تنویر غدیر سمینار

باسم القدیر

"" عید غدیر خم میری امت کی بافضیلت ترین عیدہے "" {پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم}

عرب کے تپتے ہوئے بیابان میں غدیر خم کے مقام پر شمس رسالت کے چمکتے ہوئے ہاتھوں پرقمر ولایت کی مقدس ضیاء پاشیاں آج بھی لحظہ بہ لحظہ اہل ولاء کے پاکیزہ دلوں کو گرما رہی ہیں،اسی تاریخ سازنقطہ عطف کے نجات بخش زاویوں اوردرس آموز دریچوں سے کسب فیض  کرنے کی غرض سے ایک بین الاقوامی علمی ادبی عظیم الشأن سمینارتنویر غدیر کا اہتمام کیا جارہاہے جس میں مندرجہ ذیل موضوعات پر مقالہ نویسی کا ایک جامع مقابلہ ترتیب دیا گیا ہے ۔اردو زبان  اہل قلم ، محققین، ادباء اور شعراء حضرات سےاستدعا ہے کہ اپنی قلمی کاوش سے مومنین کو بہرہ مند فرمائیں ۔

سمینار میں مقالہ نویسی کے لیے موضو عات

               علمی

١ )  غدیر کی اہمیت و عظمت                                      

٢ )  غدیر ، اکمال دین اور اتمام نعمت                    

٣ )  خطبہ غدیر کی گہرائیاں                

٤)  ولایت و امامت قرآن کریم کی نظر میں          

٥)  ولایت و امامت اہل بیت علیہم السلام کی نظرمیں       

٦ ) ولایت و امامت صحابہ کی نظر میں                      

٧)  ولایت و امامت اہل سنت کی نظر میں

٨)  اعلان ولایتـ بقاء رسالت                                       

٩)  عشیر سے غدیر تک                        

١٠)   کربلا سے غدیر تک                                  

١١)  خطبہ غدیر اور خلافت بلافصل حضرت امیرعلیہ السلام

١٢) فراموشی غدیر کی سازشیں اور نتائج       

١٣) کتاب مستطاب ''الغدیر'' پر ایک طائرنہ نگاہ   

١٤) کتاب مستطاب '' عبقات الانوار '' کے حصہ حدیث غدیر کاایک طائرنہ جائزہ

www.urdublogfa.com 

alhaq110@yahoo.co.in

    Tell: 0098-511-2563085      Mob:  09359750753

         ادبی

١٥)  شعراء غدیر کا تعارف

١٦)  غدیر شعراء عرب کے کلام میں

١٧)  غدیر شعراء فارس کے کلام میں

١٨)  غدیر شعراء اردوکے کلام میں

١٩ )  نظم غدیریہ

٢٠)  غدیر خم کے عنوان پر اپنا منظوم کلام

٭٭٭٭٭

ممتاز مقالات پر نفیس انعامات سے نوازا جائے گا

شرائط مقالہ : مقالہ نویسی کے عمومی شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ھے  مثلا: مقالہ علمی تحقیقی ہو اور منابع ذکرکیے جائیں،ٹائپ شدہ یا  خطی قابل خوانا ہو اور A4کے حد اقل 12 صفحات پر مشتمل ہو وغیرہ۔

مقالہ کے ارسال کی آخری تاریخ :اول ذی الحجہ ١٤٣١ھ

مقام تحویل مقالہ : مشہد مقدس   ،چہارراہ شہداء،  شیرازی ١٧     

نمائندگی جامعة المصطفی ۖ العالمیہ، اتحادیہ انجمن ھا ی فرہنگی طلاب       

بزم رأفت

(انجمن شعر و ادب اردو زبان)

 

 

 

پیام رافت شماره 3 حصه اداری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زیر سر پرستی حضرت بقیة اللہ الاعظم صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف

مجلس ادارت

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا الفت حسین جویاصاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا تحریر علی نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا حسن عسکری نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط محمد رضوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا فیروز رضا نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا محمد حسین بہشتی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانانیر عباس رضوی صاحب

مدیر

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط حیدر زیدی صاحب

پیام رأفت

علمی ثقافتی ادبی مجلہ

بزم رأفت انجمن شعر و ادب اردو زبان مشہد مقدس کا عظیم شاہکار

دوسرا سال۔  تیسرا  شمارہ

از  جمادی الاول   تا  ذی الحجہ  ١٤٣٠ھ

 کمپوزنگ: حجة الاسلام و المسلمین جناب مولانا مرتضی حسین نقوی

ڈزائننگ: حجة الاسلام و المسلمین جناب شاہزادہ حسین حیدری زائر

Web: www.urdu.blogfa.com  E-mail : alhaq110@yahoo.co.in 

Tel : 0098-511-2563085 Mob: 09359750753

فہرست مطالب

اداریہ   (روز مادر)                                                            مدیر

نگاہ عصمت میں شعر ،شاعری اور شعراء کا مقام          جناب تحریر علی نقوی صاحب

آہ  مجاہد علی مطہری  و  محمد علی جوہر                         ادارہ

جشن  و  محافل :جشن میلاد کوثر، جشن مولود کعبہ، جشن عشق و وفا، جشن ظہور نور،  جشن سخا و کرم ، جشن رأفت.

اس شمارے میں  بزم رأفت کے ساتھ تعاون کرنے والے دانشمند و شعراء حضرات

جناب رضا سرسوی صاحب

جناب آغا سروش صاحب

جناب قیصر عقیل صاحب

جناب نصیر اعظمی صاحب

جناب نیر جلالپوری صاحب

جناب محسن نقوی صاحب

جناب ریحان بنارسی صاحب

جناب عابد بھوجانی صاحب

جناب ناطق علی پوری صاحب

جناب محمد معراج صاحب

جناب اطہر کاظمی صاحب

جناب فیاض رائبریلوی صاحب

 

 

باسم رب الارباب

اداریہ

روز مادر

تقریبا ایک صدی پہلے امریکی صدر  وڈرو ولسن نے اعلان کیا کہ ہرسال مئی کا دوسرا  اتوار یومِ مادر کے طور پر منایا جائیگا۔ تب سے یہ دن رفتہ رفتہ کئی اقوام اور ممالک نے اپنا لیا۔

تاریخی اعتبار سے اس دن کا آغاز  ١٨٧٠ء  میں ہوا جب جولیا وارڈ نامی عورت نے اپنی ماں کی یاد میں اس دن کو شروع کیا جولیا وارڈ اپنے عہد کی ایک ممتاز مصلح، شاعرہ، انسانی حقوق کی کارکن اور سوشل ورکر تھیں۔ بعد ازاں ١٨٧٧ء کو امریکہ میں پہلا مدر ڈے منایا گیا  ١٩٠٧ ء میں امریکی ریاست فلاڈیفیا میں اینا ایم جاروس نامی سکول ٹیچر نے باقاعدہ طور پر اس دن کو منانے کی رسم کا آغاز کیا۔ اس نے اپنی ماں این ماریا ریویس کی یاد میں یہ دن منانے کی تحریک کو قومی سطح پر اجاگر کیا یوں ان کی ماں کی یاد میں باقاعدہ طور پر امریکہ میں اس دن کا آغاز ہوا۔ یہ تقریب امریکہ کے ایک چرچ میں ہوئی۔ اس موقع پر اس نے اپنی ماں کے پسندیدہ پھول تقریب میں پیش کیے۔ اس تحریک پر اس وقت کے امریکی صدر وڈ رولسن نے ماں کے احترام میں مئی کے دوسرے اتوار کو قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد یہ دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے برطانیہ میں اس دن کو Mothering Sunday بھی کہا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگ اپنی ماں کو تحائف پیش کرتے اور ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ یوں سال بھر بوڑھے والدین میں سے ماں کو اس دن کا انتظار رہتا ہے۔

امریکہ سمیت یورپ بھر میں بوڑھے والدین کو گھروں کی بجائے اولڈ ہومز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس دن اولڈ ہومز میں اپنی ماں سے ملاقات کرتے اور ان کو سرخ پھولوں کے تحائف پیش کرتے ہیں۔ جن لوگوں کی مائیں اس دنیا میں نہیں ہیں وہ سفید پھولوں کے ساتھ اپنی ماں کی قبروں پر جاتے اور وہاں یہ گلدستے سجاتے ہیں۔ ہر ملک میں مدر ڈے کو منانے کے لیے مختلف دن مختص ہیں تاہم یورپ ، امریکہ، ڈنمارک، فن لینڈ، ترکی، آسٹریلیا اور بیلجیم میں یہ دن مئی کے دوسرے اتوار کو ہی منایا جاتا ہے۔

جب کہ اس سے بھی پہلے قدیم یونان میں کئی دیوتاؤں کو جنم دینے والی سائی بیلے کا یادگاری دن بچوں کی جانب سے ماں کو تحائف دینے کا دن تھا۔ رومن لوگ جونو دیوی کی یاد میں ایک دن مختص کرکے اپنی ماں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اور ارضِ ہند میں ماتا تیرتھا کا دن ماں کو پوجنے کا دن قرار پایا اور آج تک ہے۔ گویا مشرق و مغرب کی ہر تہذیب نے ہر دور میں کسی نہ کسی بہانے ماں کے احسانات کا اعتراف کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔

مگر اس دنیا میں اگر سخت جان کرداروں کی فہرست بنائی جائے تو سرِ فہرست شاید ماں ہی ہوگی۔ جس نے ہم سب کو ہر سمت سے گھیر رکھا ہے۔ باپ کی منکوحہ ہے تو آپ کی ماں ہے۔ بیوی ہے تو آپ کے بچوں کی ماں ہے اور بیٹی ہے تو مستقبل کی ماں ہے۔ تو پھر اس سارے جھرمٹ میں سوائے اپنی ماں کے ہمیں دوسروں کی مائیں کیوں نظر نہیں آتیں۔

ہم یہ نکتہ کیوں یاد نہیں رکھتے کہ جس طرح ہر بیج میں ایک درخت چھپا ہوتا ہے اسی طرح ماں دراصل ہر بچی کے ساتھ ہی جنم لے لیتی ہے۔ لہذا منطق کا تقاضا تو یہی ہے کہ جس درخت کی تعظیم کی جائے اس کے بیج کو بھی اتنی ہی عزت دی جائے۔ لیکن منطق کی یہاں سنتا کون ہے؟

اسی مادر پرست دنیا میں دوسرے کی ماں کا ریپ ہمیشہ سے انفرادی و اجتماعی انتقام کے سرِ فہرست ہتھیاروں میں بھی شامل ہے

کہنے کو ہم سب کو اپنی ماں بہت ہی پیاری ہے۔ اتنی پیاری کہ ہم اپنے وطن کی سر زمین کو مادرِ وطن کہتے ہیں اور اس کی خاطر مرمٹنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔

اپنی زبان کو مادری زبان کہتے ہیں اور کوئی اس کا مذاق اڑائے تو منہ سے ماں کی گالی تک نکل جاتی ہے۔ ماں کے دودھ کی قسم کھا کر وعدہ کرتے ہیں اور اس پر قائم رہنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن۔۔۔ ماں کے سامنے اسی کے بچوں کو نیزے پر اچھال دینا، سر کاٹ لینا بھی اسی مادر پرست دنیا میں ہی ہوتا ہے۔ کوئی ماں کی عظمت کی مالا جپتے جپتے اسے کمبھ کے میلے میں لاوارث چھوڑ جاتا ہے۔ کوئی بیوگی کی سزا کے طور پر سفید ساڑھی پہنا، سرمنڈوا آشرم کے سپرد کرجاتا ہے۔ کوئی سب کچھ ہتھیانے کے لیے ماں کو پاگل خانے کے دروازے تک ہاتھ پکڑ کر لے جاتا ہے۔ تو کوئی اسے گھر میں رکھتا بھی ہے تو ایک کمرے تک محدود کردیتا ہے یا ایسانہیں بھی کرتا تو ماں کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر چند روپے رکھ کر اپنے فرضِ مادری سے سبکدوش ہوجاتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہر شخص تو ایسا نہیں ہوتا۔ پانچوں انگلیاں برابر تو نہیں ہوتیں۔ہر بھیڑ کالی تو نہیں ہوتی۔لیکن اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر سوچیے گا کہ ہم میں سے کتنے لوگ ماں کو اس طرح سمجھتے ہیں جس طرح ماں ہمیں سمجھتی تھی، سمجھتی ہے اور سمجھتی رہے گی۔۔۔

ماں کون ہے ؟ ایک عورت ہی تو ہے نا ! اس کی پوجا کا کیا مطلب؟ اسے پوجا نہیں دائمی عزت و احترام چاہیے۔یومِ مادر پر زیادہ خوش دلی کا مظاہرہ، تحائف دینا، ماں کے گلے میں باہیں ڈال دینا یا گود میں سر رکھ دینا بالکل درست۔لیکن پھر؟؟؟

  اتنا  ہلکا  سا  تبسم  تو  نہ  ہو گا  کافی

آپ نے دیکھا نہیں، زخم بہت گہرا ہے

اور دوسری طرف اس مدر ڈے سے مغرب خود کو ترقی یافتہ معاشرہ خیال کرتا ہے!!! کیا مغربی دنیا سال میں ایک دن ماں اور ایک دن باپ کے لیے مختص کر کے خود کو عالمی انسانی حقوق کا خود ساختہ چئمپین تصور کرسکتا ہے؟ کیا ماں باپ کا حق صرف ایک دن کا پیار سرخ پھول اور کچھ شفقت بھرے لمحے ہی ہیں؟

یقینا یہ وہ سوال ہیں کہ جو آج بھی جواب کے متلاشی ہیں۔ تصویر کے دوسرے رخ کے طور پر اب ہمارے معاشرے میں بھی فادرز ڈے اور مدرز ڈے منائے جا رہے اور ہمارے معاشرے میں بھی اولڈ ہومز بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

 وہ معاشرہ جہاں ماں کے قدموں تلے جنت اور جہاں باپ کی رضا میں رب کی رضا ہوا کرتی تھی آج وہی معاشرہ اس جنت اور اس رضائے ربانی سے دامن بچا تا نظر آتا ہے۔ تقلید بری بات نہیں مگر اندھی تقلید دین میں ہو یا دنیا میں مہلک ہوا کرتی ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید ہمیں بھی مہلک مقام تک لے آئی ہے جس سے ہماری عائلی قدریں پامال اور معاشر ے کی بنیاد ی اکائی یعنی خاندان کی چولیں ڈھیلی ہو رہی ہیں۔ اس اکائی کی بنیاد اور جڑ یعنی والدین کو گھروں سے اکھاڑ کر اولڈ ہومز میں پھینکا جارہا ہے پھر سال کے بعد ان کا ایک دن منا کر حق ادا کر دیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلام کے نزدیک مدر ڈے کا تصور کیا ہے؟ اس کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ اسلام میں تو ہر لمحہ اور ہر دن مدر ڈے اور فادر ڈے ہے۔ اس تصور کو مزید سمجھنے کے لیے والدین کی عزت، تکریم اور خدمت کے پس منظر میں قرآن پاک کی چندآیات کریمہ اور چند احادیث شریفہ پیش خدمت ہیں۔ خداوندعالم نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اپنی اطاعت وعبادت یا عدم شرک کے بعد فوراً والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے کہ جو اس فعل کے افضل اور عظیم ہونے پر دلالت کرتا ہے ۔ لہذا ارشاد ہے

لا تعبدون اِلا اللہ وبِالوالِدین احسانا (بقرہ ۔٨٣)

سوائے خدا وند کے کسی اور کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو

واعبدوااللہ ولا تشرک بہ شیٔا وبِالوالِدین احسانا(نساء ـ ٣٦)

 خدا وند عالم کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک قرار نہ دو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو

الا تشرکوا بہ شیٔا  وبِالوالِدین احسانا(انعامـ ١٥١)

 اس کا کسی کو شریک قرار نہ دو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو

وقضی ربک الا تعبدوااِلا اِیاہ وبِالوالِدین احسانا(اسراء ـ ٢٣)

اور آپ کے پروردگار نے قطعی حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ا ور والدین کے ساتھ نیکی کرو۔

اور کہیں پر والدین کی ساتھ نیکی کرنے کی وصیت فرمائی ہے جب کہ کلمہ وصیت عمدتا وہاں استعمال ہوتا ہے کہ جہاں وہ فعل واحب کرنا منظور ہو لہذا والدین کے ساتھ نیکی کرنا بھی واجب ہے ۔

و وصینا الانسان بِوالِدیہ احسانا(احقافـ ١٥)

اور ہم نے انسان کو وصیت کردی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرے۔

اسلام  معاشرے کے عمر رسیدہ افراد کو کس قدر اہمیت دیتا ہے، اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور نرمی برتنے کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے۔ خصوصا ًبوڑھے والدین کے ساتھ نہایت شفقت کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن حکیم فرماتا ہے :

وقضی ربک الا تعبدوااِلا اِیاہ وبِالوالِدین احسانا ِاما یبلغن عِندک الِکبر احدہما اوکِلاہما فلا تقل لہمآا ف ولا تنہرہما وقل لہما قولا کرِیماO واخفِض لہما جناح الذلِ مِن الرحمِة وقل ربِ ارحمہما کما ربیانِی صغِیراO (بنی اسرائیلـ ٢٣ـ٢٤)

اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo اور ان دونوں کے لیے نرم دلی سے عجز و اِنکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو : اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھاo

قرآن پاک کی آیات کریمہ کے بعد متعدد احادیث شریفہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بزرگوں کی عزت و تکریم کی تلقین فرمائی اور بزرگوں کا یہ حق قرار دیا کہ کم عمر اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کا احترام کریں اور ان کے مرتبے کا خیال رکھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یقر کبیرنا.

وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔

ایک آدمی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ! لوگوں میں حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی: پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی : پھر کون ہے؟ فرمایا : تمہاری والدہ۔ عرض کی : پھر کون ہے؟ فرمایا : پھر تمہارا والد ہے۔

اسلام میں والدین کے حقوق کا تصور بڑا واضح ہے۔ جب کہ مغرب کے طور طریقہ پر اسلام کو ڈھالنا یہ خود ساختہ اسلام تو ہو سکتاہے اسلام ناب محمدی نہیں ہوسکتا !

ہاںاگر والدین کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی انجام دے کر ان کی اطاعت و فرمانبراداری کے فرائض انجام دے کر پھر کسی خاص دن میں ان کی اور بھی زیادہ خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کوئی خاص پروگرام انجام دیا جائے ان کو ہدیوں اورتحفوں سے نوازا جائے یا اگر دنیا سے رخصت ہوگئے ہوں تو ان کے لیے فاتحہ و ایصال ثواب کا کام کیا جائے تو کیا ہی خوب ہے لیکن دن بھی اگرمعین ہوتونہ وہ  میری اور نہ آپ کی ماں کی مناسبت پر بلکہ اس ذات مقدس کے روز ولادت کو یوم مادر قرار دیا جائے کہ جس کو اشرف کائنات ،افضل موجودات نے بھی اپنی ماں کہکر یاد کیا ہو (فاطمة ام ابیھا)  اور حدیث قدسی( لولاک لما خلقت الافلاک و لولا علی لما خلقتک ولولا فاطمة لماخلقتکما) کے اعتبار سے بھی کہ حضرت فاطمہ زہرا  ام یعنی مرکز و محور کائنات ہیں جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق  کا ارشاد گرامی ہے( ھی نقطة دائرة الوجود)۔

بزم رأفت کا یہ شمارہ چونکہ ماہ جمادی الثانی سے ذی الحجہ تک کی مناسبتیں اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے کہ جن میں سب سے پہلے آپ  ہی کی شہادت اور ولادت باسعادت واقع ہیں لہذا اس شمارے کے اداریہ کو یوم مادر سے منسوب کرنا زیادہ مناسب نظرآیا اگر چہ اسی مناسبت پر بزم رأفت کی جانب سے ایک عظیم الشأن محفل کا انعقاد ہوا کہ جس میں طرحی مصرعہ پر شعراء حضرات نے طبع آزمائی فرمائی ۔ مصرعہ یہ تھا  

    مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا نے پائی ہے

اس کے بعد گرمیوں کی تعطیلات کی وجہ سے اکثر ممبران بزم اپنے اپنے وطن اور تبلیغی دورے پر روانہ ہوگئے لہذا ماہ مبارک رجب و شعبان المعظم اور رمضان المبارک میں کوئی طرحی محفل منعقد نہ ہوسکی لیکن ماہ مبارک رمضان کی تبلیغ سے واپسی کے بعدذی قعدة الحرام میں ولی نعمت امام رؤف ثامن الحجج حضرت علی بن موسی الرضا علیہ آلاف التحیة و الثناء کی ولادت باسعادت کے پرمسرت موقع پر پھر ایک عظیم طرحی محفل کا انعقاد ہو ا کہ جس میں مقامی شعراء کے علاوہ مہمان شعراء کرام نے بھی شرکت فرمائی جس میں ہندوستان سے محترم جناب آغا سروش حیدرآبادی ، جناب رضا سرسوی ،  جناب قیصر عقیل نوگانوی ،  جناب ریحان بنارسی ،  جناب ناطق علی پوری ،  جناب فیاض رائبریلوی،  جناب نصیر اعظمی اور پاکستان سے جناب محسن نقوی ، جناب رضا علی کاظمی وغیرہ قابل ذکر ہیں یہاں پر ہم ان سبھی حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔    عملھم مقبول و سعیھم مشکور۔

اس عظیم محفل میں یہ دو مصرعے طبع آزمائی کے لیے پیش کیے گئے تھے  ۔

    کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

    خدایا سرپر رہے ہمیشہ رؤف  کی ہر عطا کا سایہ

اور اب عید سعید غدیر کی آمد آمد ہے  اور اس عظیم ترین عید پر بزم رأفت کی جانب سے ہونے والی محفل مقاصدہ کے مصرعے حسب ذیل ہیں: 

    آگئی بلغ کی آیت لے کے اعلان غدیر

    تازہ ہے آج تک وہی منظر غدیر کا

اور اس کے بعد پھر سال آئندہ بھی گذشہ سال کی طرح ایک عظیم سیمناربعنوان ذبح عظیم کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں تمام ہی موالیان حضرات سے پرخلوص شرکت کی استدعا ہے اس امید کے ساتھ کہ انشاء اللہ خداوندعالم ہماری اس سعی ناچیز کو شرف قبولیت عطا فرمائے ۔

والسلام                 

مدیر بزم رأفت             

سید سبط حیدر زیدی           

پیام رافت شماره 3 حصه نثر

نگاہ عصمت میں شعر ، شاعری اور شعراء کا مقام

  اثر تحقیق:سید تحریر علی نقوی                      

تعارفی گفتار :

خدا وند منان کے پیغمبر ذیشان ۖ کے بے مثال اعجاز قرآن نے

عَلَّمَہُ الْبَیَانکے نورانی فرمان سے اظہار حقائق کے نہان دریچے عیان کر دئیے .

 شعر و شاعری کسی بھی زبان کا جزء لا ینفک ہے اور اس کا وجود شاعر کے وجود سے ہے.

شعر و شاعری اردو ادب کی زینت ہے بالکل اسی طرح جس طرح کسی بھی زبان میںشعر و شاعری کی منزلت ومرتبت ہوتی ہے . اہل نظر تو کیامعاشر ے کے عام افراد بھی شعر کی اھمیت و تاثیر کے قائل اور معترف ہیں. الفاظ و معانی سے سروکا ر رکھنے والا کوئی شخص اس امر کا منکر نہیںاور ہو بھی نہیںسکتا کیونکہ یہ ایک واضح حقیقت اور عالمگیر صداقت ہے ، دوسرے لفظوںمیں ذوق اور سلامت رکھنے والے مزاج کا حامل ہر فرداس ناقابل انکار حقیقت کو قبول کرتا ہے۔

 حتی اس باب میں انتہائی جالب نکتہ یہ کہ روئے زمین پر نصب ہونے والی انسانی آبادی کے پہلے خیمے کے پہلے فرد حضرت آدم ابو البشر علی نبینا و آلہ و علیہ السلام نے انسانی معاشرے میںپہلے پہل شعر کہا ، ملاحظہ فرمائیں.

عیون الاخبار باب ' ما جاء عن الرضا علیہ السلام ۔' میںایک شامی شخص جب حضرت امام رضا علیہ السلام سے سوال کرتا ہے کہ سب سے پہلے کس نے شعر کہا تو امام علیہ السلام نے جواب میںارشاد فرماتے ہیں:

آدم . پھر وہ شخص سوال کرتا ہے ؛ ان کا شعر کیا تھا ؟

فرمایا : لما انزل الی الارض من السماء فرئای تربتھا وسعتھا وھواھا و قتل قابیل ھابیل فقال آدم 

         تغیرت البلاد ومن علیھا         فوجہ الارض  مغبر  قبیح

          تغیر کل ذی لون ٍ و طعم ٍ      و قل بشاشة الوجہ الملیح

(کشکول احمد قاضی زاھدی ٢٣٧، ٢٣٨  بنقل از تفسیر نور الثقلین ج١ ص ٦١٠ ، ح ١٢٦)

مقدمہ                                               

شعر کا قوام شاعر سے ہے اور اس باب میںشاعر کی سعی و کاوش شاعری کہلاتی ہے زبان کے ذریعے انسانی بیان نثر کی صورت میںہوتا ہے اور یا نظم و شعر کی شکل میں، منظوم قول کو شعر کہتے ہیں . شعر کی لفظی و اصطلا حی متعدد تعریفیںکی گئیں. لغت میںشعر شعور سے ہے یعنی کسی چیز کے بارے میںوقت کے ساتھ شناخت شاعر کو اس کی فطانت اور اس کی دقیق معرفت کی بدولت شاعر کہا جاتا ہے

 اور عُرف اصطلاح میںموزون و مقفّی کلام شعراور اس صنعت کا تخصص رکھنے والا شاعر کہلاتا ہے .

(المفردات فی غریب القرآن ما دہ شعر ص ٢٦٢)             

اس مختصر تحقیقی کا وش میںہم شعر کی ماہیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حیثیت پر سیر حاصل بحث کرنا چاہتے ہیں. یہ فیصلہ باذوق اور باشعور قارئین کے حوالے کئے دیتے ہیں کہ قلت فرص کے پیش نظر کس قدر توفیق رفیق رہی اور کس قدر متعلقہ مہم مطالب کی جانچ پڑتال کر سکے . کوشش کی گئی ہے کہ عقل اور نقل کی رو سے اس عنوان کی جزئیات کا جائزہ لیا جائے اور کسی پیش داوری کی بجائے مستحکم و محکم ادلہ و براہین کی روشنی میںپختہ قضاوت کی جائے کہ ؛

                       نحن ابناء الدلیل           نمیل حیث الجمیل

ہر امر جمیل ہمیشہ دلیل کے ہمراہ ہوا کرتاہے بہ اصطلاح قیاساتہ معہ اور کوئی بھی عقل سلیم قاطع دلیل او رمحکم برہان کے سامنے سر تسلیم خم کیے دینے کے علاوہ کوئی چارہ کا ر تجویز نہیںکیا کرتی کیونکہ عقل سلیم اسی حقیقت اور حقانیت کی قبولیت پر مفطور ہے .

اس باب کی عام طرز بحث کے بالمقابل ہمارے زاویہ نظر میں یہ تفاوت ضرور موجود ہے کہ عوام کی عام بحث میںفقط شعر و شاعری کی مطلق تأثیر کو بڑھاچڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ ہم نے خاصان خداوند کریم حضرات معصومین سلام اللہ علیھم اجمعین کی نگاہ مبارک و صائب میںاس مقولے کے خدوخال کو واضح کرنا ہے

بزم رافت میںوادی رافت کے شھنشا ہ حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ آلاف التحیة والثناء سے استمداد کرتے ہوئے خوشنودی خداوند منان کی خاطر اس جالب ، جاذب شیرین اور مفید ترین تحقیقی بحث کے مراحل طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں.ومن اللہ التوفیق و علیہ التکلان .

شعر ، شاعری اور شاعر کے اہدا ف و آثار

یہ بات معقول نہیں ہے کہ کسی فاعل کا کوئی فعل کسی ہدف اور غرض و غایت کے بغیر ہو . سرشت خلق و خلقت عبث اوربیہودہ کا ری کے ساتھ منافات رکھتی ہے ، یہ اور بات کہ وہ ہدف اعلی ہو یا ادنی ، مثبت ہو یا منفی ، عاقلانہ ہو یا جاہلانہ . ہدف کی ماہیت تو اس فاعل کی ذہنیت کیساتھ وابستہ ہے جس سے اسکی نیت تشکیل پاتی ہے اور پھر اس فعل کے نتیجے میں مثاب یا معاقب قرار پاتا ہے ۔

 اسی مقدمے کے مطابق شعر ، شاعری اور شاعر بھی قطعا ً ہدفمند ہیںجس کاتعین شاعر کے قصد اور ارادے کے ساتھ ہے ۔

 ا س میں شک نہیںکہ شاعری کاذوق اوریہ لطیف قریحہ اصل میں خدادادی امر ہے مشق کلام اور ماہر شاعر کی رہنمائی اس خدا داد استمداد کی فعالیت کو جلا بخشتی ہے لیکن یہی ذوق کہ جس کی اصل خدادادی امر ہے لھذا اس کا استعمال بھی راہ خدا میںہونا چاہیے تھا ؟

بعض افراد اس سے حسن استفادہ کرتے ہیںتو اکثر سوء استفادہ کرتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ اکثر شاعری اور اشعار عشق مجازی کی تبلیغ کرتے ہوئے نظر آتے ہیںاور اس طرح مع الاسف وافر استعداد منفی سمت و سو میںصرف ہو رہی ہے جبکہ نہایت قلیل تعداد میںشعراء ہیںجو حق پرست اور حق گو ہیںاور خوشابحال ہیںوہ شعرا جو توحید و ولایت کے معارف کا پر چار کرتے ہیں.

شعراء ، اشعار اور شاعری ' کو مناجات و دعا ، ثناء و رثاء آئمہ معصومین علیہم السلام ، تبلیغ معارف ، موعظہ و نصیحت ، دفاعی و جنگی جذبات ابھارنے ، نابودی دشمن ، گانے ، غزلیات ، ترانے ، ہجو ، شہرت حکام کی بجا و بیجا تعریف، تملق و چاپلوسی و غیرہ کے راستے میںبروئے کار لاتے ہیں.

پائیدار اور ماند گار شاعری وہی ہے جو اعلی اھداف کے راستے میںہو اور حقیقت یہ کہ دیگر باقیات صالحات کی طرح اچھی شاعری بھی باقیات صالحات میںسے ایک ہے . جن شعراء نے آئمہ معصومین علیہم السلام کے بارے میںاچھی شاعری کی  اور اس فن کے ذریعے اس عظیم خدمت کی سعادت پاسکے ان کے نام تاقیام قیامت زندہ و تابندہ ہیں ، حسان ، کمیت ، عبدی ، دعبل ، فرزدق ، حسان عجم خاقانی شروانی ،امامی ھروی ، شھریار ، میر انیس ، میر مؤنس ،میر نفیس ،میر زا دبیر ، اقبال ، جوش  و۔۔۔۔۔۔۔سب زندہ ہیںاس لیے کہ بحر حیات کے ساتھ متصل ہو گئے ہیں.

                                 تشویق و ترغیب

قول ، کلام ،گفتگو ، بات چیت ایک طرف اپنے ما فی الضمیر کو دوسروںتک پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے تو دوسری جانب صاحب گفتار کی شناخت کا ایک وسیلہ بھی شمار ہوتا ہے اسی مناسبت سے حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایاہے:'' المرء مخبوئٔ تحت لسانہ''  یعنی انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا  ہوا ہے  ۔  ( نھج البلاغہ کلمات قصار )       

پس انسان جب زبان کھولتاہے تو پہچانا جاتا ہے . یہ فرمان ذیشان بھی دیگر فرامین کی طرح بہت گہرے معانی و مطالب اپنے اندر لیے ہوئے ہے . جو ھر بحث یا دوسری تعبیر میںجان کلام یہ ہے کہ جب انسان گفتگو کرتاہے تو مخاطب اس متکلم کی کلام سے اس کی ذھنی سطح کا اندازہ کر سکتا ہے . گفتار متکلم کے معیار فکر کی آئینہ دار ہوتی ہے .

( وہ لطیف بحث اپنے مقام پر کہ فرمایا  کلّمو ا الناس علی قدر عقولھم یعنی لوگوں  سے ان کی سوجھ بوجھ اور توان درک کے مطابق کلام کرو .اولاً یہ فرمان خصوصاً خاص افراد '' مبلغین دین خداوندی'' سے مربوط و متعلق ہے .

 ثانیاً اسی فرمان ذیشان سے بھی متکلم کے اس فراگیر اور اعلی رتبے تک پہنچا جاسکتا ہے کہ وہ مختلف مخاطبین کے درمیان ان کی سطح فہم کی تشخیص دینے او رہر ایک کی سطح کے مطابق اسی سے کلام کرنے کی توانائی رکھتاہے )

بہر حال گفتار متکلم کے معیارفکر کی آئینہ دار ہوتی ہے اب گفتار سے جہاںایک یہ فائدہ ظاہر ہوتاہے کہ کلام کرنے والا کچھ پہچانا جاتا ہے وہاںدوسرا ثمرہ یہ واضح ہوتا ہے کہ متکلم کا ما فی الضمیر مخاطب کے ذھن میںمنتقل ہوتا ہے . اس مرحلے پر ہم پھر اس ذریعۂ انتقال کو دو قسموںمیںتقسیم کرتے ہیں. ایک نثر اور دوسرا نظم و شعر . نثر چاہے سادہ وعام ہو ، چاہے مسجع ، بہر حال نظم و شعر کا مرتبہ اس سے غالبا ً بالاتر ہے لھذا اگر ایک ہی مطلب کونثر کی صورت اور شعر کی شکل میںپیش کیا جائے تو لوگوںپر شعر کے اسلوب میںبیان کیے گیے مطلب کی تأثیر بہت زیادہ ہے .

ہماری اس بحث کے ماحصل کو اس امر سے بھی تقویت و تائید حاصل ہوتی ہے کہ آئمہ معصومین علیہم السلام کے نثری کلام میںعامة الناس کی گفتار کی نسبت بہت زیادہ کشش ، جذابیت اور رسائی ہونے کے باوجود متعددمقامات پر ان حضرات علیھم السلام کی طرف سے منظوم اور شعری کلام کاسامنے آنا ، فن شعر کے ذریعے مطالب کی بہتر رسائی اور بیشتر تاثیر پر دلالت کرتا ہے حالانکہ نھج الفصاحہ ، نھج البلاغہ ، خطبات فاطمیہ و زینبیہ   اور اسی طرح تمام آئمہ معصومین علیھم السلام کے نثری ارشادات میںجو حسن ، کشش ، گہرائی اور رسائی پائی جاتی ہے ' اہل فن اس کی بے ساختہ داد دیتے ہیںلیکن اسکے باوجود شعر کو بھی خاص اہمیت دی گئی . اشعار معصومین علیھم السلام مختلف کتب میںموجود ہیںاس مناسبت سے نمونہ پیش کرنے کے لیے ایک بہترین کتاب مستطاب کا تذکرہ کیے دیتے ہیںکہ علامہ بزرگوار مجلسی کی پر برکت زندگی کے عظیم شاہکار '' ایک سو دس جلدوںپر مشتمل بحار الانوار '' کے اندر مختلف مناسبات سے حضرات معصومین علیھم السلام کے نورانیت بخش بیانات میںآنے والے اشعار کو ایک بہترین کتاب '' معجم اشعار المعصومین علیھم السلام الواردة فی بحار الانوار مانظموہ وماانشدوہ'' میںمنظم طور پر اکٹھا کردیا گیا ہے جو اپنی نوعیت میںمنفردکا م ہے . جیساکہ اس کتاب کے نام و عنوان سے واضح ہورہا ہے کہ ان اشعار میںخود ان حضرات علیھم السلام کے اشعار بھی موجود ہیںاور دیگر شعرا کے قابل استناد اشعار بھی مذکور ہیں۔

جو مختلف مواقع کی مناسبات سے ذکر فرمائے گئے ہیں. کتاب میںموجود اشعار کے بارے میںیہ نکتہ توضیحی بھی شایان ذکر ہے کہ بعض ابیات متعدد مجلدات میںمکرر آنے کی وفہ سے یہاںبھی مکرر ذکر ہوئے ہیںلہذا جو تعداد موجود ہے وہ حذف مکررات کے بغیر ہے اور حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہونے والے تمام اشعار ضروری نہیںکہ خودحضرت رسول خدا  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اشعار ہوںلیکن اگر بعض ایسے بھی ہوںتو چونکہ وہ غیر قرآن مجید ہیںلہذا کوئی حرج بھی نہیںہے چونکہ کفار قرآن مجید کو آنحضرت ص ) کے اشعار ہونے کی تہمت لگاتے تھے جس کی خود قرآن نے نفی کی ہے ، بہر حال ایسے اشعار کی سند وصحت تحقیق طلب امر ہے جو مزید فرصت طلب کرتاہے .

اہل ذوق حضرات کی تشویق و ترغیب کیلیے اس ایک کتاب میںموجود ہر معصوم علیہ السلام سے بحار الانوار میںنقل ہونے والے اشعار کی ایک فہرست دے رہے ہیں.

ردیف     نام نامی معصوم علیہ السلام           اشعار کی تقریبی تعداد     صفحہ کتاب

١۔         حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ٢٠                   ٤٣، ٤٤

٢۔        حضرت علی  علیہ السلام               ١٥٤٩                ٤٥تا ١٣٧

٣۔       حضرت فاطمہ زھرا علیہاالسلام          ٨٤               ١٣٨ تا    ١٤٣

٤۔       حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام         ٤٥               ١٤٤  تا    ١٤٧

٥۔       حضرت امام حسین علیہ السلام            ٢٢١               ١٤٨   تا     ١٦١

٦۔      حضرت امام سجاد علیہ السلام               ١٩٧               ١٦٢  تا   ١٧٣

٧۔      حضرت امام محمد باقر علیہ السلام            ٩٢                ١٧٤  تا    ١٧٩

٨۔     حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام         ٢٦٦              ١٨٠    تا   ١٩٦

٩۔     حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام            ٣٦              ١٩٧   تا    ١٩٩

١٠۔    حضرت امام علی رضا  علیہ السلام             ١٨١              ٢٠٠    تا    ٢١١

١١۔     حضرت امام محمد تقی الجوادعلیہ السلام            ١١               ٢١٢   تا    ٢١٣

١٢۔    حضرت امام علی نقی الھادی علیہ السلام        ٢١              ٢١٤   تا    ٢١٥

١٣۔   حضرت امام حسن عسکری  علیہ السلام          ٩                  ٢١٦

١٤۔     حضرت امام زمان علیہ السلام             ٣                  ٢١٧.

گذشتہ توضیحات کو سامنے رکھتے ہوئے چہاردہ معصومین علیہم صلوات رب العالمین سے تقریباًْ٢٧٣٥منقول اشعار اس معجم بحار میںموجود ہیں.

یہ اجمالی فہرست بنا کر دکھانے سے غرض یہ ہی ہے کہ گفتار کے اس جالب ، جاذب اور مؤثر پہلو کو ان معصوم ھستیوںنے بھی تشنہ نہیںرکھا . حتی کہ بعض معصومین جیسے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ، حضرت امام حسین علیہ السلام ....کے اشعار کے دیوان بھی موجود ہیں . پس شعر جہاںنثر سے بڑھ کر افکار متکلم کا آئینہ دار اور زیب و زینت گفتار ہے . وہاں سامعین ، مخا طبین اور قارئین کے اذھان پر انتہائی مؤثر نقش و نگار بھی ہے۔

خود حضرات معصومین علیہم السلام کا اپنے نورانیت بخش بیانات میںاس صنف کو اہمیت دینا اورشعری صورت میںاپنی ثنا ء ورثاء بیان کرنے کے خداوند متعال کی جانب سے عظیم فضائل بیان فرمانا ، شعراء اھلبیت  کو مدعو کر کے مجالس عزا کا انعقاد اورشعراء کو عظیم انعامات سے نوازنا اس امر کا باعث بنا کہ ان مقدس ہستیوںکی بارگاہ میںنثر کے ساتھ خصوصی اہتمام کے ہمراہ شعر اظہار ارادت کا ذریعہ قرار پایا اور اب دنیا بھر میںعزاداریاں، نوحہ خوانیاں، مرثیہ خوانیاں، قصیدہ خوانیاں، محافل جشن ،......ان گنت بر پا ہو رہی ہیں اور سب کے اندر اشعار کا کردار ہی نمایا ںہے . آئمہ معصومین صلوات اللہ علیھم اجمعین کے نزدیک ان کے فضائل و مصائب اشعار میںبیان کرنا اس قدر مطلوبیت و محبوبیت رکھتا ہے کہ ایک ایک شعر کہنے کی بہت پاداش ذکر فرماتے ہیں . یہ مطالب ایک مستقل عنوان کے تحت ذکر کریںگے .

حضرت اما م صادق علیہ السلام فرماتے ہیں؛ اے شیعو! عبدی ( ایک مخلص شاعر اھلبیت  ) کے اشعار اپنے بچوں کو یا د کروائو کہ وہ دین خدا پر ہے ، صادق القول ہے اور اس کے شعر اچھی روش پر ہیں ...

                  ( رجال کشی ص  ٢٥٤)     

معصوم ہستیوںکی مداحی کے شرف سے مشرف ہونے والے خوش قسمت شعراء کیلیے یہ مطلب بھی مزید تشویق وترغیب کا باعث بنتا ہے کہ حضر ت ابو طالب کفیل الرسول ۖ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی حمایت میںایک سو گیارہ (١١١) اشعار پر مشتمل طویل قصیدہ کہا اور اس طرح قریش کو بے چارہ کردیا .

( عمدة الطالب فی انساب آل ابیطالب )        

ایک لطیف و دقیق نکتہ جو شایان التفات ہے وہ یہ کہ حضرات آئمہ علیہم السلام جو کہ منصب امامت پر فائز ہیں، ان کی یہ امامت بلا شک و شبہ حضرت ختمی مرتبت ۖ کی نبوت و رسالت کا تسلسل ہے لہذا ئمہ علیہم السلام حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بر حق جانشین اور ان کے وارث ہیں ، ان کے افعال آنحضرت ۖ  کے افعال شمار ہوتے ہیںشعراء کو ان حضرات   کی طرف سے اجر و پاداش کا ملنا گویا آنحضرت ۖ  کی جانب سے حوصلہ افزائی ہونا ہے بلکہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ خود حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس مقدس خاندان کے شعراء کے قدر دان ہیںملاحظہ فرمائیں .

  مقبل اصفہانی ایک معروف شاعر اھلبیت  عرض ارادت کیلیے عشرہ محرم الحرام پڑھنے کے قصد سے گلپائیگان کے راہی ہوئے، شب عاشور بہت گریہ کیا ، آنکھ لگ گئی عالم خواب میںاپنے آپ کو حرم امام حسین علیہ السلام کے صحن میںپایا ، متوجہ  ہوتے ہیںکہ صحن حرم کے ایک گوشہ میںایک اجتماع ہے گویا مجلس عزا کا سماںہے ، پوچھتے ہیں: یہ کون لوگ ہیں؟ جواب ملتا ہے ؛ یہ ابراہیم ، نوح ، موسی اور عیسی ( علی نبینا وآلہ علیہم السلام ) ہیںاور ان کے آگے آگے حضرت پیغمبر اسلام ۖ ہیں، مقبل اصفہانی آگے بڑھتے ہیں، دیکھتے ہیں کہ حضرت پیغمبر اکرم ۖ اپنا سر مبارک اٹھا کر فرماتے ہیں، محتشم کا شانی کو لے آئیں ، محتشم حاضر ہوئے ان کا قد کوتاہ اور چہرہ بہت زیبا تھا آنحضرت ۖ نے فرمایا ؛ اس منبرپر جائو اور میرے حسین  کا مرثیہ پڑھومحتشم منبر کی نویںسیڑھی تک اوپر گئے وہاںکھڑے ہو گئے اور مرثیہ پڑھنا شروع کیا ، پڑھتے پڑھتے اس شعر پر پہنچے .

    بودند دیو و دد ھمہ سیراب و می مکید           خاتم زقحط آب سلیمان کربلا

یعنی کربلا میںحیوانات تک سیراب ہو رہے تھے لیکن افسوس کہ قحط آب کی مصیبت جوامت کی طرف سے اھلبیت کے لیے پیدا کردی گئی تھی اس کی وجہ سے سلیمان کربلا انگشتری منہ میںرکھے چوس رہے تھے !

یہ شعر سن کر حضرت پیغمبر ۖ اور دیگر انبیا ء سب نے گریہ کیا ، محتشم نے کہا :

          روزی کہ شد بہ نیزہ سر آن بزرگوار          خورشید سر بر ھنہ برآمد زکھسار

یعنی جس دن اس امام بزرگوار کے سر اقدس کو نیزے پر بلند کیا گیا اس دن پہاڑ کے اوپر سے خورشید سر برہنہ نمودار ہو ا. آنحضرت ۖ رقت بار ہوئے محتشم نے منبر سے اترنا چاہا تو آنحضرت ۖ نے فرمایا ؛ ابھی ذکر مصیبت سننے سے ہمارا دل نہیں بھرا مزید پڑھو ، محتشم نے اپنا عمامہ زمین پر پھینک دیا ، امام حسین علیہ السلام کی قبر اطہر کی طرف اشارہ کیا اور کہا :

 این کشتہ فتادہ بہ ھامون حسین تو است        ایںصید دست و پازدہ در خون حسین تو است

پیغمبر اکرم ۖ  نے بہت گریہ کیا اور پھر ایک بہترین خلعت سے محتشم کو نوازا .

      ( داستانھا و پندھا  ج ٥  ، ص ٥٠ ، ٢٨) ''بنقل عدد السنہ مجلس ٣٢)           

حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کا یہ واقعہ یا ایسے دیگر چند واقعات اور ان کے بر حق اوصیاء کے متعدد واقعات اسی واقعیت کو ظاہر کرتے ہیںکہ امام حسین علیہ السلام اور اسی طرح دیگر تمام معصومین علیہم السلام کے بارے میںاشعار کس قدر مطلوب ہیںاور جب یہ عمل خاصان خداوند منان کے ہاںایسا فضیلت و منزلت والاعمل ہے تو یقینا ً خداوند متعال کے ہاںبھی نہایت مرتبہ کا حامل ہے .

 شعر اور معصومین علیہم السلام

اس گرانمایہ بحث کو ہم دو حصوںمیںاختصار کی رعایت کے ساتھ پیش کریںگے .

(الف) شعر و شاعری اور حبیب خدا حضرت محمد مصطفے ۖ(ب) شعر و شاعری اور دیگر معصومین .

(الف) بطور کلی اس بحث کی ضرورت اس لیے پیش آئی تاکہ اصل موضوع کی بحث سمجھنے میںسہولت اور آسانی رہے اور وہ اس طرح کہ جب ہم اس امر کے درپے ہیں کہ نگاہ معصومین علیہم السلام میںشعراور شاعری کا مرتبہ و مقام سمجھ سکیںتو ضروری ہے پہلے ہمیںیہ معلوم ہو کہ شعر اور شاعری کے ساتھ خود ان معصوم ہستیوں کا تعلق اور رشتہ و ناطہ کیا ہے ؟

پس خود خداوند کریم سے استمداد خاص کرتے ہوئے یوںعرض کرتے ہیںکہ پیغمبر ھدایت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے دور میںمبعوث ہوئے کہ جب شعر عربوںکی ہر محفل و مجلس کی زینت محسوب ہوتا تھا اور شعر گوئی ایک بر تر ھنر جانا جاتا تھا . شعراء زمان ممتاز حیثیت وشخصیت رکھتے تھے اور خلاصہ احوال آنکہ اس وقت کے معاشرے کا وہ دور شعر شاعری اور فصاحت و بلاغت کا دور تھا .

حضرت موسی علی نبینا وآلہ وعلیہ السلام جس دور میںھدایت خلق خدا کیلیے بھیجے گئے تو اس وقت سحر و جادو اپنے عروج پر تھا اور معاشرے میںجادوگر ممتاز ترین منزلت کے حامل تھے ، خدائے حکیم نے اپنے نبیۖ کو ایسی صفت دے کر بھیجا کہ جو صنعت سحر و ساحری کے ضعف کو انظار معاشرہ کے رو برو بر ملا کردے اور حکمت الہیہ کا تقاضا بھی یہی تھا . ورنہ حق جو لوگ کس  طرح نبی ۖ خدا کی حقانیت کو پا سکتے ، کس طرح اتمام حجت ہو سکتا اور لوگ سعادت ابدیہ کے حصول کے لیے ھادی حقیقی کی اتباع کرسکتے .

حضرت عیسی ٰ  اور دیگر سفیران الہی کے ادوار کے بھی جیسے جیسے تقاضے تھے خداوند کریم نے اپنی حکمت بالغہ کے عین مطابق ہمیشہ اپنے سفراء کو احوال و اوضاع پر غالب رکھا تاکہ لوگوںکی طرف سے خدا پر حجت باقی نہ رہے بلکہ خداوند کریم کی جانب سے حجت تمام رہے .

تو پس اس مرحلے میںیہ امر واضح ہو گیا کہ حکمت بالغہ الھیہ ہمیشہ ید اللہ فوق ایدیھم  کے اثبات پر منتج رہتی ہے اور یہ ناقابل تبدیل و تغییر سنت الہی ہے لھذا ایسے میںخاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بحث بھی اسی امر کی مقتضی تھی کہ خداوند غالب و قاھر اپنی قدرت و حکمت سے اپنے حبیب ۖ  کو اپنی سنت برقرار رکھتے ہوئے ایسی صفت کے ساتھ متّصف رکھے کہ رسول خدا ۖ اپنے معاصرین پر فائق و غالب رہیںاور ھدایت واضح و روشن رہے . اگر شعراء کے عروج کے دور میںپیغمبر خدا ۖ  بھی ایک شاعر کی حیثیت کے حامل ہوئے تو اسے مساوات تو کہا جا سکتا  لیکن یہ امر برتری و فوقیت کہلانا مشکل تھا اور مساوات کی صورت میںکوئی امتیازی حیثیت منوانا بھی صعب تھا لھذا کلام و بیان کی حکومت کے اس دور میںخداوند حکیم نے بھی اگر چہ کلام و بیان ہی کو اپنے آخری پیغبر ۖ کے سپرد کیا اور قرآن مجید نازل فرمایا لیکن اس کے باوجود اسی پیرائے اور اس انداز سے اپنی قدرت نمائی فرمائی کہ سب سے پہلے خود اپنے مرسل اعظم ۖ کے شاعر ہونے کی نفی فرمائی

لہذا ارشاد ہوا:

وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَا وَمَا یَنْبَغِیْ لَہ ان ھو الا ذکر و قرآن مبین ( سورة یس ؛ ٦٩) .

یعنی ہم نے اپنے پیغمبر کو شعر کی تعلیم نہیںدی ، قرآن شعر و شاعری نہیںبلکہ شعر و شاعری سے بالا تر ہے لھذا اس زندہ معجزہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مختصر ترین سورت جب شہر عکاظ کے سالانہ ادبی مقابلے میںرکھی گئی اور فصحا ء و ادبا ء زمان کے منتخب فاضل ادیب نے سب آثار دیکھتے دیکھتے اس مقدس کلام کی قرائت کی تو بے ساختہ کہہ اٹھا .   '' مَا ھَذَا کلام ُ البشر ''

واقعیت بھی ایسی ہی تھی کیونکہ یہ کلام خالق کا کلام تھا ، مخلوق کا کلام نہیںتھا . اس وقت کی قضاوت کا اعلان کھلم کھلا سمجھا رہا ہے کہ قرآن مجید فوق شعر ہے اور اس دور کی فصاحتوںاور بلاغتوںکی دسترسی سے بالاتر ہے . البتہ بعض مخالفین اس معجزانہ کلام کے عمق کو درک نہ کر پائے تو شعراور سحر کہنے لگے اور اس طرح در حقیقت اپنے جہل و عجز کو عداوت کا روپ دے کر شاعر و ساحر کی تعبیروںسے ظاہر کرنے لگے کہ امیرالکلام حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا بر حق فرمان اسی امر کا عکاس و غماز ہے کہ فرماتے ہیں''الناس اعداء ماجھلوہ '' ۔

( نھج البلاغہ کلمات قصار )          

جب دار الندوہ میںقریش ولید بن مغیرہ مخزومی کے پاس آئے تو اس نے ان سے سوال کیا کہ تم لوگ پیغمبر کے بارے میںکیا کہتے ہو ؟ کہنے لگے :  وہ شاعر ہے . ولید نے برھم ہو کر کہا ؛ ہم نے بہت اشعار سنے ہیںپیغمبر کا کلام اشعار جیسا نہیں. قریش نے کہا : وہ کاھن ہے . ولید نے کہا ؛ اس کی گفتگو کاھنوںکی گفتگو کے مانند نہیں. انہوںنے کہا . وہ دیوانہ ہے . ولید کہنے لگا . آپ لوگ اس کے پاس جاتے رہتے ہیںوہ دیوانوں کی طرح بھی نہیںہے . کہنے لگے ؛ پس وہ ساحر ہے . ولید نے پوچھا سحر کیا ہے؟ کہنے لگے ؛ ساحر یعنی ایسا انسان جو دوستی کو دشمنی اور دشمنی و عداوت کو لوگوںکے درمیان دوستی میںتبدیل کردے . اس نے کہا تو پھر رسول خدا ساحر ہے . لیکن وہی ولید تھا کہ جب اس نے رسول خدا ۖ کی زبان مبارک سے قرآن کریم کی تلاوت سنی تو کہنے لگا '' یہ کلام کسی بشر یا جن کا کلام نہیںہو سکتا اس کے کلام میںایسی حلاوت اور مٹھاس ہے جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ کلام دوسرے ہر کلام سے بہتر و برتر ہے اور اس سے بہتر کوئی اور کلام نہیںہو سکتا .

