پیام رافت شماره 3 حصه اداری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زیر سر پرستی حضرت بقیة اللہ الاعظم صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف

مجلس ادارت

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا الفت حسین جویاصاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا تحریر علی نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا حسن عسکری نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط محمد رضوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا فیروز رضا نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا محمد حسین بہشتی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانانیر عباس رضوی صاحب

مدیر

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط حیدر زیدی صاحب

پیام رأفت

علمی ثقافتی ادبی مجلہ

بزم رأفت انجمن شعر و ادب اردو زبان مشہد مقدس کا عظیم شاہکار

دوسرا سال۔  تیسرا  شمارہ

از  جمادی الاول   تا  ذی الحجہ  ١٤٣٠ھ

 کمپوزنگ: حجة الاسلام و المسلمین جناب مولانا مرتضی حسین نقوی

ڈزائننگ: حجة الاسلام و المسلمین جناب شاہزادہ حسین حیدری زائر

Web: www.urdu.blogfa.com  E-mail : alhaq110@yahoo.co.in 

Tel : 0098-511-2563085 Mob: 09359750753

فہرست مطالب

اداریہ   (روز مادر)                                                            مدیر

نگاہ عصمت میں شعر ،شاعری اور شعراء کا مقام          جناب تحریر علی نقوی صاحب

آہ  مجاہد علی مطہری  و  محمد علی جوہر                         ادارہ

جشن  و  محافل :جشن میلاد کوثر، جشن مولود کعبہ، جشن عشق و وفا، جشن ظہور نور،  جشن سخا و کرم ، جشن رأفت.

اس شمارے میں  بزم رأفت کے ساتھ تعاون کرنے والے دانشمند و شعراء حضرات

جناب رضا سرسوی صاحب

جناب آغا سروش صاحب

جناب قیصر عقیل صاحب

جناب نصیر اعظمی صاحب

جناب نیر جلالپوری صاحب

جناب محسن نقوی صاحب

جناب ریحان بنارسی صاحب

جناب عابد بھوجانی صاحب

جناب ناطق علی پوری صاحب

جناب محمد معراج صاحب

جناب اطہر کاظمی صاحب

جناب فیاض رائبریلوی صاحب

 

 

باسم رب الارباب

اداریہ

روز مادر

تقریبا ایک صدی پہلے امریکی صدر  وڈرو ولسن نے اعلان کیا کہ ہرسال مئی کا دوسرا  اتوار یومِ مادر کے طور پر منایا جائیگا۔ تب سے یہ دن رفتہ رفتہ کئی اقوام اور ممالک نے اپنا لیا۔

تاریخی اعتبار سے اس دن کا آغاز  ١٨٧٠ء  میں ہوا جب جولیا وارڈ نامی عورت نے اپنی ماں کی یاد میں اس دن کو شروع کیا جولیا وارڈ اپنے عہد کی ایک ممتاز مصلح، شاعرہ، انسانی حقوق کی کارکن اور سوشل ورکر تھیں۔ بعد ازاں ١٨٧٧ء کو امریکہ میں پہلا مدر ڈے منایا گیا  ١٩٠٧ ء میں امریکی ریاست فلاڈیفیا میں اینا ایم جاروس نامی سکول ٹیچر نے باقاعدہ طور پر اس دن کو منانے کی رسم کا آغاز کیا۔ اس نے اپنی ماں این ماریا ریویس کی یاد میں یہ دن منانے کی تحریک کو قومی سطح پر اجاگر کیا یوں ان کی ماں کی یاد میں باقاعدہ طور پر امریکہ میں اس دن کا آغاز ہوا۔ یہ تقریب امریکہ کے ایک چرچ میں ہوئی۔ اس موقع پر اس نے اپنی ماں کے پسندیدہ پھول تقریب میں پیش کیے۔ اس تحریک پر اس وقت کے امریکی صدر وڈ رولسن نے ماں کے احترام میں مئی کے دوسرے اتوار کو قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد یہ دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے برطانیہ میں اس دن کو Mothering Sunday بھی کہا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگ اپنی ماں کو تحائف پیش کرتے اور ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ یوں سال بھر بوڑھے والدین میں سے ماں کو اس دن کا انتظار رہتا ہے۔

امریکہ سمیت یورپ بھر میں بوڑھے والدین کو گھروں کی بجائے اولڈ ہومز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس دن اولڈ ہومز میں اپنی ماں سے ملاقات کرتے اور ان کو سرخ پھولوں کے تحائف پیش کرتے ہیں۔ جن لوگوں کی مائیں اس دنیا میں نہیں ہیں وہ سفید پھولوں کے ساتھ اپنی ماں کی قبروں پر جاتے اور وہاں یہ گلدستے سجاتے ہیں۔ ہر ملک میں مدر ڈے کو منانے کے لیے مختلف دن مختص ہیں تاہم یورپ ، امریکہ، ڈنمارک، فن لینڈ، ترکی، آسٹریلیا اور بیلجیم میں یہ دن مئی کے دوسرے اتوار کو ہی منایا جاتا ہے۔

جب کہ اس سے بھی پہلے قدیم یونان میں کئی دیوتاؤں کو جنم دینے والی سائی بیلے کا یادگاری دن بچوں کی جانب سے ماں کو تحائف دینے کا دن تھا۔ رومن لوگ جونو دیوی کی یاد میں ایک دن مختص کرکے اپنی ماں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اور ارضِ ہند میں ماتا تیرتھا کا دن ماں کو پوجنے کا دن قرار پایا اور آج تک ہے۔ گویا مشرق و مغرب کی ہر تہذیب نے ہر دور میں کسی نہ کسی بہانے ماں کے احسانات کا اعتراف کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔

مگر اس دنیا میں اگر سخت جان کرداروں کی فہرست بنائی جائے تو سرِ فہرست شاید ماں ہی ہوگی۔ جس نے ہم سب کو ہر سمت سے گھیر رکھا ہے۔ باپ کی منکوحہ ہے تو آپ کی ماں ہے۔ بیوی ہے تو آپ کے بچوں کی ماں ہے اور بیٹی ہے تو مستقبل کی ماں ہے۔ تو پھر اس سارے جھرمٹ میں سوائے اپنی ماں کے ہمیں دوسروں کی مائیں کیوں نظر نہیں آتیں۔

ہم یہ نکتہ کیوں یاد نہیں رکھتے کہ جس طرح ہر بیج میں ایک درخت چھپا ہوتا ہے اسی طرح ماں دراصل ہر بچی کے ساتھ ہی جنم لے لیتی ہے۔ لہذا منطق کا تقاضا تو یہی ہے کہ جس درخت کی تعظیم کی جائے اس کے بیج کو بھی اتنی ہی عزت دی جائے۔ لیکن منطق کی یہاں سنتا کون ہے؟

اسی مادر پرست دنیا میں دوسرے کی ماں کا ریپ ہمیشہ سے انفرادی و اجتماعی انتقام کے سرِ فہرست ہتھیاروں میں بھی شامل ہے

کہنے کو ہم سب کو اپنی ماں بہت ہی پیاری ہے۔ اتنی پیاری کہ ہم اپنے وطن کی سر زمین کو مادرِ وطن کہتے ہیں اور اس کی خاطر مرمٹنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔

اپنی زبان کو مادری زبان کہتے ہیں اور کوئی اس کا مذاق اڑائے تو منہ سے ماں کی گالی تک نکل جاتی ہے۔ ماں کے دودھ کی قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں اور اس پر قائم رہنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن۔۔۔ ماں کے سامنے اسی کے بچوں کو نیزے پر اچھال دینا، سر کاٹ لینا بھی اسی مادر پرست دنیا میں ہی ہوتا ہے۔ کوئی ماں کی عظمت کی مالا جپتے جپتے اسے کمبھ کے میلے میں لاوارث چھوڑ جاتا ہے۔ کوئی بیوگی کی سزا کے طور پر سفید ساڑھی پہنا، سرمنڈوا آشرم کے سپرد کرجاتا ہے۔ کوئی سب کچھ ہتھیانے کے لیے ماں کو پاگل خانے کے دروازے تک ہاتھ پکڑ کر لے جاتا ہے۔ تو کوئی اسے گھر میں رکھتا بھی ہے تو ایک کمرے تک محدود کردیتا ہے یا ایسانہیں بھی کرتا تو ماں کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر چند روپے رکھ کر اپنے فرضِ مادری سے سبکدوش ہوجاتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر شخص تو ایسا نہیں ہوتا۔ پانچوں انگلیاں برابر تو نہیں ہوتیں۔ہر بھیڑ کالی تو نہیں ہوتی۔لیکن اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر سوچیے گا کہ ہم میں سے کتنے لوگ ماں کو اس طرح سمجھتے ہیں جس طرح ماں ہمیں سمجھتی تھی، سمجھتی ہے اور سمجھتی رہے گی۔۔۔

ماں کون ہے ؟ ایک عورت ہی تو ہے نا ! اس کی پوجا کا کیا مطلب؟ اسے پوجا نہیں دائمی عزت و احترام چاہیے۔یومِ مادر پر زیادہ خوش دلی کا مظاہرہ، تحائف دینا، ماں کے گلے میں باہیں ڈال دینا یا گود میں سر رکھ دینا بالکل درست۔لیکن پھر؟؟؟

  اتنا  ہلکا  سا  تبسم  تو  نہ  ہو گا  کافی

آپ نے دیکھا نہیں، زخم بہت گہرا ہے

اور دوسری طرف اس مدر ڈے سے مغرب خود کو ترقی یافتہ معاشرہ خیال کرتا ہے!!! کیا مغربی دنیا سال میں ایک دن ماں اور ایک دن باپ کے لیے مختص کر کے خود کو عالمی انسانی حقوق کا خود ساختہ چئمپین تصور کرسکتا ہے؟ کیا ماں باپ کا حق صرف ایک دن کا پیار سرخ پھول اور کچھ شفقت بھرے لمحے ہی ہیں؟

یقینا یہ وہ سوال ہیں کہ جو آج بھی جواب کے متلاشی ہیں۔ تصویر کے دوسرے رخ کے طور پر اب ہمارے معاشرے میں بھی فادرز ڈے اور مدرز ڈے منائے جا رہے اور ہمارے معاشرے میں بھی اولڈ ہومز بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

 وہ معاشرہ جہاں ماں کے قدموں تلے جنت اور جہاں باپ کی رضا میں رب کی رضا ہوا کرتی تھی آج وہی معاشرہ اس جنت اور اس رضائے ربانی سے دامن بچا تا نظر آتا ہے۔ تقلید بری بات نہیں مگر اندھی تقلید دین میں ہو یا دنیا میں مہلک ہوا کرتی ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید ہمیں بھی مہلک مقام تک لے آئی ہے جس سے ہماری عائلی قدریں پامال اور معاشر ے کی بنیاد ی اکائی یعنی خاندان کی چولیں ڈھیلی ہو رہی ہیں۔ اس اکائی کی بنیاد اور جڑ یعنی والدین کو گھروں سے اکھاڑ کر اولڈ ہومز میں پھینکا جارہا ہے پھر سال کے بعد ان کا ایک دن منا کر حق ادا کر دیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک مدر ڈے کا تصور کیا ہے؟ اس کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ اسلام میں تو ہر لمحہ اور ہر دن مدر ڈے اور فادر ڈے ہے۔ اس تصور کو مزید سمجھنے کے لیے والدین کی عزت، تکریم اور خدمت کے پس منظر میں قرآن پاک کی چندآیات کریمہ اور چند احادیث شریفہ پیش خدمت ہیں۔ خداوندعالم نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اپنی اطاعت وعبادت یا عدم شرک کے بعد فوراً والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے کہ جو اس فعل کے افضل اور عظیم ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔ لہذا ارشاد ہے

لا تعبدون اِلا اللہ وبِالوالِدین احسانا (بقرہ ۔٨٣)

سوائے خدا وند کے کسی اور کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو

واعبدوااللہ ولا تشرک بہ شیٔا وبِالوالِدین احسانا(نساء ـ ٣٦)

 خدا وند عالم کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک قرار نہ دو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو

الا تشرکوا بہ شیٔا  وبِالوالِدین احسانا(انعامـ ١٥١)

 اس کا کسی کو شریک قرار نہ دو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو

وقضی ربک الا تعبدوااِلا اِیاہ وبِالوالِدین احسانا(اسراء ـ ٢٣)

اور آپ کے پروردگار نے قطعی حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو۔

اور کہیں پر والدین کی ساتھ نیکی کرنے کی وصیت فرمائی ہے جب کہ کلمہ وصیت عمدتا وہاں استعمال ہوتا ہے کہ جہاں وہ فعل واحب کرنا منظور ہو لہذا والدین کے ساتھ نیکی کرنا بھی واجب ہے ۔

و وصینا الانسان بِوالِدیہ احسانا(احقافـ ١٥)

اور ہم نے انسان کو وصیت کردی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے۔

اسلام  معاشرے کے عمر رسیدہ افراد کو کس قدر اہمیت دیتا ہے، اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرمی برتنے کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے۔ خصوصا ًبوڑھے والدین کے ساتھ نہایت شفقت کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن حکیم فرماتا ہے :

وقضی ربک الا تعبدوااِلا اِیاہ وبِالوالِدین احسانا ِاما یبلغن عِندک الِکبر احدہما اوکِلاہما فلا تقل لہمآا ف ولا تنہرہما وقل لہما قولا کرِیماO واخفِض لہما جناح الذلِ مِن الرحمِة وقل ربِ ارحمہما کما ربیانِی صغِیراO (بنی اسرائیلـ ٢٣ـ٢٤)

اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo اور ان دونوں کے لیے نرم دلی سے عجز و اِنکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو : اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھاo

قرآن پاک کی آیات کریمہ کے بعد متعدد احادیث شریفہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بزرگوں کی عزت و تکریم کی تلقین فرمائی اور بزرگوں کا یہ حق قرار دیا کہ کم عمر اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کا احترام کریں اور ان کے مرتبے کا خیال رکھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یقر کبیرنا.

وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔

ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ! لوگوں میں حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی: پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی : پھر کون ہے؟ فرمایا : پھر تمہارا والد ہے۔

اسلام میں والدین کے حقوق کا تصور بڑا واضح ہے۔ جب کہ مغرب کے طور طریقہ پر اسلام کو ڈھالنا یہ خود ساختہ اسلام تو ہو سکتاہے اسلام ناب محمدی نہیں ہوسکتا !

ہاںاگر والدین کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی انجام دے کر ان کی اطاعت و فرمانبراداری کے فرائض انجام دے کر پھر کسی خاص دن میں ان کی اور بھی زیادہ خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کوئی خاص پروگرام انجام دیا جائے ان کو ہدیوں اورتحفوں سے نوازا جائے یا اگر دنیا سے رخصت ہوگئے ہوں تو ان کے لیے فاتحہ و ایصال ثواب کا کام کیا جائے تو کیا ہی خوب ہے لیکن دن بھی اگرمعین ہوتونہ وہ  میری اور نہ آپ کی ماں کی مناسبت پر بلکہ اس ذات مقدس کے روز ولادت کو یوم مادر قرار دیا جائے کہ جس کو اشرف کائنات ،افضل موجودات نے بھی اپنی ماں کہکر یاد کیا ہو (فاطمة ام ابیھا)  اور حدیث قدسی( لولاک لما خلقت الافلاک و لولا علی لما خلقتک ولولا فاطمة لماخلقتکما) کے اعتبار سے بھی کہ حضرت فاطمہ زہرا  ام یعنی مرکز و محور کائنات ہیں جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق  کا ارشاد گرامی ہے( ھی نقطة دائرة الوجود)۔

بزم رأفت کا یہ شمارہ چونکہ ماہ جمادی الثانی سے ذی الحجہ تک کی مناسبتیں اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے کہ جن میں سب سے پہلے آپ  ہی کی شہادت اور ولادت باسعادت واقع ہیں لہذا اس شمارے کے اداریہ کو یوم مادر سے منسوب کرنا زیادہ مناسب نظرآیا اگر چہ اسی مناسبت پر بزم رأفت کی جانب سے ایک عظیم الشأن محفل کا انعقاد ہوا کہ جس میں طرحی مصرعہ پر شعراء حضرات نے طبع آزمائی فرمائی ۔ مصرعہ یہ تھا  

    مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا نے پائی ہے

اس کے بعد گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے اکثر ممبران بزم اپنے اپنے وطن اور تبلیغی دورے پر روانہ ہوگئے لہذا ماہ مبارک رجب و شعبان المعظم اور رمضان المبارک میں کوئی طرحی محفل منعقد نہ ہوسکی لیکن ماہ مبارک رمضان کی تبلیغ سے واپسی کے بعدذی قعدة الحرام میں ولی نعمت امام رؤف ثامن الحجج حضرت علی بن موسی الرضا علیہ آلاف التحیة و الثناء کی ولادت باسعادت کے پرمسرت موقع پر پھر ایک عظیم طرحی محفل کا انعقاد ہو ا کہ جس میں مقامی شعراء کے علاوہ مہمان شعراء کرام نے بھی شرکت فرمائی جس میں ہندوستان سے محترم جناب آغا سروش حیدرآبادی ، جناب رضا سرسوی ،  جناب قیصر عقیل نوگانوی ،  جناب ریحان بنارسی ،  جناب ناطق علی پوری ،  جناب فیاض رائبریلوی،  جناب نصیر اعظمی اور پاکستان سے جناب محسن نقوی ، جناب رضا علی کاظمی وغیرہ قابل ذکر ہیں یہاں پر ہم ان سبھی حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔    عملھم مقبول و سعیھم مشکور۔

اس عظیم محفل میں یہ دو مصرعے طبع آزمائی کے لیے پیش کیے گئے تھے  ۔

    کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

    خدایا سرپر رہے ہمیشہ رؤف  کی ہر عطا کا سایہ

اور اب عید سعید غدیر کی آمد آمد ہے  اور اس عظیم ترین عید پر بزم رأفت کی جانب سے ہونے والی محفل مقاصدہ کے مصرعے حسب ذیل ہیں: 

    آگئی بلغ کی آیت لے کے اعلان غدیر

    تازہ ہے آج تک وہی منظر غدیر کا

اور اس کے بعد پھر سال آئندہ بھی گذشہ سال کی طرح ایک عظیم سیمناربعنوان ذبح عظیم کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں تمام ہی موالیان حضرات سے پرخلوص شرکت کی استدعا ہے اس امید کے ساتھ کہ انشاء اللہ خداوندعالم ہماری اس سعی ناچیز کو شرف قبولیت عطا فرمائے ۔

والسلام                 

مدیر بزم رأفت             

سید سبط حیدر زیدی           

پیام رافت شماره 3 حصه نثر

نگاہ عصمت میں شعر ، شاعری اور شعراء کا مقام

  اثر تحقیق:سید تحریر علی نقوی                      

تعارفی گفتار :

خدا وند منان کے پیغمبر ذیشان ۖ کے بے مثال اعجاز قرآن نے

عَلَّمَہُ الْبَیَانکے نورانی فرمان سے اظہار حقائق کے نہان دریچے عیان کر دئیے .

 شعر و شاعری کسی بھی زبان کا جزء لا ینفک ہے اور اس کا وجود شاعر کے وجود سے ہے.

شعر و شاعری اردو ادب کی زینت ہے بالکل اسی طرح جس طرح کسی بھی زبان میںشعر و شاعری کی منزلت ومرتبت ہوتی ہے . اہل نظر تو کیامعاشر ے کے عام افراد بھی شعر کی اھمیت و تاثیر کے قائل اور معترف ہیں. الفاظ و معانی سے سروکا ر رکھنے والا کوئی شخص اس امر کا منکر نہیںاور ہو بھی نہیںسکتا کیونکہ یہ ایک واضح حقیقت اور عالمگیر صداقت ہے ، دوسرے لفظوںمیں ذوق اور سلامت رکھنے والے مزاج کا حامل ہر فرداس ناقابل انکار حقیقت کو قبول کرتا ہے۔

 حتی اس باب میں انتہائی جالب نکتہ یہ کہ روئے زمین پر نصب ہونے والی انسانی آبادی کے پہلے خیمے کے پہلے فرد حضرت آدم ابو البشر علی نبینا و آلہ و علیہ السلام نے انسانی معاشرے میںپہلے پہل شعر کہا ، ملاحظہ فرمائیں.

عیون الاخبار باب ' ما جاء عن الرضا علیہ السلام ۔' میںایک شامی شخص جب حضرت امام رضا علیہ السلام سے سوال کرتا ہے کہ سب سے پہلے کس نے شعر کہا تو امام علیہ السلام نے جواب میںارشاد فرماتے ہیں:

آدم . پھر وہ شخص سوال کرتا ہے ؛ ان کا شعر کیا تھا ؟

فرمایا : لما انزل الی الارض من السماء فرئای تربتھا وسعتھا وھواھا و قتل قابیل ھابیل فقال آدم 

         تغیرت البلاد ومن علیھا         فوجہ الارض  مغبر  قبیح

          تغیر کل ذی لون ٍ و طعم ٍ      و قل بشاشة الوجہ الملیح

(کشکول احمد قاضی زاھدی ٢٣٧، ٢٣٨  بنقل از تفسیر نور الثقلین ج١ ص ٦١٠ ، ح ١٢٦)

مقدمہ                                               

شعر کا قوام شاعر سے ہے اور اس باب میںشاعر کی سعی و کاوش شاعری کہلاتی ہے زبان کے ذریعے انسانی بیان نثر کی صورت میںہوتا ہے اور یا نظم و شعر کی شکل میں، منظوم قول کو شعر کہتے ہیں . شعر کی لفظی و اصطلا حی متعدد تعریفیںکی گئیں. لغت میںشعر شعور سے ہے یعنی کسی چیز کے بارے میںوقت کے ساتھ شناخت شاعر کو اس کی فطانت اور اس کی دقیق معرفت کی بدولت شاعر کہا جاتا ہے

 اور عُرف اصطلاح میںموزون و مقفّی کلام شعراور اس صنعت کا تخصص رکھنے والا شاعر کہلاتا ہے .

(المفردات فی غریب القرآن ما دہ شعر ص ٢٦٢)             

اس مختصر تحقیقی کا وش میںہم شعر کی ماہیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حیثیت پر سیر حاصل بحث کرنا چاہتے ہیں. یہ فیصلہ باذوق اور باشعور قارئین کے حوالے کئے دیتے ہیں کہ قلت فرص کے پیش نظر کس قدر توفیق رفیق رہی اور کس قدر متعلقہ مہم مطالب کی جانچ پڑتال کر سکے . کوشش کی گئی ہے کہ عقل اور نقل کی رو سے اس عنوان کی جزئیات کا جائزہ لیا جائے اور کسی پیش داوری کی بجائے مستحکم و محکم ادلہ و براہین کی روشنی میںپختہ قضاوت کی جائے کہ ؛

                       نحن ابناء الدلیل           نمیل حیث الجمیل

ہر امر جمیل ہمیشہ دلیل کے ہمراہ ہوا کرتاہے بہ اصطلاح قیاساتہ معہ اور کوئی بھی عقل سلیم قاطع دلیل او رمحکم برہان کے سامنے سر تسلیم خم کیے دینے کے علاوہ کوئی چارہ کا ر تجویز نہیںکیا کرتی کیونکہ عقل سلیم اسی حقیقت اور حقانیت کی قبولیت پر مفطور ہے .

