تاریخ مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام
جناب سید حسن عسکری نقوی صاحب
مقدمہ
مرحوم آقائے حاج شیخ جعفر شوشتری نے اپنی کتاب الخصائص الحسینیہ میں خواص مجالس بیان فرمائے ہیں یہاں تبرکا موقع کی مناسبت سے چند ایک کو بیا ن کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں۔
١۔دل کو زندگی ملتی ہے مجلس امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں آنے والے کا دل قیامت کے دن مردہ نہیں ہوگا۔
٢۔ سانس لینا مجلس امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں تسبیح کا ثواب ہے۔
٣۔مجالس عزاداری امام حسین علیہ الصلاة والسلام محبوب خداو رسول و ائمہ طاہرین علیہم السلام ہیں ۔
٤۔مجالس عزاداری امام حسین علیہ الصلاة والسلام محل نظر امام حسین علیہ الصلاة والسلام و حضرت زہرا سلام اللہ علیہاو باقی ائمہ طاہرین صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین ہیں ۔
٥۔مجالس عزاداری امام حسین علیہ الصلاة والسلام ملائکہ مقربین کے آنے کی جگہ ہیں ۔
٦۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام قبہ وگنبد امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا حکم رکھتی ہیں ۔کہ جہاں دعا رد نہیں ہوتی سبحان اللہ اس لیے کہ قبہ و گنبد سے مراد تنھا قبہ نہیں ۔بلکہ اس سے مراد عطاء خداوندی ہے۔
٧۔مجالس عزاداری امام حسین علیہ الصلاة والسلام کائنات کی اشرف ترین جگہ ہیں ۔
٨۔مجلس امام حسین علیہ الصلاة والسلا م رونے والوں کی معراج کا نام ہے ، اور اسی لیے محل نزول رحمت پر وردگار ہے، اور اسی لیے گناہوں کی بخشش کی جگہ ہے اور اللہ باکین کوبے انتہا پسند فرماتا ہے۔
ان اللہ یحب البکاء والبا کین۔اللہ گریہ اور گریہ کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
اسی لیے رب العزت نے سورة توبہ آیت نمبر٨٢ میں اپنی پسند کا اظہار فرماتے ہوئے زیادہ گریہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور ارشاد فرما یا ہے: فلیضحکواقلیلا والیبکوا کثیرا ذلک جزاء بما کانوا یکسبون۔
پھر سورہ مریم آیت نمبر٥٨ میںمومنین وصالحین اور ھدایت یافتہ لوگوں کے وصف بتاتے ہوئے
ارشادفرمایا ہے: وممن ھدینا واجتبینا اذا تتلی علیہم آیات الرحمن خروا سجدا وبکیا۔
کہ جب ان پر رحمان کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو روتے روتے سجدے میں گرجاتے ہیں۔
٩۔مجالس عزا امام حسین علیہ الصلاة والسلام مصلای پروردگار ہے یعنی پروردگار عالمین کے رحمت کی جگہ ہیں ۔
١٠۔ مجالس عزا امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں آنے والا شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،ائمہ ھدی و حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھم اجمعین کی دعاسے بہرہ مند ہوتا ہے۔
١١۔ مجالس عزامیں آنے والاامام حسین علیہ الصلاة والسلام کامورد خطاب اور مورد کلام واقع ہوتا ہے۔
١٢۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام امام جعفر صادق علیہ الصلاة والسلام کی محبوب ترین جگہ ہیں۔
١٣۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام عرفات کی مانند توبہ کے قبول ہونے کی جگہ ہیں۔
١٤۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام حطیم کی مانند امان خدا کی جگہ ہیں۔
١٥۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام طواف بیت اللہ الحرام کا ثواب رکھتی ہیں۔
١٦۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام مشعرالحرام کی مانند ہیں۔
١٧۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام منبع آب حیات مرکز آب حیات ہیں مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں آب حیات پلایا جاتا ہے۔
١٨۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام محل حضور ائمہ طاہرین علیھم الصلاة والسلا م حضر ت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف ہیں۔
١٩۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام تاء سی ہے ان مجالس کی کہ جو اول خلقت برپا ہوئیںاور
آخر خلقت برپا ہونگیں۔
٢٠۔مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام آگ کو بجھانے والی ہیں، چاہے وہ دنیا کی آگ ہو یاآخرت کی آگ ۔
ایک شخص جو کربلا میں رہتا ہے اس نے بیا ن کیا کہ وہ تیس سال سے کربلا میں مقیم ہے،وہ ہمیشہ پہلے زیارت کرتا تھا اور اس کے بعد گھر کا راشن وغیرہ خرید کے گھر جاتا تھا، کہتا ہے کہ ایک دن وہ کافی تاخیر سے گھر سے نکلا اور سوچا کہ کہیں ایسا نا ہو کہ سامان ختم ہوجائے تو فورا اس نے بازار سے گوشت خریدااور سرکار کی زیارت کے لیے روانہ ہوگیا پہلے سرکار حضرت ابولفضل العباس علمدار کی زیارت کی پھر بعد میںمولا حسین علیہ الصلاة والسلام کی زیارت کرکے گھر واپس آیا اور زوجہ کو گوشت دیا کے غذا تیار کرے لیکن کافی دیر کے بعد جب گوشت نا گلا تو واپس آکر قصاب سے شکایت کی تو اس نے جواب دیا کہ اس جانور سے کافی لوگوں کو گوشت دیا ہے لیکن کسی نے گلہ نہیں کیا ، پھر یہ ایک بزرگ عالم دین کی خدمت میں پہنچا اور سوال کیا تو انھوں نے دستور العمل زندگی پوچھا جواب دیا کہ ہمیشہ پہلے زیارت کی بعد میں سودا سلف خریدا لیکن آج پہلے سودا خریدا بعد میں زیارت کی توآپ نے جواب دیا۔ کہ اب یہ کبھی نہیں گلے گا اس نے سید الشھدا کی زیارت کرلی ہے ۔ہر جاندار کہ جو سید الشھدا کی زیارت کا شرف حاصل کرلے دنیا اور آخرت کی آگ اس پر حرام ہو جاتی ہے۔
مگر شرط ہے کہ زیارت پر باقی رہے۔
اقسام مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام
اب یہاںیہ بیان ضروری ہے، کہ مجالس امام حسین کئی اقسام پر مشتمل ہیں،کچھ مجالس حضرت آدم کی خلقت سے قبل ہوئیں۔ اور کچھ مجالس حضرت آدم کی خلقت کے بعد ہوئیں ۔کچھ مجالس سرکار سید الشھدا کے ظھور سے پہلے ہوئیں۔اور کچھ مجالس آنحضرت کے ظہور کے بعد ہوئیں۔اور باقی شہادت کے بعد ہوئیں آپ کی مجالس کہ جو ہوئیں اور ہورہی ہیں اور ہوتی رہینگی۔
ہماری وجہ سے مجالس عزا نہیں ۔ہم کون ہیںبلکہ ہماری زندگی عزت شرف بلندی رزق صحت یہ سب کچھ مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی وجہ سے ہے ۔
بلکہ یوں کہدوں کہ یہ سب کچھ امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا صدقہ ہے۔
تاریخ مجالس امام حسین علیہ الصلاة والسلام
( مجلس نمبر ١، مجلس قبل از خلقت حضرت آدم )
١۔مجلس عزا کہ جوحضرت آدم کی خلقت سے پہلے منعقد ہوئی۔وہ تقدیر کے وقت ہوئی کہ جب قلم کو لوح پر ثبت کرنے کا حکم دیا گیا۔تو اس وقت قلم اور لوح نے مل کے گریہ و بکا کیا۔
( مجلس نمبر٢،مجلس وقت خلقت حضرت آدم )
٢۔جب اللہ نے حضرت آدم کو خلق فرمایا۔اور ملائکہ کو سجدے کا حکم دیا۔تو انہوں نے کہا کہ تو اس کو خلیفہ کریگا کہ جوزمین پر فساد کرے گا۔اور خونریزی کرے گا،درحقیقت ان کے سامنے کربلا شہادت امام حسین کا پورا واقعہ تھا کہ جو اس سے قبل ان کو دکھایا جا چکا تھا۔پھر اس کے بعد سب ملائکہ نے مل کے گریہ و بکا کیا۔
( مجلس نمبر٣،مجلس وقت توبہ حضرت آدم )
٣۔مجلس میدان عرفات میں برپا ہوئی،اور یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب حضرت آدم کی توبہ کی قبولیت کا وقت آیا۔اور جبرائیل نے ان کے سامنے مجلس عزا پڑھی، اور یہ بات ہے اس وقت کی کہ جب حضرت آدم کوروتے روتے دس سال گزرگئے ،کوئی جواب نا آیا، پھر دس سال روئے جواب نا آیا، پھر دس سال روئے جواب نا آیا،پھر دس سال روئے اور چالیس سال مکمل ہوئے ،تو جبرائیل نازل ہوئے اور سوال کیا توبہ کے متعلق،تو آپ نے جواب دیا کہ ابھی تک اللہ نے کوئی جواب نہیں دیا،تو جبرائیل نے جواب دیا اللہ تو بہت جلدی سنتا ہے ، کیا آپ نے اللہ جل جلالہ کو ان اسماء کا واسطہ دیا کہ جو آپ کو اللہ نے تعلیم دیے تھے اور جن کے ذریعے ملائکہ پر آپ کی افضلیت کو ثابت کیا تھا ۔ تو حضرت آدم نے ارشاد فرمایا کہ میں فراموش کرچکا ہوں تو جبرائیل نے ارشاد فرمایا کہ اسی لیے قبولیت میں اتنی تاخیر ہوئی ہے ورنہ اللہ تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب اور نزدیک ہے،سب سے پہلے سنتا ہے،اللہ کو ایسے پکاریں اور کہیں کہ :یا حمید بحق محمدۖ یا عالی بحق علی یا فاطر السموات والارض بحق فاطمہ یا محسن بحق الحسن یا قدیم الاحسان بحق الحسین۔
جب بات امام حسین کے اسم مبارک پر پہنچی تو آپ کادل مضطرب ہوا سوال کیا کہ الھی کیا ماجرا ہے کہ پہلے چار ناموں سے دل کو سکون ملتا ہے لیکن پانچویں نام سے دل پر چوٹ پڑتی ہے ،تو اس وقت حضرت جبرائیل نے حضرت آدم کے سامنے کربلا کا پورا واقعہ بیان فرمایا۔
