پیام رافت شماره 3 حصه اداری
بسم اللہ الرحمن الرحیم
زیر سر پرستی حضرت بقیة اللہ الاعظم صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف
مجلس ادارت
حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا الفت حسین جویاصاحب
حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا تحریر علی نقوی صاحب
حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا حسن عسکری نقوی صاحب
حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط محمد رضوی صاحب
حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا فیروز رضا نقوی صاحب
حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا محمد حسین بہشتی صاحب
حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانانیر عباس رضوی صاحب
مدیر
حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط حیدر زیدی صاحب
پیام رأفت
علمی ثقافتی ادبی مجلہ
بزم رأفت انجمن شعر و ادب اردو زبان مشہد مقدس کا عظیم شاہکار
دوسرا سال۔ تیسرا شمارہ
از جمادی الاول تا ذی الحجہ ١٤٣٠ھ
کمپوزنگ: حجة الاسلام و المسلمین جناب مولانا مرتضی حسین نقوی
ڈزائننگ: حجة الاسلام و المسلمین جناب شاہزادہ حسین حیدری زائر
Web: www.urdu.blogfa.com E-mail : alhaq110@yahoo.co.in
Tel : 0098-511-2563085 Mob: 09359750753
فہرست مطالب
اداریہ (روز مادر) مدیر
نگاہ عصمت میں شعر ،شاعری اور شعراء کا مقام جناب تحریر علی نقوی صاحب
آہ مجاہد علی مطہری و محمد علی جوہر ادارہ
جشن و محافل :جشن میلاد کوثر، جشن مولود کعبہ، جشن عشق و وفا، جشن ظہور نور، جشن سخا و کرم ، جشن رأفت.
اس شمارے میں بزم رأفت کے ساتھ تعاون کرنے والے دانشمند و شعراء حضرات
جناب رضا سرسوی صاحب
جناب آغا سروش صاحب
جناب قیصر عقیل صاحب
جناب نصیر اعظمی صاحب
جناب نیر جلالپوری صاحب
جناب محسن نقوی صاحب
جناب ریحان بنارسی صاحب
جناب عابد بھوجانی صاحب
جناب ناطق علی پوری صاحب
جناب محمد معراج صاحب
جناب اطہر کاظمی صاحب
جناب فیاض رائبریلوی صاحب
باسم رب الارباب
اداریہ
روز مادر
تقریبا ایک صدی پہلے امریکی صدر وڈرو ولسن نے اعلان کیا کہ ہرسال مئی کا دوسرا اتوار یومِ مادر کے طور پر منایا جائیگا۔ تب سے یہ دن رفتہ رفتہ کئی اقوام اور ممالک نے اپنا لیا۔
تاریخی اعتبار سے اس دن کا آغاز ١٨٧٠ء میں ہوا جب جولیا وارڈ نامی عورت نے اپنی ماں کی یاد میں اس دن کو شروع کیا جولیا وارڈ اپنے عہد کی ایک ممتاز مصلح، شاعرہ، انسانی حقوق کی کارکن اور سوشل ورکر تھیں۔ بعد ازاں ١٨٧٧ء کو امریکہ میں پہلا مدر ڈے منایا گیا ١٩٠٧ ء میں امریکی ریاست فلاڈیفیا میں اینا ایم جاروس نامی سکول ٹیچر نے باقاعدہ طور پر اس دن کو منانے کی رسم کا آغاز کیا۔ اس نے اپنی ماں این ماریا ریویس کی یاد میں یہ دن منانے کی تحریک کو قومی سطح پر اجاگر کیا یوں ان کی ماں کی یاد میں باقاعدہ طور پر امریکہ میں اس دن کا آغاز ہوا۔ یہ تقریب امریکہ کے ایک چرچ میں ہوئی۔ اس موقع پر اس نے اپنی ماں کے پسندیدہ پھول تقریب میں پیش کیے۔ اس تحریک پر اس وقت کے امریکی صدر وڈ رولسن نے ماں کے احترام میں مئی کے دوسرے اتوار کو قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد یہ دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے برطانیہ میں اس دن کو Mothering Sunday بھی کہا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگ اپنی ماں کو تحائف پیش کرتے اور ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ یوں سال بھر بوڑھے والدین میں سے ماں کو اس دن کا انتظار رہتا ہے۔
امریکہ سمیت یورپ بھر میں بوڑھے والدین کو گھروں کی بجائے اولڈ ہومز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس دن اولڈ ہومز میں اپنی ماں سے ملاقات کرتے اور ان کو سرخ پھولوں کے تحائف پیش کرتے ہیں۔ جن لوگوں کی مائیں اس دنیا میں نہیں ہیں وہ سفید پھولوں کے ساتھ اپنی ماں کی قبروں پر جاتے اور وہاں یہ گلدستے سجاتے ہیں۔ ہر ملک میں مدر ڈے کو منانے کے لیے مختلف دن مختص ہیں تاہم یورپ ، امریکہ، ڈنمارک، فن لینڈ، ترکی، آسٹریلیا اور بیلجیم میں یہ دن مئی کے دوسرے اتوار کو ہی منایا جاتا ہے۔
