مجله پیام رافت شماره 6 و 7 (حصہ نثر)
غدیر کی اہمیت و عظمت
مقالہ نگار:سید محمد حسن رضوی(الہ آبادی)
حجة الوداع
پیغمبر اسلامۖ نے ١٠ ھ میں لوگوں کے درمیان یہ اعلان کرایا کہ سب لوگ حج بیت اللہ کی زیارت کے لئے آمادہ ہوجائیں۔لوگوں کی ایک بڑی جماعت گروہ در گروہ مدینہ پہنچ گئی۔ حضورۖ اکرم بھی اس میں شامل ہوگئے۔رسولۖ خدا نے نہ تو اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کوئی حج انجام نہیں دیاہے،یعنی یہ آپ کا پہلا اور آخری حج تھا اور اس حج کو تاریخ میں:''حجة الوداع''،''حجة الاسلام''،''حجة البلاغ''، ''حجة الکمال'' اور''حجة التمام'' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بعض تواریخ کے مطابق سر کار دو عالمۖ نے سنیچر کے دن ٢٣ یا ٢٤ ذیقعدہ کو احرام کے دو ٹکڑوں کو زیب تن فرمایا اور احرام باندھنے کے لئے مدینہ کے نزدیک ،''مسجد شجرہ'' تک آئے، پھر مدینہ سے پا پیادہ باہر آئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ اللہ کے گھر کی زیارت کی غرض سے چل پڑے اور اس سفر میں مہاجرین و انصار کے علاوہ دیگر علاقہ کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔
بعض کتب میں ملتا ہے کہ اس زمانہ میں ٹائیفائڈ اور چیچک وغیرہ کی بیمار ی پھیلی ہوئی تھی،اسی وجہ سے بہت سے لوگ اس قافلہ میں شریک نہیں تھے۔لیکن اس کے باوجود ایک بڑی جماعت پیغمبرۖ اکرم کے ساتھ حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہوگئی،جس کی تعداد کے بارے میں علمائے تاریخ کے نزدیک اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ ٩٠ہزار یا ایک لاکھ چوبیس ہزار یا اس سے زیادہ کی تعداد میں مسلمان پیغمبرۖ اکرم کے ہمراہ اس سفر کیلئے روانہ ہوئے،جس کی صحیح تعداد سے خدا ہی واقف ہے۔لیکن آپ کے ساتھ حج کو انجام دینے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔اس لئے کہ خود مدینہ سے ٨٠ ہزار افراد نے موسم حج میں شرکت کی تھی۔(منزلت غدیر٢٠) مکہ اور یمن کے لوگ ،جو ابو موسیٰ اور حضرت علی کی سر براہی میں آئے تھے سارے مسلمان سرکار دوعالمۖ سے جاملے۔ چنانچہ آپ صبح کے وقت''یلملم''پہنچے،جہاں سے احکام اسلام کے مطابق یمن والے احرام باندھتے ہیں ۔
سرکار دوعالمۖ غروب کے وقت''شرف الیبالہ''میں تھے،لہٰذا مغربین کی نماز وہیں پڑھی۔دوسرے دن صبح کی نماز''عرق ظبید''میں پڑھی اس کے بعد''روحائ''نامی مقام پر پڑاؤ ڈالا۔پھر وہاں سے کوچ کرکے نماز عصر''منصرف''میں اور مغربین''متعشیٰ''میں بجا لائے اور وہیں رات میں کھانا کھا کر آرام کیا اور پھر دوسرے دن صبح کی نماز کو''اثابہ''میں ادا کی،یہاں تک کہ اگلے دن بروز سہ شنبہ کو''عرج''نامی مقام پر پہنچے۔اس کے بعد''الحی الحمل''نامی مقام پر حجامت کروائی اور مقام''سقیا''پر قیام کیا۔
اگلے دن یعنی پنجشنبہ کو صبح کی نماز ''ابوائ'' نامی مقام پر بجا لائے۔یہی وہ مقام ہے، جہاں آپ کی والدۂ ماجدہ حضرت آمنہ کی قبر ہے الغرض وہاں سے جمعہ کے دن ''جحفہ'' اور وہاں سے'''قریہ'' پہنچے اور شنبہ کو وہاں پر قیام فرمایا یکشنبہ کو''عسفان'' پہنچے اور''غمیم''کی طرف کوچ کرگئے۔