ملتا ہے کے کافی طولانی مجلس پڑھی اور حضرت آدم روتے روتے بیہوش ہوگئے، جب ہوش آیا تو آواز قدرت آئی کہ اے آدم تو نے حسین پے گریہ و زاری کیا ،میں نے تیری توبہ کو قبول کیا۔
( مجلس نمبر ٤، مجلس حضرت آدم )
٤۔خود رسول اللہۖ سے پہلے انبیاء ما سلف نے بھی کرارا ومرارا ذکر امام حسین کیا اور مجلس امام حسین برپاکی،ملتا ہے کہ حضرت آدم جب کربلا کی سرزمین سے گزرے،تو قتل گاہ امام حسین کے پاس ٹھوکر لگی اور زمین پر تشریف لائے خون جاری ہوا، عرض کی کہ اے پروردگارماجرا کیا ہے آواز آئی کہ اے آدم یہاں تیرافرزند حسین شہید کیا جائیگاعرض کی کہ خدایا اس کا قاتل کون ہے ،آواز آئی کہ ا س کاقاتل یزید ملعون ہے،حضرت آدم نے یزید پر لعنت کی اورعرفات کی طرف روانہ ہو گئے
( مجلس نمبر٥، مجلس حضرت نوح )
٥۔حضرت نوح کی کشتی کربلا میں جب مقام شہادت امام حسین پر پہنچی، تو ایک دم شدیدطوفان آیااور کشتی میں بھونچال آگیا۔حضرت نوح گرے چوٹ لگی ،نزدیک تھا کہ کشتی غرق ہوجائے، رب العزت سے سوال کیا کہ الھی ماجرا کیا ہے۔ فورا جبرائیل ناز ل ہوئے اورکربلا کا واقعہ بیان کیا، ساری کشتی نے مولا حسین کی مصیبت میں گریہ و زاری کیا،اور یزید ملعون پر لعنت کی،او ر کشتی وہا ں سے گزرگئی۔
( مجلس نمبر٦،مجلس مجمع البحرین )
٦۔ایک اورمجلس مجمع البحرین میں واقع ہوئی،کہ جب حضرت موسی کی حضرت خضر سے ملاقات ہوئی، اور آپس میں محمد وآل محمدعلیہم الصلاة والسلام کا ذکر کیا اور بات جب امام حسین تک پہنچی تو مل کے دونوں نے امام حسین پے گریہ وزاری کیا اور پھر آپ دونوں وہاں سے متفرق ہو گئے۔
( مجلس نمبر٧، مجلس حضرت سلیمان )
٧۔ حضرت سلیمان بساط پر بیٹھے ہوئے ہوا کے دوش پر جا رہے تھے۔یہاں تک کہ کربلا کی سرزمین پر سے گزرے،بساط ان کو تین چکر لگا کر زمین پر لے آئی،حضرت سلیمان غضب ناک انداز میںہوا سے مخاطب ہوئے،تو ہوا کی آوازآئی کہ اے نبی اللہ یہ وہ جگہ ہے کہ جہاں پرآخری نبیۖ کا نواسہ تین دن کا بھوکا پیاسا بے گناہ شہید کیا جائیگا۔حضرت سلیمان نے وہاں پر گریہ و زاری کیا اور بساط لے کر ان کو وہاں سے روانہ ہوگئی۔
( مجلس نمبر ٨،مجلس حضرت ابراہیم )
٨۔حضرت ابراہیم علیہ الصلاة والسلام نے جب آسمان وزمین کا نظارہ کیا،اور واقعہ کربلا کو دیکھاتو کافی روئے اور گریہ کیا ،ذبح اسماعیل کے وقت پھر کربلا کے واقعے کو دیکھا اورگریہ کیا۔
( مجلس نمبر٩،مجلس حضرت ابراہیم ٢)
٩۔روایات میں ملتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم کربلا سے گزرہے تھے کہ گھوڑے کی رفتار ایسی ہوئی کہ سر کے بل زمین پر آئے سر شگافتہ ہوگیا،عرض کی خدایا کیا مجھ سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہے،تو فورا اسب گویا ہوا،اے خلیل اللہ میں آپ سے شرمندہ ہوں،لیکن آپ جان لیں کہ اس سرزمین پرخاتم الانبیاء ۖکے نواسے کو قتل کیا جائے گااور اسی وجہ سے آپ کی موافقت ہوئی ہے سید الشھداء کے ساتھ ،حضرت ابراہیم بھی قتل گاہ میں زمین پر تشریف لائے،اور مولا حسین بھی قتل گاہ میں زمین پر تشریف لائینگے،لیکن فرق ہے دونوں کے زمین پر آنے میںجد الانبیائ اور باقی انبیائ جو زمین پر تشریف لائے اورسید الشھدا کے درمیان کہ حضرت ابراہیم صحیح وسالم بدن کے ساتھ زمین پر آئے اور بعد میں زخمی ہوئے اور ان کا سر شگافتہ ہوا،اورپھر اپنی سواری پر سوار ہوکے روانہ ہوگئے،لیکن سیدالشھدا زخمی بدن کے ساتھ زمین پر آئے اوراس کے بعد تیروں پر معلق ہو گئے،ابراہیم زمین پر آئے تو ان کے پاس کوئی دشمن موجود ناتھا،لیکن سید الشھدایزیدیوں کے درمیان گھرے ہوئے تھے،ابراہیم زمین پر آئے اور اپنا سر خود اٹھایا، لیکن سیدالشھدا کا سر قاتل نے اٹھایا،ابراہیم زمین پر آکے زخمی ہوئے،لیکن سید الشھدا خون آلود زخمی حالت میں تیروں کے ساتھ زمین پر تشریف لائے۔
( مجلس نمبر ١٠،مجلس حضرت موسی بہ کوہ طور سینا)
١٠۔روایات میں ملتا ہے کہ حضرت موسی جب کوہ طور سینا کی طرف جانے لگے تو بنی اسرائیل کا ایک شخض آیا اور کہنے لگا کہ اے نبی اللہ میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے،آپ اللہ سے درخواست کریں کہ وہ مجھے بخش دے،حضرت موسی جب کوہ طور پر مناجات کے لیے پہنچے،تو عرض کی کہ پروردگا ر تو عالم الغیب ہے، ہر چیز کو جانتا ہے،تیرے بندے نے تجھ سے معافی کی درخواست کی ہے،اور وہ ملتمس عفو ہے۔
خطاب ہوا کہ اے موسی میں ہر گناہگار کو معاف کردونگا،لیکن قاتل حسین کو معاف نہیں کرونگا،حضرت موسی نے عرض کی کہ پر وردگار مجھے بتا کہ یہ حسین کون ہے، اس وقت رب العزت نے ذکر مصیبت امام حسین کو بیان فرمایا،اور کہا کہ اے موسی حسین کوکربلا کے میدان میں تین دن کا بھوکا پیاسہ ذبح کیا جائے گا،اے موسی بے غسل و کفن اسکا لاشہ کربلا کے میدان میں تین دن تک پڑا رہیگا،اے موسی اس کی بہنوں بیٹیوں اور ان کے گھر کی خواتین کو سر ننگے ، شہر بہ شہر دیار بہ دیار پھرایا جائے گا، اے موسی ان کے بچے پیاس سے تلف ہو جائیگے،اے موسی ان کے سروں کو نیزوں پے بلند کیا جائیگا،ملتا ہے کہ یہ مصائب سن کر حضرت موسی بلند بلند آوازسے رونے لگے، رب العزت نے پھر خطاب کیا کہ اے موسی جان لو کہ جو بھی ان پر گریہ وزاری کرے گا،یا رولائے گا یا رونے کی شکل بنائے گا،جہنم کو اسکے بدن پر حرام کردوں گا۔
( مجلس نمبر ١١،مجلس حضرت زکریا )
١١۔ ایک مجلس عزا بیت المقدس میں برپا ہو ئی،جیسا کہ مروی ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے پر وردگار عالم سے خمسہ نجباء کے اسمائے گرامی سیکھنے کی درخوست کی،جبرائیل نازل ہوئے اور ان کو پنجتن پاک علیہم الصلاة والسلام کے اسمائے گرامی کی تعلیم دی،حضرت زکریا جب بھی پیغمبر اکرم امیر المو منین حضرت فاطمہ زہرا امام حسن مجتبی علیہم الصلاة والسلام کے اسماء کا ورد کرتے ان کا غم بر طرف ہو جاتا، لیکن جب وہ امام حسین کے اسم گرامی کا ورد کرتے، تو روتے روتے آواز گلو گیر ہو جاتی، اور دل میں درد ہو جاتا ،اس وقت آپ نے عرض کی کہ خدایاکیا سبب ہے کہ جب میں جب میں چار ناموں کا ذکر کرتا ہوں تو میرا غم ختم ہو جاتا ہے۔
اور جب نام حسین لب پے آتا ہے تو رونے کو جی چاہتا ہے، اور آنکھوں سے اشک جاری ہوجاتے ہیں، تو اللہ جل جلالہ نے ان کو واقعہ کربلا کی وحی کی، اور کھیعص کو تعلیم دیا،کہ جو در حقیقت کربلا کے واقعے کا اشارہ ہے،حضرت زکریا اتنا روئے کے تین دن مسجد سے باہر نہ آئے،اور لوگوں کو اپنے سے دور کردیا، اور اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے چلتے پھرتے سوتے جاگتے برابر گریہ و زاری فرماتے رہے،اور عرض کی کہ پالنے والے کیا تو اپنے محبوب کو اتنے سخت امتحان میں مبتلا فرمائے گا،اور پھر عرض فرمائی کہ پروردگار تو مجھے اس بڑھاپے میں ایک فرزند عطا فرما۔اور میری آنکھوں کو اس سے منور فرما،اوراس کی محبت میرے دل میں زیادہ کردے،اور پھر مجھے اس کی مصیبت میں مبتلا فرما، جیسا کہ تو اپنے حبیب کا امتحان لے گا، پس خداوند زمین و آسمان نے ان کو یحیی نبی جیسا بیٹا عطا کیا،اور ان کو اس فرزند کی مصیبت میں امتحان میںمبتلا کیا اورجیسا کہ روایات سے مستفاد ہوتا ہے
(مساوات حضرت یحیٰ با امام حسین )
حضرت یحیی شہید کی کافی مناسبا ت ہیں سید الشھداامام حسین کے ساتھ،جن میں سے ثوابا چند ایک کا میں یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔
١۔حضرت یحیی علیہ السلام کی بشارت ان کی ولادت سے پہلے حضرت زکریا کو دی گئی۔حضرت امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی بشارت ان کے ظہور سے پہلے جبرائیل نے آکے خاندان رسالت ۖ کو دی۔
٢۔حضرت یحیی علیہ السلام سے پہلے تاریخ میں کسی کا نام یحیی نہیںتھا۔ اور اسی طرح مولا حسین علیہ الصلاة والسلام سے پہلے کسی کانام حسین نہیں تھا ۔
٣۔حضرت یحیی علیہ السلام کا نام اللہ رب العزت نے تجویز کیا اور عرش سے نازل فرمایا۔حضرت امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا نام بھی اللہ جل جلالہ نے تجویز کیا اور عرش سے نازل فرمایا،اور کافی کتب اس پر شاہد ہیں جن میں عوالم العلوم ، ناسخ التواریخ،ریاض الشھادة،حلیة الابرار،اور اس کے علاوہ بھی کافی کتب میں موجود ہے۔
٤۔حضرت یحیی علیہ السلام نے اپنی والدہ سے دودھ نہ پیا اور ان کی غذا آسمان سے نازل ہوئی۔اورامام حسین علیہ الصلاة والسلام نے بھی دودھ نہ پیا ،اور زبان رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیراب ہوتے رہے۔
