شاعر : جناب عابد علی بھوجانی صاحب
طرحی مصرعہ : بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
یوں ابر شوق جھوم کے برسا غدیر میں کاسوں سے جام خوب ہی چھلکا غدیر میں
دست نبی پہ ایسا تھا جلوہ غدیر میں قرآن پڑھ رہا تھا قصیدہ غدیر میں
پہلے فرات اشک پہ جا کے وضو کرے جائے اگر خیال کا کنبہ غدیر میں
فانوس دیں میںشمع ولایت کو دیکھ کر کعبہ طواف کرنے کو آیا غدیر میں
معراج ہو رہی ہے جناب امیر کو دست نبی ہے مسجد اقصی غدیر میں
بخ لک اگر وہ نہ کہتا غدیر میں اٹھتا منافقت کا جنازہ غدیر میں
کر دی علی کے نام خلافت کی ملکیت بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
حج کیا تھا چھوڑ دیتے وہ دین نبی جناب معلوم ہوتا ہو گا جو ایسا غدیر میں
اچھا رہے جو ساتھ میرا چھوڑ دے حیات ہے کاروان زیست کا خیمہ غدیر میں
روز غدیر دھوپ کی شدت بتائے ہے سورج بھی محو سجدہ ہے گویا غدیر میں
ہاںخیریت تھی بات جو پتھرپے رک گئی کم تھا جو کوہ سنگ بھی گرتا غدیر میں
کیسے ہو ا تحا د کہ تا ریخ ہے گو اہ حارث پہ تھا عذاب بلا کا غدیر میں
قبروںمیںان کے آج بھی اجداد روتے ہیں کچھ اس طرح لگا ہے طمانچہ غدیر میں
دل میںچھپا کے حشر میںلے جائونگا ضرور عابد مجھے ملا ہے جو صدقہ غدیر میں
شاعر : جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب
مصرعہ طرح: خداکی رحمتیںسمٹی ہے ساری ایک پیکر میں
کہاںسے لفظ لائوںانکی نعتوںکے برابر میں مثالیں مل نہیں پاتیں کہیں مخلوق داور میں
محمدۖ مصطفیٰ ۖ کی ذات کی رفعت کا کیا کہنا ہے انکی آل کی توصیف قرآن او ر کوثر میں
محمد ۖ کے سہارے نا خدائی کر رہا ہوںمیں مری کشتی پڑی ہے ایک دریائے شناور میں
سلام اے آمنہ تو رحمتوں کی بن گئی مادر خدا نے عظمتیںرکھی ہیں ساری تیرے دلبر میں
عطا ، لطف وکرم ، رحم و محبت، کوثر و جنت خداکی رحمتیںسمٹی ہے ساری ایک پیکر میں
زبا ںکیوںہڈیوںکے درمیان محبوس رکھوںمیں جو ذکر مصطفیٰ و آل ہے میرے مقدر میں
کوئی دیکھے اگر کرب و بلا کی جنگ کا منظر مز ا ج لا فتی ٰ پائے گا عباس دلاور میں
ہنسی کے وار سے دشمن کا دل چیرا ہے میداںمیں کو ئی ایسا بھی بچہ آ گیا آ ل پیمبر ۖ میں
حسین بس اس لیے تھے چاہتے شدت سے بیٹے کو کہ جلوہ مصطفیٰ ۖ کے حسن کا تھا شکل اکبر میں
دکھایا دے کے خطبے شام کے مجمع میں زینب نے اثر کونین کے سرکا ر کا ہے بنت حیدر میں
محمد مصطفی ۖ کے واسطے پوری کرے یا رب کمی جو رہ گئی ہے باقی اب تک فکر اطہر میں
شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب الفت حسین جویا صاحب
مصرعہ طرح :بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں سرور ۖ نے حاجیوں کو بلایا غدیر میں
وقت نمازتھا نہیں چونکے سبھی جونہی حی ّعلی خیر العمل گو نجا غد یر میں
سوالاکھ حاجیوںکے مقابل حضورۖنے نعر ہ علی و لی کا لگا یا غد یر میں
کچھ کھل اٹھے کچھ جل گئے کچھ سوچنے لگے سر پر علی کے تا ج جو آ یا غدیر میں
اعلاں ہوا علی کی ولایت کا جس گھڑی اکما ل دیں کا آ گیا تحفہ غد یر میں
بھولا خدا کو بھو لا نبی ۖ کو کتاب کو جس نے بھی کر کے وعدہ بھلایا غد یر میں
طرحی مصرعہ: (جام کوثر کی طلب ہو تو پیجیے جام غدیر)
محو ہو سکتا نہیں تاریخ سے نام غدیر بھول پائے گا بشر ہر گز نہ ایام غدیر
کا م تبلیغ کا کو ئی بھی نہ ہو گر نہ پہنچائیں پیغمبر ٔۖ آج پیغام غدیر
دین کا کمال ، اتما م نعم ، مرضی حق اک ولایت کے ہے صدقے میںیہ انعام غدیر
اپنا اپنا ہے مقدر ہو مبارک منکرو تم کو اسلام سقیفہ ہم کو ا سلام غدیر
شیخ جی! تیرے نصیبوں کا ہے چکر یہ طواف کیوںنہین میقات خم سے باندھا احرام غدیر
اس قدر رسوا نہ ہوتے اہل دیں ہر گز کبھی یاد رکھتے گر دل و جاں سے وہ پیغام غدیر
ساقی کوثر علی ہیںاس لیے اے شیخ جی! جام کوثر کی طلب ہو پیجیے جام غدیر
ہے دعا ا لفت ولی امر آئیں بارہویں دیکھ لیں ہم بھی بڑھیںتکمیل کو گام غدیر
شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب الفت حسین جویا صاحب
