آیتالله سید سبط حیدر زیدی
آیت اللہ جناب علامہ سید سبط حیدر زیدی
عالمِ دین، محقق، مدرس اور مبلغِ معارفِ اہل بیت علیہم السلام
خاندانِ علم و سیادت میں ایک علمی زندگی کا آغاز
برصغیر ہند کی دینی و علمی تاریخ میں سادات کے متعدد خاندانوں نے علم و فضل، دیانت و تقویٰ اور محبتِ اہل بیت علیہم السلام کی روایت کو نسل در نسل زندہ رکھا ہے۔ ان خاندانوں نے نہ صرف اسلامی معارف کی حفاظت و اشاعت میں حصہ لیا، بلکہ اپنی علمی و روحانی روایت کے ذریعے معاشرے کی دینی و تہذیبی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اترپردیش کے ضلع بجنور کا زیدی خاندان بھی اسی روایت سے وابستہ ہے، جس کی شناخت دینی اقدار، خاندانی روایات اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام سے گہری وابستگی کے حوالے سے کی جاتی ہے۔
اسی علمی و دینی ماحول میں ۲۷ مارچ ۱۹۷۷ء، مطابق ۶ ربیع الثانی ۱۳۹۷ھ بروز اتوار عصر کے وقت ایک سید گھرانے میں سید سبط حیدر زیدی کی ولادت ہوئی۔ آگے چل کر انہوں نے اپنی زندگی کو تحصیلِ علم، تدریس، تحقیق، تصنیف اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی ترویج کے لیے وقف کیا اور ان تمام میدانوں میں اپنی علمی و عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔
ان کا مولد محلہ کھڑاڑہ سادات، تحصیل شیرکوٹ، ضلع بجنور، ریاست اترپردیش، ہندوستان ہے۔ یہ خطہ برصغیر کی اس تہذیبی فضا کا حصہ ہے جس میں مختلف ادوار میں دینی خاندانوں، اہلِ علم اور مذہبی مراکز نے اسلامی علوم و معارف کی ترویج میں حصہ لیا۔
سید سبط حیدر زیدی کی ابتدائی زندگی بھی اسی دینی و تہذیبی ماحول میں گزری۔ خاندانی روایات، مذہبی فضا اور اہل بیت علیہم السلام سے عقیدت و محبت نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہی ابتدائی اثرات رفتہ رفتہ دینی علوم سے شغف اور علمی جستجو میں ڈھلتے گئے، یہاں تک کہ حصولِ علم ان کے لیے محض ایک تعلیمی ضرورت نہیں، بلکہ زندگی کا ایک بامقصد انتخاب بن گیا۔
حصولِ علم کا آغاز: شیرکوٹ سے جامعۃ المنتظر تک
سید سبط حیدر زیدی نے اپنی ابتدائی تعلیم وطن ہی میں حاصل کی۔ تاہم، دینی معارف سے ان کی گہری دلچسپی نے بہت جلد انہیں علومِ اسلامی کی باقاعدہ تحصیل کی طرف مائل کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے عمومی تعلیم کے متعارف راستے کے بجائے دینی تعلیم کو اپنی علمی زندگی کا بنیادی محور بنایا۔
۱۹۸۷ء، مطابق ۱۴۰۸ھ میں، جب ان کی عمر محض دس برس تھی، وہ علومِ اسلامی کی تحصیل کے لیے جامعۃ المنتظر، نوگانواں سادات، مرادآباد میں داخل ہوئے۔ یہ ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا، کیونکہ اسی مرحلے سے ان کی باقاعدہ حوزوی تعلیم کا آغاز ہوا۔
جامعۃ المنتظر میں قیام کے دوران انہوں نے دینی علوم کی تحصیل کے ساتھ اپنی علمی و ادبی استعداد کو بھی پروان چڑھایا۔ وہ 1994 تک اس ادارے میں زیرِ تعلیم رہے اور اس عرصے میں مولوی، عالم اور فاضل کے تعلیمی مراحل طے کیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ادبیات کی طرف بھی خصوصی توجہ دی اور علی گڑھ یونیورسٹی کے متعلقہ امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے ادیب، ادیب ماہر اور ادیب کامل کی اسناد حاصل کیں۔
اس طرح ان کی ابتدائی علمی تربیت دو بنیادی شعبوں، یعنی علومِ دینی اور علومِ ادبی، میں آگے بڑھی۔ عربی و اردو ادبیات سے حاصل ہونے والی واقفیت نے بعد کے زمانے میں ان کی تدریسی، تصنیفی، ترجمہ نگاری اور تحقیقی سرگرمیوں کے لیے مفید بنیاد فراہم کی۔ ان کی علمی زندگی میں دینی علوم اور ادبی ذوق کا یہی امتزاج آگے چل کر مختلف صورتوں میں نمایاں ہوا۔
ایران کی طرف ہجرت: علمی زندگی کا نیا مرحلہ
طلبِ علم کی راہ میں ہجرت محض ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف انتقال نہیں، بلکہ نئے علمی ماحول سے وابستگی، تجربات میں وسعت اور فکر و نظر کے افق کو کشادہ کرنے کا ذریعہ بھی ہوتی ہے۔ سید سبط حیدر زیدی کی زندگی میں ایران کی طرف ہجرت اسی نوعیت کا ایک اہم واقعہ ثابت ہوئی۔
30 جولائی 1994 مطابق ۲۰ صفر ۱۴۱۵ھ، میں انہوں نے اعلیٰ حوزوی تعلیم کے حصول کی غرض سے ہندوستان سے ایران کا سفر کیا۔ ایران پہنچ کر ابتدا میں مقدس شہر قم میں قیام کیا، جہاں تقریباً ایک ماہ گزارا اور مرکزِ جهانی علوم اسلامی میں داخلے سے متعلق امور کی پیروی کی۔
اسی دوران حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کے روضۂ اقدس کی زیارت کے شوق نے انہیں مشہد مقدس کا رخ کرنے پر آمادہ کیا۔ ابتدا میں زیارت کی غرض سے کیا جانے والا یہ سفر بالآخر ان کی تعلیمی اور علمی زندگی کے ایک نئے باب کا پیش خیمہ بن گیا۔