اسی زمانے میںکہ جب علم بیان کی صنعت شعر و شاعری اپنے اوج و کمال کو چھورہی تھی ایک ایسے برحق پیغمبر ۖ الہی کا مدعی ہو نا اور اپنے دعوی کی دلیل کے طور پر قرآن کریم کو پیش کر نا، قرآن کریم ایسی مقدس کتاب جس کے ایک مختصر سے سورے کے مقابلے میںبڑے بڑے فصحاء و بلغاء عرب عاجز آگئے ہو ںاور دوسری طرف وہی برحق پیغمبر اپنے مختصر کلمات اور مفصل خطبات میںایسی فصیح عربی پیش کر رہے ہوںکہ جملہ رائج فصاحتیںاور بلاغتیںجھک جھک کرزانوئے ادب تہہ کر کے سلام و احترام کر تی ہوں، انصاف اور حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ ان صفات سے متصف فرستادہ الہی شخص کو اس کی مقدس کتاب کے فاقد شعر ہے جس کا اعتراف فصحا ء عرب کر رہے ہیں. حضرت پیغمبر اکرم ۖ کے بارے میں اس باب میںایک فارسی محقق دانشمند یوںرقمطراز ہیں کہ '' آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم '' سے مختلف مناسبتوںپر خطابات تو بہت نقل ہوئے ہیںلیکن شعر نقل نہیںہوا . (قصہ ء منظوم کربلا  مقدمہ صفحہ ١٧، استاد نظری منفرد )

جبکہ بحارالانوار  میںآنحضرت ۖ سے بھی ابیات و اشعار اندک تعداد میںمنقول ہیںخواہ خود حضرت ۖ  کے ہوںیا دیگر شعراء کے اور فقط حضرت نے مختلف موقع پر بطور استنادو اقتباس نقل فرمائے ہوں، بہر حال اشعار موجود ہیںاور ظاہرا ً بعض اشعار کا لھجہ یہ بتاتا ہے کہ خود آنحضرت کے شعر ہو ں جیسے :

            انا      النبی     لا       کذب              انا   ابن  عبد    المطلب

                  ھل انت الااصبح دمیت             وفی سبیل اللہ مالقیت

(معجم اشعار المصومین  الواردہ فی بحا ص ٤٣)                 

جو بات قطعی و حتمی ہے وہ یہ کہ قرآن مجید خداوند متعال کی جانب سے نازل ہونے والی کتاب ھدایت ہے اور حضرت ختمی مرتبت ۖ کے اشعار پر مشتمل کتاب نہیں ہے بلکہ اس کے اندر موجود کلام الہی اشعار سے بالاتر ہے .

اس حصے کی بحث کا دوسرا قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ معارف الہی کی ترویج اور اھل بیت علیہم السلام کی مدح و مرثیہ میں شاعری حبیب خداۖ کے نزدیک بھی محبوب ہے . پیغمبر خاتم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نھج الفصاحہ میںفرماتے ہیں: 

ان من البیان لسحر اً وان من الشعرلحکماً وان من القول عیا ً وان من طلب العلم جھلا. یعنی بعض بیانا ت جادو سا اثر رکھتے ہیں، بعض اشعار میںحکمت ہو تی ہے ، بعض گفتار لکنت رکھتی ہیں ۔

( رھگشای انسانیت ترجمہ ، نھج الفصاحہ ص ٢٨٥)             

اسی طرح فرماتے ہیں:

الشعر بمنزلة الکلام فحسنہ حسن الکلام و قبیحہ قبح الکلام .

یعنی شعر سخن و کلام کی طرح ہے پس اچھا شعر اچھا کلام اور برا شعر برا کلام ہے (ایضاً ).

قال ۖ : لان یمتلی جوف رجل قیحاً خیر لہ من ان یمتلی شعراً ْ.

برے شعر کی غیر مطلوبیت کے بارے میںارشادفرماتے ہیں: کسی شخص کا شکم میل کچیل سے پر ہو تو اس سے بہتر ہے کہ وہ برے شعر سے بھرے .''

اسی طرح میزان الحکمہ میںصحیح مسلم سے یہ حدیث منقول ہے کہ حضرت ۖ فرماتے ہیں:

اشعر کلمة تکلمت بھا العرب کلمة لبید

الا کل شی ئٍ ما خلا اللہ باطل . (میزان الحکمة مجلد ٢ ص ١٤٦٣)

ان چند احادیث سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ حضرت پیغمبر اکرم ۖ شعر کے محتوی ٰ کے پیش نظر اس کو اچھے اور برے یا مفید ومضر دو قسموں میںتقسیم فرماتے ہیںاچھے شعر کو حکمت آمیز اور برے یا مضر شعر کو قبیح اور میل کچیل سے بد تر قرار دیتے ہیں. توحید کا پر چار کرنے والے اشعار  وابیات کو باشعور ترین کلمہ اور صادق ترین قول قرار دیتے ہیںاور دوسرے ایک بیان میںاچھے اور تبلیغی شعر کو زبان کے جہاد کا مرتبہ فرمایا ہے او رفرماتے ہیں کہ مومن شاعر کے اشعار ایسے تیروںکی طرح ہیں جو دشمن کی طرف پھینکے جاتے ہیںلھذا مومن شاعر مجاھد فی سبیل اللہ ہے۔

  ان المومن مجاھد بسیفہ ولسانہ والذی نفسی بیدہ لکانما ینضجونھم بالنبل . (میزان الحکمہ ح ١٠٢٢.بنقل از نور الثقلین ٤، ٧٠، ١٠٥)

اسی بناء پر خدا کے رسول ۖ حسان بن ثابت سے فرماتے ہیں:

 اھج المشرکین فان ّ جبرئیل معک .

یعنی مشرکین پر ( اپنی مجاھدانہ شاعری کے ذریعے ) حملہ کردے بے شک جبرائیل آپ کے ساتھ ہیں             ( میزان الحکمہ بنقل از در منثور ٦، ٣٣٦)       

اس فرمان ذیشان میںگویا آنحضرت ایسی مجاھدانہ شاعری کو دشمن دین کے مقابلے میںکاری اسلحہ کا درجہ دے رہے ہیں.

بحث کے اس گوشے کے اجمالی ذکر کے بعد یہ گوشہ عیان کر دینا ضروری ہے کہ اھل بیت علیہم السلام کے بارے میںشاعری کو حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت پسند فرماتے ہیں دیگر معصومین علیہم السلام کے مصائب توآنحضرت کے بعد پیش آئے لیکن پھر بھی معلوم ہوتا ہے کہ معصومین علیہم السلام کی مدح خوانی اور مرثیہ خوانی رسول خدا کے نزدیک بہت منزلت رکھتی ہے وارثان رسالت کے اس باب میںبہت عمدہ بیانات موجود ہیں جو اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیںاور ہماری اس مختصر سی کا وش میں تشویق و ترغیب کے عنوان کے تحت ہونے والی بحث میںمقبل اصفہانی معروف شاعر اھلبیت سے محتشم کا شانی والامذکو ر واقعہ اسی امر کو روشن کررہا ہے کہ آنحضرت خود فرمارہے ہیں کہ ؛ منبر پر جائو اور میرے حسین کا مرثیہ پڑھو ، اس مرثیہ کے سننے سے بہت گریہ کرنا اور پھر اس شاعر کو خلعت سے نوازنا ایسے اشعار کی مطلوبیت و محبوبیت کی ہی دلیل ہے .    ( عدد السنة مجلس ٣٢)       

(ب)اب اس گرانمایہ بحث کے دوسرے حصے میںمختصر طور پر داخل ہوتے ہیں.

شعر و شاعری اور دیگر معصومین علیہم السلام

یہ بحث بھی اپنے محتویات کے پیش نظر بہت وسیع دامنہ رکھتی ہے لیکن ہم کوشش کرتے ہیںکہ مختصر انداز میںجامع مطالب پیش کر سکیں.

یہ حقیقت مد نظر رہے کہ حضرات معصومین علیہم السلام تمام کے تمام نور واحد ہیںایک کاکلام سب کا کلام ہے لھذا ضروری نہیںہے کہ مرتب طور پر ایک ایک معصوم علیہ السلام کے فرامین اس باب میںنقل کیے جائیں.

قال الصادق علیہ السلام . ما قال فینا قائل بیتاً من الشعر حتی ّ یئوید بروح القدس .

( مصابیح الھدی ص ٢٩٩ ، عیون اخبار ١، ٧ ، ینابیع الحکمہ ٣، ٢٧٥، ١)           

یعنی شعر کہنے والا ہمارے بارے میںجو شعر بھی کہتا ہے اس میںروح القدس کی تائید و نصرت ضرورشامل حال ہوتی ہے ۔

معصوم علیہ السلام کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعر اھلبیت کس قدر فضیلت رکھتا ہے کہ اس مقدس امر میںروح قدس کی بلافاصلہ تائید وامداد حاصل ہوتی ہے . جب معصوم علیہم السلام اپنے شعراء کو بلوا کر مجالس کے انعقاد کا اھتمام کر واتے تھے ، شعراء کو شعر پڑھنے کی دعوت دیتے ، خود سنتے ، اہل پردہ کے لیے بھی انتظام فرماتے کہ سنیںاور پھر شعراء کو انعامات و الطاف سے نوازنا یہ سیرئہ عصمت بہت کثرت سے قابل دید ہے .

کمیت بن زید معروف شاعر اھلبیت  کہتے  ہیں. حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میںشرفیاب ہوا حضرت  فرمایا : اے کمیت ! خدا کی قسم اگر ہمارے پاس کچھ مال ہوتا تو اس میںسے ہم تمہیںدیتے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ حسان ( شاعر بزگوار ) کو فرمایا تھا میںتمہارے بارے میںوہی کہتا ہوںکہ جب تک ( شعر و شاعری کے ذریعے ) ہمارا دفاع کرتے رہو گے ، روح القدس تمہارے ساتھ ہوگا  . ( مصابیح الھدی ص٣٠٢)      

اسی کمیت کو اھلبیت  کی خدمت کے نتیجے میںان کے ہاںاپنا مقام معلوم تھا لھذا اس قدر خدمت کی او راس قدر مجاھدت کی کہ مخالفین برداشت نہ کرسکے . اشعار کمیت جب ھشام بن عبد الملک کے کا نوںتک پہنچے تو اس نے والی کوفہ خالد کے نام خط لکھا جس میںیہ دستور دیا کہ کمیت کو گرفتار کر کے اس کے ہاتھ پائوںکا ٹ دو '' اس کا سرتن سے جدا کردو ، اسکا گھر ویران کر دو اور اس کے ویران گھر میں اس کے بدن کو تختہ دار پر لٹکا دو .

                          (قصہ منظوم کربلا مقدمہ ، ص١٨، بنقل از الغدیر ٢، ١٩٤)      

خصوصی الطاف

مشہور حدیث ہے کہ '' انما الاعمال بالنّینات ''یعنی اعمال کا دارو مدار اور نیتوںپر ہے . اگر نیت خالص ہو گی تو عمل بھی خالص ہو گا . اور پھر خالص عمل قبولیت سے فاصلہ نہیںرکھتا . اول تاریخ سے ہمارے اس دور تک ان گنت شعرا ء کرام حضرات معصومین  علیہم السلام کے الطاف خاصہ حاصل کر چکے ہیں۔

آئمہ علیہم السلام کے دور میںموجود شعراء پر انواع واقسام کے خصوصی الطاف کی باران رحمت و رأفت ہوتی رہی اور غیبت کبری کے اس دور میں بھی نگاہ عصمت کے فیوضات اسی طرح سے جاری و ساری ہیں . اس زمانے کی بھی بہت مثالیںتاریخ نے ابپنے سینے میںمحفوظ کر رکھی ہیںاور اس دور میںبھی تسلسل کے ساتھ ایسے نمونے تاریخ نے کا حصہ بنتے جا رہے ہیں. فارسی کی ایک معروف ضرب المثل '' مشت نمونہ از خروار '' کی صداقت کے پیش نظر ایک معروف اشعار کے مشہور شاعر کی رثائی شاعری کے نقطة آغاز کا سچا واقعہ قلمبند کرتے ہیں. ایسا شاعر کہ جس کے کہے ہوئے اشعار جمھوری اسلامی ایران  میںخصوصا ً ایام عزا کے دوران مسجد و امامبارگاہ بلکہ ہر گھر اور گلی کوچوںمیںسیاہ پارچوں اوربینروںپر خاص و عام کی نظروںاور توجہات کو اپنی جانب جذب کرتے دکھائی دیتے ہیں.

                    '' باز این چہ شورش است کہ در خلق عالم است ''

                  ترجمہ   '' کیسا غوغا ہے یہ پھر خلق جہاںمیںیکسر ''

جی ہاںہماری مراد شاعراھلبیت  محتشم کا شانی   ہیں ملاحظہ فرمائیں:

'' عالم خواب میںمحتشم اپنے آقا ومولا حضرت علی علیہ السلام کی زیارت کے شرف سے مشرف ہوئے تو مولا نے فرمایا :حسین علیہ السلام کے لیے مرثیہ کیوںنہیںکہتے ہو ؟

عرض کی :یا امیر المومنین  ! حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب بے حد ہیںاس لیے نقطئہ آغاز نہیںمل پارہا اور متحیر ہوںکہ کس مصیبت سے شروع کروں؟مولا  نے فرمایا ؛ کہو     

                     باز این چہ شورش است کہ در خلق عالم است

محتشم خواب سے بیدار ہوئے تو اسی کادوسرامصرع کہہ رہے تھے کہ

                   ' باز این چہ  نوحہ و   چہ عزا  و چہ ماتم است 

یہ دو مصرعے ( ایک بیت ) محتشم کے بارہ بندوںپر مشتمل مرثیہ کا مطلع ٹھرے . یہ خوش قسمت شاعر اپنے آقا و مولا  کی ھدایت کے مطابق اس عظیم دینی خدمت میںمشغول تھا کہ اسی تسلسل میںایک مصرعہ کہا :

                     ھست از ملال گرچہ بری ذات ذوالجلال

اور پھر بیت ہونے کیلیے اس کے دوسرے مصرعے میںحیران و پریشان ہوگیا کہ ایسا کیا مصرع کہا جائے و مقام ذوالجلال کے سزاوار ہو ، حتی ٰ کہ حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف وسلام اللہ علیہ کی جانب سے دستیگیری نصیب ہوتی ہے اور خواب میںمحتشم کو امر ہوتا ہے کہ اس مصرع کا ثانی یہ کہے :

''اودر دل است و ھیچ دلی نیست بی ملال ''

پس بیدار ہوئے اور بیت مکمل کرلیا . ( کشکول احمد قاضی زاھدی ص ٢٤٢)

جی ہاںخوشنودی خداوند کریم کیلیے اس کی مقرب ہستیوںکی مداحی ومرثیہ نگاری کی شان ، عظمت او رمنزلت کس قدر انفرادیت کے ساتھ قابل صدر شک ہے کہ پہلے پہل امام اول علیہ السلام ایک شاعر کا ہاتھ پکڑ کر حضرت سید الشھداء علیہ السلام کے غم کی عظمت اور جہانگیر وسعت بیان کرنے کیلے پہلا مصرع عطا فرمارہے ہیںاور آگے جا کر پھر مشکل پیش آتی ہے تو مولا امیر علیہ السلام کے مشکل کشا فرزند حضرت امام زمان علیہ السلا م ایک اور مصرع عطا فرما کر مرثیہ مکمل کرنے میں مشکل کشائی فرمارہے ہیں.

یہیںسے ہم یہ نتیجہ بھی لے سکتے ہیں کہ فقط احکام فقہ ہی کو یہ امتیاز حاصل نہیںکہ اگر ایک فقیہ بزرگوار و نامدار ایک حکم فقہی کی تحقیق و تبیین میں مشکل کا شکار ہوتے ہیں تو انہیں ہی راہنمائی ہو تی ہے بلکہ اھلبیت علیہم السلام کے مخلص شعراء کرام کو بھی ایسے الطاف سے نوازا جاتا ہے ۔

بعض کو اس انداز میںاور بعض کو دوسرے طور اطوار سے کہ ان کی نگاہ لطف کی برکت سے کلام عطا ہو جیسا کہ مثلاً شہر یا ر کو ہوا  اور وقت کے ایک آیة .. العظمی ( مرعشی نجفی  ٰ) عالم خواب میںحرم امیر المومنین علیہ السلام میںاپنے اس فارسی ایرانی شاعر کی مولا امیر علیہ السلام کی جانب سے وہ تکریم مشاھدہ کریں۔

وہ حیرت زدہ ہو کر اظہار کریںکہ یہ کلام تو ابھی تک کسی کو بھی پڑھ کر نہیںسنایا ، آپ کو کیسے اس کا علم ہو گیا تو وہ قصہ ء اکرام و قبولیت امام علیہ السلام سنا کر اس شاعر کو اشکبار کر دیں. مطلع یہ تھا .        

     علی ای ھمای ِ رحمت تو چہ آیتی خدا را       (زندگی نامہ محمد حسین شھر یا ر )

جی ہاں کسی شاعر کو امام معصوم علیہ السلام کی طرف سے متبرک پیراہن عطا ہو رہا ہے تو کسی کو دیگر عطائوںسے نوازا جارہا ہے او رسب کو بیاض حیات کے حسن ختام اور آباد و شاد آخرت کے مژدے سنانے جارہے ہیں.

ہاںیہ حقیقت بھی فراموش او رتشنہ ء ذکر نہ رہے کہ یہ خصوصی الطاف اھل ایمان و اھل ولا شعراء کیلیے ہیںلیکن اگر کوئی غیر اھل ولا بھی کسی معصوم علیہ السلام کے بارے میںفضیلت یا مصیبت کا تأثر کے ساتھ کوئی شعر کہتا ہے تو اس کو بھی اجر و ثواب سے محروم نہیں رکھا جاتا البتہ اس فرق کے ساتھ کہ ایسے شاعر کو اس دنیا میںاس کے مرنے سے پہلے اس کا اجر دے کر فارغ کردیا جاتا ہے تاکہ آخرت میں اولیاء الہی سے کچھ مطالبہ نہ کرسکے . لیکن جہاںتک اھل ولا شعراء کی مدحی ورثائی شاعری کا تعلق ہے تو کسی حدیت میںایک بیت (شعر) کے بدلے میںایک بیت (گھر) دیے جانے کی خوشخبری سنائی جارہی ہے جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:   من قال فینا بیت شعر بنی اللہ تعالی لہ بیتاً فی الجنة .

 یعنی جو شخص ہمارے بارے میں ایک شعر کہے تو خداوند متعال اس کے لیے جنت میںایک گھر تعمیر فرمادیتا ہے .( عیون اخبار الرضا ١، ٧)

                      مدح اھلبیت میںمومن کہے گر  ایک  بیت

                     اپنی جنت میںاسے دے رب اکبر ایک بیت

او رکسی حدیث میں ایک گھر تو کیا ایک شعر کی پاداش کے طور پر ایک شھر عطا فرمانے کی ضمانت دی جارہی ہے .جیسا کہ امام رضا علیہ السلام کا فرمان ذیشان ہے کہ فرمایا :ما قال فینا مؤمن شعرا یمدحنا  الا بنی اللہ تعالی لہ مدینة فی الجنة اوسع من الدنیا بسبع مرات یزورہ فیھا کلّ ملک مقرب وکل نبی ئٍ مرسل۔ (مصابیح الھدی ص٣٠٠ بنقل از ینابیع الحکمة ج ٣ ، ص ٢٧٥)

امام ھشتم علیہ السلام فرمارہے ہیں: جو مومن ہمارے متعلق ایک شعر بھی کہتا ہے اور اس طرح ہماری مدح وثنا کرتا ہے تو خداوند متعال جنت میںاس کے لیے ایک شہر تعمیر فرمادیتا ہے کہ جو پوری دنیا سے سات برابر وسیع ہے اوراس شہر میںخداوند عالم کا ہر مقرب فرشتہ اور ہر نبی مرسل اس شاعر کی زیارت کے لیے آئے گا .

   شعر اک گر مدح اھلبیت  میں مومن کہے      نہ فقط اک گھر ملے بلکہ مدینہ ہو عطا .

                                                      والحمد للہ کما ھو اھلہ

فہرست منابع

١۔  قرآن مجید                              ٢۔  نہج البلاغہ                       ٣۔  کشکول  احمد زاھدی

٤۔  المفردات فی غریب القرآن              ٥۔  مجمع اشعار المعصومین  (بحار )       ٦ ۔  رجال کشی

٧۔  عمدة الطالب دی انساب آل ابیطالب      ٨۔  داستانھا و پندھا                   ٩۔  قصہ منظوم کربلا

١٠۔  رھگشای انسانیت ترجمہ نھج الفصاحہ       ١١۔  میزان الحکمة                     ١٢۔  عدد السنة

١٣۔  مصابیح الھدی                       ١٤۔  عیون اخبار الرضا علیہ السلام     ١٥ ۔  زندگی نامہ محمد حسین شھر یا ر

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عرض تسلیت

         بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان )  حوزہ علمیہ مشہد مقدس کی جانب سے اپنے ہر دلعزیز دوست جناب مولانا مجاہد علی مطہری کی دوران جوانی میں ناگہانی وفات حسرت آیات کی مناسبت سے حضرت امام رؤف ، حضرت امام زمان علیہما السلام اور مرحوم و مغفور کے والدین ان کی اہلیہ اور تمام پسماندگان کو تسلیت پیش کی جاتی ہے ۔ خداوندمنان سے ان کی مغفرت اور رفعت مرتبت کے طلبگار اور قارئین کرام سے سورہ فاتحہ کے خواہشمند ۔۔۔ بزم رأفت

  یہ پھول اپنی لطافت کی داد پائے گا              

حضور مولا  میں کھل کھل کے مسکرائے گا              

استاد محمد علی جوہر کے مختصر حالات زندگی

  جوہر شہید کربلا کی پیاس یاد کر

صلوٰة پڑھ ، سبیل پی، عباس  یاد کر

نام  :  آپ کا نام نامی سید محمد علی شاہ رضوی اور والد بزرگوار کا اسم گرامی سید علی شاہ رضوی ہے ۔

ولادت  :  آپ ٣  اگست  ١٩٣٠ھ بمطابق ١١ جمادی الاول بروز جمعة المبارک کو اپنے آبائی وطن کوٹ ڈی جی خیر پور میرس سندھ میں متولد ہوئے ۔

آغاز شاعری  :  موصوف شروع ہی سے خداداد استعداد اور عمدہ ذوق سے بہرہ مند تھے خصوصا ً اہل بیت علیہم السلام کی مدح و رثاء میں شاعری کو بہت پسند فرماتے تھے خصوصاً عزاداری کی شاعری سے ایک خاص لگاؤ تھا ۔

آپ کے آبائی علاقے میں ١٩٤٥ھ میں عشرہ محرم الحرام میں تعزیہ برآمد کرنے پر جب حکومت وقت کی طرف سے سخت پابندی لگادی گئی تو آپ نے عزاداران حسینی کے ہمراہ اپنی عقیدت و ارادت کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے تعزیہ برآمد کیا جس کے نتیجے میں انہیں سینٹرل جیل بھیج دیا گیا ۔ شاید آپ کا یہ پرخلوص مجاہدانہ عمل خداوندکریم کو پسند آگیا اور قرآن کریم میں یہ عہد الٰہی ہے کہ ( والذین جاھدو ا فینا لنھتدینھم سبلنا) یعنی جو لوگ ہماری خاطر جہاد کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنی راہوں کی راہنمائی کریں گے ۔ اس مخلص سیّد کو خداوندمنان نے خدمت اہل بیت علیہم السلام کا ایسا صلہ دیا کہ انہیں تادم آخر اس مقدس گھرانے کی مخلصانہ خدمت نصیب رہی اور وہ آل رسول ۖ کے مصائب دلسوز نوحوں کے روپ میں منظوم کرتے رہے

تشویق و ترغیب :  استاد حاجی بنی بخش نے موصوف میں موجود شاعری کے خفیہ جوہر اجاگر کرنے میں بہترین کردار ادا کیا اور ان کی صلاحیت کو درک کرتے ہوئے '' جوہر '' کے تخلص سے نوازا۔

مختصر عرصے میں جوہر  کے نوحے صوبہ سندھ سے تجاوز کرکے پاکستان بھر میں مجالس و جلوس میں مشہور ہونے لگے۔

استاد جوہر کے شاگر  :  استاد موصوف نے خدمت اہل بیت علیہم السلام کے سلسلہ کو تداوم بخشا اور اس طرح شعرائے غم میں اضافے کا سبب بنے ان کے شاگردوں میں سید نذر عباس شاہ نذر، مرید عباس مرید ، سید مجاہد شاہ، سید اختیار شاہ اختیار (ببرلو) ، سید افضل شاہ  وغیرہ شامل ہیں ۔

نوحہ خوان انجمنیں پارٹیاں :  تقریبا ٰ ً ساٹھ بڑی انجمنیں فقط استاد جوہر  کے نوحے پڑھتی تھیں، علاوہ از این موصوف کے نوحے دنیا بھر میں پڑھے جاتے ہیں ۔

مشہور نوحہ خوان حضرات اور استاد کی شاعری  :  استاد جوہر خود بھی رثائی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ نوحہ خوان تھے ۔ ان کے نوحے پڑھنے والے مشہور نوحہ خوانوں میں استاد کریم بخش حاجانو عرف استاد کمن ، محسن شاہ ، سید رضا عباس شاہ، مختار علی شیدی  وغیرہ شامل ہیں ۔

ازدواجی زندگی  :  استاد جوہر نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کیں دونوں میں سے ہر ایک سے چار بیٹے اور تین بیٹیاں عطا ہوئیں ۔ خداوندمتعال ان سب کو سلامت رکھے اور وہ راہروان اہل بیت علیہم السلام میں شامل رہیں ۔

تاریخ رحلت  :  ٧٨برس کی کامیاب زندگی گزارنے کے بعد یہ مخلص خادم اہل بیت علیہم السلام  ٢٥ شعبان  ١٤٢٩ھ بروز جمعرات بمطابق ٢٨ اگست ٢٠٠٨ئ کو داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے چاہنے والوں کو سوگوار کرگئے ۔

 خدا بخشے بحق آل احمد ۖ جانے والے کو

استاد کے نوحوں کے چند نمونے : استاد جوہر نے سرائیکی زبان میں ان گنت نوحے لکھے اور اس کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی توفیق رفیق رہی ۔

ہم ان دونوں زبانوں کے مشہور نوحوں سے چند نوحوں کے مطلع بطور نمونہ پیش کرتے ہیں ۔

    اردو کے چند نوحے : 

   پردہ دنیا کو سکھانے والی آئی بازار میں زینب     گھر سے باہر بھی نہ آنے والی آئی بازار میں زینب

   جگ سارے میں جنت کے سرداروں کا ماتم             اللہ کی قسم دین کے غم خواروں کا ماتم

اعلان ہوا قیدی بازار میں آتے ہیں                   خوش ہوکے سبھی شامی بازار سجاتے ہیں

   کیا شام غریباں کی پردرد کہانی ہے                 جنگل ہے بیاباں ہے خیمے میں نہ پانی ہے

   کربل کے مسافر کو کبھی بھول نہ جانا                     زینب کے برادر کو کبھی بھول نہ جانا

سرائیکی کے چند نوحے :

   سولہ سومیل مک گئے آگئی بازار شام اے

  ام لیلی منگی دعا روکے میڈے اللہ سجاد  وس پووے

  خط مولا حسن  دا آیا ہے

  تربت وچ رو نہ سکینہ  دھی میڈاہے وعدہ میں ول آساں

تسلیت :  ہم بزم رأفت(انجمن شعر و ادب ) مشہد مقدس کے مسؤلین واراکین اس شاعر بزرگوار کی رحلت پر شہنشاہ دوراں حضرت امام زماں علیہ السلا م اور ان کے جملہ سوگواروں کی خدمت میں تسلیت عرض کرتے ہیں ۔

خداوندکریم انہیں حضرت سید الشہداء علیہ السلام کے خصوصی الطاف کے زیر سایہ محشور فرمائے ۔ آمین

آہ جوہر

خدمت آل عبا   کا کیا شرف تھے شاہ جوہر                 نوکری کی  مخلصانہ  زندگی بھر  واہ جوہر

خود   اب  آل عبا  کے  زیر سایہ جا بسے                 مومنوں کو داغ فرقت دے گئے ہیں آہ جوہر

پیام رأفت شماره 3 حصه نظم(جشن میلاد کوثر و جشن مولود کعبه )

                 وجہ خلقت کائنات ،سبب معرفت پروردگار ،  بضعة الرسول، کفو ولایت ، مادر امامت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ہر سال کی طرح امسال بھی ایک عظیم ''جشن میلاد کوثر ''منعقد ہوا جس کا مصرعہ طرح یہ تھا :

  مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا نے پائی ہے

شاعر :  جناب سبط محمد رضوی صاحب

طرحی کلام

نسیم  صبح  یثرب مژدۂ  عرفان  لائی ہے                ولائے سیدہ نے ہم  کو  کیا عظمت دلائی ہے

ولائے سیدہ  کی بات جب ہونٹوں پہ آئی ہے            قلم کاغذ نے  میری فکر کی  ہمت  بڑھائی ہے

شعور آگہی نے جب سے ان کی معرفت پائی       مری نظروں میں دولت اس جہاں کی کب سمائی ہے

ترے گھرمیں نبوت اور امامت نے کیے سجدے           یہیں پر تو فرشتوں نے  جبیں  اپنی  جھکائی ہے

رسالت  اور  امامت کا وہ محکم راہنما بن کر              کساء میں وہ  بلندی  کی سند زہرا  نے پائی ہے

فضائل اور  فضیلت  کا وہ روشن مجموعہ بن کر              مقام و  منزلت کی کیا  عطا  زہرا  نے پائی ہے

در زہرا  پہ آتے ہیں فرشتے بھی گدا بن کر             سخی زہرا  کی روٹی تو فرشتوں نے بھی کھائی ہے

کھڑی ہے سر  جھکائے آیۂ تطہیر چوکھٹ پر               مقام و  منزلت کی کیا  عطا  زہرا  نے پائی ہے

فرشتہ موت کا رکتا نہیں ہے ایک پل کو بھی                 مگر یہ  منزلت حسنین   کی مادر نے  پائی ہے

در زہرا  کے رتبے کی بلندی کا یہ عالم ہے                  یہاں پر پرورش حسنین سے بچوں نے پائی ہے

قیامت تک تحفظ کے لیے ہاتھوں کو پھیلائے                 شریعت سر جھکائے فاطمہ  کے در پہ آئی ہے

ظہور عصمت زہرا  پہ جبریل امیں بن کر                             مبارک  باد  کا   باد  صبا  پیغام  لائی ہے

علی  ہیں ساقی کوثر پسر سردار جنت ہیں                 زمیں سے آسماں تک فاطمہ  کی راہنمائی ہے

حسین  بن علی  نے کربلا میں اپنا سر دے کر               محمد مصطفی  ۖکے  دین کی عزت  بچائی ہے

کمر بستہ ہیں پھر اسلام کے دشمن زمانے میں            شریک  فاتح  خیبر  دم  مشکل  کشائی ہے

پہنچ  کر جنت شبیر  میں اہل عزا بولے                     جو آنکھوں نے لٹائی تھی وہ دولت کام آئی ہے

مکین عرش زہرا کی غلامی کا شرف پاکر              کبھی جھولا جھلائے ہیں کبھی  چکی  چلا ئی ہے

بہانے لے کے مسکینی یتیمی اور اسیری کے                در زہرا کی اکثر قدسیوں نے روٹی کھائی ہے

تری عظمت کے پھر کیوں کر قصائد نہ پڑھے خالق          نبی  نے  احتراما ً  بارہا  چادر  بچھائی ہے

یہی کافی ہے بس اپنی شفاعت کے لیے سبط

غلام مرتضی کی آپ کے در تک رسائی ہے

شاعر :  جناب عابد علی بھوجانی گجراتی صاحب

طرحی کلام

  کبھی کوثر کا سورہ تو کبھی تطہیر کی آیت                  زبان کبریائی میں ثنا  زہرا نے پائی ہے

  مسیحائے زماں پائے شفا زیرکساء آکر                  ردا بھی باخدا معجزنما زہرا نے پائی ہے

  پسر حسنین بابا مصطفی ۖشوہر علی  جیسا                   مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا نے پائی ہے

یہ عابد بھی سر محفل علی الاعلان کہتا ہے

کہ کیا نور الہی کی ضیا  زہرا نے پائی ہے

شاعر :  جناب الفت حسین جویا صاحب

طرحی کلام

مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا  نے پائی ہے            اٹھے تعظیم کو صدقے میں جس کے کل خدائی ہے

مرے ناقص گماں میں اس سے بڑھ کر یہ بڑائی ہے      نہ ہوتیں گر نہ ہوتے وہ سبب جن کے خدائی ہے

نبی  ۖکے گھر ظہور سیدہ پر رب کی جانب سے                      بہ  شکل سورۂ کوثر مبارک باد آئی ہے

نہ کوئی دے سکے گا طعنۂ ابتر پیمبر ۖ  کو                       بقاء نسل احمدۖ  کی ضمانت بن کے آئی ہے

یہ وہ ملکہ ہے الفت عالم امکان کے اندر                  وہاں تک سلطنت اس کی جہاں تک کبریائی ہے

پدر شوہر پسر سب سید وخود سیدہ زہرا            نسب میں بھی حسب میں بھی عجب توقیر پائی ہے

وہ جس کو باپ نے ام ابیھا کی سند دی ہو                  بجز  زہرا  زمانے  میں نہ بیٹی  ایسی آئی ہے

بتا کر بضعة منی یہ سمجھایا زمانے کو                   کہ زہرا  میرے جسم و جان و منصب کی اکائی ہے

نبی کی کل وراثت کی ہیں تنہا سیدہ وارث                  بہن ہے  فاطمہ   کی  بعد پیغمبر ۖنہ  بھائی ہے

فدک لینے نہیں ان غاصبوں کو تا قیام حشر                   ذلیل  و  خوار  کرنے  کو سر دربار آئی ہے

زمیں پر بیٹھ کے اہل کساء کی پاک محفل میں             فرشتوں سے خدا کی گفتگو ساری سنائی ہے

سجی جب فرش پر بزم کساء اس وقت خالق نے          فرشتوں  کی سر عرش بریں محفل سجائی ہے

پڑھی یہ منقبت رب نے کہ اے کروبیو سن لو                   محبت میں کساء والوں کی یہ دنیا بنائی ہے

کہا جبریل نے یہ کون ہیں چادر تلے یا رب ؟              جہاں دیکھو گھٹا اک نور کی ہر سمت چھائی ہے

نداآئی کہ یہ ہیں پاک پنجتن ایک زہرا  ہے                دو بیٹے اس کے اک بابا اور اک احمدۖ کا بھائی ہے

یہ جانیں شیخ جی کیا خوب و بدہے ہم تو یہ جانیں              نہ ہو گر الفت زہرا  تو نیکی بھی برائی ہے

جناب شیخ کی منطق میں دونوں ہیں رضی اللہ               لٹے ہیں جو لٹیرے بھی دہائی ہے دہائی ہے

شمع کو آندھیوں میں چھوڑ کربھاگیں جو پروانے                وفاداری نہیں ہے یہ یقینا بے وفائی ہے

چلا اک غار میں اک کو سلاکر اپنے بستر پر                      بتایا مصطفی ۖنے یار کیا ہے کون بھائی ہے

جو بوڑھا پاس پیغمبر ۖکے روئے مانند طفلاں              خدارا سوچیئے عظمت ہے یہ یا جگ ہنسائی ہے

بڑی تیزی سے پھیلی جارہی ہے ناصبیت پھر              بچو اے اہل دیں اس سے یہ بیماری وبائی ہے

غریب کربلا کی ماں دعائیں اس کو دیتی ہیں         خلوص دل سے جس نے بھی صف ماتم بچھائی ہے

مقدر کا سکندر ہوں میں الفت عالم ذر سے

نصیبوں میں عقیدت فاطمہ زہرا  کی پائی ہے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

(قطعہ)

یوں تو سب اہل بیت  ہی جان رسول  ۖہیں                    میزان حق ہیں، دیں کے حقیقی اصول ہیں

دوہستیوں کو بضعة سرور ۖ کا ہے شرف                         اک حضرت رضا ہیں اک حضرت بتول ہیں

(قطعہ)

رسول  ۖزندہ ہے آل رسول  زندہ ہے                        خدا کے دین کا ہر اک اصول زندہ ہے

فدک کو چھیننے والوہوا ہے کیا حاصل                           جہان بھر میں جو دیکھو بتو ل  زندہ ہے

(قطعہ)

نوری ہستی خاکیوں میں آکے پنہاں ہوگئی                     فاطمہ  کی منزلت پر عقل حیراں ہوگئی

لب ہیں ساکت اور نقوی کا قلم بے جان ہے                  ہوکے بیٹی اور اپنے باپ کی ماں ہوگئی

(قطعہ)

کون و مکاں میں بسنے والو غور کرو تو دیکھو                 ہو توفیق تو دیکھ سکوگے اک اک بات قدر کی

خالق کی خلقت کو دیکھو خالق کے کیا کہنے          سورج ایک ہے چاند ہیں بارہ ایک ہے رات قدر کی

طرحی کلام

مشاکل میں بہت ناد علی  بھی کا م آئی ہے                 عنایت فاطمہ  کی اس سے بڑھ کر آزمائی ہے

جہانوں کے لیے رحمت کی خاطر وہ ہی رحمت ہےعطا کیا منفرد سی اس کی قسمت میں ہی آئی ہے

خدا نے پانچ تن کے نور کو پہلے کیا ظاہر                پھر اس کے سامنے مخلوق کی محفل سجائی ہے

جہاں پر انبیاء  کے دل ، کلیجے کا نپ جاتے ہیں             وہ نگری فاطمہ زہرا   کے بیٹے نے بسائی ہے

نبوت انبیاء   کی پایۂ تکمیل تک پہنچی                            مودت اور محبت فاطمہ  کی کام آئی ہے

وہ سرتاج رسالت اٹھ کے استقبال کرتے تھے     کہ جب بھی باپ کی خدمت میں بیٹی چل کے آئی ہے

جب اتری آیۂ تطہیر تو دہلیز زہرا   پر                             نبی ۖ نے نو مہینے تک یہی آیت سنائی ہے

اے کلمہ گو ترے اسلام پر کیوں شک نہ ہو مجھ کو         وہی دہلیز بے دردی سے خود تونے جلائی ہے

وہ کتنا بے خبر تھا آگ لے کر آرہا تھا جو                      حقیقت میں تو آتش اپنی ہستی کو لگائی ہے

کہ چوکھٹ فاطمہ   کے گھر کی اس رفعت کی حامل ہے کہ سرور ۖ نے اجازت مانگ کر ، رک کر بتائی ہے

خدیجہ  کا بہت خرچہ ہوا دیں کی اشاعت میں           جو حفظ دیں کے کام آئی وہ زہرا   کی کمائی ہے

مجب نے گر خداوند کے معاصی سے فراہم کی                وہ آتش فاطمہ  کی پاک الفت نے بجھائی ہے

لگے گی کل حکومت فاطمہ  کی روز محشر میں                  شفاعت تو خدا نے بہر زہرا   ہی بنائی ہے

بنی ہے جب کوئی مشکل آئمہ  پر تو ملتا ہے               کہ اپنی ماں کا دے کر واسطہ مشکل ہٹائی ہے

امام عسکری  فرماتے ہیں ہم سب پہ حجت ہیں            ہماری ماں مگر ہم پربھی حجت بن کے آئی ہے

ہے سر خالق کے سجدے میں تو قدموں میں خدائی ہے    مقام و منزلت کی کیا عطا زہرا  نے پائی ہے

بضاعت ہے مری مزجاة لیکن جو ہے خالص ہے             تری مدحت فریضہ جان کر میں نے سنائی ہے

نگاہ لطف اے خاتون جنت ،افضل امت                     میں شیعہ ہوں ترا اور میری فطرت ہی ولائی ہے

فرشتوں کو بھی چاہوں تو بلا لوں اپنی نصرت کو             غلام فاطمہ زہرا  کی اتنی تو رسائی ہے

اے نقوی تیری بخشش کی ضمانت یہ ہی کافی ہے 

در زہرا ئے اطہر  کی ملی تجھ کو گدائی ہے

٭٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

          عشق نے جوہر کوثر سے قصیدہ لکھا             میں نے قرطاس پہ بس اپنا عقیدہ لکھا

          خلد جب عید پہ حوروں نے سجائی اطہر          جاکے جبریل نے ہر پھول پہ زہرا  لکھا

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

(قطعہ)

نور ہی نور ہیں فاطمہ                          جلوہ طور ہیں فاطمہ

ہر کوئی کیسے مدحت کرے               رجس سے دور ہیں فاطمہ

(قطعہ)

       دین احمدۖ در جہان باشد نظام آخرین                    چون بود آئین او قرآن کلام آخرین

        گر محمد  ۖاسوہء کامل پئے مردان بود               فاطمہ زھرا  پئے نسواں پیام آخرین

طرحی کلام

میرے لب  پہ ثنائے مدحت زہرا   جو آئی ہے                     رضائے کبریا کا مژدہ اپنے ساتھ لائی ہے

وجود سیدہ  ہے خلقت افلاک کا باعث                        انہیں کے نور سے یہ صبح عالم جگمگائی ہے

نزول رحمت رب رحمة للعالمیں ۖکے گھر                    کہ گویا ہرطرف سے رحمتی برسات چھائی ہے

اٹھیں تعظیم کو خود مرسل اعظم ۖ تلک جس کی               مقام و منزلت کی کیا عطاء زہرا نے پائی ہے

کہاں سبط  کہاں مدح وثنائے فاطمہ زہرا 

یہ لفظ و فکر کی خود ان کے در سے بھیک پائی ہے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب نیر جلالپوری صاحب

اپنی ماں کہہ کے پکارے جسے خود باپ اس کا        ایسا  دنیا  میں کسی  بیٹی کو   رتبہ نہ  ملا

جس  کی  چادر  میں  نظر آئے بہتر پیوند               اس کی چادر میں کہیں ایک بھی دھبہ نہ ملا

٭٭٭

(قصیدہ)

مریم  ہیں  ہاجرہ  ہیں  نہ  سارا  ہیں  فاطمہ             قد آئینوں کے پست ہیں بالا ہیں فاطمہ

قدرت  نے جو  دیا ہے  و ہ تحفہ ہیں  فاطمہ              معراج  مصطفیۖ کا  نتیجہ ہیں فاطمہ

پرچھائیں بھی نہ دیکھی کبھی دن کی دھوپ نے             نکلا  نہ  جو  ردا  سے  وہ  چہرہ ہیں فاطمہ

بے  حد  و  بے  شمار  علی  کی  فضیلتیں               ان سب میں  ایک  اور اضافہ ہیں فاطمہ

گودی میں لے کے فخر سے جھومیں نہ کیوں رسول         کل  ز ندگی  کی  ایک  تمنا  ہیں  فا طمہ

وہ  گھر کہ جس کے  در  کی سوالی  ہیں جنتیں            جو  رزق  بانٹتا ہے  وہ  فاقہ ہیں  فاطمہ

خیبر  شکن  کے واسطے  پیسی  ہیں  چکیاں              مشکل  کشا  علی  کا  سہارا  ہیں  فاطمہ

حیدر ہیں  وہ  نماز  شجاعت  نے  جو  پڑھی             عصمت نے جو کیا ہے وہ سجدہ ہیں فاطمہ

پہنچی  خدا  کے گھر سے یہ نسبت نبی کے گھر         اترا جو آ سماں سے  و ہ  رشتہ  ہیں فاطمہ

لہجہ  وہی  مزاج   وہی  گفتگو  وہی                          قرآں  علی ہیں  نہج بلاغہ  ہیں  فاطمہ

جب آگئیں بتول کھڑے ہوگئے رسول                               ثابت  ہوا  کہ  ام  ابیھا  ہیں  فاطمہ

مانا کہ  انبیاء سے  سوا پائے ہیں لقب                   پھر بھی ہر اک لقب سے زیادہ ہیں فاطمہ

سوروں میں ڈھل گئی جو وہ تحریر ہیں  علی           مانگا  جو  آیتوں نے  وہ  لہجہ ہیں فاطمہ

لو  استخارہ  کرکے یہ  عقدہ بھی کھل گیا                  قدرت سے گفتگو  کا  وسیلہ  ہیں  فاطمہ

رضوان لے کے  آگیا حسنین کے لباس                 اب  تو  کہو  خدا  کا  ارادہ  ہیں  فاطمہ

مرکز سے  ٹوٹ سکتا نہیں  دائروں کا ربط                معصوم  سب  دلیل  ہیں  دعوی ہیں فاطمہ

پیکر میں ڈھل گئی  ہے  مشیت  کی روشنی        تطہیر  کی   ردا   کا   اجالا   ہیں   فاطمہ

آؤ  رسول  پاک  یہ  منظر  بھی دیکھ لو                 دربار  میں  ہجوم  ہے  تنہا   ہیں   فاطمہ

ٹوٹی  ہوئی  ہے  آج  تلک جنت البقیع                پہلو  تمہارے  اب  بھی  شکستہ ہیں فاطمہ

یوں بھی کتاب کرب وبلا کا ہے اک ورق                بے  شیر  ہیں  علی  تو  سکینہ  ہیں فاطمہ

جو  پڑھ  لیا  زمانے نے وہ  مرثیہ حسین                لکھا  نہ  جا سکا  جو  وہ  نوحہ  ہیں  فاطمہ

نیر  مری زباں  کوئی قرآن  تو نہیں 

  میں کس طرح بتاؤں بھلا کیا ہیں فاطمہ

٭٭٭٭٭

شاعر : جناب رضا سرسوی صاحب

(ماں)

موت کی آغوش میں جب تھک کے سوجاتی ہے ماں        تب کہیں جاکر رضا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں

موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں      جب پریشانی میں ہوں بچے تڑپ جاتی ہے ماں

جاتے جاتے پھر گلے بچے سے ملنے کے لئے              توڑ  کر  بند کفن  باہوں کو  پھیلاتی ہے ماں

روح کے رشتوں کی یہ گھرائیاں تو دیکھئے                   چوٹ  لگتی ہے  ہمارے اور چلاتی ہے ماں

بھوکا سونے ہی نہیں دیتی یتیموں کو کبھی      جانے کس کس سے کہاں سے مانگ کر لاتی ہے ماں

ہڈیوں کا رس پلاکر اپنے دل کے چین کو                   کتنی ہی  راتوں  کو خالی پیٹ سوجاتی ہے ماں

جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول                  آنسووں کے  ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں

ماردیتی ہے طمانچہ گر کبھی جذبات میں                  چومتی ہے لب کبھی  رخسار سہلاتی ہے  ماں

کب ضرورت ہو مِری بچے کو اتنا سوچ کر                       جاگتی رہتی ہے ممتا اور سوجاتی ہے ماں

گھر سے جب پردیس کو جاتا ہے گودی کا پلا                ہاتھ میں قرآں لئے آگن میں آجاتی ہے ماں

دیکے بچے کو ضمانت میں رضائے پاک کی                   سامنا جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں

لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم           ڈال کر باہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں

ایسا لگتاہے کہ جیسے آگئے فردوس میں             کھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں

دیر ہوجاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں             ریت پہ مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں

مرتے دم بچہ نہ آئے گھر اگر پردیس سے                 اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں

حال دل جاکر سنا دیتا ہے معصومہ کو وہ                    جب کسی بچے کو اپنی قم میں یاد آتی ہے ماں

تھام کر روضے کی جالی جب تڑپتاہے کوئی                ایسا لگتاہے کہ جیسے سر کو سھلاتی ہے ماں

گمرہی کی گرد جم جائے نہ میرے چاند پر                      بارش ایمان میں یوں روز نھلاتی ہے ماں

اپنے پہلو میں لٹاکر روز طوطے کی طرح                         ایک بارہ پانچ چودہ ہم کو رٹواتی ہے ماں

عمر بھر غافل نہ ہونا ماتم شبیر سے                        رات دن اپنے عمل سے ہم کو سجمھاتی ہے ماں

دوڑ کر بچے لپٹ جاتے ہیں اس رومال سے               لیکے مجلس سے تبرک گھر میں جب آتی ہے ماں

یاد آتا ہے شب عاشور کا کڑیل جواں                    جب کبھی الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھاتی ہے ماں

اللہ اللہ اتحاد صبر لیلا اور حسین                            باپ نے کھینچی سناں سینے کو سہلاتی ہے ماں

سامنے آنکھوں کے نکلے گر جواں بیٹے کا دم                  زندگی بھر سر کو دیواروں سیٹکراتی ہے ماں

سب سے پہلے جان دینا فاطمہ کے لال پر                      رات بھر عون ومحمد سے یہ فرماتی ہے ماں

یہ بتا سکتی ہے بس ہم کو رباب خستہ تن                 کس طرح بن دودھ کے بچے کو بھلاتی ہے ماں

شمر کے خنجر سے یا سوکھے گلے سے پوچھئے            ماں ادھر منھ سے نکلتاہے ادہر آتی ہے ماں

اپنے غم کو بھول کر روتے ہیں جو شبیر کو                 ان کے اشکوں کے لئے جنت سے آجاتی ہے ماں

باپ سے بچے بچھڑجائیں اگر پردیس میں                کربلا سے ڈھونڈنے کوفے میں خود آتی ہے ماں

جب تلک یہ ہاتھ ہیں ہمشیر بے پردہ نہ ہو                       ایک بہادر باوفا بیٹے سے فرماتی ہے ماں

جب رسن بستہ گزرتی ہے کسی بازار سے                          ایک آوارہ وطن بیٹی کو یاد آتی ہے ماں

شکریہ  ہو  ہی  نہیں  سکتا  کبھی  اس  کا  ادا   

مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں

٭٭٭٭٭

جشن مولود کعبہ

شاعر :  جناب سبط محمد رضوی صاحب

جب علی  کے فضائل سنانے لگے                                    خلد میں مصطفی ۖ مسکرانے لگے

یہ علی  کی ولادت ہے ہر بام و در                                             خانۂ کعبہ کے جگمگانے لگے

یہ ہی وارث ہیں قرآن کے دیکھ لو                                            آتے دنیا میں قرآں سنانے لگے

خم کے منبر سے اعلان جب ہوگیا                                          لوگ بخ کے نعرے لگانے لگے

جو بھی بیٹھا ہے محفل میں خاموشی سے                      ان کو حیدر کے نعرے جگانے لگے

ایک ٹھوکر سے مردے کو زندہ کریں                                         لوگ اس طرح اسلام لانے لگے

ہاں در سیدہ کا ہے یہ مرتبہ                                                 جس پہ جبریل قرآن لانے لگے

یہ بھی تسبیح زہرا  کا اعجاز ہے                                  میرے گھر بھی ملک آنے جانے لگے

جس کی تعلیم کا ہے شرف اس قدر                                   فضہ جنت کھانے منگانے لگے

جس کا رومال حر کا مقدر بنے                                        حر کو جنت کے رضواں بلانے لگے

یہ بھی زہرا کی عظمت کا اعجاز ہے                                  جس کا رشتہ ستارے بتانے لگے

سبطتیرے قصیدے کا کیا ہے مکاں

خلد میں یہ مکاں خود بنانے لگے

شاعر:  جناب نیر عباس رضوی صاحب

تیرہویں تاریخ ہے عصمت کا منظر دیکھیے                            خانہء معبود میں نفس پیمبر  دیکھیے

کس کے استقبال پر یہ کھل کھلا اٹھی جدار                       بن گیا ہے خانہء حق میں نیا در دیکھیے

بند کرتے تھے جسے چالیس پہلوانوں کے ہاتھ                  ہے وہی دو انگلیوں پر باب خیبر دیکھیے

آپ کے ہیں پاؤں دوش عصمت کونین پر                           اپنی عظمت اے ابوطالب  کے دلبر دیکھیے

کل ایماں ملیںمیںگی ہر نبی کی خصلتیں                     جس نبی کو دیکھنا ہے روئے حیدر  دیکھیے

 خوف سے جس کے یہ بت سب منھ کے بل گرنے لگے   اس کو کہتے ہیں شجاعت کا سمندر  دیکھیے

لب پہ من کنت کا صیغہ دست میں دست علی                       کون ظاہرہے غدیر خم کا منبر  دیکھیے

کیا بتاؤ ںزور حیدر کیا بتاؤ ںذوالفقار                                   باب خیبر دیکھیے جبریل کا پر  دیکھیے

مدح مولا کی بدولت ہم کو عزت مل گئی

بندہ پرور آپ نیر کا مقدر  دیکھیے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب نیر جلالپوری صاحب

یہ کم نہیں علی کی فضیلت کے واسطے                         گھر دے دیا خدا نے ولادت کے واسطے

قرآن پاک نہج بلاغت کے واسطے                                    آئینہ جیسے رکھا ہو صورت کے واسطے

ہیں اہل خلد بھی جہاں خدمت کے واسطے                    ہم خاکسار ہیں وہاں مدحت کے واسطے