٥۔حضرت یحیی علیہ السلام کو ولادت کے بعد آسمان پر لے جایا گیا ، اوران کو آسمان کی سیر کرائی گئی،اور امام حسین علیہ الصلاة والسلام کو بھی ساتویں آسمان تک لے جا یا گیا اور ان کو وہا ں کی سیر کرائی گئی، جیسا کہ روایات میں وارد ہوا ہے کہ جناب زہرا سلام اللہ علیہا تشریف لائیں تو دیکھا کہ جنت کا سردار سیدالشھدا گہوارے میں نہیں ہیں، رسول ۖ کی خدمت میں حاضر ہو ئیں اور عرض کی کہ بابامیرا حسین گہوارے میں نہیں ہے تو آپ نے عرض کی کے میری زہرا پریشان نہ ہونا آسمان کے فرشتے اور حاملان عرش کہ جنھوں نے ابھی تک سیدا لشھدا کی زیارت نہیں کی تھی اللہ سے درخواست کی ۔اے رب العزت ہم حاملان عرش ہیں ، تیرے عرش کو ایک لمحے کے لیے چھوڑ نہیں سکتے،زمین پر جا نہیں سکتے ، ہم نے ابھی تک تیرے حسین کی زیارت نہیں کی ، تو اللہ جل جلالہ نے جبرائیل کو ملائکہ کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ حسین کو لے کر آہیں اور ملائکہ کو ان کی زیارت کرائیں ۔
٦۔حضرت یحیی علیہ السلام کی ساری زندگی غموں میں گزری۔اورمولاحسین علیہ الصلاة والسلام کی بھی ساری زندگی غموں میں گزری ، نانا ۖکا غم دیکھا ، ماں زہرا کا غم دیکھا،بابا علی کا غم دیکھا، بھائی حسن کا غم دیکھا،کربلا میں بھائی عباس اورعلی اکبر عون و محمد قاسم علی اصغر علیہم السلام کے غموں کو دیکھا۔
٧۔حضرت یحیی علیہ السلام مظلومیت کے ساتھ شہید کیے گئے۔اورامام حسین علیہ الصلاة والسلام بھی بے پناہ مظلومیت کے ساتھ شہید کئے گئے،اور اما م حسین کی زیارت میں امام مظلوم کئی مرتبہ استعمال ہواہے۔ مظلوم نہیں بلکہ انتہائی مظلوم کائنات کے سب سے بڑے مظلوم کو حسین کہتے ہیں۔
٨۔حضرت یحیی علیہ السلام کا قاتل ولد الزنا تھا۔حضرت امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا قاتل اور ہر معصوم کا قاتل ولد الزنا ہوتا ہے۔
٩۔حضرت یحیی علیہ السلام پر آسمان و زمین کے ملائکہ نے گریہ کیا۔حضرت امام حسین علیہ الصلاة والسلام پر زمین وآسمان کے ملائکہ کے علاوہ جنت کی حوروں نے جنات نے پر ندوں نے ہوائوں نے، جانوروں نے سمندری مخلوقات نے الغرض اللہ کی ہر مخلوق نے گریہ کیا۔
١٠۔حضرت یحیی کا خون ان کی شہادت کے بعد کافی عرصہ تک ابلتا رہا یہاں تک کہ ان کی شہادت کابدلہ لیا گیاامام حسین علیہ الصلاة والسلام کا خون بھی کافی عرصہ تک ابلتا رہا یہاں تک کے امیر مختا ر نے انتقام لیا، لیکن خون سید الشہدا اب بھی روز عاشور ابلتا ہے ،یہاں تک کے منتقم حقیقی امام زمانہ آکر انتقام لیں گے۔
١١۔حضرت یحیی علیہ السلام کا سر ان کی شہادت کے بعد ان کے دشمن کے سامنے طشت میں پیش کیا گیا، امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا سر ان کی شہادت کے بعد کربلا سے شام تک نیزے پے بلند رہا،اور ابن زیاد ملعون و یزید ملعون کے سامنے طشت میں پیش کیا گیا۔
(خصائص امام حسین )
یہاںتک تو کچھ مشترکات کا بیان ہو ا اب یہاں میرا دل یہ چاہتا ہے کہ امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے کچھ خصائص بھی بیان کردئے جائیں کہ جو حضرت یحیی علیہ ا لسلام کو نہیں ملے، وہ فقط مخصوص ہیں امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے ساتھ :
١۔حضرت یحیی تنہا شہیدہوئے،لیکن امام حسین علیہ الصلاة والسلام اپنے کنبے کے ساتھ شہید ہوئے۔
٢۔حضرت یحیی علیہ السلام کی آغوش میں کوئی بچہ شہید نہیں ہوا،لیکن امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی گود میںحضرت علی اصغر علیہ السلام شہید ہوئے ۔
٣۔حضرت یحیی علیہ السلام پیاسے شہید نہ ہوئے ، لیکن زہرا کالال تین دن کا بھوکا پیاسہ ذبح کیا گیا۔
٤۔حضرت یحیی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے بدن کا کوئی حصہ ان کے بدن سے جدا نا ہوا ، لیکن امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی انگشت مبارک کے ساتھ بجدل ابن سلیم نے جفا کی ،اور دست مبارک کے ساتھ جمال ملعون نے جفا کی ،اور اس کے بعد لاش مظلوم پر گھوڑے دوڑائے گئے ۔
٥ ۔ حضرت یحیی علیہ السلام کی شہادت کے وقت ان کے اہل حرم میں سے کوئی موجود نا تھا ۔کہ جو ان کو ذبح ہوتے دیکھتا، لیکن زہرا کے چاند کو ستر قدم سے بہن ذبح ہوتے دیکھتی رہی اور فریا د کرتی رہی ، کہ اے عمر سعد ملعون حسین علیہ ا لسلام ذبح ہو رہا ہے اور تو کھڑا دیکھ رہا ہے۔
٦۔حضرت یحیی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے اہل حرم کو قید نہ کیا گیا، لیکن امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے اہل حرم اھل بیت النبوةکو سر ننگے کوفہ و شام کے بازاروںدرباروں میں پھرایا گیااور پتھروں سے ان کا استقبال کیا گیا۔
( مجلس نمبر ١٢،مجلس حضر ت عیسی )
١٢۔ایک اور مجلس عزا امام حسین علیہ الصلاة والسلام کہ جو حضرت عیسی علیہ السلام کی موجودگی میں برپا ہوئی،اور اس مجلس کا ذاکر شیر تھا روایات میں ملتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کربلا سے گزررہے تھے کہ اتنے میں ایک غضبناک شیر راستے کو روک کرکھڑا ہو گیا،اس سے سوال کیا اور علت کو پو چھا تو شیر گویا ہوا، کہ اے اللہ کے نبی میں آپ کواس وقت تک یہاں سے گزرنے نہیں دونگا کہ جب تک آپ یزید ملعون پر لعنت نہ کرلیں کہ جو پیغمبر آخر الزمان کے بیٹے کا قاتل ہے،حضرت عیسی علیہ السلام نے یزیدملعون پر لعنت کی اور ان کو شیر نے راستہ دے دیا اور آپ وہاں سے گزرگئے۔
( مجلس نمبر ١٣،مجلس حضرت وقت ظہور امام حسین )
١٣۔امام حسین علیہ الصلاةوالسلام کے ظہور کے وقت مجلس عزا ہو ئی، کہ جب ہر فرشتے نے آکر رسول اللہ ۖ کو مبارک دی کہ جو ہزار ہزار کے دستوں پے مشتمل تھے،اور اس وقت کربلا کے واقعات کا ذکر ہوا اور بہت گریہ و زاری ہوا۔
( مجلس نمبر ١٤،مجالس بیت حضرت زہرا )
١٤۔ جناب زہرا سلا م اللہ علیہا کے گھر اکثر و بیشترذکر امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی مجلس اور گریہ و زاری ہواکرتا تھا ۔
( مجلس نمبر١٥،مجالس مسجد النبیۖ)
١٥۔مدینے مسجد النبیۖ میں کرارا و مراراذکر امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی مجلس عزا برپا ہو ئی،کبھی ذاکر جبرا ئیل ہوتے کبھی ذاکرخو د رسول اللہۖ اور کبھی دوسرے ملائکہ۔
( مجلس نمبر١٦،مجلس معراج النبیۖ ١)
١٦۔پیغمبر اکرم ۖ جب معراج پر گئے تو وہاں پر ہر فرشتے نے آپ کی خدمت میں تعزیت پیش کی اور وہاںامام حسین علیہ الصلاة والسلام پر کافی گریہ و زاری ہوا۔
( مجلس نمبر ١٧،مجلس معراج النبیۖ٢)
١٧۔بہشت میں برپا ہوئی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج پر تشریف لے گئے تھے جبرائیل آپ کے ساتھ تھے تو اس وقت وہاں حو ر العین نے امام حسین کا ذکر ان کے ظہور سے پہلے کیا۔
( مجلس نمبر١٨،مجالس حضرت جبرائیل )
١٨۔جبرائیل نے بے پناہ مقامات پر مصائب کا ذکر کیا،امام حسین کے ظہور کے وقت، اورجب دونوں شہزادوں کیلیے لباس آئے کہ جن کے رنگ سفید تھے،اور برتن بھی آیا ایک لباس اس میں ڈالا گیا تو وہ سبز ہوگیا۔پھر دوسرا لباس ڈالا گیاوہ سرخ ہوگیا،اس وقت جبرائیل نے علت بیان فرمائی کہ سبزلباس امام حسن کا ہے اس لیے کہ ان کو زہر دیا جائے گا،اور سرخ لباس امام حسین کا ہے اس لیے کہ ان کو شہید کیا جائے گا۔
( مجلس نمبر ١٩،مجلس حضرت امیر المومنین )
١٩۔مولا علی علیہ الصلاة والسلام جب کربلا کی سرزمین سے گزرہے تھے، تو وہا ں پر آپ نے امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا ذکر کیا اور بے پناہ گریہ کیا۔
( مجلس نمبر٢٠،مجلس حضرت زینب )
٢٠۔مدینے میں جناب زینب سلام اللہ علیہا کی موجودگی میں بی بی ام ایمن نے امام حسین علیہ الصلاة والسلام کا ذکر کیا ۔
( مجلس نمبر ٢١،مجلس حضرت امام حسن )
٢١۔ امام حسن علیہ الصلاة والسلام کی شہادت کے وقت آپ کے گھر میں خود امام حسن علیہ الصلاة والسلام نے مصائب پڑھے اور قیامت کا گریہ ہوا۔ملتاہے کہ جب امام حسین علیہ الصلاة والسلام اپنے بھائی کے سرہانے گریہ کررہے تھے ، کہ امام حسن علیہ الصلاة والسلام نے ارشاد فرمایا کہ بھیا حسین آپ گریہ نہ کریں ۔کہا کیسے گریہ نہ کروں جبکہ آپ جیسا شفیق بھائی دنیا سے جارہا ہے،ارشاد فرمایا کہ آپ گریہ نہ کریں بلکہ میں گریہ کروں گا ، امام حسین علیہ الصلاة والسلام نے ارشادفرما یا کہ آپ کیوں گریہ کر ینگے، امام حسن علیہ الصلاة والسلام نے ارشادفرمایا۔ کہ حسین میری آنکھوں کے سامنے دو منظر ہیں، جو مجھے رولا رہے ہیں ، اول تو یہ کہ میں دنیا سے جاونگا نانا ۖ نبی، اماں زہرا، بابا علی ملینگے، اوراگر کسی نے بھی مجھ سے پوچھ لیا کہ حسن آپ آگئے اور حسین کو تنہا چھوڑ آئے تو میں کیا جواب دونگا ،اور دوسرا کربلا کامنظر مجھے رولارہا ہے، کہ حسین تو مدد کے لیے بلا رہا ہے اور کوئی تیری مدد کرنے نہیں آرہا ، حسین اگر میں کربلا میں ہوتاتو اپنی جان تجھ پر قربان کردیتا ایسی ہستی کو امام حسین علیہ الصلاة والسلام کہتے ہیں۔کہ جن پر معصوم اپنی جان قربان کرنے کے کیے تیار ہیں۔