اس زمانے میں قم میں طلبہ کے لیے رہائشی سہولتیں محدود ہونے کے باعث انہیں قیام و اقامت کے سلسلے میں مختلف دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مشہد مقدس پہنچنے اور وہاں کے علمی و حوزوی ماحول سے آشنا ہونے کے بعد سید سبط حیدر زیدی نے اسی شہر کو اپنی آئندہ تعلیمی زندگی اور مستقل قیام کے لیے منتخب کرلیا۔
انہوں نے حوزہ علمیہ سعادت کے داخلہ امتحان میں شرکت کی۔ یہ ادارہ حضرت آیت اللہ مروارید کی سرپرستی میں قائم تھا۔ امتحان میں کامیابی کے بعد ان کے لیے مشہد مقدس میں حوزوی تعلیم جاری رکھنے کی راہ ہموار ہوئی اور یوں مشہد ان کا علمی وطن بن گیا۔
اس مرحلے کے بعد ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ مشہدالرضا علیہ السلام، حوزہ علمیہ خراسان اور آستانِ قدس رضوی سے وابستہ ہوگیا۔ یہی وابستگی آگے چل کر ان کی تدریسی، تحقیقی، تصنیفی، تبلیغی اور ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر جلوہ گر ہوئی۔
حوزہ علمیہ مشہد میں تحصیل و تربیت
ادبیات اور مقدمات: فہمِ متونِ دینی کی بنیاد
مشہد مقدس میں قیام کے بعد مولانا سید سبط حیدر زیدی نے اپنی حوزوی تعلیم کا سلسلہ پوری سنجیدگی اور یکسوئی کے ساتھ جاری رکھا۔ حوزوی نصاب کے ابتدائی مراحل میں انہوں نے عربی زبان و ادب اور علومِ اسلامی کے مقدمات پر توجہ دی۔ اس دوران آیت اللہ شیخ شبیر حسن نجفی اور حجت ہاشمی خراسانی سے استفادہ کیا اور 1994 سے 1996 کے درمیان عربی ادب کے متعدد اہم متون اور حوزوی علوم کے ابتدائی مباحث مکمل کیے۔
اس دور میں زیرِ مطالعہ رہنے والی کتابوں میں ہدایہ، صمدیہ، شرح ابن عقیل، سیوطی، مغنی اور مطول قابلِ ذکر ہیں۔ یہ متون عربی زبان کے قواعد، صرف و نحو، بلاغت اور فہمِ عبارت کی تربیت میں بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
علومِ اسلامی کی تحصیل میں عربی زبان سے گہری واقفیت محض ایک ضمنی ضرورت نہیں، بلکہ قرآن کریم، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ اور علمِ کلام کے متون کو درست طور پر سمجھنے اور ان سے علمی نتائج اخذ کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس اعتبار سے ادبیات و مقدمات کا یہ دور ان کی آئندہ علمی زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔
عربی متون سے حاصل ہونے والی واقفیت اور ادبی تربیت کے اثرات بعد میں ان کی تدریس، ترجمہ نگاری، تصنیف اور تحقیق میں بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی علمی شخصیت کی تشکیل میں یہ مرحلہ اس اعتبار سے اہم تھا کہ اس نے انہیں علومِ اسلامی کے بنیادی متون سے استفادے اور علمی مباحث کے دقیق فہم کے لیے ضروری استعداد فراہم کی۔
دورۂ سطوح: متون کے مطالعے سے فقہی و اصولی استدلال تک
مقدمات کی تکمیل کے بعد حجۃ السلام سید سبط حیدر زیدی نے حوزوی تعلیم کے اگلے مرحلے، یعنی دورۂ سطوح، میں قدم رکھا۔ 1996 سے 2000کے دوران انہوں نے فقہ و اصولِ فقہ کے اہم درسی متون کی تعلیم حاصل کی اور اس مرحلے میں متعدد اساتذہ سے استفادہ کیا۔
انہوں نے مرحوم مظفر کی کتاب اصولِ فقہ استاد انصاری سے، شرح لمعہ آیت اللہ صالحی اور آیت اللہ فقیہ سبزواری سے، رسائل آیت اللہ رضائی سے اور کفایہ آیت اللہ محمدپور بیرجندی سے پڑھی۔
دورۂ سطوح حوزوی تعلیم میں محض درسی کتابوں سے واقفیت حاصل کرنے کا مرحلہ نہیں، بلکہ اس میں طالب علم فقہی و اصولی استدلال کی ساخت، دلائل کے باہمی تعلق، مختلف آرا کے تقابل اور علمی نتائج تک پہنچنے کے طریقوں سے آشنا ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں فقہی مسائل کے استنباط اور اصولی قواعد کے اطلاق سے متعلق وہ علمی استعداد پیدا ہوتی ہے جو آگے چل کر اجتہادی مباحث میں کام آتی ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین سید سبط حیدر زیدی کی علمی تربیت میں بھی اس مرحلے کو خاص اہمیت حاصل رہی۔ فقہ و اصول کے بنیادی متون سے استفادے نے ان کے علمی مطالعے کو استدلالی اور تحلیلی جہت عطا کی اور بعد کے علمی مراحل کے لیے ان کے فہم و نظر کو مزید پختہ کیا۔
درسِ خارج: اجتہادی مباحث اور علمی تحقیق سے وابستگی
مقدمات اور سطوح کے مراحل مکمل کرنے کے بعد حجۃ الاسلام والمسلمین سید سبط حیدر زیدی نے درسِ خارج فقہ و اصول میں شرکت کی۔ حوزہ ہائے علمیہ شیعہ میں درسِ خارج اعلیٰ سطح کی علمی تعلیم کا اہم مرحلہ ہے۔ اس میں طالب علم کسی درسی کتاب کی عبارت تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اساتذہ کے استدلال، مختلف فقہی و اصولی اقوال کے تجزیے، دلائل کی جانچ اور استنباط کے مبانی کے مطالعے کے ذریعے علمی مسائل کی گہرائی تک رسائی حاصل کرتا ہے۔