واضح رہے کہ یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں لوگوں نے شکایت کی کہ یا رسول ۖاللہ!ہم تھک گئے ہیں۔پیغمبرۖ نے فرمایا:دوڑنے کا سہارا لو،جب لوگوں نے ایسا کیا تو تھکن بالکل کافور ہوگئی اور تمام لوگوں میں دوبارہ تازگی آگئی۔آخر کار اللہ کے رسول بروز سہ شنبہ مکہ میں وارد ہوئے اور اعمال حج انجام دیئے اور حج پورا کرنے کے بعد مدینہ سے لوٹتے ہوئے، تمام مسلمانوں اور حجاج کے ساتھ ١٨ذی الحجہ کو مقام''جحفہ'' پر پہنچے، جہاں سے مدینہ، مصر وعراق اور دیگر ممالک کے راستے جد اہوتے تھے۔
اسی مقام پر جبرئیل امین ،اللہ کے پیغام کو لے کر نازل ہوئے اور پیغام خدائے عزوجل کو آیت کی صورت میں پہنچایا:
''یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ ِنَّ اﷲَ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ''
اے رسولۖ وہ پیغام پہنچا دو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوچکا ہے اور اگر آپ نے یہ کام نہیں کیا تو گویا رسالت ہی انجام نہیں دیا۔ تمہارا خدا تمہیں لوگوں کے شر سے بچائے گا۔بیشک خدا کافروں کی ہدایت نہیں کرتا۔
وا ضح رہے کہ یہ آیت حضرت علی کی شا ن میں نا زل ہو ئی ہے اور وا قعہ غدیر سے متعلق ہے ۔جن صحا بہ کرام سے یہ روایت نقل کی گئی ہے ان میں زید بن ارقم ،ابو سعید حذری،ابن عبا س جا بر ابن عبدا للہ انصا ری ، ابو ہریرہ اور برا ء بن عا زب شا مل ہیں ۔
(١) فخر را زی نے اپنی تفسیر ج١٢ص٤٢میں ابن عبا س ، برا ء بن عا زب اور اما م محمد با قر سے روا یت کو نقل کیا ہے ۔
(٢)ابن کثیر دمشقی روا یت کرتے ہیں۔ (بدا یہ و نھا یہ ابن کثیر ج٥ص١٨٣،١٨٩)
(٣) شیخ محمد عبدہ اپنی تفسیر میں آیت بلا غ کے ذیل میں ابی سعید حذری سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت غدیر خم کے دن علی ابن ابی طالب کی شا ن میں نا زل ہو ئی ہے وہ مسند احمد سے برا ء بن عا زب و برید سے اس طرح تر مذی و نسا ئی و ضیا ء کے ذریعہ زید بن ارقم سے اور ابن ما جہ کے ذریعہ برا ء سے نقل کرتے ہیں کہ حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ رسو ل خدا نے ارشا د فر ما ئی تھی ،اس حدیث میں اللھم وا ل من والاہ و عاد من عاد اہ کا بھی ذکر ہے ۔ (تفسیر المنا ر ج٦ص٤٦٣،٤٦٥)
(٤) علا مہ سیو طی الد رالمنثو ر میں آیت شریفہ ابلا غ کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ ابو سعید حذری نے کہا یہ آیت حضرت علی کی شا ن میں غدیر خم میں نا زل ہو ئی ، ابن مر دو یہ ابن مسعو د سے نقل کرتے ہیں کہ انھو ں نے کہا کہ ہم رسو ل خدا کے زما نہ میں اس آیت کو یو ں پڑھتے تھے یا یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ(تفسیر در المنثور ج٢ ص٢٩٨)