( مجلس نمبر ٢٢،مجلس حضرت امام حسین )
٢٢۔یہ مجلس خود امام حسین نے پڑھی جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ جب ولید نے بیعت کا مطالبہ کیا، تو اس کے بعد آپ رات کے وقت نانا کے روضے پر چلے گئے، اور وہاں پر آپ نے مفصل انداز میں مجلس پڑھی اور کہا کہ یا رسول اللہۖ میں حسین ہوںآپ کی فاطمہ کا بیٹاآپ کا فرزند یا رسول اللہ آپ کی امت نے میری حرمت کا پاس نہیں کیا۔پھر وہاں آپ کی آنکھ لگ گئی تو آپ نے خواب میں رسول اللہ ۖ کو دیکھا کہ آپ ارشاد فرمارہے ہیں کہ اے بیٹا حسین میں دیکھ رہا ہوں،کہ بھو کا پیاسہ تیراسر تن سے جدا کردیا جائیگا،اے بیٹا حسین تو خون میں تر بتر ہو جائیگا اے میرے بیٹا حسین آپ کے لیے اللہ تبارک و تعالی نے ایک درجہ رکھا ہے کہ فقط شہادت کے ذریعے ہی اس تک پہنچا جا سکتا ہے پھر سیدا لشھدا بیدار ہوئے اور ایک عظیم گریہ سرکا رنے کیا اور جب اس کی اطلاع بی بی زینب سلام اللہ علیہا کو ملی تو اہل بیت میں ایک کہرام بپا ہو گیا۔
( مجلس نمبر٢٣،مجلس حضرت ام سلمہ)
٢٣۔حضرت ام سلمہ سلام اللہ علیہا نے مجلس عزا کی کہ روایا ت میں ملتا ہے کہ جس وقت امام حسین علیہ الصلاة والسلام نے مدینے سے خروج کا ارادہ کیا تو بی بی امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے پاس تشریف لائیں اور عرض کرتی ہیں کہ بیٹا عراق جانے کی خبر سنا کے مجھے مغموم نہ کرو،اسلیے کہ میں نے آپ کے جدامجد سے سنا ہے کہ انھوں نے ارشاد فرمایا ہے کہ میرا حسین عراق میں کربلا کی سرزمین میںشہید کیاجائیگا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ مادر گرامی کوئی چارہ نہیں، میں بھی اس خبر کو جانتا ہوں۔اور میں اپنے قاتل کو پہچانتا ہوں، اپنے روز شہادت کو جانتا ہوں،اور اپنے مدفن کو بھی جانتا ہوں،اور اے مادر گرامی میں ان کو بھی جانتا ہوں کہ جو میرے ساتھ قتل کئے جائینگے۔اے مادر گرامی اگر آپ چاہیں تو میں وہ جگہ ابھی آپ کو دکھا سکتا ہوں،پھر آپ نے اشارہ کیا تو ساری زمینیں پست ہوتی چلی گئیں،اور کربلا کی زمین ظاہر ہو گئی،پس آپ نے وہا ں اپنا مدفن دکھایا،اور اپنے لشکر کی جگہ دکھائی،اور ایک ایک کا مدفن بتایا،پھر اس وقت بی بی ام سلمہ سلام اللہ علیہا بہت بلند آواز میں گریہ و زاری کرنے لگیں،اور مولا حسین کو خدا کے حوالے کیا،پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے مادر گرامی اللہ کی مرضی ہے کہ شہادت عظمی کا درجہ مجھے عطا ہو،اے مادر گرامی کربلا میں وہ منظر ہوگا کہ میں استغاثہ کروں گا لیکن میرے استغاثے پے کو ئی لبیک کہنے والا نا ہو گا۔ایک اور روایت میں وارد ہوا ہے کہ بی بی ام سلمہ نے ارشادفرمایا کہ آپ کے جد امجد نے مجھے خاک دی ہے کہ جو شیشی میں محفوظ ہے،پھر آپ نے ہاتھ بڑھایا اورکچھ خاک ہاتھ میں لی اور بی بی ام سلمہ کے حوالے کر کے ارشاد فرمایا،کہ اسکو بھی شیشی میں محفوظ کر لیجیے،جب آپ کو اس کا رنگ بدلا ہوانظر آئے تو آپ سمجھ لیں کہ مجھے شہید کردیا گیا ہے۔ الی آخر الروایة۔
( مجلس نمبر ٢٤،مجلس وداع امام حسین )
٢٤۔ ایک اور مجلس عزا سرکار کے مدینے چھوڑنے سے پہلے بر گزار ہو ئی،سب سے پہلے آپ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے وداع کیا،وہا ں باقاعدہ آپ نے مجلس پڑھی کے اے نانا رسولخدا ۖ آپ کا حسین جارہا ہے۔
پھر بی بی زہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا کہ اماں آپ کاحسین جارہا ہے وہ حسین جس کو آپ نے چکیا ں پیس کے پالا تھا۔پھر امام حسن علیہ الصلاة والسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کی کہ بھیا حسن آپ کا بچپن کا ساتھی حسین جارہا ہے بھیا حسن آپ کا چھوٹا بھایی حسین جارہا ہے،ملتا ہے کہ اس مجلس وداع میں سرکار نے اتنا گریہ کیا کہ روتے روتے غش کھا کر زمین پر گرے۔
( مجلس نمبر٢٥،مجلس قبل از حرکت از مدینہ)
٢٥۔یہ مجلس مدینے سے نکلتے وقت برگزار ہوئی،کہ جب ملائکہ کے دستے دستے سرکار کی خدمت میںحاضرہوئے ،اور کہنے لگے کہ پروردگار عالم نے ہمارے ذریعے کن کن مقامات پے آپ کے جد امجدۖ کی نصرت فرمائی ہے آپ ہمیں حکم دیں، تو پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ میرا اور تمہارا دیدار کربلا کی سرزمین پے ہوگا،اور پھر وہاںپے کافی گریہ و زاری ہوا۔
( مجلس نمبر٢٦،مجلس حضرت دربین جنیان )
٢٦۔یہ مجلس بھی مدینے سے نکلتے ہوئے بر گزار ہو ئی کہ جب جنّوں کے لشکر سرکا رکی خدمت میں حاضر ہوئے،اور عرض کرنے لگے کہ یابن رسول اللہ ہم لوگ آپ کے شیعوں میں سے ہیں۔آپ ہمیں جو چاہیں حکم دیں،اگر آپ حکم کریں تو ہم آپ کے دشمنوں کو ابھی ہلاک کردیں گیں،سرکار نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تمہیں جزائے خیر دے، کیا تم نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی کہ جو میرے جد امجدۖ پے نازل ہوئی تھی،کہ تم جہاں کہیں بھی ہو موت تم کو پالے گی،چاہے تم محکم برجوں میں ہی کیوں نا پناہ لے لو ،پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ کربلا کی زمین کو اللہ نے دحو الارض کے دن چن لیا تھا،اور وہ ہمارے شیعوں کی دنیا وآخرت میں پناہ گاہ ہے، لیکن آپ لوگ عاشور کے دن کربلا میں آنا ، اس لیے کے اس دن کے آخری پہر میںمجھے شہید کیا جائیگا۔اور میرے اھل بیت اور میرے اصحاب کو بھی اسی دن شہید کیا جائیگا۔اور میرے سر کو یزید کے سامنے لے جایا جائیگا،پس اس وقت جنوں نے عرض کی کہ اے حبیب خدا اے حبیب خدا کے بیٹے اگر ہمیں آپ کے امر اور دستور کا پاس نہ ہوتا تو ہم یقیناآپ کے سارے دشمنوں کو ہلاک کردیتے،تواس وقت سرکار نے ارشاد فرمایا:
کہ خدا کی قسم ہماری قوت اقتدار طاقت ولایت تم لو گوں سے کہیں زیادہ ہے کہ جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے،لیکن ہم نے اس مخلوق پر حجت کو تمام کرنا ہے، یہ سن کر تمام جنات روتے ہو ئے وہاں سے منتشر ہوگئے ۔
( مجلس نمبر ٢٧،مجلس مسجد الحرام )
٢٧۔پھر اگلی مجلس سید الشہدا نے مسجدالحرام میں منعقد کی اور آپ نے ایک طولانی خطبہ ارشاد فرمایا کہ جس کاماحصل یہ تھا کہ حمد وثنا اس خالق مطلق کے لیے کہ جوواحدو یکتا ہے،اور تمام امور اسکی مشیت سے چلتے ہیں،اور صلوات اور سلام ہو محمدۖ اور ان کی پاک آل پر، پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ لوگو یاد رکھو کہ جس طرح لڑکیو ںکی گردن میں قلادہ ثبت ہے،اسی طرح لوگوں کے لیے مرنا ثبت ہے۔میں اپنے گزرے ہوئے لوگوں سے ملنے کے لیے اتنامشتاق ہوں، جس طرح کہ یعقوب کو یوسف کااشتیاق تھا، اے لوگوں میں دیکھ رہا ہوں کے مجھ پر صحرا کے بھیڑیوں نے حملہ کردیا ہے،اور میں دیکھ رہا ہوں کے میرابدن پارہ پارہ کردیا گیا ہے،میں اللہ کے علم اور اس کی مشیت پرراضی ہوں،اور اے لوگوں یاد رکھو کہ ہم اہل بیت اللہ جل جلالہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں اور مصائب پر صبر کرتے ہیں اور اے لوگوں یاد رکھنا کہ جو بھی اپنی جان اللہ کی راہ میں دینا چاہتا ہو، اوراللہ سے ملاقات کاطالب وطلبگار ہو،تو وہ میرے ساتھ آسکتا ہے میں صبح کو کوچ کرونگا۔
( مجلس نمبر٢٨،مجلس حضرت محمد بن حنفیہ)
٢٨۔یہ مجلس مکے کے باہر انجام پائی کہ جب حضرت محمد ابن حنفیہ تشریف لائے،اور آکے عرض کی کہ یابن رسول اللہۖ اھل کوفہ نے آپ کے والد بزرگوار اور آپ کے بھائی کے ساتھ بے و فائی کی ہے،اور میں ڈرتا ہوں کے کہیںوہ آپ کے ساتھ بھی یہی کچھ نہ کریں،میری نظر میں بہتر یہ ہے کہ آپ اسی مکے میں رہ جائیں یہ امن کی جگہ ہے،یہاں کوئی آپ پر ظلم و تعدی نہیں کرے گا،آپ نے ارشاد فرمایا کے بھائی یہ یزید ملعون۔ یہاں بھی مجھے دھوکے سے قتل کرنے کی کوشش کرے گا اور حرم اللہ کی حرمت کو توڑدیگا،پھر فرمایا کے بھائی آپ یمن چلے جائو،یا صحرا کی طرف چلے جائو،سرکا ر نے ارشاد فرمایا کہ میں اس بات پر غور و فکر کروں گا،جب سحرکا وقت آیاحضرت نے چلنے کا اشارہ کیایہ خبر جب حضرت محمد حنفیہ کو پہنچی ، تو آپ جلدی سے آئے