اس مرحلے میں انہوں نے حوزہ علمیہ مشہد کے مختلف اساتذہ سے استفادہ کیا۔ اصولِ فقہ میں آیت اللہ شیخ حسن مباشری اور آیت اللہ اشرفی کے دروس میں شرکت کی، جب کہ فقہ میں آیاتِ عظام مرتضوی اور رضازادہ سے کسبِ فیض کیا۔
یہ تعلیمی مرحلہ 2000 سے 2010 تک جاری رہا۔ اس طویل مدت میں فقہی و اصولی مباحث سے مسلسل وابستگی نے ان کی علمی تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور ان کے مطالعات کو محض درسی متون کے دائرے سے آگے بڑھا کر دقیق علمی مباحث اور استدلالی تحقیق سے مربوط کیا۔
علمی افق کی وسعت: کلام، رجال اور درایہ
آیت اللہ سید سبط حیدر زیدی کی علمی دلچسپیاں فقہ و اصول تک محدود نہیں رہیں۔ اسلامی عقائد، امامت اور شیعی حدیثی میراث سے ان کی وابستگی نے انہیں علمِ کلام، علمِ رجال اور علمِ درایہ جیسے اہم شعبوں کی طرف بھی متوجہ کیا۔
علمِ کلام میں انہوں نے آیت اللہ شیخ شبیر حسن نجفی، آیت اللہ سید جعفر سیدان اور آیت اللہ سید علی شهرستانی سے استفادہ کیا، جب کہ علمِ رجال و درایہ میں آیت اللہ ربانی بیرجندی سے کسبِ فیض کیا۔
ان علوم سے واقفیت نے ان کے علمی مطالعے کو مختلف جہات میں وسعت دی۔ فقہ و اصول کے ساتھ کلام، رجال اور درایہ کا مطالعہ حدیثی روایات کے فہم، ان کے راویوں کے تعارف، اعتقادی مباحث کے تجزیے اور تاریخی شواہد کی جانچ کے لیے اہم علمی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ان کی بعد کی تصنیفی و تحقیقی سرگرمیوں میں حدیث، کلام، تاریخ، امامت، سیرتِ اہل بیت علیہم السلام اور مذاہبِ اسلامی کے تقابلی مطالعے سے متعلق موضوعات کا تنوع اسی وسیع علمی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے علمی کام کو کسی ایک فن تک محدود کرنے کے بجائے علومِ اسلامی کے باہمی ربط اور بین العلومی مطالعے کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
تدریس، تحقیق اور علمی تربیت
حوزوی روایت میں تحصیلِ علم کا ایک بنیادی مقصد اسے دوسروں تک منتقل کرنا اور آئندہ نسلوں کی علمی تربیت میں حصہ لینا ہے۔حضرت آیت اللہ جناب علامہ سید سبط حیدر زیدی نے بھی اپنی تعلیمی زندگی کے دوران ہی تدریس کا آغاز کردیا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ سرگرمی ان کی علمی زندگی کا ایک مستقل حصہ بن گئی اور انہوں نے مختلف مدارس و علمی مراکز میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
طالب علمی کے زمانے میں ہی انہوں نے مدرسہ علمیہ سعادت میں عربی ادب پڑھانا شروع کیا۔ وہاں ہدایہ، صمدیہ اور مختصر المعانی جیسی درسی کتابوں کی تدریس ان کی ذمہ داریوں میں شامل رہی۔ اس ابتدائی تدریسی تجربے نے انہیں حوزوی نصاب کے اہم متون سے دوبارہ علمی تعلق قائم رکھنے اور انہیں طلبہ تک منتقل کرنے کا موقع فراہم کیا۔
بعد ازاں مدرسہ اہل بیت، مشہد میں اصولِ استنباط اور مختصر المعانی کی تدریس کی۔ اسی طرح 2005 سے 2015 تک حرم مطہر رضوی میں شرح لمعہ پڑھاتے رہے۔
مدرسہ آیت اللہ العظمیٰ خوئی، مشہد میں منطق اور اصولِ فقہ کی تدریس انجام دی، جب کہ مدرسہ علمیہ جعفریہ، مشہد میں منطق اور المراجعات کی تدریس سے بھی وابستہ رہے۔ 2020 سے مشہد میں مقیم ہندوستانیوں کی حسینیہ میں نہج الحق اور شرح باب حادی عشر پڑھانے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔
ان تدریسی سرگرمیوں سے ان کی علمی دلچسپیوں کی وسعت اور مختلف سطحوں پر طلبہ کی علمی تربیت سے ان کی وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ عربی ادب، منطق، اصولِ فقہ، فقہ اور کلام سے متعلق متون کی تدریس نے انہیں مختلف علمی شعبوں کے طلبہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔
تدریس کے علاوہ، 2006 سے انہوں نے جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، شعبہ خراسان میں استادِ داور، علمی رہنما اور مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس ذمہ داری کے تحت انہیں علمی تحقیقات کے جائزے، مقالات اور تھیسز کی رہنمائی، نیز طلبہ اور محققین کی علمی معاونت کا موقع ملا۔
یوں تدریس اور علمی رہنمائی ان کی زندگی میں محض پیشہ ورانہ سرگرمیاں نہیں رہیں، بلکہ علومِ اسلامی کی منتقلی، علمی استعداد کی پرورش اور نئی نسل کو تحقیق کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ بھی بنیں۔
تصنیف، ترجمہ اور تحقیق: قلم کے ذریعے اشاعتِ معارف
حضرت آیت اللہ جناب علامہ سید سبط حیدر زیدی کی علمی خدمات کا ایک اہم پہلو ان کی تصنیفی، تحقیقی اور ترجمہ نگاری کی سرگرمیاں ہیں۔ ان کے علمی کام کا دائرہ اردو، ہندی اور فارسی زبانوں میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کی تصانیف اور تراجم میں سیرتِ اہل بیت علیہم السلام، خصوصاً حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی حیات و تعلیمات، اعتقادی مباحث، مذہبی تاریخ، شیعی ثقافت اور ہندوستانی شیعی علمی روایت سے متعلق موضوعات نمایاں ہیں۔