پھر جبرئیل نے کہا :اے اللہ کے رسول خدا کا فرمان ہے کہ علی کا تعارف امام اورولی کے عنوان سے کرائیں اور اعلان کردیں کہ علی کی اطاعت تمام لوگوں پر واجب ہے اور پھر اس کے فوراً بعد پیغمبرۖ اکرم نے اعلان کیا کہ جو آگے بڑھ گئے ہیں وہ پیچھے آجائیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کا انتظار کیا جائے۔ اس طرح سے پیغمبرۖ کے حکم سے مجمع ایک جگہ پر جمع ہوگیا،جس کو غدیر خم کے نام سے جانا جاتا ہے۔
رسولۖ اکر م نے اونٹوں کے کجاوؤں کا منبر تیار کیا اور جب یہ سارا انتظام مکمل ہوچکا ،یہاں تک کہ ظہر کا وقت آپہنچا تو بلال نے اذان کہی اور سرکار ختمی مرتبتۖ اپنی جا نماز کی طرف بڑھے، اپنا مصلیٰ درست کرکے نماز شروع کردی اور ختم نماز کے بعد حبیب الٰہی نے حیرت سے مجمع کی طرف نگاہ کی اور اس کے بعد ایک انوکھے اور تاریخی منبر کی طرف رخ کرنے سے پہلے یادگار انبیاء صحف آدم ونوح وابراہیم علی نبینا وعلیہم السلام، تورات،انجیل ، اعصائے موسیٰ وانگشتر سلیمان علی نبینا اورباقی تمام انبیاء کی میراث، جس کے محافظ سرکار دوعالمۖ۔حضورۖ نے علی کو بلایا اور انبیائے ماسبق کی میراث کو علی کے سپرد کیا جو آپ کے بعد گیارہ ائمہ تک منتقل ہوتی رہی۔گویا پیغمبرۖ اکرم مجمع کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انبیائے کی میراث اس کے وصی کو ہی ملتی ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملتی ۔
اب میرا ایک سوال ان لوگوں سے ہے جو غدیر کے بعد حضرت علی کی خلافت کے منکر ہوگئے،آیا وہ لوگ مسئلہ میراث سے واقف نہیں تھے؟اگر وہ میراث کے رموز اور شرائط سے واقف تھے تو پھر علی کی خلافت میں انکار کیسا؟کیا انہوں نے گذشتہ انبیاء کی میراث کو مد نظر نہ رکھا کہ میراث انبیاء میں جہاں ساری چیزیں، اس کے وصی کو ملتی ہیں وہیں جانشینی بھی ملتی ہے ۔پس اگر لوگ علی کی ولایت وخلافت کے منکر ہوگئے گویا وہ لوگ انبیاء کے بھی منکر ہوگئے اس لئے کہ جہاں پر وصی کو انبیاء نے جس میراث سے نوازا ہے،اس میں مسئلہ خلافت بھی ہے یعنی میرے بعد تم ہی وصی ہوگے۔لہٰذا اگر ایک علی میں سارے انبیاء کی وراثت منتقل ہوجائے تو بدرجہ اولیٰ خلافت کے حقدار حضرت علی ہی قرار پائیں گے اس لئے کہ ہر نبی کو اللہ نے اس کے زمانہ میں معجزہ دے کر بھیجا اور کتابیں دیں،نیز اس نبی کے ایک وصی کا انتظام کیا،جو تبلیغ دین میں نبی کی مدد کرے پس علی وہ ہیں ،جن کو پیغمبرۖ اکرم نے صحفِ آدم و نوح وابراہیم اور آسمانی کتابوںسے نوازا ۔
اس قول پر دلیل یہ ہے کہ پیغمبرۖ اکرم کے اس جملہ میں جو حرف''ف'' موجود ہے وہ عربی ادب کے قواعد کے مطابق ترتیب اور فوراً بعد کے لئے آتا ہے۔ایسی صورت میں اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ میں جس کا مولا ہوں،پس بلا فاصلہ علی اس کے مولا ہیں۔لیکن اگر(ف)کی جگہ پر ثم کو پیغمبرۖ اکرم اپنے جملہ میں لائے ہوتے یعنی''من کنت مولاہ ثم ھذا علی مولاہ'' اس جملہ کا انداز یہ بتا رہا ہے کہ میں جس کا مولا ہوں علی اس کے مولا ہیں چاہے جب بھی ہوں۔ پس اس خلافت میں فاصلہ ہے اس لئے کہ حرف ثم ترتیب اور مہلت کے لئے استعمال ہوتا ہے، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ علی کی خلافت بلا فصل ہے اور قابل غور بات یہ ہے کہ ہمارے عقیدہ کے مطابق حدیث''من کنت مولاہ فعلی مولاہ ''لفظ مولا سے مراد علی کی امامت ورہبری و خلافت ہے۔ اہل سنت علماء نے لکھا ہے کہ چونکہ مولا کے مختلف معنی ہیںلہٰذا اس حدیث میں مولا حکومت، ولایت اور رہبری کے معنی میں نہیں آیا ہے بلکہ دوست اور ناصر کے معنی میں آیا ہے۔