اس باب کی عام طرز بحث کے بالمقابل ہمارے زاویہ نظر میں یہ تفاوت ضرور موجود ہے کہ عوام کی عام بحث میںفقط شعر و شاعری کی مطلق تأثیر کو بڑھاچڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ ہم نے خاصان خداوند کریم حضرات معصومین سلام اللہ علیھم اجمعین کی نگاہ مبارک و صائب میںاس مقولے کے خدوخال کو واضح کرنا ہے

بزم رافت میںوادی رافت کے شھنشا ہ حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ آلاف التحیة والثناء سے استمداد کرتے ہوئے خوشنودی خداوند منان کی خاطر اس جالب ، جاذب شیرین اور مفید ترین تحقیقی بحث کے مراحل طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں.ومن اللہ التوفیق و علیہ التکلان .

شعر ، شاعری اور شاعر کے اہدا ف و آثار

یہ بات معقول نہیں ہے کہ کسی فاعل کا کوئی فعل کسی ہدف اور غرض و غایت کے بغیر ہو . سرشت خلق و خلقت عبث اوربیہودہ کا ری کے ساتھ منافات رکھتی ہے ، یہ اور بات کہ وہ ہدف اعلی ہو یا ادنی ، مثبت ہو یا منفی ، عاقلانہ ہو یا جاہلانہ . ہدف کی ماہیت تو اس فاعل کی ذہنیت کیساتھ وابستہ ہے جس سے اسکی نیت تشکیل پاتی ہے اور پھر اس فعل کے نتیجے میں مثاب یا معاقب قرار پاتا ہے ۔

 اسی مقدمے کے مطابق شعر ، شاعری اور شاعر بھی قطعا ً ہدفمند ہیںجس کاتعین شاعر کے قصد اور ارادے کے ساتھ ہے ۔

 ا س میں شک نہیںکہ شاعری کاذوق اوریہ لطیف قریحہ اصل میں خدادادی امر ہے مشق کلام اور ماہر شاعر کی رہنمائی اس خدا داد استمداد کی فعالیت کو جلا بخشتی ہے لیکن یہی ذوق کہ جس کی اصل خدادادی امر ہے لھذا اس کا استعمال بھی راہ خدا میںہونا چاہیے تھا ؟

بعض افراد اس سے حسن استفادہ کرتے ہیںتو اکثر سوء استفادہ کرتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ اکثر شاعری اور اشعار عشق مجازی کی تبلیغ کرتے ہوئے نظر آتے ہیںاور اس طرح مع الاسف وافر استعداد منفی سمت و سو میںصرف ہو رہی ہے جبکہ نہایت قلیل تعداد میںشعراء ہیںجو حق پرست اور حق گو ہیںاور خوشابحال ہیںوہ شعرا جو توحید و ولایت کے معارف کا پر چار کرتے ہیں.

شعراء ، اشعار اور شاعری ' کو مناجات و دعا ، ثناء و رثاء آئمہ معصومین علیہم السلام ، تبلیغ معارف ، موعظہ و نصیحت ، دفاعی و جنگی جذبات ابھارنے ، نابودی دشمن ، گانے ، غزلیات ، ترانے ، ہجو ، شہرت حکام کی بجا و بیجا تعریف، تملق و چاپلوسی و غیرہ کے راستے میںبروئے کار لاتے ہیں.

پائیدار اور ماند گار شاعری وہی ہے جو اعلی اھداف کے راستے میںہو اور حقیقت یہ کہ دیگر باقیات صالحات کی طرح اچھی شاعری بھی باقیات صالحات میںسے ایک ہے . جن شعراء نے آئمہ معصومین علیہم السلام کے بارے میںاچھی شاعری کی  اور اس فن کے ذریعے اس عظیم خدمت کی سعادت پاسکے ان کے نام تاقیام قیامت زندہ و تابندہ ہیں ، حسان ، کمیت ، عبدی ، دعبل ، فرزدق ، حسان عجم خاقانی شروانی ،امامی ھروی ، شھریار ، میر انیس ، میر مؤنس ،میر نفیس ،میر زا دبیر ، اقبال ، جوش  و۔۔۔۔۔۔۔سب زندہ ہیںاس لیے کہ بحر حیات کے ساتھ متصل ہو گئے ہیں.

                                 تشویق و ترغیب

قول ، کلام ،گفتگو ، بات چیت ایک طرف اپنے ما فی الضمیر کو دوسروںتک پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے تو دوسری جانب صاحب گفتار کی شناخت کا ایک وسیلہ بھی شمار ہوتا ہے اسی مناسبت سے حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایاہے:'' المرء مخبوئٔ تحت لسانہ''  یعنی انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا  ہوا ہے  ۔  ( نھج البلاغہ کلمات قصار )       

پس انسان جب زبان کھولتاہے تو پہچانا جاتا ہے . یہ فرمان ذیشان بھی دیگر فرامین کی طرح بہت گہرے معانی و مطالب اپنے اندر لیے ہوئے ہے . جو ھر بحث یا دوسری تعبیر میںجان کلام یہ ہے کہ جب انسان گفتگو کرتاہے تو مخاطب اس متکلم کی کلام سے اس کی ذھنی سطح کا اندازہ کر سکتا ہے . گفتار متکلم کے معیار فکر کی آئینہ دار ہوتی ہے .

( وہ لطیف بحث اپنے مقام پر کہ فرمایا  کلّمو ا الناس علی قدر عقولھم یعنی لوگوں  سے ان کی سوجھ بوجھ اور توان درک کے مطابق کلام کرو .اولاً یہ فرمان خصوصاً خاص افراد '' مبلغین دین خداوندی'' سے مربوط و متعلق ہے .

 ثانیاً اسی فرمان ذیشان سے بھی متکلم کے اس فراگیر اور اعلی رتبے تک پہنچا جاسکتا ہے کہ وہ مختلف مخاطبین کے درمیان ان کی سطح فہم کی تشخیص دینے او رہر ایک کی سطح کے مطابق اسی سے کلام کرنے کی توانائی رکھتاہے )

بہر حال گفتار متکلم کے معیارفکر کی آئینہ دار ہوتی ہے اب گفتار سے جہاںایک یہ فائدہ ظاہر ہوتاہے کہ کلام کرنے والا کچھ پہچانا جاتا ہے وہاںدوسرا ثمرہ یہ واضح ہوتا ہے کہ متکلم کا ما فی الضمیر مخاطب کے ذھن میںمنتقل ہوتا ہے . اس مرحلے پر ہم پھر اس ذریعۂ انتقال کو دو قسموںمیںتقسیم کرتے ہیں. ایک نثر اور دوسرا نظم و شعر . نثر چاہے سادہ وعام ہو ، چاہے مسجع ، بہر حال نظم و شعر کا مرتبہ اس سے غالبا ً بالاتر ہے لھذا اگر ایک ہی مطلب کونثر کی صورت اور شعر کی شکل میںپیش کیا جائے تو لوگوںپر شعر کے اسلوب میںبیان کیے گیے مطلب کی تأثیر بہت زیادہ ہے .

ہماری اس بحث کے ماحصل کو اس امر سے بھی تقویت و تائید حاصل ہوتی ہے کہ آئمہ معصومین علیہم السلام کے نثری کلام میںعامة الناس کی گفتار کی نسبت بہت زیادہ کشش ، جذابیت اور رسائی ہونے کے باوجود متعددمقامات پر ان حضرات علیھم السلام کی طرف سے منظوم اور شعری کلام کاسامنے آنا ، فن شعر کے ذریعے مطالب کی بہتر رسائی اور بیشتر تاثیر پر دلالت کرتا ہے حالانکہ نھج الفصاحہ ، نھج البلاغہ ، خطبات فاطمیہ و زینبیہ   اور اسی طرح تمام آئمہ معصومین علیھم السلام کے نثری ارشادات میںجو حسن ، کشش ، گہرائی اور رسائی پائی جاتی ہے ' اہل فن اس کی بے ساختہ داد دیتے ہیںلیکن اسکے باوجود شعر کو بھی خاص اہمیت دی گئی . اشعار معصومین علیھم السلام مختلف کتب میںموجود ہیںاس مناسبت سے نمونہ پیش کرنے کے لیے ایک بہترین کتاب مستطاب کا تذکرہ کیے دیتے ہیںکہ علامہ بزرگوار مجلسی کی پر برکت زندگی کے عظیم شاہکار '' ایک سو دس جلدوںپر مشتمل بحار الانوار '' کے اندر مختلف مناسبات سے حضرات معصومین علیھم السلام کے نورانیت بخش بیانات میںآنے والے اشعار کو ایک بہترین کتاب '' معجم اشعار المعصومین علیھم السلام الواردة فی بحار الانوار مانظموہ وماانشدوہ'' میںمنظم طور پر اکٹھا کردیا گیا ہے جو اپنی نوعیت میںمنفردکا م ہے . جیساکہ اس کتاب کے نام و عنوان سے واضح ہورہا ہے کہ ان اشعار میںخود ان حضرات علیھم السلام کے اشعار بھی موجود ہیںاور دیگر شعرا کے قابل استناد اشعار بھی مذکور ہیں۔

جو مختلف مواقع کی مناسبات سے ذکر فرمائے گئے ہیں. کتاب میںموجود اشعار کے بارے میںیہ نکتہ توضیحی بھی شایان ذکر ہے کہ بعض ابیات متعدد مجلدات میںمکرر آنے کی وفہ سے یہاںبھی مکرر ذکر ہوئے ہیںلہذا جو تعداد موجود ہے وہ حذف مکررات کے بغیر ہے اور حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہونے والے تمام اشعار ضروری نہیںکہ خودحضرت رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اشعار ہوںلیکن اگر بعض ایسے بھی ہوںتو چونکہ وہ غیر قرآن مجید ہیںلہذا کوئی حرج بھی نہیںہے چونکہ کفار قرآن مجید کو آنحضرت ص ) کے اشعار ہونے کی تہمت لگاتے تھے جس کی خود قرآن نے نفی کی ہے ، بہر حال ایسے اشعار کی سند وصحت تحقیق طلب امر ہے جو مزید فرصت طلب کرتاہے .

اہل ذوق حضرات کی تشویق و ترغیب کیلیے اس ایک کتاب میںموجود ہر معصوم علیہ السلام سے بحار الانوار میںنقل ہونے والے اشعار کی ایک فہرست دے رہے ہیں.

ردیف     نام نامی معصوم علیہ السلام           اشعار کی تقریبی تعداد     صفحہ کتاب

١۔         حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ٢٠                   ٤٣، ٤٤

٢۔        حضرت علی  علیہ السلام               ١٥٤٩                ٤٥تا ١٣٧

٣۔       حضرت فاطمہ زھرا علیہاالسلام          ٨٤               ١٣٨ تا    ١٤٣

٤۔       حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام         ٤٥               ١٤٤  تا    ١٤٧

٥۔       حضرت امام حسین علیہ السلام            ٢٢١               ١٤٨   تا     ١٦١

٦۔      حضرت امام سجاد علیہ السلام               ١٩٧               ١٦٢  تا   ١٧٣

٧۔      حضرت امام محمد باقر علیہ السلام            ٩٢                ١٧٤  تا    ١٧٩

٨۔     حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام         ٢٦٦              ١٨٠    تا   ١٩٦

٩۔     حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام            ٣٦              ١٩٧   تا    ١٩٩

١٠۔    حضرت امام علی رضا  علیہ السلام             ١٨١              ٢٠٠    تا    ٢١١

١١۔     حضرت امام محمد تقی الجوادعلیہ السلام            ١١               ٢١٢   تا    ٢١٣

١٢۔    حضرت امام علی نقی الھادی علیہ السلام        ٢١              ٢١٤   تا    ٢١٥

١٣۔   حضرت امام حسن عسکری  علیہ السلام          ٩                  ٢١٦

١٤۔     حضرت امام زمان علیہ السلام             ٣                  ٢١٧.

گذشتہ توضیحات کو سامنے رکھتے ہوئے چہاردہ معصومین علیہم صلوات رب العالمین سے تقریباًْ٢٧٣٥منقول اشعار اس معجم بحار میںموجود ہیں.

یہ اجمالی فہرست بنا کر دکھانے سے غرض یہ ہی ہے کہ گفتار کے اس جالب ، جاذب اور مؤثر پہلو کو ان معصوم ھستیوںنے بھی تشنہ نہیںرکھا . حتی کہ بعض معصومین جیسے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ، حضرت امام حسین علیہ السلام ....کے اشعار کے دیوان بھی موجود ہیں . پس شعر جہاںنثر سے بڑھ کر افکار متکلم کا آئینہ دار اور زیب و زینت گفتار ہے . وہاں سامعین ، مخا طبین اور قارئین کے اذھان پر انتہائی مؤثر نقش و نگار بھی ہے۔

خود حضرات معصومین علیہم السلام کا اپنے نورانیت بخش بیانات میںاس صنف کو اہمیت دینا اورشعری صورت میںاپنی ثنا ء ورثاء بیان کرنے کے خداوند متعال کی جانب سے عظیم فضائل بیان فرمانا ، شعراء اھلبیت  کو مدعو کر کے مجالس عزا کا انعقاد اورشعراء کو عظیم انعامات سے نوازنا اس امر کا باعث بنا کہ ان مقدس ہستیوںکی بارگاہ میںنثر کے ساتھ خصوصی اہتمام کے ہمراہ شعر اظہار ارادت کا ذریعہ قرار پایا اور اب دنیا بھر میںعزاداریاں، نوحہ خوانیاں، مرثیہ خوانیاں، قصیدہ خوانیاں، محافل جشن ،......ان گنت بر پا ہو رہی ہیں اور سب کے اندر اشعار کا کردار ہی نمایا ںہے . آئمہ معصومین صلوات اللہ علیھم اجمعین کے نزدیک ان کے فضائل و مصائب اشعار میںبیان کرنا اس قدر مطلوبیت و محبوبیت رکھتا ہے کہ ایک ایک شعر کہنے کی بہت پاداش ذکر فرماتے ہیں . یہ مطالب ایک مستقل عنوان کے تحت ذکر کریںگے .

حضرت اما م صادق علیہ السلام فرماتے ہیں؛ اے شیعو! عبدی ( ایک مخلص شاعر اھلبیت  ) کے اشعار اپنے بچوں کو یا د کروائو کہ وہ دین خدا پر ہے ، صادق القول ہے اور اس کے شعر اچھی روش پر ہیں ...

                  ( رجال کشی ص  ٢٥٤)     

معصوم ہستیوںکی مداحی کے شرف سے مشرف ہونے والے خوش قسمت شعراء کیلیے یہ مطلب بھی مزید تشویق وترغیب کا باعث بنتا ہے کہ حضر ت ابو طالب کفیل الرسول ۖ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی حمایت میںایک سو گیارہ (١١١) اشعار پر مشتمل طویل قصیدہ کہا اور اس طرح قریش کو بے چارہ کردیا .

( عمدة الطالب فی انساب آل ابیطالب )        

ایک لطیف و دقیق نکتہ جو شایان التفات ہے وہ یہ کہ حضرات آئمہ علیہم السلام جو کہ منصب امامت پر فائز ہیں، ان کی یہ امامت بلا شک و شبہ حضرت ختمی مرتبت ۖ کی نبوت و رسالت کا تسلسل ہے لہذا ئمہ علیہم السلام حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بر حق جانشین اور ان کے وارث ہیں ، ان کے افعال آنحضرت ۖ  کے افعال شمار ہوتے ہیںشعراء کو ان حضرات   کی طرف سے اجر و پاداش کا ملنا گویا آنحضرت ۖ  کی جانب سے حوصلہ افزائی ہونا ہے بلکہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ خود حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس مقدس خاندان کے شعراء کے قدر دان ہیںملاحظہ فرمائیں .

  مقبل اصفہانی ایک معروف شاعر اھلبیت  عرض ارادت کیلیے عشرہ محرم الحرام پڑھنے کے قصد سے گلپائیگان کے راہی ہوئے، شب عاشور بہت گریہ کیا ، آنکھ لگ گئی عالم خواب میںاپنے آپ کو حرم امام حسین علیہ السلام کے صحن میںپایا ، متوجہ  ہوتے ہیںکہ صحن حرم کے ایک گوشہ میںایک اجتماع ہے گویا مجلس عزا کا سماںہے ، پوچھتے ہیں: یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملتا ہے ؛ یہ ابراہیم ، نوح ، موسی اور عیسی ( علی نبینا وآلہ علیہم السلام ) ہیںاور ان کے آگے آگے حضرت پیغمبر اسلام ۖ ہیں، مقبل اصفہانی آگے بڑھتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ حضرت پیغمبر اکرم ۖ اپنا سر مبارک اٹھا کر فرماتے ہیں، محتشم کا شانی کو لے آئیں ، محتشم حاضر ہوئے ان کا قد کوتاہ اور چہرہ بہت زیبا تھا آنحضرت ۖ نے فرمایا ؛ اس منبرپر جائو اور میرے حسین  کا مرثیہ پڑھومحتشم منبر کی نویںسیڑھی تک اوپر گئے وہاںکھڑے ہو گئے اور مرثیہ پڑھنا شروع کیا ، پڑھتے پڑھتے اس شعر پر پہنچے .

    بودند دیو و دد ھمہ سیراب و می مکید           خاتم زقحط آب سلیمان کربلا

یعنی کربلا میںحیوانات تک سیراب ہو رہے تھے لیکن افسوس کہ قحط آب کی مصیبت جوامت کی طرف سے اھلبیت کے لیے پیدا کردی گئی تھی اس کی وجہ سے سلیمان کربلا انگشتری منہ میںرکھے چوس رہے تھے !

یہ شعر سن کر حضرت پیغمبر ۖ اور دیگر انبیا ء سب نے گریہ کیا ، محتشم نے کہا :

          روزی کہ شد بہ نیزہ سر آن بزرگوار          خورشید سر بر ھنہ برآمد زکھسار

یعنی جس دن اس امام بزرگوار کے سر اقدس کو نیزے پر بلند کیا گیا اس دن پہاڑ کے اوپر سے خورشید سر برہنہ نمودار ہو ا. آنحضرت ۖ رقت بار ہوئے محتشم نے منبر سے اترنا چاہا تو آنحضرت ۖ نے فرمایا ؛ ابھی ذکر مصیبت سننے سے ہمارا دل نہیں بھرا مزید پڑھو ، محتشم نے اپنا عمامہ زمین پر پھینک دیا ، امام حسین علیہ السلام کی قبر اطہر کی طرف اشارہ کیا اور کہا :

 این کشتہ فتادہ بہ ھامون حسین تو است        ایںصید دست و پازدہ در خون حسین تو است

پیغمبر اکرم ۖ  نے بہت گریہ کیا اور پھر ایک بہترین خلعت سے محتشم کو نوازا .

      ( داستانھا و پندھا  ج ٥  ، ص ٥٠ ، ٢٨) ''بنقل عدد السنہ مجلس ٣٢)           

حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا یہ واقعہ یا ایسے دیگر چند واقعات اور ان کے بر حق اوصیاء کے متعدد واقعات اسی واقعیت کو ظاہر کرتے ہیںکہ امام حسین علیہ السلام اور اسی طرح دیگر تمام معصومین علیہم السلام کے بارے میںاشعار کس قدر مطلوب ہیںاور جب یہ عمل خاصان خداوند منان کے ہاںایسا فضیلت و منزلت والاعمل ہے تو یقینا ً خداوند متعال کے ہاںبھی نہایت مرتبہ کا حامل ہے .

 شعر اور معصومین علیہم السلام

اس گرانمایہ بحث کو ہم دو حصوںمیںاختصار کی رعایت کے ساتھ پیش کریںگے .

(الف) شعر و شاعری اور حبیب خدا حضرت محمد مصطفے ۖ(ب) شعر و شاعری اور دیگر معصومین .

(الف) بطور کلی اس بحث کی ضرورت اس لیے پیش آئی تاکہ اصل موضوع کی بحث سمجھنے میںسہولت اور آسانی رہے اور وہ اس طرح کہ جب ہم اس امر کے درپے ہیں کہ نگاہ معصومین علیہم السلام میںشعراور شاعری کا مرتبہ و مقام سمجھ سکیںتو ضروری ہے پہلے ہمیںیہ معلوم ہو کہ شعر اور شاعری کے ساتھ خود ان معصوم ہستیوں کا تعلق اور رشتہ و ناطہ کیا ہے ؟

پس خود خداوند کریم سے استمداد خاص کرتے ہوئے یوںعرض کرتے ہیںکہ پیغمبر ھدایت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے دور میںمبعوث ہوئے کہ جب شعر عربوںکی ہر محفل و مجلس کی زینت محسوب ہوتا تھا اور شعر گوئی ایک بر تر ھنر جانا جاتا تھا . شعراء زمان ممتاز حیثیت وشخصیت رکھتے تھے اور خلاصہ احوال آنکہ اس وقت کے معاشرے کا وہ دور شعر شاعری اور فصاحت و بلاغت کا دور تھا .

حضرت موسی علی نبینا وآلہ وعلیہ السلام جس دور میںھدایت خلق خدا کیلیے بھیجے گئے تو اس وقت سحر و جادو اپنے عروج پر تھا اور معاشرے میںجادوگر ممتاز ترین منزلت کے حامل تھے ، خدائے حکیم نے اپنے نبیۖ کو ایسی صفت دے کر بھیجا کہ جو صنعت سحر و ساحری کے ضعف کو انظار معاشرہ کے رو برو بر ملا کردے اور حکمت الہیہ کا تقاضا بھی یہی تھا . ورنہ حق جو لوگ کس  طرح نبی ۖ خدا کی حقانیت کو پا سکتے ، کس طرح اتمام حجت ہو سکتا اور لوگ سعادت ابدیہ کے حصول کے لیے ھادی حقیقی کی اتباع کرسکتے .

حضرت عیسی ٰ  اور دیگر سفیران الہی کے ادوار کے بھی جیسے جیسے تقاضے تھے خداوند کریم نے اپنی حکمت بالغہ کے عین مطابق ہمیشہ اپنے سفراء کو احوال و اوضاع پر غالب رکھا تاکہ لوگوںکی طرف سے خدا پر حجت باقی نہ رہے بلکہ خداوند کریم کی جانب سے حجت تمام رہے .