اورآکے عرض کرنے لگے کہ بھائی آپ نے فرمایا تھا کہ میں اس پر غورو فکر کروں گا،اور اب جلدی کس بات کی ہے،تو آپ نے گریہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بھائی جب آپ چلے گئے اور میں لیٹا ہی تھا کہ نانا رسول خداۖ تشریف لائے، اور آکے فرماتے ہیں ،اے حسین جلدی چلو اللہ کی مشیت میں آپ کے لیے شہادت ہے، حضرت محمد ابن حنفیہ نے کلمہ استرجاع (انا للہ وا نا الیہ راجعون )، کو زبان پر جاری فرمایا،اور ارشادفرمایا کہ بھائی ان عورتوں اور بچوں کو کیوں لے کر جاتے ہیں،تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ (شاء اللہ ان یراھن سبایا)،پس پھر حضرت محمد حنفیہ نے وداع کیا اورواپس آگئے۔
( مجلس نمبر٢٩،مجلس حضرت عبداللہ ابن عباس)
٢٩۔ایک اور مجلس مکة المکرمہ کے باہر ہوئی کہ جب عبداللہ ابن عباس اورعبداللہ ابن زبیر سرکار کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور رکنے کے لیے کہا،تواس وقت سرکار نے ارشاد فرمایا ۔کہ مجھے میرے جدرسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عراق کی طرف خروج کرنے کا حکم دیا ہے،پس جب ابن عباس باہر نکلے تو ان کی زبان پر وا محمدا وا حسیناہ کی روتے ہوئے صدا بلند تھی ،پھر عبدا للہ ابن عمر نے آکر عرض کی کہ آپ اس قوم سے صلح کر لیںاور ان سے جنگ نہ کریں،وگرنہ وہ آپ کو قتل کردینگے،تو اس وقت سرکار سیدالشہدا نے ارشادفرمایا کہ کیا تمہیں یحیی کاواقعہ معلوم نہیں ، کہ جب ان کاسر زانیہ کے لیے بھیجا گیااور بنی اسرائیل نے طلوع فجر سے طلوع آفتاب کے درمیان٧٠ نبیوں کو قتل کیا،اور پھر بازارمیں جاکے خرید و فروش کرتے رہے، کہ گویا انہوں نے کوئی برا کام انجام ہی نہ دیا ہو،پس اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے عبداللہ اللہ سے ڈرو، اورمیری نصرت سے ہاتھ مت اٹھانا۔
( مجلس نمبر٣٠،مجلس منزل خزیمة)
٣٠۔ایک اور مجلس عزا منزل خزیمہ میں برپا ہوئی، کہ جس وقت آنحضرت نے اس مقام پر نزول کیا، تو وہاں ایک ہاتف غیبی کی آواز بلند ہوئی۔کہ اے آنکھو گریہ وزاری کرو اس جماعت پر کہ موت و شہادت جن کو اپنے ساتھ مقصدو موطن کی طرف لے جارہی ہے،پھر وہاں اہل بیت اور اصحاب نے مل کے گریہ وزاری کیا۔
( مجلس نمبر٣١،مجلس منزل ثعلبیہ)
٣١۔اگلی مجلس منزل ثعلبیہ میں یامنزل زبالہ میں برپا ہوئی،عبداللہ ابن سلیمان، اور منذر ابن مشمعل کہ یہ دونوں کا قبیلہ بنی اسد سے تعلق ہے،روایت کرتے ہیں کہ جب ہم حج سے فارغ ہوئے،تو ہماری فقط خواہش ہی یہی تھی کے ہم حضرت کے ساتھ ملحق ہو جائیں،تاکہ دیکھیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے،ہم لوگ کافی تیزی سے روانہ ہوئے،یہاں تک کہ ہم حضرت کے نزدیک پہنچے۔ناگاہ ہم نے دیکھا کہ کوفے کی جانب سے ایک شخص آرہا ہے،اور جب وہ ہمارے قریب پہنچا تو ہم نے اس سے کہا کہ ہم قبیلہ بنی اسد سے ہیں ،تو اس نے کہا کہ میں بھی قبیلہ بنی اسد سے ہوں،پھر ہم نے اس سے کوفے کے حالات پوچھے، تواس نے جواب دیا کہ جس وقت میں کوفے سے نکلا تھا،مسلم اور ہانی کو قتل کردیا گیا تھا،اور رسیاںان کے پائوں میں ڈال کران کو بازاروں میں گھسیٹا جارہا تھا،پس ہم سرکا رکی خدمت میںحاضر ہوئے اور آکے ہم نے عرض کی کہ سرکا ر ہمارے پاس ایک خبر ہے اگر آپ حکم کریں ،آپ نے اثبات میں جواب دیا، تو ہم نے عرض کی کہ سرکار وہ ہمارے قبیلہ بنی اسد کا فرد ہے۔ اور صادق القول انسان ہے سرکا ر اس نے بتایا ہے کہ جس وقت وہ کوفے سے نکلا تھا تو اس و قت اس نے حضرت مسلم اور حضرت ہانی کے جنازوں کوکوفے کی گلیوں میں دیکھا، سرکار نے کلمہ استرجاع اناللہ وانا الیہ راجعون کوزبان پر جاری فرمایا،اور آپ نے کافی گریہ و زاری کی اور پھر قافلہ آل محمد کا وہاں سے روانہ ہوگیا۔
( مجلس نمبر٣٢،مجلس قبل از ورود بہ کربلا)
٣٢۔ایک اور مجلس کربلا میں ورود سے پہلے بر گزار ہوئی،جب خیمے نصب کر دیئے گئے،اسوقت آپ نے تمام اولاد اور اصحاب کو جمع کیاپس اس وقت سرکار نے ان سب کو دیکھا اور ان سب کو دیکھ کر زہرا کا چاند کافی دیر تک گریہ وزاری کرتا رہا۔
جو کائنات کے لیے امان ہے جو حیوانات نباتات اشجار چرند پرند جنات ملائکہ سب کے لیے امان ہے آج اس کے لیے امان نہیں یزیدی شیاطین ان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
کون حسین کہ جوراضی بقضائے الھی اللہ کی مرضی پر راضی وگرنہ کائنات کو اشارے سے چلانے والے کوحسین کہتے ہیں،کائنات کی نبض حیات جس کے ہاتھوں میں ہو ،اس کو حسین کہتے ہیں، کائنات کی رمز بقا کو حسین کہتے ہیں، وہاں پر آپ نے گریہ وزاری کے بعد ارشاد فرمایا کہ الھی تیرے نبی ۖ کی اولاد در بدر پھرائی جارہی ہے۔اور بنی امیہ تیرے نبیۖ کی اولاد پر ظلم و ستم کررہے ہیں۔
( مجلس نمبر٣٣،مجلس ٩ محرم )
٣٣۔ یہ مجلس ٩ محرم کی شام کو برگزار ہوئی،کہ جب امام حسین علیہ الصلاة والسلام خیمے کے سامنے تشریف فرماتھے،اتنے میں لشکریوں کے آنے کی آواز بلند ہوئی،اسوقت جناب زینب سلام اللہ علیہاتشریف لائیں، اورفرمانے لگیں کہ اے بھائی حسین دشمنوں کی آوازیںآرہی ہیں،اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے ابھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے ،کہ آپ نے ارشاد فرمایا حسین عنقریب تو میرے پاس آنے والا ہے،اور یہ وقت وہ وقت تھا کہ جناب زینب سلام اللہ علیھا کو رو رو کے قرار نہیں آرہا تھا، اور بار بار امام حسین علیہ الصلاة والسلام ان کو تسلیاں دے رہے تھے۔
( مجلس نمبر٣٤،مجلس شب عاشور)
٣٤۔ ایک اور مجلس عزا شب عاشور ہوئی کہ جس وقت امام حسین علیہ الصلاة والسلام نے خیمے میں سب اصحاب کوجمع فرمایا اور ایک خطبہ ارشاد فرمایا،اور اس میں اپنی اور اہل بیت کی شہادت کوبیان فرمایا،اور سب سے بیعت کو اٹھالیا اور سب کو مختار کردیا کہ چاہے وہ رکیں یا چلے جائیں،ان سب نے سرکار کی بیعت مجدد کی،اور بعض نے ہزار ہزار مرتبہ شہید ہونے کا عزم وارادہ ظاہر کیا،اور پھر سرکار نے سب کے مقامات بہشتی کو ان کو دکھایااور گریہ و زاری کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کے جیسے اصحاب مجھے ملے نہ نانا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملے اور نہ ہی باباعلی علیہ الصلاة والسلام کو ملے۔
( مجلس نمبر٣٥،مجلس روز عاشور)
٣٥۔ بے پناہ مجالس روز عاشور کربلا کی سرزمین میں بر گزار ہو ئیں۔
جب بنی ہاشم اور اصحاب کے لاشے خیمہ گاہ میں آتے رہے تو سادات میں ایک قیامت کا گریہ و بکا ہو تا رہا، کبھی حبیب ابن مظاہر کے جنازے پر مجلس ہوئی، کبھی زھیر ابن قین کے جنازے پر مجلس ہوئی،کبھی عون و محمد کے جنازے پر مجلس ہوئی،کبھی حضرت قاسم کے جنازے پر مجلس ہوئی،کبھی حضرت علی اکبر کے جنازے پر مجلس ہوئی،کبھی حضرت علی اصغر کے جنازے پر مجلس ہوئی، سقاء سکینہ جب پانی لینے گئے تو مجلس ہوئی،اور ان کے جنازے پر مولا حسین نے مر ثیہ پڑھا تنہائی میں زہرا کے چاند نے کافی قیامت کا گریہ کیا۔
( مجلس نمبر٣٦،مجلس حضرت بی بی سکینہ)
٣٦۔یہ مجلس اس وقت برپا ہوئی کہ جس وقت جناب سکینہ سلام اللہ علیہا خالی مشک لے کر اپنے بابا کی خدمت میں حاضر ہو ئیں، اور پانی کی درخواست کی اور حضرت ابوالفضل العباس پانی لانے کے لیے روانہ ہوئے ،اور اہل بیت نے گریہ و بکا کے ساتھ رخصت کیا۔
( مجلس نمبر٣٧،مجلس وقت رخصت امام حسین )
٣٧۔ایک اور مجلس عصر عاشوراس وقت برپا ہوئی کہ جس وقت امام حسین علیہ الصلاة والسلام رخصت آخر کے لیے خیمے میں تشریف لائے ،اور آپ نے ایک ایک بی بی کا نام لے کر سلام آخر اور وداع کیا،بی بیو نے سرکار کوروکنا شروع کردیااور پھر بی بیو نے سرکار کے گرد گھیرا ڈال کر ماتم کرنا شروع کردیا،اور پھراس مجلس کے بعد سرکار خیمے سے کیسے نکلے میر انیس فرماتے ہیں کہ
شبیر بر آمد ہوئے یوں خیمہ کے در سے جس طرح نکلتا ہے جنازہ کسی گھرسے
( مجلس نمبر٣٨،مجلس وقت وداع مولا)
٣٨۔ایک اور مجلس عصر عاشوراس وقت ہوئی جس وقت امام حسین علیہ الصلاة والسلام امام سجادعلیہ الصلاة والسلام سے وداع کرنے اور ان کو اسرار امامت سپرد کرنے آئے تھے، کہ جب سرکا ران کے خیمے میں پہنچے تومنظر بڑا عجیب دیکھا کہ جوان بیٹا شدید بخار کے عالم میں ہے، سرکا ر نے سرہانے بیٹھ کر رونا شروع کردیا،جب گرم گرم آنسو امام سجاد کے رخسار پر گرے تو آپ نے آنکھیں کھولیں ، تو کیامنظردیکھا