مصرعہ طرح : آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفےٰ ۖ
آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفےٰ ۖ ذرہ ذرہ دوجہاںکا گنگنائے مصطفےٰۖ
ابتداء جس کے فضائل کی وہ ''لولاک کا'' کون سمجھے گا بھلا پھر انتہائے مصطفےٰ ۖ
کہہ رہا ہے ''حسین منی '' کا ہم سے بیان کربلا شبیر کی ہے کربلا ئے مصطفےٰ ۖ
کاش پوری ہوسکے اک بار الفت آرزو وہ جگہ چوموںجہاںہیںنقش پائے مصطفےٰۖ
مصرعہ طرح : خدا کی رحمتیںسمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں
خدا کی رحمتیںسمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں
جو چاہو دیکھنا دیکھو سبھی چہرہ سرور میں
بھلا مجھ سے یا مجھ جیسوںسے ممکن ہے ثناء ان کی
جہاں مصروف قرآن میں خدا ہو مدح سرورۖ میں
علی نفس پیغمبر ۖ ہیں ، پیغمبر ۖ نفس حیدر ہیں
کہاں ایسی محبت او ر قرابت دو برادر میں
پیغمبر ۖ سے پیغمبر کے صحابہ میں نہیں ملتی
عقیدت سبط پیغمبر ۖ سے دیکھی جو بہترّ میں
کہے جاتے ہیں کچھ نامرد بدعت ہے یہ بدعت ہے
علم اک مرد کو جب سے ملا ہے جنگ خیبر میں
اگر قرآن و عترت کا نہ دامن چھوڑ تی امت
یہ واحد ہی بنی رہتی نہ بٹتی یوں ٧٣ میں
نہیں کچھ خوف الفت کل بروز حشر کیا ہوگا ؟
یقیں ہے مصطفیٰ ۖ تھامیںگے میرا ہاتھ محشر میں
شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب تحریر علی نقوی صاحب
مصرعہ طرح : آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفےٰ ۖ
خلق حق میںدیکھو مقدار فضائے مصطفیٰۖ ماسوی اللہ میںہے تو آب وہوا ئے مصطفیٰۖ
اے خدائے نور مجھ پر ہو عطائے مرتضیٰ تاکہ میںبھی کر سکوں کچھ دم ثناء مصطفیٰۖ
خلق خالق میںہے سرورۖ اک حبیب کبریا ۖ اک غلام باوفا صاحب لوائے مصطفی ٰۖ
جو غلام مصطفی ٰۖ حیدر سے دوری میںرہا وہ نہیںسمجھا سمجھ لو الف و بائے مصطفی ٰۖ
مرتبے میںمرتضیٰ کون ومکان میںبے مثال جس کے دل میںموجزن روح ولائے مصطفیٰۖ
اس کو دل اس کا خلیفہ مان لیتاہے ضرور ہاتھ جس کا ہاتھ میںتھامے ، اٹھائے مصطفیٰۖ
مرتضی وفاطمہ ہیں اپنے فرزند کے ساتھ پانچویںسرورۖ ہیں، سب پر ہے ردائے مصطفیۖ
مصطفی ۖ ومرتضی میں فاصلہ کوئی نہیں روز روشن حا جیوںکو جب دکھائے مصطفیۖ
اس ردا کی شان جبریل امیں سے پوچھ لو آرزو دل میںلیے بولے ''خدائے مصطفیٰ'ۖ
ہو اجازت تو مدینے کی زمیںپر پہنچ کر پانچتن کی بزم میں پہنچے گدائے مصطفیٰۖ
لی اجازت آیہ تطہیر لے کر آگئے سر جھکائے رک گئے دیکھی کسائے مصطفیٰۖ
باادب مانگی اجازت ،جب ملی داخل ہوئے واقف آداب تھے وہ آشنائے مصطفیٰۖ
کلمہ گوتو بھی امین وحی حق سے لے سبق بے اجازت گھر نہ آ، گر نہ بلائے مصطفیٰۖ
آیت تطہیر والاگھر جلانے کی نہ سوچ ورنہ غیظ حق سے تیرا دل جلائے مصطفیٰۖ
شان زہرائے حبیب کبریا ۖ بھی دیکھ لو وہ ہے جس کو دیکھ کر اٹھ کر دکھا ئے مصطفیٰۖ
بضعة منی کہے یعنی یہ ٹکڑا ہے میرا اپنی بیٹی اپنی ماں کہہ کر سنائے مصطفیٰۖ
رحمةً للعالمین کی ساری رحمت فاطمہ مانگو اس کے نام پر ، دریا بہائے مصطفیٰۖ
سرور عالم کہے سردار جنت کے ہیں دو جان ودل سے ان کو پیارے جن کو بھائے مصطفیٰۖ
اک حسن ہیںمجتبی او راک حسین پادشاہ سیرت وکردار میں دونوں ادائے مصطفیٰۖ
واسطہ دے کر تو دیکھو دونواسوںکااسے روشنائی میںبد ل دے غم کے سائے مصطفیٰۖ
سبط پیغمبر ۖ شھیدکربلا کے باب میں کہنے والو شعر کہہ کر لو دعائے مصطفیٰۖ
جس کے در پر صف بہ صف سارے ملائک سر نگوں اے بشر تیری سمجھ میں کیسے آئے مصطفیٰۖ
جس کی بند مٹھی میںہو دانے کی مانند کل زمین پھر زمین میںکیسے ممکن ہے سمائے مصطفیٰۖ
چاند سورج اور ستارے شرم کے مارے مریں اک دفعہ جب رخ کرے اور مسکرائے مصطفیٰۖ
دردمندواسکی چوکھٹ ہے شفا خانہ عجب جو مریض آئے مرض پل میںہٹائے مصطفیٰۖ
آنہیںسکتی کبھی مرگ خزاںاس کے قریب میں اے خوشاجو آنگن دل میںسجائے مصطفیٰۖ
تھا سماںساراخزاںجب تک نہ آئے مصطفےٰۖ آگئی فصل ربیع ، تشریف لائے مصطفےٰۖ
رک گئے جبریل پیچھے ،بڑھ گئے آگئے نبیۖ ان سے توآگے بہت تھی گرد پائے مصطفیٰۖ