تو پس اس مرحلے میںیہ امر واضح ہو گیا کہ حکمت بالغہ الھیہ ہمیشہ ید اللہ فوق ایدیھم  کے اثبات پر منتج رہتی ہے اور یہ ناقابل تبدیل و تغییر سنت الہی ہے لھذا ایسے میںخاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بحث بھی اسی امر کی مقتضی تھی کہ خداوند غالب و قاھر اپنی قدرت و حکمت سے اپنے حبیب ۖ  کو اپنی سنت برقرار رکھتے ہوئے ایسی صفت کے ساتھ متّصف رکھے کہ رسول خدا ۖ اپنے معاصرین پر فائق و غالب رہیںاور ھدایت واضح و روشن رہے . اگر شعراء کے عروج کے دور میںپیغمبر خدا ۖ  بھی ایک شاعر کی حیثیت کے حامل ہوئے تو اسے مساوات تو کہا جا سکتا  لیکن یہ امر برتری و فوقیت کہلانا مشکل تھا اور مساوات کی صورت میںکوئی امتیازی حیثیت منوانا بھی صعب تھا لھذا کلام و بیان کی حکومت کے اس دور میںخداوند حکیم نے بھی اگر چہ کلام و بیان ہی کو اپنے آخری پیغبر ۖ کے سپرد کیا اور قرآن مجید نازل فرمایا لیکن اس کے باوجود اسی پیرائے اور اس انداز سے اپنی قدرت نمائی فرمائی کہ سب سے پہلے خود اپنے مرسل اعظم ۖ کے شاعر ہونے کی نفی فرمائی

لہذا ارشاد ہوا:

وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَا وَمَا یَنْبَغِیْ لَہ ان ھو الا ذکر و قرآن مبین ( سورة یس ؛ ٦٩) .

یعنی ہم نے اپنے پیغمبر کو شعر کی تعلیم نہیںدی ، قرآن شعر و شاعری نہیںبلکہ شعر و شاعری سے بالا تر ہے لھذا اس زندہ معجزہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مختصر ترین سورت جب شہر عکاظ کے سالانہ ادبی مقابلے میںرکھی گئی اور فصحا ء و ادبا ء زمان کے منتخب فاضل ادیب نے سب آثار دیکھتے دیکھتے اس مقدس کلام کی قرائت کی تو بے ساختہ کہہ اٹھا .   '' مَا ھَذَا کلام ُ البشر ''

واقعیت بھی ایسی ہی تھی کیونکہ یہ کلام خالق کا کلام تھا ، مخلوق کا کلام نہیںتھا . اس وقت کی قضاوت کا اعلان کھلم کھلا سمجھا رہا ہے کہ قرآن مجید فوق شعر ہے اور اس دور کی فصاحتوںاور بلاغتوںکی دسترسی سے بالاتر ہے . البتہ بعض مخالفین اس معجزانہ کلام کے عمق کو درک نہ کر پائے تو شعراور سحر کہنے لگے اور اس طرح در حقیقت اپنے جہل و عجز کو عداوت کا روپ دے کر شاعر و ساحر کی تعبیروںسے ظاہر کرنے لگے کہ امیرالکلام حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا بر حق فرمان اسی امر کا عکاس و غماز ہے کہ فرماتے ہیں''الناس اعداء ماجھلوہ '' ۔

( نھج البلاغہ کلمات قصار )          

جب دار الندوہ میںقریش ولید بن مغیرہ مخزومی کے پاس آئے تو اس نے ان سے سوال کیا کہ تم لوگ پیغمبر کے بارے میںکیا کہتے ہو ؟ کہنے لگے :  وہ شاعر ہے . ولید نے برھم ہو کر کہا ؛ ہم نے بہت اشعار سنے ہیںپیغمبر کا کلام اشعار جیسا نہیں. قریش نے کہا : وہ کاھن ہے . ولید نے کہا ؛ اس کی گفتگو کاھنوںکی گفتگو کے مانند نہیں. انہوںنے کہا . وہ دیوانہ ہے . ولید کہنے لگا . آپ لوگ اس کے پاس جاتے رہتے ہیںوہ دیوانوں کی طرح بھی نہیںہے . کہنے لگے ؛ پس وہ ساحر ہے . ولید نے پوچھا سحر کیا ہے؟ کہنے لگے ؛ ساحر یعنی ایسا انسان جو دوستی کو دشمنی اور دشمنی و عداوت کو لوگوںکے درمیان دوستی میںتبدیل کردے . اس نے کہا تو پھر رسول خدا ساحر ہے . لیکن وہی ولید تھا کہ جب اس نے رسول خدا ۖ کی زبان مبارک سے قرآن کریم کی تلاوت سنی تو کہنے لگا '' یہ کلام کسی بشر یا جن کا کلام نہیںہو سکتا اس کے کلام میںایسی حلاوت اور مٹھاس ہے جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ کلام دوسرے ہر کلام سے بہتر و برتر ہے اور اس سے بہتر کوئی اور کلام نہیںہو سکتا .

اسی زمانے میںکہ جب علم بیان کی صنعت شعر و شاعری اپنے اوج و کمال کو چھورہی تھی ایک ایسے برحق پیغمبر ۖ الہی کا مدعی ہو نا اور اپنے دعوی کی دلیل کے طور پر قرآن کریم کو پیش کر نا، قرآن کریم ایسی مقدس کتاب جس کے ایک مختصر سے سورے کے مقابلے میںبڑے بڑے فصحاء و بلغاء عرب عاجز آگئے ہو ںاور دوسری طرف وہی برحق پیغمبر اپنے مختصر کلمات اور مفصل خطبات میںایسی فصیح عربی پیش کر رہے ہوںکہ جملہ رائج فصاحتیںاور بلاغتیںجھک جھک کرزانوئے ادب تہہ کر کے سلام و احترام کر تی ہوں، انصاف اور حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ ان صفات سے متصف فرستادہ الہی شخص کو اس کی مقدس کتاب کے فاقد شعر ہے جس کا اعتراف فصحا ء عرب کر رہے ہیں. حضرت پیغمبر اکرم ۖ کے بارے میں اس باب میںایک فارسی محقق دانشمند یوںرقمطراز ہیں کہ '' آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم '' سے مختلف مناسبتوںپر خطابات تو بہت نقل ہوئے ہیںلیکن شعر نقل نہیںہوا . (قصہ ء منظوم کربلا  مقدمہ صفحہ ١٧، استاد نظری منفرد )

جبکہ بحارالانوار  میںآنحضرت ۖ سے بھی ابیات و اشعار اندک تعداد میںمنقول ہیںخواہ خود حضرت ۖ  کے ہوںیا دیگر شعراء کے اور فقط حضرت نے مختلف موقع پر بطور استنادو اقتباس نقل فرمائے ہوں، بہر حال اشعار موجود ہیںاور ظاہرا ً بعض اشعار کا لھجہ یہ بتاتا ہے کہ خود آنحضرت کے شعر ہو ں جیسے :

            انا      النبی     لا       کذب              انا   ابن  عبد    المطلب

                  ھل انت الااصبح دمیت             وفی سبیل اللہ مالقیت

(معجم اشعار المصومین  الواردہ فی بحا ص ٤٣)                 

جو بات قطعی و حتمی ہے وہ یہ کہ قرآن مجید خداوند متعال کی جانب سے نازل ہونے والی کتاب ھدایت ہے اور حضرت ختمی مرتبت ۖ کے اشعار پر مشتمل کتاب نہیں ہے بلکہ اس کے اندر موجود کلام الہی اشعار سے بالاتر ہے .

اس حصے کی بحث کا دوسرا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ معارف الہی کی ترویج اور اھل بیت علیہم السلام کی مدح و مرثیہ میں شاعری حبیب خداۖ کے نزدیک بھی محبوب ہے . پیغمبر خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نھج الفصاحہ میںفرماتے ہیں: 

ان من البیان لسحر اً وان من الشعرلحکماً وان من القول عیا ً وان من طلب العلم جھلا. یعنی بعض بیانا ت جادو سا اثر رکھتے ہیں، بعض اشعار میںحکمت ہو تی ہے ، بعض گفتار لکنت رکھتی ہیں ۔

( رھگشای انسانیت ترجمہ ، نھج الفصاحہ ص ٢٨٥)             

اسی طرح فرماتے ہیں:

الشعر بمنزلة الکلام فحسنہ حسن الکلام و قبیحہ قبح الکلام .

یعنی شعر سخن و کلام کی طرح ہے پس اچھا شعر اچھا کلام اور برا شعر برا کلام ہے (ایضاً ).

قال ۖ : لان یمتلی جوف رجل قیحاً خیر لہ من ان یمتلی شعراً ْ.

برے شعر کی غیر مطلوبیت کے بارے میںارشادفرماتے ہیں: کسی شخص کا شکم میل کچیل سے پر ہو تو اس سے بہتر ہے کہ وہ برے شعر سے بھرے .''

اسی طرح میزان الحکمہ میںصحیح مسلم سے یہ حدیث منقول ہے کہ حضرت ۖ فرماتے ہیں:

اشعر کلمة تکلمت بھا العرب کلمة لبید

الا کل شی ئٍ ما خلا اللہ باطل . (میزان الحکمة مجلد ٢ ص ١٤٦٣)

ان چند احادیث سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ حضرت پیغمبر اکرم ۖ شعر کے محتوی ٰ کے پیش نظر اس کو اچھے اور برے یا مفید ومضر دو قسموں میںتقسیم فرماتے ہیںاچھے شعر کو حکمت آمیز اور برے یا مضر شعر کو قبیح اور میل کچیل سے بد تر قرار دیتے ہیں. توحید کا پر چار کرنے والے اشعار  وابیات کو باشعور ترین کلمہ اور صادق ترین قول قرار دیتے ہیںاور دوسرے ایک بیان میںاچھے اور تبلیغی شعر کو زبان کے جہاد کا مرتبہ فرمایا ہے او رفرماتے ہیں کہ مومن شاعر کے اشعار ایسے تیروںکی طرح ہیں جو دشمن کی طرف پھینکے جاتے ہیںلھذا مومن شاعر مجاھد فی سبیل اللہ ہے۔

  ان المومن مجاھد بسیفہ ولسانہ والذی نفسی بیدہ لکانما ینضجونھم بالنبل . (میزان الحکمہ ح ١٠٢٢.بنقل از نور الثقلین ٤، ٧٠، ١٠٥)

اسی بناء پر خدا کے رسول ۖ حسان بن ثابت سے فرماتے ہیں:

 اھج المشرکین فان ّ جبرئیل معک .

یعنی مشرکین پر ( اپنی مجاھدانہ شاعری کے ذریعے ) حملہ کردے بے شک جبرائیل آپ کے ساتھ ہیں             ( میزان الحکمہ بنقل از در منثور ٦، ٣٣٦)       

اس فرمان ذیشان میںگویا آنحضرت ایسی مجاھدانہ شاعری کو دشمن دین کے مقابلے میںکاری اسلحہ کا درجہ دے رہے ہیں.

بحث کے اس گوشے کے اجمالی ذکر کے بعد یہ گوشہ عیان کر دینا ضروری ہے کہ اھل بیت علیہم السلام کے بارے میںشاعری کو حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت پسند فرماتے ہیں دیگر معصومین علیہم السلام کے مصائب توآنحضرت کے بعد پیش آئے لیکن پھر بھی معلوم ہوتا ہے کہ معصومین علیہم السلام کی مدح خوانی اور مرثیہ خوانی رسول خدا کے نزدیک بہت منزلت رکھتی ہے وارثان رسالت کے اس باب میںبہت عمدہ بیانات موجود ہیں جو اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیںاور ہماری اس مختصر سی کا وش میں تشویق و ترغیب کے عنوان کے تحت ہونے والی بحث میںمقبل اصفہانی معروف شاعر اھلبیت سے محتشم کا شانی والامذکو ر واقعہ اسی امر کو روشن کررہا ہے کہ آنحضرت خود فرمارہے ہیں کہ ؛ منبر پر جائو اور میرے حسین کا مرثیہ پڑھو ، اس مرثیہ کے سننے سے بہت گریہ کرنا اور پھر اس شاعر کو خلعت سے نوازنا ایسے اشعار کی مطلوبیت و محبوبیت کی ہی دلیل ہے .    ( عدد السنة مجلس ٣٢)       

(ب)اب اس گرانمایہ بحث کے دوسرے حصے میںمختصر طور پر داخل ہوتے ہیں.

شعر و شاعری اور دیگر معصومین علیہم السلام

یہ بحث بھی اپنے محتویات کے پیش نظر بہت وسیع دامنہ رکھتی ہے لیکن ہم کوشش کرتے ہیںکہ مختصر انداز میںجامع مطالب پیش کر سکیں.

یہ حقیقت مد نظر رہے کہ حضرات معصومین علیہم السلام تمام کے تمام نور واحد ہیںایک کاکلام سب کا کلام ہے لھذا ضروری نہیںہے کہ مرتب طور پر ایک ایک معصوم علیہ السلام کے فرامین اس باب میںنقل کیے جائیں.

قال الصادق علیہ السلام . ما قال فینا قائل بیتاً من الشعر حتی ّ یئوید بروح القدس .

( مصابیح الھدی ص ٢٩٩ ، عیون اخبار ١، ٧ ، ینابیع الحکمہ ٣، ٢٧٥، ١)           

یعنی شعر کہنے والا ہمارے بارے میںجو شعر بھی کہتا ہے اس میںروح القدس کی تائید و نصرت ضرورشامل حال ہوتی ہے ۔

معصوم علیہ السلام کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعر اھلبیت کس قدر فضیلت رکھتا ہے کہ اس مقدس امر میںروح قدس کی بلافاصلہ تائید وامداد حاصل ہوتی ہے . جب معصوم علیہم السلام اپنے شعراء کو بلوا کر مجالس کے انعقاد کا اھتمام کر واتے تھے ، شعراء کو شعر پڑھنے کی دعوت دیتے ، خود سنتے ، اہل پردہ کے لیے بھی انتظام فرماتے کہ سنیںاور پھر شعراء کو انعامات و الطاف سے نوازنا یہ سیرئہ عصمت بہت کثرت سے قابل دید ہے .

کمیت بن زید معروف شاعر اھلبیت  کہتے  ہیں. حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میںشرفیاب ہوا حضرت  فرمایا : اے کمیت ! خدا کی قسم اگر ہمارے پاس کچھ مال ہوتا تو اس میںسے ہم تمہیںدیتے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ حسان ( شاعر بزگوار ) کو فرمایا تھا میںتمہارے بارے میںوہی کہتا ہوںکہ جب تک ( شعر و شاعری کے ذریعے ) ہمارا دفاع کرتے رہو گے ، روح القدس تمہارے ساتھ ہوگا  . ( مصابیح الھدی ص٣٠٢)      

اسی کمیت کو اھلبیت  کی خدمت کے نتیجے میںان کے ہاںاپنا مقام معلوم تھا لھذا اس قدر خدمت کی او راس قدر مجاھدت کی کہ مخالفین برداشت نہ کرسکے . اشعار کمیت جب ھشام بن عبد الملک کے کا نوںتک پہنچے تو اس نے والی کوفہ خالد کے نام خط لکھا جس میںیہ دستور دیا کہ کمیت کو گرفتار کر کے اس کے ہاتھ پائوںکا ٹ دو '' اس کا سرتن سے جدا کردو ، اسکا گھر ویران کر دو اور اس کے ویران گھر میں اس کے بدن کو تختہ دار پر لٹکا دو .

                          (قصہ منظوم کربلا مقدمہ ، ص١٨، بنقل از الغدیر ٢، ١٩٤)      

خصوصی الطاف

مشہور حدیث ہے کہ '' انما الاعمال بالنّینات ''یعنی اعمال کا دارو مدار اور نیتوںپر ہے . اگر نیت خالص ہو گی تو عمل بھی خالص ہو گا . اور پھر خالص عمل قبولیت سے فاصلہ نہیںرکھتا . اول تاریخ سے ہمارے اس دور تک ان گنت شعرا ء کرام حضرات معصومین  علیہم السلام کے الطاف خاصہ حاصل کر چکے ہیں۔

آئمہ علیہم السلام کے دور میںموجود شعراء پر انواع واقسام کے خصوصی الطاف کی باران رحمت و رأفت ہوتی رہی اور غیبت کبری کے اس دور میں بھی نگاہ عصمت کے فیوضات اسی طرح سے جاری و ساری ہیں . اس زمانے کی بھی بہت مثالیںتاریخ نے ابپنے سینے میںمحفوظ کر رکھی ہیںاور اس دور میںبھی تسلسل کے ساتھ ایسے نمونے تاریخ نے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں. فارسی کی ایک معروف ضرب المثل '' مشت نمونہ از خروار '' کی صداقت کے پیش نظر ایک معروف اشعار کے مشہور شاعر کی رثائی شاعری کے نقطة آغاز کا سچا واقعہ قلمبند کرتے ہیں. ایسا شاعر کہ جس کے کہے ہوئے اشعار جمھوری اسلامی ایران  میںخصوصا ً ایام عزا کے دوران مسجد و امامبارگاہ بلکہ ہر گھر اور گلی کوچوںمیںسیاہ پارچوں اوربینروںپر خاص و عام کی نظروںاور توجہات کو اپنی جانب جذب کرتے دکھائی دیتے ہیں.

                    '' باز این چہ شورش است کہ در خلق عالم است ''

                  ترجمہ   '' کیسا غوغا ہے یہ پھر خلق جہاںمیںیکسر ''

جی ہاںہماری مراد شاعراھلبیت  محتشم کا شانی   ہیں ملاحظہ فرمائیں:

'' عالم خواب میںمحتشم اپنے آقا ومولا حضرت علی علیہ السلام کی زیارت کے شرف سے مشرف ہوئے تو مولا نے فرمایا :حسین علیہ السلام کے لیے مرثیہ کیوںنہیںکہتے ہو ؟

عرض کی :یا امیر المومنین  ! حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب بے حد ہیںاس لیے نقطئہ آغاز نہیںمل پارہا اور متحیر ہوںکہ کس مصیبت سے شروع کروں؟مولا  نے فرمایا ؛ کہو     

                     باز این چہ شورش است کہ در خلق عالم است

محتشم خواب سے بیدار ہوئے تو اسی کادوسرامصرع کہہ رہے تھے کہ

                   ' باز این چہ  نوحہ و   چہ عزا  و چہ ماتم است 

یہ دو مصرعے ( ایک بیت ) محتشم کے بارہ بندوںپر مشتمل مرثیہ کا مطلع ٹھرے . یہ خوش قسمت شاعر اپنے آقا و مولا  کی ھدایت کے مطابق اس عظیم دینی خدمت میںمشغول تھا کہ اسی تسلسل میںایک مصرعہ کہا :

                     ھست از ملال گرچہ بری ذات ذوالجلال

اور پھر بیت ہونے کیلیے اس کے دوسرے مصرعے میںحیران و پریشان ہوگیا کہ ایسا کیا مصرع کہا جائے و مقام ذوالجلال کے سزاوار ہو ، حتی ٰ کہ حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف وسلام اللہ علیہ کی جانب سے دستیگیری نصیب ہوتی ہے اور خواب میںمحتشم کو امر ہوتا ہے کہ اس مصرع کا ثانی یہ کہے :

''اودر دل است و ھیچ دلی نیست بی ملال ''

پس بیدار ہوئے اور بیت مکمل کرلیا . ( کشکول احمد قاضی زاھدی ص ٢٤٢)

جی ہاںخوشنودی خداوند کریم کیلیے اس کی مقرب ہستیوںکی مداحی ومرثیہ نگاری کی شان ، عظمت او رمنزلت کس قدر انفرادیت کے ساتھ قابل صدر شک ہے کہ پہلے پہل امام اول علیہ السلام ایک شاعر کا ہاتھ پکڑ کر حضرت سید الشھداء علیہ السلام کے غم کی عظمت اور جہانگیر وسعت بیان کرنے کیلے پہلا مصرع عطا فرمارہے ہیںاور آگے جا کر پھر مشکل پیش آتی ہے تو مولا امیر علیہ السلام کے مشکل کشا فرزند حضرت امام زمان علیہ السلا م ایک اور مصرع عطا فرما کر مرثیہ مکمل کرنے میں مشکل کشائی فرمارہے ہیں.

یہیںسے ہم یہ نتیجہ بھی لے سکتے ہیں کہ فقط احکام فقہ ہی کو یہ امتیاز حاصل نہیںکہ اگر ایک فقیہ بزرگوار و نامدار ایک حکم فقہی کی تحقیق و تبیین میں مشکل کا شکار ہوتے ہیں تو انہیں ہی راہنمائی ہو تی ہے بلکہ اھلبیت علیہم السلام کے مخلص شعراء کرام کو بھی ایسے الطاف سے نوازا جاتا ہے ۔

بعض کو اس انداز میںاور بعض کو دوسرے طور اطوار سے کہ ان کی نگاہ لطف کی برکت سے کلام عطا ہو جیسا کہ مثلاً شہر یا ر کو ہوا  اور وقت کے ایک آیة .. العظمی ( مرعشی نجفی  ٰ) عالم خواب میںحرم امیر المومنین علیہ السلام میںاپنے اس فارسی ایرانی شاعر کی مولا امیر علیہ السلام کی جانب سے وہ تکریم مشاھدہ کریں۔

وہ حیرت زدہ ہو کر اظہار کریںکہ یہ کلام تو ابھی تک کسی کو بھی پڑھ کر نہیںسنایا ، آپ کو کیسے اس کا علم ہو گیا تو وہ قصہ ء اکرام و قبولیت امام علیہ السلام سنا کر اس شاعر کو اشکبار کر دیں. مطلع یہ تھا .        

     علی ای ھمای ِ رحمت تو چہ آیتی خدا را       (زندگی نامہ محمد حسین شھر یا ر )

جی ہاں کسی شاعر کو امام معصوم علیہ السلام کی طرف سے متبرک پیراہن عطا ہو رہا ہے تو کسی کو دیگر عطائوںسے نوازا جارہا ہے او رسب کو بیاض حیات کے حسن ختام اور آباد و شاد آخرت کے مژدے سنانے جارہے ہیں.

ہاںیہ حقیقت بھی فراموش او رتشنہ ء ذکر نہ رہے کہ یہ خصوصی الطاف اھل ایمان و اھل ولا شعراء کیلیے ہیںلیکن اگر کوئی غیر اھل ولا بھی کسی معصوم علیہ السلام کے بارے میںفضیلت یا مصیبت کا تأثر کے ساتھ کوئی شعر کہتا ہے تو اس کو بھی اجر و ثواب سے محروم نہیں رکھا جاتا البتہ اس فرق کے ساتھ کہ ایسے شاعر کو اس دنیا میںاس کے مرنے سے پہلے اس کا اجر دے کر فارغ کردیا جاتا ہے تاکہ آخرت میں اولیاء الہی سے کچھ مطالبہ نہ کرسکے . لیکن جہاںتک اھل ولا شعراء کی مدحی ورثائی شاعری کا تعلق ہے تو کسی حدیت میںایک بیت (شعر) کے بدلے میںایک بیت (گھر) دیے جانے کی خوشخبری سنائی جارہی ہے جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:   من قال فینا بیت شعر بنی اللہ تعالی لہ بیتاً فی الجنة .