کہ ایک شخص سرہانے بیٹھا ہے جو خون میں شرابور ہے،اس سے پہلے کہ امام سجاد کچھ سوال کرتے اسوقت امام حسین نے جواب دیا کہ بیٹا سجاد گھبرانا نہیں تمہارا مظلوم باپ حسین ہے،ارشاد فرمایا کہ بابا ابھی تک آپ کو تنھا نہیں دیکھا،بابا یہ بتائیں کہ حبیب ابن مظاہر کیا ہو ئے ، بیٹا قتل کردئے گئے،بابازھیر ابن قین بیٹا قتل کردئے گئے،بابا مسلم ابن عوسجہ بیٹا قتل کردئے گئے،بابا میرے چچا عباس بیٹا قتل کردئے گئے، بابا میرا کڑیل جوان بھائی علی اکبرسرکار نے یہ نھیں کہا کہ بیٹا قتل کردئے گئے جواب دیا کہ بیٹا کب تک تم سوال کروگے اور کب تک میں جواب دوں گا، بس اتنا جان لو کے مردوں میں میرے اور تمہارے علاوہ کوئی باقی نہیں بچا،پھر گریہ و بکا کے ساتھ یہ مجلس بھی تمام ہو ئی۔
( مجلس نمبر ٣٩،مجلس ذوالجناح کی روانگی کے وقت)
٣٩۔ایک اور قیامت کی مجلس اس وقت برپا ہوئی کہ جس وقت سرکار ذوالجناح پر سوار ہوکر جانے لگے تو ذوالجناح نے حرکت نہ کی اور اپنے قدموں کی طرف دیکھنے لگا،اب جو سرکار نے دیکھا تو کیا قیامت کا منظر تھا کہ چاہنے والی بیٹی سکینہ ذوالجناح کے قدموںسے لپٹ کر بین کررہی ہے کہ اے میرے بابا کے ذوالجناح میرے بابا کو مقتل میں نہ لے جا اس لیے کہ جو بھی گیا ہے وہ واپس نہیں آیا،سرکار ذوالجناح سے زمین پرتشریف لائے ،اور سکینہ کو اپنے سینے پر لٹایا،اور تسلیاں دی اور خود بھی سرکار نے یہ منظر دیکھ کر گریہ و بکا کیا،اور پھر آپ مقتل کی طرف روانہ ہو گئے،۔
( مجلس نمبر٤٠،مجلس حضرت زینب در تلہ زینبیہ)
٤٠۔ایک اور مجلس کہ گویا وہ سرکار کی زندگی کی آخری مجلس تھی، اوراس مجلس کو پڑھنے والی جناب زینب سلام اللہ علیہاتھیں،اور یہ اس وقت ہوئی کہ جس وقت شمر ملعون خنجر لے کے قتل گاہ میں پہنچ چکا تھا،اور بی بی نے تلہ زینبیہ سے روتے ہوئے خطاب فرمایا اے عمر ابن سعد ملعو ن۔ زہرا کا لال امیر المومنین کا بیٹا رسولۖ کا نواسہ ذبح ہو رہا ہے اور تو کھڑا دیکھ رہا ہے،بس پھر کچھ ہی دیر میں سیاہ آندھیا ں چلنے لگیں ، آسمان سے خون برسنے لگا ،فرات کا پانی نیزوں بلند ہونے لگا، سورج کو گہن لگ گیا،زمین میں زلزلہ آگیا۔
فضائے بسیط میں رونے کی آوازیں بلند ہو نے لگی اور ساتھ ہی ایک آوازبلند ہو ئی
الا قتل الحسین بکربلاء الا ذبح الحسین بکربلائ
اور اب اس کے بعد وہ مجالس کہ جوسرکا ر کی شہادت کے بعد برپا ہو ئیں۔
( مجلس نمبر٤١،مجلس حضرت ام سلمہ)
٤١۔ سب سے پہلی مجلس بی بی ام سلمہ کے گھر میں منعقد ہوئی،ابن عباس ناقل ہیں کہ میں سویا ہواتھا کہ ناگاہ مجھے بہت زیادہ گریہ و بکا کی آواز آنے لگی، کہ جو حضرت ام سلمہ زوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے آرہی تھی،میں ان کے گھر میں پہنچا اور میں نے ان سے کہا کہ آپ کو کیا ہوگیا ہے اتنی اونچی آواز میں کیوں گریہ کررہی ہیں،انہوں نے میرا جواب نہیں دیا بلکہ زنان بنی ہاشم کو دیکھ کر کہنے لگیں کہ اے عبد المطلب کی بچیوں جوانان جنت کے سردار پر رونے میں میری مدد کرو،رسول ۖ کے بیٹے پر رونے میں میری مدد کرو،ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے سوال کیا کہ یہ کہاں سے آپ نے سنا ہے ،تو بی بی ام سلمہ نے جواب دیا کہ میں ابھی ابھی سوئی ہوئی تھی،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے خواب میں دیکھاسر پے خاک پڑی ہوئی ہے، گرد آلود، متحیر، سوال کیا کہ یہ آپ کا کیاحال ہے،تو آنحضرتۖ نے جواب دیا کہ اے ام سلمہ میرے حسین کو شہید کردیا گیا ہے،اے ام سلمہ جوانان بنی ہاشم اور اصحاب حسین کو شہید کردیا گیا ہے،ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں لرزہ بر اندام اٹھی، میرا یہ حال تھا کہ گویا عقل وہوش میرے پاس نا ہو،پس میں نے وہ خاک دیکھی کہ جو جبرائیل رسول اللہ ۖ کے لیے لائے تھے اور انھوں نے مجھے عطا کی تھی اورارشاد فرمایا تھا کہ اے ام سلمہ اس خاک کو دیکھتی رہنا جب یہ خون آلود ہوجاہے تو سمجھ لینا کہ میرے حسین کو شہید کردیا گیا ہے،ابن عباس جان لو کہ امام حسین کوقتل کردیاگیاہے اس لیے کہ وہ خاک خون آلود ہوچکی ہے۔
( مجلس نمبر٤٢،مجلس بعد از شھادت امام حسین )
٤٢۔اگلی مجلس کہ جو فورا بعداز شہادت امام حسین ہوئی کہ جس میں کائنات عالم امکان میں ما یرُیٰ وما لا یرُیٰ،سب نے گریہ کیا، زمین، فلک آسمان، کہکشا ں ،کواکب ،ابراج،عرش، حاملان عرش،ملائکہ ،
عناصراربعہ، نباتات،حیوانات، بھشت،خازنان بھشت،حور و غلمان،قصور واشجار،انھار، اثمار، ہوا، فضا، آفتاب ،ماہتاب،دریا ، جنات، الغرض کہ کو ئی نہیں بچا کہ جس نے زہرا کے چاند پر گریہ نہ کیا ہو،ہوا نے گریہ کیا،آفتاب کو گہن لگ گیا،اس نے ایسے گریہ کیا،ملائکہ کی تسبیح رک گئی انہوں نے ایسے گریہ کیا،زمین نے زلزلے کیساتھ قیامت کا ماتم کیا،مرغابیوں نے ماتم کیا جنوں نے ماتم کیا فضاوںنے دریاوں نے ماتم کیا۔
( مجلس نمبر٤٣،مجلس درقتل گاہ امام حسین )
٤٣۔یہ مجلس قتل گاہ امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں برگزار ہوئی اس وقت جب جناب زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے بھائی کے جنازے پے مرثیہ پڑھااور ٧خطابات کئے،جن میں سے ایک خطاب یہ تھا کہ بھائی حسین جب تک آپ کے سر پر عمامہ تھا زینب کے سر پر چادر تھی آپ کے سر سے عمامہ اترا زینب کے سر سے چادر اتری،اور پھر مدینے کا رخ کرکے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خطاب کیا کہ یا رسول اللہ ۖ آپ پر آسمان کے فرشتوں نے نمازپڑھی اور یہ آپ کاحسین ہے خون آلود سر تن سے جدا الی آخرہ۔
( مجلس نمبر٤٤،مجلس طائران و طائر ابیض)
٤٤۔پرندوں نے بعد شہادت امام حسین علیہ الصلاة والسلام مجلس عزا منعقد کی کہ جس مجلس کا مرثیہ خوان طائر ابیض تھا، جیسا کہ بحارالانوارجلدنمبر۔ ٤٣۔ اورصفحہ نمبر۔١٩٣ ۔میں اور۔ عوالم العلوم ۔جلدنمبر۔ ١٧، اور صفحہ نمبر۔٤٩٣ ۔میں مندرج ہے۔
( مجلس نمبر٤٥،مجلس حیوانات)
٤٥۔جانوروں نے بعد شہادت امام حسین علیہ الصلاة والسلام مجلس عزا برپا کی، جیسا کہ بحار الانوار جلد ٤٥ صفحہ٢٠٥اور کامل الزیارة باب٢٦صفحہ٧٩ میں مرقوم ہے کہ جانوروں نے مجلس عزامنعقد کی اورشب ١١ محرم الحرام کو سب جانور اپنی گردنیں سرکار کی طرف کیے ہوئے صبح تک نوحہ و گریہ و بکا کرتے رہے۔
( مجلس نمبر٤٦، مجالس جنات ١)
٤٦۔جنّات نے بعد شہادت امام حسین علیہ الصلاة والسلام سرکار کے جنازے پر مجلس عزامنعقد کی۔
جیسا کہ بحارالانوار جلد ٤٥ صفحہ ٢٠٥ اور امالی شیخ صدوقمجلس ٢٧صفحہ ١١٠ میں مرقوم ہے کہ جنّات نے سرکار کے جسد اطہر کے گرد مجالس عزا منعقد کیں۔
( مجلس نمبر٤٧،مجلس جنیان ٢)
٤٧۔جننیوں نے آکرسرکار امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے جنازے پر مجلس عزا منعقد کی،جیسا کہ بحار الانوار جلد٤٥ صفحہ ١٩٣۔١٩٤ پر مندرج ہے کہ،جننیاں کربلامیں آئیں ۔اورامام حسین علیہ الصلاة والسلام کے جسد اطہر کے گرد جمع ہوکرمرثیہ خوانی، نوحہ خوانی، اورگریہ وبکا کیا۔
( مجلس نمبر ٤٨،مجالس کوفہ )
٤٨۔امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی شہادت کے بعد کچھ مجالس کوفہ کی گلیوں میں منعقد ہوئیں ،اوران مجلسوں کی ذاکرہ حضرت زینب حضرت ام کلثوم و حضرت سکینہ سلام اللہ علیہم اجمعین تھیں ، ان مجالس کے ذاکر حضرت امام سجاد زین العابدین علیہ الصلاة والسلام تھے، اور رونے والے کوفے کے مردو زن تھے،روایا ت میں ملتا ہے کہ ان کی رونے کی آوازیں بلند تھیں،بعض اپنے سینوں پر ماتم کررہے تھے،بعض اپنے سروں پر ماتم کررہے تھے،اور کچھ لوگ خاک اپنے سروں پر ڈال رہے تھے، اور کچھ اپنے بالوں کو نوچ رہے تھے، جیسا کہ بحار الانوار جلد ٤٥ صفحہ١٠٨ اور ١١٣ میں اور لھوف صفحہ ٦٣ اور٤٩ میں مرقوم ہے کہ ایسا دن کوفے کی تاریخ میں کبھی نہیں دیکھا گیا،اور نا ہی ایسا قیامت کا گریہ و بکا اس سے پہلے کبھی دیکھا گیا۔
( مجلس نمبر٤٩،مجلس کوفہ و شام )
٤٩۔امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی شہادت کے بعدیہ اہل بیت علیہم الصلاة والسلام کی مجالس تھیںکہ جو کربلا سے کوفہ اور کوفے سے شام اور شام سے کوفہ اور کوفے سے کربلا اور کربلا سے مدینہ کے راستے میں برگزار ہوئیں،اور مدینے میں جب تک زندہ رہیں یہ مجالس عزا برگزار ہوتی رہیں،جیسا کے روایات میں ملتا ہے کہ امام سجاد علیہ الصلاة والسلام ٤٠ سال خون گریہ کرتے رہے،جب بھی پانی آیا کھانا آیا،تو یہ جملہ سرکار کی زبان پے ہوتا تھا کہ رسول ۖ کے نواسے کو بھوکا پیاسہ بے دردی کے ساتھ کربلا میںذبح کردیا گیا۔
( مجلس نمبر ٥٠،مجلس خرابہ شام )