ہاںمگر نفس پیمبرۖ کی جداہی بات ہے انکے لہجے میں تھا جلوہ گر خدائے مصطفیٰۖ
نقوی کیاتقدیر کا کھٹکا ہو، قسمت کا ہو غم! جبکہ بگڑی پر کرم کر کے بنا ئے مصطفیٰۖ
مصرعہ طرح : خدا کی رحمتیںسمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں
اگر چاہو کہ دیکھو رحمت حق ایک جوھر میں
خدا کی رحمتیں سمٹی ہیں سار ی ایک پیکر میں
ہیںجتنی خوبیاںپھیلی ہوئی اس سارے عالم میں
نمونہ ان کے مرکز کا ہے سرور ۖ اور جعفر میں
رسالت اور امامت کی سیادت حق کی جانب سے
ہے رشک عالم امکاں' پیمبر ۖ اور حیدر میں''
صدف کعبہ ، رجب کی تیرہویں'ہاتھوںپہ گوھر ہے
امامت بچپنے میںہے رسالت ہی کے محضر میں
نبی ۖ کے بعد شکل و صورت و منطق میں ویسا ہی
اگر دیکھا زمانے نے تو دیکھا ایک اکبر میں
صفات احمد مختار ۖ ہم نے جلوہ گر دیکھیں
علی حق کے و لی ، شیر جلی نفس پیمبر ۖ میں
خدا کے دین پر مشکل بنی ، مشکل کشا آئے
نبی ۖ سے پوچھو لو ، خود دیکھ لو خندق میں،خیبر میں
علی ہر بات میںمرضی نبیۖ کی دیکھ لیتے ہیں
خدا کا حکم لیتے ہیں نبیۖ کے ایک تیور میں
سکون دل کا باعث ہم نے یاد یںان کی پائی ہیں
ہے کتنی تازہ لذت ان کے ہر حرف مکررمیں
نبیۖ کو اپنا بھائی ایسے ویسے کہہ نہ سکتے تھے
اخوت گر نبیۖ کی دیکھتے نہ پاک حیدر میں
نبیۖ کے ہاتھ پر پتھر بھی آکر کلمہ پڑھتے ہی
تفاوت کچھ ہے لازم کلمہ گو میں اور پتھر میں
علی کی جب ثناء کو لب ہلے ، امر نبی ۖ آیا
ںاے روح القدس جائو کچھ لکھو شاعر کے دفتر میں
اے نقوی محضر رضوی میںمانگو دوجہاں اچھے
ابھی سے مانگ لو پڑھنے کی نوبت روز محشر میں
شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب تحریر علی نقوی صاحب
مصرعہ طرح : بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غد یر میں
امر خدا نبی ۖ نے سنایا غدیر میں چہرہ وصی کا سب کو دکھایاغدیر میں
حق سے خلیفہ اس گھڑی پایا غدیر میں بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
پالان جمع کر لیے حجاج روک کر منبر نئی طرح سے سجایا غد یر میں
بعد از نبی ۖ تھی دھوپ کڑی انتظار میں دیں کو ملا ہے اس لیے سایہ غدیر میں
دست نبیۖ میںدست علی کا سماںیہ تھا جیسے چمن میں پھول کھلا یا غدیر میں
نفس نبیۖ وصی ہوئے بے شک بغیر فصل قول و عمل سے یہ ہی بتایا غدیر میں
دین خدا کی بن گئی کا یا غدیر میں بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غد یر میں
مولا میںجس کا اس کا ہے مولا علی ولی روشن بیان میںسب کو سنایا غدیر میں
کوثر کی تھی طلب جنہیں دست امیر سے جام غدیر ان کو پلایا غدیر میں
کفر خداپہ مولا جلاتے رہے محب کفر علی پہ حق نے جلایا غدیر میں
تبلیغیو نمونہ یہ سیرت سے دیکھ لو بلغ کا جشن کس نے منایا غدیر میں
سنّت کے اہل ہو جو حقیقت میں دوستو دیکھ امیر کس کو بنایا غدیر میں
رشک جنان نقوی خلافت ہوئی عجب بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
مصرعہ طرح : جام کوثر کی طلب ہو پیجیے جام غدیر
دین کا مل ہو گیا ، ملتا ہے انعام غدیر دین ہے اسلام اور اسلام ، اسلام غدیر
واسطہ مولا کا ہو چند لمحے الہام غدیر تاکہ کچھ پہنچاسکوں یا رب ! میں پیغام غدیر
جس کی قسمت میںرہا روز ازل جام الست مل سکا اس کے مقدر کو فقط جام غدیر
ہے خوشی کی انتہا سلمان کی آواز میں آئو تو خیر العمل میںلے لو ا نعام غدیر
حاجیو سن لو کہ ہے مقبول حج اسکا فقط جس نے باندھا آج اس میداںمیں احرام غدیر
رکھ کے پالانوںپہ پالانیںبہت اونچا کیا بہر اعلان ولایت منبر و بام غدیر
ہو گئے مولا علی سب کے و لی اب تا ابد ہو گیا واجب ہر اک مسلم پہ ا کرام غدیر
دست ساقی ہاتھ میںکر کے بلند بتلا دیا جام کوثر کی طلب ہو پیجیے جام غدیر
مبغضوں کی خام خیالی کے سروںپر دفعة ً حق نے حق دکھلا کے خود ہی رکھ دیا گام غدیر
ایک دشمن نے جو اظہار عداوت کردیا ا س پہ فوراً پڑ گئی اک ضرب صمصا م غدیر
اور الباقی ر ہے دل میںہی روتے پیٹتے چہرے گویا تھے کہ ہیںتا زیست آلام غدیر