 یعنی جو شخص ہمارے بارے میں ایک شعر کہے تو خداوند متعال اس کے لیے جنت میںایک گھر تعمیر فرمادیتا ہے .( عیون اخبار الرضا ١، ٧)

                      مدح اھلبیت میںمومن کہے گر  ایک  بیت

                     اپنی جنت میںاسے دے رب اکبر ایک بیت

او رکسی حدیث میں ایک گھر تو کیا ایک شعر کی پاداش کے طور پر ایک شھر عطا فرمانے کی ضمانت دی جارہی ہے .جیسا کہ امام رضا علیہ السلام کا فرمان ذیشان ہے کہ فرمایا :ما قال فینا مؤمن شعرا یمدحنا  الا بنی اللہ تعالی لہ مدینة فی الجنة اوسع من الدنیا بسبع مرات یزورہ فیھا کلّ ملک مقرب وکل نبی ئٍ مرسل۔ (مصابیح الھدی ص٣٠٠ بنقل از ینابیع الحکمة ج ٣ ، ص ٢٧٥)

امام ھشتم علیہ السلام فرمارہے ہیں: جو مومن ہمارے متعلق ایک شعر بھی کہتا ہے اور اس طرح ہماری مدح وثنا کرتا ہے تو خداوند متعال جنت میںاس کے لیے ایک شہر تعمیر فرمادیتا ہے کہ جو پوری دنیا سے سات برابر وسیع ہے اوراس شہر میںخداوند عالم کا ہر مقرب فرشتہ اور ہر نبی مرسل اس شاعر کی زیارت کے لیے آئے گا .

   شعر اک گر مدح اھلبیت  میں مومن کہے      نہ فقط اک گھر ملے بلکہ مدینہ ہو عطا .

                                                      والحمد للہ کما ھو اھلہ

فہرست منابع

١۔  قرآن مجید                              ٢۔  نہج البلاغہ                       ٣۔  کشکول  احمد زاھدی

٤۔  المفردات فی غریب القرآن              ٥۔  مجمع اشعار المعصومین  (بحار )       ٦ ۔  رجال کشی

٧۔  عمدة الطالب دی انساب آل ابیطالب      ٨۔  داستانھا و پندھا                   ٩۔  قصہ منظوم کربلا

١٠۔  رھگشای انسانیت ترجمہ نھج الفصاحہ       ١١۔  میزان الحکمة                     ١٢۔  عدد السنة

١٣۔  مصابیح الھدی                       ١٤۔  عیون اخبار الرضا علیہ السلام     ١٥ ۔  زندگی نامہ محمد حسین شھر یا ر

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عرض تسلیت

         بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان )  حوزہ علمیہ مشہد مقدس کی جانب سے اپنے ہر دلعزیز دوست جناب مولانا مجاہد علی مطہری کی دوران جوانی میں ناگہانی وفات حسرت آیات کی مناسبت سے حضرت امام رؤف ، حضرت امام زمان علیہما السلام اور مرحوم و مغفور کے والدین ان کی اہلیہ اور تمام پسماندگان کو تسلیت پیش کی جاتی ہے ۔ خداوندمنان سے ان کی مغفرت اور رفعت مرتبت کے طلبگار اور قارئین کرام سے سورہ فاتحہ کے خواہشمند ۔۔۔ بزم رأفت

  یہ پھول اپنی لطافت کی داد پائے گا              

حضور مولا  میں کھل کھل کے مسکرائے گا              

استاد محمد علی جوہر کے مختصر حالات زندگی

  جوہر شہید کربلا کی پیاس یاد کر

صلوٰة پڑھ ، سبیل پی، عباس  یاد کر

نام  :  آپ کا نام نامی سید محمد علی شاہ رضوی اور والد بزرگوار کا اسم گرامی سید علی شاہ رضوی ہے ۔

ولادت  :  آپ ٣  اگست  ١٩٣٠ھ بمطابق ١١ جمادی الاول بروز جمعة المبارک کو اپنے آبائی وطن کوٹ ڈی جی خیر پور میرس سندھ میں متولد ہوئے ۔

آغاز شاعری  :  موصوف شروع ہی سے خداداد استعداد اور عمدہ ذوق سے بہرہ مند تھے خصوصا ً اہل بیت علیہم السلام کی مدح و رثاء میں شاعری کو بہت پسند فرماتے تھے خصوصاً عزاداری کی شاعری سے ایک خاص لگاؤ تھا ۔

آپ کے آبائی علاقے میں ١٩٤٥ھ میں عشرہ محرم الحرام میں تعزیہ برآمد کرنے پر جب حکومت وقت کی طرف سے سخت پابندی لگادی گئی تو آپ نے عزاداران حسینی کے ہمراہ اپنی عقیدت و ارادت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے تعزیہ برآمد کیا جس کے نتیجے میں انہیں سینٹرل جیل بھیج دیا گیا ۔ شاید آپ کا یہ پرخلوص مجاہدانہ عمل خداوندکریم کو پسند آگیا اور قرآن کریم میں یہ عہد الٰہی ہے کہ ( والذین جاھدو ا فینا لنھتدینھم سبلنا) یعنی جو لوگ ہماری خاطر جہاد کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنی راہوں کی راہنمائی کریں گے ۔ اس مخلص سیّد کو خداوندمنان نے خدمت اہل بیت علیہم السلام کا ایسا صلہ دیا کہ انہیں تادم آخر اس مقدس گھرانے کی مخلصانہ خدمت نصیب رہی اور وہ آل رسول ۖ کے مصائب دلسوز نوحوں کے روپ میں منظوم کرتے رہے

تشویق و ترغیب :  استاد حاجی بنی بخش نے موصوف میں موجود شاعری کے خفیہ جوہر اجاگر کرنے میں بہترین کردار ادا کیا اور ان کی صلاحیت کو درک کرتے ہوئے '' جوہر '' کے تخلص سے نوازا۔

مختصر عرصے میں جوہر  کے نوحے صوبہ سندھ سے تجاوز کرکے پاکستان بھر میں مجالس و جلوس میں مشہور ہونے لگے۔

استاد جوہر کے شاگر  :  استاد موصوف نے خدمت اہل بیت علیہم السلام کے سلسلہ کو تداوم بخشا اور اس طرح شعرائے غم میں اضافے کا سبب بنے ان کے شاگردوں میں سید نذر عباس شاہ نذر، مرید عباس مرید ، سید مجاہد شاہ، سید اختیار شاہ اختیار (ببرلو) ، سید افضل شاہ  وغیرہ شامل ہیں ۔

نوحہ خوان انجمنیں پارٹیاں :  تقریبا ٰ ً ساٹھ بڑی انجمنیں فقط استاد جوہر  کے نوحے پڑھتی تھیں، علاوہ از این موصوف کے نوحے دنیا بھر میں پڑھے جاتے ہیں ۔

مشہور نوحہ خوان حضرات اور استاد کی شاعری  :  استاد جوہر خود بھی رثائی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ نوحہ خوان تھے ۔ ان کے نوحے پڑھنے والے مشہور نوحہ خوانوں میں استاد کریم بخش حاجانو عرف استاد کمن ، محسن شاہ ، سید رضا عباس شاہ، مختار علی شیدی  وغیرہ شامل ہیں ۔

ازدواجی زندگی  :  استاد جوہر نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کیں دونوں میں سے ہر ایک سے چار بیٹے اور تین بیٹیاں عطا ہوئیں ۔ خداوندمتعال ان سب کو سلامت رکھے اور وہ راہروان اہل بیت علیہم السلام میں شامل رہیں ۔

تاریخ رحلت  :  ٧٨برس کی کامیاب زندگی گزارنے کے بعد یہ مخلص خادم اہل بیت علیہم السلام  ٢٥ شعبان  ١٤٢٩ھ بروز جمعرات بمطابق ٢٨ اگست ٢٠٠٨ئ کو داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے چاہنے والوں کو سوگوار کرگئے ۔

 خدا بخشے بحق آل احمد ۖ جانے والے کو

استاد کے نوحوں کے چند نمونے : استاد جوہر نے سرائیکی زبان میں ان گنت نوحے لکھے اور اس کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی توفیق رفیق رہی ۔

ہم ان دونوں زبانوں کے مشہور نوحوں سے چند نوحوں کے مطلع بطور نمونہ پیش کرتے ہیں ۔

    اردو کے چند نوحے : 

   پردہ دنیا کو سکھانے والی آئی بازار میں زینب     گھر سے باہر بھی نہ آنے والی آئی بازار میں زینب

   جگ سارے میں جنت کے سرداروں کا ماتم             اللہ کی قسم دین کے غم خواروں کا ماتم

اعلان ہوا قیدی بازار میں آتے ہیں                   خوش ہوکے سبھی شامی بازار سجاتے ہیں

   کیا شام غریباں کی پردرد کہانی ہے                 جنگل ہے بیاباں ہے خیمے میں نہ پانی ہے

   کربل کے مسافر کو کبھی بھول نہ جانا                     زینب کے برادر کو کبھی بھول نہ جانا

سرائیکی کے چند نوحے :

   سولہ سومیل مک گئے آگئی بازار شام اے

  ام لیلی منگی دعا روکے میڈے اللہ سجاد  وس پووے

  خط مولا حسن  دا آیا ہے

  تربت وچ رو نہ سکینہ  دھی میڈاہے وعدہ میں ول آساں

تسلیت :  ہم بزم رأفت(انجمن شعر و ادب ) مشہد مقدس کے مسؤلین واراکین اس شاعر بزرگوار کی رحلت پر شہنشاہ دوراں حضرت امام زماں علیہ السلا م اور ان کے جملہ سوگواروں کی خدمت میں تسلیت عرض کرتے ہیں ۔

خداوندکریم انہیں حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے خصوصی الطاف کے زیر سایہ محشور فرمائے ۔ آمین

آہ جوہر

خدمت آل عبا   کا کیا شرف تھے شاہ جوہر                 نوکری کی  مخلصانہ  زندگی بھر  واہ جوہر

خود   اب  آل عبا  کے  زیر سایہ جا بسے                 مومنوں کو داغ فرقت دے گئے ہیں آہ جوہر

پیام رأفت شماره 3 حصه نظم(جشن میلاد کوثر و جشن مولود کعبه )

                 وجہ خلقت کائنات ،سبب معرفت پروردگار ،  بضعة الرسول، کفو ولایت ، مادر امامت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ہر سال کی طرح امسال بھی ایک عظیم ''جشن میلاد کوثر ''منعقد ہوا جس کا مصرعہ طرح یہ تھا :

  مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا نے پائی ہے

شاعر :  جناب سبط محمد رضوی صاحب

طرحی کلام

نسیم  صبح  یثرب مژدۂ  عرفان  لائی ہے                ولائے سیدہ نے ہم  کو  کیا عظمت دلائی ہے

ولائے سیدہ  کی بات جب ہونٹوں پہ آئی ہے            قلم کاغذ نے  میری فکر کی  ہمت  بڑھائی ہے

شعور آگہی نے جب سے ان کی معرفت پائی       مری نظروں میں دولت اس جہاں کی کب سمائی ہے

ترے گھرمیں نبوت اور امامت نے کیے سجدے           یہیں پر تو فرشتوں نے  جبیں  اپنی  جھکائی ہے

رسالت  اور  امامت کا وہ محکم راہنما بن کر              کساء میں وہ  بلندی  کی سند زہرا  نے پائی ہے

فضائل اور  فضیلت  کا وہ روشن مجموعہ بن کر              مقام و  منزلت کی کیا  عطا  زہرا  نے پائی ہے

در زہرا  پہ آتے ہیں فرشتے بھی گدا بن کر             سخی زہرا  کی روٹی تو فرشتوں نے بھی کھائی ہے

کھڑی ہے سر  جھکائے آیۂ تطہیر چوکھٹ پر               مقام و  منزلت کی کیا  عطا  زہرا  نے پائی ہے

فرشتہ موت کا رکتا نہیں ہے ایک پل کو بھی                 مگر یہ  منزلت حسنین   کی مادر نے  پائی ہے

در زہرا  کے رتبے کی بلندی کا یہ عالم ہے                  یہاں پر پرورش حسنین سے بچوں نے پائی ہے

قیامت تک تحفظ کے لیے ہاتھوں کو پھیلائے                 شریعت سر جھکائے فاطمہ  کے در پہ آئی ہے

ظہور عصمت زہرا  پہ جبریل امیں بن کر                             مبارک  باد  کا   باد  صبا  پیغام  لائی ہے

علی  ہیں ساقی کوثر پسر سردار جنت ہیں                 زمیں سے آسماں تک فاطمہ  کی راہنمائی ہے

حسین  بن علی  نے کربلا میں اپنا سر دے کر               محمد مصطفی  ۖکے  دین کی عزت  بچائی ہے

کمر بستہ ہیں پھر اسلام کے دشمن زمانے میں            شریک  فاتح  خیبر  دم  مشکل  کشائی ہے

پہنچ  کر جنت شبیر  میں اہل عزا بولے                     جو آنکھوں نے لٹائی تھی وہ دولت کام آئی ہے

مکین عرش زہرا کی غلامی کا شرف پاکر              کبھی جھولا جھلائے ہیں کبھی  چکی  چلا ئی ہے

بہانے لے کے مسکینی یتیمی اور اسیری کے                در زہرا کی اکثر قدسیوں نے روٹی کھائی ہے

تری عظمت کے پھر کیوں کر قصائد نہ پڑھے خالق          نبی  نے  احتراما ً  بارہا  چادر  بچھائی ہے

یہی کافی ہے بس اپنی شفاعت کے لیے سبط

غلام مرتضی کی آپ کے در تک رسائی ہے

شاعر :  جناب عابد علی بھوجانی گجراتی صاحب

طرحی کلام

  کبھی کوثر کا سورہ تو کبھی تطہیر کی آیت                  زبان کبریائی میں ثنا  زہرا نے پائی ہے

  مسیحائے زماں پائے شفا زیرکساء آکر                  ردا بھی باخدا معجزنما زہرا نے پائی ہے

  پسر حسنین بابا مصطفی ۖشوہر علی  جیسا                   مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا نے پائی ہے

یہ عابد بھی سر محفل علی الاعلان کہتا ہے

کہ کیا نور الہی کی ضیا  زہرا نے پائی ہے

شاعر :  جناب الفت حسین جویا صاحب

طرحی کلام

مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا  نے پائی ہے            اٹھے تعظیم کو صدقے میں جس کے کل خدائی ہے

مرے ناقص گماں میں اس سے بڑھ کر یہ بڑائی ہے      نہ ہوتیں گر نہ ہوتے وہ سبب جن کے خدائی ہے

نبی  ۖکے گھر ظہور سیدہ پر رب کی جانب سے                      بہ  شکل سورۂ کوثر مبارک باد آئی ہے

نہ کوئی دے سکے گا طعنۂ ابتر پیمبر ۖ  کو                       بقاء نسل احمدۖ  کی ضمانت بن کے آئی ہے

یہ وہ ملکہ ہے الفت عالم امکان کے اندر                  وہاں تک سلطنت اس کی جہاں تک کبریائی ہے

پدر شوہر پسر سب سید وخود سیدہ زہرا            نسب میں بھی حسب میں بھی عجب توقیر پائی ہے

وہ جس کو باپ نے ام ابیھا کی سند دی ہو                  بجز  زہرا  زمانے  میں نہ بیٹی  ایسی آئی ہے

بتا کر بضعة منی یہ سمجھایا زمانے کو                   کہ زہرا  میرے جسم و جان و منصب کی اکائی ہے

نبی کی کل وراثت کی ہیں تنہا سیدہ وارث                  بہن ہے  فاطمہ   کی  بعد پیغمبر ۖنہ  بھائی ہے

فدک لینے نہیں ان غاصبوں کو تا قیام حشر                   ذلیل  و  خوار  کرنے  کو سر دربار آئی ہے

زمیں پر بیٹھ کے اہل کساء کی پاک محفل میں             فرشتوں سے خدا کی گفتگو ساری سنائی ہے

سجی جب فرش پر بزم کساء اس وقت خالق نے          فرشتوں  کی سر عرش بریں محفل سجائی ہے

پڑھی یہ منقبت رب نے کہ اے کروبیو سن لو                   محبت میں کساء والوں کی یہ دنیا بنائی ہے

کہا جبریل نے یہ کون ہیں چادر تلے یا رب ؟              جہاں دیکھو گھٹا اک نور کی ہر سمت چھائی ہے

نداآئی کہ یہ ہیں پاک پنجتن ایک زہرا  ہے                دو بیٹے اس کے اک بابا اور اک احمدۖ کا بھائی ہے

یہ جانیں شیخ جی کیا خوب و بدہے ہم تو یہ جانیں              نہ ہو گر الفت زہرا  تو نیکی بھی برائی ہے

جناب شیخ کی منطق میں دونوں ہیں رضی اللہ               لٹے ہیں جو لٹیرے بھی دہائی ہے دہائی ہے

شمع کو آندھیوں میں چھوڑ کربھاگیں جو پروانے                وفاداری نہیں ہے یہ یقینا بے وفائی ہے

چلا اک غار میں اک کو سلاکر اپنے بستر پر                      بتایا مصطفی ۖنے یار کیا ہے کون بھائی ہے

جو بوڑھا پاس پیغمبر ۖکے روئے مانند طفلاں              خدارا سوچیئے عظمت ہے یہ یا جگ ہنسائی ہے

بڑی تیزی سے پھیلی جارہی ہے ناصبیت پھر              بچو اے اہل دیں اس سے یہ بیماری وبائی ہے

غریب کربلا کی ماں دعائیں اس کو دیتی ہیں         خلوص دل سے جس نے بھی صف ماتم بچھائی ہے

مقدر کا سکندر ہوں میں الفت عالم ذر سے

نصیبوں میں عقیدت فاطمہ زہرا  کی پائی ہے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

(قطعہ)

یوں تو سب اہل بیت  ہی جان رسول  ۖہیں                    میزان حق ہیں، دیں کے حقیقی اصول ہیں

دوہستیوں کو بضعة سرور ۖ کا ہے شرف                         اک حضرت رضا ہیں اک حضرت بتول ہیں

(قطعہ)

رسول  ۖزندہ ہے آل رسول  زندہ ہے                        خدا کے دین کا ہر اک اصول زندہ ہے

فدک کو چھیننے والوہوا ہے کیا حاصل                           جہان بھر میں جو دیکھو بتو ل  زندہ ہے

(قطعہ)

نوری ہستی خاکیوں میں آکے پنہاں ہوگئی                     فاطمہ  کی منزلت پر عقل حیراں ہوگئی

لب ہیں ساکت اور نقوی کا قلم بے جان ہے                  ہوکے بیٹی اور اپنے باپ کی ماں ہوگئی

(قطعہ)

کون و مکاں میں بسنے والو غور کرو تو دیکھو                 ہو توفیق تو دیکھ سکوگے اک اک بات قدر کی

خالق کی خلقت کو دیکھو خالق کے کیا کہنے          سورج ایک ہے چاند ہیں بارہ ایک ہے رات قدر کی

طرحی کلام

مشاکل میں بہت ناد علی  بھی کا م آئی ہے                 عنایت فاطمہ  کی اس سے بڑھ کر آزمائی ہے

جہانوں کے لیے رحمت کی خاطر وہ ہی رحمت ہےعطا کیا منفرد سی اس کی قسمت میں ہی آئی ہے

خدا نے پانچ تن کے نور کو پہلے کیا ظاہر                پھر اس کے سامنے مخلوق کی محفل سجائی ہے

جہاں پر انبیاء  کے دل ، کلیجے کا نپ جاتے ہیں             وہ نگری فاطمہ زہرا   کے بیٹے نے بسائی ہے

نبوت انبیاء   کی پایۂ تکمیل تک پہنچی                            مودت اور محبت فاطمہ  کی کام آئی ہے

وہ سرتاج رسالت اٹھ کے استقبال کرتے تھے     کہ جب بھی باپ کی خدمت میں بیٹی چل کے آئی ہے

جب اتری آیۂ تطہیر تو دہلیز زہرا   پر                             نبی ۖ نے نو مہینے تک یہی آیت سنائی ہے

اے کلمہ گو ترے اسلام پر کیوں شک نہ ہو مجھ کو         وہی دہلیز بے دردی سے خود تونے جلائی ہے

وہ کتنا بے خبر تھا آگ لے کر آرہا تھا جو                      حقیقت میں تو آتش اپنی ہستی کو لگائی ہے

کہ چوکھٹ فاطمہ   کے گھر کی اس رفعت کی حامل ہے کہ سرور ۖ نے اجازت مانگ کر ، رک کر بتائی ہے

خدیجہ  کا بہت خرچہ ہوا دیں کی اشاعت میں           جو حفظ دیں کے کام آئی وہ زہرا   کی کمائی ہے

مجب نے گر خداوند کے معاصی سے فراہم کی                وہ آتش فاطمہ  کی پاک الفت نے بجھائی ہے

لگے گی کل حکومت فاطمہ  کی روز محشر میں                  شفاعت تو خدا نے بہر زہرا   ہی بنائی ہے

بنی ہے جب کوئی مشکل آئمہ  پر تو ملتا ہے               کہ اپنی ماں کا دے کر واسطہ مشکل ہٹائی ہے

امام عسکری  فرماتے ہیں ہم سب پہ حجت ہیں            ہماری ماں مگر ہم پربھی حجت بن کے آئی ہے

ہے سر خالق کے سجدے میں تو قدموں میں خدائی ہے    مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا  نے پائی ہے

بضاعت ہے مری مزجاة لیکن جو ہے خالص ہے             تری مدحت فریضہ جان کر میں نے سنائی ہے

نگاہ لطف اے خاتون جنت ،افضل امت                     میں شیعہ ہوں ترا اور میری فطرت ہی ولائی ہے

فرشتوں کو بھی چاہوں تو بلا لوں اپنی نصرت کو             غلام فاطمہ زہرا  کی اتنی تو رسائی ہے

اے نقوی تیری بخشش کی ضمانت یہ ہی کافی ہے 

در زہرا ئے اطہر  کی ملی تجھ کو گدائی ہے

٭٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

          عشق نے جوہر کوثر سے قصیدہ لکھا             میں نے قرطاس پہ بس اپنا عقیدہ لکھا

          خلد جب عید پہ حوروں نے سجائی اطہر          جاکے جبریل نے ہر پھول پہ زہرا  لکھا

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

(قطعہ)