٥٠۔ایک مجلس امام حسین علیہ الصلاة والسلام خرابہ شام میں منعقد ہوئی اور یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب ھند قیدیوں سے ملاقات کرنے زندان میں آئی، ملتا ہے کے سب قیدی گریہ و بکامیں مصروف تھے کہ اتنے میں زندان میں شور ہوا کہ جیسے کوئی آرہا ہو ۔توبی بی نے امام سجاد سے سوال کیا کہ بیٹایہ کیا ماجرا ہے تو آپ نے جواب دیا کہ پھوپھی جان مبارک ہو ۔ آپ کے گھر کی کنیز ھند آرہی ہے ، بس یہ جملہ سننا تھا۔ بی بی نے جلدی سے اپنے آپ کو خواتین میں مخفی کردیا، اور خواتین کے درمیان میں آکر بیٹھ گئیں،اتنے میں ھند وارد زندان ہوئی اور اس نے قیدیوں میں بزرگ کادریافت کیا، توسب نے جناب زینب کی طرف اشارہ کیا کہ وہ جو درمیا ن میں سر جھکا کے بیٹھی ہے وہی ہماری آقازادی ہے،ھند چونکہ اہل بیت کے گھر کی تر بیت کا اثر رکھتی تھی اس نے یہ نہیں سوچا کہ وہ بادشاہ کی بیوی ہے ،انہیں ذرق برق ملبوسات کے ساتھ وہ مٹی کے فر ش پربیٹھ گئی،اور پھر اس نے سوالات کرنے شروع کیے،اس نے پہلا سوال کیا کہ بی بی آپ کہاں کی رہنے والی ہیں،تو آپ نے جواب دیا کہ ہم مدینے کی رہنے والی ہیں،پھر ھند نے سوال کیا کہ مدینے تو بہت ہیں کون سے مدینے کی ہیں۔ تو آپ نے جواب دیا مدینة رسول اللہۖ، کی رہنے والی ہیں۔پھر ھند نے سوال کیا کہ کون سے محلے سے ہیںتو آپ نے جواب دیا کہ ہم محلہ بنی ہاشم سے ہیں،ھند نے یہ سننا تھا فورا بے قرار ہو گئی اور سوال کرتی ہے کہ بی بی میں محلہ بنی ہاشم میں کچھ عرصہ رہی ہوں اور میں کچھ لو گوں کو جانتی ہوں، اس لیے کہ میں نے ان کی کنیزی کی ہے اور اس پر میں ابھی تک فخر کرتی ہوں،بی بی اگر آپ مدینے کی رہنے والی ہیں اور محلہ بنی ہاشم کی رہنے والی ہیں ،توآپ مجھے یہ بتا ہیں کہ کیا آپ میرے آقا و مولا امام حسین علیہ الصلاة والسلام کو جانتی ہیں، تو بی بی نے کو ئی جواب نہ دیا سر توجھکا ہوا تھا اور جھک گیا،پھر ھند کہنے لگی کہ بی بی بی بی مجھے معاف کرنا آپ مجھے شریف زادی معلوم ہوتی ہیں اور شریف زادیوں کو مردوں کے نام نہیں آتے، بی بی میں کچھ اپنی شہزادیوں کو بھی جانتی ہوں،بی بی یہ بتا ئیں کہ کیا آپ میری آقا زادی زینب کو جانتی ہیں، بی بی نے کو ئی جواب نا دیا بلکہ رونا شروع کردیا ۔
ھند کہتی ہے کہ بی بی میں اپنی شہزادی کو پو چھتی ہوں میں نے آپ کی شان میں کو ئی گستاخی نہیں کی آپ روتی کیوں ہیں ،تواب بی بی سے رہا نا گیا ارشاد فرماتی ہیں کہ ھند تو پہچانتی کیوں نہیں انازینب میں ہی زینب ہوں ، ھند فورا قدموں میں گر کر عرض کرتی ہے بی بی اگر آپ زینب ہیں تومولاحسین کہا ںگئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے ھند تیرے شوہر نے میرے بھائی کو تین دن کا بھو کا پیا سہ کربلا کے میدان میں شہید کردیا ، اور اس وقت بی بی نے کربلا کے سارے واقعات سنائے،اور کربلا کی مجلس پڑھی، اورپھر اس وقت شام کا زندان گریہ و بکا سے گو نج اٹھا۔
( مجلس نمبر٥١،مجلس حضرت ام کلثوم )
٥١۔ ایک مجلس عزا امام حسین علیہ الصلاة والسلام بی بی ام کلثوم سلام اللہ علیہا نے پڑھی کہ جب مدینہ ظاہرہوا تو آپ نے یہ مرثیہ پڑھا جس کے سننے والے امام سجاد اور اہل بیت علیہم الصلاة والسلام تھے،کہ جس کا ماحصل یہ تھا کہ اے نانا ۖکے مدینہ ہمیں قبول نہ کرنا ہم حسرتوں اور غموں کے ساتھ تیرے پاس آئے ہیں جب ہم نکلے تھے ہماری جھو لیاں بھری ہوئی تھیں آباد تھیں،لیکن اب نہ ہمارے مرد ساتھ ہیں اور نہ ہی ہمارے بچے ہمارے ساتھ ہیں،پھر آپ نے حضرت زہرا اور امام حسن کو مخاطب کرکے مرثیہ پڑھا۔
( مجلس نمبر ٥٢، مجالس ملائکہ)
٥٢۔ملائکہ کی مجالس کہ جو بعد شہادت امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے برپا ہو ئیں اور برپا ہوتی رہینگی، ملتا ہے کہ فرشتوں نے بعد شہادت امام حسین علیہ الصلاة والسلام آپ کے جسد اطہر کے گرد مجلس برپا کی اور اب امام حسین علیہ الصلاة والسلام کی قبر کے گرد روازانہ مجالس عزا برپا کرتے ہیں،کہ جو دائما گریہ و بکا مرثیہ نوحہ اور ماتم میں مصروف رہتے ہیں،اور ان کے چہرے غبار آلودہ ہوتے ہیں ، اورسید الشہداامام حسین علیہ الصلاة والسلام کی قبر کے گرد دائم البکا رہتے ہیں،ان کے علاوہ بھی بے پناہ ملائکہ سرکار کے حرم میں موجود رہتے ہیں کہ جو مختلف قسم کے امور سر انجام دیتے ہیں،جیسا کہ یہ سب روایات کامل الزیارات اور بحارالانوار اور عوالم العلوم اورنور العین اورخصائص الحسینیہ اور ان کے علاوہ بھی بے پناہ کتابوں میں مرقوم ہیں ۔
یہاں چند ایک ملائکہ کا تبرکا و تیمناذکر کیا جاتا ہے:
(اصناف ملائکہ)
١۔ملائکہ کی پہلی صنف وہ ملائکہ ہیں کہ جوسرکار سید الشھدا امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے حرم میں رہتے ہیںوہ پریشان اور غبار آلوداور دائم البکا رہتے ہیں۔
٢۔کچھ ملائکہ ایسے ہیں کہ جو زوار کے استقبال کو جاتے ہیں،اور ان کی مشایعت کرتے ہیں،ان کے مریضوں کی عیادت کرتے ہیں،اور ان کی اموات کو دفن کرتے ہیں۔
٣۔اور کچھ ملائکہ ایسے ہیں کہ جو قبر امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے اردگرد جمع ہوکر آواز دیتے ہیں،کہ اے خیر کے طلب گارو آو اللہ کی طرف اور اے مغفرت کے طلب گارو آو اللہ کی طرف آو اورآو اللہ کے عذاب سے امان میں آجاو۔
٤۔اور کچھ ملائکہ وہ ہیں کہ جب زائرین زیارت سے فارغ ہوجاتے ہیں ۔تو یہ ان سے خطاب کرتے ہیں، کہ خوشا بحال تیرا کہ تجھے اللہ نے اپنی غفران میں لے لیا،اللہ نے تیرے سارے گناہوں کی بخشش کردی
٥۔کچھ ملائکہ وہ ہیں کہ جو امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے زائر ہیں اور آپ پرگریہ وزاری کرتے ہیں، اور جن کی تعداد( ٤٠٠٠) ہے یہ روزانہ آتے ہیں اور روزانہ تبدیل ہوجاتے ہیں ،اورپھر ان کی نوبت نہیں آتی۔
٦۔کچھ ملائکہ وہ ہیں کے جن کا کام زائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے لیے استغفار کرنا ہے۔
٧۔ کچھ ملائکہ زائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام سے مصافحہ کرتے ہیں،اور ان کی رو بوسی کرتے ہیں۔
٨۔کچھ ملائکہ زائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام کیلیے صلوات بھیجتے ہیں اور طلب رحمت کرتے ہیں ۔
٩۔کچھ ملائکہ امام حسین علیہ الصلاة والسلام کو دور اوراپنے وطنوںسے سلام کرنے والوں کے سلام کوسرکار کی خدمت میں ابلاغ کرتے ہیں کہ جن کا سردار و راس و رئیس فطرس ہے کہ جواس کام پر موکل ہے۔
١٠۔کچھ ملائکہ ایسے ہیں کہ جن کا کام یہ ہے کہ وہ زائرین کی پیشانیوں پر مہر لگاتے ہیں،ایسی مہریں کہ جو خدا کے نور سے آراستہ ہوتی ہیں،کہ یہ بہترین شہید کا زائر ہے،ھذازائرقبر الحسین۔پس قیامت کے دن اس مہر کے ذریعے ان کی شنا خت ہوگی،روایات میں ملتا ہے کہ قیامت کے دن آوازبلند ہوگی کہ این زوار قبر الحسین تو اس وقت ایک عظیم لشکر کی گردن بلند ہوگی کہ جن کی تعداد کوکوئی نہیں جانتا ہوگاسوائے اللہ اور مظاھر اللہ کے کہ جن کی پیشانیوں پر مہریں لگی ہو نگیں،پیغمبرۖ اور جبرائیل ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو احوال قیامت سے نجات دلوائیں گیں۔
١١۔کچھ ملائکہ وہ ہیں جوزائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام وماتم داران امام حسین علیہ الصلاةوالسلام اور نوحہ خوانان امام حسین علیہ الصلاة والسلام اور لطمہ زنندگان برائے امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے اشکوں کو جمع کرتے ہیں اور آب حیات سے ممزوج کرتے ہیں۔
١٢۔کچھ ملائکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سلام کو زائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام تک پہنچاتے ہیں،جیسا کہ بحار الانوار اور کامل الزیارات میں مرقوم ہے کہ اذا فر غ الزائر من الزیارة فجاء عندہ ملک ،ویقول ایھا الزائر، ان محمدا یقرئک السلامکہ جب زائر زیارت سے فارغ ہوتا ہے تواس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے کہ اے زائر جن کی زیارت کو تو آیا ہے ان کے جد امجد رسول خداۖنے تجھے سلام کہا ہے۔
١٣۔کچھ ملائکہ وہ ہیں کہ جوحرم امام حسین علیہ الصلاة والسلام میں عبادت میں مشغول رہتے ہیں، الخصائص الحسینیہ میں مرحوم آقائے حاج شیخ جعفر شوششتری روایت نقل فرماتے ہیںحضرت امام جعفر صادق علیہ الصلاة والسلام ارشاد فرماتے ہیں،کہ ستر ہزار ملائکہ ایسے ہیں کہ جو امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے حرم میں قبر کے پاس اللہ کی عبادت کرتے ہیں،اور ان کی ایک نماز بنی آدم کی ہزار نماز کے برابر ہے ،اور اس کا ثواب زائرین امام حسین علیہ الصلاة والسلام کو دیا جاتا ہے۔