کام کچھ نہ آسکیں شیطان کی شیطانیاں خاک منصوبے ہو ئے ہیں، آہ اقدام غدیر
سوچنے بیٹھے کہ کیسے کر سکیںاب اک ھنر کیسے پیدا کر سکیں ہر دل میں ابہام غدیر
نقویکہہ دو دشمنوں! اب بھاگنے سے کیا ثمر ! سامنے ہے جبکہ ظاہر حق کا ضرغام غدیر
شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب حسن عسکری نقوی صاحب
مصرعہ طرح : خدا کی رحمتیں سمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں
فضیلتیں آئی ہیں ساری ایک مظھر میں خدا کی رحمتیں سمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں
ولا جس کی عبادات خلائق کے لیے روح ہے ہے وقعت کیا اگر روح ہی نہ ہو اک خالی پیکر میں
تصور بھی نہیں ممکن خدا و مصطفیۖ جانیں ہوئے بنت اسد پر جو کرم اللہ کے گھر میں
جو اپنی جان دیکر مول لے اللہ کی مرضی وہ سو داگر ہمیں ملتا ہے بس اللہ کے گھر میں
علی کے عشق میں جو ڈوب جائیں زندگی ساری انہیں پرواہ نہیں ہوتی کبھی میدان محشر میں
فقط اس کی امامت کے ہیںقائل ہم علی والے ضیا خورشید ملتی ہوجس کے نور انور ہیں
بہار تازہ آئی گلشن عالم مہکتا ہے موالی مست ہیں گویا سبھی اک حوض کوثر میں
ہلا دیتے ہیں، دنیا کو مجاہد یاعلی کہہ کے یہی اک نعرہ سن سکتے ہیں گفتار پیغمبر ۖ میں
طبیعت کھینچے لے جاتی ہے اپنی اصل کی جانب ولی ا للہ سے ملتا کوئی ہے کوئی آذر میں
بپا ہے شور کہ ہیں معراج کے اسرار کھلتے ہیں علی کا لہجہ پاتے ہیں بنیۖ گفتار داور میں
مصرعہ طرح : بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں کھلنے لگا ہر دشمن مولا غدیر میں
مولا علی کا بغض تھاجن جن کے قلب میں سمجھے نہیں و ہ معنی مولا غدیر میں
اکمال دین نعمت تمام راضی ہوا خدا مولا علی کا ایک ہے جلوہ غدیر میں
ظاہر میں کچھ لعینوں نے مجبوریوں کے ساتھ نام علی کا پڑ ھ لیا کلمہ غدیر میں
ساری فضیلتوں نے بصد حترام شوق پائے علی پے کرلیا سجدہ غدیر میں
اک حشر بھی بپا ہوا ایسا غدیر میں جھپکی پلک بدل گئی دنیا غدیر میں
قرآن لے کے ہاتھوں پے انصاف سے کہو مولا کسے نبیۖ نے کہا تھا غدیر میں
دیکھے کوئی غدیر نصیری کی آنکھ سے دیکھے کوئی علی کا سراپا غدیر میں
تاریکیوں کے ختم کا اعلان ہوگیا کتنا عظیم ہے یہ اجالا غدیرمیں
سلمان کے ا یمان کی معراج دیکھیے خیر العمل کا نعرہ لگایا غدیر میں
یہ میثم تمار حذیفہ ہو یا عدی سب کی زباں پہ صل علی تھا غدیر میں
جبریل و میکائیل تھے مولا کے دو طرف رحمت کا چا ر سو تھا ھالہ غدیر میں
منکر علی کا سب سے پہلے ہو ا تھا وہ بخ کا جس نے نعرہ لگایا غدیر میں
منکر علی کا آج بھی حارث پر ست ہے چہرہ تھا ایسے لوگوں کا لا غدیر میں
ہاتھوں پہ جانشین پیمبرۖ کو دیکھ کر چہرہ بجھا بجھا سا ہے کن کا غدیر میں
یہ مسکراتے پھولو سے چہرو نکے درمیاں یہ کون خا ر کس کا ہے نالہ غدیر میں
چہرہ جلا ہوا ہے سقیفہ کا آج تک مارا نبیۖ نے ایسا طمانچہ غدیر میں
ہونٹوں پہ تھی کسی کے تبسم کی چاندنی ماتھے پہ تھا کسی کہ پسینہ غدیر میں
حارث مزاج دیکھ لے حارث کا واقعہ قدرت نے کیسا کھینچ کے مارا غدیر میں
اب دیکھناہے یہ کہ مکرتا ہے کون کون بخ تو مل کر سب نے کہا تھا غدیر میں
جنت میں مومنین کا اذن دخول ہے کعبے میں در بنا تھا کھلا تھا غدیر میں
دشمن علی کا ماں کی خرابی کا ہے ثمر اس پر نبیۖ کا بھی تھا اشارہ غدیر میں
یہ جو خمینی لائے ہیں اسلامی انقلاب اس کو نبیۖ نے بذر کیا تھا غدیر میں
مولا علی کے نام پہ جل جل کہ جو مرے لگتا ہے اچھا ان کو جلانا غدیر میں
مولا علی کے عشق سے ملتی ہے روح کو جاں لکھا حسن نے تیرا قصیدہ غدیر میں
شاعر:
حجة الاسلام و المسلمین جناب فیروز رضا نقوی صاحب
مصرعہ طرح : بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
مولا نبیۖ نے سب کو دکھایا غدیر میں اندھوں کو پر نظر نہیںآیا غدیر میں
ہے کو ن کہہ رہا ہے بخٍ لک علی! دست نبی ۖ پہ دیکھ کے مولا غدیر میں
تاریکیوںسے کہہ دو کہیںدور جا بسیں مئومن کو مل گیا ہے اجالاغدیر میں