نور ہی نور ہیں فاطمہ                          جلوہ طور ہیں فاطمہ

ہر کوئی کیسے مدحت کرے               رجس سے دور ہیں فاطمہ

(قطعہ)

       دین احمدۖ در جہان باشد نظام آخرین                    چون بود آئین او قرآن کلام آخرین

        گر محمد  ۖاسوہء کامل پئے مردان بود               فاطمہ زھرا  پئے نسواں پیام آخرین

طرحی کلام

میرے لب  پہ ثنائے مدحت زہرا   جو آئی ہے                     رضائے کبریا کا مژدہ اپنے ساتھ لائی ہے

وجود سیدہ  ہے خلقت افلاک کا باعث                        انہیں کے نور سے یہ صبح عالم جگمگائی ہے

نزول رحمت رب رحمة للعالمیں ۖکے گھر                    کہ گویا ہرطرف سے رحمتی برسات چھائی ہے

اٹھیں تعظیم کو خود مرسل اعظم ۖ تلک جس کی               مقام و منزلت کی کیا عطاء زہرا نے پائی ہے

کہاں سبط  کہاں مدح وثنائے فاطمہ زہرا 

یہ لفظ و فکر کی خود ان کے در سے بھیک پائی ہے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب نیر جلالپوری صاحب

اپنی ماں کہہ کے پکارے جسے خود باپ اس کا        ایسا  دنیا  میں کسی  بیٹی کو   رتبہ نہ  ملا

جس  کی  چادر  میں  نظر آئے بہتر پیوند               اس کی چادر میں کہیں ایک بھی دھبہ نہ ملا

٭٭٭

(قصیدہ)

مریم  ہیں  ہاجرہ  ہیں  نہ  سارا  ہیں  فاطمہ             قد آئینوں کے پست ہیں بالا ہیں فاطمہ

قدرت  نے جو  دیا ہے  و ہ تحفہ ہیں  فاطمہ              معراج  مصطفیۖ کا  نتیجہ ہیں فاطمہ

پرچھائیں بھی نہ دیکھی کبھی دن کی دھوپ نے             نکلا  نہ  جو  ردا  سے  وہ  چہرہ ہیں فاطمہ

بے  حد  و  بے  شمار  علی  کی  فضیلتیں               ان سب میں  ایک  اور اضافہ ہیں فاطمہ

گودی میں لے کے فخر سے جھومیں نہ کیوں رسول         کل  ز ندگی  کی  ایک  تمنا  ہیں  فا طمہ

وہ  گھر کہ جس کے  در  کی سوالی  ہیں جنتیں            جو  رزق  بانٹتا ہے  وہ  فاقہ ہیں  فاطمہ

خیبر  شکن  کے واسطے  پیسی  ہیں  چکیاں              مشکل  کشا  علی  کا  سہارا  ہیں  فاطمہ

حیدر ہیں  وہ  نماز  شجاعت  نے  جو  پڑھی             عصمت نے جو کیا ہے وہ سجدہ ہیں فاطمہ

پہنچی  خدا  کے گھر سے یہ نسبت نبی کے گھر         اترا جو آ سماں سے  و ہ  رشتہ  ہیں فاطمہ

لہجہ  وہی  مزاج   وہی  گفتگو  وہی                          قرآں  علی ہیں  نہج بلاغہ  ہیں  فاطمہ

جب آگئیں بتول کھڑے ہوگئے رسول                               ثابت  ہوا  کہ  ام  ابیھا  ہیں  فاطمہ

مانا کہ  انبیاء سے  سوا پائے ہیں لقب                   پھر بھی ہر اک لقب سے زیادہ ہیں فاطمہ

سوروں میں ڈھل گئی جو وہ تحریر ہیں  علی           مانگا  جو  آیتوں نے  وہ  لہجہ ہیں فاطمہ

لو  استخارہ  کرکے یہ  عقدہ بھی کھل گیا                  قدرت سے گفتگو  کا  وسیلہ  ہیں  فاطمہ

رضوان لے کے  آگیا حسنین کے لباس                 اب  تو  کہو  خدا  کا  ارادہ  ہیں  فاطمہ

مرکز سے  ٹوٹ سکتا نہیں  دائروں کا ربط                معصوم  سب  دلیل  ہیں  دعوی ہیں فاطمہ

پیکر میں ڈھل گئی  ہے  مشیت  کی روشنی        تطہیر  کی   ردا   کا   اجالا   ہیں   فاطمہ

آؤ  رسول  پاک  یہ  منظر  بھی دیکھ لو                 دربار  میں  ہجوم  ہے  تنہا   ہیں   فاطمہ

ٹوٹی  ہوئی  ہے  آج  تلک جنت البقیع                پہلو  تمہارے  اب  بھی  شکستہ ہیں فاطمہ

یوں بھی کتاب کرب وبلا کا ہے اک ورق                بے  شیر  ہیں  علی  تو  سکینہ  ہیں فاطمہ

جو  پڑھ  لیا  زمانے نے وہ  مرثیہ حسین                لکھا  نہ  جا سکا  جو  وہ  نوحہ  ہیں  فاطمہ

نیر  مری زباں  کوئی قرآن  تو نہیں 

  میں کس طرح بتاؤں بھلا کیا ہیں فاطمہ

٭٭٭٭٭

شاعر : جناب رضا سرسوی صاحب

(ماں)

موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں        تب کہیں جاکر رضا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں

موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں      جب پریشانی میں ہوں بچے تڑپ جاتی ہے ماں

جاتے جاتے پھر گلے بچے سے ملنے کے لئے              توڑ  کر  بند کفن  باہوں کو  پھیلاتی ہے ماں

روح کے رشتوں کی یہ گھرائیاں تو دیکھئے                   چوٹ  لگتی ہے  ہمارے اور چلاتی ہے ماں

بھوکا سونے ہی نہیں دیتی یتیموں کو کبھی      جانے کس کس سے کہاں سے مانگ کر لاتی ہے ماں

ہڈیوں کا رس پلاکر اپنے دل کے چین کو                   کتنی ہی  راتوں  کو خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں

جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول                  آنسووں کے  ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں

ماردیتی ہے طمانچہ گر کبھی جذبات میں                  چومتی ہے لب کبھی  رخسار سہلاتی ہے  ماں

کب ضرورت ہو مِری بچے کو اتنا سوچ کر                       جاگتی رہتی ہے ممتا اور سوجاتی ہے ماں

گھر سے جب پردیس کو جاتا ہے گودی کا پلا                ہاتھ میں قرآں لئے آگن میں آجاتی ہے ماں

دیکے بچے کو ضمانت میں رضائے پاک کی                   سامنا جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں

لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم           ڈال کر باہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں

ایسا لگتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں             کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں

دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں             ریت پہ مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں

مرتے دم بچہ نہ آئے گھر اگر پردیس سے                 اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں

حال دل جاکر سنا دیتا ہے معصومہ کو وہ                    جب کسی بچے کو اپنی قم میں یاد آتی ہے ماں

تھام کر روضے کی جالی جب تڑپتاہے کوئی                ایسا لگتاہے کہ جیسے سر کو سھلاتی ہے ماں

گمرہی کی گرد جم جائے نہ میرے چاند پر                      بارش ایمان میں یوں روز نھلاتی ہے ماں

اپنے پہلو میں لٹاکر روز طوطے کی طرح                         ایک بارہ پانچ چودہ ہم کو رٹواتی ہے ماں

عمر بھر غافل نہ ہونا ماتم شبیر سے                        رات دن اپنے عمل سے ہم کو سجمھاتی ہے ماں

دوڑ کر بچے لپٹ جاتے ہیں اس رومال سے               لیکے مجلس سے تبرک گھر میں جب آتی ہے ماں

یاد آتا ہے شب عاشور کا کڑیل جواں                    جب کبھی الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھاتی ہے ماں

اللہ اللہ اتحاد صبر لیلا اور حسین                            باپ نے کھینچی سناں سینے کو سہلاتی ہے ماں

سامنے آنکھوں کے نکلے گر جواں بیٹے کا دم                  زندگی بھر سر کو دیواروں سیٹکراتی ہے ماں

سب سے پہلے جان دینا فاطمہ کے لال پر                      رات بھر عون ومحمد سے یہ فرماتی ہے ماں

یہ بتا سکتی ہے بس ہم کو رباب خستہ تن                 کس طرح بن دودھ کے بچے کو بھلاتی ہے ماں

شمر کے خنجر سے یا سوکھے گلے سے پوچھئے            ماں ادھر منھ سے نکلتاہے ادہر آتی ہے ماں

اپنے غم کو بھول کر روتے ہیں جو شبیر کو                 ان کے اشکوں کے لئے جنت سے آجاتی ہے ماں

باپ سے بچے بچھڑجائیں اگر پردیس میں                کربلا سے ڈھونڈنے کوفے میں خود آتی ہے ماں

جب تلک یہ ہاتھ ہیں ہمشیر بے پردہ نہ ہو                       ایک بہادر باوفا بیٹے سے فرماتی ہے ماں

جب رسن بستہ گزرتی ہے کسی بازار سے                          ایک آوارہ وطن بیٹی کو یاد آتی ہے ماں

شکریہ  ہو  ہی  نہیں  سکتا  کبھی  اس  کا  ادا   

مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں

٭٭٭٭٭

جشن مولود کعبہ

شاعر :  جناب سبط محمد رضوی صاحب

جب علی  کے فضائل سنانے لگے                                    خلد میں مصطفی ۖ مسکرانے لگے

یہ علی  کی ولادت ہے ہر بام و در                                             خانۂ کعبہ کے جگمگانے لگے

یہ ہی وارث ہیں قرآن کے دیکھ لو                                            آتے دنیا میں قرآں سنانے لگے

خم کے منبر سے اعلان جب ہوگیا                                          لوگ بخ کے نعرے لگانے لگے

جو بھی بیٹھا ہے محفل میں خاموشی سے                      ان کو حیدر کے نعرے جگانے لگے

ایک ٹھوکر سے مردے کو زندہ کریں                                         لوگ اس طرح اسلام لانے لگے

ہاں در سیدہ کا ہے یہ مرتبہ                                                 جس پہ جبریل قرآن لانے لگے

یہ بھی تسبیح زہرا  کا اعجاز ہے                                  میرے گھر بھی ملک آنے جانے لگے

جس کی تعلیم کا ہے شرف اس قدر                                   فضہ جنت کھانے منگانے لگے

جس کا رومال حر کا مقدر بنے                                        حر کو جنت کے رضواں بلانے لگے

یہ بھی زہرا کی عظمت کا اعجاز ہے                                  جس کا رشتہ ستارے بتانے لگے

سبطتیرے قصیدے کا کیا ہے مکاں

خلد میں یہ مکاں خود بنانے لگے

شاعر:  جناب نیر عباس رضوی صاحب

تیرہویں تاریخ ہے عصمت کا منظر دیکھیے                            خانہء معبود میں نفس پیمبر  دیکھیے

کس کے استقبال پر یہ کھل کھلا اٹھی جدار                       بن گیا ہے خانہء حق میں نیا در دیکھیے

بند کرتے تھے جسے چالیس پہلوانوں کے ہاتھ                  ہے وہی دو انگلیوں پر باب خیبر دیکھیے

آپ کے ہیں پاؤں دوش عصمت کونین پر                           اپنی عظمت اے ابوطالب  کے دلبر دیکھیے

کل ایماں ملیںمیںگی ہر نبی کی خصلتیں                     جس نبی کو دیکھنا ہے روئے حیدر  دیکھیے

 خوف سے جس کے یہ بت سب منھ کے بل گرنے لگے   اس کو کہتے ہیں شجاعت کا سمندر  دیکھیے

لب پہ من کنت کا صیغہ دست میں دست علی                       کون ظاہرہے غدیر خم کا منبر  دیکھیے

کیا بتاؤ ںزور حیدر کیا بتاؤ ںذوالفقار                                   باب خیبر دیکھیے جبریل کا پر  دیکھیے

مدح مولا کی بدولت ہم کو عزت مل گئی

بندہ پرور آپ نیر کا مقدر  دیکھیے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب نیر جلالپوری صاحب

یہ کم نہیں علی کی فضیلت کے واسطے                         گھر دے دیا خدا نے ولادت کے واسطے

قرآن پاک نہج بلاغت کے واسطے                                    آئینہ جیسے رکھا ہو صورت کے واسطے

ہیں اہل خلد بھی جہاں خدمت کے واسطے                    ہم خاکسار ہیں وہاں مدحت کے واسطے

روشن ہے مصحف رخ مولائے کائنات                                           قرآن آرہا ہے تلاوت کے واسطے

چاندی سخاوتوں کی علی بانٹتے رہے                               سونا بچا لیا شب ہجرت کے واسطے

مدح علی سنائیے بچوں کو رات دن                                نسخہ بتا رہاہوں ذہانت کے واسطے

چہرا علی کا سورہ رحمان کی قسم                                   کام آگیا تعارف قدرت کے واسطے

میثم فراز دار سے اعلان کرگئے                                   دل چاہیے علی سے محبت کے واسطے

جو پوچھنا ہو مجھ نکیرین پوچھ لو                                  اب آگئے علی مری نصرت کے واسطے

مل جائے گا لٹی ہوئی آنکھوں کو اعتبار                           موسی چلو نجف کی زیارت کے واسطے

اے بوریا نشیں ترے در کا فقیر ہوں                                  رضواں اٹھا نہ مجھے جنت کے واسطے

نیر  علی کے نام کی کرنوں سے بھیک مانگ                 سورج کے پاس کیا ہے تری چھت کے واسطے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

نبوت کے دکھائے معجزے تو وہ نبی ۖ ہوگا                       نبیۖ کہہ دے وصی جس کو یقینا وہ وصی ہوگا

بتوں کو جھکنے والوں کو نہ کم عقلو ولی کہنا              خدا کے گھر سے آئے جو وہی حق کا ولی ہوگا

٭٭٭

کوئی فضیلت بھی لے کے دیکھو تو کہہ اٹھو گے                  فضیلتوں کے صدف کا گوہر علی ولی ہے

خدا کے گھر میں ہوا ہے نقوی نزول جس کا                         بتول  عذرا   کا  پاک شوہر علی  ولی ہے

٭٭٭

گر دیکھنا چاہو کبھی میزان ولایت                                        ہے حیدر و صفدر کی ولا جان ولایت

جو منکر حیدر ہے وہی شخص ہے ناداں                           ناداں کو سمجھ آئے گی کیا شان ولایت

٭٭٭

دعائیں مانگو خدا سے علی  کے صدقے میں                           گنہگاروں کو کتنا معاف کرتا ہے

طواف کرتے ہیں حاجی تو خانہ کعبہ کا                                  یہ خانہ کعبہ علی  کا طواف کرتا ہے

٭٭٭

فرصت ہے زندگی کی مناجات کے لیے                               تو فیق مانگتاہوں تو اک بات کے لیے

مولا علی  کو دیکھ کر کہدوں میں قبر میں                          چھوڑی ہے دنیا تیری ملاقات کے لیے

٭٭٭

ہر شخص کو تاریخ میںحیدر   نہیں کہتے                                     ہم رتبہ کوئی اور بہادر نہیں کہتے

وہ جس کا صدف خانۂ کعبہ سا مکاں ہو                                 جز مولا علی   کے کوئی گوہرنہیں کہتے

وہ جس میں ہر اک خوبی ، مگر خامی نہیں ہے                         ہم اس کے سوا اور کو رہبر نہیں کہتے

فرمودہ پیغمبر اکرم  ۖکے مطابق                                         جز حیدر  و صفدر کوئی محور نہیں کہتے

انصاف و عدالت کے تقاضوں کے مطابق                                   ہم ادنی و اعلی کو برابر نہیں کہتے

اک عمر جھکیں لوگ جو اصنام کے آگے                               چہرہ کبھی ہم ان کا منور نہیں کہتے

تم سب کی تساوی کے ہو قائل تو رہو ، ہم                             جولاہوں کو ہم پایۂ قنبر نہیں کہتے

ہم غالی نہیں ، عالی ہی عالی ہیں اے لوگو                     مخلوق کوئی نور سے بہتر نہیں کہتے

تاریک ہے وہ دل ہو جہاں بغض علی   کا                            ظلمت کدہ ہم کوئی منور نہیں کہتے

فرمان پیمبر ۖ پہ ہے ایمان ہمارا                                        ہم غیر علی ساقی کوثر نہیں کہتے

جو بستر احمد ۖ پہ بڑے چین سے سوئے                        حیدر  کے سوا کوئی بھی دلبر نہیں کہتے

ہاں سید فصحاء عرب ہے مرا آقا                                  بڑھ کر کوئی حیدر سے سخنور نہیں کہتے

نقوی  کو پلا آب ولا ساقی کوثر                                  ہم پیاسے ہر اک ظرف کو ساغر نہیں کہتے

شاعر  :  جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

تعلیم  ہمہیں  ہے  میر  ے  مو  لا  کی  محبت         انسان کی فطرت  میں  عقیدت  ہے  علی   سے

بنتا  ہے  وہی  شخص  کا لانعام  کا   مصداق         پڑھ پڑھ کے بھی جس دل میںعداوت ہے علی سے

شاعر:  جناب ریحان بنارسی صاحب

بام کعبہ سے اٹھی جو کالی گھٹا مے گذاری کا مجھکو بہانا ملا

سوچتے سوچتے راستے مل گئے ڈھونڈتے ڈھونڈتے بادہ خانہ ملا

جس میں ویرانیوں کے سوا کچھ نہ تھا وہ چمن بھی بڑا دلبرانا ملا          

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سیر کرتی ملی جس طرف دیکھا موسم سہانہ ملا          

جب چلا لے کے شوق زیارت مجھے چلتے چلتے وہ نوری ٹھکاناملا

ہاں تمنائے دیدار پوری ہوئی ملنے والا مگر غائبانہ ملا

جس کی مدحت کرے ساکنان جناں رشک سے دیکھے جس کا مکاں لا مکاں        

ایسا  اشرف  نہ  پایا  کوئی  خانداں  اتنا  طاہر  نہ  کوئی  گھرانہ  ملا        

(قصیدہ)

علی  پہ تہمت لگا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

رسول ۖ کا دل دکھا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

نبیۖ نے جس کو وصی بنایا بڑھایا حق نے وقار اس کا          

تم اس کی عظمت گھٹا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا          

علی بنے خم میں سب کے مولا کسی کا اس میں ہے کیا اجارہ 

بلا سبب تاؤ کھا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

ہوئی جو حیدر  کی تاج پوشی تو اس میں صدمے کی بات کیا ہے             

فضول آنسو بہا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا              

علی ہیں اعلی علی ہیں اولی علی ہیں دونوں جہاں کے مولا

یہ سن کے کیوں طلملا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

تمہاری طینت میں ہے خرابی نہ تم حسینی نہ بوترابی           

ہمیشہ تم بے وفا رہے ہو  کوئی سنے گا تو کیا کہے گا            

تمہارے رہبر جو کہہ گئے ہیں اسی کو دوہرارہے ہو تم بھی

سنی سنائی سنارہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

دیا زمانے کو جس نے پردہ رسول کہتے تھے جس کو زہرا            

تم اس کے گھر کو جلا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا            

یہ کیسی آخر بہادری ہے گئے ہو میداں میں جس سے لڑنے

اسی  کو  پیچھا  دکھا  رہے  ہو  کوئی سنے  گا تو کیا کہے گا

٭٭٭٭٭

 

شاعر :  جناب آغا سروش حیدرآبادی صاحب

در زہرا  کی جانب کہہ کے یہ بڑھنے لگا تارا           چلو اب آسمانوں سے ذرا اوپر نکلتے ہیں

٭٭٭٭٭

کیوں وقت گنواؤں طلب جاہ میں مولا                   سب کچھ ہے میسر تر ی درگاہ میں مولا

شاعر ہے ترا صرف تری داد کا طالب                     ہے  نشہ کوثر تری ایک واہ میں مولا

٭٭٭

اے ساقی سلمان میں کچھ سوچ رہاہوں              دے  ساغر عرفان  میں کچھ سوچ رہا ہوں

ہے ذہن پہ احساس ارے نہج بلاغت                     کھولے ہوئے قرآن میں کچھ سوچ رہا ہوں

٭٭٭

اپنی جبیں پہ مل کے در فاطمہ  کی گرد                             تارا چلا ہے جھاڑ کے ارض وسما کی گرد

یوں عرش پر گئے وہ پیمبرۖ سے پیش تر                             رف رف کو بھی ملی نہ رہ مرتضی  کی گرد

پہنچی جوآسمان پہ تو کہکشاں بنی                                   جھاڑی جو بوتراب نے اپنی قبا کی گرد

لگتاہے عرش پر ترا دربار یا علی                                      یہ تخت و تاج تو ہیں ترے کفش پا کی گرد

پائی نہیں فضائل حیدر  کی گرد بھی                                  اس دوڑ میں بہت اڑی فہم و ذکا کی گرد

ہوں منزلیں نہ کیوں مرے قدموں میں یا علی                       ہے خضرراہ مجھ کو ترے کفش پا کی گرد

منھ کو کفن سے ڈھانپ کے جاتے ہیں اس لیے                    راہ عدم میں ہوتی ہے ہر دم بلا کی گرد

ہاتھوں سے اپنے صاف کیا بوتراب نے                            تربت میں میرے رخ پہ جو دیکھی فنا کی گرد

محشر میں خود رسول ۖ  بڑھے پیشوائی کو                          دیکھی جو میرے سر پہ رہ کربلا کی گرد

افشاں سمجھ کے مانگ میں حوروں نے ڈال لی                  باغ جناں میں پہنچی جو فرش عزا کی گرد

ہر دم رہے صفائی ذہن و دل و نظر                                       ان آئینوں پہ جمنے نہ پائے انا کی گرد

کیوں تابناک ہو نہ مقدر ترا سروش                                       ماتھے پہ ضوفشاں ہے در فاطمہ کی گرد

 

شاعر :  جناب رضا سرسوی صاحب

فقیروں کا ہے کیا چاہے جہاں بستی بسا بیٹھے               علی  والے جہاں بیٹھے وہیں جنت بنا بیٹھے

فراز دار ہو مقتل ہو زنداں ہو کہ صحرا ہو                             جہاں ذکر علی  چھیڑا وہیں دیوانے آبیٹھے

کوئی موسم کوئی بھی وقت کوئی بھی علاقہ ہو                جلی عشق علی  شمع اور پروانے آبیٹھے

علی  والوں کا مرنا بھی کوئی مرنے میں مرنا ہے     چلے اپنے مکاں سے اور علی  کے در پہ جا بیٹھے