روشن ہے مصحف رخ مولائے کائنات                                           قرآن آرہا ہے تلاوت کے واسطے

چاندی سخاوتوں کی علی بانٹتے رہے                               سونا بچا لیا شب ہجرت کے واسطے

مدح علی سنائیے بچوں کو رات دن                                نسخہ بتا رہاہوں ذہانت کے واسطے

چہرا علی کا سورہ رحمان کی قسم                                   کام آگیا تعارف قدرت کے واسطے

میثم فراز دار سے اعلان کرگئے                                   دل چاہیے علی سے محبت کے واسطے

جو پوچھنا ہو مجھ نکیرین پوچھ لو                                  اب آگئے علی مری نصرت کے واسطے

مل جائے گا لٹی ہوئی آنکھوں کو اعتبار                           موسی چلو نجف کی زیارت کے واسطے

اے بوریا نشیں ترے در کا فقیر ہوں                                  رضواں اٹھا نہ مجھے جنت کے واسطے

نیر  علی کے نام کی کرنوں سے بھیک مانگ                 سورج کے پاس کیا ہے تری چھت کے واسطے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

نبوت کے دکھائے معجزے تو وہ نبی ۖ ہوگا                       نبیۖ کہہ دے وصی جس کو یقینا وہ وصی ہوگا

بتوں کو جھکنے والوں کو نہ کم عقلو ولی کہنا              خدا کے گھر سے آئے جو وہی حق کا ولی ہوگا

٭٭٭

کوئی فضیلت بھی لے کے دیکھو تو کہہ اٹھو گے                  فضیلتوں کے صدف کا گوہر علی ولی ہے

خدا کے گھر میں ہوا ہے نقوی نزول جس کا                         بتول  عذرا   کا  پاک شوہر علی  ولی ہے

٭٭٭

گر دیکھنا چاہو کبھی میزان ولایت                                        ہے حیدر و صفدر کی ولا جان ولایت

جو منکر حیدر ہے وہی شخص ہے ناداں                           ناداں کو سمجھ آئے گی کیا شان ولایت

٭٭٭

دعائیں مانگو خدا سے علی  کے صدقے میں                           گنہگاروں کو کتنا معاف کرتا ہے

طواف کرتے ہیں حاجی تو خانہ کعبہ کا                                  یہ خانہ کعبہ علی  کا طواف کرتا ہے

٭٭٭

فرصت ہے زندگی کی مناجات کے لیے                               تو فیق مانگتاہوں تو اک بات کے لیے

مولا علی  کو دیکھ کر کہدوں میں قبر میں                          چھوڑی ہے دنیا تیری ملاقات کے لیے

٭٭٭

ہر شخص کو تاریخ میںحیدر   نہیں کہتے                                     ہم رتبہ کوئی اور بہادر نہیں کہتے

وہ جس کا صدف خانۂ کعبہ سا مکاں ہو                                 جز مولا علی   کے کوئی گوہرنہیں کہتے

وہ جس میں ہر اک خوبی ، مگر خامی نہیں ہے                         ہم اس کے سوا اور کو رہبر نہیں کہتے

فرمودہ پیغمبر اکرم  ۖکے مطابق                                         جز حیدر  و صفدر کوئی محور نہیں کہتے

انصاف و عدالت کے تقاضوں کے مطابق                                   ہم ادنی و اعلی کو برابر نہیں کہتے

اک عمر جھکیں لوگ جو اصنام کے آگے                               چہرہ کبھی ہم ان کا منور نہیں کہتے

تم سب کی تساوی کے ہو قائل تو رہو ، ہم                             جولاہوں کو ہم پایۂ قنبر نہیں کہتے

ہم غالی نہیں ، عالی ہی عالی ہیں اے لوگو                     مخلوق کوئی نور سے بہتر نہیں کہتے

تاریک ہے وہ دل ہو جہاں بغض علی   کا                            ظلمت کدہ ہم کوئی منور نہیں کہتے

فرمان پیمبر ۖ پہ ہے ایمان ہمارا                                        ہم غیر علی ساقی کوثر نہیں کہتے

جو بستر احمد ۖ پہ بڑے چین سے سوئے                        حیدر  کے سوا کوئی بھی دلبر نہیں کہتے

ہاں سید فصحاء عرب ہے مرا آقا                                  بڑھ کر کوئی حیدر سے سخنور نہیں کہتے

نقوی  کو پلا آب ولا ساقی کوثر                                  ہم پیاسے ہر اک ظرف کو ساغر نہیں کہتے

شاعر  :  جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

تعلیم  ہمہیں  ہے  میر  ے  مو  لا  کی  محبت         انسان کی فطرت  میں  عقیدت  ہے  علی   سے

بنتا  ہے  وہی  شخص  کا لانعام  کا   مصداق         پڑھ پڑھ کے بھی جس دل میںعداوت ہے علی سے

شاعر:  جناب ریحان بنارسی صاحب

بام کعبہ سے اٹھی جو کالی گھٹا مے گذاری کا مجھکو بہانا ملا

سوچتے سوچتے راستے مل گئے ڈھونڈتے ڈھونڈتے بادہ خانہ ملا

جس میں ویرانیوں کے سوا کچھ نہ تھا وہ چمن بھی بڑا دلبرانا ملا          

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سیر کرتی ملی جس طرف دیکھا موسم سہانہ ملا          

جب چلا لے کے شوق زیارت مجھے چلتے چلتے وہ نوری ٹھکاناملا

ہاں تمنائے دیدار پوری ہوئی ملنے والا مگر غائبانہ ملا

جس کی مدحت کرے ساکنان جناں رشک سے دیکھے جس کا مکاں لا مکاں        

ایسا  اشرف  نہ  پایا  کوئی  خانداں  اتنا  طاہر  نہ  کوئی  گھرانہ  ملا        

(قصیدہ)

علی  پہ تہمت لگا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

رسول ۖ کا دل دکھا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

نبیۖ نے جس کو وصی بنایا بڑھایا حق نے وقار اس کا          

تم اس کی عظمت گھٹا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا          

علی بنے خم میں سب کے مولا کسی کا اس میں ہے کیا اجارہ 

بلا سبب تاؤ کھا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

ہوئی جو حیدر  کی تاج پوشی تو اس میں صدمے کی بات کیا ہے             

فضول آنسو بہا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا              

علی ہیں اعلی علی ہیں اولی علی ہیں دونوں جہاں کے مولا

یہ سن کے کیوں طلملا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

تمہاری طینت میں ہے خرابی نہ تم حسینی نہ بوترابی           

ہمیشہ تم بے وفا رہے ہو  کوئی سنے گا تو کیا کہے گا            

تمہارے رہبر جو کہہ گئے ہیں اسی کو دوہرارہے ہو تم بھی

سنی سنائی سنارہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا

دیا زمانے کو جس نے پردہ رسول کہتے تھے جس کو زہرا            

تم اس کے گھر کو جلا رہے ہو کوئی سنے گا تو کیا کہے گا            

یہ کیسی آخر بہادری ہے گئے ہو میداں میں جس سے لڑنے

اسی  کو  پیچھا  دکھا  رہے  ہو  کوئی سنے  گا تو کیا کہے گا

٭٭٭٭٭

 

شاعر :  جناب آغا سروش حیدرآبادی صاحب

در زہرا  کی جانب کہہ کے یہ بڑھنے لگا تارا           چلو اب آسمانوں سے ذرا اوپر نکلتے ہیں

٭٭٭٭٭

کیوں وقت گنواؤں طلب جاہ میں مولا                   سب کچھ ہے میسر تر ی درگاہ میں مولا

شاعر ہے ترا صرف تری داد کا طالب                     ہے  نشہ کوثر تری ایک واہ میں مولا

٭٭٭

اے ساقی سلمان میں کچھ سوچ رہاہوں              دے  ساغر عرفان  میں کچھ سوچ رہا ہوں

ہے ذہن پہ احساس ارے نہج بلاغت                     کھولے ہوئے قرآن میں کچھ سوچ رہا ہوں

٭٭٭

اپنی جبیں پہ مل کے در فاطمہ  کی گرد                             تارا چلا ہے جھاڑ کے ارض وسما کی گرد

یوں عرش پر گئے وہ پیمبرۖ سے پیش تر                             رف رف کو بھی ملی نہ رہ مرتضی  کی گرد

پہنچی جوآسمان پہ تو کہکشاں بنی                                   جھاڑی جو بوتراب نے اپنی قبا کی گرد

لگتاہے عرش پر ترا دربار یا علی                                      یہ تخت و تاج تو ہیں ترے کفش پا کی گرد

پائی نہیں فضائل حیدر  کی گرد بھی                                  اس دوڑ میں بہت اڑی فہم و ذکا کی گرد

ہوں منزلیں نہ کیوں مرے قدموں میں یا علی                       ہے خضرراہ مجھ کو ترے کفش پا کی گرد

منھ کو کفن سے ڈھانپ کے جاتے ہیں اس لیے                    راہ عدم میں ہوتی ہے ہر دم بلا کی گرد

ہاتھوں سے اپنے صاف کیا بوتراب نے                            تربت میں میرے رخ پہ جو دیکھی فنا کی گرد

محشر میں خود رسول ۖ  بڑھے پیشوائی کو                          دیکھی جو میرے سر پہ رہ کربلا کی گرد

افشاں سمجھ کے مانگ میں حوروں نے ڈال لی                  باغ جناں میں پہنچی جو فرش عزا کی گرد

ہر دم رہے صفائی ذہن و دل و نظر                                       ان آئینوں پہ جمنے نہ پائے انا کی گرد

کیوں تابناک ہو نہ مقدر ترا سروش                                       ماتھے پہ ضوفشاں ہے در فاطمہ کی گرد

 

شاعر :  جناب رضا سرسوی صاحب

فقیروں کا ہے کیا چاہے جہاں بستی بسا بیٹھے               علی  والے جہاں بیٹھے وہیں جنت بنا بیٹھے

فراز دار ہو مقتل ہو زنداں ہو کہ صحرا ہو                             جہاں ذکر علی  چھیڑا وہیں دیوانے آبیٹھے

کوئی موسم کوئی بھی وقت کوئی بھی علاقہ ہو                جلی عشق علی  شمع اور پروانے آبیٹھے

علی  والوں کا مرنا بھی کوئی مرنے میں مرنا ہے     چلے اپنے مکاں سے اور علی  کے در پہ جا بیٹھے

ادھر ہم نے کیا رخصت ادھر آئے علی  لینے                یہاں سب رورہے ہیں ہم وہاں محفل سجا بیٹھے

ابھی میں قبر میں لیٹا ہی تھا اک نور سا پھیلا                    مری بالیں پہ آگر خود علی مرتضی بیٹھے

ادب کے ساتھ میں نے سر رکھا مولا کے پیروں پر           کہا مجھ سے سناؤ بوذر و سلماں بھی آ بیٹھے

علی  کے نام کی محفل سجی شہر خموشاں میں تھے جتنے بافاوہ سب کے سب محفل میں آبیٹھے

صدارت کے لیے تشریف لے آئے ابو طالب                 چچا  کے  پاس  آکر خود  محمد مصطفی ۖ بیٹھے

علم عباس  کا آیا زیارت کو ملک اٹھے                      علم کے سائے میں جتنے تھے ماتم دار آ بیٹھے

عزاداروں کے مرنے کا ہے بس اتنا سا افسانہ      کہ جیسے کوئی مسجد سے عزا خانے میں جا بیٹھے

یہ کون آیا کہ استقبال کو سب انبیاء  اٹھے             نہ بیٹھے گا کوئی تب تک نہ جب تک فاطمہ  بیٹھے

نظامت کے لیے مولا نے خود میثم کو بلاوایا              وہ لہجہ تھا کہ سب دانتوں تلے انگلی دبا بیٹھے

عزادارو ں کے نعروں نے رضا ایسا سماں باندھا

کہ  خود  مولا  بھی  اپنے  نام کا نعرہ لگا بیٹھے

٭٭٭٭٭

پیام رأفت شماره 3 حصه نظم (جشن عشق و وفا، ظہور نور،  کرم و سخا)

  جشن عشق و وفا

شاعر :  جناب نیر عباس رضوی صاحب

جن کا غم حسین سے ہی واسطہ نہیں                             محشر میں ہوگا ان کا کوئی پیشوا نہیں

دیںگے صدا فرشتے کہ اے دشمن حسین                        دوزخ کی رہ گذر کے سوا راستہ نہیں

روزہ نماز حج و زیارت ذکاة سے                                          بن حب اہل بیت  کوئی فائدہ نہیں

 باغ فدک کو چھین نے والے توہی بتا

وارث رسول ۖ پاک کی کیا فاطمہ   نہیں

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

دل کی نگری پہ ولایت کا علم رکھتے ہیں                  ہاتھ میں شاہ کی مدحت کا قلم رکھتے ہیں

مشکلیں رستے سے گھبراکے پلٹ جاتی ہیں             یا علی  کہہ کے جونہی ایک قدم رکھتے ہیں

٭٭٭

کیا جو کچھ غور میں نے نقوی قضاوتیں ساری کہہ رہی تھیں

 نبی ۖ  کا  د لبر ، علی   کا یاور مقام کتنا متین ہو گا

ہر ایک حسن و جمال مجھ کو دکھائی دیتا تھا رشک کرتا  

حسن  کا بھائی ، حسین  نامی امام کتنا حسین ہوگا

٭٭٭

دوش سرور ۖ پہ تلاوت کی جو عادت کی ہے              پاک شبیر  نے رفعت پہ عبادت کی ہے

روکے کہتے تھے ملائک سبھی سبحان اللہ               نوک  نیزہ  کی بلندی پہ تلاوت کی ہے

٭٭٭

خواب و خیال و ذکر میں جنت کی دھوم ہے                        رکھتے ہو جب کہ شیخ عداوت حسین  کی

جنت کی فکر دل میں پنپتی ہے کس طرح                             سرور ۖ بتاگئے ہیں ہے جنت حسین  کی

 

قربان کرکے پیاس کویوں فتحیاب ہے                             اب تا بہ ابد سینۂ دریا کباب ہے

تاشام روز حشر وفائوں کے سامنے                            شرمندگی سے پانی کا ہر قطرہ آب ہے

٭٭٭

دریائے عطش ایسے بہائے لب دریا                          اٹھتی ہیں ہر موج کے دل سے یہ صدائیں

اے شاہ وفا تو نے مسخر کیا ہم کو                                اب راج کریں حشر تلک پاک وفائیں

٭٭٭

دنیا کے زیب و زین سے آزاد کہتے ہیں                             تبلیغ حق کی دلنشیں فریاد کہتے ہیں

زندان کو رلادے جو صبر جمیل سے                                   نقوی اسی کو حضرت سجاد  کہتے ہیں

٭٭٭

مزاج صبر زین العابدیں  کی وہ ہوئی ہیبت                    گلے کا طوق نوحہ خوان بن کر بین کرتا ہے

صدائے ماتم مظلوم زنجیروں سے آتی ہے                    یزیدیت کو یہ منظر بہت بے چین کرتا ہے

٭٭٭

شاعر  :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

جن کے دلوں میں تازہ ہے عشق علی کی آگ                    ان کو جلانہ پائے گی کوئی کہیں کی آگ

یہ عاشق حسین ہے کیا وقت کا خلیل                        جس کے حضور برد وسلامت میں ڈھلی آگ

عشق حسین ہے کہ جو فطرت کو بدل دے                       ورنہ  کہیں  سنا ہے کہ گلزار بنی آگ

شعلوں سے گذر جاتے ہیں ہم عشق علی میں                   ہم  کونہیں پروا کہ ہے یہ پھول کلی آگ

سبط   تیرا  کلام  منافق  کے  واسطے

ہر حرف ہے کانٹا تو ہر اک لفظ چھری آگ

٭٭٭٭٭

 

شاعر :  جناب رضا سرسوی صاحب

ہم تو دو کوڑی میں بھی بک جانے کے قابل نہ تھے          الفت  شبیر  نے  انمول  ہیرہ کردیا

ہم غریبوں کے عزا خانے میں آئیں فاطمہ               اس عزا داری نے ہم کو کتنا اونچا کردیا

٭٭٭

متحد رکھے ہے کل قوم کو تسبیح عزا                             ڈور ٹوٹے گی تو دانے بھی بکھر جائیں گے

مچھلیاں زندہ کہاں رہتی ہیں پانی کے بغیر                    ہم غم شہ سے جدا ہوں گے تو مر جائیں گے

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب فیاض رائبریلوی صاحب

مسیحائی نثار اس شخص پرسو بار ہوجائے                        جو عشق عابد بیمار  میں بیمار ہوجائے

یہ ممکن ہی نہیں وہ خلد کا حق دار ہوجائے                     کسی سے بنت پیغمبر  اگر بے زار ہوجائے

دیا ہے فکر کو عشق علی  کا واسطہ میں نے                            تعجب کیا اگر نوک قلم تلوار ہوجائے

وہاں سے طائر مدح علی  پرواز بھر تے ہیں                        خیال و فکر کا پنچھی جہاں لاچار ہوجائے

وہ جنگ کربلا ہو یا کہ صلح حضرت شبر                          ہے مقصد آدمی کو آدمی سے پیار ہوجائے

بہت جلد آرہا ہے اک جری تیغ علی  لے کر                      جسے بچنا ہو وہ سرور  کا ماتم دار ہوجائے

کہیں اک ساتھ گر عباس  اور اکبر  نکل جائیں                     تو بازار مدینہ مصر کا بازار ہوجائے

اسے عباس  کہتے ہیں جو دریائے شجاعت میں               فقط دوہاتھ میں اس پار سے اس پار ہوجائے

علی  کے نقش پا پر مل لے دیوانے جبیں اپنی                 عجب کیا ہے کہ تو بہلول سا ہشیار ہوجائے

در مولائے  بوذرہی فقط دنیا میں وہ در ہے

جہاں مجبور بھی آجائے تو مختار ہوجائے

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب نیر جلالپوری صاحب

جو مشیتوں کا ہے رازداں وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

جسے سجدہ کرتا ہے آسماں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

جو خدا کے دیں کا ثبات ہے جو نبوتوں کی حیات ہے             

جو شہید ہوکے ہے جاوداں وہ حسین ہے وہ حسین  ہے            

وہ اذان میں وہ نماز میں وہی کائنات کے راز میں

وہ ثبوت خالق کن فکاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

وہ جو بی بی بنت رسول ہے جو عظیم ہے جو بتول ہے            

وہی شاہزادی ہے جس کی ماں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے            

کبھی مقتلوں کی زمین پر تو کبھی شفق کی جبین پر

جو لہو نے لکھی ہے داستاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

وہ خدائے کن کی کتاب ہے وہ سوال ہے وہ جواب ہے            

جو خموشیوں کی بھی ہے زباں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے            

جوچراغ بن کے جلا کیا وہ جو آندھیوں سے لزا کیا

جو اندھیری شب میں ہے ضو فشاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

کوئی پوچھے سجدے کے طول پر کہ ہے کون پشت رسول پر           

وہی جان سجدہ ہے بے گماں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے           

جہاں جھک کے ملتی ہیں رفعتیں جہاں رزق پاتی ہیں غربتیں

جو فرات ہے پئے تشنگاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

وہ کریم ابن کریم ہے وہ ہر اک بشر سے عظیم ہے           

وہ ہے مونس دل بیکساں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے           

بڑی عاجزی سی ہے ذکر وہ نہ آئے گا حد فکر میں

وہ ہے اک فضیلت بیکراں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے

مرے نطق و حرف کی آبرو مری خامشی مری گفتگو          

وہ امام نیر  خستہ جاں  وہ حسین ہے وہ حسین  ہے          

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام

تیرا سجدہ تری مسجد ترا کعبہ سجاد                              ہر عبادت میں ہے روشن ترا چہرا سجاد

اک طرف عظمت توریت و زبور و انجیل                                  اک طرف تیری دعاؤں کا صحیفہ سجاد

سو صحیفے ترے خطبے کے تقدس پہ نثار                     تونے کوفے میں بھی بدلا نہیں لہجہ سجاد

سب کے سب ہیں ترے کنبے کی جلالت پر گواہ                  سنگ اسود ہو صفا ہو کہ ہو مروہ سجاد

سر کے بل چلتا ہے کعبہ ترے پیچھے پیچھے                           تیرا ہر نقش قدم ایک مصلی سجاد

کہکشاں ہے کہ ترے پاؤں سے لپٹی ہوئی دھول                     چاند ہے یا ترے ناخن کا تراشاسجاد

سحرو شام ترے گیسو و رخسار کا عکس                             اور سورج ہے ترا نقش کف پا سجاد

جس کو مل جائے ترے ہاتھوں کا دھون مولا                          کیا کرے گا وہ زمانے کا خزانہ سجاد

پائی اسلام نے آکر ترے دامن میں پناہ                            تونے قرآں پہ کیا دھوپ میں سایہ سجاد

پھر تصور میں مرے آگئے تیرے آنسو                              پھر سمندر مجھے لگنے لگا قطرہ سجاد

بار وہ تونے اٹھا یا جو کسی سے نہ اٹھا                              ہے رسولوں سے بڑا تیرا کلیجہ سجاد

صبر شبیر سے آگے ترے دل کی ہمت                               عصر عاشور سے آگے ترا رستہ سجاد

وہاں ایوب بھی ہوتے تو جگر پھٹ جاتا                                  جہاں آیا نہ ترے رخ پہ پسینہ سجاد

میرے احساس کی دولت بھی ترے درد کی بھیک                     یہ میرا خطۂ جاں تیرا علاقہ سجاد

تیری زنجیر کی نسبت سے قوی ہیں مرے ہاتھ               طوق منت سے ہے گردن میں اجالا سجاد

میں فرزدق نہیں نیر ہوں مگر تیرا ہوں

بس اسی ناز پہ لکھتاہوں قصیدہ سجاد

 

(در مدح حضرت عباس )

آسماں والوں سے پوچھو مرتبہ عباس  کا                    نام لیتے ہیں ادب سے انبیا عباس  کا

کوئی پتا ہل نہیں سکتا اجازت کے بغیر                   ساری دنیا ہے خدا کی اور خدا عباس  کا

ہو بہوعباس  تھے شیر خدا کا آئینہ                           بن سکا لیکن نہ کوئی آئینہ عباس  کا

یا شب ہجرت نیند دیکھی وقت نے                             یا شب عاشور دیکھا جاگنا عباس  کا

مائیں اپنے نونہالوں کو بنادیتی ہیں شیر                  ان کو لوری میں سنا کر واقعہ  عباس  کا

حرملہ بے شیر سے نظریں ملا سکتا نہیں              آنکھیں اصغر  کی تھیں لیکن رعب تھا عباس  کا

شام کے بزدل سپاہی بچ کے جائیںگے کہاں                میمنہ عباس  کا ہے میسرہ عباس  کا

ہوکہاں جبریل آؤ اک قصیدہ پھر پڑھو                                 دیکھ لو دریا پہ انداز وغا  عباس  کا

شیر سے آگے ہے شیر انہ نگاہوں کا جلال           کس میں ہمت ہے جو روکے راستہ  عباس  کا

وہ تو کہیٔے سامنے زینب  کی مرضی آگئی                       ورنہ سہہ پاتی نہ غصہ علقمہ عباس  کا

واراور تلوار دل اور عزم آنکھیں اور جلال                         ڈھنگ سب اکبر نے پایا ہے چچا عباس  کا

بے وفا پڑھ ہی نہیں سکتا کتاب کربلا                              ہر ورق پر آج بھی ہے حاشیہ  عباس  کا

بہتے پانی پر کوئی بھی نقش رک سکتا نہیں               ہے مگر موجوں پہ اب تک نقش پا  عباس  کا

پوری ہوجائے گی ہاتھ اٹھنے سے پہلے ہرمراد                    مانگ لو دے کر خدا کو واسطہ  عباس  کا

ڈوبتا سورج ابھرتے چاند پر لکھ کر گیا                                   حشر تک ہوتا رہے گا تذکرہ  عباس  کا

سر کہیں سینہ کہیں بازو کہیں گردن کہیں                        گھاٹ پر بکھرا ہے لاشہ جابجا  عباس  کا

اپنے بیٹوں کو نہ روئیں عمر بھر ام البنیں                         کرسکی ماتم نہ اب تک مامتا  عباس  کا

ہائے پردے کا محافظ عمر بھر یاد آئے گا                  کیسے غم بھولے گی زینب  کی ردا  عباس  کا

حشر کا میدان بھی کرب و بلا ہوجائے گا                جب بھی دکھیا ماں پڑھے گی مرثیہ  عباس  کا

سراٹھا کر دیکھتا ہے آسماں نیر کی شان 

 کتنی اونچائی پہ ہے ذوق ثنا عباس  کا

 

جشن ظہور نور

شاعر  :جناب محسن نقوی صاحب

میں ہوا سجدہ ہوا مسجد ہوئی کعبہ ہوا                             ہر کوئی ہے آپ کے دیدار کو ترسا ہوا

دیکھتا رہتاہوں ہاتھوں کی لکیریں رات دن                              آپ  کا  دیدار  ہو شاید کہیں لکھا ہوا

مصطفی ۖتامہدی دین دستخط سب نے کیے                     سارے گھر کے فیصلے سے فیصلہ حر کا ہوا

وہ مجسم منتظر اور میں ادھورا انتظا ر                           العجل کہتے ہوئے میں یوں بھی شرمندہ ہوا

تو نہ گر آیا تو میں خود موت تک آجاؤں گا

میں نے بھی ملنے کا ہے اک راستہ دیکھا ہوا

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

دل سے دل اور تیری آنکھوں سے ملی ہیں آنکھیں        تو جہاں بھی ہے تجھے دیکھ رہی ہیں آنکھیں 

نام لیتے ہی کھڑا ہوگیا تعظیم کو میں                            تیرے  آگے  پئے تسلیم جھکی ہیں آنکھیں 

نور وہ جس نے کہ موسی کو کیا تھا بے ہوش            وہ میرے سامنے ہے پھر بھی کھلی ہیں آنکھیں 

تاکہ ہوجاؤں میں زیارت سے مشرف تیری                  اس لیے میں نے عریضہ میں رکھی ہیں آنکھیں 

محو گریہ تھیں جو کربل کی کہانی سنکر                        وہ  فقط  تیری  ولادت پہ  ہنسی ہیں آنکھیں 

منتظر کب سے ہے سبط  تیرا اے راحت جاں

اب  تو  آجا کہ  سر راہ  بچھی ہیں آنکھیں

٭٭٭

ہمارا آج بھی ایسا امام  قائم ہے                          کہ جس کی وجہ سے سارا نظام قائم ہے

بتوں کی طرح نکالے گا تم کو کعبہ سے                      نبی ۖ  کا  آخری  قائم  مقام قائم ہے

نبی ۖکی آل پہ ظلم و ستم کیے تو مگر                             رہے  خیال  کہ  ذوانتقام قائم ہے

زمیں کا ذکر ہی کیا عرش پہ بھی ہے محفل                      یہ  ایک  سلسلۂ  نا  تمام  قائم  ہے

دکھادیں  جلوہء  پرنور و  مہر سبط   کو

کہ اس کے دل میں یہی اک مرام قائم ہے

٭٭٭٭٭

شاعر  :جناب نیر جلالپوری صاحب

یہ میری شب زندہ دار آنکھیں کریں گی تارے شمار کب تک     

  بتاؤ  مولا  کہ ختم  ہوگی  یہ  مدت  انتظار  کب تک

زمیں کو اپنے قدم سے روشن کروگے اے شہسوار کب تک         

ہٹے گی نظروں سے دھول کب تک چھٹے گا دل کا غبار کب تک         

ہماری آنکھوں کو کب ملے گا تمہارے انوار کا جزیرہ

تھکے ہوئے بازؤوں سے ہوگا سمندر ہجر پار کب تک

تمہارے جلووں کی جستجو میں ہر ایک خوشبو کے پیچھے پیچھے         

پھراکروںگا میںلے کے کاندھوں پہ زندگی کا مزار کب تک         

جو تم کہو تو میں جاکے چپکے سے چشم نرگس میں بیٹھ جاؤں

تمہارے دیدار کی تڑپ میں پھراکروں یوںہی خوار کب تک

زمانہ کانٹوں کی زد پہ رکھ رکھ کے کھینچتا ہے وجود میرا          

شکستہ ہاتھوں سے میں سمیٹوں یہ چادر تارتار کب تک          

چراغ بن کے ہوا کی زد پہ نہ جانے کب سے کھڑا ہوا ہوں

یہ میری بے اعتبار سانسیںدلائیں گی اعتبار کب تک

تمہارے لہجے کی خوشبوؤں پر ہزار ہا زعفران صدقے

کروگے آخر سماعتوں کی یہ کھیتیاں لالہ زار کب تک

مری زمینوں کو غصب کب تک کریں گے یہ دست آمریت          

خود اپنے گھر میں پکاراجاؤں گا میں غریب الدیار کب تک          

جلاوطن ہوںگے کتنے بوذر زباں کٹائیں گے کتنے میثم

بچھائی جائے گی موت کب تک سجائے جائیںگے دار کب تک

اب اپنے شانوں پہ لے کے عباس  کا علم آبھی جاؤ مولا          

یہ فتوے یوں ہی لگیں گے ذکر حسین پر باربار کب تک          

کبھی تو بدلے کا وقت نیر  کہ آئے گا وقت کا وہ حیدر

کہ ذوالفقار علی  کا قرضہ رہے گا آخر ادھار کب تک

٭٭٭

شکل وصورت میں مصطفیۖ کی طرح                اور شجاعت میں مرتضی  کی طرح

ہو  نہ  جائے  نصیریوں  کو  خبر                           تم تو غائب بھی ہو خدا کی طرح

٭٭٭٭٭

شاعر  : جناب تحریرعلی نقوی صاحب

                        اے امام زمان  آجائیں     منتظر ہے جہان آجائیں

٭٭٭

یوسف کنعاں کا جلوہ مصر کے بازار میں           یوسف زہرا  کے جلوے سے ہے حیراں کائنات

دو دفعہ یوسف بکے تاریخ شاہد ہے مگر           یوسف زہرا  کو لینے سے ہیںعاجز شش جہات

٭٭٭٭٭

 

جشن کرم و سخا

(حشن میلاد مبارک حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام)

شاعر  :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

جشن  ولائے  سبط  رسول  ا  نام ہے                              مل  کر پڑھو درود کہ یہ فیض عام ہے

تبریک و تہنیت میں ملائک ہیں صف بہ صف                            فرش زمیں سے تابہ فلک اژدھام ہے

بیت  علی  و فاطمہ   میں پہلی  عید ہے                        جو  مانگنا  ہو  مانگو  خوشی کا مقام ہے

سیرت میں ہے رسول ۖشجاعت میں ہے علی                  صورت میں کیا حسین حسن اس کا نام ہے

جشن حسن ہے منعقد یوں ہر مقام پر                                 مسرور ہراک پیرو جواں خاص و عام ہے

عشق علی میں رند ہو مے کش کہ بادہ نوش                   دل کھول  کے پیو  یہ  ولایت کا جام ہے

سبط  یہ  دوسرا  ہے  امام  امم  مگر

تسبیح  فاطمہ   کا  یہ  پہلا  امام ہے

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب نیر جلالپوری صاحب

یہ نہ کہنا کہ مجھے وقت نے مجبور کیا                   میرے کردار نے باطل کا بھرم چور کیا

بعد میں صلح ہوئی پہلے مرے دشمن نے                    میری رکھی ہوئی ہر شرط کومنظور کیا

٭٭٭

کہیں پہ صلح کی شرطیں ہیں اور کہیں تعویذ             قلم سے جیتے ہوئے رن کی بات کرتے ہیں

ہے ایک یہ بھی تو عنوان مدح قاسم  کا                       چلو حسن  کے لڑکپن کی بات کرتے ہیں

٭٭٭

 

(قصیدہ در مدح امام حسن مجتبی علیہ السلام)

شجاعتوں نے عجیب انداز سے قصیدہ لکھا حسن  کا

جہاں پہ تھی ذوالفقار حیدر  وہیں قلم رکھ دیا حسن  کا

چمن چمن کی ہے سرخ پھولوں نے سبزشال اوڑھ کر تلاوت         

بہا ر  آئی ہے  ڈالی  ڈالی  پہ جشن ہونے لگا حسن  کا        

اسی کی شادابیوں کو طوبی کی چھاؤں کہنے لگے فرشتے

بہشت کو مل گیا تھا اک پیرہن اتارا ہوا حسن  کا

نشان قدموں پہ پتھروں پر ابھار دیتا تھا جو محمدۖ          

 اسی محمدۖ کے دوش اطہر کا چاند ہے نقش پا حسن  کا          

ورق ورق پڑھ رہا ہے قرآں اسی کے کردار کا قصیدہ

حکومتوں کے مٹائے سے مٹ سکے گا کیا تذکرہ حسن  کا

ہے کتنا روشن خدا کا چہرہ یہ صاحبان یقیں سے پوچھو          

بھلا تذبذب کی آنکھ دیکھے گی کس طرح معجزہ حسن  کا          

کہاں جلال جبین ہاشم کہاں امیہ کے اندھے وارث

یہ شام کی مصلحت کے چہرے کریں گے کیا سامنا حسن  کا

یہاں تو نوک قلم بھی پھولوں کی پنکھڑی کی طرح رواں ہے          

یہ دم کسی تیغ میں کہاں ہے جو روک لے راستہ حسن  کا          

ہے مطمئن چہرہ امامت حکومتیں تھرتھرا رہی ہیں

بجا ہے بروقت برمحل ہے قدم قدم فیصلہ حسن  کا

کہاں گیا ظلمتوں کا حاکم کہاں گئی شا م کی حکومت              

سبھی سویروں کی سرحدوں پر ہے آج تک دبدبہ حسن  کا             

جہاد کی منزلیں بھی آتی ہیں امن کی راہ سے گذر کر

اگر سمجھنا ہے کربلا کو تو صلح نامہ اٹھا حسن  کا

ہزار بدلے جہاں کے موسم ترا پھریرا ہے سبز اب تک            

سلام اے کربلا کے پرچم کہ رنگ تجھ کو ملا حسن  کا            

مدینے والوں سے کوئی کہد ے کہ دیکھ لیں پھر علی کی ہیبت

زمین مقتل اٹھانے والا ہے تیغ پر لاڈلا حسن  کا

جہاں لہو کی عبارتیں ہیں وہی پہ مسموم حرف بھی ہیں           

کتاب مقتل ہے یہ ہے متن حسین  پر حاشیہ حسن  کا          

جو شخص اب تک سمجھ نہ پایا نبیۖ کی صلح حدیبیہ کو

اسے قیامت تلک سمجھ میں نہ آئے گا فلسفہ حسن  کا

کلیجہ انسانیت کا کب تک چبائے گی سازشوں کی ڈائن           

جناب حمزہ سے ملتا جلتا ہے کس قدر واقعہ حسن  کا           

سوال تھا یہ لحد میں مجھ سے میں کون ہوں میرا دین کیا ہے

جواب میں میں اٹھا اور اٹھ کے قصیدہ پڑھنے لگا حسن  کا

توہی بتا اے خدا ئے برتر کہ اور کیسے میں تجھ سے مانگوں          

میرے لبوں نے دعا کے حرفوں میں رکھ دیا واسطہ حسن  کا         

مجال کس کی جو ایک قطرے میں کل سمندر سمو کے رکھ دے

ثناکے قرضے اتار پائے گا کیا کوئی قافیہ حسن  کا

قلم کو ہچکی سی آرہی ہے حروف نیلے پڑے ہیں نیر

مرے لہو اب جگر کے ٹکڑوں پہ تو ہی لکھ مرثیہ حسن  کا

٭٭٭٭٭

پیام رأفت شماره 3 حصه نظم (جشن رأفت)

(جشن رأفت)

بمناسبت ولادت با سعادت امام رؤف ، ولی نعمت ثامن الحجج حضرت علی بن موسی الرضا علیہ آلاف التحیّة و الثنائ

طرحی مصرعے:

کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

خدایا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف  کی ہر عطا کا سایہ

شاعر :  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

(قطعہ)

جب بھی طوفان غم میں پکارا رضا                      مل گیا مجھ کو فورا ًکنارا رضا

سبط  طوفاں سے بچ کر یہ دل نے کہا                کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

٭٭٭

طرحی کلام

اسی کے دل میں ہے نور ایماں، ہے جس کے سرپر ولا کا سایہ

وہی ہے انسانیت میں کامل ،ہے ساتھ جس کے وفا کا سایہ

وہ ذات  بر حق منزہ جسم، اور جسم اصلی ہے مصطفی  ۖکا         

یہ باقی عالم انہی کا صدقہ، انہیں کے ہے نقش پا کا سایہ         

انہیں کا اصلی ہے جسم لیکن، یہ جسم ہے نور کبریا سے

اسی  لیے تو  نہیں ملا  ہے ، کہیں بھی آل عبا کا سایہ

وہ مصطفیۖ ہوں کہ مرتضی ہوں، حسن  ہوں یا کہ حسین و زہرا          

ہے جسم اطہر سبھی کا واحد، صمد ہے آل خدا کا سایہ           

خدا نے مدحت کی کردی بارش، قسم بہ عزو جلال کھاکر       

ہوا ہے جیسے ہی پنجتن  کے،  سروں پہ یمنی کسا کا سایہ        

فلک سے جبریل آرہے ہیں ،تطہیری آیت کا تحفہ لے کر           

برس رہی ہے خدائی رحمت، ہے ہر طرف انما کا سایہ           

یہ قوم زندہ ہے اور رہے گی ہمیشہ اس کو فنا نہیں ہے

عزائے کرب وبلا ہے ضامن، ہے سیدہ کی دعا کا سایہ        

وہ بچے کیسے ہراس کھائیں،وہ موت سے کیسے منھ چرائیں          

دلوں میں جن کے ہے عزم قاسم  سروں پہ ہے با وفا کا سایہ          

رؤف مولا  کے آستانے پہ بزم رأفت کی یہ دعا ہے        

خدایا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف  کی ہر عطا کا سایہ        

وطن سے سبط ہو دور لیکن کبھی نہ خود کو غریب کہنا           

ہے شہر غربت میں تیرا ضامن انیس و ہمدم رضا  کا سایہ          

٭٭٭

زمیں کو چھوڑ کے کرتا ہوں آسمان کی بات                مرے لبوں پہ ہے اب شاہ خراسان  کی بات

شہر مشہد ہے روایت میں ریاض جنت                      یہ روایت ہے مگر لگتی ہے قرآن کی بات

ذکر معصومہ  کا کیوں نہ کروں مشہد میں                 شہر معصومہ  میں ہے شاہ خراسان  کی بات

ہو ولایت کا اگر ذکر تو کفار صفت                          قول مرسلۖ  کو بھی کہہ دیتے ہیں ہذیان کی بات

مدح مولا میں عقیدے نہیں بکتے اپنے                      ہم نہیں کرتے کبھی ڈالر و تومان کی بات

یہ عقیدہ ہے مرا اور یہی مذہب سبط

مدح مولا ہی حقیقت میں ہے ایمان کی بات

٭٭٭٭٭      

شاعر :  جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

رب کا احسان ہیں امام رضا ،میرا ایمان ہیں امام رضا

زندگی تو انہیں کا صدقہ ہے،قلب کی جان ہیں امام رضا

کیسے مدحت بیان کروں ان کی ،وہ سمندر ہیں میں تو قطرہ ہوں    

ڈوب جاؤں کہیں نہ لہروں میں ،اس تخیل میں آکے ڈرتاہوں    

جن مدحت میں ہے کلام خدا ،ایسا قرآن ہیں امام رضا                

آدمی کیسے سمجھے ان کا مقام ،جن کا صدقہ ہیں دوجہان تمام

ایسی ہستی ہیں دو جہانوں میں ،ہیں ملائک انہیں کے در غلام

ساری دنیا فقیر ہے جن کی ،ایسے انسان ہیں امام رضا                

جو ہمیشہ کھلے ہی رہتے ہیں دوہیں ایک ایک سے صفا کا حرم

ایک مکے میں ہے خدا کا حرم ، ایک مشہد میں ہے رضا کا حرم

جھولیاں بھر کے سب کو دیتے ہیں ، ایسے سلطان ہیں امام رضا                

مولا ضامن ہیں کل غریبوں کے ، کل ایماں علی کے بیٹے ہیں

  جو یہاں پر فقیر آتے ہیں ، ان کی چوکھٹ کو چوم لیتے ہیں

بانٹتے ہیں بصیرتیں مولا ، کتنے ذیشان ہیں امام رضا                 

روضہ ایسا کہ جس سے بٹتی ہو ، ہر مرض کی دوا مریضوں کو

جالیاں چوم کرہی ملتی ہے ، اپنی اپنی مراد لوگوں کو

ان سے اپنی مراد لو اطہر ، تیرے درمان ہیں امام رضا                 

٭٭٭٭٭

 

طرحی کلام

رحمت دو جہاں کا دلارا رضا                               ہے علی اور زہرا کا پیارا رضا

رشک خورشید لگتاہے گنبد ترا                          عرش چھوتا ہے تیرا منارارضا

مجھ سے تیری سخاوت نے یوں کہدیا                 لکھ رہا تھا قصیدہ تمہار ا رضا

کیوں پریشاں ہو دریائے حیرت میں تم              کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

غرق ہونے کو تھا بحر ظلمت میں میں                   مل گیا مجھ کو تیرا کنارا رضا

سجدۂ شکر میں ہے جبین قلم                           تیری رأفت کا پاکر اشارہ رضا

مدحت آفتاب امامت میں ہوں                         اس سماں نے مرا دل سنوارا رضا

مشکلیں میری اطہر سبھی حل ہوئیں

صدق دل سے جو میں نے پکارا رضا

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب الفت حسین جویا صاحب

اک عرش نشیں آج کے دن اترا زمیں پر                                 انوار الہی کی تجلی ہے جبیں پر

عصمت کے گلستان کا گر پھول ہے دسواں                       تو آٹھواں ہے نقش ولایت کے نگیں پر

وہ حسن و ملاحت ہے کہ یوسف  سا حسیں بھی             انگشت بدندان ہے کاظم  کے حسیں پر

مظہر ہے یہ الطاف الہی کا جہاں میں                             ہے اس کا کرم عرش نشیں فرش نشین پر

کچھ شرطیں رکھیں ایسی ولی عہدی کی خاطر                      تنگ ارض خدا ہوگئی مامون لعیں پر

یہ موت کے لمحات سے فردوس بریں تک                           زائر کو اکیلا نہیں چھوڑے گا کہیں پر

الفت ہوا محسوس یہ مشہد میں پہنچ کر

عقبی میں جو دیکھیں گے وہ جنت ہے یہیں پر

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب فیاض رائبریلوی صاحب

رضا کے روضے پہ لایا مجھ کو رضا  کی مدح و ثنا کا سایہ 

بہشت میں بھی دلائے گا گھر ولایت مرتضی  کا سایہ

نہ کیوں اٹھاؤں وفا کا پرچم نہ کیوں کروں بے کسوں کا ماتم                

ہر ایک غم سے بچا رہا ہے ہمیں غم کربلا کا سایہ                   

کسی میں اتنی نہیں ہے ہمت جو آنکھ ایران سے ملائے 

خبر ہے سب کو علی  کے شیروں پہ ہے علی رضا  کا سایہ

علی  سے ہٹ کر نبی کی باتیں جو کر رہے ہیں وہ ناسمجھ ہیں                

بغیر حیدر  نہ مل سکے گا انہیں رسول خدا  ۖکا سایہ                

مصیبتیں توڑدیں گی دم آفتیں بلاؤں میں خود گھریں گی

پڑے گی مشکل میں خود ہی مشکل جہاں ہے مشکل کشا کا سایہ

یہ بات سچ ہے تمام دنیا پہ عرش سایہ فگن ہے لیکن

بلندی عرش ڈھونڈتی ہے زمیں پہ فرش عزا کا سایہ

٭٭٭٭٭

شاعر :  جناب تحریر علی نقوی صاحب

موسی  کے بعد سر پہ ہے جس کے ولا کا تاج                 غرباء و مساکین کی رکھتاہے خوب لاج

حیرت میں ڈوب ڈوب کے دیکھو نہ فرش کو                     اے عرشیو تولد مولا رضا ہے آج

٭٭٭

میں چشم دل جماتا ہوںجو تیری آستانوں پر            نگاہیں جھک کے بوسے دیتی ہیں تیرے نشانوں پر

وہ چوکھٹ ہے تری چوکھٹ کہ رکھتا ہوں میں لب جس پر         تو اپنے آپ کو پھر دیکھتا ہوں آسمانوں پر

٭٭٭

وہ جن کے ساتھ ملائک زمین لگتے ہیں                         انہیں بلندی کا ہم آسمان کہتے ہیں

جہاں جھکائیں جبینوں کو جن و انس تمام                      رضائے فاطمہ  کی آستان کہتے ہیں ٭٭٭

آسمانوں سے اجازت جنہیں مل جاتی ہے                      رأ فت حق کی زیارت کو چلے آتے ہیں

بقعۂ نور ہے مشہد میں حرم مولا  کا                              یہ ملائک بھی عبادت کو چلے آتے ہیں

طرحی کلام

عقیدہ خالص دیا خدا نے ، ملا ہمیں انما کا سایہ

گھٹا ہو رحمت کی کیوں نہ سر پہ عطا ہے آل عبا کا سایہ

رؤف  کی ہر عطا کا سایہ نبی حق مصطفیۖ کا سایہ         

جسے عطا ہے رضا  کا سایہ اسے عطا مرتضی  کا سایہ         

ہے فخرشیعوں کا روز محشر عطا رہے گا خدا کا سایہ

بہ لفظ دیگر جناب زہرا کا یعنی خیر النساء کا سایہ

کریم آل نبی حسن ہیں ہے حسن میں کبریا کا سایہ          

جسے ملا ہے رضا  کا سایہ اسے ملا مجتبی کا سایہ          

یہ ایک سایہ ہے جس کے نیچے تمام اہل ولا ہی ہونگے

یہ پانچ تن کا چہادہ کا یہی شہ کربلا کا سایہ

تہی نہ دامن کبھی ہو میرا عطا رہے ہر سخا کا سایہ          

خدا یا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ          

میں گننا چاہوں عطائیں اس کی تو میری کوشش یہ بے ثمر ہے

خدا یا سر پہ رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ

غریب مولا  کی جن دلوں میں رہی ہے چاہت ہو ان کی نصرت         

قدم قدم پر سکون دل ہو ملے امام رضا کا سایہ          

دیار غربت میں رہنے والو تمہیں نہ غربت اداس کردے 

دعا کرو کہ غریب مولا کی مل سکے بس دعا کا سایہ

طلائی گنبد پہ آگیا جب علم وفائوں کا آتے آتے          

دعا کو اٹھے ہیں ہاتھ دل سے طلب کیا ہے وفا کا سایہ         

یہ شہر مشہد کی دل نشینی ترے ہی یمن وجود سے ہے

غریب آقا نصیب رکھنا علم کی ٹھنڈی ہوا کا سایہ

یہ دے دے باور کہ مال دنیا ہے ڈھلتی چھائوں فنا کی زد میں       

اسی کی برکت سے رکھنا دائم اس اپنی جنت فضا کا سایہ       

نہ دھوپ کوئی ہمیں ستائے گی اپنے لطف و کرم سے یا رب

ابد تلک گر ہمیں عطا رکھ علی  ولی کی ولا کا سایہ

نفاق و بغض و حسد کے ماروں کو تو ہمیشہ ہی مارتا ہے         

ہر ایک نعمت سے خالی دامن ہوں ان کو دے بس فنا کا سایہ         

ہو نفسا نفسی کا جبکہ عالم صدائے شیون ہو آسماں پر

ہمیں طفیل رئوف دے دے خدایا اپنے لوا کا سایہ

گناہ دیکھیں جو لوگ اپنے پسینے چھوٹیں کہ چشمے پھوٹیں        

بحق رأفت غریب کرب و بلا کا دینا عزا کا سایہ        

خدا کے چہرے کو کب فنا ہے بقا ہے وجہ خدا کو بے شک

غلامی چودہ کی جن کو حاصل ہے مل سکے گا بقاکا سایہ

سلام پر چم کا کرکے اٹھتی ہے جب ہوا تیرے اس حرم سے      

فرشتے بھی پھر بنا کے صف مانگتے ہیں تیری ہوا کا سایہ      

شرف یہ تونے ہی بخشا نقوی  رؤف مولا کا مدح خواں ہے

یہ فضل اپنا مدام رکھنا ملے ہمیشہ ثنا کا سایہ

طرحی کلام

کوئی بھی جب بھی دل سے پکارا رضا                              اس کوفورا ہی بخشے کنارا رضا 

لوح دل پہ مرے دست تقدیر نے                                            کرکے تحریر اور پھر نکھارا رضا

کیا کسی کے عقائد سے ہم کو غرض                                ہم نے دل میں اتارا سنوارا رضا 

ایک دے پائوں آکے جو خالص سلام                                    پھر بلالیں گے جلدی دوبارہ رضا 

ہوں رہ زندگی میں جو طوفاں تو کیا                                  کشتی زیست کا ہے سہارا رضا 

کون ہے شاہ رأفت یہ جلوہ فشاں                                       رحمت حق نبی کا ہے پارا رضا 

اس نے دین خدا سے کنا را کیا                                          جس کو ہرگز نہیں ہے گوارا رضا 

جب بھی موج حوادث بڑھے اس طرف

نقوی کی ہو اماں تم خدارا رضا 

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب محمدحسین بہشتی صاحب

ترے فقیر بھی شاہی مزاج رکھتے ہیں                          ہیں خرقہ پوش مگر سر پہ تاج رکھتے ہیں

ہے ان کے پیر کی مٹی بھی کیمیا اے دوست               یہ بڑھ کے لعل و گہر سے زجاج رکھتے ہیں

بہشتی ان کی بزرگی کا کیا بیاں کیجیے                     زمیں پہ چاند ستاروں پہ راج رکھتے ہیں

٭٭٭

 

ترے فقیر بھی شاہی مزاج ہوتے ہیں                       شراب ناب سے دامن کو اپنے دھوتے ہیں

ترے ہی عشق میں سرمست ہیں وہ شام و سحر             تجھی کو یاد کیا کرتے اور روتے ہیں

کہاں پہ جائیں ترے آستاں کو چھوڑ کے ہم                ہمیشہ خار تو پھولوں کے پاس ہوتے ہیں

بہشتی جاکے امام رؤف کے در پر 

فسانہ اپنا سناتے ہیں اور روتے ہیں

٭٭٭

اس بحر بے کراں کا کنارا رضا  ہی ہے                          دل کے ہمارے درد کا چارہ رضا  ہی ہے

حضرت کے نور ہی سے ہے روشن یہ کائنات                 افلاک پہ چمکتا ستارہ رضا  ہی ہے

عالم میں جھولیوں کو ہماری بھر ے گا کون                    ہم کو تو دینے والا ہمارا رضا  ہی ہے

ظلمت کی فکر اپنے خیالوں سے دے نکال                    بخشے گا تجھ کو نور نظارہ رضا  ہی ہے

جو مجھ کو لے کے آیا حقیقت کی راہ پر                         یہ مصطفی کا راج دلارا رضا  ہی ہے

یہ عرش یہ زمین ، مکان اور لامکاں                                 ان سب کا تاج دار ہمارا رضا ہی ہے

سلطان بحر و بر کی ہے آمد اے دوستو                            کیا فکر ہے نجات کا چارہ رضا  ہی ہے

مشکل میں جب گھر ے تو نگاہوں میں تھے یہی              اہل کرم ہے دل کا سہارا رضا  ہی ہے

شمش الشموس اور انیس النفوس ہے                      ہم سب کی کشتیوں کا کنارا رضا  ہی ہے

میرا جہاں میں کون ہے بس آپ کے سوا                مشکل میں میں نے جس کو پکارا رضا  ہی ہے

گھبرانہ اے بہشتی نہ دامن رضا کا چھوڑ 

نادان تیرے درد کا چارا رضا  ہی ہے

٭٭٭٭٭

 

شاعر  :  جناب ناطق علی پوری صاحب

ہم اپنے دل کا راز بتاتے ہیں آج بھی                          مولا تمہارا جشن مناتے ہیں آج بھی

باطل کو ہو شکست کا احساس ہر گھڑی                 ہم اس لیے علم کو اٹھاتے ہیں آج بھی

فرش عزا بچھاکے گھروں میں حسین کا                  جنت سے فاطمہ  کو بلاتے ہیں آج بھی

٭٭٭

اعلان کررہی ہے یہ ایران کی زمیں                            یورپ کی سرزمین ہے شیطان کی زمیں

حملہ کرے گا جو بھی وہ ہوجائے گا تباہ                         جنت کی آبرو ہے خراسان کی زمیں

ہم کرتے نہیں تخت کی سلطان کی باتیں                      ہیں زیب دہن قنبر و سلمان کی باتیں

کیوں کر نہ کریں قم کی خراسان کی باتیں                   عرفان کی باتیں ہیں یہ ایمان کی باتیں

سر خم ہے مرا شاہ خراسان  کے در پر                           مت کیجیے ا ب تخت سلیمان کی باتیں

الماس ہیں اقوال رضا  کے مرے آگے                                   اب کون کرے لولوو مرجان کی باتیں

جو بھی ہیں بھکاری در معصومہ ٔ  قم  کے                       کرتے ہی نہیں وہ کبھی نقصان کی باتیں

بہرے  ہیں سبھی دشمن اولاد پیمبر                                سنتے ہی نہیں فخر سلیمان کی باتیں

عرفان کہاں آل پیمبر  کا کسی کو                                    دنیا ابھی سمجھی نہیں قرآن کی باتیں