ابن صباغ لکھتے ہیں :''من کنت ناصرہ او حمیمہ وصدیقہ فان علیاً یکون کذالک''جس کا میں ناصر، رشتہ دار اور دوست ہوں اس کا علی بھی ناصر ودوست،رشتہ دار ہے۔(الفصول المھمہ،ص٤٣)
کیا حدیث کا اس طرح معنی کرنا درست ہے؟
اہلسنت کے مشہور عالم نے اس موضوع کے ساتھ انصاف سے کام لیا ہے۔وہ'' الست اولیٰ بالمومنین من انفسھم''کے قرینہ کو مد نظر رکھتے ہوئے حدیث غدیر میں موجود کلمہ مولا کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :''ھذا نص صریح فی اثبات امامتہ وقبول طاعتہ''علی کی امامت کے اثبات اور قبول اطاعت کے لئے یہ نص صریح ہے۔(تذکرة الخواص ابن جوزی حنفی،ص٢٠)
درج بالا مقدمہ کو مد نظر رکھتے ہوئے حدیث غدیر میں موجود لفظ مولا سے جو پیغمبر اکرمۖ کی مراد ہے وہ پوری طرح واضح ہے ۔
اور اس سلسلہ میں دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت علی سے تمام مومنین کی دوستی کوئی مخفی اور پیچیدہ چیز نہ تھی کہ جس کے لئے اس قدر تاکید اور بیان کی ضرورت ہوتی،اور اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس بے آب وگیاہ اور جلتے ہوئے بیابات میں اس عظیم قافلہ کو دوپہر کی دھوپ میں روک کر ایک طویل ومفصل خطبہ دیا جائے اور سب لوگوں سے اسی دوستی کا اقرار لیا جائے۔جبکہ قرآن مجید نے پہلے ہی وضاحت کے ساتھ یہ اعلان فرما دیاہے :'' ِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ ِخْوَة''(حجرات١٠)ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:''وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ َوْلِیَائُ بَعْضٍ''(توبہ٧١)
خلاصہ یہ کہ اسلامی اخوت اور مسلمانوں کی ایک دوسرے سے دوستی اسلام کے سب سے واضح مسائل میں سے ہے جو پیغمبر اکرمۖ کے زمانہ سے چلی آرہی ہے،اور خود آنحضرتۖ نے ا س بات کو بارہا فرمایا ہے اور اس مسئلہ میں تاکید فرمائی ہے ،اور یہ کوئی ایسا مسئلہ نہ تھا جس سے آیت کا لب ولہجہ اس قدر شدید ہوجاتا،اور پیغمبر اکرمۖ اس راز کے فاش ہونے سے کوئی خطرہ محسوس کرتے(غور کیجئے)
تیسری دلیل یہ ہے کہ خدا وند عالم قرآن مجید میں تاکید کے ساتھ فرماتا ہے :''اگر اس امر کو لوگوں تک نہ پہنچایا تو گویا کار رسالت انجام نہیں دیا۔''یہ تاکید ولہجہ ثابت کرتا ہے کہ آیت کسی فرعی اور جزئی حکم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ مسئلہ بہت اہم ہے یعنی رسول خداۖ کی جانشینی اور خلافت کا مسئلہ درپیش ہے لہٰذا مولا کے معنی یہاں صاحب اختیار اور امیرامام ہے تاکہ سارے مسلمان اس بات سے آگاہ ہوجائیں کہ بعد از پیغمبر اسلامۖ جانشین کون ہے۔