ظلم و ستم کی دھوپ جلا پائے گی نہ دین روح کربلا سے مل گئی سایہ غدیر میں
مولا بنا دو آج پیغمبرۖ علی کو تم قرآن پڑھ ر ہا ہے قصیدہ غدیر میں
کفر و نفاق بغض سب روتے ہیںایک ساتھ اسلام ہنس رہاہے اکیلا غد یر میں
قرآنایک آگیا قرآن کے ساتھ ساتھ بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
منکر ہے جو ولایت حیدر کابا خدا اس پر عذاب عرش آیاسے غدیر میں
بدعت کے بانیوں کو محمد ۖنے با خدا خطبہ سنا سنا کے رلایا غدیر میں
الیوم پڑھ رہے ہیںپتا کچھ نہیںمگر قرآن کہہ رہا ہے ہوا کیا غدیر میں
فیروز کو نہیںہے ذرا خوف تشنگی جام ولا نبی ۖ نے پلا یا غد یر میں
مصرعہ طرح : خدا کی رحمتیںسمٹیںہیںساری ایک پیکر میں
کسی بھی مشک میںدیکھی ہے نہ ہم نے گل تر میں
مہک دیکھی گئی جو آپ کے عرق معطّر میں
نبی کیسا تھ میں گر الفت آل نبی نہ ہو
نہیںہے پھر طواف کعبہ ہے بندر وہ چکر میں
رضی اللہ سبھی کو کہہ رہا ہے ہوش کر مفتی
رضا ء رب کہاںہے دیکھ لے ھجرت کے بستر میں
لگائی خلق کی ضربت جو مولاکفر کے سر پے
کہاںہے کاٹ تلواروںمیں ایسی اور خنجر میں
تقابل خاک کا کیا ہو بھلانور مجسم سے
شباھت آپ کی دیکھی گئی بس آپ کے گھر میں
فضیلت خون کی آخر بیان ہو کس طرح واللہ
ہیںخوشبوئوںکے جوہر آپکے عرق معطر میں
قلم عا جز ہے لکھنے سے تیری عظمت تو کیا لکھے
ہوئے جب مردے زندہ آپ کے حیدر کی ٹھوکر میں
شباہت کس قدر ہے خلق میںاور خُلق ومنط میں
سمٹ کر آگیا سرور کا ہر کردار اکبر میں
پسینہ آگیا مرحب کو لرزا خوف میں آکر
علم گاڑا ہے حیدر نے جو بڑھ کے ایک پتھر میں
بتائے گا تجھے خیبر کا وہ در پوچھ اژدرسے
نہ پوچھو زورکیاہے ہم سے تم انگشت حیدر میں
یہ ستر پشتوںتک کو دیکھ کر پھر وار کرتی ہے
بلا کا علم ہے پنہاں علی کی تیغ ا طہر میں
علی کے علم کی معراج کیا ہے کون بتلائے
نبی ۖسے پایا ہے جو علم ہے موجود حیدر میں
جب علم عبد مرسل کو نہ کوئی جان پایا ہے
بھلا کیا علم ہو گا کون بتلائے پیمبرۖ میں
ابوطالب کی آغوش مطہر کا یہ عالم ہے
خدا کی رحمتیںسمٹیںہیںساری ایک پیکر میں
ابوطالب کے بچے تیر کھا کے مسکراتے ہیں
تڑپ کے رویا ہے ایک پیر تھا جو خوف میں ڈر میں
تبسم سے گلا بیعت کا کس نے کا ٹ ڈ الا ہے
نہیں ملتا کسی میں فن ہے یہ فیروز ا صغر میں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
شاعر: حجة الاسلام و المسلمین جناب محمد حسین بہشتی صاحب
مصرعہ طرح : خدا کی رحمتیںسمٹیںہیںساری ایک پیکر میں
خدا کی رحمتیںسمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں یہ ساری خوبیاں ملتی ہیںہم کو نام حیدر میں
جو میداںمیںلڑا دشمن سے اپنی جاںفدا کر دی ہزاروںخوبیاں ہم کو نظر آتی ہیں اکبر میں
علی شیر خدا ، خیبر شکن ہے شیر یزدانی محمد ۖ ہی کی ساری خوبیاں ملتی ہے حیدر میں
وہ سالار شہیدان حیدر کرار کا بیٹا کہ جسکے نام کا دن رات ماتم ہیںہر ایک گھر میں
یہی ایک آرزو ہے دنیا میںبہشتی کا میرا نام بھی لکھ لے اے مولا اپنے دفتر میں
مصرعہ طرح : آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفے ٰۖ
آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفے ٰۖ سب خدا کی رحمتوں کو ساتھ لائے مصطفے ٰۖ
رحمة اللعالمین ہیں سرور کونین ہیں ہر کس و ناکس کی بگڑی کو بنائے مصطفے ٰۖ
رحمت حق ہیں محمدۖ بزم عالم کے لیے نور کے جلوے ہر ایک جانب دکھائے مصطفے ۖ
ہے محمد ۖہی کے دم سے یہ گلستان جہان رہتی ہے جنت ہمیشہ زیر پائے مصطفے ٰ ۖ
حوض کوثر ، باغ رضواںہے محمد ۖکے لیے یہ زمین و آسماںسب ہیںبرائے مصطفےٰ ۖ
تاقیامت ہے بہشتی لطف ہیغمبر ۖ قرین دو جہاںمیں کون ہیں اپنا سوائے مصطفےۖ
مصرعہ طرح : بلّغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
بلّغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں احمدۖ نے جانشین بنایا غدیر میں
آواز کر دگار ہے مانو علی کو سب تنہا رہ نجات ہے آ یا غدیر میں
جشن و لا منانا ہے با ہم گلے ملو عشق علی کا جام پلایا غدیر میں