دیکھو کبھی تاریخ کے اوراق الٹ کر                                  کب کفر سمجھ پایا ہے ایمان کی باتیں

یہ شاہ خراسان  کی ہے پشت پناہی                               مغرب کو ہلا دیتی ہیں ایران کی باتیں

طرحی کلام

عطا ہو فکر رسا کو یا رب رضا  کی مدح ثنا کا سایہ 

میں واسطہ دے رہاہوں اس کا نہیں تھا جس مصطفی  ۖکا سایہ

زمین ایران پر جو پایا مری نظر نے رضا کا سایہ          

کہیں پہ دیکھا نجف کا سایہ کہیں ملا کربلا کا سایہ          

کلام رب کے ہر ایک قاری سے کہہ رہی ہے زمین مشہد

یہاں بھی ہے انما کا سایہ یہاں بھی ہے ھل اتی کا سایہ

مری نگا ہوںکے سامنے  ہیں حیات افزا حسیں مناظر        

جبین فطرت کی سادگی پر اتر رہا ہے رضا  کا سایہ         

رضائے حق کا یہ میکدہ ہے شراب کوثر عطا ہو یا رب

ہمارے دل میں رہے ہمیشہ خمار روز جزا کا سایہ

شعور مدحت بفیض مولافصیل ہستی پہ ضوفشاں ہے         

جدھر ٹھہرتی ہیں یہ نگاہیں ادھر ہے صدق و صفا کا سایہ         

تری مودت کے آئینے میں بقا کے چہرے چمک رہے ہیں

ہے تیری سیرت کا گوشہ گوشہ طہارت فاطمہ  کا سایہ

ہوا ہے مولا کے در پہ حاضر غلام بن کرپھر آج ناطق

خدایا سرپہ رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ

شاعر  :  جناب ریحان بنارسی صاحب

طرحی کلام

سفر میں ہر گام پر معاون رہا امام رضا  کا سایہ

یہی سبب ہے کہ دور ہی تھا ہر ایک رنج و بلا کا سایہ

کھلا ہے مے خانہ مودت چلو پیو تشنگان مدحت        

کہ آج ہر ساغر و صبو پر پڑاہے ان کی عطا کا سایہ        

کہیں پہ   مینا  کہیں پہ ساغر  کہیں پہ خم ہے کہیں صراحی

اور اس پہ ڈالے ہؤے ہے ساقی خود اپنی نوری ردا کا سایہ

 

شاعر  :  جناب فیروز رضا نقوی صاحب

طرحی کلام

جس نے تھاما نہ دامن تمہارا رضا                               اس کا گردش میں ہوگا ستارا رضا

رزق رب نے دیا گو یہ سچ ہے مگر                                   کھا رہا ہے جہاں تیرا صدقہ رضا

مشکلیں گھر گئیںمشکلوں میں سبھی                     میں نے جیسے ہی تم کو پکارا رضا

چاندو سورج میںپنہاں ہے تیری ضیاء                           تجھ سے دنیا میں پھیلا اجالا رضا

اس کے قدموں پہ شاہ جہاں جھک گئے                         جس نے سر کو رکھا تیرے در پہ رضا 

غیر کے در پہ جاؤں بھلا کس لیے                                   میری مدحت کا کعبہ ہے مولا رضا 

ٹھوکروں میں رہا تاج شاہی مگر                                           خاک پہ زندگی کو گذارا رضا 

مصطفی  ۖمل گئے ہیں خدا مل گیا                                 مل گیا جس کو قسمت سے مولا رضا 

فیصلہ ہوگا جادو ہے یا معجزہ                                          شیر قالین کو کر اشارہ رضا 

روشنی دین حق کی ملے گی وہاں                                      ذکر ہوگا جہاں پر تمہارا رضا 

مشکلیں جب پڑیں آیا در پہ ترے                                    ہونہ پایا کسی کا گذارا رضا

فخر ابن خلیل خدا آپ ہیں                                         حکم پہ تیرے پانی ہو صحرا رضا

حادثے خود بخود سب فنا ہوگئے                                       نام بازو پہ باندھا جو تیرا رضا

یہ زمیں آسماں چاند وسورج جبل                                  آپ ہی کا ہے صدقہ یہ مولا رضا 

مرقد غیر کا اب تصور نہیں                                         خانہ دل میں تیرا ہے روضہ رضا 

مجھ کو محشر کا کچھ بھی نہیں خوف ہے                                   کشتی زیست کا ہے سہارا رضا 

شاہ دنیا سے فیروز اعلی ہے وہ 

مل گیا جس کو بھی تیرا صدقہ رضا 

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب نصیر اعظمی صاحب

مولا تیری دعوت ہی وہ دعوت ہے کہ جس میں            ہم کھنچ کے خود آتے ہیں بلایا نہیں جاتا

سب جیسے ترے در کی طرف دوڑ رہے ہیں              اس طرح تو جنت میں بھی جایا نہیں جاتا

طرحی کلام

ہماری فکر رسا پہ ہے اس طرح کتاب خدا کا سایہ

لبوں پہ ہے آیہ ولایت سروں پہ ہے انما کا سایہ

توبغض عترت کی دھوپ میں ہے نہ ہو گا اللہ تجھ سے راضی        

رضا  کی محفل میں آ ملے گاتجھے خدا کی رضا  کا سایہ         

منائیں وہ لو گ خیر اپنی جو حشر میں بے اماں رہیں گے

حسینیوں پر بروز محشر رہے گا فرش عزا کا سایہ

یہ پاک مشہد کا ہے علاقہ وہ سر زمین مقدس قم         

ادھر بھی حق کی عنایتیں ہیںادھر بھی رب کی عطا کا سایہ         

یہاں سے قم تک جدھر بھی دیکھو خدا کی رحمت برس رہی ہے

ادھر سروں پر علی  کا سایہ تو اس طرف فاطمہ  کا سایہ

یہ کہدو امریکیوں سے جاکر نظر اٹھائیں ذرا سنبھل کر        

پڑے گا ایران پر نہ ہر گز تمہاری جور و جفا کا سایہ        

کرم محبت وفا عنایت شفا ہدایت نجات جنت

خدایا سرپر رہے ہمیشہ رؤف کی ہر عطا کا سایہ

زمانہ مل کر مٹانا چاہے تو مٹ نہیں سکتی قوم شیعہ

نصیر اس قوم پر ہے بنت رسول حق کی دعا کا سایہ

٭٭٭٭٭

 

شاعر  :  جناب محمد معراج خان صاحب

فاطمہ معصومہ قم مرجع عالیمقام                           ہے سوالی در پہ ان کے خاص ہو یا کہ عام

ہر گھڑی مجمع لگاہے صبح ہو یا کہ شام                       ان کی زیارت کے لئے آئے زمانہ کا امام

دختر معصوم ہیں اور خواہر معصوم بھی

کرلے سجدہ در پہ ان کے یہ مرا منظوم بھی 

لطف زہرا کے حوالے سے بنی محکم دلیل                         ہے کریمہ سب کی خاطر چہ مجرد چہ معیل

 آسرا بے آسروں کا بے کفیلوں کی کفیل                     ان کی چوکھٹ ان کی جالی ان کا گنبد بے مثیل

گنبد زریں پر چشم بشر رکتی نہیں

کون سی گردن ہے جو تعظیم کو جھکتی نہیں

ہوگئی جس پر نظر وہ خادم در ہوگیا                                کرلیا جس نے جبیں سائی وہ اختر ہوگیا

بالاخص ان پہ یہ لطف رب اکبر ہوگیا                              کردیا جس جا عبادت نور کا گھر ہوگیا

ان قدم پاک سے جو بھی زمیں مس ہوگئی

بے تقدس تھی وہ پہلے اب مقدس ہوگئی

اک طرف صحن عتیق و صحن نجمہ دیکھ کر                             کیف میں دل آگیا جنت کا نقشہ دیکھ کر

رشک کرتے ہیں ملک رحمت کا پردہ دیکھ کر                     چھپ گیا مہر منور ان کا روضہ دیکھ کر

وجد میں خورشید ہے تابانیت کو دیکھ کر

خیراں ہے چشم بشر نورانیت کو دیکھ کر

اس طرح ان کے حرم میں ہے شبستان امام                    عرش کی آغوش میں ہو جس طرح ماہ تمام

نام کی دنیا میں بھی تھا سب سے عالی جس کا نام              فعل احسن کے مساوی جس کا تھا ہر اک کام

جس کا تنہا ساری دنیا میں دل و معراج تھا

در حقیقت ذہن انسانی کی جو معراج تھا

 

شاعر  :  جناب سبط محمد رضوی صاحب

طرحی کلام

مؤمنوں نے ہے جب بھی پکارا رضا                             مشکلوں میں بنے ہیں سہارا رضا 

تیرے دادا علی  دادی ہیں فاطمہ                                    ہے امامت کا ہشتم ستارہ رضا

مشکلوں میں یہ امداد سب کی کریں                                دوست دشمن نہ دیکھے ہمارا رضا 

کوئی غربت میں زائر نہ بھوکا رہے                                   ہے کرشمہ یہ سفرہ تمہارا رضا

رہ کے مشہد میں غربت یہ ممکن نہیں                             سب پہ نعمت کا بہتا ہے دھارا رضا

گر ملے تیرے قدموںمیںجنت مجھے                         موت پردیس میں ہے گوارا رضا

تیرے روضے پہ آکے مجھے یوں لگا                               خلد کا جس طرح ہو نظارہ رضا

در پہ بن کے گدا میں ہمیشہ رہوں                                اور  راضی رہے بس ہمارا رضا

دشمن دیں کو زندہ نگل جائے وہ                                  کردیں قالین کو گر اشارہ رضا

مرحبا مجھ کو کہہ کے پکاریں ملک                             لب پہ آیا میرے جب دوبارہ رضا

کرکے ورد زباں مشکلیں ٹل گئیں                                 کتنا ہے بااثر نام پیارا رضا

جو بھی محفل میں بیٹھا ہے حاجت لیے                             رہ نہ پائے کبھی وہ کنوارا رضا 

چھوڑ کر اس کو کیسے بجھے تشنگی                                    حوض کوثر کا ہے جب کنارا رضا

تھک کے مامون کو بھی یہ کہنا پڑا                                کشتی زیست کا ہے سہارا رضا

غیر ہوں یا کہ اپنے سبھی کے لیے                              درد  و  رنج  و  الم کا مدارارضا

سبط  مولا مدد کے لیے آگئے

جب لحد میں کہا دیں سہارا رضا

٭٭٭٭٭

 

شاعر  :  جناب محسن نقوی صاحب

المدد مولا رضا  مولا رضا                  اے مرے مشکل کشا  مولا رضا 

 آپ ہیں جان علی  و سیدہ                     آپ ہیں نور خدا  مولا رضا 

دربدر دنیا میں پھرتا میں مگر                    آپ کا در مل گیا  مولا رضا 

دیکھنی ہے جس کو جنت جیتے جی               دیکھ لے روضہ ترا  مولا رضا 

عمر بھی کرتا رہے تیری ثنا

آپ کا محسن رضا  مولا رضا 

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب  نیر جلالپوری صاحب

دیار عشق کے بے خواب جگنو بات کرتے ہیں

ثنائے ثامن ضامن ہے آہو بات کرتے ہیں

علی ہیں اور علی کے لعل ہیں اصلا ًبھی نسلا ًبھی            

سخن میں گھول کر قرآں کی خوشبو بات کرتے ہیں           

وہی تعداد خرموں کی وہی تیور عطاؤں کے

لیے ہررخ سے اپنے کی خو بو  بات کرتے ہیں

ہے ماتھے کی جلالت پر فدا والشمس کا سورہ            

گھٹا واللیل پڑھتی ہے جو گیسو  بات کرتے ہیں           

علی  جیسا ہے تو لیکن نصیری ہم نہیں مولا

ہم اپنے ذہن و دل پہ رکھ کہ قابو  بات کرتے ہیں

ترا احساس دشت جاں میں رم کرتا ہے رہ رہ کر           

سماعت میں تری چاہت کے گھنگرو  بات کرتے ہیں           

سفر کا حوصلہ دیتی ہے تیرے نام کی ڈھارس

ضمانت تیری پاتے ہیں تو بازو  بات کرتے ہیں

جناں کی آبرو ہے تیرے دسترخوان کی وسعت         

ترے ٹکڑوں پہ پلنے والے ہر سو  بات کرتے ہیں         

ترے روضے کے چشمے پر کھڑے ہیں تیرے فریادی

کئی صدیوں کے پیاسے ہیں لب جو  بات کرتے ہیں

مری  مٹی  سے  بھی آتی  ہے  نیشاپور  کی  خوشبو        

ترے بارے میں جب بھارت کے ہندو  بات کرتے ہیں       

کمیت و دعبل و نیر ہیں راہی ایک رستے کے

تری مدحت میں سب پہلو بہ پہلو  بات کرتے ہیں

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب آغا سروش حیدرآبادی صاحب      

اے میثم کو زور بیاں دینے والے                             مجھے با زباں کر زباںدینے والے

مری فکر کو شہ پر قدسیاں دے                                 سلیماں کو تخت رواں دینے والے

علی  کی ولایت سے انکار کیسا                           زباں دے چکے ہیں زباں دینے والے

علی  تھے گلدستہ ٔ کن فکاں پر                                 خدائی میں پہلی اذان دینے والے

ملیں گے فقط خانۂ فاطمہ  میں                                 فقیر وں کو کون و مکاں دینے والے

صحابہ کہاں اور کہاں آل احمد                                 کہاں لینے والے کہاں دینے والے

بتائے کوئی شام ہجرت کہاں تھے                           نبی  ۖکے اشاروں پہ جاں دینے والے

اٹھاتے نہیں کیوں نبی کا جنازہ                                 کہاں مرگئے بیٹیاں دینے والے

فدک کے لیے پیش حاکم کھڑے ہیں                          اک آنسوپہ باغ جناں دینے والے

فدک تو امام زمانہ  ہی لیں گے                                   ہیں یہ لوگ ایسے کہاں دینے والے

سر  دار میثم کو تنہا نہ سمجھو                                           ابھی اور ہیں امتحاں دینے والے

دعائے ملک ہے در فاطمہ  پر                                    سلامت رہیں روٹیاں دینے والے

بتائیں وہاں بھی کوئی کربلا ہے                                    ہمیں دعوت آسماں دینے والے

سروش آج میری نظر میں نہیں ہے 

نصیری سے بہتر اذاں دینے والے

طرحی کلام

رضا  کی چشم کرم ہے ہم پرکہ ہے یہ دست خدا کا سایہ

ملی بقائے دوام اس کو ہے جس پہ ان کی رضا کا سایہ

وہ دعبل و میر و انوری ہو  وہ باشاہ سخنوری ہو              

ہو جس کے سر پہ رؤف تیرے ہمائے لطف و عطا کا سایہ              

٭٭٭٭٭

شاعر  :  جناب رضا سرسوی صاحب

یہ تو بس موسی کاظم  ہی بتا سکتے ہیں                       کتنا  پیارا  مرا  مولا  ہے  بتاؤ ں  کیسے

لاکھوں پیشانیاں پہلے ہی سے رکھی ہیں رضا             اس کے قدموں کے نشاں سر پہ اٹھاؤں کیسے

٭٭٭

جشن ظہور نور ہے روز سعید ہے                            خوش مصطفی  ۖہیں سارے زمانے میں عید ہے

بغض و حسد نفاق و کدورت نکال کر                                 جو آج بھی گلے نہ ملے وہ یزید ہے

٭٭٭

باغ فدک کے چھین نے والے تو مٹ گئے                     سکہ رضا ئے پاک کا چلتا ہے آج بھی

جس نے دیا تھا زہر وہ صدیوں کا مٹ گیا                     جس نے پیا تھا زہر وہ زندہ ہے آج بھی

 

(  در مدح حضرت معصومہ قم  )

تیرا کرم تیرے در کی عطا سبحان اللہ                              تیرے دیار کی آب و ہوا سبحان اللہ

تیرا وقار تیرا مرتبہ سبحان اللہ                                 یہاں پہ آتے ہی دل نے کہا سبحان اللہ

امام موسی کاظم کی یادگار ہے تو

حسینیت کے گلستان کی بھار ہے تو

غموں کے ماروں کو آکر یھاں سکون ملا                              امام زادی ہے تو خواہر امام رضا

ہے نام فاطمہ تیرا لقب ہے معصومہ                                 یہاں پہ ہوتا ہے تقسیم علم کا صدقہ

حسین والوں کی عزت ہے زندگی ہے تو

چراغ شام غریباں کی روشنی ہے تو

تیرے حرم میں جو ایک بار آیا معصومہ                           لپٹ کے جالی سے رویا تو اس کو ایسا لگا

کسی یتیم کو جیسے کہ ماں کاپیار ملا                                  دعائیں مانگیں تو پایا حسین کا صدقہ

نہیں ہے جس کا کوئی اس کا آسرا تو ہے

کئی اماموں کی مانگی ہوئی دعا تو ہے

رسول پاک نے چودہ سو سال پہلے کہا تھا                               ہے آشیانہ آل رسول قم بہ خدا

یہاں بھے گا صدا میرے علم کا دریا                                  یہاں چلے گا صدا مومنین کا سکہ

یہاں کبھی کوئی شیطان آ نہیں سکتا

چراغ قم کوئی طوفاں بجھا نہیں سکتا

بجھانے تشنگیء علم ، علم کے پیاسے                            گھروں کو چھوڑ کے تیرے دیار میں آئے

یہاں پہ آئے ہیں ماووں کو چھوڑ کے بچے                  اٹھائے ہاتھوں کو کہتے ہیں رب سے روروکے

الہی گلشن قم میں خزاں نہ آئے کبھی

کوئی یزید زمانہ یہاں نہ آئے کبھی

یہاں پہ ہوتے رہے روز مجلس وماتم                         ہر ایک دل میں سمایا رہے حسین کا غم

صدا بلند رہے شاہ کربلا کا علم                                  چھٹے نہ ہاتھوں سے اپنے حسین کا پرچم

ہیں جس کی چاہ میں خود منزلیں وہ راہی ہیں

امام عصر کے لشکر کے ہم سپاہی ہیں

یہاں پہ بیٹیاں رہتی ہیں سر چھپائے ہوئے                    گھروں پہ پرچم عباس ہیں سجائے ہوئے

گلی گلی میں عزا خانے ہیں بنائے ہوئے                    ہیں مسجدوں میں نمازی صفیں بچھائے ہوئے

یہاں پہ ہوتی ہے دن رات تعزیہ داری

یہاں دعاوں میں ہوتی ہے گریہ و زاری

یزیدیوں کو زمانے سے ہم مٹائیں گے                          دیار امن و اماں قم کو ہم بنائیں گے

ہمیشہ پرچم عباس کو اٹھائیں گے                             چراغ کفر و ضلالت کو ہم بجھائیں گے

خوشی ہے اپنی غم شاہ مشرقین کے ساتھ

ہے بچہ بچہ ہمارا رضا حسین کے ساتھ

٭٭٭

طرحی کلام

نصیب ہوگا  بتاؤ  کیسے  اس  آدمی  کو  ر ضا  کا سایہ 

عذاب بن کر جلائے جس کو خود اس کی ماں کی خطا کا سایہ

بچا رہا ہے ہر اک بلا سے حسین  تیری عطا کا سایہ           

بدن کو اشک عزا کا سایہ کفن کو خا ک شفا کا سایہ           

٭٭٭٭٭

 بزم رأفت

رؤف مولا نے اپنے قدموں میں کیا سجائی ہے بزم رأفت 

دیا ہے شعر و ادب  کا خود  ذوق ، پھر بنائی ہے بزم رأفت

رؤف مولا کی بارگاہ میں ، یوں دل کو بھائی ہے بزم رأفت         

کہ باغ جنت کی سر زمیں پہ، سنور کے آئی ہے بزم رأفت         

جہاں خدا کے فرشتے آکر ، سلام کرتے ہیں رات اور دن

وہیں پہ عرض ادب کی خاطر ، ابھر کے آئی ہے بزم رأفت

عقیدتوں کے خراج دے کر ، یہ اپنے پہلے ہی مرحلے میں        

جناب  زہرا   کی بارگاہ  میں ، تو مسکرائی ہے بزم رأفت        

ستارے آپس میں کہہ رہے ہیں ، اے عرشیو فرش کو تو دیکھو

زمین رأفت پہ رشک انجم ، وہ بن کے چھائی ہے بزم رأفت

سماعتوں کا سکون بن کر، دلوں میں گھر کرلیے ہیں اس نے         

نگاہیں مبہوت  رہ گئی  ہیں  ،  جو جگمگائی  ہے بزم رأفت         

یہ تبصرے ہورہے ہیں حوزے میں تھی ضرورت نہایت اس کی

فضائے راکد  کی قید و بند  سے  ،  بنی رہائی ہے بزم رأفت

مبلغین کرام مذہب  ،  ادیب  ہونگے تو  لطف  ہوگا        

ہنر ادب کا سکھانے کو اب،عجب رسائی ہے بزم رأفت        

شکوفہ ہوںگے جو غنچہ سارے ، تو اک نیا ہی سماں بندھے گا

جو خوشبو پھیلائے شش جہت وہ ، بہار لائی ہے بزم رأفت

حسن عسکری ہوں کہ تحریر نقوی ، ہوں سبط رضوی کہ فیروز نقوی            

سبھی نے  گوندھا  خمیر اس کا  سبھی کو  بھائی  ہے بزم رأفت            

رضوی نیر  ہوں  یا  بہشتی ،  یا کہ  الفت حسین جویا

انہی کی بھر پور کا وشوں نے ، عجب سجائی ہے بزم رأفت

سجا ہے  سبط کے  سر پہ سہرا ، اس انجمن کی مدیریت کا             

اسی کی محنت کا یہ صلہ ہے ، کہ رنگ لائی ہے بزم رأفت             

٭٭٭٭٭٭

٭٭٭

اطلاعیہ

باسمہ تعالی

(وفدیناہ بذبح عظیم)

امام راہ ہدی، منجی دین خدا، خامس آل عبا ، زین الاوصیاء اور خاتم الانبیاء کے دل کے چین حضرت امام حسین علیہ الصلوة و السلام کے عشق الہی سے بھر پور بے مثال اور انمٹ نقوش کی نورانی شعاعوں سے اہل ایمان کے دلوں کو زیادہ سے زیادہ نورانیت بخشنے کے لیے ایک بین الاقوامی علمی ادبی عظیم الشان سمینار بعنوان  (ذبح عظیم )  کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں درج ذیل موضوعات پر مقالہ نویسی کا ایک جامع مقابلہ ترتیب دیا گیا ہے ۔ اہل قلم ، محققین ،  ادباء  اور شعراء حضرات سے تعاون اور بھر پور شرکت کی استدعا ہے ۔

 

سمینار میں مقالہ نویسی کے لیے موضوعات

          علمی                                   ادبی

١۔  ذبح عظیم کی تفسیر                                ١٥۔کربلا کی تبلیغ میںشعر کا کردار 

٢۔حسین منی و انا من الحسین                          ١٦۔  ارتقاء شاعری میں کربلا کا کردار 

٣۔حسین ،سفینہ نجات سرچشمہ حیات                  ١٧ ۔  کربلا غیر مسلم شعراء کی نظر میں

٤۔ کربلا ،  رمز بقاء دین خدا                          ١٨ ۔  کربلا غیر شیعہ شعراء کی نظر میں                              

٥۔ کربلا اور عصر حاضر کے تقاضے                      ١٩۔  بر صغیر میں اردو ادب پر کربلا کی تاثیر

٦۔ کربلا اور ہماری ذمہ داریاں                       ٢٠۔  کربلائی شعراء کا تعارف 

٧۔ کربلا اور شوق شہادت                          

٨۔کربلا اور ولایت مداری                                         مقالہ کے ارسال کی آخری تاریخ:              

٩۔ کربلا کا جوان دین خدا کی جوانی                    اربعین حسینی ـ ٢٠  صفر١٤٣١ھ   

 ١٠۔رشک شجاعت و وفا اور ضبط کی انتہا                مقام تحویل مقالہ :

١١۔ انصار امامت کا عشق شہادت                    مشہد مقدس ، چہار راہ شہداء  نمائندگی جامعة

١٢۔عزاردی کی اہمیت و اثرات                        المصطفیۖ العالمیہ اتحادیہ انجمن ھای فرہنگی طلاب

١٣۔عزاداری مراجع کی نظر میں                   بزم رأفت  (انجمن شعر و ادب اردو زبان)

١٤۔ انقلاب اسلامی پر عاشورا کے اثرات                    کنوینر :سیدسبط حیدر زیدی 

  Tel; 0098-511-2563085

mail; alhaq110@yahoo.co.in     Mub; 09359750753 www.urdu.blogfa.com 

بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان) کی جانب سے امسال بھی ایک عظیم الشأن سیمنار بعنوان

( ذبح عظیم) منعقد ہورہا ہے اہل قلم اور ارباب ذوق حضرات سے تعاون کی استدعا ہے۔

تنویر غدیر  سمینار   

باسم القدیر

"" عید غدیر خم میری امت کی بافضیلت ترین عیدہے "" {پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم}

عرب کے تپتے ہوئے بیابان میں غدیر خم کے مقام پر شمس رسالت کے چمکتے ہوئے ہاتھوں پرقمر ولایت کی مقدس ضیاء پاشیاں آج بھی لحظہ بہ لحظہ اہل ولاء کے پاکیزہ دلوں کو گرما رہی ہیں،اسی تاریخ سازنقطہ عطف کے نجات بخش زاویوں اوردرس آموز دریچوں سے کسب فیض  کرنے کی غرض سے ایک بین الاقوامی علمی ادبی عظیم الشأن سمینارتنویر غدیر کا اہتمام کیا جارہاہے جس میں مندرجہ ذیل موضوعات پر مقالہ نویسی کا ایک جامع مقابلہ ترتیب دیا گیا ہے ۔اردو زبان  اہل قلم ، محققین، ادباء اور شعراء حضرات سےاستدعا ہے کہ اپنی قلمی کاوش سے مومنین کو بہرہ مند فرمائیں ۔

سمینار میں مقالہ نویسی کے لیے موضو عات

               علمی

١ )  غدیر کی اہمیت و عظمت                                      

٢ )  غدیر ، اکمال دین اور اتمام نعمت                    

٣ )  خطبہ غدیر کی گہرائیاں                

٤)  ولایت و امامت قرآن کریم کی نظر میں          

٥)  ولایت و امامت اہل بیت علیہم السلام کی نظرمیں       

٦ ) ولایت و امامت صحابہ کی نظر میں                      

٧)  ولایت و امامت اہل سنت کی نظر میں

٨)  اعلان ولایتـ بقاء رسالت                                       

٩)  عشیر سے غدیر تک                        

١٠)   کربلا سے غدیر تک                                  

١١)  خطبہ غدیر اور خلافت بلافصل حضرت امیرعلیہ السلام

١٢) فراموشی غدیر کی سازشیں اور نتائج       

١٣) کتاب مستطاب ''الغدیر'' پر ایک طائرنہ نگاہ   

١٤) کتاب مستطاب '' عبقات الانوار '' کے حصہ حدیث غدیر کاایک طائرنہ جائزہ

www.urdublogfa.com 

alhaq110@yahoo.co.in

    Tell: 0098-511-2725978      Mob:  o9155231456

         ادبی

١٥)  شعراء غدیر کا تعارف

١٦)  غدیر شعراء عرب کے کلام میں

١٧)  غدیر شعراء فارس کے کلام میں

١٨)  غدیر شعراء اردوکے کلام میں

١٩ )  نظم غدیریہ

٢٠)  غدیر خم کے عنوان پر اپنا منظوم کلام

٭٭٭٭٭

شرائط مقالہ : مقالہ نویسی کے عمومی شرائط کا لحاظ رکھا جائے  مثلا: مقالہ علمی تحقیقی ہو اور منابع ذکرکیے جائیں،ٹائپ شدہ یا  خطی قابل خوانا ہو اور A4کے حد اقل 12 صفحات پر مشتمل ہو وغیرہ۔

مقالہ کے ارسال کی آخری تاریخ :اول ذی الحجہ ١٤٣١ھ

مقام تحویل مقالہ : مشہد مقدس   ،چہارراہ شہداء،  شیرازی ١٧     

نمائندگی جامعة المصطفی ۖ العالمیہ، اتحادیہ انجمن ھا ی فرہنگی طلاب       

بزم رأفت (انجمن شعر و ادب اردو زبان)

ممتاز مقالات پر نفیس انعامات سے نوازا جائے گا

کنوینر : سید فیروز رضا نقوی

مدیر بزم رافت : سید سبط حیدر زیدی

 

پیام رافت شماره 2 حصه اداری

بسم اللہ الرحمن الرحیم

زیر سر پرستی حضرت بقیة اللہ الاعظم صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف

مجلس ادارت

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا الفت حسین جویاصاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا تحریر علی نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا حسن عسکری نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط محمد رضوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا فیروز رضا نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا محمد حسین بہشتی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانانیر عباس رضوی صاحب

مدیر : حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط حیدر زیدی صاحب

پیام رأفت

علمی ثقافتی ادبی مجلہ

بزم رأفت

انجمن شعر و ادب اردو زبان

 مشہد مقدس کا عظیم شاہکار

دوسرا سال۔   دوسرا شمارہ

از  محرم الحرام  تا  جمادی الاول   ١٤٣٠ھ

کمپوزنگ:

حجة الاسلام و المسلمین مرتضی حسین نقوی

ڈزائننگ:

حجة الاسلام و المسلمین شاہزادہ حیدری زائر

Web: www.urdu.blogfa.com  E-mail : alhaq110@yahoo.co.in 

Tel : 0098-511-2563085 Mob: 09359750753

 

فہرست مطالب

 

اداریہ           (ممدوح و مذموم شعرائ)               مدیر

مقام رسالت اور ہنر شعر                                جناب سبط حیدر زید ی صاحب

عصر رسالت کے شعراء کا تعارف                   جناب مجاہد علی مطہری صاحب

شعراء اہل بیت علیہم السلام                            جناب محمد باقر نقوی صاحب

یوں  ابر شوق جھوم کے برسا غدیر میں            جناب عابد علی بھوجانی  صاحب

کہاںسے لفظ لائوںانکی نعتوںکے برابر میں       جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا  غدیر  میں            جناب الفت حسین جویا صاحب

خلق حق میںدیکھو مقدار  فضائے  مصطفیٰۖ        جناب تحریر علی نقوی صاحب

فضیلتیں آئی ہیں ساری ایک مظھر میں             جناب حسن عسکری نقوی صاحب

مولا نبیۖ نے سب کو دکھایا غدیر میں               جناب فیروز رضا نقوی صاحب

خدا کی رحمتیںسمٹی ہے ساری ایک پیکر میں    جناب محمد حسین بہشتی صاحب

خود آکے آیتوںنے بتایا غدیر میں                    جناب سبط محمد رضوی صاحب

حیدر کو جب نبی ۖنے اٹھایا غدیر میں               جناب نیر عباس رضوی صاحب

بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں                  جناب سبط حیدر زیدی صاحب

رؤف مولا نے اپنے قدموں میں کیا سجائی ہے بزم رأفت            ادارہ

 

 

اداریہ

ممدوح و مذموم شعرائ

باسم رب الشعرائ

(والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا وانتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )  سورہ شعراء کی آخری آیات

ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی خیال میں سرگرداں پھرتے ہیں ، اور یہ کہ وہ کہتے جو کرتے نہیں۔ سوائے ان شعراء کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔اور اللہ تعالی کو بہت یاد کیا ۔ اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا بدلہ لے لیا ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلدہی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیںگے ۔

ان آیات میں قرآن کریم نے شعراء کے متعلق نظریہ الٰھی کو بیان فرمایا ہے لہذا شعراء کی دو قسمیں ہیں ایک شعراء مذموم ، دوسرے شعراء ممدوح ۔یعنی خداوندعالم کی نظر میں شعر وشاعری نہ بری شٔ ہے اور نہ اچھی شٔ بلکہ یہ ایک فن ہے کہ اس سے اگر اچھا استفادہ کیا جائے تو اچھی شٔ ہے اور اگر برے کام میں لایا جائے تو بری شٔ ہوگی۔لہذا دونوں طرح کے شعراء اور ان کی صفات بیان فرمائی ہیں۔

 مذموم شعرائ

قرآن کریم نے ان مذکورہ آیات میں مذموم شعراء کی چند علامتیں اور صفات بیان کیے ہیں کہ جو مندرجہ ذیل ہیں :

٭  جھوٹ اور گناہ

(ھل انبئکم علی من تنزل الشیاطین۔ تنزل الشیاطین علی کل افاک اثیم) یہ آیات اسی سورہ شعراء کی مذکورہ بالا آیات سے پہلی آیتیں ہیں کہ جن میں خداوندعالم کفار و مشرکین عرب کے عقیدے کو بیان فرمارہا ہے کہ وہ لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہر شاعرپر شیطان سوار رہتاہے اور وہ اس پر اشعار القاء کرتا ہے لہذا ارشاد ہوا کہ ہم بتائیں کہ کن پر شیطان نازل ہوتا ہے شیاطین ہر جھوٹے اور گناہگار پر نازل ہوتے ہیں یعنی وہ شعراء کہ جو گناہگار ہیں شیاطین ان کی راہنمائی کرتے ہیںاور ایسے ہی شعراء شیاطین کے بہکاوے و گمراہی میں آتے ہیں ۔

٭٭گمرا ہ و گمراہ پروری

(والشعراء یتبعھم الغاوون) شعراء ایسے افرادہیں کہ جن کی گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں

اس کی وجہ یہ ہے کہ شعر میں تصور و تخیل رکن و قوام کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی نفوس میں اثر انداز ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے چونکہ تصور و تخیل اور تمثیل خیالات کوبھڑکاتی ہیں، اعجاب پیدا کرتی ہیں کہ جو نفس کے لیے باعث شادمانی و موجب التذاذ ہوتا ہے۔ یہی تصورات و تخیلات اگر شیطان کی جانب سے ہوںتو اور بھی زیادہ شہوت انگیز ہونگے،لہذا ایسے شعراء خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کے بھی گمراہ ہونے کا سبب بنتے ہیں ۔

٭٭٭بے ہدف سرگردانی

(الم تر انھم فی کل واد یھیمون) مذموم شعراء کی تیسری علامت وصفت یہ ہے کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں ہیں یہاں وادی خود اصطلاح شاعری ہے یعنی ہر میدان میں ہرزمین میں شعر کہنا کبھی اس کی ہجو تو کبھی اس کی تعریف و تمجید،گویا ہرجائی پن گمراہ شعراء کی صفت ہے ۔

٭٭٭٭قول وعمل میں فرق

 (وانھم یقولون مالا یفعلون) مذموم شعراء کی ایک اور صفت یہ ہے کہ ان کے اقوال ہمیشہ ان کے اعمال و افعال کے خلاف ہوتے ہیں یعنی وہ جو کہتے ہیں کرتے نہیں اور جو کرتے ہیں زبان پر نہیں لاتے ۔

ممدوح شعرائ

قرآن کریم نے اس نظریہ کی رد میں کہ قرآن شعرنہیں ہے اور نہ ہی رسول اکرمۖ شاعر ہیں بہت زیادہ اصرار کیا ہے کہ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ قرآن کریم فن شاعری کا مخالف ہے اگرچہ قرآن کریم کے اصرار کی وجہ خود کفار و مشرکین ہیں کہ وہ اس بات پر مصر ہیں کہ رسولۖ شاعر اور قرآن کلام شاعر ہے لہذا قرآن اس مطلب کی رد و انکار میں مصر ہے جبکہ فن شاعری کا مخالف نہیں ہے بلکہ جہاںسورہ شعراء کی  مذکورہ آیات میں شعراء کی مذمت فرمائی ہے وہیں ممدوح و مطلوب شعراء کی مدح بھی کی ہے اور پھر ان کے مجبوب ہونے کی وجہ بھی موجود ہے  لہذا قرآن کریم نے کبھی شعرو شاعری کے کمالات کاانکار نہیں کیا  لیکن ہاں یہ کمالات اگر راہ حق کے لیے ہوں تو صحیح معنی میں کمالات ہیں ورنہ وسوسہ شیطانی کے علاوہ کچھ بھی ہیں ۔لہذا خداوندعالم کی جانب سے ممدوح شعراء کی صفات بیان ہوئی ہیں، لیکن مذموم شعراء کے اوصاف کی نفی کے ساتھ ساتھ چونکہ( تعرف الاشیاء باضدادھا)، لہذا ممدوح شعراء میں مذموم شعراء کی صفات جھوٹ و گنا ہ ، گمراہ و گمراہ پروری،قول وعمل میں فرق اور بے ہدف سرگردانی نہ ہوں ان کے علاوہ یہ صفات ہوں کہ جن کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے ۔

٭ایمان

(الا الذین آمنوا) گمراہ اور مذموم شعراء کے اوصاف بیان کرنے کے بعد پھر فرماتا ہے سوائے ان شعراء کے کہ جوایمان لائے یعنی ایمان ممدوح شعراء کی پہلی صفت و علامت ہے اور واضح ہے کہ شاعر اگر ایماندار و مومن ہوا تو یقینا حق کہے گا اور کبھی زبان پر ناحق جاری نہیں کرسکتا ۔

٭٭عمل صالح

(و عملواالصالحات)مجبوب شعراء کی دوسری صفت یہ ہے کہ عمل صالح انجام دیتے ہیں اور ظاہر ہے یہ صفت خود اسم بامسمی کی حیثیت رکھتی ہے چونکہ اگر شاعراپنے کسی بھی شعر کے ذریعہ خلاف حق کام انجام دیے گا تو وہ عمل صالح نہیں کہلائے گا اور اس صفت کے حامل ہونے کے لیے ہمیشہ حق گوئی کو ساتھ رکھنا ہوگا ۔

٭٭٭کثرت سے ذکر الٰھی (ذاکرالٰھی ہونا )

(و ذکرو ا اللہ کثیرا )شاعر ہمیشہ ذکر الٰھی میں مشغول رہے، ممدوح شعراء کی دوسری صفت عمل صالح کے بعد اس صفت کا ذکر کرنا خود ایک خاص نکتے کی طرف اشارہ ہے چونکہ ذکر الٰھی خود اعمال صالحہ میں سے ہے لیکن شاعر کے لیے ذکر الٰہی کے کثرت سے انجام دینے کو جداگانہ بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعر کی زبان کہ جو بہت عظیم آلہ ہے اس طرح کہ شاعر کی زبان پر جاری ہونے والے شعرکو مجاہد کی شمشیر سے تشبیہ دی گئی ہے اور علم معرفت کے میدان میں کہا گیا ہے کہ شعر ایک وسیلہ معرفت ہے اور اس کا کام فلسفہ و علم سے متفاوت ہے بلکہ برترین و والاترین آلہ معرفت ہے اور شعر کی تاثیر فلسفہ سے کہیںزیادہ ہے ۔  شعراء اپنے شعر کے ذریعہ ایک نیا منظر کھینچ سکتے ہیں  اور فلاسفہ و عرفاء سے کہیں زیادہ دل انگیز نقشہ پیش کرسکتے ہیں حتی خود عرفاء بھی جب کوئی حال و کیفیت بیان کرنا چاہتے ہیں تو شعر ہی کا سہارا لیتے ہیں ۔لہذا خداوندعالم نے اعمال صالحہ کے بعد خصوصا شائستہ شاعر کی علامت وصفت یہ قرار دی کہ ہمیشہ ذکرالٰھی میں مشغول رہے گویا ممدوح شاعر کی صفت یہ ہے کہ مدح و ثناء نعت ومنقبت اس کی طینت و طبیعت بن جائے ۔

٭٭٭٭مظلوم کی مدد

(وانتصروا من بعد ما ظلموا )اچھے شاعر کی چوتھی صفت یہ ہے کہ مظلوم کا مددگار ہو،اور ظاہر ہے کہ شاعر سے ایسی توقع کا مطلب یہ ہے کہ اپنے شعر سے مظلوم کی مدد کرے چونکہ شاعر کی زبان پر جاری ہونے والے شعرمجاہد کی شمشیر کا مرتبہ رکھتے ہیں گویا نظرالٰہی میں مظلوم کے لیے نوحہ مرثیہ اور سوز و سلام کہنا ایک عظیم کمال و مقام کا حامل ہے۔

بہر حال یہ وہ صفا ت ہیں کہ جو خداوندعالم نے اپنے قرآن کریم میں ممدوح شعراء کے لیے بیان فرمائی ہیں کہ جن میں سے دو صفتیں شاعر کی ذاتی ہیں ایک ایمان اور دوسری عمل صالح لیکن باقی دوصفات یعنی کثرت سے ذکر الٰھی اور مظلوم کی مدد ،ان کا تعلق معاشرے سے ہے چو نکہ ایمان اور عمل صالح خاموشی سے بھی انجام دیے جاسکتے ہیں لیکن کثر ت سے ذکر الٰہی اور مظلوم کی مدد ،وہ بھی شاعر ی کے ذریعہ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ خداوندعالم چاہتا ہے کہ شاعر معاشرے کے درمیان پرچمدار الٰہی کی حیثیت سے سامنے آئے

 اور حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے میں کبھی ہچکچائے نہیں ۔اور پھر شاعرکا یہی کلام کہ جو حق کی حمایت میں ہوگا انسانی ہدایت کے لیے صحیفہ قرار پائے گا۔نیز یہ دوصفات اس بات کی طرف اشارہ ہیں کہ حمد و ثناء ، نعت ومنقبت اور سوز و سلام ، نوحہ و مرثیہ ممدوح الٰہی ہیں اور یہ ممدوح شعراء کی علامت ہیں ۔یا پھر یوں کہا جائے کہ اس صنف شاعر کی تائید میں مذکورہ آیات نازل ہوئی ہیںلہٰذا انہیںاس صنف کے اثبات میں استدلال کے طور پر پیش کیا جاسکتاہے ۔

اس بات کی تائید کے طور پر مذکورہ سورہ کی آخری آیت آخری حصہ(و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون) ملاحظہ فرمائیں،  یہ وہ ٹکڑاہے کہ دنیا ہر حظیب و ذاکر جب کبھی بھی اپنے بیان کو مصائب مظلوم کربلا بیان کرکے ختم کرتا ہے تو اس آیت کے اس حصے کی تلاوت کرتا ہے گویا اس آیت میں ظالمین کربلا سے انتقام کا تذکرہ ہے تو واضح ہے کہ جب یہاں ظالمین کربلا سے انتقام کا ذکر ہے تو اس سے ماقبل مظلوم کربلا کی حمایت کا ذکر ہوگا  لہذا یہ آیات ان ممدوح شعراء کی شان میں ہیں کہ جو اہل بیت علیہم السلام  کی ثناء و رثاء میں مصروف ہیں ۔

کچھ اسی طرح کے ممدوح شعراء کی ایک انجمن بنام بزم رافت امام رؤف حضرت علی بن موسی الرضا علیہ التحیة و الثناء کے مبارک جوار میں تشکیل پائی اور جن کے انتھک کوششوں کے نتیجہ میں شہر مشہد مقدس میں معصومین علیہم السلام کی اعیاد مبارکہ پر عظیم محافل کا انقعادہوتا رہتا ہے پھر ان محافل کی روئیدادکو مجلہ کی شکل میںپیش کیا جاتا ہے تاکہ شریک محفل نہ ہونے والے موالیان بھی فضائل اہل بیت  پڑھنے کے ثواب میںشریک ہوسکیں۔ لہٰذا اس شمارے میں جشن غدیر اور جشن میلاد مصطفیۖ میں ہونے والے پروگرام کو بطور مختصر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔

جشن غدیر میں دو عدد مصرعہ طرح رہے جو حسب ذیل ہیں:

١  جام کوثر کی طلب ہو پیجیئے جام غدیر                    ٢  بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں

اس عظیم جشن مبارک میں ہندو پاک سے میزبان و مہمان اور عظیم شعراء حضرات نے نذرانہء عقیدت پیش کیا۔ جن کے طرحی کلام کا اقتباس پیش کیا جارہا ہے ۔

اس کے بعد کی محفل ولادت با سعادت حضرت رسول اکرمۖ و حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام پر منقعد ہوئی کہ جو ایک ادبی سیمنار کی صورت میں برگذار ہوئی جس کے لیے تقریبا تین مہینے پہلے گویا غدیر کے بعد سے مقالہ نویسی کے لیے عناوین کااعلان کردیا گیا تھا کہ جو حسب ذیل تھے :

١ـ سید الفصحائۖ سے نفی شاعری کا فلسفہ          ٢ـ دین کی تبلیغ و ترویج میں شعر و ادب کا کردار

٣ـ مقام رسالت اور ہنر شعر               ٤ـ رسول اکرم ۖ کے معاصرشعراء کا تعارف

٥ـ آئمہ طاہرین علیہم السلام کے معاصر شعراء کا تعارف         ٦ـ مقام و منزلت شعراء

٧ـ جمع آوری دیوان حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام

کہ مذکورہ عناوین پر تقریبا ٢٢ مقالات ،ادارہ کو موصول ہوئے اور پھر موصول شدہ مقالات میں درجہ  بندی کی گئی کہ جن میں سے پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے مقالات پر خصوصی انعامات سے نوازا گیا اور باقی سب ہی مقالہ نگاروں کوحوصلہ افزائی کا انعام عطا کیا گیا ۔

اس سیمینا رمیں مذکورہ مصرعہ طرح پر شعراء کرام نے طبع آزمائی فرمائی :

١  خدا کی رحمتیں سمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں           ٢  آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفی ۖ

اس عظیم و پرشکوہ سیمینار میں ہند و پاک کے علاوہ ایران ،آذربائجان ،افغانستان ،لبنان ، ٹرکی اور سعودی عرب سے بڑی بڑی شخصیتوں نے شرکت فرمائی ۔اور اس پروگرام کی رپورٹ ایران ٹی وی کے علاوہ ایران کے مشہورروزناموں میںشائع ہوئی۔

بہر حال بزم رافت (انجمن شعر وادب اردو زبان) تمام ہی شرکاء اور اہل ادب وارباب ذوق کا شکر اداکرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ بھی اس طرح کے پروگراموں میں شرکت وتعاون کی منتظر ہے ۔

والسلام

مدیر بزم رأفت

سید سبط حیدر زیدی

پیام رافت شماره 2 حصه نثر 1

مقام رسالت اور ہنر شعر

بقلم:سیدسبط حیدرزیدی        

مقدمہ

مقالہ ھذا میں عنوان کو مدنظر رکھتے ہوئے (مقام رسالت اور ہنر شعر)  مطالب کوتین مرحلوں میں پیش کیا جائے گا۔

مرحلہ اول :مقام رسالت ،  مرحلہ دوم :  ہنر شعر

اور تیسرے مرحلے میں ان دونوںکے درمیان نسبت و تلازم کو مد نظر رکھتے ہوئے نتیجہ پیش کیا جائے گا ۔

مقام رسالت

مقام رساست بیان کرنے کے لیے مستقل کتاب درکار ہے نہ کہ فقط کسی ایک مقالہ کا صرف ایک حصہ ، لیکن یہاں پر مقام رسالت ، ہنر شعر کے مقابل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے لہذا انتہائی اختصار مقصود ہے تاکہ بوقت نتیجہ اور دوران نسبت و تلازم استفادہ کیا جاسکے۔

رسالت ایک الٰھی منصب ہے اگر چہ مناصب الٰھی متعدد ہیں اور ان میںسے ایک کو دوسرے پر فوقیت حاصل ہے جس کو علماء علم کلام نے مفصل ذکر کیا ہے لیکن یہاں پر فقط منصب رسالت ہی مراد نہیں ہے بلکہ مطلق منصب و عھدہ الٰھی مقصود ہے یعنی رسالت ،نبوت، اولوالعزم حتی امامت کو بھی شامل ہے یعنی ہر وہ عنوان کہ جو جحت الٰھی پر صادق آتاہے اور پھر یہ دیکھنا ہے کہ حجج الٰہی شاعر گذرے ہیں یا نہیں اور اگر گزرے ہیں تو پھر خصوصا حضرت پیغمبر اکرم ۖ سے ہی کیوں اس صفت کو مستثنی رکھا گیا ۔اور خصوصا یہ مطلب کہ شاعری ایک فن و ہنر ہے جبکہ رسالت وغیرہ خداوند عالم کی جانب سے ایک عھدہ و منصب وعنایت خاصہ ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے  (اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ)(١) ۔

خداوند عالم کی جانب سے انسانی ہدایت کے لیے اور اس کی طرف سے خلائق پر حجت کے طور پر آنے والی شخصیت کو نبی،رسول اور امام وغیرہ کے لقب و منصب سے یاد کیا جاتا ہے علماء علم کلام نے پروردگار کے مناصب کو چند صورتوں میں پیش کیا ہے۔

مناصب الٰہی

نبوت ،  رسالت ،  اولوالعزم ،  امامت اور اس تقسیم پر خود قرآن کریم دلالت کرتا ہے لہذا ارشاد ہے ۔

(وما ارسلنا من قبلک من رسول ولانبی)(٢)کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبوت اور رسالت دو الگ الگ عہدے ہیں ۔

( فاصبر کما صبر اولواالعزم من الرسل)(٣)کہ یہ آیت اس بات پر لالت کرتی ہے کہ کچھ رسول اولوالعزم ہیں اورکچھ نہیں ہیں یعنی اولوالعزم رسالت سے جدا گانہ عہدہ ہے۔

(قال انی جاعلک للناس اماما)(٤)  یہ آیت اس بات پر دال ہے کہ امامت مذکورہ عہدوں سے جداگانہ عہدہ ہے۔

ان مناصب میں چونکہ مرتبتا فرق ہے لہذا ان کی تعریفیں بھی مختلف ہیں اور پھر علماء نے بھی اپنے اپنے نظریہ و ذوق کے اعتبار سے ہر ایک کی جداگانہ تعریف کی ہے لہذا خلاصتا ان مناصب کی اس طرح تعریف کی جاسکتی ہے۔

نبوت: ایسا عہدہ الٰہی ہے کہ جس پر فائز ہونے والا شخص خداوندعالم کی طرف سے خبر دیتاہو، اس پر شریعت و کتاب نازل نہ ہوئی ہو، اور حکم الٰہی کو سنتے وقت فرشتے کو نہ دیکھتا ہو،اور لوگوں کے لیے تبلیغ پر مامور بھی نہ ہو۔

رسالت: ایسا عہدہ ہے کہ جو شخص اس عہدہ پر فائز ہو وہ حکم الٰھی کے نزول کے وقت فرشتے کو دیکھ سکتا ہو اور لوگوں کے لیے تبلیغ پر بھی مامور ہو ، خواہ اس پر کتاب و شریعت نازل ہوئی ہو یا نازل نہ ہوئی ہو۔

اولوالعزم : رسالت سے ما فوق عہدہ ہے یعنی ہر وہ رسول اولوالعزم ہے کہ جو صاحب شریعت ہو۔

امامت : یہ عہدہ  اگر چہ مذکورہ عہدوں کی ردیف اور ان کے عرض ہی میں ہے اور آیت قرآنی کے لحاظ سے سب سے بلند مرتبہ ہے جیساکہ ارشاد رب العزت ہے (واذابتلی ابراھیم ربہ بکلمات فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماما قال ومن ذریتی قال لاینال عھدی الظالمین)(٥)۔ کہ حضرت ابراہیم کو تمام مذکورہ عہدے حاصل ہونے کے بعد منصب امامت پر فائز کیا گیا اور پھر آپ نے کسی بھی منصب کے حصول کے وقت اپنی ذریت کے لیے خواہش نہیں کی سوائے امامت کے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امامت مذکورہ تمام عہدوں سے بلند و بالا ہے ۔ لیکن دوسری طرف اس منصب کو مذکورہ مناصب کے عرض میں نہیں بلکہ طول میں رکھا جاتاہے  چونکہ اس کی تعریف میں ''نیابتا عن النبی'' کی عبارت لاتے ہیں یعنی امام وہ ہوتا ہے کہ جو نبی کا نائب ہو۔

اس تقسیم بندی کے سلسلے میں علم کلا م میں مفصل بحث ہے اور احادیث بھی اس ماب میں بہت زیادہ ہیں ۔لیکن ہمارا نصب العین فقط تنہا منصب رسالت نہیں ہے بلکہ مطلق عہدہ و منصب الٰھی ہے لہذا یہاں پر لفظ رسالت تسامحا ذکر ہوا ہے لیکن ہم یہاں پر کلمہ منصب الٰھی یا حجت الٰھی سے تعبیر کریں گے ۔

شرائط منصب الٰہی

شرط اول:  ہر حجت الٰھی کے لیے معصوم ہو نا ضروری ہے ۔

شرط دوم:  حجت الٰھی اپنے زمانے میں سب سے افضل ہو۔

شرط سوم :  حجت الٰھی اپنے زمانے میں سب سے زیادہ عقل مند و ذہین و زیرک ہو ۔

شرط چہارم :  حجت الٰھی ہر طرح سے پاک و پاکیزہ ہو کہ اس سے لوگوں کی طبیعت متنفر نہ ہو۔

شرط پنجم:  حجت الٰھی کے ماں باپ کافر نہ ہوں ۔

شرط ششم :  حجت الٰھی صاحب معجزہ ہو۔

یہ شرائط مستقل عنوان و گفتگو کے محتاج ہیں ان کی اثبات و نفی میں مفصل بحث ہے اوران شرائط پر متعدد لائل براہین علماء علم کلام نے تحریر فرمائے ہیں ۔صاحبان ذوق مفصل کتابوں میں مراجعہ کرسکتے ہیں ۔