ان کی تصنیفی سرگرمیوں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ مختلف زبانوں کے قارئین کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے دینی معارف کی ترسیل میں حصہ لیتے رہے ہیں۔ اس طرح ان کا قلم علمی مطالعے اور دینی تبلیغ کے درمیان ایک مؤثر وسیلہ بن کر سامنے آتا ہے۔
حضرت امام علی رضا علیہ السلام اور آستانِ قدس رضوی سے متعلق تصانیف
حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی حیات، سیرت، علمی مقام اور فضائل سے متعلق موضوعات ان کی تصنیفی خدمات میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کی درج ذیل تصانیف اور تراجم قابلِ ذکر ہیں:
۱۔زندگانی امام رضا علیہ السلام — ہندی زبان میں، آستانِ قدس رضوی، مدیریتِ زائرینِ غیرایرانی۔
۲۔ زندگانی امام رضا علیہ السلام — اردو زبان میں، آستانِ قدس رضوی، مدیریتِ زائرینِ غیرایرانی۔
۳۔حضرت امام رضا از دیدگاه اهل سنت — اردو زبان میں، بنیادِ پژوهشهای اسلامی، آستانِ قدس رضوی۔
۴۔کریمہ اہل بیت علیہم السلام — ہندی زبان میں، آستانِ قدس رضوی، مدیریتِ زائرینِ غیرایرانی۔
۵۔ کریمہ اہل بیت علیہم السلام — اردو زبان میں، آستانِ قدس رضوی، مدیریتِ زائرینِ غیرایرانی۔
۶۔ ہشتمین خورشید درخشان — اردو زبان میں، بنیادِ پژوهشهای اسلامی، آستانِ قدس رضوی۔
۷۔ **التاریخ الاسلامی؛ دروس و عبر** — اردو زبان میں، بنیادِ پژوهشهای اسلامی، آستانِ قدس رضوی۔
۸۔ **زیارت امام رضا علیہ السلام از دیدگاه اهل سنت** — اردو زبان میں، بنیادِ پژوهشهای اسلامی، آستانِ قدس رضوی۔
۹۔ **حدیث سلسلۃ الذہب از دیدگاه اهل سنت** — اردو زبان میں، بنیادِ پژوهشهای اسلامی، آستانِ قدس رضوی۔
ان تصانیف و تراجم سے حضرت امام رضا علیہ السلام کی شخصیت، سیرت اور مقامِ علمی و روحانی کو مختلف لسانی حلقوں میں متعارف کرانے سے ان کی دلچسپی کا پتا چلتا ہے۔ بالخصوص اہلِ سنت کے مصادر اور علمی زاویۂ نظر میں امام رضا علیہ السلام کے مقام سے متعلق موضوعات پر ان کی توجہ، مختلف مذہبی حلقوں کے درمیان مشترک علمی ورثے کو نمایاں کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
یہاں سیرت نگاری کے ساتھ ساتھ زیارت، حدیث اور اسلامی تاریخ سے متعلق موضوعات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ ان کے ذریعے رضوی معارف کو محض ایک محدود علمی حلقے تک رکھنے کے بجائے اردو اور ہندی جاننے والے وسیع تر قارئین تک پہنچانے کی کوشش سامنے آتی ہے۔
اعتقادی، کلامی اور شیعی ثقافت سے متعلق آثار
ان کی علمی خدمات کا ایک دوسرا اہم حصہ اعتقادی، کلامی اور مذہبی موضوعات پر مشتمل ہے۔ ان تصانیف میں شیعی عقائد، مذہبی شعور اور برصغیر کے شیعی علمی ورثے سے متعلق موضوعات کو جگہ ملی ہے۔
۱۰۔ **صداقت القاب** — اردو زبان میں، مؤسسہ مؤمل، لکھنؤ، ہندوستان۔
۱۱۔ **حقیقت نماز تراویح** — اردو زبان میں، شریعت کدہ، مؤسسہ نشر و احیائے آثارِ شیعیانِ ہند۔
۱۲۔ **لب الالباب** — اردو زبان میں، شریعت کدہ، مؤسسہ نشر و احیائے آثارِ شیعیانِ ہند۔
۱۳۔ **لمعات الحسین** — اردو زبان میں، شریعت کدہ، مؤسسہ نشر و احیائے آثارِ شیعیانِ ہند۔
ان تصانیف کے علاوہ معاد اور امامت سے متعلق دو مفصل سلسلے بھی ان کی علمی خدمات میں شامل ہیں: **معادشناسی**، دس جلدوں میں، اور **امام شناسی**، اٹھارہ جلدوں میں۔ یہ مجموعے اردو زبان میں شائع ہوئے اور شریعت کدہ، مؤسسہ نشر و احیائے آثارِ شیعیانِ ہند کے زیرِ اہتمام منظرِ عام پر آئے۔
مجموعۂ معادشناسی
۱۴۔ معادشناسی، جلد اول۔
۱۵۔ معادشناسی، جلد دوم۔
۱۶۔ معادشناسی، جلد سوم۔
۱۷۔ معادشناسی، جلد چہارم۔
۱۸۔ معادشناسی، جلد پنجم۔
۱۹۔ معادشناسی، جلد ششم۔
۲۰۔ معادشناسی، جلد ہفتم۔
۲۱۔ معادشناسی، جلد ہشتم۔
۲۲۔ معادشناسی، جلد نہم۔
۲۳۔ معادشناسی، جلد دہم۔
مجموعۂ امام شناسی
۲۴۔ امام شناسی، جلد اول۔
۲۵۔ امام شناسی، جلد دوم۔
۲۶۔ امام شناسی، جلد سوم۔
۲۷۔ امام شناسی، جلد چہارم۔
۲۸۔ امام شناسی، جلد پنجم۔
۲۹۔ امام شناسی، جلد ششم۔
۳۰۔ امام شناسی، جلد ہفتم۔
۳۱۔ امام شناسی، جلد ہشتم۔
۳۲۔ امام شناسی، جلد نہم۔
۳۳۔ امام شناسی، جلد دہم۔
۳۴۔ امام شناسی، جلد یازدہم۔
۳۵۔ امام شناسی، جلد دوازدہم۔
۳۶۔ امام شناسی، جلد سیزدہم۔
۳۷۔ امام شناسی، جلد چهاردہم۔
۳۸۔ امام شناسی، جلد پانزدہم۔
۳۹۔ امام شناسی، جلد شانزدہم۔
۴۰۔ امام شناسی، جلد ہفدہم۔
۴۱۔ امام شناسی، جلد ہجدہم۔