جانشین کے تعین کا حکم اگر چہ کافی پہلے حضور اکرمۖ پر نازل ہوچکا تھا مگر اس کے ابلاغ کا دقیق وقت معین نہ ہوا تھا، چونکہ بعض نئے مسلمانوں کے کچھ کافر رشتہ دار حضرت علی کے ہاتھوں جنگوں میں فی النار ہوگئے تھے اسی بناء پر حضور اکرمۖ کو علی کی امامت کے اعلان پر کسی شدید رد عمل کا خدشہ تھااسی لئے خداوند عالم نے فرمایا:''وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ'' خدا تمہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
چوتھی دلیل رسول خداۖ نے حدیث''من کنت مولاہ''سے پہلے فرمایا:''الست اولیٰ بالمومنین من انفسھم'' کیا میں تم پر تمہارے نفسوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں سب نے حضور اکرمۖ کی تصدیق کی اس کے بعد حضورۖ نے فرمایا:''من کنت مولاہ فعلی مولاہ'' پہلے جملہ سے یہ قرینہ ملتا ہے کہ یہاں پر مولا کے معنی صاحب اختیار ہیں۔
پانچویں دلیل رسول خدا ۖنے جب حضرت علی کی ولایت کا اعلان فرمایا تو اس کے بعد مسلمانوں نے کہا:''سلموا علیہ بامرہ المومنین''۔(بحار الانوار،ج٣٧،ص١٤١۔تفسیر قمی،ج١،ص٢٧٧)
اگر حضورۖ مولا سے مراد دوست لیتے تو فرماتے کہ علی کو بعنوان اظہار دوستی سلام کرو،اسی طرح حضرت ابو بکر اور عمر کا یہ قول''اصبحت مولای ومولا کل مومن ومومنہ'' حضرت علی کی ولایت وامامت پر دلالت کرتا ہے۔
چھٹی دلیل امامت علی کے ابلاغ کے بعد رسول خداۖ نے دست دعا بلند کرکے فرمایا:اللھم وال من والاہ وعاد من عاداہ۔
ساتویں دلیل مولا کے جتنے بھی معنی بیان ہوئے ہیں ان میں اولیٰ بالتصرف اور صاحب اختیار حقیقی معنی میں ہیںباقی سب مجازی ہیںجوکہ قرینہ کے محتاج ہیں۔یہ بات واضح ہے کہ حقیقی معنی ہمیشہ مجازی معنی پر مقدم ہوتا ہے۔لہٰذا حدیث غدیر میں لفظ'' مولا'' صاحب اختیار اور اولیٰ بالتصرف کے لئے آیا ہے۔
آٹھویں دلیل حسان ابن ثابت نے غدیر خم میں پیغمبر ۖخداکے سامنے جو قصیدہ پڑھا اس میں حضرت علی کو بعنوان امام ورہبر تعارف کرایا گیا ہے۔تو اگر یہ معنی مراد نہ ہوتے تو رسول ۖخدا اسے منع فرمادیتے۔علاوہ از این عرب کے شعراء نے''من کنت مولاہ'' میں جو مولا آیا ہے اسے امامت وولایت اور حکومت کے طور پر اپنے اشعار میں پیش کیا ہے نہ کہ دوست و مددگار کے معنی میں۔
حضرت علی کے بارے میں حضرت محمدۖ کی دیگر احادیث بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ مولا بمعنی صاحب اختیار اور رہبر کے ہیں۔
''علی منی وانا منہ''علی مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔''علی مع الحق والحق معہ''علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے۔''علی مع القرآن والقرآن معہ''علی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی کے ساتھ ہے۔''انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی''میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوںکتاب خدا اور عترت،اہلبیت ۔