ادھر ہم نے کیا رخصت ادھر آئے علی  لینے                یہاں سب رورہے ہیں ہم وہاں محفل سجا بیٹھے

ابھی میں قبر میں لیٹا ہی تھا اک نور سا پھیلا                    مری بالیں پہ آگر خود علی مرتضی بیٹھے

ادب کے ساتھ میں نے سر رکھا مولا کے پیروں پر           کہا مجھ سے سناؤ بوذر و سلماں بھی آ بیٹھے

علی  کے نام کی محفل سجی شہر خموشاں میں تھے جتنے بافاوہ سب کے سب محفل میں آبیٹھے

صدارت کے لیے تشریف لے آئے ابو طالب                 چچا  کے  پاس  آکر خود  محمد مصطفی ۖ بیٹھے

علم عباس  کا آیا زیارت کو ملک اٹھے                      علم کے سائے میں جتنے تھے ماتم دار آ بیٹھے

عزاداروں کے مرنے کا ہے بس اتنا سا افسانہ      کہ جیسے کوئی مسجد سے عزا خانے میں جا بیٹھے

یہ کون آیا کہ استقبال کو سب انبیاء  اٹھے             نہ بیٹھے گا کوئی تب تک نہ جب تک فاطمہ  بیٹھے

نظامت کے لیے مولا نے خود میثم کو بلاوایا              وہ لہجہ تھا کہ سب دانتوں تلے انگلی دبا بیٹھے

عزادارو ں کے نعروں نے رضا ایسا سماں باندھا

کہ  خود  مولا  بھی  اپنے  نام کا نعرہ لگا بیٹھے

٭٭٭٭٭

پیام رأفت شماره 3 حصه نظم (جشن عشق و وفا، ظہور نور،  کرم و سخا)

  جشن عشق و وفا

شاعر :  جناب نیر عباس رضوی صاحب

جن کا غم حسین سے ہی واسطہ نہیں                             محشر میں ہوگا ان کا کوئی پیشوا نہیں

دیںگے صدا فرشتے کہ اے دشمن حسین                        دوزخ کی رہ گذر کے سوا راستہ نہیں

روزہ نماز حج و زیارت ذکاة سے                                          بن حب اہل بیت  کوئی فائدہ نہیں

 باغ فدک کو چھین نے والے توہی بتا

وارث رسول ۖ پاک کی کیا فاطمہ   نہیں

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

دل کی نگری پہ ولایت کا علم رکھتے ہیں                  ہاتھ میں شاہ کی مدحت کا قلم رکھتے ہیں

مشکلیں رستے سے گھبراکے پلٹ جاتی ہیں             یا علی  کہہ کے جونہی ایک قدم رکھتے ہیں

٭٭٭

کیا جو کچھ غور میں نے نقوی قضاوتیں ساری کہہ رہی تھیں

 نبی ۖ  کا  د لبر ، علی   کا یاور مقام کتنا متین ہو گا

ہر ایک حسن و جمال مجھ کو دکھائی دیتا تھا رشک کرتا  

حسن  کا بھائی ، حسین  نامی امام کتنا حسین ہوگا

٭٭٭

دوش سرور ۖ پہ تلاوت کی جو عادت کی ہے              پاک شبیر  نے رفعت پہ عبادت کی ہے

روکے کہتے تھے ملائک سبھی سبحان اللہ               نوک  نیزہ  کی بلندی پہ تلاوت کی ہے

٭٭٭

خواب و خیال و ذکر میں جنت کی دھوم ہے                        رکھتے ہو جب کہ شیخ عداوت حسین  کی

جنت کی فکر دل میں پنپتی ہے کس طرح                             سرور ۖ بتاگئے ہیں ہے جنت حسین  کی

 

قربان کرکے پیاس کویوں فتحیاب ہے                             اب تا بہ ابد سینۂ دریا کباب ہے

تاشام روز حشر وفائوں کے سامنے                            شرمندگی سے پانی کا ہر قطرہ آب ہے

٭٭٭

دریائے عطش ایسے بہائے لب دریا                          اٹھتی ہیں ہر موج کے دل سے یہ صدائیں

اے شاہ وفا تو نے مسخر کیا ہم کو                                اب راج کریں حشر تلک پاک وفائیں

٭٭٭

دنیا کے زیب و زین سے آزاد کہتے ہیں                             تبلیغ حق کی دلنشیں فریاد کہتے ہیں

زندان کو رلادے جو صبر جمیل سے                                   نقوی اسی کو حضرت سجاد  کہتے ہیں

٭٭٭

مزاج صبر زین العابدیں  کی وہ ہوئی ہیبت                    گلے کا طوق نوحہ خوان بن کر بین کرتا ہے

صدائے ماتم مظلوم زنجیروں سے آتی ہے                    یزیدیت کو یہ منظر بہت بے چین کرتا ہے

٭٭٭

شاعر  :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

جن کے دلوں میں تازہ ہے عشق علی کی آگ                    ان کو جلانہ پائے گی کوئی کہیں کی آگ

یہ عاشق حسین ہے کیا وقت کا خلیل                        جس کے حضور برد وسلامت میں ڈھلی آگ

عشق حسین ہے کہ جو فطرت کو بدل دے                       ورنہ  کہیں  سنا ہے کہ گلزار بنی آگ

شعلوں سے گذر جاتے ہیں ہم عشق علی میں                   ہم  کونہیں پروا کہ ہے یہ پھول کلی آگ

سبط   تیرا  کلام  منافق  کے  واسطے

ہر حرف ہے کانٹا تو ہر اک لفظ چھری آگ

٭٭٭٭٭

 

شاعر :  جناب رضا سرسوی صاحب

ہم تو دو کوڑی میں بھی بک جانے کے قابل نہ تھے          الفت  شبیر  نے  انمول  ہیرہ کردیا

ہم غریبوں کے عزا خانے میں آئیں فاطمہ               اس عزا داری نے ہم کو کتنا اونچا کردیا

٭٭٭

متحد رکھے ہے کل قوم کو تسبیح عزا                             ڈور ٹوٹے گی تو دانے بھی بکھر جائیں گے

مچھلیاں زندہ کہاں رہتی ہیں پانی کے بغیر                    ہم غم شہ سے جدا ہوں گے تو مر جائیں گے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب فیاض رائبریلوی صاحب

مسیحائی نثار اس شخص پرسو بار ہوجائے                        جو عشق عابد بیمار  میں بیمار ہوجائے

یہ ممکن ہی نہیں وہ خلد کا حق دار ہوجائے                     کسی سے بنت پیغمبر  اگر بے زار ہوجائے

دیا ہے فکر کو عشق علی  کا واسطہ میں نے                            تعجب کیا اگر نوک قلم تلوار ہوجائے

وہاں سے طائر مدح علی  پرواز بھر تے ہیں                        خیال و فکر کا پنچھی جہاں لاچار ہوجائے

وہ جنگ کربلا ہو یا کہ صلح حضرت شبر                          ہے مقصد آدمی کو آدمی سے پیار ہوجائے

بہت جلد آرہا ہے اک جری تیغ علی  لے کر                      جسے بچنا ہو وہ سرور  کا ماتم دار ہوجائے

کہیں اک ساتھ گر عباس  اور اکبر  نکل جائیں                     تو بازار مدینہ مصر کا بازار ہوجائے

اسے عباس  کہتے ہیں جو دریائے شجاعت میں               فقط دوہاتھ میں اس پار سے اس پار ہوجائے

علی  کے نقش پا پر مل لے دیوانے جبیں اپنی                 عجب کیا ہے کہ تو بہلول سا ہشیار ہوجائے

در مولائے  بوذرہی فقط دنیا میں وہ در ہے

جہاں مجبور بھی آجائے تو مختار ہوجائے

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب نیر جلالپوری صاحب

جو مشیتوں کا ہے رازداں وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

جسے سجدہ کرتا ہے آسماں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

جو خدا کے دیں کا ثبات ہے جو نبوتوں کی حیات ہے             

جو شہید ہوکے ہے جاوداں وہ حسین ہے وہ حسین  ہے            

وہ اذان میں وہ نماز میں وہی کائنات کے راز میں

وہ ثبوت خالق کن فکاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

وہ جو بی بی بنت رسول ہے جو عظیم ہے جو بتول ہے            

وہی شاہزادی ہے جس کی ماں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے            

کبھی مقتلوں کی زمین پر تو کبھی شفق کی جبین پر

جو لہو نے لکھی ہے داستاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

وہ خدائے کن کی کتاب ہے وہ سوال ہے وہ جواب ہے            

جو خموشیوں کی بھی ہے زباں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے            

جوچراغ بن کے جلا کیا وہ جو آندھیوں سے لزا کیا

جو اندھیری شب میں ہے ضو فشاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

کوئی پوچھے سجدے کے طول پر کہ ہے کون پشت رسول پر           

وہی جان سجدہ ہے بے گماں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے           

جہاں جھک کے ملتی ہیں رفعتیں جہاں رزق پاتی ہیں غربتیں

جو فرات ہے پئے تشنگاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

وہ کریم ابن کریم ہے وہ ہر اک بشر سے عظیم ہے           

وہ ہے مونس دل بیکساں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے           

بڑی عاجزی سی ہے ذکر وہ نہ آئے گا حد فکر میں

وہ ہے اک فضیلت بیکراں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

مرے نطق و حرف کی آبرو مری خامشی مری گفتگو          

وہ امام نیر  خستہ جاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے          

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

تیرا سجدہ تری مسجد ترا کعبہ سجاد                              ہر عبادت میں ہے روشن ترا چہرا سجاد

اک طرف عظمت توریت و زبور و انجیل                                  اک طرف تیری دعاؤں کا صحیفہ سجاد

سو صحیفے ترے خطبے کے تقدس پہ نثار                     تونے کوفے میں بھی بدلا نہیں لہجہ سجاد

سب کے سب ہیں ترے کنبے کی جلالت پر گواہ                  سنگ اسود ہو صفا ہو کہ ہو مروہ سجاد

سر کے بل چلتا ہے کعبہ ترے پیچھے پیچھے                           تیرا ہر نقش قدم ایک مصلی سجاد

کہکشاں ہے کہ ترے پاؤں سے لپٹی ہوئی دھول                     چاند ہے یا ترے ناخن کا تراشاسجاد

سحرو شام ترے گیسو و رخسار کا عکس                             اور سورج ہے ترا نقش کف پا سجاد

جس کو مل جائے ترے ہاتھوں کا دھون مولا                          کیا کرے گا وہ زمانے کا خزانہ سجاد

پائی اسلام نے آکر ترے دامن میں پناہ                            تونے قرآں پہ کیا دھوپ میں سایہ سجاد

پھر تصور میں مرے آگئے تیرے آنسو                              پھر سمندر مجھے لگنے لگا قطرہ سجاد

بار وہ تونے اٹھا یا جو کسی سے نہ اٹھا                              ہے رسولوں سے بڑا تیرا کلیجہ سجاد

صبر شبیر سے آگے ترے دل کی ہمت                               عصر عاشور سے آگے ترا رستہ سجاد

وہاں ایوب بھی ہوتے تو جگر پھٹ جاتا                                  جہاں آیا نہ ترے رخ پہ پسینہ سجاد

میرے احساس کی دولت بھی ترے درد کی بھیک                     یہ میرا خطۂ جاں تیرا علاقہ سجاد

تیری زنجیر کی نسبت سے قوی ہیں مرے ہاتھ               طوق منت سے ہے گردن میں اجالا سجاد

میں فرزدق نہیں نیر ہوں مگر تیرا ہوں

بس اسی ناز پہ لکھتاہوں قصیدہ سجاد

 

(در مدح حضرت عباس )

آسماں والوں سے پوچھو مرتبہ عباس  کا                    نام لیتے ہیں ادب سے انبیا عباس  کا

کوئی پتا ہل نہیں سکتا اجازت کے بغیر                   ساری دنیا ہے خدا کی اور خدا عباس  کا

ہو بہوعباس  تھے شیر خدا کا آئینہ                           بن سکا لیکن نہ کوئی آئینہ عباس  کا

یا شب ہجرت نیند دیکھی وقت نے                             یا شب عاشور دیکھا جاگنا عباس  کا

مائیں اپنے نونہالوں کو بنادیتی ہیں شیر                  ان کو لوری میں سنا کر واقعہ  عباس  کا

حرملہ بے شیر سے نظریں ملا سکتا نہیں              آنکھیں اصغر  کی تھیں لیکن رعب تھا عباس  کا

شام کے بزدل سپاہی بچ کے جائیںگے کہاں                میمنہ عباس  کا ہے میسرہ عباس  کا

ہوکہاں جبریل آؤ اک قصیدہ پھر پڑھو                                 دیکھ لو دریا پہ انداز وغا  عباس  کا

شیر سے آگے ہے شیر انہ نگاہوں کا جلال           کس میں ہمت ہے جو روکے راستہ  عباس  کا

وہ تو کہیٔے سامنے زینب  کی مرضی آگئی                       ورنہ سہہ پاتی نہ غصہ علقمہ عباس  کا

واراور تلوار دل اور عزم آنکھیں اور جلال                         ڈھنگ سب اکبر نے پایا ہے چچا عباس  کا

بے وفا پڑھ ہی نہیں سکتا کتاب کربلا                              ہر ورق پر آج بھی ہے حاشیہ  عباس  کا

بہتے پانی پر کوئی بھی نقش رک سکتا نہیں               ہے مگر موجوں پہ اب تک نقش پا  عباس  کا

پوری ہوجائے گی ہاتھ اٹھنے سے پہلے ہرمراد                    مانگ لو دے کر خدا کو واسطہ  عباس  کا

ڈوبتا سورج ابھرتے چاند پر لکھ کر گیا                                   حشر تک ہوتا رہے گا تذکرہ  عباس  کا

سر کہیں سینہ کہیں بازو کہیں گردن کہیں                        گھاٹ پر بکھرا ہے لاشہ جابجا  عباس  کا

اپنے بیٹوں کو نہ روئیں عمر بھر ام البنیں                         کرسکی ماتم نہ اب تک مامتا  عباس  کا

ہائے پردے کا محافظ عمر بھر یاد آئے گا                  کیسے غم بھولے گی زینب  کی ردا  عباس  کا

حشر کا میدان بھی کرب و بلا ہوجائے گا                جب بھی دکھیا ماں پڑھے گی مرثیہ  عباس  کا

سراٹھا کر دیکھتا ہے آسماں نیر کی شان 

 کتنی اونچائی پہ ہے ذوق ثنا عباس  کا

 

جشن ظہور نور

شاعر  :جناب محسن نقوی صاحب

میں ہوا سجدہ ہوا مسجد ہوئی کعبہ ہوا                             ہر کوئی ہے آپ کے دیدار کو ترسا ہوا

دیکھتا رہتاہوں ہاتھوں کی لکیریں رات دن                              آپ  کا  دیدار  ہو شاید کہیں لکھا ہوا

مصطفی ۖتامہدی دین دستخط سب نے کیے                     سارے گھر کے فیصلے سے فیصلہ حر کا ہوا

وہ مجسم منتظر اور میں ادھورا انتظا ر                           العجل کہتے ہوئے میں یوں بھی شرمندہ ہوا

تو نہ گر آیا تو میں خود موت تک آجاؤں گا

میں نے بھی ملنے کا ہے اک راستہ دیکھا ہوا

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

دل سے دل اور تیری آنکھوں سے ملی ہیں آنکھیں        تو جہاں بھی ہے تجھے دیکھ رہی ہیں آنکھیں 

نام لیتے ہی کھڑا ہوگیا تعظیم کو میں                            تیرے  آگے  پئے تسلیم جھکی ہیں آنکھیں 

نور وہ جس نے کہ موسی کو کیا تھا بے ہوش            وہ میرے سامنے ہے پھر بھی کھلی ہیں آنکھیں 

تاکہ ہوجاؤں میں زیارت سے مشرف تیری                  اس لیے میں نے عریضہ میں رکھی ہیں آنکھیں 

محو گریہ تھیں جو کربل کی کہانی سنکر                        وہ  فقط  تیری  ولادت پہ  ہنسی ہیں آنکھیں 

منتظر کب سے ہے سبط  تیرا اے راحت جاں

اب  تو  آجا کہ  سر راہ  بچھی ہیں آنکھیں

٭٭٭

ہمارا آج بھی ایسا امام  قائم ہے                          کہ جس کی وجہ سے سارا نظام قائم ہے

بتوں کی طرح نکالے گا تم کو کعبہ سے                      نبی ۖ  کا  آخری  قائم  مقام قائم ہے

نبی ۖکی آل پہ ظلم و ستم کیے تو مگر                             رہے  خیال  کہ  ذوانتقام قائم ہے

زمیں کا ذکر ہی کیا عرش پہ بھی ہے محفل                      یہ  ایک  سلسلۂ  نا  تمام  قائم  ہے

دکھادیں  جلوہء  پرنور و  مہر سبط   کو

کہ اس کے دل میں یہی اک مرام قائم ہے

٭٭٭٭٭

شاعر  :جناب نیر جلالپوری صاحب

یہ میری شب زندہ دار آنکھیں کریں گی تارے شمار کب تک     

  بتاؤ  مولا  کہ ختم  ہوگی  یہ  مدت  انتظار  کب تک

زمیں کو اپنے قدم سے روشن کروگے اے شہسوار کب تک         

ہٹے گی نظروں سے دھول کب تک چھٹے گا دل کا غبار کب تک         

ہماری آنکھوں کو کب ملے گا تمہارے انوار کا جزیرہ

تھکے ہوئے بازؤوں سے ہوگا سمندر ہجر پار کب تک

تمہارے جلووں کی جستجو میں ہر ایک خوشبو کے پیچھے پیچھے         

پھراکروںگا میںلے کے کاندھوں پہ زندگی کا مزار کب تک         

جو تم کہو تو میں جاکے چپکے سے چشم نرگس میں بیٹھ جاؤں

تمہارے دیدار کی تڑپ میں پھراکروں یوںہی خوار کب تک

زمانہ کانٹوں کی زد پہ رکھ رکھ کے کھینچتا ہے وجود میرا          

شکستہ ہاتھوں سے میں سمیٹوں یہ چادر تارتار کب تک          

چراغ بن کے ہوا کی زد پہ نہ جانے کب سے کھڑا ہوا ہوں

یہ میری بے اعتبار سانسیںدلائیں گی اعتبار کب تک

تمہارے لہجے کی خوشبوؤں پر ہزار ہا زعفران صدقے

کروگے آخر سماعتوں کی یہ کھیتیاں لالہ زار کب تک

مری زمینوں کو غصب کب تک کریں گے یہ دست آمریت          

خود اپنے گھر میں پکاراجاؤں گا میں غریب الدیار کب تک          

جلاوطن ہوںگے کتنے بوذر زباں کٹائیں گے کتنے میثم

بچھائی جائے گی موت کب تک سجائے جائیںگے دار کب تک

اب اپنے شانوں پہ لے کے عباس  کا علم آبھی جاؤ مولا          

یہ فتوے یوں ہی لگیں گے ذکر حسین پر باربار کب تک          

کبھی تو بدلے کا وقت نیر  کہ آئے گا وقت کا وہ حیدر

کہ ذوالفقار علی  کا قرضہ رہے گا آخر ادھار کب تک

٭٭٭

شکل وصورت میں مصطفیۖ کی طرح                اور شجاعت میں مرتضی  کی طرح

ہو  نہ  جائے  نصیریوں  کو  خبر                           تم تو غائب بھی ہو خدا کی طرح

٭٭٭٭٭

شاعر  : جناب تحریرعلی نقوی صاحب

                        اے امام زمان  آجائیں     منتظر ہے جہان آجائیں

٭٭٭

یوسف کنعاں کا جلوہ مصر کے بازار میں           یوسف زہرا  کے جلوے سے ہے حیراں کائنات

دو دفعہ یوسف بکے تاریخ شاہد ہے مگر           یوسف زہرا  کو لینے سے ہیںعاجز شش جہات

٭٭٭٭٭

 

جشن کرم و سخا

(حشن میلاد مبارک حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام)

شاعر  :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

جشن  ولائے  سبط  رسول  ا  نام ہے                              مل  کر پڑھو درود کہ یہ فیض عام ہے

تبریک و تہنیت میں ملائک ہیں صف بہ صف                            فرش زمیں سے تابہ فلک اژدھام ہے

بیت  علی  و فاطمہ   میں پہلی  عید ہے                        جو  مانگنا  ہو  مانگو  خوشی کا مقام ہے

سیرت میں ہے رسول ۖشجاعت میں ہے علی                  صورت میں کیا حسین حسن اس کا نام ہے

جشن حسن ہے منعقد یوں ہر مقام پر                                 مسرور ہراک پیرو جواں خاص و عام ہے

عشق علی میں رند ہو مے کش کہ بادہ نوش                   دل کھول  کے پیو  یہ  ولایت کا جام ہے

سبط  یہ  دوسرا  ہے  امام  امم  مگر

تسبیح  فاطمہ   کا  یہ  پہلا  امام ہے

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب نیر جلالپوری صاحب

یہ نہ کہنا کہ مجھے وقت نے مجبور کیا                   میرے کردار نے باطل کا بھرم چور کیا

بعد میں صلح ہوئی پہلے مرے دشمن نے                    میری رکھی ہوئی ہر شرط کومنظور کیا

٭٭٭

کہیں پہ صلح کی شرطیں ہیں اور کہیں تعویذ             قلم سے جیتے ہوئے رن کی بات کرتے ہیں

ہے ایک یہ بھی تو عنوان مدح قاسم  کا                       چلو حسن  کے لڑکپن کی بات کرتے ہیں

٭٭٭

 

(قصیدہ در مدح امام حسن مجتبی علیہ السلام)