معادشناسی اور امام شناسی کے یہ مجموعے ان کے اعتقادی مطالعات کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان موضوعات کا انتخاب بھی اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان کی علمی سرگرمیوں میں بنیادی اسلامی عقائد، خصوصاً معاد اور امامت، کو نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ ان مجموعوں کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اردو زبان میں اعتقادی معارف کی ترویج اور شیعی علمی سرمایہ کو قارئین تک پہنچانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
علمی و تحقیقی مقالات
کتابوں کی تصنیف اور ترجمہ نگاری کے ساتھ سید سبط حیدر زیدی مختلف علمی، ادبی اور مذہبی موضوعات پر مقالات بھی تحریر کرتے رہے ہیں۔ ان کے مقالات میں سیرتِ اہل بیت علیہم السلام، واقعۂ کربلا، اسلامی عقائد، قرآن و حدیث، مذہبی تاریخ، شعر و ادب اور برصغیر میں شیعی فکر جیسے موضوعات شامل ہیں۔
ان تحریروں کا مطالعہ ان کی علمی دلچسپیوں اور فکری رجحانات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ان کے مقالات کا ایک حصہ اردو زبان میں ہے، جب کہ متعدد تحریریں فارسی علمی جرائد میں بھی شائع ہوئی ہیں۔
اردو مقالات
ان کے اردو مقالات میں درج ذیل عنوانات قابلِ ذکر ہیں:
حضرت امام رضا اور حکومت اسلامی
حضرت زہرا اور بیداری اسلامی
واقعۂ کربلا میں حقائق اور تحریفات
ممدوح و مذموم شعراء
- مقام رسالت اور ہنرِ شعر
کربلا رمز بقائے دین خدا
کربلا اور قرآن کریم
کربلا اور اصلاح معاشرہ
سیدالفصحاء سے نفی شاعری
قرآن و سیرت نبوی کی بنیاد مخالفین
قرآن کریم کی تفسیر کے اصول
سورج پھر بھی مشرق ہی سے نکلے گا
زیارت کے اهداف و آثار
روز مادر
ان میں سے متعدد مقالات مجلة والعصر، پیام رأفت، مجلہ بزم رأفت اور انجمن شعر و ادب سے متعلق اشاعتی سلسلوں میں شائع ہوئے ہیں۔
ان عنوانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی اردو تحریروں کا دائرہ محض مذہبی معلومات کی ترسیل تک محدود نہیں، بلکہ ان میں تاریخی واقعات کی تفہیم، دینی اقدار کی توضیح، قرآنی معارف، سیرتِ نبوی، واقعۂ کربلا اور ادبی روایت جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔
فارسی مقالات
فارسی زبان میں شائع ہونے والے ان کے مقالات میں درج ذیل عنوانات نمایاں ہیں:
گرایش شیعیان هند به مسلک اصولی — مجلہ سفیر، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ۔
غفران مآب — مجلہ سفیر، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ۔
عصمت پیامبر اعظم در نزد معاصرین آن حضرت — مجلہ سفیر، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ۔
سیری در کتاب عبقات الانوار — مجلہ رہ پویان ولایت۔
نابغه متکلمین — مجلہ سفیر، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ۔
یہ مقالات تاریخِ تشیع، برصغیر کے شیعی علمی رجحانات، علمِ کلام، عصمتِ نبوی اور شیعی علمی میراث جیسے موضوعات سے ان کی دلچسپی کو نمایاں کرتے ہیں۔ بالخصوص ہندوستان میں مکتبِ اصولی کے رجحان اور کتاب عبقات الانوار سے متعلق مطالعات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ ان کی تحقیق میں برصغیر کی شیعی علمی تاریخ کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔
آستانِ قدس رضوی میں خدمات
سید سبط حیدر زیدی کی تبلیغی و ثقافتی سرگرمیوں کا ایک نمایاں میدان آستانِ قدس رضوی کے شعبۂ زائرینِ غیرایرانی سے ان کی طویل وابستگی ہے۔ اس مرکز سے تعلق نے انہیں بالخصوص اردو اور ہندی زبان بولنے والے زائرین کے درمیان معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی ترویج کا موقع فراہم کیا۔
دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق، انہوں نے ۱۳۷۵ش سے خطیب و واعظ کی حیثیت سے، ۱۳۹۰ش سے مترجم کی حیثیت سے اور ۱۳۹۵ش سے اردو زبان کے علمی و تبلیغی شعبے میں خدمات انجام دیں۔ اسی عرصے سے وہ امامتِ جماعت کی ذمہ داری بھی ادا کرتے رہے۔
ان خدمات کے ذریعے انہیں مختلف علاقوں اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے زائرین کے ساتھ براہِ راست رابطے کا موقع ملا۔ اس میدان میں ان کی حوزوی تعلیم، اردو و ہندی زبانوں سے واقفیت اور تبلیغی تجربے نے باہم مل کر کام کیا۔
غیرایرانی زائرین کے لیے خطابت، ترجمہ اور دینی رہنمائی محض انتظامی یا ابلاغی امور نہیں، بلکہ مختلف معاشروں سے آنے والے افراد تک اسلامی معارف پہنچانے کے اہم ذرائع ہیں۔ اس اعتبار سے آستانِ قدس رضوی میں ان کی سرگرمیوں کو معارفِ رضوی اور ثقافتِ اہل بیت علیہم السلام کی بین الثقافتی ترسیل کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ان کی رضوی موضوعات پر تصانیف اور تراجم بھی اسی وابستگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ یوں آستانِ قدس رضوی سے ان کا تعلق علمی مطالعے، تصنیف، خطابت، ترجمانی اور زائرین کی دینی رہنمائی، ان تمام جہات کو محیط رہا۔
جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ سے وابستگی
جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، واحد خراسان، سے تعلق بھی سید سبط حیدر زیدی کی علمی و تدریسی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے۔ انہوں نے ۱۳۸۶ش سے اس ادارے میں استادِ داور، علمی رہنما اور مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
یہ ادارہ مختلف ممالک اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی دینی و علمی تربیت کے لیے معروف ہے۔ ایسے ماحول میں ان کی علمی و لسانی استعداد خصوصی افادیت رکھتی تھی، کیونکہ ان کے تجربات میں ایک طرف حوزہ علمیہ مشہد کی علمی روایت شامل تھی اور دوسری طرف برصغیر ہند کے مذہبی، لسانی اور ثقافتی ماحول سے گہری واقفیت بھی موجود تھی۔
علمی رہنمائی اور مشاورت کی ذمہ داریوں نے انہیں تدریس سے آگے بڑھ کر طلبہ کی تحقیقی سرگرمیوں، علمی تحریروں اور تعلیمی مراحل میں معاونت کا موقع فراہم کیا۔ اس طرح جامعۃ المصطفیٰ سے ان کی وابستگی ان کی تدریسی و تحقیقی خدمات کے دائرے میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔
ہندوستان میں شیعی علمی و ثقافتی میراث کی خدمت
ایران میں طویل قیام اور علمی سرگرمیوں کے باوجود سید سبط حیدر زیدی کا ہندوستانی شیعی معاشرے سے تعلق برقرار رہا۔ ان کی تصنیفی، تحقیقی اور ادارہ جاتی سرگرمیوں میں برصغیر کے شیعی علمی ورثے کی اشاعت و احیا کو بھی اہم مقام حاصل ہے۔
۱۳۸۲ش سے انہوں نے شریعت کدہ، مؤسسہ نشر و احیائے آثارِ شیعیانِ ہند کی مدیریت سنبھالی۔ یہ ادارہ شیرکوٹ، ضلع بجنور، اترپردیش، ہندوستان میں سرگرم ہے اور ہندوستانی شیعی آثار کی اشاعت و احیا کے کام سے وابستہ ہے۔
اس ادارے سے ان کی وابستگی کو ان کی علمی دلچسپیوں کے ایک اہم عملی اظہار کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ہندوستانی شیعی معاشرے کی مذہبی روایت، علمی شخصیات، اعتقادی مباحث اور تاریخی آثار سے متعلق موضوعات ان کی تحریروں اور تحقیقات میں بھی جگہ پاتے ہیں۔
اسی طرح ۱۳۸۵ش سے ۱۳۹۵ش تک انہوں نے مدرسہ علمیہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، منصور نگر، لکھنؤ کی مدیریت کے فرائض انجام دیے۔ اس ذمہ داری کے ذریعے انہیں ہندوستان میں دینی تعلیم کے ادارہ جاتی نظام اور طالبات کی علمی تربیت سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا۔
ان خدمات سے واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان سے ان کا تعلق محض جائے پیدائش یا خاندانی پس منظر تک محدود نہیں رہا، بلکہ ایران میں علمی تربیت کے بعد بھی وہ اپنے وطن کے شیعی معاشرے کے تعلیمی، ثقافتی اور تحقیقی امور سے وابستہ رہے۔ ان کی سرگرمیوں میں یہ وابستگی تصنیف، اشاعت، تدریس اور علمی آثار کے تحفظ و احیا کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
شعر و ادب سے تعلق
سید سبط حیدر زیدی کی علمی شخصیت کا ایک پہلو شعر و ادب سے ان کی وابستگی بھی ہے۔ دینی معارف کی ترویج میں ادبی وسائل سے استفادہ ان کی ثقافتی سرگرمیوں کا حصہ رہا ہے۔ بزم رأفت اور انجمن شعر و ادب کی مدیریت، نیز ۱۳۸۶ش سے ۱۳۹۵ش تک پیام رأفت سے وابستہ انتظامی و ادبی خدمات، اس دلچسپی کی عکاسی کرتی ہیں۔
ممدوح و مذموم شعراء، مقام رسالت اور ہنرِ شعر، اور سیدالفصحاء سے نفی شاعری جیسے مقالات بھی اس تناظر میں قابلِ مطالعہ ہیں۔ ان عنوانات سے مذہبی فکر اور ادبی اظہار کے باہمی تعلق میں ان کی دلچسپی کا پتا چلتا ہے۔
اسلامی تہذیب میں شعر و ادب نے عقائد، اخلاق، سیرت، تاریخی واقعات اور مذہبی احساسات کی ترسیل میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ اہل بیت علیہم السلام کی مدح، فضائل، مصائب اور سیرت سے متعلق ادبی روایت بھی اسی وسیع تہذیبی سرمایہ کا حصہ ہے۔ اس اعتبار سے ادبی سرگرمیوں کو ان کی علمی و تبلیغی خدمات سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا؛ بلکہ یہ دونوں میدان ایک دوسرے کی تکمیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
زبان و ثقافت: علمی مراکز اور معاشرے کے درمیان رابطہ
سید سبط حیدر زیدی کی علمی زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت مختلف زبانوں اور ثقافتی ماحول میں ان کی فعالیت ہے۔ انہیں ایک طرف عربی زبان میں محفوظ علومِ اسلامی کے بنیادی متون سے واقفیت حاصل ہے، دوسری طرف انہوں نے حوزہ علمیہ مشہد کے فارسی علمی ماحول میں اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی، جب کہ اردو اور ہندی میں تصنیف، ترجمہ، تدریس اور تبلیغ کے میدان میں بھی سرگرم رہے۔