تاریخ انبیاء پہ نظرڈال کر تو دیکھ پورے نظام عدل کو لایا غدیر میں
خوشیاںتیری عروج پہ پہنچیں نہ کس لیے مئومن تیرا امیر ہے آیا غدیر میں
تکمیل دین کے واسطے شرط و شروط ہیں مشروط شرط دیکھ دکھایا غدیر میں
دشمن حسد کی آگ میں اکثر جلا کرے حاسد کے بت کو خوب جلایا غدیر میں
نقشہ بدل گیا ہے سب کفر و نفاق کا جب سے علی کو مولا بنایا غدیر میں
ہم سب کو مشکلوں سے چھڑانے کے واسطے مشکل کشا ء نبی ۖنے دکھایا غدیر میں
ایوان کفر خوف سے لرزاں ہنوز ہے گلشن ولا کا جب سے بسایا غدیر میں
پرواز فکر اور بھشتی کا ہے قلم منظر ولا کا دل میںسمایا غدیر میں
شاعر:
حجة الاسلام و المسلمین جناب سبط محمد رضوی صاحب
مصرعہ طرح : بلّغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
خود آکے آیتوںنے بتایا غدیر میں اللہ کا بھی یہی تھا منشاء غدیر میں
کیا پوچھتے ہو ہمکو ملا کیا غدیر میں ہم نے نبی ۖ سے پایا ہے مولاغدیر میں
بخٍ لک سے گونج رہی ہے فضائے خم دشمن بھی پڑھ رہا ہے قصیدہ غدیر میں
حیدر کو کیا نبی ۖنے اٹھایا غدیر میں قرآن کا سراپا دکھایا غدیر میں
روز ازل کے ساز کو آواز مل گئی چھیڑا گیا الست کا نغمہ غدیر میں
بخٍتو کہہ رہے تھے کچھ اصحاب مصطفی چہرہ مگر تھا دیکھنے والا غدیر میں
آنکھیںتیری نہ پھر بھی کھلیںمنکر غدیر حارث کا حشر دیکھ چکا تھا غدیر میں
اعلان اب علی کی ولایت کا کیجیے پہونچا نبی ۖ کو حکم خدا کا غدیر میں
جو نور کو ہ طور پہ دیکھے تھے ایک بار پھر دیکھنے کو آئے ہیںموسی غدیر میں
محفوظ اب بھی سینئہ تاریخ میںہے یہ مرسل نے جو سنا یا تھا خطبہ غدیر میں
اللہ کی عظیم عدالت میںجو ہوا وہ فیصلہ نبی ۖ نے سنایا غدیر میں
شدت کی دھوپ خنکی جنتّ بنی رہی مولا علی کا جن پہ تھا سایہ غدیر میں
اصحاب کو بھی روکا نبی ۖ خود بھی رک گئے بلّغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
یہ محفل غدیر ہے سبط ہے مدح خواں یا ںپڑھ رہا ہوںمیں بھی قصیدہ غدیر میں
مصرعہ طرح : جام کوثر کی طلب ہو تو پیجیے جام غدیر
ہے قصیدہ میرے لب پر کرتا ہوںمدح علی آج میں دست نبی ۖ سے لونگا انعام غدیر
ساری دنیا میںعلی والے ہیںجب پھیلے ہوئے کیوںنہ ہوسارے جہاںمیںعام پیغام غدیر
حکم ہے اللہ کا پہنچانے والے ہیںرسول ۖ کیوںنہ ہو ںواجب کی حد میںسارے احکام غدیر
اس میںملتے ہیںحسین اس میں ملتا ہے یزید ایک انجام سقیفہ ، ایک انجام غدیر
میںغدیری ہوںزبان پر کیوںنہ ہو نام غدیر جام کوثر کی طلب ہو تو پیجیے جام غدیر
اس کی اے سبط ضمانت لی ہے خود قرآن نے اور سب جھوٹے ہیںبس سچا ہے اسلام غدیر
مصرعہ طرح : آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفے ٰۖ
آج کرنی ہے مجھے جی بھر ثنائے مصطفی اے خدا ہو جائے کچھ مجھ کو عطائے مصطفی ۖ
ساری دنیا مل کے بھی جس کا نہ لا پائی جواب ایسے دونا یا ب قرآن ساتھ لائے مصطفی ۖ
زندگی کا درس کچھ ایسا دیا ہے آپ نے ڈھونڈتی پھرتی ہے دنیا نقش پائے مصطفی ۖ
کر کے ان کا ذکر ہم بھی با فضیلت ہو گئے ہم کو کہتا ہے زمانہ اب گدائے .مصطفی ۖ
ان کی سیرت کے نمونے سن کے حیراںہے جہاں کر رہا ہے ہر بشر حمد و ثنائے.مصطفی ۖ
بالا تر وہم گماںسے ہے تیری ذات ولاء کوئی پاسکتا نہیںجو ہے فضائے مصطفی ۖ
برزخ ومحشر کا مجھکو کچھ نہیںخوف و خطر سر پہ سبط کے نچھاور ہے قبائے مصطفی ۖ
وجد میںکیونکرنہ آئیںپھر زمین وآسماں مجھکو کرنا ہے دل و جاںسے ثنائے مصطفی ۖ
دھوم ہے صل علی کی اس لیے چاروںطرف آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفی ۖ
اللھم صلی علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم واحشرنا معھم والعن اعدائھم من الجن و الانس من الاولین و الآخرین
شاعر : حجة الاسلام والمسلمین جناب نیر عباس رضوی صاحب
مصرعہ طرح : بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
حیدر کو جب نبی ۖنے اٹھایا غدیر میں پھیلا علی کے نور کا جلوہ غدیر میں
جن کے دلوں میں بغض تھا عمراں کے لعل کا ان کا جھلس کے رہ گیا چہرا غدیر میں