١٤۔کچھ ملائکہ ایسے ہیں کہ جو اللہ کے حکم سے زائرین کی ہمراہی کرتے ہیں، ان کو گھر تک پہنچاتے ہیں،
پھر حکم ایزدی سے ان کے گھر میں رہتے ہیں،پھر وہ جب مرجاتا ہے تو اس کی قبر کے مجاوربن جاتے ہیں اور اس کے نائب الزیارة بن جاتے ہیں اور اس کے لیے طلب رحمت کرتے ہیں۔
١٥۔ کچھ ملائکہ وہ ہیں کہ جوزائر کی قبر کے پاس بیٹھ کرقیامت تک کے لیے استغفار کرتے ہیں۔
١٦۔کچھ ملائکہ ہیں جن کے لیے ملتا ہے کہ ان کی تعداد ایک ہزار ہے ہر روز امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے حرم مطھر کو گھیرے میں لے لیتے ہیں۔
( مجلس نمبر ٥٣، مجالس زہراء مرضیہ)
٥٣۔ وہ مجالس ہیں کہ جو ہر روز حضرت زہرا سلام اللہ علیہا برپا کرتی ہیں،یہ وہ مجالس ہیں جوآسمانوں میں زمینوں میںعزاداروں کے ساتھ رونے والوں کے ساتھ ماتم داروں کے ساتھ جنت کی حوروں کے ساتھ برپا کرتی ہیں۔روایات میں ملتا ہے کہ جناب زہرا سلام اللہ علیہا اتنا گریہ و بکا کرتی ہیں، کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و لہ وسلم آکے تسلیاں دیتے ہیں۔ اورامام حسین علیہ الصلاة والسلام کے زائرین کے لیے استغفار کرتے ہیں۔
( مجلس نمبر ٥٤، مجالس ائمہ طاھرین )
٥٤۔ائمہ طاہرین علیہم الصلاة والسلام کی مجالس عزا ہیں کہ من جملہ وہ مجالس ہیں کہ جو حضرت امام جعفر صادق علیہ الصلاة والسلام نے برپا کیں،کہ جس کے مرثیہ خوان جعفر ابن عفان تھے، اور انہوں نے مرثیہ پڑھا،جس کا ما حصل یہ تھا،بے شک ہر کو ئی گریہ کرتا ہے،پس یہاں اسلام کو رونا چاہیے اس لیے کہ اسلام کے احکام کو ضائع کردیا گیا تھا،اسوقت کے جب نیزے تیر اور تلواریںامام حسین علیہ الصلاة والسلام کے خون سے آغشتہ اور سیراب ہوئیں۔
( مجلس نمبر ٥٥، مجلس عبداللہ بن غالب)
٥٥۔ایک اور مجلس کہ جو امام حسین علیہ الصلاة والسلام کے لیے برپا ہو ئی کہ جس کے مرثیہ خوان عبداللہ ابن غالب تھے جیسا کہ بحار الانوارو کامل الزیارات میں مرقوم ہے کہ عبد اللہ ابن غالب نے مرثیہ پڑھا۔
جس کا ما حصل یہ تھا کہ اے لوگوں گریہ وزاری کرو، گریہ و بکا کرو، اس بدن مطھر پر کے جوگرم ریت پر عریان پڑا ہے،اور ہوائیں گرد و غبار اس پر ڈال کر اس مظلوم کا کفن بنا رہی ہیں۔
( مجلس نمبر ٥٦، مجلس ابوھارون مکفوف)
٥٦۔پھر سرکار کے لیے مجلس عزا ہو ئیں کے جس کے مر ثیہ خوان ابو ھارون مکفوف تھے،ملتا ہے کے آپ نے با قاعدہ مجلس پڑھی اور بہت گریہ و بکا ہوا،یہاں تک کے حضرت کے رونے کی آواز بلند ہو ئی، اور اس کلام کاماحصل یہ تھا کہ اے مریم اٹھو اور اٹھ کر اپنے آقا و مولا پر گریہ و زاری کرو،اور اپنے مولا کے لیے نوحہ پڑھو، مولا حسین علیہ الصلاة والسلام پر گریہ و بکا کرویہاں تک کہ ان کے مر ثیہ پر اتنا گریہ و بکا ہوا کے حرم سرا سے خواتین کے رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔
( مجلس نمبر٥٧، مجلس سلطان العرب والعجم)
٥٧۔ایک اور ان کثیر مجالس میں سے کہ جو سلطان الامام علی ابن موسی الرضا علیہ الصلاة والسلام نے برگزار کی کے جس عظیم مجلس کے نوحہ خوان مرثیہ خوان دعبل خزاعی معروف شاعرتھے،مجلس کے نظم و ضبط کی ذمہ داری شخصا بنفس نفیس خود سرکار نے انجام دیں،پس خود سرکار نے ایک چادر نصب فرمائی اور خواتین کو پردے کے پیچھے جانے کاحکم دیا،اور دعبل خزائی سے آپ نے ارشاد فرمایا کہ دعبل اب پڑھو،اور یادرکھو کہ جس کی آنکھ ہمارے جد امجدامام حسین علیہ الصلاة والسلام کی مصیبت میں اشک بہائے گی،قیامت کے دن وہ ہمارے ساتھ محشورہوگا،پس دعبل خزاعی نے مرثیہ شروع کیا،اے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاامام حسین کو لب تشنہ پیاسہ شہید کردیا گیا اور اے بی بی زہرا سلام اللہ علیہا اگر آپ کو علم ہوجائے تو ہر لمحہ آپ کے اشک جاری ہو جائینگے اور آپ بے قرار ہو جائینگی الی آخر المطلب ملتا ہے کے سرکار کے گریہ وزاری کی آواز بلند ہوئی،اور خواتین کی پردے کے پیچھے سے رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں ۔
( مجلس نمبر ٥٨، مجالس شیعیان )
٥٨۔شیعیان کی مجالس عزا ہیں کہ جوقیامت تک برپا ہو تی رہینگی۔
ان مجالس کے خصائص میں سے ایک یہ ہے کہ کبھی بھی اتنی مدت کے باوجود، تھکاوٹ، کسل،اور سستی، کا سبب نہیں بنتی،اور ان مجالس عزا کا معجزہ یہ ہے کے سال بہ سال اس کی بلندی اوج اور شرف میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے،یہاں تک کہ کو ئی بلد باقی نہیں بچا کہ جہاں عزاداری برپانہ ہو تی ہو، حتی کہ یہاں تک کہ کافر، یہودی،مجوسی،منافق،مسیحی،سب کے ممالک میں عزاداری امام حسین برپا ہوتی ہے،یہاں تک کہ یوں سمجھ لیں کہ کوئی ملک ایسا نہیں بچا کہ جہاں ذکر ابا عبداللہ امام حسین علیہ الصلاة والسلام برپا نہ ہوتا ہو،بلکہ اب تو سعودی عرب،قسططنیہ، مصر، شام، لبنان،بحرین، کویت،اور کافی مدت کی بندش کے بعداب عراق میںمجالس عزا علنی برپا ہوتی ہیں بلکہ معجزہ تو یہ ہے۔ کہ پاکستان میں آج اتنے حالات کی کشید گی کے باوجود بھی مجالس عزا امام حسین علیہ الصلاة والسلام برپا ہور ہی ہیں۔یہاں تک کہ مجالس میں جانے والے کو بھی یہ علم نہیں۔کہ وہ صحیح وسالم گھر لوٹ کرآئینگے بھی یا نہیں،لیکن اسکے باوجود مجالس عزا میں جاتے ہیں اور عزاداری ماتم داری برپا کرتے ہیں،اور جناب زہرا سلام اللہ علیھا کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔
( مجلس نمبر٥٩، مجلس امام زمانہ)
٥٩۔ایک مجلس عزا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف برپا کرینگے ۔اور اس مجلس کے ذاکر بھی خود سرکار ہونگے۔جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ سرکارامام زمانہ خانہ کعبہ کی دیوار سی ٹیک لگا کر ایک خطبہ دینگیے اور اس کے بعد ارشاد فرمائینگے کہ آپ کا خطاب پوری دنیا میں ہر شخص سنے گا،آپ گریہ و زاری کے بعد ارشاد فرمائینگے کہ یا اھل العالم ان جدی الحسین قتلوہ عطشانا اے دنیا والو میرے جد امجد حسین کو پیا سہ شہید کردیا گیااور اس کے بعد سرکار کے جہادکا آغاز ہوگا اور حکومت الھیہ کا قیام عمل میں آئیگا،زمین سے ظلم و جور ختم ہو جائیگا زمین عدل و انصاف سے پر ہو جائیگی۔
( مجلس نمبر٦٠، مجلس میدان محشر)
٦٠۔ ایک مجلس حشر کے میدان میں روز قیامت برپا ہوگی،جیسا کہ روایات میں ملتا ہے کہ اس مجلس کی ذاکرہ مرثیہ خوان رسول ۖکی بیٹی امیر المومنین کی زوجہ حسنین کی مادر گرامی جناب زہراسلام اللہ علیہا ہونگی۔
بی بی کے عرصہ محشر میں آنے کے کافی موارد بیان کیے گئے ہیں،ایک روایت کے مطابق یہ ہے کہ ہر شہید عرصہ محشر میں آئیگا،اور ہر شہید کہ ہاتھ میں اس کا سر اقدس ہوگا،لیکن غازی شہید کا سر ملائکہ کے ہاتھ میں ہوگا اور آپ کے بازو بھی ملائکہ کے ہاتھوں میں ہونگے،جناب زہراسلام اللہ علیہا کے آنے سے پہلے محشر کے میدان میں ایک آواز بلند ہوگی کہ یا اھل المحشر غضوا بصارکم اے حشر والو اپنی آنکھوں کو بندھ کرلو اس لیے کہ رسول اللہ ۖ کی بیٹی زہرا سلام اللہ علیہا گزرنے والی ہیں،امام سجاد علیہ الصلاة والسلام نے ارشادفرمایا جناب زہرا اس طرح سے وارد ہونگی کہ دائیںہاتھ میںدادا علی کا ابن ملجم کی ضربت سے کٹا ہوا عمامہ ہوگا، دائیںدوش پر امام مسموم امام حسن مجتبی کا زہر آلود کرتہ ہوگا، بائیں دوش پر سلطان کربلا کا خون آلود پیراہن ہوگا،بائیں ہاتھ میں تین چار سال کی بچی کا ہاتھ ہوگا،پیچھے ایک شہید ہوگا جس نے اپناسر خود اٹھایا ہوگا،اور ان کے پیچھے باقی شہدا ہونگے،عر ش الھی کے سامنے عرض کرینگی کہ الھی تیری ساری مخلوقات ہیں، کوئی باقی نہیں بچا،اس وقت جناب زہراسوال کرینگی کے خدایا تو شمر ملعون سے سوال کر اور پھر چار سال کی بچی کو بلند کرینگی اور فرمائینگی کہ اے اللہ شمر ملعون سے پوچھ کے میری معصومہ کا قصور کیا تھا جو اس کی بالیاں چھینیں اس کے طمانچے مارے اس کے درے مارے آپ کی یہ صدا سن کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملائکہ انبیاء فریاد و گریہ و بکا کرینگے،اور یہ وہ وقت ہوگا کے قیامت میں ایک قیامت برپا ہو گی، اور حشر میں حشر کا سامان ہوگااور ہر طرف سے رونے کی آواز آرہی ہوگی۔
الا لعنة اللہ علی القوم الظالمین و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون،۔
٭٭٭٭٭٭
پروردگار عقل مجھے فکر نو ملے پروانہ خیال کی آنکھوں کو ضو ملے
بہر طواف فن کے چراغوں کی لو ملے میرے شعور ، میرے تخیل کو رو ملے
سدری سے میری طبع رواں گفتگو کرے
بلبل لبوں کو چومنے کی آرزو کرے (جناب طیب کاظمی صاحب)