یہ لسانی تنوع ان کی علمی سرگرمیوں کو مختلف قارئین اور مخاطبین تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوا۔ عربی علمی روایت سے استفادہ، فارسی علمی ماحول میں تربیت اور اردو و ہندی میں دینی معارف کی ترسیل، ان کی علمی زندگی کے باہم مربوط پہلو ہیں۔
برصغیر ہند میں اردو اور ہندی کو مذہبی و ثقافتی معارف کی اشاعت میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ چنانچہ ان زبانوں میں تصنیف و ترجمہ کے ذریعے علمی مواد کو مقامی قارئین تک پہنچانا محض لسانی خدمت نہیں، بلکہ علمی روایت کی منتقلی اور مذہبی شناخت کے تحفظ میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔
ان کی سرگرمیوں کو اس زاویے سے دیکھا جائے تو وہ ایران کے حوزوی علمی مراکز اور ہندوستانی شیعی معاشرے کے درمیان ایک علمی و ثقافتی رابطے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے کام میں اس رابطے کا اظہار تصنیف، ترجمہ، تدریس، خطابت اور ہندوستانی شیعی آثار کی اشاعت و احیا کے ذریعے ہوتا ہے۔
بین الاقوامی تبلیغ اور بین المذاہب مکالمہ
سید سبط حیدر زیدی کی تبلیغی سرگرمیاں ایران اور ہندوستان تک محدود نہیں رہیں۔ دستیاب سوانحی معلومات کے مطابق، انہوں نے مختلف ممالک میں سفر کرکے اسلام اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی تبلیغ و تبیین میں حصہ لیا۔ بالخصوص محرم و صفر کے ایام میں، جب مختلف معاشروں میں عزاداریِ سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں، انہیں مختلف ثقافتی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے افراد سے رابطے کے مواقع میسر آئے۔
ان سرگرمیوں کے دوران انہوں نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد اور خاندانوں سے گفتگو کی اور مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کے اعتقادی و فکری مباحث پیش کیے۔ ان کی تبلیغی سرگرمیوں سے متعلق روایات اور بیانات کے مطابق، بعض افراد اور خاندان ان روابط کے ذریعے شیعی معارف سے متعارف ہوئے اور مذہبِ شیعہ اثناعشری کی طرف مائل ہوئے۔
مختلف مذاہب کے علما اور پیروکاروں کے ساتھ ان کے علمی مباحث اور مناظرات بھی ان سرگرمیوں کا حصہ رہے ہیں۔ یہ مکالمے بالمشافہ ملاقاتوں کے علاوہ مجازی ذرائع سے بھی جاری رہے۔
علمی مکالمے کی افادیت صرف کسی نظریے کی ترجمانی تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ذریعے مختلف فکری پس منظر رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے کے دلائل، علمی روایت اور مذہبی تصورات سمجھنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اس تناظر میں ان کی تبلیغی سرگرمیوں کو ان کی تدریسی، تحقیقی اور لسانی صلاحیتوں کے عملی استعمال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
حوزہ اور معاشرے کے درمیان علمی و عملی سفر
سید سبط حیدر زیدی کی مجموعی علمی و ثقافتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو ان کے سفرِ حیات میں چار بنیادی جہات نمایاں ہوتی ہیں۔
**اول: تحصیلِ علم اور علمی تربیت۔** ہندوستان کے دینی مدارس سے حوزہ علمیہ مشہد تک کا سفر، اور فقہ، اصولِ فقہ، کلام، رجال اور درایہ کے اساتذہ سے استفادہ، ان کی علمی شخصیت کی بنیادی تشکیل کا حصہ ہے۔
**دوم: تدریس اور علمی رہنمائی۔** مختلف حوزوی متون کی تدریس، طلبہ کی تربیت اور استادِ داور، علمی رہنما اور مشیر کی حیثیت سے خدمات ان کی زندگی کا مستقل پہلو ہیں۔
**سوم: تصنیف، ترجمہ اور تحقیق۔** اردو، ہندی اور فارسی میں علمی آثار کی تصنیف و ترجمہ، اعتقادی و کلامی موضوعات پر مطالعہ، اور تاریخی، مذہبی و ثقافتی مسائل پر مقالات کی تحریر ان کی علمی سرگرمیوں کا نمایاں حصہ ہے۔
**چہارم: تبلیغ اور ثقافتی خدمت۔** آستانِ قدس رضوی میں خدمات، خطابت، ترجمانی، غیرایرانی زائرین کی دینی رہنمائی اور ایران و ہندوستان کے علمی و ثقافتی اداروں سے وابستگی ان کی عملی و تبلیغی زندگی کے اہم پہلو ہیں۔
یہ چاروں جہات ایک دوسرے سے الگ تھلگ نہیں، بلکہ ایک مربوط علمی سفر کی مختلف منزلیں ہیں۔ تحصیلِ علم نے تدریس اور تحقیق کی بنیاد فراہم کی؛ تدریس و تحقیق نے تصنیف و ترجمہ کو تقویت دی؛ اور ان تمام سرگرمیوں نے مل کر تبلیغ و ثقافتی خدمت کے میدان میں ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع پیدا کیا۔
علمی و ثقافتی شخصیت: متعدد روایتوں کا سنگم
آیت اللہ سید سبط حیدر زیدی کی زندگی اور علمی خدمات کا مجموعی مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی شخصیت مختلف علمی و ثقافتی روایتوں کے امتزاج سے تشکیل پائی ہے۔ برصغیر ہند کی دینی و تہذیبی روایت، حوزہ علمیہ خراسان کا علمی ماحول، اردو و ہندی زبانوں کا ثقافتی دائرہ، فارسی علمی روایت اور عربی میں محفوظ علومِ اسلامی کا سرمایہ، یہ سب ان کی علمی زندگی کے مختلف مگر باہم مربوط عناصر ہیں۔