شجاعتوں نے عجیب انداز سے قصیدہ لکھا حسن  کا

جہاں پہ تھی ذوالفقار حیدر  وہیں قلم رکھ دیا حسن  کا

چمن چمن کی ہے سرخ پھولوں نے سبزشال اوڑھ کر تلاوت         

بہا ر  آئی ہے  ڈالی  ڈالی  پہ جشن ہونے لگا حسن  کا        

اسی کی شادابیوں کو طوبی کی چھاؤں کہنے لگے فرشتے

بہشت کو مل گیا تھا اک پیرہن اتارا ہوا حسن  کا

نشان قدموں پہ پتھروں پر ابھار دیتا تھا جو محمدۖ          

 اسی محمدۖ کے دوش اطہر کا چاند ہے نقش پا حسن  کا          

ورق ورق پڑھ رہا ہے قرآں اسی کے کردار کا قصیدہ

حکومتوں کے مٹائے سے مٹ سکے گا کیا تذکرہ حسن  کا

ہے کتنا روشن خدا کا چہرہ یہ صاحبان یقیں سے پوچھو          

بھلا تذبذب کی آنکھ دیکھے گی کس طرح معجزہ حسن  کا          

کہاں جلال جبین ہاشم کہاں امیہ کے اندھے وارث

یہ شام کی مصلحت کے چہرے کریں گے کیا سامنا حسن  کا

یہاں تو نوک قلم بھی پھولوں کی پنکھڑی کی طرح رواں ہے          

یہ دم کسی تیغ میں کہاں ہے جو روک لے راستہ حسن  کا          

ہے مطمئن چہرہ امامت حکومتیں تھرتھرا رہی ہیں

بجا ہے بروقت برمحل ہے قدم قدم فیصلہ حسن  کا

کہاں گیا ظلمتوں کا حاکم کہاں گئی شا م کی حکومت              

سبھی سویروں کی سرحدوں پر ہے آج تک دبدبہ حسن  کا             

جہاد کی منزلیں بھی آتی ہیں امن کی راہ سے گذر کر

اگر سمجھنا ہے کربلا کو تو صلح نامہ اٹھا حسن  کا

ہزار بدلے جہاں کے موسم ترا پھریرا ہے سبز اب تک            

سلام اے کربلا کے پرچم کہ رنگ تجھ کو ملا حسن  کا            

مدینے والوں سے کوئی کہد ے کہ دیکھ لیں پھر علی کی ہیبت

زمین مقتل اٹھانے والا ہے تیغ پر لاڈلا حسن  کا

جہاں لہو کی عبارتیں ہیں وہی پہ مسموم حرف بھی ہیں           

کتاب مقتل ہے یہ ہے متن حسین  پر حاشیہ حسن  کا          

جو شخص اب تک سمجھ نہ پایا نبیۖ کی صلح حدیبیہ کو

اسے قیامت تلک سمجھ میں نہ آئے گا فلسفہ حسن  کا

کلیجہ انسانیت کا کب تک چبائے گی سازشوں کی ڈائن           

جناب حمزہ سے ملتا جلتا ہے کس قدر واقعہ حسن  کا           

سوال تھا یہ لحد میں مجھ سے میں کون ہوں میرا دین کیا ہے

جواب میں میں اٹھا اور اٹھ کے قصیدہ پڑھنے لگا حسن  کا

توہی بتا اے خدا ئے برتر کہ اور کیسے میں تجھ سے مانگوں          

میرے لبوں نے دعا کے حرفوں میں رکھ دیا واسطہ حسن  کا         

مجال کس کی جو ایک قطرے میں کل سمندر سمو کے رکھ دے

ثناکے قرضے اتار پائے گا کیا کوئی قافیہ حسن  کا

قلم کو ہچکی سی آرہی ہے حروف نیلے پڑے ہیں نیر

مرے لہو اب جگر کے ٹکڑوں پہ تو ہی لکھ مرثیہ حسن  کا

٭٭٭٭٭

پیام رأفت شماره 3 حصه نظم (جشن رأفت)

(جشن رأفت)

بمناسبت ولادت با سعادت امام رؤف ، ولی نعمت ثامن الحجج حضرت علی بن موسی الرضا علیہ آلاف التحیّة و الثنائ

طرحی مصرعے:

کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

خدایا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف  کی ہر عطا کا سایہ

شاعر :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

(قطعہ)

جب بھی طوفان غم میں پکارا رضا                      مل گیا مجھ کو فورا ًکنارا رضا

سبط  طوفاں سے بچ کر یہ دل نے کہا                کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

٭٭٭

طرحی کلام

اسی کے دل میں ہے نور ایماں، ہے جس کے سرپر ولا کا سایہ

وہی ہے انسانیت میں کامل ،ہے ساتھ جس کے وفا کا سایہ

وہ ذات  بر حق منزہ جسم، اور جسم اصلی ہے مصطفی  ۖکا         

یہ باقی عالم انہی کا صدقہ، انہیں کے ہے نقش پا کا سایہ         

انہیں کا اصلی ہے جسم لیکن، یہ جسم ہے نور کبریا سے

اسی  لیے تو  نہیں ملا  ہے ، کہیں بھی آل عبا کا سایہ

وہ مصطفیۖ ہوں کہ مرتضی ہوں، حسن  ہوں یا کہ حسین و زہرا          

ہے جسم اطہر سبھی کا واحد، صمد ہے آل خدا کا سایہ           

خدا نے مدحت کی کردی بارش، قسم بہ عزو جلال کھاکر       

ہوا ہے جیسے ہی پنجتن  کے،  سروں پہ یمنی کسا کا سایہ        

فلک سے جبریل آرہے ہیں ،تطہیری آیت کا تحفہ لے کر           

برس رہی ہے خدائی رحمت، ہے ہر طرف انما کا سایہ           

یہ قوم زندہ ہے اور رہے گی ہمیشہ اس کو فنا نہیں ہے

عزائے کرب وبلا ہے ضامن، ہے سیدہ کی دعا کا سایہ        

وہ بچے کیسے ہراس کھائیں،وہ موت سے کیسے منھ چرائیں          

دلوں میں جن کے ہے عزم قاسم  سروں پہ ہے با وفا کا سایہ          

رؤف مولا  کے آستانے پہ بزم رأفت کی یہ دعا ہے        

خدایا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف  کی ہر عطا کا سایہ        

وطن سے سبط ہو دور لیکن کبھی نہ خود کو غریب کہنا           

ہے شہر غربت میں تیرا ضامن انیس و ہمدم رضا  کا سایہ          

٭٭٭

زمیں کو چھوڑ کے کرتا ہوں آسمان کی بات                مرے لبوں پہ ہے اب شاہ خراسان  کی بات

شہر مشہد ہے روایت میں ریاض جنت                      یہ روایت ہے مگر لگتی ہے قرآن کی بات

ذکر معصومہ  کا کیوں نہ کروں مشہد میں                 شہر معصومہ  میں ہے شاہ خراسان  کی بات

ہو ولایت کا اگر ذکر تو کفار صفت                          قول مرسلۖ  کو بھی کہہ دیتے ہیں ہذیان کی بات

مدح مولا میں عقیدے نہیں بکتے اپنے                      ہم نہیں کرتے کبھی ڈالر و تومان کی بات

یہ عقیدہ ہے مرا اور یہی مذہب سبط

مدح مولا ہی حقیقت میں ہے ایمان کی بات

٭٭٭٭٭      

شاعر :  جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

رب کا احسان ہیں امام رضا ،میرا ایمان ہیں امام رضا

زندگی تو انہیں کا صدقہ ہے،قلب کی جان ہیں امام رضا

کیسے مدحت بیان کروں ان کی ،وہ سمندر ہیں میں تو قطرہ ہوں    

ڈوب جاؤں کہیں نہ لہروں میں ،اس تخیل میں آکے ڈرتاہوں    

جن مدحت میں ہے کلام خدا ،ایسا قرآن ہیں امام رضا                

آدمی کیسے سمجھے ان کا مقام ،جن کا صدقہ ہیں دوجہان تمام

ایسی ہستی ہیں دو جہانوں میں ،ہیں ملائک انہیں کے در غلام

ساری دنیا فقیر ہے جن کی ،ایسے انسان ہیں امام رضا                

جو ہمیشہ کھلے ہی رہتے ہیں دوہیں ایک ایک سے صفا کا حرم

ایک مکے میں ہے خدا کا حرم ، ایک مشہد میں ہے رضا کا حرم

جھولیاں بھر کے سب کو دیتے ہیں ، ایسے سلطان ہیں امام رضا                

مولا ضامن ہیں کل غریبوں کے ، کل ایماں علی کے بیٹے ہیں

  جو یہاں پر فقیر آتے ہیں ، ان کی چوکھٹ کو چوم لیتے ہیں

بانٹتے ہیں بصیرتیں مولا ، کتنے ذیشان ہیں امام رضا                 

روضہ ایسا کہ جس سے بٹتی ہو ، ہر مرض کی دوا مریضوں کو

جالیاں چوم کرہی ملتی ہے ، اپنی اپنی مراد لوگوں کو

ان سے اپنی مراد لو اطہر ، تیرے درمان ہیں امام رضا                 

٭٭٭٭٭

 

طرحی کلام

رحمت دو جہاں کا دلارا رضا                               ہے علی اور زہرا کا پیارا رضا

رشک خورشید لگتاہے گنبد ترا                          عرش چھوتا ہے تیرا منارارضا

مجھ سے تیری سخاوت نے یوں کہدیا                 لکھ رہا تھا قصیدہ تمہار ا رضا

کیوں پریشاں ہو دریائے حیرت میں تم              کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

غرق ہونے کو تھا بحر ظلمت میں میں                   مل گیا مجھ کو تیرا کنارا رضا

سجدۂ شکر میں ہے جبین قلم                           تیری رأفت کا پاکر اشارہ رضا

مدحت آفتاب امامت میں ہوں                         اس سماں نے مرا دل سنوارا رضا

مشکلیں میری اطہر سبھی حل ہوئیں

صدق دل سے جو میں نے پکارا رضا

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب الفت حسین جویا صاحب

اک عرش نشیں آج کے دن اترا زمیں پر                                 انوار الہی کی تجلی ہے جبیں پر

عصمت کے گلستان کا گر پھول ہے دسواں                       تو آٹھواں ہے نقش ولایت کے نگیں پر

وہ حسن و ملاحت ہے کہ یوسف  سا حسیں بھی             انگشت بدندان ہے کاظم  کے حسیں پر

مظہر ہے یہ الطاف الہی کا جہاں میں                             ہے اس کا کرم عرش نشیں فرش نشین پر

کچھ شرطیں رکھیں ایسی ولی عہدی کی خاطر                      تنگ ارض خدا ہوگئی مامون لعیں پر

یہ موت کے لمحات سے فردوس بریں تک                           زائر کو اکیلا نہیں چھوڑے گا کہیں پر

الفت ہوا محسوس یہ مشہد میں پہنچ کر

عقبی میں جو دیکھیں گے وہ جنت ہے یہیں پر

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب فیاض رائبریلوی صاحب

رضا کے روضے پہ لایا مجھ کو رضا  کی مدح و ثنا کا سایہ 

بہشت میں بھی دلائے گا گھر ولایت مرتضی  کا سایہ

نہ کیوں اٹھاؤں وفا کا پرچم نہ کیوں کروں بے کسوں کا ماتم                

ہر ایک غم سے بچا رہا ہے ہمیں غم کربلا کا سایہ                   

کسی میں اتنی نہیں ہے ہمت جو آنکھ ایران سے ملائے 

خبر ہے سب کو علی  کے شیروں پہ ہے علی رضا  کا سایہ

علی  سے ہٹ کر نبی کی باتیں جو کر رہے ہیں وہ ناسمجھ ہیں                

بغیر حیدر  نہ مل سکے گا انہیں رسول خدا  ۖکا سایہ                

مصیبتیں توڑدیں گی دم آفتیں بلاؤں میں خود گھریں گی

پڑے گی مشکل میں خود ہی مشکل جہاں ہے مشکل کشا کا سایہ

یہ بات سچ ہے تمام دنیا پہ عرش سایہ فگن ہے لیکن

بلندی عرش ڈھونڈتی ہے زمیں پہ فرش عزا کا سایہ

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

موسی  کے بعد سر پہ ہے جس کے ولا کا تاج                 غرباء و مساکین کی رکھتاہے خوب لاج

حیرت میں ڈوب ڈوب کے دیکھو نہ فرش کو                     اے عرشیو تولد مولا رضا ہے آج

٭٭٭

میں چشم دل جماتا ہوںجو تیری آستانوں پر            نگاہیں جھک کے بوسے دیتی ہیں تیرے نشانوں پر

وہ چوکھٹ ہے تری چوکھٹ کہ رکھتا ہوں میں لب جس پر         تو اپنے آپ کو پھر دیکھتا ہوں آسمانوں پر

٭٭٭

وہ جن کے ساتھ ملائک زمین لگتے ہیں                         انہیں بلندی کا ہم آسمان کہتے ہیں

جہاں جھکائیں جبینوں کو جن و انس تمام                      رضائے فاطمہ  کی آستان کہتے ہیں ٭٭٭

آسمانوں سے اجازت جنہیں مل جاتی ہے                      رأ فت حق کی زیارت کو چلے آتے ہیں

بقعۂ نور ہے مشہد میں حرم مولا  کا                              یہ ملائک بھی عبادت کو چلے آتے ہیں

طرحی کلام

عقیدہ خالص دیا خدا نے ، ملا ہمیں انما کا سایہ

گھٹا ہو رحمت کی کیوں نہ سر پہ عطا ہے آل عبا کا سایہ

رؤف  کی ہر عطا کا سایہ نبی حق مصطفیۖ کا سایہ         

جسے عطا ہے رضا  کا سایہ اسے عطا مرتضی  کا سایہ         

ہے فخرشیعوں کا روز محشر عطا رہے گا خدا کا سایہ

بہ لفظ دیگر جناب زہرا کا یعنی خیر النساء کا سایہ

کریم آل نبی حسن ہیں ہے حسن میں کبریا کا سایہ          

جسے ملا ہے رضا  کا سایہ اسے ملا مجتبی کا سایہ          

یہ ایک سایہ ہے جس کے نیچے تمام اہل ولا ہی ہونگے

یہ پانچ تن کا چہادہ کا یہی شہ کربلا کا سایہ

تہی نہ دامن کبھی ہو میرا عطا رہے ہر سخا کا سایہ          

خدا یا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ          

میں گننا چاہوں عطائیں اس کی تو میری کوشش یہ بے ثمر ہے

خدا یا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ

غریب مولا  کی جن دلوں میں رہی ہے چاہت ہو ان کی نصرت         

قدم قدم پر سکون دل ہو ملے امام رضا کا سایہ          

دیار غربت میں رہنے والو تمہیں نہ غربت اداس کردے 

دعا کرو کہ غریب مولا کی مل سکے بس دعا کا سایہ

طلائی گنبد پہ آگیا جب علم وفائوں کا آتے آتے          

دعا کو اٹھے ہیں ہاتھ دل سے طلب کیا ہے وفا کا سایہ         

یہ شہر مشہد کی دل نشینی ترے ہی یمن وجود سے ہے

غریب آقا نصیب رکھنا علم کی ٹھنڈی ہوا کا سایہ

یہ دے دے باور کہ مال دنیا ہے ڈھلتی چھائوں فنا کی زد میں       

اسی کی برکت سے رکھنا دائم اس اپنی جنت فضا کا سایہ       

نہ دھوپ کوئی ہمیں ستائے گی اپنے لطف و کرم سے یا رب

ابد تلک گر ہمیں عطا رکھ علی  ولی کی ولا کا سایہ

نفاق و بغض و حسد کے ماروں کو تو ہمیشہ ہی مارتا ہے         

ہر ایک نعمت سے خالی دامن ہوں ان کو دے بس فنا کا سایہ         

ہو نفسا نفسی کا جبکہ عالم صدائے شیون ہو آسماں پر

ہمیں طفیل رئوف دے دے خدایا اپنے لوا کا سایہ

گناہ دیکھیں جو لوگ اپنے پسینے چھوٹیں کہ چشمے پھوٹیں        

بحق رأفت غریب کرب و بلا کا دینا عزا کا سایہ        

خدا کے چہرے کو کب فنا ہے بقا ہے وجہ خدا کو بے شک

غلامی چودہ کی جن کو حاصل ہے مل سکے گا بقاکا سایہ

سلام پر چم کا کرکے اٹھتی ہے جب ہوا تیرے اس حرم سے      

فرشتے بھی پھر بنا کے صف مانگتے ہیں تیری ہوا کا سایہ      

شرف یہ تونے ہی بخشا نقوی  رؤف مولا کا مدح خواں ہے

یہ فضل اپنا مدام رکھنا ملے ہمیشہ ثنا کا سایہ

طرحی کلام

کوئی بھی جب بھی دل سے پکارا رضا                              اس کوفورا ہی بخشے کنارا رضا 

لوح دل پہ مرے دست تقدیر نے                                            کرکے تحریر اور پھر نکھارا رضا

کیا کسی کے عقائد سے ہم کو غرض                                ہم نے دل میں اتارا سنوارا رضا 

ایک دے پائوں آکے جو خالص سلام                                    پھر بلالیں گے جلدی دوبارہ رضا 

ہوں رہ زندگی میں جو طوفاں تو کیا                                  کشتی زیست کا ہے سہارا رضا 

کون ہے شاہ رأفت یہ جلوہ فشاں                                       رحمت حق نبی کا ہے پارا رضا 

اس نے دین خدا سے کنا را کیا                                          جس کو ہرگز نہیں ہے گوارا رضا 

جب بھی موج حوادث بڑھے اس طرف

نقوی کی ہو اماں تم خدارا رضا 

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب محمدحسین بہشتی صاحب

ترے فقیر بھی شاہی مزاج رکھتے ہیں                          ہیں خرقہ پوش مگر سر پہ تاج رکھتے ہیں

ہے ان کے پیر کی مٹی بھی کیمیا اے دوست               یہ بڑھ کے لعل و گہر سے زجاج رکھتے ہیں

بہشتی ان کی بزرگی کا کیا بیاں کیجیے                     زمیں پہ چاند ستاروں پہ راج رکھتے ہیں

٭٭٭

 

ترے فقیر بھی شاہی مزاج ہوتے ہیں                       شراب ناب سے دامن کو اپنے دھوتے ہیں

ترے ہی عشق میں سرمست ہیں وہ شام و سحر             تجھی کو یاد کیا کرتے اور روتے ہیں

کہاں پہ جائیں ترے آستاں کو چھوڑ کے ہم                ہمیشہ خار تو پھولوں کے پاس ہوتے ہیں

بہشتی جاکے امام رؤف کے در پر 

فسانہ اپنا سناتے ہیں اور روتے ہیں

٭٭٭

اس بحر بے کراں کا کنارا رضا  ہی ہے                          دل کے ہمارے درد کا چارہ رضا  ہی ہے

حضرت کے نور ہی سے ہے روشن یہ کائنات                 افلاک پہ چمکتا ستارہ رضا  ہی ہے

عالم میں جھولیوں کو ہماری بھر ے گا کون                    ہم کو تو دینے والا ہمارا رضا  ہی ہے

ظلمت کی فکر اپنے خیالوں سے دے نکال                    بخشے گا تجھ کو نور نظارہ رضا  ہی ہے

جو مجھ کو لے کے آیا حقیقت کی راہ پر                         یہ مصطفی کا راج دلارا رضا  ہی ہے

یہ عرش یہ زمین ، مکان اور لامکاں                                 ان سب کا تاج دار ہمارا رضا ہی ہے

سلطان بحر و بر کی ہے آمد اے دوستو                            کیا فکر ہے نجات کا چارہ رضا  ہی ہے

مشکل میں جب گھر ے تو نگاہوں میں تھے یہی              اہل کرم ہے دل کا سہارا رضا  ہی ہے

شمش الشموس اور انیس النفوس ہے                      ہم سب کی کشتیوں کا کنارا رضا  ہی ہے

میرا جہاں میں کون ہے بس آپ کے سوا                مشکل میں میں نے جس کو پکارا رضا  ہی ہے

گھبرانہ اے بہشتی نہ دامن رضا کا چھوڑ 

نادان تیرے درد کا چارا رضا  ہی ہے

٭٭٭٭٭

 

شاعر  :  جناب ناطق علی پوری صاحب

ہم اپنے دل کا راز بتاتے ہیں آج بھی                          مولا تمہارا جشن مناتے ہیں آج بھی

باطل کو ہو شکست کا احساس ہر گھڑی                 ہم اس لیے علم کو اٹھاتے ہیں آج بھی

فرش عزا بچھاکے گھروں میں حسین کا                  جنت سے فاطمہ  کو بلاتے ہیں آج بھی

٭٭٭

اعلان کررہی ہے یہ ایران کی زمیں                            یورپ کی سرزمین ہے شیطان کی زمیں

حملہ کرے گا جو بھی وہ ہوجائے گا تباہ                         جنت کی آبرو ہے خراسان کی زمیں

ہم کرتے نہیں تخت کی سلطان کی باتیں                      ہیں زیب دہن قنبر و سلمان کی باتیں

کیوں کر نہ کریں قم کی خراسان کی باتیں                   عرفان کی باتیں ہیں یہ ایمان کی باتیں

سر خم ہے مرا شاہ خراسان  کے در پر                           مت کیجیے ا ب تخت سلیمان کی باتیں

الماس ہیں اقوال رضا  کے مرے آگے                                   اب کون کرے لولوو مرجان کی باتیں

جو بھی ہیں بھکاری در معصومہ ٔ  قم  کے                       کرتے ہی نہیں وہ کبھی نقصان کی باتیں

بہرے  ہیں سبھی دشمن اولاد پیمبر                                سنتے ہی نہیں فخر سلیمان کی باتیں

عرفان کہاں آل پیمبر  کا کسی کو                                    دنیا ابھی سمجھی نہیں قرآن کی باتیں

دیکھو کبھی تاریخ کے اوراق الٹ کر                                  کب کفر سمجھ پایا ہے ایمان کی باتیں

یہ شاہ خراسان  کی ہے پشت پناہی                               مغرب کو ہلا دیتی ہیں ایران کی باتیں

طرحی کلام

عطا ہو فکر رسا کو یا رب رضا  کی مدح ثنا کا سایہ 

میں واسطہ دے رہاہوں اس کا نہیں تھا جس مصطفی  ۖکا سایہ

زمین ایران پر جو پایا مری نظر نے رضا کا سایہ          

کہیں پہ دیکھا نجف کا سایہ کہیں ملا کربلا کا سایہ          

کلام رب کے ہر ایک قاری سے کہہ رہی ہے زمین مشہد

یہاں بھی ہے انما کا سایہ یہاں بھی ہے ھل اتی کا سایہ

مری نگا ہوںکے سامنے  ہیں حیات افزا حسیں مناظر        

جبین فطرت کی سادگی پر اتر رہا ہے رضا  کا سایہ         

رضائے حق کا یہ میکدہ ہے شراب کوثر عطا ہو یا رب

ہمارے دل میں رہے ہمیشہ خمار روز جزا کا سایہ

شعور مدحت بفیض مولافصیل ہستی پہ ضوفشاں ہے         

جدھر ٹھہرتی ہیں یہ نگاہیں ادھر ہے صدق و صفا کا سایہ         

تری مودت کے آئینے میں بقا کے چہرے چمک رہے ہیں

ہے تیری سیرت کا گوشہ گوشہ طہارت فاطمہ  کا سایہ

ہوا ہے مولا کے در پہ حاضر غلام بن کرپھر آج ناطق

خدایا سرپہ رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ

شاعر  :  جناب ریحان بنارسی صاحب

طرحی کلام

سفر میں ہر گام پر معاون رہا امام رضا  کا سایہ

یہی سبب ہے کہ دور ہی تھا ہر ایک رنج و بلا کا سایہ

کھلا ہے مے خانہ مودت چلو پیو تشنگان مدحت        

کہ آج ہر ساغر و صبو پر پڑاہے ان کی عطا کا سایہ        

کہیں پہ   مینا  کہیں پہ ساغر  کہیں پہ خم ہے کہیں صراحی

اور اس پہ ڈالے ہؤے ہے ساقی خود اپنی نوری ردا کا سایہ

 

