا خت کے بغير اقبال کے پيغام کا مفہوم سمجھا نہیں جا سکتا ہے ۔اقبال کے دور ميں برصغير اپنے سخت ترين ايام گزار رہا تھا ۔جيسا کہ آپ کو معلوم ہے اقبال ١٨٧٧ ء ميں پيد ہوئے يعني مسلمانوں کے انقلاب کي انگريزوں کے ہاتھ شکست کے بيس سال بعد ۔

١٨٥٧ء ميں انگريزوں نے ہندوستان اسلامي حکومت اور برصغير ميں اسلام کي حکم فرمائي پر آخري ضرب لگائي ۔ہندوستان ميں عظيم بغاوت رونما ہوئي اور شايد يہ بغاوت تقريباً دو تين سال تک جاري رہي ۔اس کا عروج ١٨٥٧ء  کے اوسط ميں تھا،انگريزوں نے موقع سے فائدہ اٹھايا اور اس ضرب کو جو تقريباً ستّر اسّي سال سے ہندوستان پر لگارہے تھے اچانک فيصلہ کن طور پر لگایا اور اپنے خيال ميں وہاں سے اسلام کي جڑوں کو کاٹ ديا ۔يعني اسلامي حکومت اور مسلمانوں کي حکومت تھي جس کو انہوں نے طويل عرصے سے ادھر اُدھر سے کمزور بناديا تھا۔اس کے بہادر سرداروں اور عظيم شخصيتوں کو ختم کرديا تاکہ ہندوستان ميں اسلامي تہذيب کي مضبوط جڑوں کو کمزور کرسکيں ۔اس کے بعد يکباريگي اس تناور اور قديمي درخت کو جس کي جڑ يں پہلے ہي کمزور کرچکے تھے اور جس کے محافظوں کو ختم کر چکے تھے اور وہ اکيلا رہ گيا تھا کاٹ کر ختم کرديا اور ہندوستان کو برطانوي سلطنت کا جزو بنا ليا۔

١٨٥٧عيسوي، ہندوستان ميں انگريزوں کي مکمل کاميابي کا سال تھا اور اس کے بعد کہ انگريزوں نے ہندوستان کوبا ضابطہ طور پر برطانيہ سے الحاق کرديا۔اور اس ملک کا نام سلطنت برطانيہ ہندوستان رکھ ليا ،ہندوستان کے کالوني ہونے کا مسئلہ نہيں رہا ،بلکہ ہندوستان برطانيہ کے صوبوں ميں سے ايک صوبہ بن گيا ۔لہذا وہ اپنے مستقبل کي فکر ميں پڑ گئے تاکہ اس ملک ميں ہر قسم کي بغاوت اور قومي يا مذہبي عظمت کي ترويج کے امکانات کو ختم کرديں ۔اس کا راستہ يہي تھا کہ مسلمانوں کا مکمل طور پر قلع قمع کريں کيونکہ انہيں معلوم تھا کہ ہندوستان ميں ان سے مقابلہ کرنے والے ہيں اور انہوں نے اس کا تجربہ بھي کرليا تھا۔

مسلمانوں نے انيسويں صدي کي ابتدا بلکہ اس سے بھي پہلے سے ہندوستان ميں انگريزوں کا مقابلہ کيا ۔اٹھارويں صدي کے آخري حصے ميں ٹيپوسلطان انگريزوں کے ہاتھوں قتل يا شہيد ہوئے ليکن عوام ،علمائ اور مسلمان قبائل نے انيسوں صدي کي ابتدائ سے انگريزوں اورہندوستان ميں ان پٹھووں سے جو اس وقت سکھ تھے ،جنگ لڑي او ر اس بات سے انگريز بخوبي واقف تھے ۔انگريزوں ميں سے ان لوگوں نے جو ہندوستان کے مسائل سے واقف تھے کہا تھا کہ ہندوستان ميں ہمارے دشمن مسلمان ہيں اور ہميں ان کا قلع قمع کرنا چاہيے لہذا انگريزوں کے کاميابي کے سال يعني ١٨٥٧ سے ہي ہندوستان ميں مسلمانوں کي سرکوبي کیلئے ايک نہايت ظالمانہ اور سنگدلانہ پروگرام شروع کيا گيا جس کا ذکر ہر جگہ آيا ہے اور يہاں اس کا ذکر طوالت کا سبب بنے گا۔

مختصر يہ کہ مالي اور ثقافتي لحاظ سے ان پر دباو ڈالا جاتا تھا اور اجتماعي شعبوں ميں ان کي بہت تحقيرکي جاتي تھي ۔انگريزاعلان کرتے تھے کہ وہ لوگ جو چاہتے ہيں ملازمت حاصل کريں ان کو مسلمان نہيں ہونا چاہيے ۔جب ايک معمولي سي تنخواہ پر کچھ لوگ