وہ برصغیر کی دینی و ثقافتی روایت سے وابستہ خاندان کے فرد ہیں، لیکن ان کی علمی زندگی کا ایک بڑا حصہ حوزہ علمیہ مشہد میں گزرا۔ انہوں نے فقہ، اصول اور کلام کے درسی متون سے استفادہ کیا اور حدیث، رجال، تاریخ اور تقابلی مطالعات سے متعلق موضوعات میں بھی دلچسپی لی۔ اسی طرح وہ تدریس و تحقیق کے ساتھ منبر، خطابت، ترجمہ اور غیرایرانی زائرین کی رہنمائی کے میدانوں میں بھی سرگرم رہے۔
اس لیے ان کی علمی شخصیت کو صرف تعلیمی اسناد، تدریسی مناصب یا تصانیف کی فہرست تک محدود کرکے سمجھنا کافی نہیں۔ ان کی خدمات کو ایران اور برصغیر کے درمیان قائم علمی و ثقافتی روابط کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے۔ ان کی زندگی میں ایک طرف حوزوی روایت سے استفادہ اور دوسری طرف اسی علمی سرمایہ کو برصغیر کے قارئین و سامعین تک پہنچانے کی کوشش نمایاں ہے۔
یہی وہ پہلو ہے جو ان کی علمی سرگرمیوں کو ایک وسیع تر معنویت عطا کرتا ہے۔ ایک عالمِ دین کی ذمہ داری صرف علم حاصل کرنے اور اسے درس گاہ تک محدود رکھنے سے پوری نہیں ہوتی، بلکہ علمی میراث کی حفاظت، معاشرے کی دینی ضروریات کا جواب، نئی نسل کی تربیت اور مذہبی و ثقافتی شناخت کے تحفظ میں بھی اس کا حصہ ہوتا ہے۔ سید سبط حیدر زیدی کی علمی و ثقافتی سرگرمیوں کو اسی وسیع تر تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔
اختتامِ سخن
آیت اللہ سید سبط حیدر زیدی کی زندگی تحصیلِ علم، علمی ممارست، تدریس، تحقیق اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی ترویج سے عبارت ہے۔ ان کا علمی سفر شیرکوٹ کے ایک دینی و سیادت مآب گھرانے سے شروع ہوا، جامعۃ المنتظر، مرادآباد میں باقاعدہ دینی تعلیم کے ساتھ آگے بڑھا، اور ایران کی طرف ہجرت کے بعد حوزہ علمیہ مشہد میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔
فقہ، اصولِ فقہ، کلام، رجال اور درایہ کے اساتذہ سے استفادے نے ان کے علمی مطالعے کو وسعت دی۔ تدریس اور علمی رہنمائی کے ذریعے انہوں نے اپنے حاصل کردہ علم کو طلبہ تک پہنچایا، جب کہ تصنیف، ترجمہ اور تحقیق کے ذریعے اردو، ہندی اور فارسی زبانوں میں دینی و علمی موضوعات پر اپنا حصہ ادا کیا۔ خطابت، تبلیغ اور ثقافتی سرگرمیوں نے ان کی علمی زندگی کو درس گاہوں اور تحقیقی مراکز سے آگے بڑھا کر معاشرتی سطح پر بھی مؤثر بنایا۔
ان کی علمی و تبلیغی زندگی میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے روضۂ اقدس اور آستانِ قدس رضوی سے وابستگی کو خاص اہمیت حاصل رہی۔ امام رضا علیہ السلام کی سیرت، فضائل، زیارت اور حدیثی میراث سے متعلق ان کی متعدد تصانیف و تراجم اسی تعلق کی عکاسی کرتے ہیں۔ غیرایرانی زائرین کی رہنمائی، اردو میں خطابت اور ترجمانی کے ذریعے بھی انہوں نے معارفِ رضوی کو مختلف لسانی و ثقافتی پس منظر رکھنے والے مخاطبین تک پہنچانے میں حصہ لیا۔
دوسری جانب، ہندوستانی شیعی معاشرے سے ان کا تعلق بھی مسلسل برقرار رہا۔ شریعت کدہ کے ذریعے شیعی آثار کی اشاعت و احیا، لکھنؤ میں دینی تعلیمی ادارے کی مدیریت، اور برصغیر کی شیعی علمی روایت سے متعلق تحریری و تحقیقی سرگرمیاں اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ ایران کی طرف ہجرت نے ان کے ہندوستانی علمی و ثقافتی ورثے سے تعلق کو ختم نہیں کیا، بلکہ اسے ایک نئی علمی اور ادارہ جاتی صورت عطا کی۔
ان کی علمی شخصیت میں تین عناصر بالخصوص نمایاں ہیں: سیادت و دیانت کی خاندانی روایت، حوزوی تعلیم و علمی ممارست، اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کی ذمہ داری۔ ان عناصر نے ان کی زندگی کے مختلف شعبوں کو ایک مشترک مقصد سے وابستہ رکھا۔
ان کے علمی سفر کی جامع تصویر یوں پیش کی جا سکتی ہے: شیرکوٹ سے مرادآباد، مرادآباد سے مشہد، حوزوی درس گاہوں سے تحقیقی و تصنیفی سرگرمیوں تک، اور آستانِ قدس رضوی سے ہندوستانی شیعی علمی و ثقافتی مراکز تک، ان کی زندگی کے مختلف مراحل ایک دوسرے سے مربوط دکھائی دیتے ہیں۔ اس سفر کا مرکزی محور علومِ اسلامی سے وابستگی، علمی میراث کی منتقلی اور معارفِ اہل بیت علیہم السلام کی حفاظت، تبیین اور اشاعت ہے۔
یوں سید سبط حیدر زیدی کی علمی و ثقافتی خدمات کو ایک ایسے مسلسل عمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس میں تحصیل و تحقیق، تدریس و تصنیف اور تبلیغ و ثقافتی خدمت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا یہی پہلو ان کے علمی تعارف کو محض ایک فرد کی سوانح سے آگے بڑھا کر برصغیر اور ایران کے درمیان علمی و ثقافتی روابط کی ایک قابلِ مطالعہ مثال بناتا ہے۔






.jpg)
.jpg)
.jpg)
بزم رأفت