لیکن مذکورہ شرائط میں دو شرطیں ،شرط اول اور شرط ششم یعنی اول و آخر گو یا حجت الٰھی کا معصوم ہونا اور صاحب معجزہ ہونا بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں یوں تو کسی بھی شٔ کی ہر شرط ایک رکن  وعلت کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے فقدان سے معلول مفقود و معدوم ہوجاتا ہے یہی کیفیت یہاں پر بھی ہے لیکن اس باب میں یہ مذکورہ دو شرطیں کچھ زیادہ ہی خاص امتیاز کی حامل ہیں اس لیے کہ شاید ممکن ہے کہ باقی شرائط بحیثیت صفات کسی غیر حجت الٰھی میں پائی جاسکیں لیکن یہ دو شرطیں صرف حجت الٰھی ہی سے مخصوص ہیں لہذا ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ ان دو شرطوں پر کچھ بیشتر توجہ کی جائے ۔

عصمت

عصمت ایک فوق العادہ باطنی قوت اور ایک ایسی عظیم صفت کو کہتے ہیں کہ جس کے اثر سے موجودات عالم کی حقیقت اور دنیائے باطنی کا مشاہدہ ہوسکے اور اس کی وجہ سے خطا کاری اور گناہ کرنے سے بچا جاسکے ۔ یعنی صحیح ریاضت نفس سے ایک طاقت حاصل ہوجائے جس کے ذریعہ گناہ سے مصونیت مل سکے۔ اگر چہ اس صحیح ریاضت نفس کا منبع علم لدنی ہے کہ اسی سے تقوی اور مصونیت حاصل ہوتی ہے  اور یہ علم لدنی جس کے پاس جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی عصمت کے درجہ میں بلند ہوگا۔چونکہ علم اکتسابی میں احتمال خطا ہے کہ جو خود خلاف عصمت ہے ۔

مذہب امامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حجت الٰھی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور اس مطلب پر چند دلیلیں قائم کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے :

١ـ  اگرحجت الٰہی معصوم نہ ہو تو تسلسل لازم آئے گا جو کہ عقلا محال ہے کیونکہ حجت الٰہی مخلوق کی ہدایت کرنے اور ان کی خطاکاریوں کو دور کرنے کے لیے معین کی گئی ہے اور اگر خود اسی میں خطا پائی جائے یا احتمال خطا ہو تو اس کا فائدہ کیا ہے ؟ پھر ضرورت ہوگی کہ کوئی اس کی رہنمائی کرے اوروہ بھی ایسی ہو کہ جس میں خطا کا احتمال نہ ہو اگر ایسی حجت الٰھی مل جائے کہ جو احتمال خطا سے منزہ ہو تو مقصود ثابت ، ورنہ پھر کسی اور رہبر کی ضرورت ہوگی اور اگر اس میں بھی خطا موجود ہو تو کسی اور کی تلاش اسی طرح تیسرے اور اس کے بعد چوتھے الی آخر، اور یہ قطعا درست نہیں ہے کیونکہ تسلسل لازم آئے گا کہ جس کا بطلان واضح ہے ۔

٢ـ اگر حجت الٰھی معصوم نہ ہو تو اس کے قو ل پر وثوق و اطمینان نہیں ہوگا ۔کیونکہ ہوسکتا ہے غلط کہہ رہا ہو۔ لہذا حجت الٰھی کا بھیجنا عبث ہوجائے گا اور نتیجہ میں لوگ گمراہ ہوجائیں گے ۔

٣ـ اگر حجت الٰھی معصوم نہ ہو تو امت اس کے قول و حکم سے انکار کرسکے گی اور یہ لزوم اطاعت کے منافی ہے کیونکہ قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ ارشاد خداوند ی ہے (اطیعواا للہ واطیعوا الرسول و اولی الامر منکم ) یعنی اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ۖو اولی الامر کی اطاعت کرو ۔ یہاں اولی الامر کی اطاعت، رسول کی اطاعت کے ساتھ ذکر کی گئی ہے پس ضروری ہے کہ رسول و اولی الامر معصوم ہوں تاکہ ان کے قول و حکم پر عمل کرتے ہوئے کسی قسم کی خطا کا اندیشہ نہ ہو، لوگ ان کی اطاعت کرنے میں خدشہ نہ کریں ۔

اعجاز

اعجاز کا لغوی معنی عاجزکرنا ہے اور اصطلاح میں خلاف عادت کا م انجام دینے کو اعجاز کہا جاتا ہے اسی وجہ سے خلاف عادت چیز کومعجزے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر لوگ جس کام کے انجام دینے سے عاجز ہوں وہ واقع ہوجائے جیسے سنگریزوں کا حضرت پیغمبراکرم ۖسے کلام کرنا نباتات کا آپۖ  کی رسالت کی گواہی دیتے ہوئے کلمہ پڑھنا ، حضرت موسی  کے عصا کا مختلف صورتو ں میںتبدیل ہونا حضرت امام رضا  کاقالین پر شیر کی تصویر کو اصلی شیر میں تبدیل کردینا  وغیرہ۔

اثبات منصب الٰہی

منصب الٰہی کوئی امر محسوس نہیں ہے کہ اگر کوئی دعوی کرے تو اس کے دعوی کو حواس خمسہ سے احساس کیا جائے اور قبول کرلیا جائے بلکہ ایک امر معنوی ہے کہ جس کے لیے دلیل کی ضرورت ہے لہذا منصب الٰھی کے دعوی کے اثبات کے لیے کم از کم دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے ۔

اول : یہ کہ اس سے پہلے خدا کی جانب سے کسی بھی وسیلے سے اعلان ہوا ہو یا اس سے پہلے نبی نے بتایا ہو،اسی کو علمی اصطلاح میں نص کہتے ہیں ،یعنی اثبات حجت الٰھی میں  پہلی چیز نص کا ہونا ہے ۔

دوم:  یہ کہ اس کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر ہوتا ہو۔(٦)

ہنر شعر

فن شاعری قدیم الایام ہی سے رائج ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ شعر گوئی کی صلاحیت انسان کی طبیعت میں گفتگو  وسخن گوئی کے ہمراہ ہے ۔ اور بعض افراد کا نظریہ یہ ہے کہ شاعری انسان کی فطری غرائز میں سے ہے ، اور اس بات پر دلیل یہ ہے کہ ماں جب بچوں کو بہلانے کی خاطر لوریاں سناتی ہے تو وہ بھی کسی حد تک شعر ہی کی شکل میں ہوتی ہیں خواہ ان میں وزن و قافیہ کا خاص خیال نہ ہو اور بچے کو بھی ان لوریوں ہی میںآرام سے نیند آتی ہے  اسی طرح خوشیوں میں گیت و ترانے اور مصائب و آلام میں گریہ و ز اری کو نظم و شعر کی شکل میں انجام دینا اس امر کی تائید ہے ۔

لیکن شعر گوئی بحیثیت علم کس زمانے سے رائج ہوئی  یہ اختلافی امر ہے ،انتہائی چیز کہ جو شاعری کے آغاز کے سلسلے میں پیش کی جاسکتی ہے وہ  ارسطو کا تالیف کردہ رسالہ ہے کہ جس میں فن شاعری اور شعر و ادب کو بحیثیت ایک علم متعارف کرایا گیا ہے ۔

اور اس کے بعد سے علماء علم منطق نے صناعات خمس میںایک صنعت ، شعر کو قرار دیا ہے اسی باب میںصنعت شعر کے متعلق گفتگو کی جاتی ہے ، اگر چہ اصطلاح علم منطق میں شعر کی تعریف ، اصطلاح علم عروض و قافیہ اور علم بدیع میں شعر کی تعریف سے متفاوت ہے ،جس کو بطور اختصار یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ شعر منطقیین کے نزدیک فقط ایک تخیل و تصورکا نام ہے اور علم عروض و بدیع میں تخیل ، ردیف و قافیہ و وزن کے ساتھ شعر کہلاتا ہے ۔

اگر چہ ارتقاء شاعری نے دونوں کو مدغم کردیا ہے اور جہاں وزن و ردیف و قافیہ کے ساتھ شاعری ہورہی ہے وہاں آزاد شاعری میں فقط تخیل ہی تخیل ہے ۔

تعریف شعر

مذکورہ مطالب کو مدنظر رکھتے ہوئے شعر کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ'' تخیل اور عطوفت بھرے الفاظ کو ایک خاص شکل میں باندھنا شعر کہلاتا ہے'' اور اگر اس تعریف میں شرط وزن و قافیہ کا اضافہ کردیا جائے تو نظم کو شامل ہوجائے گا ، اسی وجہ سے اہل منطق شعر کی دو قسمیں کرتے ہیں

١ـ شعر ارسطوئی : کہ جس میں فقط تخیل ہو ۔

٢ـ شعر عروضی : وہ کہ جس میں تخیل ، وزن و قافیہ کے ہمراہ ہو ۔

شعر کی خاصیت، جلب توجہ و نفوس پر اثر انداز ہونا ہے اور اس کا اثر وزن و قافیہ کے ہمراہ زیادہ حاصل ہوتا ہے لہذا اہل منطق نے بھی شعر میں اوزان و قافیہ کا اضافہ کیا ہے شیخ الرئیس کی فرمائش کے مطابق اب ارسطوئی شاعری  یعنی یونان میں بھی عرب زبان کی طرح اوزان شعر ایجاد کرلیے گیے ہیں ۔

لہذا متاخرین اہل منطق اب علم منطق میں صنعت شعر کے متعلق یوں بیان فرماتے ہیں کہ شعر ایک ایسا خیال انگیز کلام ہے کہ جو موزون ،برابر اور قافیہ دار عبارت  سے مرکب ہو ۔

فوائد شعر

شعر کے بطور مختصر مندوجہ ذیل فوائد پیش کیے جا سکتے ہیں

١ـ جنگ میں سپاہیوں کی سجاعت و دلیری کو ابھارنا ۔

٢ـ کسی دینی یا سیاسی عقیدہ کے متعلق لوگوں میں جوش و جذبہ پیدا کرنا ۔یاپھر فکری  یا اقتصادی انقلاب کی خاطر لوگوں کے عواطف میں ہیجان پیدا کرنا ۔

٣ـ اپنے بزرگوں و رہبروں کی مدح و ثناء کرنا یا دشمنوں کی مذمت و ہجو کرنا ۔

٤ـ مقام خوشی و مستی میں ایجاد شادمانی، سرور و نشاط۔

٥ـ مقام غم و آلام میں ایجاد غم و اندوہ اور گریہ و دلتنگی ۔

٦ـ ایجاد اشتیاق ملاقات دوست  یا تحریک شہوت جنسی ۔

٧ ـ برے کاموں سے روکنا ، آتش شہوت کو خاموش کرنا یا تہذیب نفس اور اچھے کاموں کی انجام دہی کی تمرین و مشق۔

علامہ جعفری اپنی کتاب' ' حکمت و عرفان درشعر نظامی '' میں تحریر فرماتے ہیں کہ شعر ایک وسیلہ معرفت ہے اور اس کا کام فلسفہ و علم سے متفاوت ہے بلکہ برترین و والاترین آلہ معرفت ہے اور شعر کی تاثیر فلسفہ سے کہیںزیادہ ہے ۔

جبران خلیل جبران کہتاہے کہ شعراء اپنے شعر کے ذریعہ ایک نیا منظر کھیچ سکتے ہیں  اور فلاسفہ و عرفاء سے کہیں زیادہ دل انگیز نقشہ پیش کرسکتے ہیں حتی خود عرفاء بھی جب کوئی حال و کیفیت بیان کرنا چاہتے ہیں تو شعر ہی کا سہارا لیتے ہیں ۔

نفوس میں شعرکی تاثیر کے اسباب

شعر میں تصور و تخیل رکن و قوام کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی نفوس میں اثر انداز ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے چونکہ تصور و تخیل اور تمثیل  خیالات کوبھڑکاتی ہیں اور اعجاب پیدا کرتی ہیں کہ جو نفس کے لیے باعث شادمانی و موجب التذاذ ہوتا ہے ۔ لیکن اگر انسان ، تصور وتمثیل سے پہلے حوادث کی واقعیت کو مشاہدہ کرلے تو پھر یہ لذت اس قدر نہیں حاصل ہوسکتی ۔

لیکن خود شعر میں تصور و تخیل تین چیزوں سے پیدا ہوتاہے ۔

١ـ وزن :  نفس کے حالات کو تغییر دینے میں ہر ایک وزن خاص اثر رکھتا ہے اور نفس میں انفعالی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔

٢ـ عطوفت بھرے ا لفاظ : یوں تو ہر حرف میں ایک آہنگ و نغمہ پایاجاتاہے لیکن اگر یہی کسی خاص ترکیب کے ساتھ پیش کیا جائے تو اور بھی زیادہ انفعالی کیفیت ایجاد کرتا ہے ۔

٣ـ مخیل ومصور کلام : یعنی خود کلام کے معانی خیالات کوبھڑکاتے ہیںاور یہ وہی شعر کا رکن و قوام ہے کہ جس سے شعر اصل میں شعر کہلاتا ہے اور جب یہ تینوں چیزیں شعر میں جمع ہوجائیں تو صحیح معنوں میں شعر شعر کہلاتا ہے۔(٧)

بہر حال شعراء نے اسی جامع صنف کو اختیار کرتے ہو ئے اور خالص تخیل کی دنیا سے باہر نکل کر بہت سے حقائق کو منظوم کیا ہے کہ جس میں واقعیت ہی واقعیت ہے جیسا کہ بہت سے شعراء نے متعدد علوم کو نظم کیا مانند نصاب الصبیان ، الفیہ، منظومہ اور مختلف ارجوزہ  وغیرہ۔ لیکن شاعر پھر بھی شاعر ہے لہذا کسی بھی حقیقت کو کتنی بھی سچائی سے نظم کرے پھر بھی اس میں کنایہ و استعارہ کے ذریعہ کمی یا زیادتی اور اپنا تصرف ضرور کرتا ہے اسی لیے قرآن کریم میں جہاں شعراء کی مذمت ہوئی ہے وہیں استثناء کے ذریعہ مدح بھی ہے ۔

زمانہ ء جاہلیت میں شعر و شاعر کا مقام

زمانہء جاہلیت میں شعر و شاعری اس قدر اہمیت کی حامل تھی کہ اس کو شمشیر و بہادر پر بھی فوقیت دی جاتی تھی بلکہ شعر و شاعر ، خطابت و خطیب پر بھی مقدم تھے چونکہ شاعر قبیلہ و خاندان کی زبان تھا کہ جس کے ذریعہ اپنے قبیلے کی مدح ثناء ودشمن کی ہجو کرتے اور دوران جنگ رجز پڑھ کر لشکر کو ابھار تے ان کے احساسات کو بھڑکا کر کامیابی و فتح سے ہمکنار ہوتے لہذا اگر کسی قبیلہ میں کوئی شاعر نامور ہوجاتا تو اس کا جشن منایا جاتا تھا

اس دور کے حالات کو قلمبند کرنے والے مورخین نے شعر و شاعر کی اہمیت کے بارے میں یوں تحریر کیا ہے ''زمانہء جاہلیت میں اجتماعی امور اور تہذیب و تمدن کی باگ ڈور شعراء کے ہاتھ میں تھی ، شاعر کی عظمت خطیب سے زیادہ تھی چونکہ شاعربہت جلدی احساسات و حوادث کو الفاظ میں پروکر دلوں پر نقش باندھ دیتے تھے اسی لیے شاعر وں کے لیے لوگوں میں خاص خیال و عقیدے پائے جاتے تھے کہ شاعر کے ساتھ کوئی بیرونی طاقت ہے جیسے جن یا شیطان وغیرہ کہ جو اس پر الہام کرتا رہتا ہے ۔

ظہور اسلام اور شعری ارتقائ

ظہور اسلام کے بعد شعر و شاعری نہ یہ کہ زوال پذیر نہیںہوئی بلکہ اس کا مقام و مرتبہ بلند تر ہوا اور پیغمبر اکرم ۖ  کی خاص توجہ کی خاطر شعر و شاعری کو خاص عروج حاصل ہوا چنانچہ تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ جنگ احد میں رسول اکرم ۖ  نے تمام اسیروں کو فدیہ لے کر آزاد کیا جبکہ شعراء کو بغیر فدیہ کے صرف یہ کہہ کر آزاد کردیا کہ اسلام و مسلمین کی مذمت میں شعر نہ کہیں ، یا دوسری طرف کعب بن زہیر کہ جو مہدور الدم شاعر تھا اسلام کی مدح میں شعر کہنے کی خاطراسے معاف کردیا یا پھر بعض روایات میں جہاں پیغمبر اکرم ۖ  نے تعلیم قرآن کا حکم دیا وہیں پر حفظ شعر اور شعر گوئی کی تشویق و ترغیب بھی فرمائی ہے ۔

قرآن کریم اور شعر

اسلام میں شعر کی بہت اہمیت ہے اور رسول اکرمۖ نے بھی اپنے معاصر شعراء کو کافی عزت و احترام بخشا ہے او ر جہاں پر قرآن کریم شعراء کو گمراہ  و بے راہ معرفی کرتا ہے وہیں ایمان دار شعراء کو بہت سراہتا ہے  اور ان کی تمجید و تکریم کرتا ہے۔

  لہذا ارشاد ہوتا ہے(والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملو االصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا و انتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )(٨)۔

ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی خیال میں سرگرداں پھرتے ہیں ، اور یہ کہ وہ کہتے ہیںجو کرتے نہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔اور اللہ تعالی کو بہت یاد کیا ۔ اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا بدلہ لے لیا ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلدی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیںگے ۔

احادیث شریفہ اور شعر

جس طرح قرآن کریم شعر وشاعر ی کی مطلق مدح بھی نہیں کرتا اور نہ ہی مطلقا تایید بلکہ ایک طرف جہاں شعراء کو گمراہ و بے راہ اعلان کرتا ہے تو دوسری طرف ایمان دار شعراء کی تمجید و تکریم کرتا ہے ۔ اسی طرح معصومیں علیہم السلام سے مروی احادیث شریفہ میںبھی کہیں شعرو شعراء کی خیال پردازی کفر آمیزی اور لغویات پر مذمت کی توکہیںشعر کو تبلیغ دین کا بہترین ذریعہ قرار دیا اورمؤمنین شعراء کی مدح،تشویق و ترغیب فرمائی ہے ۔ حضرت رسول اکرمۖ نے ایک مسلمان شاعر کے کفار کی ہجو کرنے پر اس طرح فرمایا (والذی نفس محمد بیدہ  فکانکم تنحضونھم بالنبل) (٩)یعنی اس ذات کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں محمد کی جان ہے  اس طرح کے اشعار کہہ کر گویا تم دشمنوں پر تیراندازی کر رہے ہو۔اور دوسرے مقام پر ایک مسلمان شاعر سے مخاطب ہوئے اور فرمایا ( اھجھم فان جبرئیل معک)(١٠) دشمنوں کی ہجو کرکہ بیشک جبرئیل تیرے ساتھ ہے۔بلکہ حضرت رسول اکرم ۖ نے اسلا م کی حمایت اور دشمن و کفار کی مذمت میں شعر کہنے کو جہاد سے تعبیر کیا ہے لہذا جب سورہ شعراء کی آیات نمبر٢٢٤ـ٢٢٧(والشعراء یتبعھم الغاوون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملوا الصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا و انتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ) نازل ہوئیں تو  شاعر صحابہ جناب کعب بن مالک اور حسان بن ثابت انصاری وغیرہ روتے ہوئے خدمت حضور انور میں تشریف لائے اور اپنی شعر و شاعری کے متعلق ان آیات کے ذیل میں حکم معلوم کیا تب آپ نے فرمایا ( ان المؤمن یجاھد بنفسہ وسیفہ و لسانہ)(١١)مؤمن جان، شمشیراور زبان سے جہاد کرتا ہے گویا شاعری اسلام کی خدمت کے لیے ہو تو جہاد باللسان ہے ۔اسی طرح آئمہ معصومین علیہم السلا م نے بھی اپنے معاصر شعراء کا خاص خیال رکھا اور عملی طور پر شعراء کو بلاکر ان سے کلام سننا اور ان کو ہدایا و تحایف پیش کرنا خصوصا آئمہ معصومین علیہم السلا م  کے معاصر شعراء کے مراثی  و مناقب بہت مشہور ہیں جیسے دعبل خزاعی کا امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں آکر مرثیہ پڑھنا اور امام زین العابدین علیہ السلام کا فرزدق شاعرکو منقبت و قصیدہ خوانی پر انعام پیش کرنا وغیرہ

اور ان کے علاوہ متعدد احایث معصومین علیہم السلا م سے مروی ہیں کہ خدمت، تبلیغ دین  اور منقبت اہل بیت علیہم السلا م میں شعر کہنا اس قدر ثواب و فضیلت رکھتاہے کہ ہر ایک بیت وشعر پر جنت میں ایک گھر کا وعدہ فرمایا ہے ۔

پیغمبر اکرم ۖ  کو شاعر کہنے کے اسباب ؟

یوں تو ہر چیز کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے اور پیغمبر اکرمۖ  کو بھی شاعر یا ساحر کہنے کا بھی کوئی نہ کوئی فلسفہ و سبب ضرور ہے لیکن جو متفق علیہ قول ہے وہ یہ ہے کہ کفار و مشرکین اپنے زخم دل کے مرحم کے لیے یہ تہمتیں لگاتے اور اس خیال میں خوش رہتے کہ یہ ایک شاعر ہے کہ جو آخر کا ر فوت ہوجائے گا اور اس نام و نشان بھی دوسرے شاعروں کی طرح مٹ جائے گا ۔ لہذا آپ کے ساحر ہونے کے متعلق بھی ولید بن مغیرہ نے جب اپنی قوم سے قرآن سمجھنے کی مہلت مانگی  اور جب کچھ سمجھ میں نہ آیا تو پیغمبر اکرم ۖ  کو ساحر بتا دیا اور اس پر یہ دلیل دی کہ جومحمد ۖکے کہنے پر آگیا اوراس کا دین اختیارکرلیا وہ اپنے قوم و قبیلہ اور عزیز و اقارب کو چھوڑدیتا ہے لہذا یہ سحر و جادو نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے ؟! ۔

اسی طرح آپ پر شاعر ہو نے کی تہمت لگانے کا قضیہ ہے چونکہ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت ، سلاست و روانی ، معانی وبیان اور استعارہ وکنایات ان کی سطح سے بلند اور خود انہی کے اعتراف کے مطابق

 مافوق قول بشر تھا اور اس زمانے میں لوگ شعراء کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ان پر کوئی جن یا شیطان سوار رہتا ہے کہ جو ان پر یہ اشعار القاء کرتا ہے اسی جن یا شیطان کی وجہ سے شاعر کو مافوق طبیعت بشری جانتے تھے جیسا کہ تاریخ ادبیات عرب میں موجود ہے اور بعض مورخین نے تو مفصلا اس دور کے شعراء کے جنوں یا شیاطین کے نام بھی تحریر کیے ہیں مثلا اعشی کے شیطان کا نام مسحل تھا ، امرء القیس کے شیطان کا نام لافظ تھا اور عبید بن ابرص کے شیطان کا نام ہبید تھا وغیرہ۔(١٢)

لہذا قریش پیغمبراکرمۖ  کی زبان مبارک پر جاری کلام الٰھی کو مافوق بشر جانتے ہوئے کسی جن یا شیطان کی طرف نسبت دیتے کہ آپ پر بھی کوئی جن یا شیطان ہے کہ جو آپ پر یہ کلام القاء کرتا ہے (نعوذ باللہ) ۔

حضرت پیغمبراکرمۖ شاعر نہیں ہیں

 قرآن کریم نے شعر و شاعری کو مطلقا برا نہیں کہا ہے بلکہ اہل ایمان شعراء کی مدح کی ہے لیکن پھر بھی حضور انور ۖ کے شاعر ہونے سے صراحتا انکار کرتا ہے اورخود قرآن کریم کے شعر ہونے کا بھی منکر ہے لہذا ان آیات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ جو قرآن کریم کے شعر اور پیغمبر اکرم کے شاعر ہونے سے صراحتا انکار کرتی ہیں۔

قرآن کریم نے شعر و شاعری کے متعلق اور اس سلسلے میں کہ نہ قرآن شعرہے اور نہ پیغمبر اکرم ۖ  شاعر چھ سوروں میں تذکرہ کیا ہے ، وہ یہ ہیں:

١ـ( بل قالوا اضغاث احلام بل افتراہ بل ھو شاعر فلیاتنا بآیة کماارسل الاولون)(١٣)

ترجمہ:  بلکہ انہوں نے کہدیا کہ یہ تو طرح طرح کے خیالی خواب ہیں بلکہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے بلکہ وہ شاعر ہے ۔ پھر چاہیے کہ وہ ہمارے لیے کوئی معجزہ لائے جیسا کہ پہلوں کو دیکر بھیجا گیا تھا ۔

٢ـ (والشعراء یتبعھم الغاون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون ۔ وانھم یقولون مالا یفعلون الا الذین آمنوا و عملو الصالحات و ذکرو ا اللہ کثیرا و انتصروا من بعد ما ظلموا و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون )(١٤)

ترجمہ: اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر جنگل میں سرگرداں پھرتے ہیں ، اور یہ کہ وہ کہتے جو کرتے نہیں۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے۔اور اللہ تعالی کو بہت یاد کیا ۔ اور انہوں نے بعد اس کے کہ ان پر ظلم کیا گیا بدلہ لے لیا ۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا وہ جلدی جان لیں گے کہ وہ کونسی لوٹنے کی جگہ لوٹ کرجائیںگے ۔

٣ـ (وماعلمنا ہ الشعر وما ینبغی لہ ان ھو الا ذکر و قرآن مبین)(١٥)

ترجمہ: اور ہم نے اسے شعرکا علم نہیں دیا اور نہ ہی وہ اس کی شان کے لائق تھا ، یہ نہیں ہے مگر نصیحت اور بیان کردینے والا قرآن۔

٤ـ ( و یقولون ا ئنالتارکوا آلھتنا لشاعر مجنون)(١٦)

ترجمہ: اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی خاطر چھوڑدینے والے ہیں ۔

 ٥ـ ( ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون)(١٧)

ترجمہ : یا وہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ۔ پس ہم انتظار کررہے ہیں اس کی حادثاتی موت کا ۔

٦ـ (وما بقول شاعر قلیلا ما تومنون )(١٨)

ترجمہ: اور وہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے تم لوگ جو ایمان لاتے ہو وہ بہت تھوڑا ہے ۔

شان نزول آیات

اولا یہ تمام آیات مکی ہیں بلکہ جن سوروں میں یہ آیات ہیں وہ سورے بھی مکی ہیں ۔ ثانیا مطلب کی حقیقت تک پہونچنے کے لیے ان آیا ت کی اجمالی شان نزول سے آشنا ہوا جائے ۔

کفارقریش قرآن کریم کی جذابیت سے خوب واقف تھے اور بہت زیادہ متاثر ہوا کرتے تھے خصوصا اگر کلام الٰھی خود پیغمبر اکرم ۖ  کی شیرین زبان ، لحن خاص و پرکشش آواز میں سنتے یہاں تک کہ اس کلام کی تاثیر اتنی تھی کہ بزرگان قریش رات کی تاریکی میں گوشہ و کنار میں چھپ چھپ کر کلام الٰھی کی تلاوت پیغمبر اکرم ۖ  کی زبانی سنا کرتے تھے اور ان کی عقلیں قرآن کریم کے اعجاز کو درک کرنے میں متحیر رہتی تھیں۔(١٩)

لیکن جب ان کے عقیدے کے خلاف بات آتی تو پھر وہ کسی بھی وہ کسی بھی طرح تہمت لگانے سے باز نہ آتے کبھی آپ کو شاعر کہتے تو کبھی ساحر اور کبھی مجنون حتی کبھی مفتر و جھوٹا یعنی اپنی طرف سے باتیں بنانے والا بھی کہا کرتے جبکہ یہ تہمتیں خود ایک دوسرے کی متضاد ہیں  اور اس بات کی نشاندہی ہیں کہ وہ لوگ پیغمبر اکرمۖ  کودرک کرنے میں ناکام رہے ہیں یاپھر حق کو درک کر چکے ہیں لیکن ہٹ دھرمی میں اپنے آباء و اجداد کے دین پر اٹل ہیں اس کے دفاع میں آپ پر طرح طرح کی تہمتیں لگارہے ہیں تاکہ لوگ آپ کی طرف مائل نہ ہوسکیں اور آپ کا دین پروان نہ چڑھ سکے۔

اس مطلب کی تائید وہ روایات بھی کرتی ہیں کہ جو علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں نقل کی ہیں کہ ان میں سے ایک روایت یہ ہے کہ : قریش نے ایک گھر میں اجتماع کیا اور مشورے کے بعد عتبہ بن ربیعہ کو رسول اکرم ۖ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ وہ آپۖ سے اس طرح کہے کہ آپ ۖ  کی قوم وقبیلے والے کہتے ہیںکہ آپ  ایک عجیب و غریب اور امر عظیم لے کر آئے ہیںکہ آپ کے آباء و اجداد بھی اس آئین و دین پر نہ تھے اور ہم میں سے بھی کوئی فرد اس پر اعتماد نہیں کرتا اور نہ ہی آپ کی اس امر میں اتباع کرنے کو تیار ہیں جبکہ یقینا آپ کو کسی نہ کسی چیز کی ضرورت و احتیاج ہے کہ جس کو ہم پورا کرنے کے لیے آمادہ ہیں۔

 آپ کو جس قدر مال و دولت چاہیے ہم دیں گے آپ فقط اس کام سے ہاتھ اٹھالیں عتبہ نے یہ پیغام آپ تک پہونچایا، تب آپ ۖ نے فرمایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔حم۔ تنزیل من الرحمن الرحیم۔کتاب فصلت آیاتہ قرآنا عربیا لقوم یعلمون ۔ تا آیت۔فان اعرضوا  فقل انذرتکم صاعقة مثل صاعقة عاد و ثمود۔تلاوت فرمائی ۔

عتبہ ان آیات کو سننے کے بعد قریش کی جانب واپس ہوا اور سارا ماجرا ان کو سنایا اور کہا :کلمنی بکلام ما ھو بشعر ولا بسحر انہ لکلام عجب ما ھو بکلام بشر(کہ آپ نے مجھ سے کچھ ایسا کلام کیا کہ جو نہ شعر تھا اور نہ سحر و جادو بلکہ وہ ایک عجیب کلام تھا بلکہ وہ انسانی کلام بھی نہیں تھا ۔

اسی طرح کا واقعہ ولید بن مغیرہ کے ساتھ ہوا کہ جو سورہ حم کو سننے کے بعد اپنے گھر واپس گیا اور پھر گھر سے ایک مدت تک باہر نہ نکلا ۔

ولید بن مغیرہ چونکہ ابوجہل کا چچا تھا لہذا قریش نے ابوجہل پر اعتراض کیا کہ تیرے چچا نے دین محمد کو اختیار کرلیا ہے یہ سن کر ابوجہل اور اس خاندان کے دوسرے لوگ بہت غضبناک ہوئے ۔

اگلے روز صبح کو ابوجہل اپنے چچا ولید کے گھر گیا اور اس سے کہا کہ آپ نے مجھے شرمندہ کیا ہے اور ہماری بے عزتی کرادی ہے اور آپ نے دین محمدۖ اختیار کرلیا ۔ اس نے کہا نہیں میں ابھی تک اپنے آباء و اجداد کے دین پر ہوں لیکن میں نے محمدۖ سے ایسا کلام سنا ہے جس سے میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوگیے ! پھر جب لوگوں نے معلوم کیا کہ کیا وہ کلام شعر تھا اس نے کہا نہیں ۔ تو پھر کہا کہ کیا تقریر و خطابت تھی کہا نہیں آخر کا رجو بھی معلوم کرتے وہ کہتا نہیں تو پھر کہا کہ آخر وہ کیا تھا تب ولید نے کہا مجھے مہلت دو تا کہ سوچ کر بتائوں کہ وہ کیا تھا ۔(٢٠)

یہ روایت اور اس طرح کی بہت سی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قریش قرآن کریم کے متعلق متحیرتھے لہذا مسلسل آپس میں اجتماع کرتے میٹنگ بٹھاتے اور مشورہ کرتے تاکہ قرآن کے مقابلے کچھ جواب لاسکیں لیکن جب لاجواب ہوتے تو حضور اکرم ۖ پر طرح طرح کی تہمتیں لگاتے۔

شیخ طوسی تفسیر تبیان میں ان آیات کے ذیل میں فرماتے ہیں : کفار و مشرکین یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ شاعر نہیں ہیں اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ مجنون بھی نہیں ہیں لیکن یہ تہمتیں اس لیے لگاتے تھے کہ وحی و نبوت کی تکذیب کرسکیں اور خود کو ہرطرح کی ذمہ داری و وظیفے سے سبکدوش کرسکیں۔

سید قطب تفسیر ظلال القرآن میں رقمطراز ہیں : جی ہاں قریش اس وقت کہتے تھے کہ قرآن شعر ہے اور رسول اکرم ۖ شاعر کہ جب آپ کے کلام کے مقابل متحیر رہ جاتے اور لاجواب ہوتے اور عجیب و غریب و لطیف کلام سنتے کہ لوگ جس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے چلے جاتے ہیں اور کفر و شرک سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔

 رسول خدا ۖ  علم شعر رکھتے تھے  یا نہیں؟

ظاہرا ان آیات سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکر م ۖ  شعر کا علم نہیں رکھتے تھے چونکہ آپ سے اس علم کی نفی کی گئی ہے ، اصلا خداوند عالم نے آپ کو ذوق و قریحہ شعر عطا ہی نہیں کیا تھا۔

 جناب طبرسی نے بھی یہی تحریر فرمایا ہے: ماعلمناہ الشعر ای ما اعطیناہ العلم بالشعر و انشائہ۔

علامہ طباطبائی کا بھی یہی نظریہ ہے ۔

ظاہرا مفاد آیات بھی یہی ہے اگر چہ شعر گوئی تقریبا فطری امر ہے لیکن یہی کمال اعجاز ہے کہ آپ کو یہ ذوق بھی عطا نہیں ہوا تاکہ قرآن کریم کے کلام الٰھی ہونے میں شک نہ ہو۔بلکہ معنی معجزہ یہی ہے کہ خارق عادت و خلاف فطرت ہو لہذا جہاں ایک شخص بغیر کسی سے تعلیم حاصل کیے تمام کائنات میں کائن و ماکان و مایکون کا عالم ہوسکتاہے وہاں ایک فن کو  اسی کی مصلحت کے مدنظر  اس سے سلب کرایا جاسکتاہے ۔

کیا دیگر حجج الٰھی شاعر تھے؟

شعر و شاعری کے لیے جو اسباب و علل پیغمبر اکرم ۖ کے متعلق قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں وہ اگر چہ صرف آپ ہی سے مخصوص ہیں لیکن پھر بھی ظاہرا اس طرح کے ہیں کہ شاید تمام انبیاء و رسل میں کوئی فردبھی شاعر نہ تھا  چو نکہ جو اسباب وعلل آپ کے یہاں ہیں وہی دیگر انبیاء و رسل میں بھی پائے جاتے ہیں ۔کہ آپ کے کلام کو کوئی شعر کہکر رد نہ کردے اور کلا م ا لہی کی قدر و قیمت اور شان ومنزلت کم ہوجائے اور اعتبار ساقط ہوجائے ۔ اگرچہ اس وقت دنیا میں انبیاء و رسل میں سے کسی کا بھی کلام موجود نہیں ہے اس لیے کہ مسلمانوں کے یہاں جو انبیاء و رسل  کے فرامین ہیں وہ غیر مستقیم ہیں مثلا یا بنقل قرآن کریم ہیں یا بنقل معصومین علیہم السلام یعنی نقل قول ہیں کہ جس سے اثبات و نفی میں کوئی بھی دلیل پیش نہیں کی جاسکتی۔ اور جو کلام دوسرے ادیان کے پاس ہے وہ تحریف شدہ ہے اس لیے کہ اگرکتب آسمانی کو سامنے رکھیں تو وہ خود کلام الٰہی ہیںنہ کلام انبیاء و رسل ،اور وہ بھی تحریف یافتہ۔

اگر چہ بعض روایات سے استفادہ ہوتاہے کہ نفی شاعری صرف ہمارے پیغمبر ۖ سے ہے لہٰذا دیگر انبیاء میں شاعر گزرے ہیں بلکہ سب سے پہلے شاعر خود ابوالبشر حضرت آدم  تھے اور وہ دلائل و وجوہات کہ جو آپ ۖ کی نفی شاعری پر پائی جاتی ہیں وہ صرف آپ ہی کے زمانے میں منحصر ہیں کسی اور زمانے میں شاعری اس عروج پر نہیں تھی کہ کسی نبی کو شاعر سے تعبیر کیا جاتا۔

بہر حال اس دور حاضر میں ہمارے پیغمبر اکرم ۖ کے علاوہ انبیاء و رسل میں سے کسی کا بھی متن کلام موجود نہیں ہے کہ جس کے بارے میں شعر و عدم شعر پر گفتگو کی جائے ۔

لیکن آئمہ طاہرین علیہم السلام ؟ آپ حضرات سب کے سب شاعر تھے حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام کا دیوان اور حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کا مرثیہ اور اسی طرح ہر امام کے اشعار کہ جو مختلف مواقع پر ارشاد فرمائے کبھی مناجات کی صورت میں تو کبھی مرثیہ کی شکل میں سب آپ حضرات کے شاعر ہونے پر دلیل ہیں  اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ شاعری خود ایک فن و ہنر ہے کہ جس کا پایاجانا کوئی عیب نہیں بلکہ کمال ہے اور پھر وہ وجوہات کہ جن کی وجہ سے حضرت پیغمبراکرمۖ کے شاعرہونے سے انکارہے وہ یہاں پر نہیں ہیں چونکہ  حضرت پیغمبراکرمۖ صاحب شریعت اور آئمہ طاہرین محافظ شریعت ہیں ، حضرت پیغمبراکرمۖ  کی حیات مبارک میں دین کامل ہوچکا ہے اب کوئی دین میں اپنی جانب یا بحیثیت شاعر کمی یا زیادتی کی تہمت نہیں لگا سکتا اور اگر کوئی تہمت لگائے بھی تواس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔

پیغمبر اکرم ۖ  کے شاعر نہ ہونے کی وجہ

حضرت ختمی مرتبت محمد مصطفیۖ کے شاعر نہ ہونے کا اصلی فلسفہ یہ ہے کہ اولا آپ کی ذات والا صفات کو امتیازی صورت بچشنی تھی تاکہ آپ کا قیاس شعراء پر نہ کیا جاسکے ،ثانیا قرآن کریم کی عظمت کو محفوظ رکھنا تھا تاکہ کوئی اس کو شعر کہہ کر نہ ٹال دے، ثالثا شعر گوئی میں دوسروں کی مدح و ثناء ہوتی ہے اور حضرت رسول اکرمۖ اس مرتبہ کمال پر فائز ہیں کہ جن سے بلند ماسوی اللہ کوئی نہیں تو وہ کس کی مدح کرتے یعنی آپۖ  کو صفت شاعری سے منزہ رکھنے کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ آپ خودممدوح ہیں نہ کہ مداح۔

 حضرت پیغمبراکرم ۖ کے شاعرنہ ہونے کی خاص اور اصل وجہ یہ ہے کہ آپ پراحکام شریعت خداوندعالم کی جانب سے وحی کے ذریعہ سے پہونچتے ہیں او روحی کا ادراک ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے لہذا کفار و مشرکین اس کو شعر کی نسبت دیتے تھے جبکہ وحی و شعر میں بہت زیادہ فرق ہے  مثلا:

٭ شاعر از خود الہام لیتا ہے اور پیغمبر از غیر یعنی خداوند عالم سے، پس وحی و شعر متفاوت ہوئے لہذا شعرکی وحی سے تشبیہ نادرست ہے ۔

شعراء منبع الہام کو داخل اور انبیاء منبع الہا م کو خارج جانتے ہیں لیکن جو لوگ مسائل فلسفی و عرفانی سے آگاہ نہیں ہیں وہ اس فرق کو درک نہیں کرسکتے کہ احساس و الہام کی ان دونوں قسموں میں کیا فرق ہے ۔

کفار معاصر رسول ۖ بھی چونکہ علم عرفان و فلسفہ سے ناواقف تھے لہذا اس مطلب کو درک نہ کر پائے اور نہ سمجھ سکے کہ خارج از خود بھی منبع الہام ہوسکتا ہے ۔

واضح ہے کہ اگر منبع الہام و احساس داخل یعنی خود انسان ہو جیسا کہ شعراء میں پایا جاتا ہے تو اچھے برے ہر طرح کے خیالات و احساسات کو ہر طرح کے الفاظ میں باندھ کر پیش کیا جا سکتا ہے ، لیکن اگر منبع الہام خارج از خود یعنی خداوندعالم کی ذات مقدس ہو تو پھر الہامات کے معانی بھی معجزہ ہونگے اور الفاظ بھی ۔ لیکن یہ بات اس دور کے کفار کی سطح سے بالا تھی ، لہذا قرآن نے اس فکر کو اس طرح پیش کیا ہے ۔

(ا کان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منھم۔۔۔)(٢١) لوگوں کو یہ دیکھ کر تعجب ہوتاہے کہ کیسے ہم میں سے ہی ایک شخص پر خداوندعالم کی جانب سے وحی نازل ہوتی ہے۔

٭ ٭ شاعر ، شعر کہنے کے بعد اگر چہ بہت اچھے شعر پر آمد کا احساس بھی کرے تو بھی ماوراء شاعر کوئی شٔ نہیں ہے کہ جس کی طرف اس القاء کی نسبت دی جائے۔ جبکہ وحی میں تین مستقل وجود ہیں ١ـ وحی بھیجنے والا ، خداوندعالم۔ ٢۔ وحی لانے والا ،فرشتہ ۔ ٣۔ وحی دریافت کرنے والا ، نبی۔

٭٭٭ شعر کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اس کا جواب اور توڑ مل جاتا ہے اور آج تک کسی شاعر نے بھی یہ چیلنج و دعوی نہیں کیا کہ میرے شعرکا جواب لائو اور نہ ہی کوئی کرسکتا ہے ۔ جبکہ قرآن کریم اپنے مقابلہ کے لیے بارہا چیلنج کرتا رہا ہے ۔جیسا کہ یہ مندرجہ ذیل آیات:

١ـ (ام یقولون مفتریات قل فاتوا بعشر سورمثلہ مفتریات وادعوامن استطعتم من دون اللہ ان کنتم صادقین)(٢٢)  یعنی کیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ خود  کا گھڑ ا ہوا ہے، آپ کہدیجیے کہ تم بھی اس طرح کے گھڑے ہوئے دس سورے لے کرآئو اور اللہ کے علاوہ جس کو بلاسکتے ہو بلائو  اگر تم سچے ہو ۔

٢ ـ (ام یقولون افتراہ قل فاتوا بسورة مثلہ وادعو ا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صادقین)(٢٣) یعنی کیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس نے خود نے گھڑ لیا ہے آپ کہدیجیے اس طرح کا کوئی سورہ لے کرآئو اور اللہ کے علاوہ جس کو بلاسکتے ہو بلائو  اگر تم سچے ہو ۔

٣ـ  (وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورة من مثلہ  وادعو ا شھداء کم من دون اللہ ان کنتم صادقین)(٢٤)  اور اگرتم شک میں ہو جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا تو تم بھی ویسی ہی سورت لے آئو اور اللہ تعالی کے علاوہ اپنے سب گواہوں کو بلالائواگر تم سچے ہو۔

٭٭٭٭اگر منشاء وحی  اور منشاء شعر ایک ہی ہوتے تو پھر کیوں شعر کو اقسام ہنر میں سے شمار کیا جاتا ہے جبکہ وحی کواقسام ہنر میں سے شمار نہیں کیا جاتاہے ۔

اور ان کے علاوہ بہت زیادہ  وحی وشعر کے درمیان فرق و تفاوت پایا جاتا ہے کہ جو اہل بصیرت  پر مخفی نہیں ہے ۔

نتیجہ

اس مکمل گفتگو سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ

مقام رسالت ایک منصب و عہدہ الٰھی ہے کہ جو انتخابی نہیں ہے بلکہ خدا وندعالم کی جانب سے عطا ہوتا ہے ۔(وربک یخلق مایشاء و یختار ما کان لھم الخیرة)(٢٥) آپ کا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا اور جس کو چاہتا ہے منتخب کرتا ہے لوگوں کو کسی کے اختیار کا حق نہیں ہے ۔

مقام رسالت اس قدرزیادہ امتیازات کا حامل ہے کہ جس کا کسی دنیاوی منصب و عہدہ سے یا کسی فن و ہنر سے قیاس نہیں کیا جاسکتاہے۔

مقام رسالت عصمت  کے ہمراہ ہے ۔

مقام رسالت  حامل معجزہ ہے۔

لیکن شاعری ایک ہنر ہے کہ جس کو ہرکس و ناکس کسب کرسکتا ہے اگرچہ استعداد و صلاحیت خداداد ہوتی ہے تو وہ ہر فن و ہنر میں ایسا ہی ہے بلکہ مطلق وجود انسان خداداد ہے کہ جس کا عھدہ و منصب الہٰی اور حجج کبریا سے تقابل غیرقابل قیاس ہے ۔

٭٭٭٭٭

منابع ومدارک

١ـ  سورہ انعام آیت ١٢٤                                ٢ـ  سورہ حج  آیت٥٢

٣ـ  سورہ احقاف آیت٣٥                             ٤ـ  سورہ بقرہ  آیت ١٢٤

٥ـ  سورہ بقرہ  آیت ١٢٤  

٦ـ  اقتباس از کتاب صراط الحق  جلد ٢ ،مبحث نبوت ورسالت۔ آیت اللہ محسنی

٧ـ  اقتباس از کتاب المنطق ، صناعات خمس ۔آیت اللہ محمد رضا مظفر

٨ـ  سورہ شعراء آیت ٢٢٤ـ٢٢٧                          ٩ـ  مسند احمد بن حنبل ج٣ ، ص٤٦٠

١٠ـ  مسند احمد بن حنبل ، ج٣ ، ص٢٩٩                      ١١ـ  تفسیر قرطبی ، ج٧، ص ٤٨٦٩

١٢ـ  خاتم المرسلین ، محمد ابو زہرہ ، ج٢ ، ص ٣٤٥              ١٣ـ   سورہ انبیاء  آیت٥

١٤ـ  سورہ شعراء آیت ٢٢٤ـ٢٢٧                        ١٥ـ  سورہ یاسین آیت ٦٩

١٦ـ  سورہ صافات آیت ٣٦                            ١٧ـ  سورہ طور آیت ٣٠

١٨ـ  سورہ حاقہ آیت ٤١                                ١٩ـ  خاتم المرسلین ، محمد ابو زہرہ ، ج٢ ، ص ٢٣٤

٢٠ـ  بحار الانوار ، علامہ مجلسی، ج ١٤ ،ص ١٢٣                ٢١ـ  سورہ یونس آیت ٢

٢٢ـ  سورہ ھود آیت ١٣                                 ٢٣ـ  سورہ یونس آیت ٣٨

٢٤ـ  سورہ بقرہ آیت ٢٣                               ٢٥ـ  سورہ قصص آیت ٦٨

پیام رافت شماره 2 حصه نثر 2

عصر رسالت کے شعرا ء کا تعارف

                                                          (بقلم:مجاھد علی مطھری)

جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٥٧٠ ئ میںمتولد ہوئے تو اس وقت جزیرةالعرب اور قوم عرب سیاسی اور اجتماعی بحران سے دوچار تھے . محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ابتدائی زندگی یعنی بچپن یتیمی میںگزارا ، وہ اپنی قوم کے حالات سے خوب واقف تھے ، اپنی قوم کے حالات دیکھ کر بہت رنجیدہ رہتے تھے . جب جوانی میں داخل ہوئے اور لوگوں کو بتایا کہ میں خدا کا منتخب کردہ نبی ہوں ، دین اور کتاب لایا ہوں اس وقت لوگوںکو توحید اور اسلام کی دعوت دینا شروع کردی . عرب کے لوگ اس وقت دو گروہوںمیںبٹ گئے . ایک گروہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا ساتھ دیا اور دوسرا گروہ ان کا دشمن بن گیا اور ان کے مقابلے میں آگیا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اور کفار مکہ کے درمیان اختلافات حد سے زیادہ بڑھ گئے اور انہوںنے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو اذیت دینا شروع کردی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ  ٦٢٢ ئ کو مکہ سے ہجرت کرکے یثرب یعنی مدینہ تشریف لائے ،یہ واقعہ مسلمانوں کی تاریخ کا آغاز تھا . اس کے بعد مسلمانوں اور کفار کے درمیان بہت سی جنگیں ہوئیں جن میں اکثر میںاسلام کو کامیابی ملی . رسول خدا ۖ نے اپنے اخلاق او رحسن سلوک کے ذریعہ بیشتر عرب قبائل کو اسلام لانے پر راغب فرمایا او ران کو اپنی رعیت میں شامل کردیا . وہ عرب رسول خدا ۖ سے اتنے مانوس ہوئے کہ اپنی جانیں رسول خدا ۖ  پر دینے کے لیے تیار ہو گئے . اور ایک بہت بڑی فوجی طاقت کی بنا ڈالی کئی ملک او رشھر فتح کئے اور اس طریقے سے ایک عرب یا اسلامی حکومت وجود میںآئی. جو وحدت عرب کا جلوہ بھی تھی اور وحدت اسلامی کے ثمرہ سے سرشاربھی . خدا وند عالم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو جزیرہ عرب میں ہدایت کے لیے منتخب فرمایا تھا اور اس وقت عرب میں شعر و شاعری کا عروج تھا بڑے بڑے شعراء اس وقت موجود تھے کہا گیا ہے شاعری اس وقت اتنی عروج پر تھی کہ اکثر لوگ آپس میں بات بھی نظم یا شعر سے کیا کرتے تھے . اس وقت شاعری کے لحاظ سے دو بڑے قبیلے اوس اور خزرج مشہور تھے جن قبیلوں میں شعراء کی تعداد بہت زیادہ تھی ذیل میںہم ان شعراء کا تذکرہ کریں گے ۔

 اس زمانے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے آکر حق کی آواز بلند کی اس حق کی آواز کو معروف کرنے اور اپنی نبوت کو ثابت کرنے کے لیے آپ کو ان شعراء اور ادیبوںکا مقابلہ کرنا تھا . اس لیے خدا وند عالم نے آپ کو قرآن بطور معجزہ دے کر بھیجا تاکہ آپ ۖان عربوں ، شاعروںاور ادیبوںکا مقابلہ کرسکیں . وہ جوعربی ادب کے دعوی دار تھے وہ بھی سر جھکا کر قرآنی آیات کو سلام کرنے لگے . اور کہنے لگے کلام محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ فصیح ہے تاریخ عرب میں نہ ایسا فصیح کلام ملا ہے نہ ملے گا . اس لیے کہ خدا نے ہر نبی کو اس دور کے مطابق معجزہ عطاکیا ہے . حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں سحر زیادہ تھا تو ان کو عصا کا معجزہ ملا . حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں مرض اور طبابت کا عروج تھا اس لیے ان کو مسیح بناکر بھیجا گیا جو برص اور بڑے بڑے مرضوں کا معالج قرار دیا گیا حتی کہ مردوںکو زندہ کرنے لگے . رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے زمانے میں شعر و شاعری کا عروج تھا اس لیے آپ کو قرآن جیسا فصیح کلام دے کر دیگر عرب ادیبوں پر برتری دے دی . نثر عرب زبان میں شعر سے کم دریافت ہو ئی ہے . کیونکہ عرب زبان خود زمانہ جاہلیت میںجو عرب زبان کا ادبی لحاظ سے سنہری دور شمار کیا جاتا ہے . نثر بہت کم مقدار میں دریافت ہوئی ہے لیکن اس کے مقابلے میں شعر بہت زیادہ ملا ہے . نثر کا کم ہونا اس کا سبب یہ نہیں کہ عرب نثر سے روگردان تھے بلکہ ہم دیکھتے آئے ہیں کہ اہل قوم خطابت ، ضرب المثل ، روایت قصو ںاور تاریخی خیالات کے مشتاق تھے لیکن پھر بھی نثرکے مقابلے میں شعر کو ترجیح دیا کرتے تھے اور نثر کے ادیب لوگ اتنے مشہور نہیں تھے جتنے شعر کے ادیب لوگ یعنی شعراء حضرات مشہور اور پسندیدہ تھے . خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے پہلے اور بعد میں دنیائے شعر میں ایسی ایسی شخصیتیںملی ہیں جن کا ثانی آج تک نہیں ملتا . وہ بڑے بڑے شعراء تھے ان میں سے جو عصر رسالت میں موجود تھے ان میں سے بعض ایمان لائے اور بعض کافر مرے ہیں لیکن ان کا ادب کے لحاظ سے ثانی موجودد نہیں . کیونکہ ہمارے مضمون کا عنوان بھی یہ ہے کہ عصر رسالت کے شعراء کا تعارف اعم از مسلم ہے و غیرہ . اس لیے بندہ حقیر نے کوشش اور سعی کی ہے کہ جتنا ہو سکے عصر رسالت کے شعراء کا کچھ مختصر تعارف کرایا جائے اور اسکے ساتھ میں '' بزم رأفت '' والے برادران شعراء کا بہت شکر گذار ہوں جنہوں نے یہ برنامہ تشکیل دیا ہے۔ تاکہ ہم تحقیق بھی کریں اور ادب سے دلچسپی بھی بڑھے . ویسے تو عصر رسالت میں بہت سارے مشہور شعراء ملتے ہیں لیکن ہم یہاں پر بعض کا ذکر کریں گے جو کہ زیادہ مشہور تھے ان شعراء کے زندگی ناموں کو لینے کے لیے بہت سی کتابوںکا سہارا لیا گیا ہے .