لفظ غدیر دین کا عنوان کیوں نہ ہو کامل ہوا ہے د ین خدا کا غدیر میں
عمدا ًنبی نے دھوپ میں روکا تھا اس لیے تاکہ کہے نہ کوئی ہوا کیا غدیر میں
دعوت میں ذوالعشیرہ کی وعدہ کیا تھا جو کس شان سے نبی نے نبھایا غدیر میں
رب نے نبی ۖسے کہدیا خطرہ نہیں کوئی جبریل ہیں کیے ہوئے سایہ غدیر میں
عشق علی کا آگیا ہر ایک کو نشہ ساغر ولا کا اس طرح چھلکا غدیر میں
اے شیخ یہ بھی حکم خدا ہے طواف کر شکل علی میں بن گیا کعبہ غدیر میں
دین نبی سے بر سر منبر علی علی تاریخ کا ہے پہلا تبرا غدیر میں
بغض علی تھا جن کے دلوں میں وہ مرمٹے بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
کوثر کا جام صرف اسی کو ملے نہ کیوں جس نے ولا کا جام پیا تھا غدیر میں
عشق علی میں ہوگئے کچھ لوگ تو جواں کچھ کو علی نے کردیا بوڑھا غدیر میں
قدموں میں ہیں علی کے بصد ناز انبیاء رتبہ علی کو مل گیا ایسا غدیر میں
نیر میرے علی کے برابر نہیں کوئی اتنا علی کا قدہوا اونچا غدیر میں
شاعر: حجة الاسلام والمسلمین جناب سبط حیدر زیدی صاحب
طرحی مصرعہ: بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں
(مسدس)
بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں سارے ہی حاجیوں کو بلایا غدیر میں
پھر اک طویل خطبہ سنایا غدیر میں حکم الہی سب کو بتایا غدیر میں
ذکر ولا نہ ہو تو ہدایت ہے نا تمام
اس کے بغیر میری رسالت ہے نا تمام
پھر اس طرح علی کو اٹھایا غدیر میں ہاتھوں پہ لے کے سب کو دکھایاغدیر میں
یوں دشمنوں کو خوب رلایا غدیر میں اور دوستوں کو کھل کے ہنسایا غدیر میں
دین مبیں کی اصل ولایت ہے حاجیو
اب تم پہ فرض اس کی اطاعت ہے حاجیو
یہ کہہ کے ختم کردیا خطبہ غدیر میں سب کے ہیں اب علی ولی مولا غدیر میں
خوشیوں کا ہے مقام سراپا غدیر میں جبریل لے کے آگئے مژدہ غدیر میں
راضی ہے رب کہ حکم کی تعمیل ہوگئی
اب اس خوشی پہ دین کی تکمیل ہوگئی
خوش ہیں رسول جانشیں پایا غدیر میں جبریل خوش کہ مل گئے مولا غدیر میں
ہے مؤمنوں کے دل کی تمنا غدیر میں مسرور ہیں علی ہوئے آقا غدیر میں
ان کی ولا سے سب کو بقا ہے ملی ہوئی
اھل ولا خوش تو ہیں باچھیں کھلی ہوئی
بخ لک علی، کا تھا نعرہ غدیر میں اپنے پرائے سب نے کہا تھا غدیر میں
سب مؤمنوں کے ہوگئے مولا غدیر میں نام علی کا پڑھ لیا کلمہ غدیر میں
مؤمن منافق اچھا برا بے قرار تھا
رعب و جلال کبریا یوں آشکار تھا
لیکن پھر اک نصیب کا مارا غدیر میں اٹھا بڑھا تو یوں وہ پکارا غدیر میں
مجھ کو علی نہیں ہیں گوارا غدیر میں برسادے مجھ پہ سنگ خدارا غدیر میں
اتنا کہا کہ سنگ گرا آسمان سے
بغض علی میں مٹ گیا حارث جہان سے
بغض علی کا د یکھا نتیجہ غدیر میں حب علی کا جب کہ ہے پہراغدیر میں
حق کو ملا ہے تاج ولاء کا غدیر میں باطل کا ہوگیا ہے صفایا غدیر میں
بخشش ولا کے ساتھ ہے اعلان ہو گیا
سبط تیری نجات کا سامان ہوگیا
مصرعہ طرح : جام کوثر کی طلب ہو پیجیے جام غدیر
محفل جشن ولا ہے گام بر گام غدیر اب وظیفہ ہے ہمارا نشر پیغام غدیر
ہے ولایت دین کی تکمیل انعام غدیر مرضی معبود ہے او ر اصل اسلام غدیر
یک بیک فق ہوگیا چہرا جناب شیخ کا میرے ہونٹوں پر ابھی آیاہی تھا نام غدیر
آرزو جنت کی ہو تو کربلا میں آئیے جام کوثر کی طلب ہو پیجیے جام غدیر
دوستوں کے حق میں شیریں دشمنوں پر تلخ ہے ساری دنیا کو بتادو ہے یہی طعم غدیر
حارث نعمان فہری یوں بلائوں میں گھر ا تھا بڑا عابد مگر اعمال تھے خام غدیر
کہہ دیا بخ لک حالات کے پیش نظر شیخ جی کے چل رہی تھی دل پہ صمصام غدیر
جو بھی منکر ہو ولا کا سنگ باری اس پہ ہو تا ابد باقی رہے گا اب یہ پیغام غدیر
سبطہے عشق علی میں ہر گھڑی محو ثنا صبح ہے صبح غدیر و شام ہے شام غدیر
مصرعہ طرح : خدا کی رحمتیں سمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں
شروع کرتا ہوں اپنی گفتگو نعت پیمبر ۖمیں ذخیرہ ہے یہی بس اک مرا دنیا میں محشر میں