جب کہ اس سے بھی پہلے قدیم یونان میں کئی دیوتاؤں کو جنم دینے والی سائی بیلے کا یادگاری دن بچوں کی جانب سے ماں کو تحائف دینے کا دن تھا۔ رومن لوگ جونو دیوی کی یاد میں ایک دن مختص کرکے اپنی ماں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اور ارضِ ہند میں ماتا تیرتھا کا دن ماں کو پوجنے کا دن قرار پایا اور آج تک ہے۔ گویا مشرق و مغرب کی ہر تہذیب نے ہر دور میں کسی نہ کسی بہانے ماں کے احسانات کا اعتراف کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔
مگر اس دنیا میں اگر سخت جان کرداروں کی فہرست بنائی جائے تو سرِ فہرست شاید ماں ہی ہوگی۔ جس نے ہم سب کو ہر سمت سے گھیر رکھا ہے۔ باپ کی منکوحہ ہے تو آپ کی ماں ہے۔ بیوی ہے تو آپ کے بچوں کی ماں ہے اور بیٹی ہے تو مستقبل کی ماں ہے۔ تو پھر اس سارے جھرمٹ میں سوائے اپنی ماں کے ہمیں دوسروں کی مائیں کیوں نظر نہیں آتیں۔
ہم یہ نکتہ کیوں یاد نہیں رکھتے کہ جس طرح ہر بیج میں ایک درخت چھپا ہوتا ہے اسی طرح ماں دراصل ہر بچی کے ساتھ ہی جنم لے لیتی ہے۔ لہذا منطق کا تقاضا تو یہی ہے کہ جس درخت کی تعظیم کی جائے اس کے بیج کو بھی اتنی ہی عزت دی جائے۔ لیکن منطق کی یہاں سنتا کون ہے؟
اسی مادر پرست دنیا میں دوسرے کی ماں کا ریپ ہمیشہ سے انفرادی و اجتماعی انتقام کے سرِ فہرست ہتھیاروں میں بھی شامل ہے
کہنے کو ہم سب کو اپنی ماں بہت ہی پیاری ہے۔ اتنی پیاری کہ ہم اپنے وطن کی سر زمین کو مادرِ وطن کہتے ہیں اور اس کی خاطر مرمٹنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔
اپنی زبان کو مادری زبان کہتے ہیں اور کوئی اس کا مذاق اڑائے تو منہ سے ماں کی گالی تک نکل جاتی ہے۔ ماں کے دودھ کی قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں اور اس پر قائم رہنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن۔۔۔ ماں کے سامنے اسی کے بچوں کو نیزے پر اچھال دینا، سر کاٹ لینا بھی اسی مادر پرست دنیا میں ہی ہوتا ہے۔ کوئی ماں کی عظمت کی مالا جپتے جپتے اسے کمبھ کے میلے میں لاوارث چھوڑ جاتا ہے۔ کوئی بیوگی کی سزا کے طور پر سفید ساڑھی پہنا، سرمنڈوا آشرم کے سپرد کرجاتا ہے۔ کوئی سب کچھ ہتھیانے کے لیے ماں کو پاگل خانے کے دروازے تک ہاتھ پکڑ کر لے جاتا ہے۔ تو کوئی اسے گھر میں رکھتا بھی ہے تو ایک کمرے تک محدود کردیتا ہے یا ایسانہیں بھی کرتا تو ماں کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر چند روپے رکھ کر اپنے فرضِ مادری سے سبکدوش ہوجاتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر شخص تو ایسا نہیں ہوتا۔ پانچوں انگلیاں برابر تو نہیں ہوتیں۔ہر بھیڑ کالی تو نہیں ہوتی۔لیکن اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر سوچیے گا کہ ہم میں سے کتنے لوگ ماں کو اس طرح سمجھتے ہیں جس طرح ماں ہمیں سمجھتی تھی، سمجھتی ہے اور سمجھتی رہے گی۔۔۔
ماں کون ہے ؟ ایک عورت ہی تو ہے نا ! اس کی پوجا کا کیا مطلب؟ اسے پوجا نہیں دائمی عزت و احترام چاہیے۔یومِ مادر پر زیادہ خوش دلی کا مظاہرہ، تحائف دینا، ماں کے گلے میں باہیں ڈال دینا یا گود میں سر رکھ دینا بالکل درست۔لیکن پھر؟؟؟
اتنا ہلکا سا تبسم تو نہ ہو گا کافی
آپ نے دیکھا نہیں، زخم بہت گہرا ہے
اور دوسری طرف اس مدر ڈے سے مغرب خود کو ترقی یافتہ معاشرہ خیال کرتا ہے!!! کیا مغربی دنیا سال میں ایک دن ماں اور ایک دن باپ کے لیے مختص کر کے خود کو عالمی انسانی حقوق کا خود ساختہ چئمپین تصور کرسکتا ہے؟ کیا ماں باپ کا حق صرف ایک دن کا پیار سرخ پھول اور کچھ شفقت بھرے لمحے ہی ہیں؟