 حسان بن ثابت

حسان بن ثابت کا پورا نام ابو الولید حسان بن ثابت تھا اور یہ خزرج قبیلے سے تعلق رکھتا تھا . یہ قبیلہ یمن سے ہجرت کر کے حجاز میں آیا تھا اور یہ قبیلہ اوس کے ساتھ مدینے میںسکون پذیر ہوا تھا . حسان بن ثابت ولادت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آٹھ سال پہلے مدینے میںپیدا ہوا . اس کا خاندان نہایت شریف ، ہر دلعزیز  اور غزل کا مشتاق تھا . ایسے ماحول میںحسان نے پرورش پائی. زمانہ جاہلیت میںمدینہ میدان نزاع اور کشمکش کی جگہ تھی جہاںاوس اور خزرج جیسے دوبڑے قبیلے مد مقابل تھے . اور دونوںقبیلے شاعری کے لحاظ سے قوی تھے . قبیلہ اوس کا مشہور شاعر قیس بن خطیم اور قبیلہ خزرج کا شاعر حسان بن ثابت تھا.

حسان نے اپنے خاندان اور قبیلے کا دفاع کیا اور خودان کے بزرگوں نے اسکی حوصلہ افزائی کی اور بہت کم مدت میںاس نے عرب کے دوسرے بلاد میںبھی شہرت حاصل کرلی حسان بادشاہوںکیے دربار میںبھی گیا اور وہاںاپنے فن کا مظاہرہ کیا اور عرب کے بڑے بڑے شعراء مثلاً نابغہ الذبیانی اور علقمہ الفحل کے ساتھ اپنے شعر پڑھے اوردربار سے انعامات اور جائزے حاصل کئے،جن کی وجہ سے حسان توانگر ہوگیا . اس زمانے میںحیرہ بادشاہ کے پاس ابو قاموس نعمان بن منذر گیا اور نابغہ کا جانشین بن کر وہاں شعر پڑھنے لگا. جب اس نے حسان کی ادبی صلاحیتوںکو دیکھا تو اس کو نابغہ کی جگہ پر آنے کو کہا لیکن حسان اپنے قبیلے میںاستاد کی حیثیت حاصل کر چکا تھا اور اسلام بھی لاچکا تھا اور رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بھی رہ چکا تھا اور مدح رسالت بھی کر چکا تھا اس لیے اس نے حیرہ کو جواب دے دیا ، حسان ساٹھ سال کی عمر میں اسلام لایا .   اور اپنی شاعری کو دین کی خدمت میںوقف کردیا . قریش کے شاعروںکے حملوںکا جواب دیتا رہا . رسول خدا ۖ اور اسلام کا دفاع کرتا رہا . رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا ن کے اشعار کو سراھا اور خود رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا حجرہ اپنے گھر کے ساتھ بنایا اور بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر کیا .

 سیرین نامی عورت جو رسول خدا ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی ماریہ قبطیہ مادر ابراہیم کی بہن تھی اسکو بخش دی اور وہ قصرجو ابو طلحہ نے آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وقف کیا تھا حسان کو بخش دیا . لیکن حسان ایک بزدل انسان تھا اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں فقط اشعار پر اکتفا کیا شمشیر کے ساتھ کسی بھی جنگ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیںگیا. رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد حسان مہاجر اور انصار کے درمیان نزاع میںآگیا اور آخر کار انصار والوںکا ساتھ دیا اور عثمان کے طرفداروںمیںسے ہو گیا. اور اور قتل عثمان پر اس نے نوحہ لکھا . حضرت علی علیہ السلام کو عثمان کے قتل کا ذمہ دار ٹہرایا . حسان بن ثابت کا ایک دیوان ہے جو بارھا مرتبہ چاپ ہو چکا ہے خصوصا ً نوین صدی ہجری میںوہ مصر ہندوستان ، تیونس میںطبع ہو چکا ہے . کیونکہ حسان دینی اور سیاسی لحاظ سے خاص موقعیت رکھتا تھا اس  لیے اس کے اشعار بہت زیادہ مشہورہو گئے . اور یہ کا م دشمنان اسلام پر بہت گراںگزرتا تھا . بعض تاریخ پیغمبرۖ لکھنے والوںمثلا ً ابن اسحاق ، ابن ہشام نے ان کے اشعار کو بہت تلخیص اور تہذیب کے ساتھ سیرت پیغمبرۖ میںلکھا ہے . اور ان اشعار کا بھی تذکرہ کیاہے جو اس نے مدح نبی ۖ میں لکھے تھے . حسان کے اکثر شعرہجائی ہیںباقی انصار کے افتخارات ، مدح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،بادشادہ غسانی ، بادشاہ حیرہ کی مدح اور دیگر عرب اشراف اور سرداروںکی مدح میں لکھے ہوئے ہیں. حسان بن ثابت کے اشعار کو چار حصوںمیںتقسیم کیا گیا ہے

(١) حسان شاعر قبیلائی : یہ حصہ حسان کی شاعری کا زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتا ہے . اور اس میں فخریہ اشعار ہیں.

(٢) حسان شاعر تکسب: یہ وہ قسم ہے جس میں حسان نے دربار کی مدح اور بادشاہوں کی مدح میںشعر کہے ہیں انعامات حاصل کرنے کے لیے .

(٣) حسان شاعر اسلام: اس قسم میںحسان نے سیاسی مذہبی اور دینی شعر کہے ہیں اور اس قسم میں مدح رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  والے اشعار بھی شامل ہیں.

(٤) حسان شاعر لھو: اس قسم میں وہ اشعاراور غزل شامل ہیں جولھو ولعب اور شراب خوری کے متعلق ہیں . اس قسم کا تعلق بھی زمانہ جاہلیت سے ہے .

اس سے پہلے کہ حسان اسلام کی طرف آئے اس کے اشعار جاہلی تھے . وہ اپنے قبیلے کے دفاع میں تھے . حسان نے اپنی قوم کے دفاع کو اپنا وظیفہ سمجھا تھا . حسان کے لیے وہ وقت آزمایش کا تھا جس وقت اس کے قبیلے کا جھگڑا اوس قبیلے سے تعلق رکھتا تھا .دونوں کے درمیان ادبی جنگ شروع ہوئی . ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ وہ دوسرے قبیلے کونیچا دکھا کر اپنے قبیلے کو بلند کرے . اور ان کے فخر کو آشکار کرے .

حسان نے اس دور میںاپنی قوم کا فخر ظاھر کیا اور اپنی قوم کے متعلق ان کی شجاعت ،کرم ، شرف ، حسب و نسب کو عیاںکیا حسان بن ثابت نے اپنے دشمن شاعر قیس بن خطیم کے رد میںیہ غزل لکھی جو بہت مشہور ہے .

لعمر ابیک الخیر یا شعث                        ما بنا علی لسانی فی الخطوب ولا یدی

لسانی و سیفی صامان کلھما                 و تبلغ  مالا  یبلغ  السف  مذودی

وانی لمعط ماوجدت و قائل                   لموقد ناری لیلة الریح '' اوقد''

حسان نے اس کے علاوہ مدح اسلام اور مدح رسول خدا ۖ میں بھی کافی اشعار کہے ہیں ایک مشہور شعر جو حسان نے مدح اسلام اور رسول ۖ میںکہا تھا. اس میںاثبات رسالت پیامبر ۖ کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے . اس شعر میں حسان نے اپنے قلبی عقیدہ کا اظہار کیا ہے . یہ شعر دنیا اور مادیات سے خالی ہے .

بھنی اتانا  بعد  یاس و فترہ                          من الرسل والاوثان فی الارض تعبد

خامسی نالاً مستنیراً وھادیا ً                       یلوم   کما لام    المقیل     المھند

وانذر  نا نالاً و   بشر جفة                            وعلمنا   الاسلام   فا  اللہ  نحمد

وانت الہ الخلق ربی و خلقی                       بذالک ماعمرت فی الناس اشھد ''

اس کے علاوہ بھی حسان نے مدح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اشعار کہے  تھے . آخر کا ر یہ مداح رسول ۖ اور عرب کا بزرگ ترین شاعر عھد معاویہ میں ٥٤ھ کو دار فانی سے کوچ کر گیا . حسان بن ثابت کا زندگی نامہ حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الحیاة الادبیة بعد ظہور الاسلام ، چاپ قاھرہ۔   (٢) الروائع حسان بن ثابت، چاپ بیروت ۔

(٣) شاعر الرسول الثقافة فی الاعداد ۔             (٤) ادباء العرب ، ج  ١ ، چاپ بیروت ۔

کعب  بن زھیر

جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی دعوت عام شروع کی تو ان کے اور قریش مکہ کے درمیان ایک آگ والی جنگ شروع ہو گئی شاعران قریش نے خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی دعوت کو قریش پر ہجوم قرار دیا، اس طرف سے عربی ادب کے بڑھ بڑھ شاعر موجود تھے . جو اپنی ادبی صلاحیتوںسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کو حقیر کرنے کی پے در پے کوشش کر رہے تھے . جن میں عبد اللہ بن زبعری ، عمرو بن العاص . ابو سفیان بن حارث سر فہرست تھے . ان لوگوںکا کہنا تھا کہ جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرفداری کررہے ہیںان کے پاس کیا ہے جو ان کے طرف جارہے ہیں.

اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول خداۖ سے اجازت مانگی کہ ان سے مقابلہ کریں. ان میںسے حسان بن ثابت ، کعب بن مالک اور عبد اللہ بن رواحہ تھے کہ وہ شعراء قریش سے مقابلہ کریں، اسلام اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کریں کیونکہ قریش کے اشعارنبیۖ کے خلاف تھے . اور اسلام کی اہانت میںتھے . اگر یہ مقابلہ ہوتا تو وہ اشعار آشکار ہوتے اور مقام رسالت کی اہانت ہوتی . مسلمانوںکے درمیان فساد ہوتا کفار متحد ہوتے . اس لیے نبی اکرم ۖ نے اس مبارزہ کی اجازت نہیںدی تھی .

کعب بن زھیر وہ پہلا قریش کا شاعر تھا جس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اسلام کے خلاف اشعار لکھے تھے پھر بعد میں پشیمان ہوا اور ان اشعار کا ازالہ کیا . کعب بن زھیر بن ابی سلمی قبیلہ غظفان سے تھا اسکی ماںقبیلہ ام کبشہ سے تھی . وہ اس  ماحول میں پرورش پاتا ہے جو سب کے سب ادیب تھے .نسل ابو سلمی ' جو کعب کا جد تھا ' سے گیارہ نسلیں شاعر تھیں کعب نے اپنے بچپن میںہی نظم پر عبور حاصل کر لیا تھا . لیکن اس کے باپ نے اس سے منع کیا کہ وہ اپنے اشعار کو ظاہر کرے . جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعوت کو آشکار کیا تو اس زمانے میںکعب کے اشعار بہت مشہور تھے . اس کے بھائی بجیر نے اسلام قبول کیا تو کعب نے اس کی ملامت کی کہا کہ تم نے وہ دین قبول کیا ہے جو ہمارے آباء واجداد میںسے کسی کا نہیںہے . اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بد دعا دی وہ مھدور الدم ہو گیا . کعب نے ہر قبیلے سے پناہ مانگی لیکن کسی نے اس کو پناہ نہ دی ۔

 اس کے بھائی نے اس کو اسلام کی جانب مائل کیا کیونکہ کعب کے پاس کوئی اور پناہ گاہ نہ تھی . اس نے اسلام قبول کیا اور ایک قصیدہ لکھا بنام '' بانت سعاد'' پھر وہ مدینے آیا وہ قصیدہ رسول خدا ۖ کے سامنے پڑھا آپ نے اسے معاف کر دیا اور پناہ دے دی .

کعب کا ایک دیوان بھی ہے لیکن وہ اتنا گرانقدر نہیںہے کیونکہ اگر اس سے قصیدہ '' بانت سعاد '' نکال لیا جائے تو اس میںکوئی بھی اچھی چیز باقی نہیں رہتی . کیونکہ اس کے کچھ موضوعات معمولی ہیں . اس میںمدح و غزل اور ورثاء جیسے اہم چیزیں کم ہیں . لیکن اسکے بہترین اور گرانقدر اشعار وہ قصیدہ بانت سعاد ہے یہ قصیدہ'' المشوبات '' کے زمرے میں آتا ہے . اس قصیدے میں تقریباً ٥٨بیت ہیں . جن کی شرح کافی علماء نے کی ہے . جن میں ابن درید خطیب تبریزی ، ابن ہشام ، باجوری ، یہ قصیدہ بارہا ایشیا اور یورپ کی مختلف زبانوںمیں چھپ چکا ہے . مثلا ً  لا طینی ، فرینچ ، جرمنی ، انگلش اور اٹلی وغیرہ. قصیدہ بانت سعاد میںتین قسم کے اشعار ہیں .

(١) مقدمہ غزل میںقدیم شاعروںکے عادت  ۔١۔ ١٢.

(٢) اس ناقہ کی وصف جو شاعر کو معشوق تک پہنچائے  .  ١٣۔ ٣٣.

(٣) مدح پیامبر ۖ اور مدح مہاجرین  ٣٤۔٥٨.

کعب اپنے باپ اور استاد کے بہت زیادہ اوصاف رکھتا تھا وہ جزئیات جن کو اس کے باپ نے اس کو پرورش کئے تھے . تجلی کرنے لگے . اس کے ایسے اوصاف تھے . جو اس کے کلام میں موجود رہتے تھے . وہ اوصاف اتنے طاقتور و حرکت والے تھے جو اس کی شاعری کو عیاں کر دیتے تھے . کعب کے اشعار میں صناعت آشکار ہے  بعض اس کے ایسے اشعار دیکھے گئے ہیں . جن کی مضامین ذہن کو جذب کر دیتے ہیں . جو اس کی فصاحت و بلاغت کا واضح ثبوت ہے . کعب بن زھیر نے بھی مدح رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہت سارے اشعار کہے ہیں اس کی ایک غزل جو مشہور ہے اس میں اس نے رسول خدا ۖ کو نور سے تشبیہ دی ہے . جس نور سے تلواریںبھی روشنی لیتی ہیں.

ان الرسول لسیف یستضاء بہ                         مھند من سیوف اللہ مسلول

عصبہ من قریش قال قائلھم                             ببطن ملہ لما اسلو''معازیل ''

زالو خمازال انکا س ولاکشف                          ون اللقاء ولامیل معازیل ''

جب کعب نے اسلام قبول کیا تو مکہ والوں نے اس کو ہجرت کرنے پر مجبور کردیا بالآخر اس نے مکہپ سے مدینے کی طرف ہجرت کی، یہ کعب بن زھیر کے اشعار تھے جن سے بلاغت و فصاحت کے چشمے پھوٹ رہے تھے .  کعب بن زھیر کی زندگی نامہ کے لیے مندرجہ ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا ہے .

(١) الروائع کعب بن زھیر، چاپ بیروت ۔          

(٢) شعر الطبیوفی ادب العربیہ ، چاپ قاھرہ

(٣)  حدیث الاربعاء ،ج١ ، چاپ ثانوی .

ابو  ذئویب الھذلی

ابو ذئویب خویلد بن خالد الھذلی النزاعی کا شمار ان شعراء میں ہوتاہے جنہوں نے زمانہ جاہلیت کو درک کیا تھا .ابو ذئویب نے اسلام کو قبول کرنے کے بعد مدینہ میں سکونت اختیار کی ابتدائی اسلام کی بہت ساری غزواة اور فتوحات میں شریک ہوا اس نے عثمان کا دور خلافت بھی درک کیا . ابوذئویب عبد اللہ بن سعد کے لشکر کے ساتھ شمال آفریکا گیا . اوراس فتح میںشریک ہوا . بعد میںعبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ مصر میں آیا اور تقریبا ً  ٦٤٢ئبمطابق ٢٦ ھ کو وہاںہی وفات پائی . ابو ذئویب کے قصائد بہت سارے ملتے ہیں. ابن قتیبہ ان میںسے بعض کو اپنے کتاب '' الشعرو الشعراء '' میںلایا ہے . ابو ذئویب کا مشہور ترین شعر '' قصیدہ عینیہ '' ہے جو اس نے اپنے پانچ بیٹوں جو مصر میں طاغوت کے ظلم سے وفات کر گئے تھے کے رنج میںلکھا تھا وہ یہ ہے .

والد ھر سیس معتب من یجزع                          امن المنون و ریبہ تتوجع ''

ابو ذئویب کے اشعار رنج دہندہ تھے جس طرح ایک اور ان کا مصرع ہے جو کہ بہت غم دینے والا ہے .

 ''فالعین بعدھم کا حداقھا                          کحلت بشوک فھی عور تدمع ''

ابو ذئویب نے یہ اشعار اپنی روح کی تسکین کے لیے کہے تھے اور وہ ان بیتوں کی وجہ سے بہت مشہور ہوا

واذا المنیةانشبت اظفارھا                              الفیت کل تمیة لاتنفع 

اس کا سخن، روان اور منسجم ہے اور تکلف سے عاری ہیں ۔

 ابو ذئویب کے زندگی نامے کیلیے حسب ذیل کتب سے استفادہ کیا گیا .

(١)دایرة المعارف ، ص ١٥٠۔        (٢) حیاة الادبیہ بعد ظہور الاسلام ص ٢٣٨ ، چاپ قاھرہ۔

نابغہ الجعدی

ابو لیلی حسان بن عبد اللہ الجعدی العامریکو نابغہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے عصر جاہلیت کو درک کیا اور فوراً جب اسلام نے ظہور کیا تو وہ اسلام میں داخل ہو گیا نابغہ زمانہ جاہلیت میںعزت دار زندگی گزار رہا تھا۔جب اسلام نے ظہور کیا وہ ایک گروہ کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لایا ایسی بہت ساری زندگی مہاجرت میں گزاری اس کا شمار یاران حضرت علی علیہ السلام میںہوتا ہے . اور اس نے معاویہ اور بنی امیہ سے بہت سختیا ں برداشت کیں . جنگ صفین میںحضرت علی علیہ السلام کے لشکر میںشامل تھا اپنی زبان اور شاعری کے ذریعے ان کی مدد کی .

حضرت علی علیہ السلام کے بعد جب عبد اللہ بن زبیر نے یزید اور مروان پر خروج کیا تو وہ عبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ ہو گیا اس کی مدح میں اشعار لکھے اور ابن زبیر سے انعامات حاصل کئے . جب فتنے زیادہ ہو گئے تو اس نے ان بلاد کا قصد کیا جو مفتوح ہو چکے تھے . باالاخر وہ اصفہان میں آیا وہاں اپنی باقی زندگی گزاری نابغہ سے بہت سارے اشعار، ھجا ، مدح اور رثاء میں ملتے ہیں . وہ اپنے اشعار میںگھوڑے کی وصف کرنے میںبہت مشہور تھا اس کے مشہور قصائد میں سے یہ قصیدہ ہے جو اس نے مدح رسول خدا ۖ میں لکھا تھا ۔

 '' خلیلی عوجا ً ساعة و تھجرا               ونوحا علی مااحدث الدھر او ذرا .

نابغہ ایک طبیعی شاعر تھا . نابغہ نے اپنے اشعار میںتنقیح کو ظاہر کیا ہے

 . نابغہ   ٦٩٩ئ  برابر  ٨٠ھ کو اصفہان میں انتقال کر گیا . نابغہ کی زندگی نامے کو مندرجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) جواھر الادب، ج ٢، ص ١٦٢.

(٢) الحیاة الادبیہ بعد ظہور الاسلام، ص ٢٩٨.

قیس بن سا عدہ

قس بن ساعدہ اپنے زمانہ کا خطیب ، حکیم او رقاضی العرب تھا وہ نجران میں رہتا تھا . قیس بن ساعدہ بازار میں زیادہ جایا کرتا تھا  . لوگوں کو اپنے اشعار سناتا تھا . لوگوں کو بت پرستی سے اپنے اشعار کے ذریعے روکتا تھا . خداوند کے غضب اور قہر سے لوگوں کو ڈراتا تھا . وہ خود دنیا اور اس کی رنگینیوں سے بیزار تھا . اپنی حاجت کے مطابق اکتفا کرتا تھا . لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتا تاکہ وہ ایک کی عبادت کریں اور اس کو سجدہ کریں .

وہ بہت بڑی عمر کے ساتھ  ٦٠٠ء کو انتقال کر گیا . اس کے سخن صنایع لفظی سے دور تھے اس نے بڑے بڑے مطالب کو کوتاہ جملوں بند کر دیا تھا .وہ اپنے کلام میں مثال لاتے وقت بڑی توجہ رکھتا تھا اس کا وہ خطبہ جو اس نے بازار '' عکاظ '' میں کہا تھا . جو راویوں نے روایت کیا ہے . وہ ایک ادب کا شاہکار ہے اس خطبے کا ثانی  عربی ادب میں نہ ملا ہے نہ ملے گا . وہ خطبہ یہ ہے .

ایھا الناس اسمعو ا وعو و اذا وعیتم فانتھو آت آت . مطر و نبات و ارزق و اقوات و آبا ء و امھات و احیاء و اموات و جمع و شتات و آیات بعد آیات لیل موضوع و سقف مرفوع''

قیس بن ساعدہ نے دوسرے بھی بہت سارے خطبے لکھے ہیں اور بہت ساری غزل ،بیت، مدح والے اشعار لکھے ہیں جو مختلف کتابوں میںموجود ہیں . ان کا زندگی نامہ حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١)حجز الاسلام،ص٦٠، چاپ قاھر ہ

(٢) الفن و مذاھبہ فی النشر العربی،ص٣،چاپ قاھر ہ .

(٣) قطور الاسالیب النشریہ دی الادب العربیہ،ص٢٦،چاپ بیروت .

اکثم  بن صیفی

اکثم بن صیفی بن ریاح بن حارث تمیمی اپنے زمانے کا مشہور ترین حاکم ، خطیب اور قاضی العرب تھا .

 زمانہ جاہلیت میں وہ نیک مرد مشہور تھا. اسکی قضاوت سے عرب بہت مانوس تھے جو بھی وہ فیصلہ کرتا تھا لوگ اس کی خلاف ورزی نہیںکیا کرتے تھے . کیونکہ اس کے سخن حکمت آمیز تھے جو بعد میں ضرب المثل بن جاتے تھے . ۔

کہا جاتا ہے کہ نعمان منذر نے نوشیروان کی دربار سے عربوں کے بارے میں کوئی بات سنی تھی . جو اس پر گراں گزری تھی اس نے سوچا کہ عربوں کی ہوشیاری اور فضل کو نوشیروان کی کسری میں پہنچا ئے ،اس گروہ میں اکثم بن صیفی بھی تھا اکثم نے وہاں اپنا مشہور خطبہ خسرو کی دربار میںپڑھا جو عظمت اور حکمت سے سرشار تھا . وہ یہ ہے .

        '' ان افضل الاشیا ء اعالیھا          واعلی الرجال ملوکھم و افضل

           الملوک اعمھا نقعا ً...  اصلاح فساد الرعیة خیر من اصلاح

          فساد الراعی شر البلاد لا امیر شر الملو ک من خافة البریئ.

         جب اکثم کا ووقت مرگ قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوںکو جمع کیا ان کو نصیحتا ً کہا

'' یا بنی الذھر ادبنی و قر احببت ان اودیکم و ازودیکم امر اً یکون لکم بعدی معملاً یا بنی تبارو فان البر ینسی فی الاجل و ینھی العدد و کفو السنتکم فان مقتل الرجال بین فکیہ ''

اکثم کا یہ شیوہ تھا کہ وہ عقل کو اپنے سخن پر حاکم رکھتا تھا . غلو اور مبالغہ سے دوری رکھتا تھا . اپنے کلام میںاعجاز حکیمانہ کو بیان کیا کرتا تھا . تالیف وحدتی کی رعیت کرتاتھا . اکثم نے   ٦٣٠ئ  برابر  ٩ھ  میں وفات کی . اکثم کا زندگی نامہ مندوجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الخطابہ عبد العرب،چاپ قاھرہ،٢المشرق،ص٩٩.

(٢) ایام العرب دی الجاھلیة، چاپ قاھرہ .

حطئیہ

اس کا اصل نام جرول بن اوس معروف بہ حطئیہ تھا . جو عبس کا رہنے والاتھا . اس کی والدہ کا نام ضراء تھا . اس کے بھائیوں نے چاہا کہ اس کو اپنے ساتھ خاندان میں ملحق کر دیں. لیکن اسنے قبول نہ کیا۔

 اس کی ماںبنی ذھل قبیلے سے تھی انہوںنے بھی درخواست کہ وہ ان کے ساتھ مل جائے لیکن اس نے انکار کردیا .

 

اس کے بعد اس کی زندگی بے رنگ ہو گئی . پھر وہ قبیلہ بہ قبیلہ پھرتا رہا کچھ کچھ شرم کے فضائل اس میں موجود تھے پس اس نے اپنے کسب کا ذریعہ شاعری کو قرار دیا اگر کوئی اس کو کوئی چیز دے دیتا تو وہ اس کی مدح کرتا اگر نہ دیتا تو وہ اس کی ھجا کرتا . اس کی زندگی سخت گزرنے لگی . وہ مشکلات میںگھرتا گیا .

بالاخر حطئیہ نے ام ملیکہ نامی ایک عورت سے شادی کردلی، وہ دوسرے لوگوں کی نسبت اپنی بیوی اور بیٹوں سے سخت رویا رکھتا تھا . اس سے آشکار ہوتا ہے کہ اس کوعکس العمل کہا جاتا ہے . اس کی زندگی سخت پر تلاش اور بی ثمر ہونے کے علاوہ او رکچھ بھی نہ تھی۔ حطئیہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری زندگی میںاسلام لایا . پھر بھی اس کا ایمان اسقدر نہ تھا اس کا ایمان دل میںداخل نہیں ہوا تھا . وہ آخری عمر تک ضعیف الایمان رہا . حطئیہ تقریباً   ٦٧٩ئ  میںوفات کرگیا اس نے آخری عمر میںجب موت کو قریب دیکھا تو کہا مجھے گدھی پر سوار کرائو . مرد بزرگ بستر پر نہیںمرا کرتے . اس نے دم نہ توڑا .گدھے سواری کرتا رہا . آخر میںاس نے یہ اشعار کہے ''

لا احدالام من حطئیہ ھجا بینہ و ھجا المریہ ۔۔ من لئومہ مات علی ضریہ

 حطئیہ کا ایک دیوان ہے جو کہ کافی راویان کے پاس موجود تھا اس دیوان کو پہلی مرتبہ  ١٨٩٠ئ  قسطنطنیہ میں، دوسری مرتبہ  ١٨٩٣ ء  لایپزیک میں، تیسری مرتبہ  ١٨٠٥  ء کو مصر میںچھپا. اس کا دیوان مدح ، ھجو ،فخر ، اور غزل پر مشتمل ہے . حطئیہ نے اپنی ما ں کے دوسرے شوہر کے ہجا میںیہ شعر کہا ؛

               لماک  اللہ ثم لماک حقا                                   ابا ولعاک من عم و خال 

     فنعم الشیخ انت لدی المضازی                                وبئس الشیخ انت لدی المعالی

        صمت اللوم لا حیاک رہی                                      وابواب    الشفاھة   و الضلال

حطئیہ نے شاعری کو وسیلہ معاش قرار دیا تھا لیکن پھر بھی وہ ہنر شاعری سے غافل نہ تھا . پس یہ زھیر ابن ابی سلمی کا پیر و تھا اور اس کی تقلید کیا کرتا تھا . حطئیہ کا زندگی نامہ حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الاربعا ء ج١ چاپ قاھرہ          (٢) الروائع حطئیہ  ص ٢٩  چاپ بیروت                                       (٣) الادیب ص ٩.

خنسائ

اس کا اصلی نام ام عمر و بنت عمرو ابن شریر تھا یہ خنساء کے نام سے مشہور تھی . اسکا تعلق بنی سلیم سے تھا .

اور وہ تقریباً ٥٧٥ئ میں پیدا ہوئی . اسنے دو شادیاںکیںپہلے شوہر کا نام عبدلعزی تھا جس سے اس کو ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام عمرو تھا . اس کا دوسرا شوہر مرداس السلمی تھاجس سے اس کو کافی بیٹے پیدا ہوئے . اسکے دو بھائی معاوضہ اور صخر بنی سلیم کے بزرگ تھے جب وہ مارے گئے تو خنساء نے ان کے لیے بہت گریہ کیا . حتی کہ نابینا ہوگئی . صخر ایک صفات عالیہ عرب بدو تھاجو شجاعت کرم اور وفا سے آراستہ تھا . خنساء سے بہت ساری عمر پائی حتی اسلام دریافت کیا جب مسلمانوںنے ایران پر حملہ کیا تواس کے بیٹے قادسیہ کے مقام پر قتل ہو گئے . جب یہ خبر خنساء تک پہنچی کہ اس کے بیٹے مارے گئے ہیںتو اس نے کہا خدا کا شکر ہے کہ وہ مقام شہادت پر فائز ہوئے خدا مجھے بھی ان کے ساتھ جائے رحمت میںجگہ دے . خنساء نے تقریبا  ٦٦٤ئ  ٨٩ سال کی عمر میںوفات پائی . خنساء کا ایک دیوان ہے جو سارا اس نے اپنے بھائیوںخصوصا ً صخر کے مرثیے میںلکھا ہے . یہ دیوان کئی مرتبہ چاپ ہوا اور اس کا ترجمہ بھی کئی زبانوں میںہوچکا ہے . الیسوئی نے خنساء کے دیوان پر خاص توجہ دی ہے . اور اس پر ایک شرح بھی لکھی ہے .

 بنام ''انیس الجلساء فی شرح دیوان الخنساء '' جو ٨٩٥ئ میںطبع ہو چکا ہے . خنساء وہ عورت تھی  جو اپنے درد دل کا احساس کرتی تھی . وہ اپنے بھائیوںسے بے حد محبت کرتی تھی . بھائی بھی اسکی زندگی میںتکیہ گاہ تھے . جب اس کا بھائی صخر مرگیا تو اس کی آنکھوں سے خون جاری ہوا .اس کی دل سے دلسوز شعر محبت کہا گیا ہے .اس کی شاعری کا مصدر عاطفہ تھا . جو اس کی شاعری میںحرارت پیدا کردیتا تھا . اسکی شاعری گریہ اور نالہ کرنے پر مجبور کر دیتی تھی . اگر چہ خنساء کی شاعری میںعاطفہ تھا پھر بھی اس کی شاعری مبالغہ سے خالی نہ تھی . مثلا ً

       فلا واللہ ما انساک حتی         افارق  مھجتی     و یشق     رمسی

        فیا لہفی علیہ و لہف امی        ایصبح فی الصنریح و فیہ یمسی

خنساء کی تاریخ زندگی حسب ذیل کتب سے لی گئی ہے . (١) شہیرات النساء فی العالم الاسلامی،ص٢۔(٢ )الودائع خنساء ص ٢٨۔(٣)الخنساء شاعرة البکائ، چاپ دمشق.

لبید  بن  ربیعہ

اس کا پورا نام ابوعقیل لبید بن ربیعہ تھا وہ شجعان قوم سے تعلق رکھتا تھا . بخشنے والا ، مھربان ، دلیر اور غریبوں کی مدد کرنے والا شخص تھا اس کا دسترخوان ہمیشہ مہمانوں کی پذیرائی کے لیے کھلا رہتا تھا اس نے  ٦٢٩ئ کو اسلام قبول کیا . وہ شاعری کرتا تھا . اس نے کوفہ میں اپنی سکونت اختیار کی اس نے کئی سال اپنی عمر کے وہاں گزارے .آخر کا ر اس نے  ٦٦١ئ میںوفات کی. لبید کا ایک دیوان ہے جو پہلی مرتبہ ١٨٨٠ئ میںطبع ہوا اس کا جرمن زبان میںبھی ترجمہ کیا گیا ۔

 اس کا مشہور کلام ،قصیدہ معلقہ تھا جو ٨٨ بیت پر مشتمل ہے . اس قصیدہ میںاس نے دیار کا ذکر کیا ہے . ناقہ کی وصف ، ایام لھو و لعب کا ذکر شاعر کے افتخارات کا ذکر اور اپنی قوم کی شجاعت کا ذکر کیا ہے . اس  کاایک شعر حسب ذیل ہے .

       عفت الدیار مصلھا فمقامھا             بمغی تابر غولھا فرجامھا

لبید وہ شاعر ہے جس نے شعروںاور ان کی تاثرات کو اپنی شاعری میںنقش کیا ہے . لبید ایک پرجوش اور صداقت سے سرشار شاعر ہے . لبید کے اشعار سادہ اور صلابت سے سرشار ہیں اس کے اشعار میںصداقت اور سادگی ظاہر ہوتی ہے . وہ خود بھی سادہ اور صداقت والی زندگی گزارتا ہو گا . اس کے اشعار اس کی زندگی کی عکاسی کر رہے ہیں. لبید کے اشعار اور مرثیہ پر سوز تھے وہ دل میںعمیق اثر چھوڑ جاتے تھے لبید کا زندگی نامہ مندرجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الروائع لبید بن ربیعہ، چاپ بیروت .    (٢) المعلقات العشر واخبار شعرائھا، چاپ قاھرہ .

اعشی الاکبر

ابو بصیر میمون بن قیس البکری معروف بہ اعشی الاکبر ٥٣٠ئ میںیمامہ میں منفوحہ کے مقام پر متولد ہوا . اس کا پہلا راوی خود اس کا مامو مسیب بن علس تھا۔

. اعشی ایک عشرت طلب آدمی تھا . یہ قمار بازی اور دوسری لگویات میںمصروف رہتا تھا .انکی وجہ سے وہ اسراف اور اتلاف میںگرفتار ہو گیا . اس لیے اس کو مال جمع کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا .

 وہ یمامہ سے یمن ، بادیہ ، حجاز ، حیرہ ، عمان ، فلسطین ، عراق ، اور ایران گیا . کوئی ایسا بادشاہ نہ تھا . جس سے اس نے مالی مدد طلب نہ کی ہو .اعشی اپنے زمانے میں خاصہ اثر والا شخص تھا زمانہ جاہلیت میںجس کی وہ مدح کرتا تھا وہ اس کو مال بخش دیتا تھا . جس کے لیے اس نے مدح کی اس کی منزلت بڑھ گئی،

جو چاہتا تھا کہ اعشی اس کو اپنے اشعار میں یاد کرے اسے کچھ مال دے دیتا تھا .وہ اس کو اپنے اشعار میں یاد کرتا تھا .اعشی ٦٢٩ئ میں وفات کر گیا . ابو الفرج اصفہانی اعشی کے زمانے کا تھا . وہ روایت کر تا ہے کہ اس کی قبر کو میںنے دیکھاکچھ نوجوان اس کی قبر پر موجود تھے . وہ اس پر مٹی برسار ہے تھے . تاکہ اس کے استخوان کو زمین میںدفن کردیں . اعشی کا ایک بہت بڑا دیوان ہے . اس نے تمام ابواب میںطبع آزمائی کی ہے لیکن اسکے  بیشتر اشعار مدح میں ہیں. غزل ، وصف ، اور خمر میںبھی اس نے کافی اشعار لکھے ہیں . اس کے مشہور قصائد میںایک قصیدہ معلقہ ہے .''

     ودع ھریرہ ان الرکب مرتحل                     وھل تطیق وادعا ً ایھا الرجل ''

قصیدہ معلقہ تقریبا ً  ٦٥ بیت پر مشتمل ہے .اس کا جرمن ، فرانسوی اور فارسی میں ترجمہ ہو چکا ہے .اعشی شعر کہنے میں نابغہ کا پیرو تھا . اس نے اپنے اشعار میں بادشاہوںاور عام لوگوں میںفرق نہیں کیا . ہر وہ جو اس کو کچھ دیتا وہ اس کی مدح کرتا تھا . اس عمل کی وجہ سے گداگر ہو گیا . کہا گیاہے کہ وہ پہلا آدمی تھا . جس نے شاعری کے ذریعے گدائی کی ہے .

اس کی مداحی کا طریقہ کا ر وہی پرانا تھا . یعنی وہ قصیدہ کی ابتدا یا غزل یا وصف فخر یا مجالس لھو لعب سے کیا کرتا تھا . اس کے بعد وہ ناقہ کی وصف اور سفر کو بیان کرتا تھا .یعنی شجاعت ، شرافت ، نسب ،کرم اور فریا د رسی وغیرہ . اعشی کے شعر میں وصف زیادہ ہے .لیکن اس کی وصف تشبیہ مادی پرموقوف تھی جو موصوف کو مجازا ً مجسم کر دیتی تھی .

 وہ دقایق او رحرکا ت کو اچھی وصف سے بیان کرتا تھا . وہ اپنی وصف میںان قصوںکو بیان کرتا تھا . جو وہ روزانہ لھو لعب کی مجلسوںمیں اپنے دوستوںکے ساتھ برپا کرتا تھا . اور و ہ چیزیں لاتا تھا جو وصف انسانی کو بیان کرتی ہوں.

اعشی کے دیوان میںشراب کی وصف اکثر دیکھی گئی ہے .

 وہ شراب کو تفاخر کی خاطر نہیںبلکہ عادت شاعری کیوجہ سے پیا کرتا تھا اور اسکی وصفیںبیان کرتا تھا . اعشی ایک ایسا شاعر تھا جس نے فرہنگ عربی سے بہرہ مندی حاصل کی۔ اور اپنا شیوہ زندگی ایرانیوںسے سیکھا . اس کے عصر کے شعراء اسکو '' صناحة العرب '' کے لقب سے پکارتے تھے . جس کا معنی ہے چنگی عرب . اس کی زندگی کو حسب ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) دراستہ الشعراء  ص ٢٨٦ ، چاپ قاھر ہ ۔      (٢) الروائع ص ٣١، چاپ بیروت .

عنترہ  بن شداد العبس

عنترہ بن شداد بن العبسی المصری ٥٢٥ئ کو نجد میں پیدا ہوا . اس کا باپ عبس کے اشراف خاندان سے تھا اس کی ماںایک حبش کنیز تھی جس کا نام زبیبہ تھا . جس کو شداد نے ایک جنگ میںاسیر کیا تھا .

 زمانہ جاہلیت میںیہ رواج تھا کہ کنیزوںکے بیٹوںکو باپ اپنے بیٹے تصور کرتے تھے جب وہ کوئی کا ر خطا نہ کریں .عنترہ اپنے باپ کے گھر میںرہتا تھا . گھوڑوںاور اونٹوںکو چرایا کرتا تھا . ان دنوںاس کی دلیری ، سواری ، مشہور ہو گئی . عنترہ ان دنوںداستان اور افسانہ نگاری سے خوب واقف ہو گیا تھا . اس کی وجہ سے اس کی مدح سرائی کی . اور ان کا اپنی شاعری میںاچھے انداز سے ذکر کیا . ان دنوںاتفاق ہو اکہ قبیلہ طیئی والوںنے قبیلہ عبس پر حملہ کردیا .طیئی والے چاہتے تھے کہ عبس والوں کے اونٹ اپنے ساتھ لیجائیں،طئیی والوںنے عنترہ کو ایک حملہ میںقبضے میںلے لیا تھا لیکن عنترہ سرباز تھا ا سنے جوابی حملے میںاپنے آپ کو آزاد کر الیا . عنترہ کا ایک دیوان ہے جس میں١٥٠٠ بیت ہیں . جو بیروت میںچاپ ہو چکا ہے . اس کے بہت سارے قصائد ہیںجن میں مشہور قصیدہ کا '' مطلع'' ہے :

   ھل دار عبلة بالجوء تکلمی         وعمی صباحاً دار عبلة واسلمی ٰ ''

عنترہ کو حرب سباق میںقتل کیا گیا تھا . عنترہ ایک بزرگ شخصیت تھا اس جیسے شاعر عصر جاہلیت میںکم دیکھے گئے ہیں. عنترہ  ٦١٥ئ میںقتل کیا گیا . عنترہ کا زندگی نامہ مندرجہ ذیل کتب سے لیا گیا ہے .

(١) الروائع عنترہ بن شداد،  چاپ بیروت .(٢) شعراء النصرانیہ، چاپ بیروت .

زھیربن ابی سلمی

زہیر بن ابی سلمی ربیعہ قبیلہ مزینہ سے اور مزینہ قبیلہ مضر سے تھا . زہیر ٥٣٠ئ کو نجد میںپیدا ہوا اس کا باپ ربیعہ اپنی قوم مزینہ سے خارج ہو کر قوم غطفان میںشامل ہو گیا . اس قبیلے کی ایک لڑکی ام عبرہ سے شادی کی. اس عورت سے زہیر پیدا ہوا . پھر زہیرنے قبیلہ غطفان میںتربیت حاصل کی غطفان قبیلے میںایک شخص زمینگیر تھا . جو توانگر تھا . وہ زہیر کے باپ ربیعہ کا ماموںتھا . اور شاعر بھی تھا . زہیر نے اس کی ملازمت اختیار کر لی پھر وہ اپنی ماںکے دوسرے شوہر اوس بن زعیم جو مکتب مضر کا پیرو تھا .سے شاعری سیکھی .

زھیر نے غطفان قبیلے میںدو مرتبہ شادی کی . پہلی کا نام ام اوفی ہے بعد میںاس کو طلاق دے دی . پھر اس نے کبشہ نامی عورت سے شادی کی اس سے دو بیٹوںکا باپ بنا . اس کا ایک بیٹا کعب بن زہیر صاحب قصیدہ ''بانت سعاد'' دوسرا بحیر تھا زہیر نے تقریبا ٩٠ سال کی عمر میں٦٢٧ئ کو وفات کی . زہیر نے ساری زندگی وقار اور بردباری سے گذاری . وہ صلح اور نیکی کا دوستدار تھا . بعض مورخان نے لکھا ہے کہ وہ نصرانی تھا کیونکہ ایک دیندار ، سچا اور ایمان دار شخص تھا۔

 زھیر کا ایک دیوان ہے . اس دیوان میںاشراق غطفان ، مدح ہرم بن سنان ، غزل فخر ، ھجو موجودہے . اس کے مشہور قصیدہ کا مطلع حسب زیل ہے .

       ''امن ام اوفی دمنہ لم تکلم                 بحو  ماتة    الدراج    فالمثلم ''

زہیر نے تربیت اپنے باپ اور ماموں سے حاصل کی، زہیر ایک قاضی اور حکیم اور صلح پسند انسان تھا۔

 اس کی زندگینامہ مندرجہ ذیل کتب سے اخذ کیا گیا ہے۔

(١) الادب الجاہلی، ص ٢٩٩،چاپ قاہرہ۔

 (٢) الشعر الطبیعة فی الادب الاربیة،ص٨٧، چاپ قاہرہ۔

پیام رافت شماره 2 حصه نثر3

  شعراء اہل بیت 

بقلم:  سید محمد باقر نقوی        

الحمد للہ رب العالمین والصلوة والسلام علی سید المرسلین وعلی آلہ الطیبین الطاھرین المعصومین اما بعد ؛

اللہ تبارک تعالی نے اس کائنات کو خلق فرمایا اور اسکی تدبیر وتنظیم کو احسن طریقے سے انجام دیا اس نے ہر مخلوق کو نرالے اعضاء وافعال عطاکیے اس لیے اس وسیع کائنات کی جس چیز کو بھی عاقل انسان دیکھتا ہے تو وہ اسے تعجب میں ڈال دیتی ہے اور وہ بے اختیار اسکے خالق ومالک کی حکمت واحسن تدبیرکی تعریف کرنے لگتاہے .

اسکی حسن صفت کی مثالوں میں سے ایک انسان اور اسکی زبان ہے اس نعمت کے متعلق ایک مفصل بحث کی جاسکتی ہے اسکے فوائد لا محدود ہیں لیکن چونکہ انسان کو مختار قرار دیا گیا ہے اس لیے اس بحث کو مختصر مقدمہ میں سمویا نہیں جاسکتااتنا نہایت واضح ہے کہ اللہ تعالی کی اس نعمت کا اصل مقصد افھام وتفہیم ہے اسی سے انسان اپنی ضروریات کو پورا کرتاہے اب زبان سے نکلنے والے کلمات کو جملوں میں ترتیب دیا جاتاہے اسکی دو قسمیں ہیں .

 (١)نثر(٢) نظم

دونوں میں چونکہ فرق واضح ہے اولی الذکر میں فصاحت و بلاغت کا قطعاً انکار نہیں لیکن ماہرین ادب کے بقول ثانی الذکر کی فصاحت و بلاغت میں ایک چیز موجود ہے جادوئی تاثیر سے بھی تعبیر کیا جاتاہے .

جیساکہ بنی اکرمۖ سے امالی شیخ صدوق  بلکہ اھل سنت کے کئی مدارک میں منقول ہے کہ ؛ انّ من البیان لحکمة ً وانّ من الشعر لسحراً .

یعنی شعروں کے وزن و قافیے اور اسکی مواد تخییل کی وجہ سے اسکی زیادہ تاثیر ہے .ہر دور میں شعر وشعراء کی عظمت کو ماناگیا ہے.قوم عرب زمانہ جاہلیت میں اپنے شعراء کو نہایت عظمت و عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے . اسلام نے بھی شعراء صالحین کو یقینا بے عظمت و بے قیمت قرار نہیں دیا بلکہ شعراء کی تقسیم کردی جو شعراء ظلم و جور کی تائید کرنے میں اپنے اشعار پیش کرتے تھے اور جوشہرت انگیز گھٹیا مقاصد کیلیے اشعار کہتے تھے انکو مذموم قرار دیا گیا بلکہ اپنے شعراء کے اشعار کو گندگی سے تعبیر کیا .

مگر جو شعراء ظالم و جابر حکمرانوں کے افعال پر نکتہ چینی کرتے تھے اور اعلی اخلاق کی تعلیمات و معارف کو اپنے اشعار میں پیش کرتے تھے اور مظلوم و حقدار افراد کی مظلومیت کو منظوم کرتے تھے خصوصا ً اھل بیت کے مناقب وفضائل کو اشعار میں بند کرتے تھے انکی ہر گز مذمت نہیں کی گئی بلکہ انکو تائید الہی اور توفیق خداوندی کے علاوہ معصومین  کی تعریف و ثناء شامل حال رہی ہے.

میںنے اپنے اس مقالہ میں کوشش کی ہے کہ جید شعراء اھل البیت  کے متعلق مستند اور معتبر روایات معصومین  اور تاریخی حوالہ جات کے ذریعے مختصر بیانات پیش کیے جائیں . اور امید رکھتا ہوں کہ خداوند متعال میری اس کو شش کو شرف قبولیت بخشے اور لغزش قلم سے بچائے۔

فرزدق شاعر بیباک

فرزدق کے حالات زندگی:

فرزدق کا اصل نام : ھما م بن غالب بن صعصہ تھا ۔  ولادت  ٠٣٨ ھ   وفات  ١١٠ھ

یہاں ہم اعیان الشیعہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس میں اما م علی  نے فرزدق کے باپ سے پوچھا تو کون ہے تو اس نے عرض کی غالب بن صعصہ مجاشعی۔

امام نے پوچھا تیرے پاس بہت زیادہ اونٹ ہیں ؟ اس نے عرض کی جی ہاں .

امام نے پوچھا تو نے اپنے اونٹوں کو کیا کیا ؟ اس نے عرض کی مصیبتوں نے انکو لے لیا اور حقوق انکو کھاگئے امام نے فرمایا یہ انکے لیے بہترین راہ خرچ ہے.

پھر امام  نے پوچھا کہ اے ابو الخطل یہ جوان کون ہے اس نے عرض کی یہ میرا بیٹا فرزدق ہے جو شاعر ہے

امام نے فرمایا :علّمہ القران فانّہ خیر لہ من الشعر ۔

اسے قرآن پڑھائو کہ یہ اس کیلیے شعروں سے بہتر ہے تو فرزدق نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور قسم اٹھائی کہ جب تک قرآن حفظ نہ کر لے ان قیود سے رہا نہ ہو گا .

حوالہ: اعیان الشیعہ ج ١٠ ص ٢٦٧ طبع دار التعارف بیروت ١٩٨٦ ْ١٤٠٦ ۔

فرزدق کا گھرانہ بنی تمیم میں شریف ترین گھرانہ تھا اسکا والد غالب سخی اور شریف تھا اسکے دادا صعصہ نے نبی اکرم ۖ کے پاس آکر اسلام قبول کیا تھا اور اس نے زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے سے منع کیا ہوا تھا اور بنی تمیم میں سے کسی لڑکی کو زندہ دفن نہیں کرنے دیتے تھے اور فرزدق کے والد کی کنیت ابو الاخطل تھی اور انکی قبر کا ظمیہ میں زیارت گاہ ہے خوفزدہ لوگ وہاں جائیں تو امان پاتے ہیں اور پناہ ڈھونڈنے والوں کو پناہ ملتی ہے ( حوالہ سابق )

فرزدق ہشام بن عبدالملک اور جریر کا ہم عصر تھا اور اس نے معصومین کی مدح کو اپنا دین سمجھا ہوا تھا وہ ایک فاضل انسان تھا وہ حافظ قرآن اور اسکے معانی پر گہری نگاہ رکھتا تھا .

کشی بسند خود محمد بن عایشہ سے روایت کرتے ہیں ھشام بن عبدالملک نے نے عبدالملک اور ولید کے زمانہ خلافت میں حج کیا اس نے خانہ خدا کا طواف تو کر لیا مگر جب حجر اسود کا بوسہ لینے لگا تو لوگوں کے ہجوم کیوجہ سے قریب نہ جا سکا پھر اسکے لیے منبر لگا یا گیا وہ اس پر بیٹھ گیا اور اھل شام اس کے گرد کھڑ ے ہو گئے اسوقت اما م علی بن الحسین زین العابدین  تشریف لا ئے خوبصورت نورانی چہرہ میٹھی میٹھی خوشبواور کثرت سجود کے نشانات آپ نے خانہ خدا کاطواف کیا جب حجر اسود کے مقام پر پہنچے تمام لوگ آپکے رعب اور احترام کیوجہ سے پیچھے ہٹ گئے یہ منظر دیکھ کر ہشام کو بہت غصہ آیا تو ایک شامی نے پوچھا کہ اے ہشام یہ کون شخص ہے جسکی ھیبت نے لوگوں کے ہجوم کو منتشر کردیا اور وہ حجر اسود سے دور ہو گئے تو ہشام نے کہا میں اسے نہیں جانتا اسکی وجہ یہ تھی کہ کہیں اھل شام انکی طرف رغبت نہ کریں اس مقام پر فرزدق موجود تھا اس نے کہا میں انہیں جانتا ہوں تو اس شامی نے کہا کہ اے ابو فراس یہ کو ن ہیں . ؛ تو انہوں نے کہا :

 (١) ھذا الذی تعرف البطحاء وکانہ           والبیت تعرفہ والحل ّ والحرم

یہ وہ شخصیت ہیں جنکے نشان و قدم کو وادی بطحا جانتی ہے اور خانہ خدا اور حرم و حرم سے باہر بسنے والی مخلوقات انہیں جانتی ہیں .

(٢)ھذا ابن خیر عباد اللہ کلھم            ھذ االتقی النقی الطاھرالعلم

یہ تمام بندگان خدا میں سے بہتر ین فرد ہیں اور یہ متقی و پرھیز گار پاک و پاکیزہ اور نشان ھدایت ہیں

(٣) ھذا علی رسول اللہ والدہ           امت بنور ھداہ تھتدی الظلم

یہ علی ( زین العابدین ) ہیں جنکے والد گرامی رسول اکرم ۖ ہیں جنکے نور ہدایت سے تاریکیاں چھٹ گئیں ؛

(٤) اذا راتہ قریش قال قائلھا           الی مکارم ھذا انتھی الکرم

جب قریش انہیں دیکھتے ہیں تو کہنے والے کہتے ہیں انکے بلند مرتبہ اخلاق پہ جو د و سخا کی انتھا ء ہوتی ہے .

(٥)ینمی الی ذروة العز الذی قصرت        عن نیلھا عرب الاسلام والعجم

انہیں عزت و شرف کی وہ بلندی نصیب ہوئی ہے جسکو پانے سے عرب و عجم قاصر ہیں

(٦) یکاد یمسکہ عرفان راحتہ            رکن الحطیم اذا ما جاء یستلم

رکن حطیم شاید ہی انکو انکی سخاوت سے روک سکے جب آپ  حجر اسود کا بوسہ لینے آتے ہیں .

(٧)یفضی حیاء ویفضی من مھابتہ             فما تکلم الاّ حین یتبسم

یہ اپنی طبیعی حیاداری اور شرافت کیوجہ سے آنکھیں جھکا ئے رکتھے ہیں اور لوگ انکے رعب ودبدبہ کیوجہ سے آنکھیں نیچی رکھتے ہیں اور ان سے صرف اسوقت بات کی جاسکتی ہے جب آپ مسکرا رہے ہوں .

(٨)ینشق نورالھدی عن نور غرتہ     کا لشمس تنجاب عن اشراقھا الظلم

نو ر ھدایت انکے نور جبیں سے پھوٹتا ہے جیسے سورج کے چمکنے سے تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں .

(٩) بکفہ خیزران ریحھاعبق           من کف اروع فی عرنینہ شم

انکی خیزران کی نسبت نرم و نازک ہتھیلی جس سے میٹھی میٹھی خوشبو پھوٹتی ہے اور جسکا رجحان تمہیں حیرت زدہ کرتاہے اور انکے چہرے پہ خوبصورت آنکہیں اور ناک کا قیافہ نہایت حسین ہے.

 (١٠) مشتقہ من رسول اللہ نبعتہ              طابت عناصر ہ والخیم والشیم

آپکی ریش مبارک رسول اکرم  کے روئے مبارک کی شبیہ ہے اور آپکی طبیعت اخلاق اور افعال پاک و پاکیزہ ہیں .

(١١) حمال اثقال اقوام اذا فئہ  حو           حلو ا شمائل یحلو عندہ النعم

جب لوگ اپنے وزن نہیں اٹھا سکتے تو یہ انکی مدد کرتے ہی اور جب آپ سے سوال کیا جاتا ہے اور آپ ہاں میں جواب دیتے ہیں اسوقت آپکے شکل و شمائل بہت پیارے ہوتے ہیں .

(١٢) ھذا ابن فاطمہ ان کنت جاھلہ            بجدہ انبیاء اللہ قد ختموہ

یہ فرزند فاطمہ ہے اگر تو انکو نہیں جانتا انکے جد امجد  پر تمام انبیا ء کا اختتام ہوتاہے .

(١٣)اللہ فضّلہ قدماء شرفہ              جری بذاک لہ فی لوحہ القلم

اللہ تعالی نے انہیں زمان قدیم سے فضیلت اور شرافت دی ہے اور انکی عظمت کے قصیدے لوح محفوظ میں لکھ دئیے ہیں .

(١٤) من جدہ دان فضل الانبیاء لہ            و فضل امّتہ دانت لہ الامم

انکے جد امجد کی عظمت کو انبیاء کی فضیلتیں نہیں پہنچ پاتیں اور انکی امت کی عظمت کے سامنے تمام امتوں کی عظمتیں کم نظر آتی ہیں .

(١٥) عم البریہ باالاحسان وانقشت           عنھا الفمایہ ولاملاق والظلم

جنکے احسن بنی نوع انسان پر چھائے ہوئے ہیں اور ان سے جھالت و فقر کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں .

(١٦)کلتایہ  یہ غیاث عم ّ نفعھما           یستو کفان ولا یعر وھماعدم

آپکے مبارک ہاتھوں کی باران کرم تمام لوگوں پر برستی ہے اور کبھی بھی انہیں عدم و نابود عارض نہیں ہوتی .

(١٧) سھل الخلیفة لا تخشی بوادرہ        یزینہ خصلتان الخلق والکرم

آپ نرم و مزاج ہیں اور انکے غصے کا ڈر نہیں اور دو خصلتوں ( احسن خلق اور جود سخا ) نے انہیں مزین کردیا ہے .

 (١٨) لا یخلف الوعد میمون نقیبتہ         رحب الفناء ادیب حین یعتزم

آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے آپکی طبیعت ومزاح نہایت قابل تعریف ہے .

(١٩)من معشر حبھم دین و بغضھم          کفر وقربھم منجی ومعتصم

لوگوں کا ان سے محبت کرنا عین دین ہے اور ان سے بغض وکینہ رکھنا عین کفر ہے انکا قرب ہی نجات دینے والا اور بچانے والاہے .

(٢٠)یستدفع اسور والبلوی بحبھم         ویسترب بہ الاحسان و النعم

انکی محبت کے صدقہ میں بلائیں دور ، اور انکے وسیلے سے احسان خدا اور نعمات الہی کو حاصل کیا جاتاہے .

(٢١)مقدم بعد ذکر اللہ ذکرھم         فی کل یوم و مختوم بہ الکلم

ذکر خدا کے بعد ہر روز انکا ذکر سب سے مقدم ہے اور انہی کے ذکر کے ساتھ کلام کا اختتام ہوتا ہے .

(٢٢)ان عدّ اھل التقی کا نوا ائمتھم     او قیل بن خیر اھل الارض قیل ھم

اگر اھل تقوا کو شمار کیا جائے تو یہ متقیوں کے امام نظر آئینگے اور اگر روئے زمین پر بسنے والوں میں سے سب سے بہترین افراد کے متعلق سوال کیا جائے تو بھی سب سے بہترین ہونگے .

(٢٣) لا یستطیع جواد بعد غایتھم       ولا یدانیھم قوم وان کرموا

کوئی بھی سخی انکی بلندی و عظمت کو نہیں پہنچ سکتا اور کوئی قوم جتنی بھی کریم و شریف ہوانکا مقابلہ نہیں کر سکتی

(٢٤) ھم الغیوث ماازمہ ازمت         ولا سد اسد اشری والناس محتدم

جب قحط سالی کا زمانہ ہو تو انہی کے صدقے میں باران ہوتی ہے اور جب لوگوں کا ہجوم ہو تو یہ بہادر شیروں کی مانند ہوتے ہیں

(٢٥) یابی لھم ان یحل الذم ساحتھم    خیم کریم واید بالندی ھضم

کریم اخلاق انکے در پر مذمت کو آنے نہیں دیتے اور انکے ہاتھوں کی سخاوتیں ہر وقت جاری ہیں .

(٢٦)لاینقص العسر بسطامن اکفھم          سیان ذلک ان اثروا وان عدموا

حالات کی تنگی انکے سخا کو کم نہیں کرتی چاہے انکے پاس مال ہو یا کچھ نہ ہو انکی سخاوت کے انداز نہیں بدلتے

 (٢٧)ای الخلائق لیست فی رقابھم             لا وّلیّة ھذا  اولہ نعم

مخلوقات میں سے کسی کا بھی احسان انکی گردن پرنہیں ہے کیونکہ انکے آباواجداد اور خود انکے احسان لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں .

(٢٨) من یعرف اللہ اولیة ذا         فالدین من بیت ھذا نالہ الامم

جو شخص اللہ تعالی کی معرفت رکھتاہے وہ انکے آباو اجداد اور خود انکی بھی معرفت رکھتاہے دین تو انکے گھر سے لوگوں نے پایا ہے .

یہ سنکر ہشام کو بہت غصہ آیا اس نے فرزدق کو قید کرنیکا حکم دیا تو انہیں مکہ و مدینہ کے درمیان مقام عسفان میں قید کیا گیا . جب امام علی زین العابدین کو معلوم ہو اتو آپ نے انکی طرف بارہ ہزار درھم بھیجے اور فرمایا اے ابو فراس معاف رکھنا اگر ہمارے پاس اس سے زیادہ ہوتے تو بھی تیرے پاس پہنچاتے مگر فرزدق نے وہ رقم واپس کردی اور عرض کی اے فرزند رسول وہ جو میں نے اشعار کہے تھے مجھے خدا اور اسکے رسول کیخاطر غیظ و غضب تھا میں اسکے ذریعے کچھ کمانانہیں چاہتا تھا مگر امام نے درھم پھر واپس کیے اور فرمایا اب میرے حق امامت کے واسطے انکو قبول کر لو تیری عظمت نیت کو خدا خوب جانتاہے تو فرزدق نے وہ درھم قبول کر لیے اور اس نے قید میں ہشام کی ہجو کرنا شروع کردی ان میں سے دو شعر یہ تھے

اتجسن بین المد ینہ والتی           الیھا قلوب الناس لھوی منیبھا

تقلب رئاسالم یکن سید             وعینالہ حولاء بادٍ عیوبھا

تو اس نے فورا انہیں رہا کردیا .

منابع و مدارک:

 رجال کشی ص ١٣٣۔١٢٩  روایت ٢٠٧ ۔

اعیان الشیعہ ص ٢٦٩۔ ٢٦٨،ج١٠۔

کمیت بن زید اسدی ابو المستھل شھیدولایت

ولادت     ٦٠ھ   شھادت    ١٢٦

ابوالمستھل کمیت درجہ اول کے شعرا میں سے تھے لغات عرب اور تاریخ عرب پر گہری نگاہ رکھتے تھے معاذ ھراء سے سب سے بڑے شاعر کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ کمیت اشعر االاولین والاخرین کمیت اولین اور آخرین میں سے سب سے بڑے شاعر ہیں .

حوالہ: آغانی جلد ١٧ صفحہ ٣٥

کمیت کا بیان ہے کہ میں نے جب اپنا پہلا قصیدہ لکھا تو اسے فرزدق کے حضور پیش کیا

طربت وما شوقاً الی البیض اطرب               ولا لعبا ً منّی وذو الشیب یلعب

''میں حد سے زیادہ خوش ہوا جبکہ میری یہ خوشی سفید چہروں کے شوق سے نہیں تھی میری یہ خوشی لھو و لعب کیوجہ سے بھی نہیں تھی کیونکہ کوئی بزرگ لھو ولعب میں نہیں پڑتا ''

تو فرزدق نے کہا ارے تم تو ابھی جوان ہو تم کھیلو کو دو بتائو پھر تمھاری خوشی کیوجہ سے تھی میں نے کہا .

ولکن الی اھل الفضائل والتقی               وخیر بنی حوّا والخیر یطلب

میری خوشی اھل فضائل و تقوی کی محبت کیوجہ سے ہے جو کہ اولاد آدم وحوا ء میں سے بہترین لوگ ہیں اور ایسے بہترین لوگوں کی محبت ہی رکھنی چاہیے۔ فرزدق نے کہا وہ کون ہیں تو میں نے کہا ؛

بنی ہاشم رحط التی فاننی                  بھم ولھم ارضی ٰ مرارً ا واغضب

وہ بنی ہاشم ہیں جو بنی اکرم ۖ کے گروہ میں سے ہیں اب میری خوشیاں اور غم انہی کیخاطر ہیں۔ تو فرزدق نے کہا خدا کی قسم تم سابقہ اور باقی تما م شعراء سے بڑے شاعر ہو .

کشی نے بسند خود امام باقر سے کمیت کے بارے میں نقل فرمایا کہ کمیت نے آپ سے شیخین کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا قیامت تک جو بھی نا حق خون بہایا جائیگا اور جتنے بھی فیصلے حکم خدا اور حکم رسول کے خلاف کیے جائینگے وہ انکی گردنوں میں پڑیں گے کمیت نے عرض کی مولا کافی ہے .

 حوالہ :رجال کشی روایت نمبر ٣٦١.

امام باقر   سے منقول ہے کہ آپ نے کمیت سے فرمایا اے کمیت اگر ہمارے پاس دولت کا ڈھیر ہوتا تو ہم ضرور تمہیں دیتے لیکن ہم تیرے لیے وہی کہتے ہیں جو نبی اکرم ۖ نے حسان کیلیے کہا تھا :

''لا یزال معک روح القدس ما ذببت اناّ ''

جب تک تو ہمارا دفاع کرتا رہیگا اسوقت تک روح القدس تمہاری تائید کرتا رہیگا .

حوالہ :رجا ل کشی روایت ٣٦٥۔بحار الانوار ص٣٢٢ وبعد۔

رجال کشی میں ایک روایت منقول ہے راوی کہتاہے کہ میں امام موسی کاظم کے حضور موجود تھا کہ کمیت تشریف لائے آپ نے فرمایا یہ شعر تیرا ہی ہے کہ اب میں بنی امیہ کیطرف جاتا ہوں اور امور اپنے نتائج سے پہچانے جاتے ہیں کمیت نے عرض کی مولا یہ میرا ہی شعر ہے لیکن خدا کی قسم میں نے اپنے ایمان سے نہیں پھرا لیکن میں نے یہ اشعار تقیہ کیوجہ سے کہے ہیں .

تبصرہ و تحلیل ؛

ظاہر اراوی سے اشتباہ ہوا ہے صحیح یہ ہے کہ یہ سوال و جواب حضرت امام صادق  کے پاس ہوئے چونکہ کمیت حضرت امام موسی کاظم  سے دو سال قبل فوت ہو چکے تھے .

بعض ماہرین کا قول ہے کمیت میں دس ایسی صفات تھیں جو کسی شاعر میں جمع نہیں تھیں وہ قبیلہ بنی اسد کے خطیب تھے . وہ قوم شیعہ کے فقیہ اور مجتہد تھے وہ قرآن مجید کے حافظ تھے . انکا حافظہ قوی تھا ،خوش نویس کاتب تھے ،انساب عرب کے ماہرین میں شمار ہوتے تھے . بہترین مناظر تھے ( بلکہ جاحظ نے تو یہ سمجھ لیا ہے کہ قوم شیعہ کے پہلے مناظر تھے لیکن اسکا جواب شیخ مفید نے یوں دیا کہ وہ قوم شیعہ کے پہلے مناظر نہیں تھے ان سے پہلے اصحاب پیامبر ۖ اور اصحاب آئمہ معصومین  نے مناظر ے کیے تھے اور مذھب حقہ کی ادلہ پیش کی تھیں ) بنی اسدمیں ان سے بڑا کوئی تیر انداز نہیں تھا . نہایت بہادر اور شجاع گہوڑے سوار تھے سخی اور دین دار تھے

حوالہ: شرح شواہد معنی جلد ١ صفحہ ٣٨ ؛

(کمیت کا مشہور ومعروف قصیدہ (ہاشمیات ))

نفی عن عینک الارق الھجوعا               وھم یمتری منہا الدموعا

راتوں کو جاگنے سے تیری آنکھوں سے نیند اڑگئی .

دخیل فی الفئواد یہیج سقماً            وحزناً کان من جذل ٍ منوعا

غم اشک آور جس نے خوشی کو بھلادیا دل پر سوار ہے .

وتو کاف الدموع علی اکتئاب ٍ        احلّ الدّھر موجعہ الضلوعا

آنسو ئوں بہتے ہیں اور غم واندوہ کی حالت طاری ہے جس سے درد مصیبت دل پر جملہ آور ہے .

تر قرق اسمحاً درئًاوسکباً              یشہ سحماغرباّ ھموعاً

آنسوئوں کی بارش آنکھوں سے جاری رہتی ہے جن کے بہنے سے بڑے بڑے ظروف پر ہوجاتے ہیں .

لفقدان الخضار م من قریش          وخیرا الشافعین معاً شفیعا

یہ سب دکھ درد اور اشک و آنسو قریش کے بزرگان اور بہترین مخلوق (رسول اکرمۖ ) کے فقدان کے سبب سے ہیں جو سب خدا وند رحیم و کریم کی بارگاہ میں شفاعت کرنیوالے ہیں .

لدی الرحمن یصدع بالمثانی       وکان لہ ابو حسن ٍ قریعا

وہ پیغمبر خدا جو با آواز بلند مثالی (سورہ حمد ) کی تلاوت کرتے ابوالحسن (علی ) انکے برگز یدہ فرد تھے .

حطوطا ً فی مسرتہ و مولی           الی مرضاة خالقہ سریعاً

وہ علی جو اپنی خوشیاں بھول کر خوشیاں بھول کر خوشنودی خدا کے لیے جلدی کرتے تھے .

واصفاہ النبی علی اختیار           بمااعیاالرفوض لہ المذیعا

پیغمبر ۖ اکرم نے انہیں اس لیے اختیار کیا تاکہ جو لوگ آپکے ذکر سے گریزاں تھے انکو دھونڈا جائے .

ویوم الدوح دوح غدیر خم           ابان لہ الولایة لو اُطیعا

غدیر خم میں ایک لمبے درخت کے نیچے نبی اکرم ۖنے ولایت کو خوب واضح کردیا کاش اسکی اطاعت کیجاتی .

ولکنّ الرجال تبایعوھا              فلم ارمثلھا خطراً مبیعا

لیکن ان لوگوں نے عھد و پیمان ولایت کو توڑ دیا مجھے تو اس جیسا عظیم عھدوپیمان کوئی دوسرا نظر نہیں آیا

فلم ابلغ لعناً ولکن                 اساء بذاک اوّلھم صنیعا

میں ان پر لعنت تو نہیں بھیجتا مگر اس عھد و پیمان کو توڑ کر اول نے بدکاری کی .

فصار بذاک اقربہم لعدل ٍ         الی جودٍ واحفظھم معنیھا

اور اس کام کے ذریعے دوسرا جو عدل و انصاف کا پاسداری تھا وہ ظالم اور ستمگر بن گیا .

اضاعو امر قائدھم فضلّوا               اوقومھم لدی الحد ثان ریعا

انہوں نے اپنی پیشوا (حضرت محمد مصطفی ) کے حکم ضائع کردیا آپ ایسے آقاتھے جو حوادث روزگار میں استوار رہنے والے تھے مگر اس فرمان کو ضائع کر کے وہ گمراہی میں پڑگئے .

تناسوا حقہ و بغو علیہ                 بلا ترةٍ وکان لھم قریعا

انکے حق کو انہوں نے بھلا دیا حالانکہ وہ سب کیلیے باعث خوشی تھے اور انہوں نے کوئی گناہ بھی نہیں کیا مگر انہوں نے ان پر ظلم روا رکھا .

فقل لبنی امیّہ حیث حلّوا             وان حفت المھند و القطیعا

بنو امیہ تجھے جہاں ملیں ان سے کہہ دے اگر چہ تو انکی شمشیر اور تازیانوں سے ڈرتا ہو .

الاافٍّ لدھرٍ کنت فیہ                 ھدانا طائعاًلکم مطیعا

آہ افسوس اس زمانے پر کہ جس میں خوف سے تمھاری اطاعت کیلیے میں مجبور ہوں .

اجاع اللہ من اشبعتموہ            واشبع من بجوکم اجیعا

خدا اس شخص کو بھوکا و پیاسا رکھے جسکو تم سیر کیا او راس شخص کو سیراب کرے جسکو تم نے بھوکا رکھا .

ویلعن فذا امّتہ جھاداً                اذا اساس البریّة والخلیعا

اللہ تمھارے پہلے بے پردہ شخص (معاویہ ) اور خلیع ( ولید بن عبدالملک ) پر لعنت کرے .

عرضی السّیاسہھاشمیٍ           یکون حیاً  لامّتہ ربیعا

کیونکہ انہوں نے اس ھاشمی نسب سیاستمدار کی جگہ حکومت قائم کی جس پر امت مسلمہ راضی و خوش تھی اور انکا وجود امت مسلمہ کیلیے بابرکت اور مثل موسم بہار سر سبز تھا .

ولیثاً فی المشاھد غیر نکسٍ      لتقویم البریّة مستطیعا

وہ جنگ کے میدانوں میں شکست ناپذیر تھا اور لوگوں کو راہ راست پر لانے میں قدرت و طاقت رکھتاتھا .

یقیم امورھا و یذبّ عنھا          ویترک جدبھا ابداء عریعا

وہ امت مسلمہ کے معاملات کو سلجھانے والا تھا اور انکا دفاع کرنے والا تھا اور خشک سالیوں کیلیے فراواں نعمتوں سے پر کرنیوالاتھا .

کمیت کی شھادت

کمیت باسعادت زندگی گزار کر امام سجاد  کے دعاکے مطابق شھادت کے درجے پر فائز ہوئے اور انہیں ایک سو چھبیس ہجری میں ظلم و جو ر کے ساتھ شھید کیا گیا . خالد قسری منبر پر خطبہ دے رہا تھا ادھر سے جعفر یہ ( مغیر ہ بن سعید اور اسکے گمراہ ساتھی ) نے خروج کردیا خالد کو جب پتہ چلا تو وہ خوف زدہ ہو گیا اس نے کہا مجھے پانی دو لوگوں نے جاکر ان خروج کرنیوالوں کو گرفتار کیا اور انکو مسجد میں لا کر قتل کر کے جلا دیا خالد کے معزول ہو نیکے بعد اسکی جگہ یوسف بن عمر نے لے لی کمیت پہلے اسکی مدح کر چکے تھے اس لیے انکے پاس چند اشعار پڑھے جن مین خالد کی ہجو تھی یوسف کے پاس کھڑے ہوئے آتھ سپاہیوں کو خالد کی خاطر تعصب اور غصہ آیا

 انہوں نے تلوار یں کمیت کے سینے میں پیوست کر دیں حتی کمیت اللہ کو پیارے ہو گئے انکے آخری جملے     اللھم آل محمد ۖ        اللھم آل محمد ۖ         اللھم آل محمد ۖ

 آغاغی جلد ١٧ صفحہ ٤٣ الغدیر جلد دو صفحہ ٣٠٧.

سید اسماعیل بن محمد حمیری  (وفات ١٧٣ھ)

حمیری اھل بیت علیھم السلام کے مشہور شعراء میںسے ہے جو نسل بنی ھاشم میںسے نہیںتھے سید انکا لقب ہے جو کہ بچپن میںبھی انہیںسید کے لقب سے پکارا جاتا تھا . کشی نے روایت کی ہے کہ امام صادق  نے جب حمیری شاعر سے ملاقات کی تو فرمایا سمّیتک اُمّک سید ا ً و وفّقت فی ذالک انت سید الشعراء .تیری ماںنے تیرا نام سید رکھا اور اس میں توفیق خدا سے نوازی گئی تو شعراء کا سردار ہے سید نے اس مناسبت سے ایک قصیدہ بھی کہا تھا سید اھل بیت کی محبت میں نہایت راسخ تھے اور دشمنان اھل بیت سے کسی قسم کاتقیہ نہیںکرتے تھے بلکہ انہیںسر عام ذلیل و رسوا کرتے تھے سید کے والدین اباضی ( خارجی ) عقیدے سے متعلق تھے سید نے انہیںبہت نصیحت کی حتی انکے چند قصائد اپنے والد کو نصیحت پر مشتمل ہیں .

سید خود ابتدا میںمیںکیسانی المذھب تھے لیکن بعد میںامام صادق  کے توسل سے انہیںاس سے نجات ملی اور سید امامیہ اثناء عشری شیعہ میںداخل ہو گئے کشی نے روایت کی ہے کہ سید کا ایک مرتبہ سخت بیماری میں چہرہ سیاہ ہو گیا تھا اسوقت امام جعفر صادق  کو فہ تشریف لا چکے تھے کیونکہ آپ اسی وقت ابو جعفر منصور دوانقی کے پاس سے لوٹے تھے راوی کا بیان ہے کہ میںامام کے پاس پہنچا اور عرض کی مولا میں آپ پر قربان جائوں میں سید حمیری کو اس حال میں چھوڑ آیا ہوں کہ انکا چہرہ سیاہ ہو چکا . ہے اسکی آنکھوں سے سفیدی ظاہر ہو چکی ہے اور انھیں سخت پیاس کا سامنا ہے اور وہ بول بھی نہیںسکتے اس سے پہلے وہ نشہ بھی کیاکرتے تھے امام  نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا آپ سید کے پاس پہنچے وہاں لوگوں کا ہجوم تھا امام سید کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا اے سید اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں وہ امام کی زیارت کرنے لگا مگر بات نہیں کر سکتا تھا ہم نے جان لیا کہ وہ بولنا چاہتا تھا مگر قدرت نہیںرکھتا تو ہم نے دیکھا کہ امام نے اپنے لب ھائے مبارک کو حرکت دی تو سید بولنے لگا اور عرض کی میںآپ پر قربان جائوں  ھکذا ا  با ولیا ء ک یفعل ھذا .

کیاآپکے دوست داروں کے ساتھ اسطرح سلوک کیا جاتا ہے تو امام  نے  فرمایا کہ اے سید حق کا اقرار کرلو تو خدا تعالی تیری مصیبتیںختم کر دیگا اور تجھ پر رحم فرمائیگا . اور تجھے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے گا . جسکا اس نے اپنے اولیا ء سے وعدہ کر رکھا ہے تو سید نے ایک مشہور قصید ہ کہا تھا .

تجعضرت بسم اللہ واللہ اکبر ؛    میں اللہ کے مبارک نام سے امام صاوق کا عقیدہ اپناتا ہوں راوی کہتا ہے کہ امام  ابھی وہیں تشریف فرماتھے کہ سید خود بخود اٹھ بیٹھے ( تنقیح المقال ص ٣٢٢الغدیر ص ١٢٤، مجالس المومنین ص ٥٠٦، ٢ .)

سید حمیری اسکے بعد ایک طویل عرصہ زندہ رہے اور انہوںنے فضائل اھلبیت  کو مفصل قصیدو ںمیں لکھا او راس واقعہ کے بعد انکے متعلق نشہ آور چیزوں سوال کرنیکا کوئی ثبوت نہیںملتا بلکہ کشی کی ایک روایت کے مطابق سید کا شمار علماء و فقھاء شیعہ میںہوتاہے سید کو اس بات پر فخر تھا کہ اس نے اھل بیت معصومین کے تمام فضائل کو اپنے منظومہ کلام میں پیش کیا ہے اس لیے انکی زندگی میں ایک واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے مجمع عام میں کہا کہ اگر کوئی ایسی فضیلت معصومین   کی جو روایات میں بیان ہوئی ہو پیش کرے اورمیں نے اسکو اپنے قصائد میں ذکر نہ کیا ہو تو کا فی دیر کے بعد صرف ایک شخص نے ایک روایت کا ذکر کیا جس پر پہلے سید نے قصیدہ کہا اور پھر اس راوی کو انعام دیا سید کی علم تاریخ اور ادب میں مھارت تامہ کا اقرار انکے ہم عصر اور انکے بعد آنیوالے مشہور شعراء اور ادباء نے کیا ہے سید کے قصائد جو میمیہ کے عنوان سے مشہور تھے انکی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ابن معتز نے طبقات الشعراء میں ذکر کیا ہے کہ اس سے کئی اونٹوں کا وزن بنتا تھا . سید کی زندگی کا یہ ایک انوکھا انداز ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی ایسی محافل میںگزاری کہ جن میں ذکر آل محمد  ہوتا ہو .

ابن فرزدق جو اپنے باپ کیطرح فصیح و بلیغ شاعر تھے انکا بیان ہے  کہ ایک مرتبہ سید ہماری محفل میںتشریف فرماتھے جب موضوع گفتگو فضائل اھل بیت  سے دنیاوی موضوعات کیطف مڑاتو سید اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میںایسی محفل میںبیٹھنا پسند نہیںکرتا جسمیںذکر آل محمد ۖ نہ ہو سید نے بہت سے

 خلفاء کے دور میںزندگی گزاری جنکی مجالس میںسید کو بلند مرتبہ حاصل تھا اسکے باوجود بھی انہوںنے اھل بیت  کے فضائل اور مناقب کو اشعار میںپیش کیا اور دشمنوںکی سازشوںکی کوئی پرواہ نہیںکی اس قسم کے کئی  واقعات قاضی سوار کے ساتھ انکے مشہور ہیں. سید کے قصائد اور اشعار امام صادق کے سامنے پڑھے جاتے تھے بلکہ امام خود اپنے اصحاب سے اسکے اشعار پیش کرنیکا تقاضا کرتے تھے اور یہ خود سید کی عظمت کی ایک قوی دلیل ہے .

کشی نے فضیل رسان سے روایت کی ہے کہ میںنے امام  کے سامنے جب سید کے مشہور اشعار :

لام ّ امرٍ بانلو یہ مربع .......... پڑھے تو امام نے پوچھایہ کس کے اشعار ہیںمیں نے کہا یہ سید حمیری کے ہیں. پھرمیںنے عرض کی مولا وہ تو نبیذ استعمال کرتے ہیںتو آپ نے فرمایا خدا اس پر رحم کرے

 خدا پر یہ گران نہیںکہ ایک محب علی  کو بخش دے اور ہم اس سے پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ سید اپنی وفات سے بہت عرصہ پہلے نشہ ترک کرکے تائب ہو گئے تھے.

سید کی وفات حسرت آیات کا واقعہ بھی نہایت سبق آموز واقعہ ہے . روایات میںہے کہ سید کی وفات کے وقت دوسری مرتبہ انکا چہرہ سیاہ ہوا تو سید نے بلند آواز سے کہا کہ یا امیر المومنین ؛ ھکذایفعل باولیائکم ؛ آپکے دوست داروںکے ساتھ اسطرح سلوک کیا جاتا ہے جبکہ وہاںپر موجود عثمانی اور غیر امامی سید کی وہ حالت دیکھ کر خوش ہورہے تھے تو اسی وقت سید کا چہرہ چوہویںکیے چاند کیطرح روشن ہو گیا اور سید نے جان دیے دی سید کی وفات کے بعد ستر کفن انکے عقیدت مندوںکیطرف سے پیش کیے گئے لیکن انھیں ھارون الرشید کا بھیجا ہوا کفن دیا گیا اور عزت اور احترام کے ساتھ دعائے مغفرت اور دعائے خیر کی گونجوںمیںسپرد خاک کر دیا گیا .

 ابو محمد سفیان بن مصعب عبدی کوفی

ابو محمد سفیان بن مصعب کوفی پاک پیغمبر ۖکے خاندان کے شعراء میںسے تھے . اور انکے ساتھ محبت و شعر کیوجہ سے قرب حاصل کیا اور صدق نیت اور خلوص ارادت کیوجہ سے انکی درگاہ میںمقبولیت حاصل کی . شیخ

 طایفہ نے اپنی کتاب رجال میںعبدی کو اصحاب امام صادق علیہ السلام میں شمار کیا ہے البتہ اسکا امام کے ساتھ ہونا فقط امام کے ساتھ آمد و رفت نہیںتھی بلکہ وہ خالص محبت و ارادت اور ایمان کہ جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک تھا ،کیوجہ سے امام  کے حضور بلند منزلت رکھتے تھے .

عبدی کے بہت سارے شعر مشہور مناقب امیر المومنین  ،فضائل اور آپکے خاندان پاک پر ہیں کہ بہت خوبصورت پڑھے ہیں اور مصائب اھل بیت علیہم السلام پر بھی شعر کہے ہیںاور جو مصائب کہ ان پر گزرے ہیں انکو مرثیہ کی شکل میںکہا ہے . اور ہم نے اسکے شعر غیر  اھل بیت  کے بارے میںنہیں دیکھے ہیں .

امام صادق  کی روایت ثقة الاسلام کلینی روضہ کافی میںہے کہ عبدی سے فرمایاکی کہ اپنے شعر پڑھے کلینی باسناد خود از (ابی داود مسترق) اور وہ خود عبدی سے نقل کرتے ہیں کہ عبدی کہتاہے کہ میں ابی عبد اللہ کی خدمت میںحاضر ہو ا  آپ نے فرمایا کہ ام فروہ سے کہو کہ آئے اور جو اسکے جد پر مصائب گزرے ہیں وہ سنے

 ام فروہ تشریف لائیں اور پشت پردہ بیٹھ گئیں. پس امام نے کہا ہمارے لیے شعر پڑھو اور میںنے پڑھے

       فرو جودی بدمعک المسکوب

خواتین نے گریہ و بکا کیا ابی عبد اللہ نے فرمایا کہ گھر کے دروازہ کو دیکھو اھل مدینہ دروازے پر جمع ہو چکے تھے امام  نے کسی کو بھیجا اور کہا کہ کہو کچھ نہیں ہو ا ہمارا ایک بچہ بیہوش ہو گیا تھا جسکی وجہ سے خواتین نے آہ و بکا کی . امام صادق علیہ السلام نے ابی عمارہ جو کہ شعر پڑھتا تھا سے فرمایاکہ عبدی کے شعر پڑھو خود ابی عمارہ کہتا ہے کہ ابو عبد اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابی عمارہ وہ شعرجو عبدی نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں کہے ہیں ہمارے لیے پڑھو میںنے پڑھے اور وہ روئے پھر پڑھے وہ اور روئے دوبار میں نے پڑھے تو انہوںنے آنسو بہائے خدا کی قسم میں لگاتار پڑھتا رہا اور وہ روتے رہے حتی کہ آہ و بکا کی آواز گھر سے باہر نکل گئی . اسی لیے امام  نے اپنے شیعوں کو حکم دیا کہ اپنے بچوں کو عبدی کے شعر یاد کرائو .

عبدی آئین خدا پر ہے اسی طرح کہ کشی نے اپنی کتاب رجال میں صفحہ ٢٥٤ پر اپنی اسناد کے ساتھ سماعہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اے گروہ شیعیان عبدی کے اشعار اپنے بچوں کو سکھائو کیونکہ وہ دین خدا پر ہے کیونکہ اسکی گفتارصادق اور شیوہ شعردرست اور انکے معانی کی ہر نقص سے سالم ہیں فرمان امام ہے کہ جسکو کشی نے اپنی کتاب رجال کے صفحہ ٢٥٤ پر نقل کیا ہے عبدی سے فرمایا کہ خواتین جو

 نوحے بوقت ماتم کہتی ہیں انکو شعر میں لے آئو .عبدی کا شیوہ یہ تھا کہ امام صادق علیہ السلام سے مناقب عترت طاہرہ کے بارے میں حدیثیںیا دکرتا تھا اور اسی وقت انکو نظم کی شکل میں ڈھال کر امام  کی خدمت میں پیش کرتا تھا .

ابن عیاش نے ( مقتضب الاثر ) میں احمد بن زیادھمدانی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ علی بن ابراھیم بن ھاشم نے مجھے کہا میرے باپ نے حسن بن علی سجادہ سے اس نے ابان بن عمر خشن آل میثم سے حدیث کی اور کہا میں ابی عبد اللہ کی خدمت میںتھا کہ سفیان بن مصعب عبدی شرفیاب ہوا اور کہا آپ پر قربان جائوں اللہ تعالی کے اس کلام کے بارے میں کہ ؛    وعلی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماھم .

کیا فرماتے ہیں؟آپنے فرمایا کہ و ہ آل محمد ۖ سے اوصیا ء دوازدہ گانہ ہیں کہ جو انکو نہیںپہچانتا وہ خدا کو نہیں پہچانتا مگر یہ کہ وہ بھی اسکو پہچانتے ہوں. .تو عبدی نے کہاکہ میں آپ پر قربان جائوں'' اعراف '' کیا ہے ؟

تو آپ  نے فرمایاکہ یہ مشک کے ٹیلے ہیں جن پر رسول خدا ۖاور اولیا ء خدا بیٹھے ہیں اور سب کے چہروں کو پہچانتے ہیں تو عبدی نے کہا کہ آیا اس بارے میں شعر کہوںاور اسی وقت قصید ہ کہا ؛

    ایا ربعھم ھل فیک لی الیوم مربع        وھل للیال ٍ کن لی فیک مر جع

اے پیشوایان دین آپ روز حشر و نشر حکمران اور روز سخت و خوفناک پناہ گاہ ہیں اور اعراف پر کہ مشک کے ٹیلے ہیں اور آپکی برکت سے خوش بو اس سے پھوٹتی ہے بیٹھے ہیں آپ میں سے آٹھ عرش پر ہیں کہ فرشتے انکو اپنے کندھوںپر اٹھائے پھر رہے ہیں اور چار زمین پر خلق خدا کی ہدایت میں مشغول ہیں . (  ترجمہ الغدیر فارسی جلد ٤ ، صفحہ ١٦٩)

 دعبل بن علی زرین خزاعی شھید ولایت

(ولادت ١٤٨  شھادت   ٢٤٦)

شیخ صدوق   نے اپنی کتا ب عیون اخبار الرضا میں عبد السلام بن صالح ہروی سے نقل کیا ہے کہ جب دعبل بن خزاعی رحمة اللہ علیہ شھر مرو میں حضرت ابوالحسن علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا

 اور اس نے امام رضا کی خدمت میں عرض کی اے فرزند رسول میں نے آپ کی شان میں ایک قصید ہ لکھا ہے او رمیں نے قسم کھائی ہے کہ یہ قصیدہ میںسوائے آپ کے کسی کو نہیں سنائوںگا تو امام رضا  نے دعبل سے کہا کہ وہ قصید ہ ہمیںسنائو چنانچہ دعبل نے قصیدہ پڑھنا شروع کیا .

      مدا رس آیات خلت من تلاوة          ومنزل وحی مقفر العرصات

وہ مدارس اور محافل جہاں قرآن کی تلاوت ہوتی اور تفسیر کا درس دیا جاتا تھا اب خالی پڑے ہوئے ہیںاور وہ مقام جو مرکز نزول وحی تھا اس وقت بے آب وگیا ہ اور خشک صحرا کی مانند نظر آرہا ہے .

       اری فیئھم وغیرھم مستقسما ً      واید یھم من فیئھم صفرات

مسلمانوں کے غنائم اور بیت المال کو دیکھ رہا ہوں کہ دوسروں کے درمیان تقسیم ہورہے ہیں جبکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ان ( آل رسول )  کے ہاتھ ان ( غنائم سے خالی ہیں ) یہ شعر سننے کے بعد حضرت امام رضا نے گریہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دعبل خزاعی واقعاً تم نے صیحیح کہا ہے اور ایسا ہی ہے . پھر جب دعبل نے یہ شعر پڑھا کہ .

      اذا وتر و امدو ا الی واتر یھم          اکفا عن الاوتار منقبضات

جب کبھی بھی وہ دشمنوں کے ظلم و ستم اور اذیتوں کا نشانہ بنتے ہیں تو اپنے ان ہاتھوں کو جو ہر قسم کے حربہ جنگ سے تہی اور بندھے ہوئے ہو تے ہیں اپنے دشمنوںکیطرف بڑھا دیتے ہیں .جب دعبل یہ شعر پڑھا رہا تھا حضرت امام رضا  اپنے دونوںدست ہائے مبارک کو گھماتے جاتے اور فرماتے خدا کی قسم ؛ اپنے ہاتھوں کو دشمن کی اذیت و ظلم کی سزا کے لیے بروئے کا ر لانے سے بچاتے ہیں پھر جب دعبل نے یہ شعر پڑھا .

(٤)   لقد خفت فی الدنیا و ایام سعیھا       وانی لارجو االامن بعد وفاتی

ترجمہ؛میںچونکہ آپکی اور آپکے خاندان کی محبت رکھتا ہوں اس لیے میں نے اپنی ساری زندگی وحشت اور خوف میں گذاری ہے لیکن میری آرزو یہی ہے کہ میرے مرنے کے بعد عذاب سے امان اور نجات پاسکوں . امام رضا  نے فرمایا اللہ تعالی تمھیں ''فزع اکبر '' سے نجات عطا فرمائے اسکے بعد جب دعبل نے یہ شعر پڑھا .

        وقبر ببغداد لنفس زکیہ        تضمنھا الرحمن فی الغرفات

ترجمہ :اور بغداد میں ْقبر ہے اس نفس زکیہ کی جس کے لیے اللہ سبحانہ و تعالی نے بہشت کے غرفوںمیں سے ایک غرفے کو اسکا مسکن قرار دیا ہے ( مراد امام موسی کاظم  کی قبر ہے ) .

اس شعر کو سننے کے بعد امام رضا  نے فرمایا دعبل یہاں ان دو ابیات کا میں اضافہ کردوں تاکہ یہ قصیدہ مکمل ہو جائے ؟  دعبل نے عرض کی ؛ جی ہاں ؛ اے فرزند رسول ضرور اضافہ فرمائیں چنانچہ امام رضا نے دو شعر پڑھے :        و قبر بطوس یا لھا من مصیبة       توقد فی الاحشاء بالحرقات

           الی الحشرحتی یبعث اللہ قائماً     یفرج  عنا  الھم و  امکربات

او رایک قبر طوس میں ہے افسوس ہے اس قبر والے کی مصیبت پر کہ جسکی موت کے سانحہ کی آگ جسم کے رگ وپا اور اعضاء میںشعلہ زن رہیگی روز محشر تک ، مگر یہ خدائے متعال اس قائم (عج) کو مبعوث فرمائے گا جو ظالموں کے ظلم و ستم پر فتح و ظفر حاصل کر کے ہمارے رنج و غم کو کسی حد تک کم کرنے اور سکون کا باعث بننے کا سامان  کرے گا . دعبل نے عرض کی مولا یہ تو بتائیں کہ طوس میں کس کی قبر ہو گی . امام رضا  نے فرمایا وہ میری قبر ہوگی جہاں ابھی زیادہ عرصہ نہیںگزرے گا کہ وہ قبر ہمارے شیعوں اور زائرین کی آمد و رفت کا مرکز بن جائیگی اور میںاعلان کرتا ہوں کہ جو کوئی بھی عالم غربت میں میری قبر مطہر کی زیارت کرنیکے لیے طوس آئیگا اسے قیامت کے دن میرے ساتھ محشور کیا جائیگا اور اسکے تمام گناہ بخش دیے جائیںگے . دعبل جب اپنے اشعار سنا چکا حضرت امام رضا  وہاں سے اٹھ کر گھر کے اندر تشریف لے گئے اور دعبل سے فرمایا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھے امام رضا  نے گھر میںجانے کے بعد اپنے ایک غلام کو سود ینار کے سکے جن پر امام رضا کا اسم مبارک نقش تھا دیکر بھجوائے غلام نے یہ سکے دعبل کو دیئے اورکہا کہ مولا نے فرمایا ہے کہ ان سکوں کو اپنے اخراجات کیلیے رکھ لو دعبل نے کہا کہ خدا کی قسم میں مال دنیا کے حصول کیلیے نہیں آیا تھا میںنے یہ قصید ہ اس لیے نہیں کہا کہ امام رضا  مجھے اسکا صلہ عطا فرمائیںلہذا یہ سکے مولا کو واپس کر دو اور اسکی جگہ بطور تبرک امام  اگر اپنا لباس مجھے عنایت فرمائیں تو یہ بات میرے لیے باعث شرف افتخار ہو گی غلام نے واپس جاکر امام  کو دعبل کو پیغام پہنچایا امام رضا  نے اپنا ایک پیراہن ان سکوں کے ہمراہ دوبارہ بھجوادیا اور غلام سے کہا کہ دعبل سے کہو واپس نہ کرے جلد تمہیںانکی ضرورت پڑے گی .

چنانچہ دعبل امام رضا  کا پیراہن اور وہ سکے لینے کے بعد مرو سے اپنے قافلے کے ہمراہ واپس روانہ ہو گیا ابھی قافلہ مرو اور قوھان کے درمیان پہنچاتھا کہ وہاںڈاکووں کے ایک گروہ نے قافلے پر حملہ کردیا اور قافلے والوں کو گرفتا ر کرلیا اور انکا تمام مال و اسباب لوٹ لیا جن افراد کوگرفتار کرکے رسیوں سے باندھا گیا ان میں دعبل بھی شامل تھا جب ڈاکووں نے لوٹا ہوا مال اپنے درمیان تقسیم کرنا شروع کیا تو ان میںسے ایک نے ضرب المثل کے طور پر دعبل کا شعر پڑھا .

            اری فیئھم فی غیر ھم مستقسماً        وایدیھم من فیئھم صفرات   

دعبل نے جب یہ شعر سنا تو اس نے ڈاکووں سے کہا تمہیںمعلوم ہے کہ یہ شعر کس کا ہے؟

جس شخص نے یہ شعر پڑھا تھا اس نے کہا کہ یہ شعرقبیلہ خزاعی سے تعلق رکھنے والے دعبل بن علی نامی شاعر نے کہا ہے . دعبل نے اسے کہا کہ وہ دعبل خزاعی میںہوں اور یہ میرے کہے ہوئے قصیدہ کا شعر ہے وہ شخص دعبل کی بات سننے کے بعد اپنے سرگروہ کے پاس گیا جو کہ شیعوں میں سے تھا . اور اسے بتایا کہ گرفتار ہونے والوںمیں دعبل خزاعی بھی شامل ہے .ڈاکووںکے سرگروہ کو جب یہ خبر ملی تو اس نے خود آکر دعبل سے پوچھا واقعا ً یہ شعر تمہارے قصیدہ کا ہے دعبل نے کہا ہاںیہ میرے قصیدے کا ہے اس نے دعبل سے پورا قصیدہ سنانے کو کہا جب دعبل نے اسے پورا  قصیدہ سنایا تو اس نے اپنے ساتھیوںسے کہا کہ دعبل اور اسکے تمام ساتھیوںکی رسیاں کھول دو پھر اس نے تمام لوٹا ہوا مال بھی واپس کردیا جسکے بعد دعبل اپنے قافلے کے ہمراہ جب قم پہنچا تو اھل قم نے اس سے یہی قصیدہ سنانے کی درخواست کی . دعبل نے جواب میں کہا سب لوگ قم کی جامع مسجد میںجمع ہو جائیںجب لوگ مسجد میں جمع ہوگئے تو دعبل نے منبر پر جاکر لوگوں کو یہ قصیدہ سنایا جسے سننے کے بعد اہل قم نے نقد مال کے علاوہ قیمتی خلعتو ں سے بھی دعبل کو نوازا اہل قم کو جب پتا چلا کہ حضرت امام رضا  نے دعبل کو ایک پیراہن عطا فرمایا تو قم کے لوگوںنے دعبل سے کہا کہ وہ پیراہن ایک ہزار درہم کے بدلے فروخت کردے مگر دعبل نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اسکے بعد دعبل جب قم سے روانہ ہوا تو رات کی تاریکی میںکچھ عرب نوجوانوں نے اس پر حملہ کردیا اور اس سے حضرت امام رضا  کا پیراھن چھین کر بھاگ گئے چنانچہ دعبل دوبارہ قم واپس آیا جہاں اس نے پیراہن کی واپسی کیلیے کوشش کی مگر اسے جواب دیا

 گیا کہ وہ پیراہن اسے نہیںمل سکتا ہاں البتہ ایک ہزار دینار کی رقم واپس نہیں ہو سکتی دعبل نے ان لوگوںسے یہ تقاضا کیا کہ وہ اسے اس پیراھن کا کچھ حصہ ہی واپس کردیں جوانوںنے اسکی بات مان لی اور اسے پیراہن کا ایک حصہ واپس کردیا اور ساتھ ہی اسے ایک ہزار دینار بھی دے دیے اسکے بعد دعبل وطن روانہ ہوا جب وہ اپنے گھر پہنچا تو اسے پتا چلا کہ ڈاکووں نے اسکی عدم موجودگی میںاسکے گھر کا صفایا کردیا ہے اس صورتحال کے پیش نظر دعبل نے امام رضا کے عطا کردہ ایک سو دینا روالے سکے امام کے شیعوںکے ہاتھ فروخت کردیے دعبل نے ایک دینار سودینا ر کے عوض فروخت کیا

 ( کیونکہ اس پر حضرت امام رضا کا ااسم مبارک نقش تھا ).اور اس طرح اسے ایک سو دینار کے دس ہزار دینار مل گئے اس موقع پر دعبل کو یاد آیا کہ امام  نے کیوں فرمایاکہ یہ سکے واپس مت کرو جلد تمھیںانکی ضرورت پڑ جائیگی کہتے ہیں  دعبل کی ایک کنیز تھی جسے وہ بہت زیادہ چاہتا تھا اس کنیز کو کافی عرصے سے مرض چشم کا عارضہ لا حق تھا طبیبوں نے اسکی آنکھوںکا معاینہ کرنے کے بعد بتایا تھا کہ اس کی دائیں آنکھ قطعی طور پر لاعلاج ہے البتہ بائیں آنکھ کا علاج ہو سکتا ہے . اس خبر کی وجہ سے دعبل کافی مغموم تھا کہ اچانک اسے خیال آیا کہ حضرت امام رضا  نے اسے جو پیراہن عطا کیا تھا اسکا ایک حصہ اسے واپس مل گیا تھا کیوں نہ اس مبارک پیراھن کو کنیز کی آنکھوں پر لگا کر شفالے لی جائے؟یہ خیال آتے ہی دعبل نے اس پیراھن کے ایک حصے میں سے رومال کے برابرکا ٹکڑا لیااور اسے کنیز کی دونوںآنکھوںپر ملا جسکی وجہ سے کنیز کی دونوں آنکھیںصیحیح ہو گئیں

ایک اور روایت میں شیخ صدوق نے نقل کیا ہے کہ احمد بن زیااد بن جعفر ھمدانی  نے بتایا ہے کہ ہم نے علی ابن ابراہیم بن ھاشم اور اس نے اپنے جد سے اور انہوں نے عبد السلام صالح ہروی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ میں نے دعبل بن خزاعی کو یہ کہتے سنا کہ میں حضرت اما  م  رضا کی شان میں ایک قصیدہ کہا جسکا پہلامصرعہ یہ ہے .

         مدارس آیات خلت من تلاوة       یقوم علی اسم اللہ والبرکات

اسکے بعد اس نے باقی قصیدہ سنایا او رجب وہ یہ اشعار پڑھ چکا کہ ؛

          خروج امام لا محالہ خارج         یقوم علی اسم اللہ والبرکات

           یمیز فینا کل حق و باطل          ویجزی  علی النعماء و النقمات

یقینی طور پر اس امام کا ظہور ہو گا جوظاہر ہو کر قیام کرنے پر ناچار ہے وہ اللہ کے نام کے ساتھ تمام برکات اپنے ہمراہ لیکر آئیگا اور ہمارے درمیان حق کو باطل سے علیحدہ کرنے کے علاوہ  ہر نیکی و بدی کی جزا و سزا دیگا جس نے بھی نیکی کی ہو گی اسے جزا گی اور جس نے بدی کی ہو گی اسے سزا دی جائیگی .

یہ اشعار سنکر حضرت امام رضا  شدت سے گریہ فرمانے لگے پھر امام نے اپنا سر مبارک بلند فرما کر مجھے کہا کہ اے دعبل روح القدس نے تیری زبان سے دو ابیات کو جاری کرایا اور تم نے یہ بات کہہ دی۔

کیا تمھیں معلوم کہ وہ امام (عج ) جو ظہور فرمائیگا کو ن ہے اور کس زمانے میں وہ قیام فرمائے گا ؟خزاعی کہتا ہے کہ میں نے عرض کی مولا مجھے اس بارے میں کوئی علم  نہیں سوائے اسکے کہ میں نے یہ بات سن  رکھی ہے کہ آپ اہلبیت کے گھرانے سے ایک امام کا ظہور ہو گا جو روئے زمین پر چھا جانے والے فتنہ و فساد کا خاتمہ کر کے ارض خداوندی میں عدل و انصاف کا بول بالا کریگا . امام رضا  نے فرمایا کہ اے دعبل وہ امام (عج ) میری اولاد میں سے ہو گا میرے بعد میرا بیٹا محمدتقی  امام ہو گا اسکے بعد اسکا بیٹا علی ابن محمد النقی  امام ہو گا اسکے بعد اسکا فرزند حسن عسکری  امام ہوگا . اور حسن  کے فرزند کا نام ( محمد ) ہو گا جو حجت قائم ( عج ) کے نام سے مشہور  ہو گا اسکی غیبت کے زمانہ میں اسکا انتظار کیا جائیگا اور جب وہ ظہور فرمائیگا تو دو جہانوں پر اسکی اطاعت و فرمانبرداری واجب ہو گی اگر کائنات کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی ہو کہ اللہ تعالی اس ایک دن کو اتناطویل فرمائے گا کہ وہ ظہور فرمانے کے بعد روئے زمین پر عدل و انصاف کو اسطرح غلبہ دلا سکے جس طرح ظلم و جور سے دنیا بھر چکی ہو گی . لیکن یہ واقعہ ظہور کس وقت رونما ہو گا ؟ یہ ویسا ہی سوال ہے کہ جیسا یہ پوچھا جائے کہ قیامت کب آئیگی ؟ اور میرے پدر بزرگوار  نے اپنے آباء و اجداد  کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جناب رسولخداۖ  سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ آپ کی ذریت میں سے قائم آل محمد (عج ) کب ظہور فرمائیںگے تو آنحضور ۖ نے جواب میں فرمایا تھا کہ اسکی کی مثال یوم قیامت کی مانند ہے کہ جو کسی پر بھی آشکار انہیں  سوائے اللہ تعالی کے کسی کو اس بارے میں علم نہیں یعنی جس طرح قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں اسی طرح ظہور قائم (عج )  کا بھی کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس وقت ظاہر ہونگے البتہ یہ حتمی امر ہے کہ وہ ضرور آئیںگے .

دعبل اپنے دور کے مشہور شاعر تھے جنکی شاعری کا ڈنکا چار سو بجتا تھا . وہ علم تاریخ اور انساب عرب میں بھی

 مہارت تا مہ رکھتے تھے دعبل نے کمیت کے جواب میں بہت سے قصیدے لکھے مگر بعد میں معصومین کے روکنے کیوجہ سے اس سلسلے کو مزید آگے نہ بڑھایا دعبل نے اپنے دور کے عباسی حکام کی ہجو میں شعر کہے تھے جو آخر کا ر انکی شہادت کا سبب بنے .

                                 دعبل کی شہادت

دعبل ستانوے سال اور چند ماہ کی عمر پا کر ظلم و ستم کا نشانہ بن گئے انہیں جابر حکمرانوں نے دو سو چھیالیس ہجری میں شھید کردیا بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے مالک بن طوق کی ہجو  میں شعر کہے تھے جب اسکو علم ہوا تو اس نے دعبل کو طلب کیا دعبل وہاںسے بھاگ کر بصرہ آگئے بصرہ کے فرمانروا اسحاق بن عباس عباسی دعبل کی قبیلہ نزاد کی ہجو کو جانتا تھا اس نے انہیں گرفتار کر کے قتل کرنا چاہا مگر دعبل نے کہا میں نے یہ ہجو نہیں کی میرے دشمنوں نے میری خاطر یہ سازش کی ہے اس نے کہا اگر تجھے قتل نہ کروں تو رسوا ضرور کروں گا پھر انکو عصا سے اتنامارا کہ عصا ٹوٹ گیا پھر بے ادبی کرتا رہادعبل رہائی کے بعد اھواز کیطرف بھاگ گئے مالک بن طوق نے ایک زیرک شخص کو انکے قتل کی خاطر انکے پیچھے لگا دیا جسے اس نے دس ہزار درھم دیئے اس نے دعبل کو سوس کے قریبی گائوں میں نماز  عشاء کے بعد پکڑ اا اور زھر آلود عصا سے انکی پشت پر مارا جسکی تاب نہ لا کر دعبل دوسرے دن چل بسے اور انہیں وہیں دفن کردیا گیا ( اغانی ص ٢٠٠۔ ٢٠، الغدیر ص ٢)     

 مصادر و ماخذتحقیق  

  (!)  رجال کشی  مصنف ابو عمر و محمد بن عمر بن عبد العزیز کشی طبع جامع مشھد ١٣٤٨

(٢)ترجمہ عیون اخبارالرضا  مصنف شیخ صدوق محمدبن علی بن بابویہ قمی ترجمہ سید شبر رضا کاظمی منیر الحسن جعفری  . طبع مکتبہ الرضا لاہور .