قلم نے غوطہ زن ہوکر لکھا یوں حوض کوثر میں کہ ہے ہر شعر پر اک بیت جنت مدح حیدر میں
خدا کے سارے ہی اوصاف کے مظہر ہیں پیغمبر خدا کی رحمتیں سمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں
وہی مرجع ، وہی منبع ، وہی مبداء ، وہی ماوی وہی دنیا میں عقبی میں وہی جنت میں کوثر میں
وہی عابد، وہی زاہد، وہی اصلح، وہی اشجع وہی ہے امن کا پیکر وہی حاکم ہے خیبر میں
وہی قانع ، وہی صانع ،وہی سامع ، وہی شارع وہی ہے حامل قرآن ہے داور بیت داور میں
وہی اعلی ، وہی اتقی، وہی طہ ، وہی ارفع وہی نور مجسم ہے وہی ہے نوری پیکر میں
وہی ظاہر ، وہی باطن ، وہی طاہر ، وہی اطہر مزمل ہے مدثر ہے وہی تطہیری چادر میں
گلوں کی طرح چن چن کر بنایا سبط نے سہرا گلستاں ہوگیا ہے یوں لکھے ا شعار دفتر میں
طرحی مصرعہ: آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفی
میں نے لکھا ہے قصیدہ یوں برائے مصطفی ۖ جامعة المصطفی میں ہے ثنائے مصطفیۖ
چاند سورج عکس روئے پر ضیائے مصطفی ۖ لیلة المعراج ہے زلف رسائے مصطفیۖ
منزل قوسین او ادنی ہے جائے مصطفی ۖ سرمہء چشم ملک ہے خاک پائے مصطفیۖ
خانہ ء دل میں ہے میرے بسکہ جائے مصطفی ۖ سانس لیتا ہوں تو آتی ہے صدائے مصطفیۖ
لہلہا اٹھا یہ عالم اور منور ہو گیا آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفیۖ
خار پہلو میں ہیں پر کچھ گل کا کرسکتے نہیں یہ بندھی ہے سارے عالم میں ہوائے مصطفیۖ
آکے یاں سائل کوئی محروم ہوسکتا نہیں بند ہوتا ہی نہیں دست سخائے مصطفیۖ
کچھ مجھے دنیا و ما فیھا سے آگاہی نہیں بے خبر عالم سے رکھتی ہے ولائے مصطفیۖ
مل گئی ہے بادشاہت سارے عالم کی اسے ہوگیا ہے دل سے جو سبط گدائے مصطفیۖ
(مذکورہ طرحی مصرعہ پر فارسی زبان میں قصیدہ)
می نویسم یک قصیدہ در ثنأمصطفی دادہ این توفیق عظمی را خدأ مصطفی
گر دھد توفیق دیدار مدینہ کردگار طوطیأ چشم سازم خاک پأ مصطفی
رحمةللعالمین است سرور کون و مکان چونکہ جبریل امین باشد گدأ مصطفی
جان عالم کے نماید در رھش خود را فدا تاکہ حیدر می کند جان را فدأ مصطفی
خلقت افلاک را پروردگار ذوالمنن کرد تقدیم نگار دلربأ مصطفی
چون وجود نازنین وجہ بنأ عالمین بر ھمہ عالم بود لازم ولأ مصطفی
معنی ختم نبوت نطقہ اوج کمال انتہأ انبیاء است ابتدأ مصطفی
فھم انسانی چہ داند رفعت والأ او ھمچوواجب نیست ممکن ماسوأ مصطفی
بود گر بالا تر از عرش بریں جأ دگر معتقد بودم کہ آنجا ھست جأ مصطفی
سبط چہ گوید ثنأ رحمة للعالمین حال آنکہ خود خدا گویدثنأ مصطفی
بزم رأفت
رؤف مولا نے اپنے قدموں میں کیا سجائی ہے بزم رأفت
دیا ہے شعر و ادب کا خود ذوق ، پھر بنائی ہے بزم رأفت
رؤف مولا کی بارگاہ میں ، یوں دل کو بھائی ہے بزم رأفت
کہ باغ جنت کی سر زمیں پہ، سنور کے آئی ہے بزم رأفت
جہاں خدا کے فرشتے آکر ، سلام کرتے ہیں رات اور دن
وہیں پہ عرض ادب کی خاطر ، ابھر کے آئی ہے بزم رأفت
عقیدتوں کے خراج دے کر ، یہ اپنے پہلے ہی مرحلے میں
جناب زہرا کی بارگاہ میں ، تو مسکرائی ہے بزم رأفت
ستارے آپس میں کہہ رہے ہیں ، اے عرشیو فرش کو تو دیکھو
زمین رأفت پہ رشک انجم ، وہ بن کے چھائی ہے بزم رأفت
سماعتوں کا سکون بن کر، دلوں میں گھر کرلیے ہیں اس نے
نگاہیں مبہوت رہ گئی ہیں ، جو جگمگائی ہے بزم رأفت
یہ تبصرے ہورہے ہیں حوزے میں تھی ضرورت نہایت اس کی
فضائے راکد کی قید و بند سے ، بنی رہائی ہے بزم رأفت
مبلغین کرام مذہب ، ادیب ہونگے تو لطف ہوگا
ہنر ادب کا سکھانے کو اب ۔ عجب رسائی ہے بزم رأفت
شکوفہ ہوںگے جو غنچہ سارے ، تو اک نیا ہی سماں بندھے گا
جو خوشبو پھیلائے شش جہت وہ ، بہار لائی ہے بزم رأفت
حسن عسکری ہوں کہ تحریر نقوی ، ہوں سبط رضوی کہ فیروز نقوی
سبھی نے گوندھا خمیر اس کا سبھی کو بھائی ہے بزم رأفت
رضوی نیر ہوں یا بہشتی ، یا کہ الفت حسین جویا
انہی کی بھر پور کا وشوں نے ، عجب سجائی ہے بزم رأفت
سجا ہے سبط کے سر پہ سہرا ، اس انجمن کی مدیریت کا
اسی کی محنت کا یہ صلہ ہے ، کہ رنگ لائی ہے بزم رأفت
٭٭٭٭٭٭