شاعر  :  جناب فیروز رضا نقوی صاحب

طرحی کلام

جس نے تھاما نہ دامن تمہارا رضا                               اس کا گردش میں ہوگا ستارا رضا

رزق رب نے دیا گو یہ سچ ہے مگر                                   کھا رہا ہے جہاں تیرا صدقہ رضا

مشکلیں گھر گئیںمشکلوں میں سبھی                     میں نے جیسے ہی تم کو پکارا رضا

چاندو سورج میںپنہاں ہے تیری ضیاء                           تجھ سے دنیا میں پھیلا اجالا رضا

اس کے قدموں پہ شاہ جہاں جھک گئے                         جس نے سر کو رکھا تیرے در پہ رضا 

غیر کے در پہ جاؤں بھلا کس لیے                                   میری مدحت کا کعبہ ہے مولا رضا 

ٹھوکروں میں رہا تاج شاہی مگر                                           خاک پہ زندگی کو گذارا رضا 

مصطفی  ۖمل گئے ہیں خدا مل گیا                                 مل گیا جس کو قسمت سے مولا رضا 

فیصلہ ہوگا جادو ہے یا معجزہ                                          شیر قالین کو کر اشارہ رضا 

روشنی دین حق کی ملے گی وہاں                                      ذکر ہوگا جہاں پر تمہارا رضا 

مشکلیں جب پڑیں آیا در پہ ترے                                    ہونہ پایا کسی کا گذارا رضا

فخر ابن خلیل خدا آپ ہیں                                         حکم پہ تیرے پانی ہو صحرا رضا

حادثے خود بخود سب فنا ہوگئے                                       نام بازو پہ باندھا جو تیرا رضا

یہ زمیں آسماں چاند وسورج جبل                                  آپ ہی کا ہے صدقہ یہ مولا رضا 

مرقد غیر کا اب تصور نہیں                                         خانہ دل میں تیرا ہے روضہ رضا 

مجھ کو محشر کا کچھ بھی نہیں خوف ہے                                   کشتی زیست کا ہے سہارا رضا 

شاہ دنیا سے فیروز اعلی ہے وہ 

مل گیا جس کو بھی تیرا صدقہ رضا 

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب نصیر اعظمی صاحب

مولا تیری دعوت ہی وہ دعوت ہے کہ جس میں            ہم کھنچ کے خود آتے ہیں بلایا نہیں جاتا

سب جیسے ترے در کی طرف دوڑ رہے ہیں              اس طرح تو جنت میں بھی جایا نہیں جاتا

طرحی کلام

ہماری فکر رسا پہ ہے اس طرح کتاب خدا کا سایہ

لبوں پہ ہے آیہ ولایت سروں پہ ہے انما کا سایہ

توبغض عترت کی دھوپ میں ہے نہ ہو گا اللہ تجھ سے راضی        

رضا  کی محفل میں آ ملے گاتجھے خدا کی رضا  کا سایہ         

منائیں وہ لو گ خیر اپنی جو حشر میں بے اماں رہیں گے

حسینیوں پر بروز محشر رہے گا فرش عزا کا سایہ

یہ پاک مشہد کا ہے علاقہ وہ سر زمین مقدس قم         

ادھر بھی حق کی عنایتیں ہیںادھر بھی رب کی عطا کا سایہ         

یہاں سے قم تک جدھر بھی دیکھو خدا کی رحمت برس رہی ہے

ادھر سروں پر علی  کا سایہ تو اس طرف فاطمہ  کا سایہ

یہ کہدو امریکیوں سے جاکر نظر اٹھائیں ذرا سنبھل کر        

پڑے گا ایران پر نہ ہر گز تمہاری جور و جفا کا سایہ        

کرم محبت وفا عنایت شفا ہدایت نجات جنت

خدایا سرپر رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ

زمانہ مل کر مٹانا چاہے تو مٹ نہیں سکتی قوم شیعہ

نصیر اس قوم پر ہے بنت رسول حق کی دعا کا سایہ

٭٭٭٭٭

 

شاعر  :  جناب محمد معراج خان صاحب

فاطمہ معصومہ قم مرجع عالیمقام                           ہے سوالی در پہ ان کے خاص ہو یا کہ عام

ہر گھڑی مجمع لگاہے صبح ہو یا کہ شام                       ان کی زیارت کے لئے آئے زمانہ کا امام

دختر معصوم ہیں اور خواہر معصوم بھی

کرلے سجدہ در پہ ان کے یہ مرا منظوم بھی 

لطف زہرا کے حوالے سے بنی محکم دلیل                         ہے کریمہ سب کی خاطر چہ مجرد چہ معیل

 آسرا بے آسروں کا بے کفیلوں کی کفیل                     ان کی چوکھٹ ان کی جالی ان کا گنبد بے مثیل

گنبد زریں پر چشم بشر رکتی نہیں

کون سی گردن ہے جو تعظیم کو جھکتی نہیں

ہوگئی جس پر نظر وہ خادم در ہوگیا                                کرلیا جس نے جبیں سائی وہ اختر ہوگیا

بالاخص ان پہ یہ لطف رب اکبر ہوگیا                              کردیا جس جا عبادت نور کا گھر ہوگیا

ان قدم پاک سے جو بھی زمیں مس ہوگئی

بے تقدس تھی وہ پہلے اب مقدس ہوگئی

اک طرف صحن عتیق و صحن نجمہ دیکھ کر                             کیف میں دل آگیا جنت کا نقشہ دیکھ کر

رشک کرتے ہیں ملک رحمت کا پردہ دیکھ کر                     چھپ گیا مہر منور ان کا روضہ دیکھ کر

وجد میں خورشید ہے تابانیت کو دیکھ کر

خیراں ہے چشم بشر نورانیت کو دیکھ کر

اس طرح ان کے حرم میں ہے شبستان امام                    عرش کی آغوش میں ہو جس طرح ماہ تمام

نام کی دنیا میں بھی تھا سب سے عالی جس کا نام              فعل احسن کے مساوی جس کا تھا ہر اک کام

جس کا تنہا ساری دنیا میں دل و معراج تھا

در حقیقت ذہن انسانی کی جو معراج تھا

 

شاعر  :  جناب سبط محمد رضوی صاحب

طرحی کلام

مؤمنوں نے ہے جب بھی پکارا رضا                             مشکلوں میں بنے ہیں سہارا رضا 

تیرے دادا علی  دادی ہیں فاطمہ                                    ہے امامت کا ہشتم ستارہ رضا

مشکلوں میں یہ امداد سب کی کریں                                دوست دشمن نہ دیکھے ہمارا رضا 

کوئی غربت میں زائر نہ بھوکا رہے                                   ہے کرشمہ یہ سفرہ تمہارا رضا

رہ کے مشہد میں غربت یہ ممکن نہیں                             سب پہ نعمت کا بہتا ہے دھارا رضا

گر ملے تیرے قدموںمیںجنت مجھے                         موت پردیس میں ہے گوارا رضا

تیرے روضے پہ آکے مجھے یوں لگا                               خلد کا جس طرح ہو نظارہ رضا

در پہ بن کے گدا میں ہمیشہ رہوں                                اور  راضی رہے بس ہمارا رضا

دشمن دیں کو زندہ نگل جائے وہ                                  کردیں قالین کو گر اشارہ رضا

مرحبا مجھ کو کہہ کے پکاریں ملک                             لب پہ آیا میرے جب دوبارہ رضا

کرکے ورد زباں مشکلیں ٹل گئیں                                 کتنا ہے بااثر نام پیارا رضا

جو بھی محفل میں بیٹھا ہے حاجت لیے                             رہ نہ پائے کبھی وہ کنوارا رضا 

چھوڑ کر اس کو کیسے بجھے تشنگی                                    حوض کوثر کا ہے جب کنارا رضا

تھک کے مامون کو بھی یہ کہنا پڑا                                کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

غیر ہوں یا کہ اپنے سبھی کے لیے                              درد  و  رنج  و  الم کا مدارارضا

سبط  مولا مدد کے لیے آگئے

جب لحد میں کہا دیں سہارا رضا

٭٭٭٭٭

 

شاعر  :  جناب محسن نقوی صاحب

المدد مولا رضا  مولا رضا                  اے مرے مشکل کشا  مولا رضا 

 آپ ہیں جان علی  و سیدہ                     آپ ہیں نور خدا  مولا رضا 

دربدر دنیا میں پھرتا میں مگر                    آپ کا در مل گیا  مولا رضا 

دیکھنی ہے جس کو جنت جیتے جی               دیکھ لے روضہ ترا  مولا رضا 

عمر بھی کرتا رہے تیری ثنا

آپ کا محسن رضا  مولا رضا 

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب  نیر جلالپوری صاحب

دیار عشق کے بے خواب جگنو بات کرتے ہیں

ثنائے ثامن ضامن ہے آہو بات کرتے ہیں

علی ہیں اور علی کے لعل ہیں اصلا ًبھی نسلا ًبھی            

سخن میں گھول کر قرآں کی خوشبو بات کرتے ہیں           

وہی تعداد خرموں کی وہی تیور عطاؤں کے

لیے ہررخ سے اپنے کی خو بو  بات کرتے ہیں

ہے ماتھے کی جلالت پر فدا والشمس کا سورہ            

گھٹا واللیل پڑھتی ہے جو گیسو  بات کرتے ہیں           

علی  جیسا ہے تو لیکن نصیری ہم نہیں مولا

ہم اپنے ذہن و دل پہ رکھ کہ قابو  بات کرتے ہیں

ترا احساس دشت جاں میں رم کرتا ہے رہ رہ کر           

سماعت میں تری چاہت کے گھنگرو  بات کرتے ہیں           

سفر کا حوصلہ دیتی ہے تیرے نام کی ڈھارس

ضمانت تیری پاتے ہیں تو بازو  بات کرتے ہیں

جناں کی آبرو ہے تیرے دسترخوان کی وسعت         

ترے ٹکڑوں پہ پلنے والے ہر سو  بات کرتے ہیں         

ترے روضے کے چشمے پر کھڑے ہیں تیرے فریادی

کئی صدیوں کے پیاسے ہیں لب جو  بات کرتے ہیں

مری  مٹی  سے  بھی آتی  ہے  نیشاپور  کی  خوشبو        

ترے بارے میں جب بھارت کے ہندو  بات کرتے ہیں       

کمیت و دعبل و نیر ہیں راہی ایک رستے کے

تری مدحت میں سب پہلو بہ پہلو  بات کرتے ہیں

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب آغا سروش حیدرآبادی صاحب      

اے میثم کو زور بیاں دینے والے                             مجھے با زباں کر زباںدینے والے

مری فکر کو شہ پر قدسیاں دے                                 سلیماں کو تخت رواں دینے والے

علی  کی ولایت سے انکار کیسا                           زباں دے چکے ہیں زباں دینے والے

علی  تھے گلدستہ ٔ کن فکاں پر                                 خدائی میں پہلی اذان دینے والے

ملیں گے فقط خانۂ فاطمہ  میں                                 فقیر وں کو کون و مکاں دینے والے

صحابہ کہاں اور کہاں آل احمد                                 کہاں لینے والے کہاں دینے والے

بتائے کوئی شام ہجرت کہاں تھے                           نبی  ۖکے اشاروں پہ جاں دینے والے

اٹھاتے نہیں کیوں نبی کا جنازہ                                 کہاں مرگئے بیٹیاں دینے والے

فدک کے لیے پیش حاکم کھڑے ہیں                          اک آنسوپہ باغ جناں دینے والے

فدک تو امام زمانہ  ہی لیں گے                                   ہیں یہ لوگ ایسے کہاں دینے والے

سر  دار میثم کو تنہا نہ سمجھو                                           ابھی اور ہیں امتحاں دینے والے

دعائے ملک ہے در فاطمہ  پر                                    سلامت رہیں روٹیاں دینے والے

بتائیں وہاں بھی کوئی کربلا ہے                                    ہمیں دعوت آسماں دینے والے

سروش آج میری نظر میں نہیں ہے 

نصیری سے بہتر اذاں دینے والے

طرحی کلام

رضا  کی چشم کرم ہے ہم پرکہ ہے یہ دست خدا کا سایہ

ملی بقائے دوام اس کو ہے جس پہ ان کی رضا کا سایہ

وہ دعبل و میر و انوری ہو  وہ باشاہ سخنوری ہو              

ہو جس کے سر پہ رؤف تیرے ہمائے لطف و عطا کا سایہ              

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب رضا سرسوی صاحب

یہ تو بس موسی کاظم  ہی بتا سکتے ہیں                       کتنا  پیارا  مرا  مولا  ہے  بتاؤ ں  کیسے

لاکھوں پیشانیاں پہلے ہی سے رکھی ہیں رضا             اس کے قدموں کے نشاں سر پہ اٹھاؤں کیسے

٭٭٭

جشن ظہور نور ہے روز سعید ہے                            خوش مصطفی  ۖہیں سارے زمانے میں عید ہے

بغض و حسد نفاق و کدورت نکال کر                                 جو آج بھی گلے نہ ملے وہ یزید ہے

٭٭٭

باغ فدک کے چھین نے والے تو مٹ گئے                     سکہ رضا ئے پاک کا چلتا ہے آج بھی

جس نے دیا تھا زہر وہ صدیوں کا مٹ گیا                     جس نے پیا تھا زہر وہ زندہ ہے آج بھی

 

(  در مدح حضرت معصومہ قم  )

تیرا کرم تیرے در کی عطا سبحان اللہ                              تیرے دیار کی آب و ہوا سبحان اللہ

تیرا وقار تیرا مرتبہ سبحان اللہ                                 یہاں پہ آتے ہی دل نے کہا سبحان اللہ

امام موسی کاظم کی یادگار ہے تو

حسینیت کے گلستان کی بھار ہے تو

غموں کے ماروں کو آکر یھاں سکون ملا                              امام زادی ہے تو خواہر امام رضا

ہے نام فاطمہ تیرا لقب ہے معصومہ                                 یہاں پہ ہوتا ہے تقسیم علم کا صدقہ

حسین والوں کی عزت ہے زندگی ہے تو

چراغ شام غریباں کی روشنی ہے تو

تیرے حرم میں جو ایک بار آیا معصومہ                           لپٹ کے جالی سے رویا تو اس کو ایسا لگا

کسی یتیم کو جیسے کہ ماں کاپیار ملا                                  دعائیں مانگیں تو پایا حسین کا صدقہ

نہیں ہے جس کا کوئی اس کا آسرا تو ہے

کئی اماموں کی مانگی ہوئی دعا تو ہے

رسول پاک نے چودہ سو سال پہلے کہا تھا                               ہے آشیانہ آل رسول قم بہ خدا

یہاں بھے گا صدا میرے علم کا دریا                                  یہاں چلے گا صدا مومنین کا سکہ

یہاں کبھی کوئی شیطان آ نہیں سکتا

چراغ قم کوئی طوفاں بجھا نہیں سکتا

بجھانے تشنگیء علم ، علم کے پیاسے                            گھروں کو چھوڑ کے تیرے دیار میں آئے

یہاں پہ آئے ہیں ماووں کو چھوڑ کے بچے                  اٹھائے ہاتھوں کو کہتے ہیں رب سے روروکے

الہی گلشن قم میں خزاں نہ آئے کبھی

کوئی یزید زمانہ یہاں نہ آئے کبھی

یہاں پہ ہوتے رہے روز مجلس وماتم                         ہر ایک دل میں سمایا رہے حسین کا غم

صدا بلند رہے شاہ کربلا کا علم                                  چھٹے نہ ہاتھوں سے اپنے حسین کا پرچم

ہیں جس کی چاہ میں خود منزلیں وہ راہی ہیں

امام عصر کے لشکر کے ہم سپاہی ہیں

یہاں پہ بیٹیاں رہتی ہیں سر چھپائے ہوئے                    گھروں پہ پرچم عباس ہیں سجائے ہوئے

گلی گلی میں عزا خانے ہیں بنائے ہوئے                    ہیں مسجدوں میں نمازی صفیں بچھائے ہوئے

یہاں پہ ہوتی ہے دن رات تعزیہ داری

یہاں دعاوں میں ہوتی ہے گریہ و زاری

یزیدیوں کو زمانے سے ہم مٹائیں گے                          دیار امن و اماں قم کو ہم بنائیں گے

ہمیشہ پرچم عباس کو اٹھائیں گے                             چراغ کفر و ضلالت کو ہم بجھائیں گے

خوشی ہے اپنی غم شاہ مشرقین کے ساتھ

ہے بچہ بچہ ہمارا رضا حسین کے ساتھ

٭٭٭

طرحی کلام

نصیب ہوگا  بتاؤ  کیسے  اس  آدمی  کو  ر ضا  کا سایہ 

عذاب بن کر جلائے جس کو خود اس کی ماں کی خطا کا سایہ

بچا رہا ہے ہر اک بلا سے حسین  تیری عطا کا سایہ           

بدن کو اشک عزا کا سایہ کفن کو خا ک شفا کا سایہ           

٭٭٭٭٭

 بزم رأفت

رؤف مولا نے اپنے قدموں میں کیا سجائی ہے بزم رأفت 

دیا ہے شعر و ادب  کا خود  ذوق ، پھر بنائی ہے بزم رأفت

رؤف مولا کی بارگاہ میں ، یوں دل کو بھائی ہے بزم رأفت         

کہ باغ جنت کی سر زمیں پہ، سنور کے آئی ہے بزم رأفت         

جہاں خدا کے فرشتے آکر ، سلام کرتے ہیں رات اور دن

وہیں پہ عرض ادب کی خاطر ، ابھر کے آئی ہے بزم رأفت

عقیدتوں کے خراج دے کر ، یہ اپنے پہلے ہی مرحلے میں        

جناب  زہرا   کی بارگاہ  میں ، تو مسکرائی ہے بزم رأفت        

ستارے آپس میں کہہ رہے ہیں ، اے عرشیو فرش کو تو دیکھو

زمین رأفت پہ رشک انجم ، وہ بن کے چھائی ہے بزم رأفت

سماعتوں کا سکون بن کر، دلوں میں گھر کرلیے ہیں اس نے         

نگاہیں مبہوت  رہ گئی  ہیں  ،  جو جگمگائی  ہے بزم رأفت         

یہ تبصرے ہورہے ہیں حوزے میں تھی ضرورت نہایت اس کی

فضائے راکد  کی قید و بند  سے  ،  بنی رہائی ہے بزم رأفت

مبلغین کرام مذہب  ،  ادیب  ہونگے تو  لطف  ہوگا        

ہنر ادب کا سکھانے کو اب،عجب رسائی ہے بزم رأفت        

شکوفہ ہوںگے جو غنچہ سارے ، تو اک نیا ہی سماں بندھے گا

جو خوشبو پھیلائے شش جہت وہ ، بہار لائی ہے بزم رأفت

حسن عسکری ہوں کہ تحریر نقوی ، ہوں سبط رضوی کہ فیروز نقوی            

سبھی نے  گوندھا  خمیر اس کا  سبھی کو  بھائی  ہے بزم رأفت            

رضوی نیر  ہوں  یا  بہشتی ،  یا کہ  الفت حسین جویا

انہی کی بھر پور کا وشوں نے ، عجب سجائی ہے بزم رأفت

سجا ہے  سبط کے  سر پہ سہرا ، اس انجمن کی مدیریت کا             

اسی کی محنت کا یہ صلہ ہے ، کہ رنگ لائی ہے بزم رأفت             

٭٭٭٭٭٭

٭٭٭

اطلاعیہ

باسمہ تعالی

(وفدیناہ بذبح عظیم)

امام راہ ہدی، منجی دین خدا، خامس آل عبا ، زین الاوصیاء اور خاتم الانبیاء کے دل کے چین حضرت امام حسین علیہ الصلوة و السلام کے عشق الہی سے بھر پور بے مثال اور انمٹ نقوش کی نورانی شعاعوں سے اہل ایمان کے دلوں کو زیادہ سے زیادہ نورانیت بخشنے کے لیے ایک بین الاقوامی علمی ادبی عظیم الشان سمینار بعنوان  (ذبح عظیم )  کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں درج ذیل موضوعات پر مقالہ نویسی کا ایک جامع مقابلہ ترتیب دیا گیا ہے ۔ اہل قلم ، محققین ،  ادباء  اور شعراء حضرات سے تعاون اور بھر پور شرکت کی استدعا ہے ۔

 

سمینار میں مقالہ نویسی کے لیے موضوعات

          علمی                                   ادبی

١۔  ذبح عظیم کی تفسیر                                ١٥۔کربلا کی تبلیغ میںشعر کا کردار 

٢۔حسین منی و انا من الحسین                          ١٦۔  ارتقاء شاعری میں کربلا کا کردار 

٣۔حسین ،سفینہ نجات سرچشمہ حیات                  ١٧ ۔  کربلا غیر مسلم شعراء کی نظر میں

٤۔ کربلا ،  رمز بقاء دین خدا                          ١٨ ۔  کربلا غیر شیعہ شعراء کی نظر میں                              

٥۔ کربلا اور عصر حاضر کے تقاضے                      ١٩۔  بر صغیر میں اردو ادب پر کربلا کی تاثیر

٦۔ کربلا اور ہماری ذمہ داریاں                       ٢٠۔  کربلائی شعراء کا تعارف 

٧۔ کربلا اور شوق شہادت                          

٨۔کربلا اور ولایت مداری                                         مقالہ کے ارسال کی آخری تاریخ:              

٩۔ کربلا کا جوان دین خدا کی جوانی                    اربعین حسینی ـ ٢٠  صفر١٤٣١ھ   

 ١٠۔رشک شجاعت و وفا اور ضبط کی انتہا                مقام تحویل مقالہ :

١١۔ انصار امامت کا عشق شہادت                    مشہد مقدس ، چہار راہ شہداء  نمائندگی جامعة

١٢۔عزاردی کی اہمیت و اثرات                        المصطفیۖ العالمیہ اتحادیہ انجمن ھای فرہنگی طلاب

١٣۔عزاداری مراجع کی نظر میں                   بزم رأفت  (انجمن شعر و ادب اردو زبان)

١٤۔ انقلاب اسلامی پر عاشورا کے اثرات                    کنوینر :سیدسبط حیدر زیدی 

  Tel; 0098-511-2563085

mail; alhaq110@yahoo.co.in     Mub; 09359750753 www.urdu.blogfa.com 

بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان) کی جانب سے امسال بھی ایک عظیم الشأن سیمنار بعنوان

( ذبح عظیم) منعقد ہورہا ہے اہل قلم اور ارباب ذوق حضرات سے تعاون کی استدعا ہے۔