یقینا یہ وہ سوال ہیں کہ جو آج بھی جواب کے متلاشی ہیں۔ تصویر کے دوسرے رخ کے طور پر اب ہمارے معاشرے میں بھی فادرز ڈے اور مدرز ڈے منائے جا رہے اور ہمارے معاشرے میں بھی اولڈ ہومز بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
وہ معاشرہ جہاں ماں کے قدموں تلے جنت اور جہاں باپ کی رضا میں رب کی رضا ہوا کرتی تھی آج وہی معاشرہ اس جنت اور اس رضائے ربانی سے دامن بچا تا نظر آتا ہے۔ تقلید بری بات نہیں مگر اندھی تقلید دین میں ہو یا دنیا میں مہلک ہوا کرتی ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید ہمیں بھی مہلک مقام تک لے آئی ہے جس سے ہماری عائلی قدریں پامال اور معاشر ے کی بنیاد ی اکائی یعنی خاندان کی چولیں ڈھیلی ہو رہی ہیں۔ اس اکائی کی بنیاد اور جڑ یعنی والدین کو گھروں سے اکھاڑ کر اولڈ ہومز میں پھینکا جارہا ہے پھر سال کے بعد ان کا ایک دن منا کر حق ادا کر دیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک مدر ڈے کا تصور کیا ہے؟ اس کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ اسلام میں تو ہر لمحہ اور ہر دن مدر ڈے اور فادر ڈے ہے۔ اس تصور کو مزید سمجھنے کے لیے والدین کی عزت، تکریم اور خدمت کے پس منظر میں قرآن پاک کی چندآیات کریمہ اور چند احادیث شریفہ پیش خدمت ہیں۔ خداوندعالم نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اپنی اطاعت وعبادت یا عدم شرک کے بعد فوراً والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے کہ جو اس فعل کے افضل اور عظیم ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔ لہذا ارشاد ہے
لا تعبدون اِلا اللہ وبِالوالِدین احسانا (بقرہ ۔٨٣)
سوائے خدا وند کے کسی اور کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو
واعبدوااللہ ولا تشرک بہ شیٔا وبِالوالِدین احسانا(نساء ـ ٣٦)
خدا وند عالم کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک قرار نہ دو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو
الا تشرکوا بہ شیٔا وبِالوالِدین احسانا(انعامـ ١٥١)
اس کا کسی کو شریک قرار نہ دو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو
وقضی ربک الا تعبدوااِلا اِیاہ وبِالوالِدین احسانا(اسراء ـ ٢٣)
اور آپ کے پروردگار نے قطعی حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو۔
اور کہیں پر والدین کی ساتھ نیکی کرنے کی وصیت فرمائی ہے جب کہ کلمہ وصیت عمدتا وہاں استعمال ہوتا ہے کہ جہاں وہ فعل واحب کرنا منظور ہو لہذا والدین کے ساتھ نیکی کرنا بھی واجب ہے ۔
و وصینا الانسان بِوالِدیہ احسانا(احقافـ ١٥)
اور ہم نے انسان کو وصیت کردی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے۔
اسلام معاشرے کے عمر رسیدہ افراد کو کس قدر اہمیت دیتا ہے، اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرمی برتنے کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے۔ خصوصا ًبوڑھے والدین کے ساتھ نہایت شفقت کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن حکیم فرماتا ہے :
وقضی ربک الا تعبدوااِلا اِیاہ وبِالوالِدین احسانا ِاما یبلغن عِندک الِکبر احدہما اوکِلاہما فلا تقل لہمآا ف ولا تنہرہما وقل لہما قولا کرِیماO واخفِض لہما جناح الذلِ مِن الرحمِة وقل ربِ ارحمہما کما ربیانِی صغِیراO (بنی اسرائیلـ ٢٣ـ٢٤)
اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo اور ان دونوں کے لیے نرم دلی سے عجز و اِنکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو : اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھاo
قرآن پاک کی آیات کریمہ کے بعد متعدد احادیث شریفہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بزرگوں کی عزت و تکریم کی تلقین فرمائی اور بزرگوں کا یہ حق قرار دیا کہ کم عمر اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کا احترام کریں اور ان کے مرتبے کا خیال رکھیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یقر کبیرنا.
وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔
ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ! لوگوں میں حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی: پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی : پھر کون ہے؟ فرمایا : پھر تمہارا والد ہے۔
اسلام میں والدین کے حقوق کا تصور بڑا واضح ہے۔ جب کہ مغرب کے طور طریقہ پر اسلام کو ڈھالنا یہ خود ساختہ اسلام تو ہو سکتاہے اسلام ناب محمدی نہیں ہوسکتا !
ہاںاگر والدین کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی انجام دے کر ان کی اطاعت و فرمانبراداری کے فرائض انجام دے کر پھر کسی خاص دن میں ان کی اور بھی زیادہ خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کوئی خاص پروگرام انجام دیا جائے ان کو ہدیوں اورتحفوں سے نوازا جائے یا اگر دنیا سے رخصت ہوگئے ہوں تو ان کے لیے فاتحہ و ایصال ثواب کا کام کیا جائے تو کیا ہی خوب ہے لیکن دن بھی اگرمعین ہوتونہ وہ میری اور نہ آپ کی ماں کی مناسبت پر بلکہ اس ذات مقدس کے روز ولادت کو یوم مادر قرار دیا جائے کہ جس کو اشرف کائنات ،افضل موجودات نے بھی اپنی ماں کہکر یاد کیا ہو (فاطمة ام ابیھا) اور حدیث قدسی( لولاک لما خلقت الافلاک و لولا علی لما خلقتک ولولا فاطمة لماخلقتکما) کے اعتبار سے بھی کہ حضرت فاطمہ زہرا ام یعنی مرکز و محور کائنات ہیں جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق کا ارشاد گرامی ہے( ھی نقطة دائرة الوجود)۔
بزم رأفت کا یہ شمارہ چونکہ ماہ جمادی الثانی سے ذی الحجہ تک کی مناسبتیں اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے کہ جن میں سب سے پہلے آپ ہی کی شہادت اور ولادت باسعادت واقع ہیں لہذا اس شمارے کے اداریہ کو یوم مادر سے منسوب کرنا زیادہ مناسب نظرآیا اگر چہ اسی مناسبت پر بزم رأفت کی جانب سے ایک عظیم الشأن محفل کا انعقاد ہوا کہ جس میں طرحی مصرعہ پر شعراء حضرات نے طبع آزمائی فرمائی ۔ مصرعہ یہ تھا
مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا نے پائی ہے
اس کے بعد گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے اکثر ممبران بزم اپنے اپنے وطن اور تبلیغی دورے پر روانہ ہوگئے لہذا ماہ مبارک رجب و شعبان المعظم اور رمضان المبارک میں کوئی طرحی محفل منعقد نہ ہوسکی لیکن ماہ مبارک رمضان کی تبلیغ سے واپسی کے بعدذی قعدة الحرام میں ولی نعمت امام رؤف ثامن الحجج حضرت علی بن موسی الرضا علیہ آلاف التحیة و الثناء کی ولادت باسعادت کے پرمسرت موقع پر پھر ایک عظیم طرحی محفل کا انعقاد ہو ا کہ جس میں مقامی شعراء کے علاوہ مہمان شعراء کرام نے بھی شرکت فرمائی جس میں ہندوستان سے محترم جناب آغا سروش حیدرآبادی ، جناب رضا سرسوی ، جناب قیصر عقیل نوگانوی ، جناب ریحان بنارسی ، جناب ناطق علی پوری ، جناب فیاض رائبریلوی، جناب نصیر اعظمی اور پاکستان سے جناب محسن نقوی ، جناب رضا علی کاظمی وغیرہ قابل ذکر ہیں یہاں پر ہم ان سبھی حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ عملھم مقبول و سعیھم مشکور۔
اس عظیم محفل میں یہ دو مصرعے طبع آزمائی کے لیے پیش کیے گئے تھے ۔
کشتی زیست کا ہے سہارا رضا
خدایا سرپر رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ
اور اب عید سعید غدیر کی آمد آمد ہے اور اس عظیم ترین عید پر بزم رأفت کی جانب سے ہونے والی محفل مقاصدہ کے مصرعے حسب ذیل ہیں:
آگئی بلغ کی آیت لے کے اعلان غدیر
تازہ ہے آج تک وہی منظر غدیر کا
اور اس کے بعد پھر سال آئندہ بھی گذشہ سال کی طرح ایک عظیم سیمناربعنوان ذبح عظیم کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں تمام ہی موالیان حضرات سے پرخلوص شرکت کی استدعا ہے اس امید کے ساتھ کہ انشاء اللہ خداوندعالم ہماری اس سعی ناچیز کو شرف قبولیت عطا فرمائے ۔
والسلام
مدیر بزم رأفت
سید سبط حیدر زیدی
بزم رأفت