(٣) الغدیر مصنف علامہ عبد الحسین امینی طبع مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ ١٤١٦

(٥)اغانی مصنف ابو الفرج اصفہانی طبع اولی ٤٠٧ٍ١  دار الفکر بیروت

(٦) الکافی مصنف محمد بن یعقوب کلینی طبع مئوسسہ انصاریان فمن الکتب الاربعہ تنظیم صادق بزرگر بفروعی  ١٤٢٨

(٦) مجالس المئومنین جلد ٢ مصنف علامہ قاضی نو اللہ شو شستری شھید طبع مکتبہ اسلامیہ طہران ١٣٦٥

(٧)اعیان الشیعہ جلد ١ مصنف سید محسن امین عاملی  طبع دار التعارف بیروت   ١٤٠٦

(٨) بحار الانوار جلد ٤٧ مصنف محمد باقر بن محمد تقی مجلسی ١١١١ طبع مکتبہ اسلامیہ طہران ١٤٠٤

(٩) تنقیح المقال ج  ١٠ مصنف علامہ عبد اللہ مامقانی  طبع مئو سسہ آل البیت لاحیا التراث قم ١٤٢٣

(١٠) المنجد ؛

پیام رافت شماره 2 حصه نظم

شاعر :  جناب عابد علی بھوجانی  صاحب

طرحی مصرعہ :    بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں

یوں  ابر شوق جھوم کے برسا غدیر میں                کاسوں سے جام خوب ہی چھلکا غدیر میں

دست نبی پہ  ایسا تھا جلوہ  غدیر میں                  قرآن   پڑھ   رہا  تھا    قصیدہ     غدیر   میں

پہلے فرات اشک پہ جا کے وضو کرے                      جائے   اگر   خیال   کا  کنبہ    غدیر     میں

فانوس دیں میںشمع ولایت  کو دیکھ کر                   کعبہ  طواف  کرنے   کو   آیا   غدیر      میں

معراج  ہو  رہی ہے  جناب  امیر کو                           دست  نبی ہے  مسجد  اقصی  غدیر میں

بخ  لک  اگر  وہ  نہ کہتا  غدیر  میں                          اٹھتا  منافقت   کا   جنازہ    غدیر      میں

کر دی علی کے نام خلافت کی  ملکیت                    بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا  غدیر میں

حج کیا تھا چھوڑ دیتے وہ دین نبی جناب                   معلوم  ہوتا  ہو گا  جو  ایسا   غدیر   میں

اچھا رہے جو ساتھ میرا چھوڑ دے حیات                     ہے  کاروان  زیست  کا  خیمہ  غدیر  میں

روز غدیر دھوپ کی شدت   بتائے  ہے                   سورج  بھی  محو سجدہ  ہے گویا غدیر میں

ہاںخیریت تھی بات جو پتھرپے رک گئی                  کم تھا جو  کوہ سنگ  بھی گرتا غدیر  میں

کیسے  ہو  ا تحا  د کہ  تا  ریخ  ہے گو  اہ                حارث  پہ  تھا   عذاب   بلا   کا  غدیر    میں

قبروںمیںان کے آج بھی اجداد روتے ہیں                   کچھ  اس طرح  لگا ہے  طمانچہ غدیر میں

دل میںچھپا کے حشر میںلے جائونگا ضرور              عابد  مجھے  ملا ہے  جو  صدقہ غدیر میں

 

شاعر :    جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب

مصرعہ طرح:  خداکی رحمتیںسمٹی ہے ساری  ایک  پیکر  میں

کہاںسے لفظ لائوںانکی نعتوںکے برابر میں             مثالیں مل نہیں پاتیں کہیں  مخلوق  داور  میں

محمدۖ مصطفیٰ ۖ کی ذات  کی  رفعت کا  کیا  کہنا          ہے  انکی آل کی توصیف  قرآن  او ر کوثر  میں

محمد ۖ کے  سہارے  نا  خدائی کر رہا  ہوںمیں           مری کشتی پڑی ہے  ایک  دریائے  شناور  میں

سلام اے آمنہ  تو  رحمتوں کی  بن گئی  مادر         خدا نے عظمتیںرکھی ہیں ساری تیرے دلبر میں

عطا ، لطف  وکرم ، رحم و  محبت، کوثر و  جنت       خداکی رحمتیںسمٹی ہے ساری  ایک  پیکر  میں

زبا ںکیوںہڈیوںکے درمیان محبوس رکھوںمیں           جو  ذکر  مصطفیٰ  و آل  ہے میرے  مقدر    میں

کوئی دیکھے اگر کرب و  بلا کی  جنگ  کا  منظر            مز ا  ج   لا  فتی  ٰ پائے  گا  عباس دلاور  میں

ہنسی کے وار سے دشمن کا دل چیرا ہے میداںمیں     کو  ئی  ایسا  بھی  بچہ  آ  گیا آ ل  پیمبر ۖ میں

حسین بس اس لیے تھے چاہتے شدت سے بیٹے کو کہ جلوہ مصطفیٰ ۖ کے حسن کا تھا شکل اکبر میں

دکھایا دے کے خطبے شام کے مجمع  میں  زینب  نے      اثر کونین کے سرکا  ر کا  ہے بنت حیدر میں

محمد مصطفی  ۖ  کے واسطے پوری کرے یا رب            کمی جو رہ گئی ہے باقی اب تک فکر اطہر میں

 

شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب الفت حسین جویا صاحب

مصرعہ طرح :بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں

بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا  غدیر  میں                      سرور ۖ  نے حاجیوں  کو  بلایا  غدیر  میں

وقت نمازتھا نہیں  چونکے سبھی  جونہی                  حی  ّعلی  خیر  العمل  گو  نجا  غد  یر میں

سوالاکھ حاجیوںکے  مقابل  حضورۖنے                       نعر   ہ  علی   و  لی  کا  لگا  یا  غد  یر  میں

کچھ کھل اٹھے کچھ جل گئے کچھ سوچنے لگے            سر پر علی  کے  تا  ج  جو  آ  یا  غدیر میں

اعلاں ہوا علی کی ولایت کا  جس  گھڑی                         اکما  ل  دیں کا  آ  گیا  تحفہ  غد یر  میں

بھولا خدا کو بھو  لا  نبی  ۖ کو  کتاب  کو                     جس نے بھی کر کے وعدہ بھلایا  غد  یر میں

طرحی مصرعہ:        (جام کوثر کی طلب ہو تو پیجیے جام غدیر)

محو ہو  سکتا  نہیں  تاریخ  سے  نام   غدیر            بھول  پائے  گا  بشر  ہر گز  نہ  ایام  غدیر

کا   م    تبلیغ  کا  کو  ئی  بھی   نہ  ہو                   گر نہ پہنچائیں   پیغمبر ٔۖ   آج  پیغام  غدیر

دین کا  کمال ،  اتما  م  نعم ،  مرضی  حق             اک ولایت کے ہے صدقے میںیہ انعام غدیر

 اپنا    اپنا  ہے  مقدر  ہو  مبارک   منکرو              تم کو  اسلام   سقیفہ  ہم  کو ا  سلام  غدیر

شیخ جی! تیرے نصیبوں کا ہے چکر یہ طواف        کیوںنہین میقات خم سے باندھا احرام غدیر

اس قدر رسوا نہ ہوتے اہل دیں  ہر گز  کبھی          یاد رکھتے گر دل و  جاں سے  وہ  پیغام  غدیر

ساقی کوثر علی ہیںاس  لیے  اے  شیخ  جی!        جام کوثر  کی  طلب  ہو  پیجیے  جام  غدیر

 ہے   دعا ا  لفت  ولی  امر  آئیں  بارہویں                دیکھ لیں ہم بھی  بڑھیںتکمیل  کو گام غدیر

 

شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب الفت حسین جویا صاحب

مصرعہ طرح :         آگئی فصل ربیع تشریف  لائے  مصطفےٰ ۖ

 

آگئی فصل ربیع تشریف  لائے  مصطفےٰ ۖ                          ذرہ ذرہ دوجہاںکا  گنگنائے   مصطفےٰۖ

ابتداء جس کے فضائل کی وہ  ''لولاک کا''                کون سمجھے گا بھلا  پھر  انتہائے  مصطفےٰ ۖ

کہہ رہا ہے ''حسین  منی '' کا ہم سے بیان                  کربلا شبیر  کی  ہے  کربلا ئے  مصطفےٰ ۖ

کاش پوری ہوسکے اک بار الفت آرزو                        وہ  جگہ چوموںجہاںہیںنقش پائے مصطفےٰۖ

مصرعہ طرح :       خدا کی رحمتیںسمٹی  ہیں  ساری ایک  پیکر میں

خدا کی رحمتیںسمٹی  ہیں  ساری ایک  پیکر میں

جو  چاہو  دیکھنا  دیکھو  سبھی  چہرہ  سرور   میں

بھلا مجھ سے یا مجھ جیسوںسے ممکن ہے ثناء ان کی

جہاں مصروف قرآن میں خدا ہو  مدح  سرورۖ  میں

علی  نفس  پیغمبر ۖ  ہیں ،  پیغمبر ۖ   نفس  حیدر  ہیں

کہاں  ایسی  محبت    او ر قرابت   دو      برادر    میں

پیغمبر ۖ سے  پیغمبر  کے  صحابہ  میں نہیں ملتی

عقیدت سبط  پیغمبر ۖ سے  دیکھی  جو  بہترّ  میں

کہے جاتے ہیں کچھ نامرد بدعت ہے یہ بدعت ہے

علم اک مرد کو جب سے ملا ہے جنگ خیبر میں

اگر قرآن و عترت کا نہ دامن چھوڑ تی امت

 یہ  واحد  ہی بنی  رہتی نہ بٹتی یوں  ٧٣ میں

 نہیں کچھ  خوف  الفت  کل  بروز  حشر  کیا  ہوگا ؟ 

یقیں ہے مصطفیٰ ۖ تھامیںگے میرا ہاتھ محشر میں

 

      شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب تحریر علی نقوی صاحب

مصرعہ طرح : آگئی فصل ربیع تشریف  لائے  مصطفےٰ ۖ   

خلق حق میںدیکھو مقدار  فضائے  مصطفیٰۖ             ماسوی اللہ میںہے تو آب وہوا ئے مصطفیٰۖ

اے  خدائے  نور مجھ پر ہو عطائے مرتضیٰ             تاکہ میںبھی  کر سکوں کچھ  دم ثناء مصطفیٰۖ

خلق خالق میںہے سرورۖ اک حبیب کبریا ۖ                    اک  غلام  باوفا  صاحب  لوائے  مصطفی ٰۖ

جو غلام مصطفی ٰۖ  حیدر  سے  دوری  میںرہا     وہ نہیںسمجھا  سمجھ  لو  الف و بائے  مصطفی ٰۖ

مرتبے میںمرتضیٰ کون ومکان میںبے مثال               جس کے دل میںموجزن روح ولائے مصطفیٰۖ

اس  کو دل اس کا خلیفہ مان لیتاہے ضرور             ہاتھ جس کا ہاتھ میںتھامے  ، اٹھائے مصطفیٰۖ

مرتضی  وفاطمہ  ہیں  اپنے فرزند کے ساتھ             پانچویںسرورۖ ہیں، سب پر ہے ردائے مصطفیۖ

مصطفی  ۖ ومرتضی   میں  فاصلہ  کوئی نہیں          روز  روشن  حا جیوںکو جب  دکھائے مصطفیۖ

اس ردا کی شان جبریل امیں  سے پوچھ لو                    آرزو دل میںلیے بولے ''خدائے  مصطفیٰ'ۖ

ہو  اجازت  تو مدینے کی زمیںپر پہنچ کر                پانچتن  کی  بزم  میں  پہنچے گدائے مصطفیٰۖ

لی  اجازت  آیہ تطہیر  لے  کر آگئے                      سر جھکائے  رک گئے دیکھی کسائے مصطفیٰۖ

باادب مانگی اجازت ،جب ملی داخل ہوئے                        واقف آداب  تھے  وہ  آشنائے  مصطفیٰۖ

 کلمہ گوتو بھی امین وحی حق سے لے سبق            بے اجازت  گھر نہ آ، گر  نہ بلائے مصطفیٰۖ

آیت  تطہیر والاگھر جلانے کی نہ سوچ                     ورنہ  غیظ حق سے تیرا دل جلائے  مصطفیٰۖ

شان زہرائے حبیب کبریا ۖ  بھی  دیکھ لو               وہ ہے جس کو دیکھ کر اٹھ کر دکھا ئے  مصطفیٰۖ

بضعة منی  کہے  یعنی  یہ ٹکڑا  ہے  میرا              اپنی بیٹی اپنی ماں  کہہ کر  سنائے  مصطفیٰۖ

رحمةً للعالمین  کی ساری  رحمت فاطمہ            مانگو  اس کے  نام پر ،  دریا   بہائے  مصطفیٰۖ

سرور عالم کہے سردار  جنت  کے  ہیں  دو        جان ودل سے ان کو پیارے جن کو بھائے مصطفیٰۖ

اک حسن ہیںمجتبی  او راک حسین پادشاہ            سیرت  وکردار  میں  دونوں  ادائے  مصطفیٰۖ

واسطہ دے کر تو دیکھو دونواسوںکااسے              روشنائی میںبد ل  دے غم کے سائے مصطفیٰۖ

سبط پیغمبر ۖ  شھیدکربلا  کے باب  میں             کہنے  والو  شعر  کہہ کر  لو  دعائے  مصطفیٰۖ

 جس کے در پر صف بہ صف سارے ملائک سر نگوں    اے بشر تیری  سمجھ  میں کیسے  آئے  مصطفیٰۖ

 جس کی بند مٹھی میںہو دانے کی مانند کل زمین         پھر  زمین میںکیسے  ممکن  ہے سمائے مصطفیٰۖ

چاند سورج اور ستارے شرم کے مارے مریں         اک دفعہ جب رخ کرے اور مسکرائے مصطفیٰۖ

دردمندواسکی چوکھٹ ہے  شفا  خانہ  عجب          جو  مریض آئے مرض پل  میںہٹائے مصطفیٰۖ

آنہیںسکتی کبھی مرگ خزاںاس کے قریب میں        اے  خوشاجو  آنگن  دل  میںسجائے مصطفیٰۖ

 تھا سماںساراخزاںجب تک نہ آئے مصطفےٰۖ          آگئی  فصل  ربیع ،  تشریف   لائے  مصطفےٰۖ

رک گئے جبریل پیچھے ،بڑھ گئے آگئے نبیۖ            ان  سے  توآگے  بہت تھی گرد پائے مصطفیٰۖ

 ہاںمگر نفس پیمبرۖ کی جداہی بات ہے                انکے  لہجے  میں  تھا  جلوہ گر  خدائے مصطفیٰۖ

نقوی کیاتقدیر کا کھٹکا ہو، قسمت کا ہو غم!             جبکہ  بگڑی  پر کرم  کر  کے  بنا ئے مصطفیٰۖ

مصرعہ طرح :       خدا کی رحمتیںسمٹی  ہیں  ساری ایک  پیکر میں

اگر  چاہو کہ  دیکھو  رحمت  حق  ایک  جوھر  میں

  خدا کی  رحمتیں  سمٹی  ہیں  سار ی ایک  پیکر  میں

 ہیںجتنی خوبیاںپھیلی ہوئی اس سارے  عالم  میں      

  نمونہ ان کے مرکز  کا  ہے  سرور   ۖ اور  جعفر میں      

 رسالت اور امامت کی سیادت حق کی جانب سے

ہے رشک عالم امکاں'  پیمبر  ۖ اور  حیدر  میں''

صدف کعبہ ، رجب کی تیرہویں'ہاتھوںپہ گوھر ہے

امامت بچپنے میںہے رسالت ہی کے  محضر  میں

    نبی ۖ کے بعد شکل و صورت و  منطق  میں  ویسا  ہی       

 اگر دیکھا  زمانے نے تو  دیکھا  ایک  اکبر   میں       

صفات  احمد  مختار  ۖ ہم  نے  جلوہ گر  دیکھیں

علی  حق کے  و لی ،  شیر  جلی  نفس  پیمبر  ۖ میں

    خدا کے دین پر مشکل بنی ،  مشکل  کشا  آئے      

 نبی ۖ سے پوچھو لو ، خود  دیکھ لو خندق میں،خیبر میں      

علی  ہر بات میںمرضی نبیۖ  کی دیکھ  لیتے  ہیں

  خدا کا حکم لیتے ہیں نبیۖ  کے  ایک  تیور  میں

سکون دل کا باعث ہم نے یاد یںان کی پائی ہیں     

ہے کتنی تازہ لذت ان کے ہر  حرف  مکررمیں     

نبیۖ کو اپنا بھائی ایسے ویسے کہہ نہ  سکتے تھے

اخوت گر نبیۖ کی دیکھتے نہ پاک حیدر  میں

نبیۖ کے ہاتھ پر پتھر بھی آکر کلمہ پڑھتے ہی        

تفاوت کچھ ہے لازم کلمہ گو میں اور پتھر میں        

علی  کی جب ثناء  کو  لب  ہلے ،  امر  نبی ۖ  آیا

ںاے روح القدس جائو کچھ لکھو شاعر کے دفتر میں

اے نقوی محضر رضوی  میںمانگو دوجہاں  اچھے

ابھی سے مانگ لو پڑھنے کی نوبت روز محشر میں

 

شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب تحریر علی نقوی صاحب

مصرعہ طرح :    بلغ کا  حکم  جیسے ہی   آیا    غد  یر میں

  امر  خدا  نبی ۖ  نے  سنایا  غدیر  میں                چہرہ  وصی  کا سب  کو دکھایاغدیر  میں

حق سے خلیفہ اس گھڑی پایا غدیر میں                 بلغ  کا  حکم   جیسے  ہی  آیا  غدیر  میں

پالان جمع کر لیے  حجاج  روک  کر                منبر  نئی  طرح  سے  سجایا  غد   یر میں

بعد از نبی ۖ تھی دھوپ کڑی انتظار میں                 دیں  کو  ملا  ہے  اس لیے سایہ غدیر میں

دست نبیۖ میںدست علی کا سماںیہ تھا                جیسے  چمن  میں  پھول  کھلا  یا غدیر میں

نفس نبیۖ وصی ہوئے بے شک بغیر فصل               قول  و  عمل  سے  یہ  ہی  بتایا غدیر میں

دین خدا کی بن  گئی کا یا   غدیر     میں              بلغ کا  حکم  جیسے ہی   آیا    غد  یر میں

مولا میںجس کا  اس کا ہے مولا علی  ولی                روشن  بیان  میںسب کو سنایا  غدیر   میں

کوثر کی تھی طلب جنہیں دست امیر سے                جام   غدیر  ان  کو   پلایا   غدیر  میں

کفر خداپہ مولا   جلاتے   رہے  محب                کفر  علی  پہ   حق نے   جلایا  غدیر میں

تبلیغیو  نمونہ یہ  سیرت  سے  دیکھ  لو              بلغ کا  جشن  کس نے  منایا  غدیر  میں

سنّت کے اہل ہو جو  حقیقت  میں  دوستو             دیکھ   امیر  کس  کو   بنایا   غدیر میں

رشک جنان نقوی خلافت  ہوئی  عجب               بلغ  کا  حکم   جیسے  ہی  آیا  غدیر  میں

مصرعہ طرح :        جام کوثر کی طلب  ہو  پیجیے  جام  غدیر

 دین  کا مل  ہو گیا  ، ملتا ہے  انعام  غدیر           دین  ہے  اسلام  اور اسلام  ،  اسلام غدیر

واسطہ مولا  کا ہو چند   لمحے  الہام  غدیر           تاکہ کچھ پہنچاسکوں یا رب !  میں  پیغام  غدیر

جس کی قسمت میںرہا روز ازل جام الست           مل سکا  اس  کے مقدر  کو  فقط   جام  غدیر

ہے خوشی کی انتہا  سلمان   کی  آواز   میں          آئو  تو  خیر  العمل  میںلے  لو ا  نعام  غدیر

حاجیو سن لو کہ  ہے  مقبول  حج  اسکا  فقط           جس نے باندھا آج اس میداںمیں احرام غدیر

رکھ  کے پالانوںپہ پالانیںبہت اونچا کیا            بہر   اعلان   ولایت   منبر  و   بام  غدیر

ہو گئے  مولا علی  سب کے و لی  اب  تا ابد           ہو گیا  واجب  ہر  اک  مسلم  پہ  ا کرام غدیر

دست ساقی  ہاتھ  میںکر کے  بلند بتلا دیا           جام  کوثر  کی  طلب  ہو   پیجیے  جام  غدیر

مبغضوں  کی  خام خیالی کے سروںپر دفعة ً         حق  نے  حق  دکھلا  کے خود ہی رکھ دیا گام غدیر

ایک دشمن نے جو  اظہار  عداوت  کردیا          ا س  پہ فوراً  پڑ گئی  اک  ضرب  صمصا م  غدیر

اور  الباقی ر  ہے  دل میںہی روتے پیٹتے         چہرے  گویا  تھے  کہ ہیںتا زیست آلام غدیر

کام  کچھ نہ  آسکیں شیطان کی شیطانیاں         خاک  منصوبے  ہو ئے  ہیں،  آہ اقدام غدیر

 سوچنے  بیٹھے  کہ کیسے کر سکیںاب اک ھنر       کیسے  پیدا  کر سکیں  ہر  دل  میں  ابہام غدیر

نقویکہہ دو دشمنوں! اب بھاگنے سے کیا ثمر !        سامنے  ہے  جبکہ  ظاہر  حق  کا ضرغام غدیر

 

شاعر : حجة الاسلام و المسلمین جناب حسن عسکری نقوی صاحب

مصرعہ طرح : خدا کی رحمتیں سمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں

 

فضیلتیں  آئی  ہیں  ساری  ایک مظھر میں            خدا کی  رحمتیں سمٹی  ہیں ساری ایک پیکر میں

ولا جس کی عبادات خلائق کے لیے روح ہے         ہے وقعت کیا اگر روح ہی نہ ہو اک خالی پیکر میں

 تصور  بھی نہیں  ممکن  خدا و مصطفیۖ جانیں            ہوئے  بنت  اسد پر جو  کرم اللہ کے گھر میں

جو  اپنی جان  دیکر  مول لے اللہ کی مرضی            وہ  سو داگر ہمیں ملتا ہے  بس اللہ کے گھر میں

 علی  کے عشق میں جو ڈوب جائیں زندگی ساری         انہیں  پرواہ  نہیں ہوتی کبھی میدان محشر میں

فقط اس کی امامت کے ہیںقائل ہم علی والے         ضیا  خورشید  ملتی  ہوجس کے  نور  انور ہیں

بہار  تازہ  آئی  گلشن  عالم  مہکتا  ہے            موالی  مست ہیں گویا سبھی اک حوض کوثر میں

ہلا  دیتے ہیں،  دنیا کو  مجاہد یاعلی کہہ کے            یہی  اک  نعرہ سن سکتے ہیں گفتار  پیغمبر ۖ میں

طبیعت کھینچے لے جاتی ہے اپنی اصل کی جانب          ولی  ا للہ  سے  ملتا کوئی ہے  کوئی آذر میں                       

بپا ہے شور کہ ہیں  معراج  کے  اسرار کھلتے ہیں         علی کا  لہجہ پاتے  ہیں بنیۖ  گفتار  داور میں

مصرعہ طرح :       بلغ  کا حکم  جیسے  ہی آیا غدیر میں 

 بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا  غدیر میں               کھلنے  لگا   ہر  دشمن  مولا   غدیر میں

مولا علی کا بغض تھاجن جن کے قلب میں             سمجھے  نہیں و ہ  معنی  مولا  غدیر  میں

اکمال  دین نعمت  تمام  راضی ہوا خدا                مولا  علی کا  ایک ہے  جلوہ  غدیر میں

 ظاہر میں کچھ لعینوں نے مجبوریوں کے ساتھ            نام  علی  کا  پڑ ھ  لیا  کلمہ غدیر میں

ساری  فضیلتوں  نے بصد  حترام شوق              پائے علی پے  کرلیا  سجدہ  غدیر میں 

اک حشر  بھی  بپا  ہوا   ایسا   غدیر میں             جھپکی پلک  بدل  گئی  دنیا  غدیر میں

 قرآن لے کے ہاتھوں پے انصاف سے کہو            مولا  کسے  نبیۖ نے کہا  تھا  غدیر میں

دیکھے  کوئی  غدیر  نصیری  کی آنکھ سے              دیکھے  کوئی  علی  کا سراپا  غدیر میں

تاریکیوں  کے  ختم  کا  اعلان  ہوگیا               کتنا  عظیم  ہے  یہ  اجالا  غدیرمیں

سلمان کے  ا یمان  کی معراج  دیکھیے                خیر العمل کا  نعرہ  لگایا   غدیر   میں

یہ  میثم  تمار   حذیفہ  ہو   یا  عدی                 سب  کی زباں پہ صل علی  تھا غدیر میں

جبریل و میکائیل تھے مولا کے دو طرف               رحمت  کا  چا ر سو  تھا  ھالہ  غدیر میں

منکر علی کا سب سے پہلے ہو ا  تھا وہ                   بخ کا جس نے  نعرہ  لگایا   غدیر میں

منکر علی کا آج بھی حارث پر ست ہے              چہرہ  تھا  ایسے  لوگوں  کا لا  غدیر  میں

 ہاتھوں پہ جانشین  پیمبرۖ کو   دیکھ  کر               چہرہ بجھا  بجھا  سا  ہے کن کا  غدیر  میں

یہ مسکراتے پھولو سے چہرو نکے درمیاں               یہ کون  خا ر کس کا  ہے  نالہ  غدیر  میں

چہرہ  جلا  ہوا  ہے  سقیفہ کا آج  تک              مارا نبیۖ  نے  ایسا  طمانچہ    غدیر  میں

ہونٹوں  پہ تھی کسی کے تبسم کی   چاندنی              ماتھے  پہ تھا  کسی کہ پسینہ   غدیر   میں

حارث مزاج دیکھ لے حارث کا واقعہ              قدرت  نے کیسا کھینچ کے مارا   غدیر میں

اب دیکھناہے یہ کہ مکرتا ہے کون کون               بخ تو مل کر سب نے کہا  تھا   غدیر   میں

جنت میں  مومنین کا اذن دخول ہے              کعبے میں  در  بنا  تھا کھلا تھا   غدیر  میں

دشمن  علی کا ماں کی خرابی کا ہے  ثمر                اس پر نبیۖ  کا  بھی تھا اشارہ  غدیر  میں

یہ جو خمینی  لائے ہیں اسلامی انقلاب               اس  کو  نبیۖ نے  بذر کیا تھا   غدیر  میں

مولا علی کے نام پہ جل جل کہ جو مرے             لگتا  ہے اچھا  ان  کو  جلانا   غدیر  میں

مولا علی کے عشق سے ملتی ہے روح کو جاں          لکھا  حسن نے  تیرا  قصیدہ   غدیر  میں

شاعر: 

حجة الاسلام و المسلمین جناب فیروز رضا نقوی صاحب     

مصرعہ طرح :   بلغ  کا حکم  جیسے  ہی آیا غدیر میں

 

 مولا نبیۖ  نے سب  کو  دکھایا غدیر میں              اندھوں  کو  پر  نظر نہیںآیا غدیر میں

ہے  کو ن کہہ  رہا ہے  بخٍ لک علی!                دست نبی ۖ  پہ  دیکھ کے  مولا غدیر میں

تاریکیوںسے کہہ دو کہیںدور جا بسیں                مئومن کو مل  گیا ہے  اجالاغدیر  میں

ظلم و ستم کی دھوپ جلا پائے گی نہ دین               روح کربلا سے  مل گئی  سایہ  غدیر میں

مولا   بنا  دو  آج   پیغمبرۖ  علی  کو تم              قرآن  پڑھ ر ہا  ہے  قصیدہ  غدیر میں

کفر و نفاق بغض سب روتے ہیںایک ساتھ          اسلام  ہنس رہاہے  اکیلا   غد  یر میں

قرآنایک آگیا قرآن کے ساتھ ساتھ              بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا   غدیر میں

منکر ہے  جو ولایت  حیدر  کابا  خدا               اس پر عذاب  عرش آیاسے  غدیر  میں

بدعت کے  بانیوں  کو  محمد ۖنے با خدا              خطبہ  سنا  سنا  کے  رلایا   غدیر  میں

الیوم  پڑھ رہے  ہیںپتا کچھ نہیںمگر                قرآن  کہہ  رہا  ہے  ہوا کیا غدیر میں

فیروز  کو  نہیںہے  ذرا خوف تشنگی                جام  ولا  نبی ۖ  نے  پلا  یا  غد یر  میں

مصرعہ طرح :    خدا کی رحمتیںسمٹیںہیںساری ایک پیکر میں                      

کسی بھی مشک میںدیکھی ہے نہ ہم نے گل تر میں

مہک  دیکھی گئی  جو آپ  کے  عرق  معطّر میں

نبی کیسا تھ میں  گر  الفت  آل  نبی  نہ  ہو            

نہیںہے پھر طواف کعبہ ہے  بندر وہ  چکر میں            

رضی  اللہ  سبھی کو کہہ  رہا  ہے  ہوش  کر  مفتی         

رضا ء رب کہاںہے دیکھ لے ھجرت کے بستر میں        

لگائی خلق کی ضربت جو  مولاکفر کے  سر  پے         

کہاںہے کاٹ تلواروںمیں  ایسی اور  خنجر میں        

تقابل خاک  کا  کیا  ہو  بھلانور  مجسم  سے         

شباھت آپ کی دیکھی گئی  بس آپ کے گھر میں         

فضیلت خون کی آخر بیان  ہو  کس  طرح  واللہ        

ہیںخوشبوئوںکے جوہر  آپکے  عرق  معطر  میں       

قلم عا  جز ہے لکھنے سے  تیری عظمت تو کیا  لکھے        

ہوئے جب مردے زندہ آپ کے حیدر کی ٹھوکر میں        

شباہت کس قدر ہے خلق میںاور خُلق ومنط میں        

سمٹ  کر  آگیا  سرور  کا   ہر کردار اکبر میں        

پسینہ آگیا مرحب  کو  لرزا  خوف  میں  آکر       

علم گاڑا ہے حیدر نے جو بڑھ کے ایک پتھر  میں       

     بتائے  گا تجھے  خیبر کا  وہ در پوچھ اژدرسے        

نہ پوچھو زورکیاہے ہم سے تم انگشت حیدر میں        

یہ ستر پشتوںتک  کو دیکھ کر پھر وار کرتی ہے       

بلا  کا علم ہے   پنہاں  علی کی تیغ  ا طہر  میں         

علی کے علم کی معراج کیا ہے کون بتلائے          

 نبی ۖسے پایا ہے جو علم ہے موجود حیدر میں          

 جب علم عبد مرسل کو نہ کوئی  جان پایا ہے          

بھلا کیا علم ہو گا کون بتلائے  پیمبرۖ  میں          

ابوطالب  کی آغوش  مطہر کا  یہ  عالم  ہے        

خدا کی رحمتیںسمٹیںہیںساری ایک پیکر میں        

ابوطالب  کے بچے  تیر  کھا کے مسکراتے  ہیں        

تڑپ کے رویا ہے ایک پیر تھا جو خوف میں ڈر میں       

تبسم سے گلا بیعت کا کس نے  کا ٹ  ڈ الا  ہے

نہیں  ملتا کسی میں  فن ہے یہ  فیروز  ا  صغر میں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شاعر:  حجة الاسلام و المسلمین جناب محمد حسین بہشتی صاحب

مصرعہ طرح :  خدا کی رحمتیںسمٹیںہیںساری ایک پیکر میں  

 

خدا کی  رحمتیںسمٹی ہیں  ساری  ایک پیکر میں         یہ ساری  خوبیاں  ملتی ہیںہم کو نام حیدر میں

جو میداںمیںلڑا دشمن سے اپنی جاںفدا کر دی         ہزاروںخوبیاں  ہم  کو نظر آتی ہیں اکبر میں

علی   شیر خدا  ، خیبر  شکن ہے  شیر یزدانی           محمد ۖ ہی کی  ساری خوبیاں  ملتی ہے  حیدر میں

 وہ  سالار  شہیدان حیدر کرار  کا  بیٹا            کہ جسکے نام کا دن رات  ماتم ہیںہر ایک گھر میں

یہی  ایک  آرزو  ہے  دنیا میںبہشتی کا             میرا  نام بھی لکھ لے  اے مولا  اپنے دفتر میں

مصرعہ طرح :     آگئی فصل ربیع  تشریف  لائے  مصطفے ٰۖ   

آگئی فصل ربیع  تشریف  لائے  مصطفے ٰۖ                سب خدا کی رحمتوں کو ساتھ لائے مصطفے ٰۖ

رحمة  اللعالمین ہیں  سرور  کونین ہیں                  ہر کس و ناکس کی بگڑی کو بنائے مصطفے ٰۖ

رحمت حق ہیں محمدۖ  بزم  عالم  کے  لیے             نور کے جلوے ہر ایک جانب دکھائے مصطفے ۖ

ہے  محمد ۖہی کے دم سے یہ گلستان جہان                  رہتی  ہے جنت  ہمیشہ زیر پائے مصطفے ٰ ۖ

  حوض کوثر ، باغ رضواںہے محمد ۖکے لیے                 یہ  زمین و آسماںسب ہیںبرائے مصطفےٰ ۖ

تاقیامت ہے بہشتی لطف ہیغمبر ۖ  قرین                  دو جہاںمیں کون ہیں اپنا  سوائے مصطفےۖ

مصرعہ طرح :      بلّغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں

بلّغ  کا حکم  جیسے  ہی  آیا غدیر میں                 احمدۖ نے  جانشین  بنایا  غدیر میں

آواز  کر دگار  ہے  مانو علی کو سب                  تنہا  رہ  نجات ہے آ یا غدیر میں

جشن  و لا  منانا ہے  با ہم گلے  ملو                  عشق  علی   کا جام پلایا غدیر میں

تاریخ  انبیاء  پہ  نظرڈال کر تو دیکھ                  پورے  نظام عدل کو لایا غدیر میں

خوشیاںتیری عروج پہ پہنچیں نہ کس لیے              مئومن تیرا امیر ہے آیا   غدیر  میں

تکمیل دین کے واسطے شرط و شروط ہیں                مشروط  شرط  دیکھ دکھایا غدیر میں

دشمن حسد کی آگ میں اکثر جلا کرے                 حاسد کے بت کو خوب جلایا غدیر میں

نقشہ بدل گیا ہے  سب کفر و  نفاق کا                  جب  سے  علی کو مولا بنایا  غدیر میں

ہم سب کو مشکلوں سے چھڑانے کے واسطے               مشکل کشا ء  نبی ۖنے دکھایا  غدیر میں

ایوان کفر  خوف سے  لرزاں  ہنوز ہے               گلشن ولا کا جب سے بسایا غدیر  میں

 پرواز فکر  اور  بھشتی  کا  ہے  قلم                     منظر ولا کا دل میںسمایا   غدیر   میں        

 

 

شاعر: 

حجة الاسلام و المسلمین جناب سبط محمد رضوی صاحب

مصرعہ طرح :   بلّغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں  

 

خود  آکے آیتوںنے  بتایا غدیر میں              اللہ  کا بھی یہی تھا  منشاء غدیر میں

کیا  پوچھتے ہو  ہمکو ملا کیا  غدیر میں             ہم نے نبی ۖ سے پایا ہے مولاغدیر میں

بخٍ لک سے گونج رہی ہے فضائے  خم             دشمن بھی پڑھ رہا ہے قصیدہ غدیر میں

حیدر  کو کیا نبی ۖنے اٹھایا غدیر میں               قرآن  کا  سراپا  دکھایا  غدیر میں

روز  ازل کے  ساز  کو آواز مل گئی              چھیڑا  گیا  الست  کا  نغمہ غدیر میں

بخٍتو کہہ رہے تھے کچھ اصحاب مصطفی               چہرہ  مگر  تھا  دیکھنے  والا غدیر میں

آنکھیںتیری نہ پھر بھی کھلیںمنکر غدیر             حارث کا حشر دیکھ چکا تھا غدیر میں

اعلان اب علی  کی ولایت کا کیجیے                  پہونچا  نبی ۖ  کو  حکم خدا کا غدیر میں

جو  نور  کو ہ طور پہ دیکھے تھے ایک بار             پھر دیکھنے  کو آئے ہیںموسی غدیر میں

محفوظ اب بھی  سینئہ تاریخ میںہے یہ             مرسل نے جو  سنا یا  تھا خطبہ غدیر میں

اللہ  کی عظیم  عدالت  میںجو  ہوا               وہ  فیصلہ  نبی ۖ  نے  سنایا  غدیر میں

شدت کی دھوپ خنکی جنتّ بنی رہی               مولا  علی   کا  جن پہ تھا سایہ غدیر میں

اصحاب کو بھی روکا نبی ۖ خود بھی رک گئے             بلّغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا غدیر میں

یہ محفل غدیر ہے سبط ہے مدح خواں             یا ںپڑھ رہا ہوںمیں بھی قصیدہ غدیر میں

مصرعہ طرح :     جام کوثر کی طلب ہو تو پیجیے جام غدیر

ہے  قصیدہ میرے لب پر کرتا ہوںمدح علی          آج  میں  دست  نبی ۖ سے  لونگا انعام غدیر

ساری دنیا میںعلی  والے ہیںجب پھیلے ہوئے        کیوںنہ ہوسارے جہاںمیںعام پیغام غدیر

حکم ہے  اللہ کا پہنچانے والے ہیںرسول ۖ          کیوںنہ ہو ںواجب کی حد میںسارے احکام غدیر

اس میںملتے ہیںحسین  اس میں ملتا ہے یزید          ایک  انجام  سقیفہ  ،  ایک  انجام  غدیر

میںغدیری ہوںزبان پر کیوںنہ ہو نام غدیر          جام  کوثر  کی  طلب  ہو  تو پیجیے جام غدیر

اس کی اے سبط ضمانت لی ہے خود قرآن نے          اور  سب جھوٹے ہیںبس  سچا ہے اسلام غدیر

مصرعہ طرح :     آگئی فصل ربیع  تشریف  لائے  مصطفے ٰۖ   

آج کرنی  ہے  مجھے جی  بھر  ثنائے مصطفی             اے خدا ہو جائے کچھ مجھ کو عطائے مصطفی ۖ

ساری دنیا مل کے بھی جس کا نہ لا پائی جواب              ایسے دونا یا ب قرآن ساتھ لائے مصطفی ۖ

زندگی کا  درس  کچھ  ایسا دیا ہے آپ نے              ڈھونڈتی پھرتی ہے دنیا نقش پائے مصطفی ۖ

کر کے ان کا  ذکر ہم بھی با فضیلت ہو گئے              ہم  کو  کہتا ہے زمانہ اب گدائے .مصطفی ۖ

ان کی سیرت کے نمونے سن کے حیراںہے جہاں         کر رہا  ہے  ہر بشر  حمد و  ثنائے.مصطفی ۖ

بالا تر وہم گماںسے ہے تیری ذات ولاء                 کوئی  پاسکتا  نہیںجو ہے فضائے مصطفی ۖ

برزخ ومحشر کا مجھکو کچھ نہیںخوف و خطر                    سر پہ  سبط  کے نچھاور ہے قبائے مصطفی ۖ

وجد میںکیونکرنہ آئیںپھر زمین وآسماں                  مجھکو کرنا ہے دل و جاںسے ثنائے مصطفی ۖ

دھوم ہے صل علی کی اس لیے چاروںطرف                آگئی  فصل ربیع  تشریف  لائے مصطفی ۖ

اللھم صلی علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم واحشرنا معھم والعن اعدائھم من الجن و الانس من الاولین و الآخرین

 

   شاعر : حجة الاسلام والمسلمین جناب نیر عباس رضوی صاحب

مصرعہ طرح : بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں

 

حیدر  کو جب  نبی ۖنے  اٹھایا  غدیر میں               پھیلا  علی  کے  نور  کا جلوہ غدیر میں

جن کے دلوں میں بغض تھا عمراں کے لعل کا               ان  کا  جھلس کے رہ گیا چہرا غدیر میں

لفظ  غدیر  دین کا  عنوان  کیوں  نہ ہو                کامل  ہوا ہے  د ین  خدا  کا غدیر میں

عمدا ًنبی نے دھوپ میں روکا تھا اس لیے                  تاکہ کہے  نہ  کوئی  ہوا کیا غدیر میں

دعوت میں ذوالعشیرہ کی وعدہ کیا تھا جو                 کس  شان سے نبی نے نبھایا  غدیر میں

رب نے نبی ۖسے کہدیا خطرہ نہیں کوئی                   جبریل   ہیں کیے  ہوئے سایہ غدیر میں

عشق  علی کا  آگیا  ہر  ایک  کو نشہ                   ساغر  ولا کا  اس طرح  چھلکا غدیر میں

اے  شیخ یہ بھی حکم  خدا ہے طواف کر                    شکل  علی میں  بن  گیا کعبہ غدیر میں

دین  نبی  سے  بر  سر منبر  علی علی                       تاریخ  کا  ہے  پہلا  تبرا  غدیر  میں

بغض علی تھا جن کے دلوں میں وہ مرمٹے                  بلغ  کا  حکم  جیسے  ہی  آیا  غدیر میں

کوثر کا جام صرف اسی کو ملے نہ کیوں                     جس نے  ولا کا  جام  پیا  تھا  غدیر میں

عشق علی میں ہوگئے کچھ لوگ تو جواں                     کچھ  کو علی نے کردیا  بوڑھا  غدیر میں

قدموں میں ہیں علی کے بصد ناز انبیاء                      رتبہ  علی  کو  مل گیا  ایسا  غدیر میں

نیر  میرے  علی کے برابر نہیں کوئی                          اتنا  علی   کا  قدہوا  اونچا  غدیر میں

 

 

    شاعر: حجة الاسلام والمسلمین جناب سبط حیدر زیدی صاحب

 طرحی مصرعہ: بلغ کا حکم جیسے ہی آیا غدیر میں 

     

  (مسدس)

  بلغ کا حکم جیسے  ہی آیا غدیر میں                  سارے ہی حاجیوں کو بلایا غدیر میں

پھر اک طویل خطبہ سنایا غدیر میں                حکم  الہی  سب  کو  بتایا  غدیر میں

                     ذکر  ولا نہ  ہو تو ہدایت ہے نا تمام

                    اس کے بغیر میری رسالت ہے نا تمام

پھر اس طرح علی کو اٹھایا  غدیر میں                 ہاتھوں پہ لے کے سب کو دکھایاغدیر میں

یوں دشمنوں کو خوب رلایا غدیر میں                 اور  دوستوں کو کھل کے  ہنسایا  غدیر میں

                      دین مبیں کی اصل ولایت ہے  حاجیو

                     اب تم پہ فرض اس کی اطاعت ہے حاجیو

یہ کہہ کے ختم کردیا  خطبہ غدیر میں                 سب کے ہیں اب علی ولی مولا غدیر میں

خوشیوں کا ہے مقام سراپا غدیر میں                 جبریل لے کے آگئے  مژدہ  غدیر میں

                       راضی ہے رب کہ حکم کی تعمیل ہوگئی

                       اب اس خوشی پہ دین کی تکمیل ہوگئی

خوش ہیں رسول جانشیں پایا غدیر میں               جبریل خوش کہ مل گئے مولا غدیر میں

ہے مؤمنوں کے دل کی تمنا غدیر میں                مسرور ہیں علی ہوئے آقا غدیر میں

                       ان کی ولا سے سب کو بقا ہے ملی ہوئی

                      اھل ولا خوش تو ہیں باچھیں کھلی ہوئی

بخ  لک علی،  کا  تھا  نعرہ  غدیر میں              اپنے پرائے سب نے کہا تھا غدیر میں

سب مؤمنوں کے ہوگئے مولا غدیر میں             نام  علی کا  پڑھ  لیا  کلمہ  غدیر میں

                            مؤمن منافق اچھا برا بے قرار تھا

                            رعب و جلال کبریا یوں آشکار تھا

لیکن پھر اک نصیب کا مارا غدیر میں                 اٹھا  بڑھا  تو یوں وہ  پکارا غدیر میں

مجھ  کو علی نہیں ہیں گوارا غدیر میں                  برسادے مجھ پہ سنگ خدارا غدیر میں

                         اتنا  کہا کہ  سنگ  گرا آسمان سے

                        بغض علی میں مٹ گیا حارث جہان سے

بغض علی کا  د یکھا  نتیجہ غدیر میں                   حب علی کا  جب کہ ہے پہراغدیر میں

حق کو ملا ہے تاج ولاء کا غدیر میں                   باطل  کا  ہوگیا  ہے  صفایا  غدیر میں

                       بخشش ولا کے ساتھ ہے اعلان ہو گیا

                          سبط   تیری  نجات کا سامان ہوگیا

مصرعہ طرح :    جام کوثر کی طلب ہو پیجیے جام غدیر

محفل  جشن ولا  ہے  گام بر گام غدیر                اب  وظیفہ ہے  ہمارا  نشر پیغام غدیر

ہے ولایت دین کی تکمیل انعام غدیر                  مرضی معبود ہے  او ر  اصل اسلام غدیر

یک بیک فق ہوگیا چہرا جناب شیخ کا                  میرے ہونٹوں پر ابھی آیاہی تھا نام غدیر

آرزو  جنت کی ہو  تو کربلا میں آئیے                جام  کوثر کی طلب  ہو  پیجیے  جام غدیر

دوستوں کے حق میں شیریں دشمنوں پر تلخ ہے          ساری  دنیا کو  بتادو  ہے  یہی طعم  غدیر

حارث نعمان فہری یوں بلائوں میں گھر ا               تھا  بڑا  عابد مگر  اعمال  تھے  خام  غدیر

کہہ دیا بخ لک حالات کے پیش نظر                 شیخ جی کے چل رہی  تھی دل پہ صمصام غدیر

جو بھی منکر ہو ولا کا سنگ باری اس پہ ہو               تا  ابد  باقی  رہے  گا  اب یہ  پیغام غدیر

سبطہے عشق علی میں ہر  گھڑی  محو ثنا               صبح ہے  صبح غدیر  و  شام ہے  شام غدیر

مصرعہ طرح :    خدا کی رحمتیں سمٹی ہیں ساری ایک پیکر میں

شروع  کرتا ہوں اپنی گفتگو نعت پیمبر ۖمیں              ذخیرہ ہے یہی بس اک مرا  دنیا میں محشر میں

قلم نے غوطہ زن ہوکر لکھا یوں حوض کوثر میں           کہ ہے ہر شعر پر اک بیت جنت مدح حیدر میں

خدا کے سارے ہی اوصاف کے مظہر ہیں پیغمبر           خدا کی  رحمتیں سمٹی ہیں ساری  ایک پیکر میں

وہی  مرجع ، وہی منبع ، وہی مبداء ، وہی ماوی               وہی دنیا میں عقبی میں وہی جنت میں کوثر میں

وہی  عابد،  وہی زاہد،  وہی اصلح، وہی اشجع                وہی ہے امن کا پیکر وہی حاکم ہے خیبر میں

وہی قانع ، وہی صانع ،وہی سامع ، وہی شارع           وہی ہے حامل قرآن ہے داور بیت داور میں

وہی  اعلی ، وہی  اتقی، وہی  طہ ، وہی  ارفع              وہی  نور مجسم ہے  وہی ہے  نوری پیکر میں

وہی ظاہر ، وہی باطن ، وہی طاہر ، وہی اطہر               مزمل ہے  مدثر ہے  وہی تطہیری  چادر میں

گلوں کی طرح چن چن کر بنایا سبط نے سہرا             گلستاں ہوگیا ہے یوں لکھے  ا شعار دفتر میں 

طرحی مصرعہ:           آگئی فصل ربیع تشریف لائے مصطفی

میں نے لکھا ہے قصیدہ یوں برائے مصطفی  ۖ              جامعة المصطفی میں  ہے  ثنائے مصطفیۖ

چاند سورج عکس روئے پر ضیائے مصطفی  ۖ                لیلة المعراج ہے  زلف رسائے مصطفیۖ

منزل قوسین او   ادنی ہے جائے  مصطفی   ۖ             سرمہء چشم ملک ہے خاک پائے مصطفیۖ

خانہ ء دل میں ہے میرے بسکہ جائے مصطفی   ۖ          سانس لیتا ہوں تو آتی ہے صدائے مصطفیۖ

لہلہا  اٹھا  یہ  عالم  اور  منور  ہو  گیا                آگئی  فصل  ربیع  تشریف لائے مصطفیۖ

خار پہلو میں ہیں پر کچھ گل کا کرسکتے نہیں              یہ بندھی ہے سارے عالم میں ہوائے مصطفیۖ

آکے  یاں سائل  کوئی محروم ہوسکتا نہیں               بند  ہوتا ہی  نہیں دست سخائے  مصطفیۖ

کچھ مجھے  دنیا  و ما فیھا سے آگاہی نہیں                 بے  خبر عالم سے رکھتی ہے ولائے مصطفیۖ

مل گئی ہے بادشاہت سارے عالم کی اسے               ہوگیا  ہے دل سے جو سبط گدائے مصطفیۖ

(مذکورہ طرحی مصرعہ پر فارسی زبان میں قصیدہ)

می نویسم یک قصیدہ در ثنأمصطفی                       دادہ  این توفیق عظمی را خدأ مصطفی

گر دھد توفیق دیدار مدینہ کردگار                        طوطیأ چشم سازم خاک پأ مصطفی

 رحمةللعالمین است سرور کون و مکان                     چونکہ جبریل امین باشد گدأ مصطفی

جان عالم کے نماید در رھش خود را فدا                      تاکہ حیدر می کند جان را فدأ مصطفی

خلقت افلاک را پروردگار ذوالمنن                      کرد  تقدیم  نگار  دلربأ  مصطفی

چون وجود نازنین وجہ بنأ عالمین                        بر ھمہ عالم  بود لازم  ولأ مصطفی

معنی  ختم نبوت نطقہ اوج کمال                          انتہأ انبیاء است ابتدأ مصطفی

فھم انسانی چہ داند رفعت والأ او                      ھمچوواجب نیست ممکن ماسوأ مصطفی

بود گر بالا تر از عرش بریں جأ دگر                      معتقد بودم کہ آنجا ھست جأ مصطفی

سبط  چہ گوید ثنأ رحمة للعالمین                         حال  آنکہ خود  خدا گویدثنأ مصطفی

 بزم رأفت

رؤف مولا نے اپنے قدموں میں کیا سجائی ہے بزم رأفت 

دیا ہے شعر و ادب  کا خود  ذوق ، پھر بنائی ہے بزم رأفت

رؤف مولا کی بارگاہ میں ، یوں دل کو بھائی ہے بزم رأفت         

کہ باغ جنت کی سر زمیں پہ، سنور کے آئی ہے بزم رأفت         

جہاں خدا کے فرشتے آکر ، سلام کرتے ہیں رات اور دن

وہیں پہ عرض ادب کی خاطر ، ابھر کے آئی ہے بزم رأفت

عقیدتوں کے خراج دے کر ، یہ اپنے پہلے ہی مرحلے میں        

جناب  زہرا   کی بارگاہ  میں ، تو مسکرائی ہے بزم رأفت        

ستارے آپس میں کہہ رہے ہیں ، اے عرشیو فرش کو تو دیکھو

زمین رأفت پہ رشک انجم ، وہ بن کے چھائی ہے بزم رأفت

سماعتوں کا سکون بن کر، دلوں میں گھر کرلیے ہیں اس نے         

نگاہیں مبہوت  رہ گئی  ہیں  ،  جو جگمگائی  ہے بزم رأفت         

یہ تبصرے ہورہے ہیں حوزے میں تھی ضرورت نہایت اس کی

فضائے راکد  کی قید و بند  سے  ،  بنی رہائی ہے بزم رأفت

مبلغین کرام مذہب  ،  ادیب  ہونگے تو  لطف  ہوگا        

ہنر ادب کا سکھانے کو اب ۔ عجب رسائی ہے بزم رأفت        

شکوفہ ہوںگے جو غنچہ سارے ، تو اک نیا ہی سماں بندھے گا

جو خوشبو پھیلائے شش جہت وہ ، بہار لائی ہے بزم رأفت

حسن عسکری ہوں کہ تحریر نقوی ، ہوں سبط رضوی کہ فیروز نقوی         

سبھی نے  گوندھا  خمیر اس کا  سبھی کو  بھائی  ہے بزم رأفت        

رضوی نیر  ہوں  یا  بہشتی ،  یا کہ  الفت حسین جویا

انہی کی بھر پور کا وشوں نے ، عجب سجائی ہے بزم رأفت

سجا ہے  سبط کے  سر پہ سہرا ، اس انجمن کی مدیریت کا             

اسی کی محنت کا یہ صلہ ہے ، کہ رنگ لائی ہے بزم رأفت             

٭٭٭٭٭٭