نویں دلیل لوگ اس حدیث غدیر سے امامت ورہبری ہی سمجھے نہ کہ دوستی اور نصرت۔لہٰذا جب غدیر خم کا واقعہ دوسرے شہروں میں پہنچا تو نعمان بن حارث فہری یہ واقعہ سن کر یہی سمجھا کہ رسول ۖ خدا نے علی کو اپنا جانشین منسوب کردیا ہے لہٰذا وہ فوراً مدینہ آیا اور اس نے نبی اکرمۖ سے کہا:''آپ نے ہمیںوحدانیت خدا کا حکم دیا ہم نے آپ کی تصدیق کی ،آپ نے اپنی رسالت کا حکم دیا ہم نے اس کی تصدیق کی،آپ نے نماز ،روزہ،حج ،جہاد اور زکوٰة کا حکم دیا ہم نے سب قبول کرلیا۔آپ اس کے باوجود راضی نہ ہوئے اور اس(حضرت علی کی طرف اشارہ کیا)کو اپنا جانشین منسوب کردیا۔کیا یہ حکم آپ نے خدا کی جانب سے دیا ہے یا اپنی طرف سے دیا ہے۔رسولۖ نے فرمایا:اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے یہ حکم خدا کی طرف سے ہے۔نعمان نے کہا:''اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارة من السمائ''خداوند عالم اگر یہ بات سچ ہے تو آسمان سے مجھ پر پتھر گرادے۔وہ یہ بات کہہ کر ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ ناگہاں آسمان سے اس پر ایک پتھر گرا اور وہ ہلاک ہوگیا۔اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی''سأل سائل بعذاب واقع للکافرین لیس لہ دافع''(معارج١)''ایک سوال کرنے والے نے خدا سے اپنے عذاب کا سوال کیاجو کافروں کے لئے واقع ہوتا رہتا ہے اور اس کو دفع کرنے والا کوئی نہیں ہوسکتا ۔
لہٰذاان تمام اعترافات کے بعد ولایت علی کا انکار در اصل اسلام اور قرآن کا انکار ہے اور عالم اسلام مساجد میں اس کا اعلان کرے یا نہ کرے منزل ایمان میں اس کا اقرار کرنا اسلام وایمان کا فرض ہے۔ جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
پھر آپۖ نے فرمایا:''ایھا الناس اجیبو داعی الی اللّٰہ انا رسول''
''اے لوگوں خدا وند عالم کی طرف دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرو میں اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں۔''کہہ کر آپۖ نے حمد وثنائے پروردگار کی اور ایک فصیح وبلیغ خطبہ ارشاد فرمایا اور پھر مولائے متقیان کو بلند کرنے کے بعد فرمایا:''ان اللّٰہ مولای وانا مولیٰ المومنین و انا اولیٰ بھم من انفسھم فمن کنت مولاہ فھذا علی مولاہ''۔
''بیشک خدا میرا مولا ہے اور میں مومنین کا مولا ہوںاور میں ان کے نفسوں پر ان سے زیادہ اولیٰ ہوں۔پس میں جس کا مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں۔''
واضح رہے کہ تاریخ نگار کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمۖ نے اس جملہ کو تین بار دہرایا ہے اور پھر حضور نے اپنا خاص عمامہ حضرت سرکار ولایت مآب علی ابن ابی طالب علیہم السلام کے سر پر باندھا اور ارشاد فرمایا:''یا علی العمامة تیجان العرب''''اے علی عمامہ عرب کا تاج ہے۔''اسی وجہ سے نور الابصار کے مصنف علامہ شیخ محمد شبلنجی تحریر کرتے ہیں کہ حضور اکرمۖ کا ایک لقب تاج ولایت بھی تھا اور اس کی توضیح کرتے ہوئے مصنف مذکور لکھتے ہیں کہ تاج سے مراد عمامہ ہے کیونکہ اس کی سند حضرت رسول خداۖ کی حدیث سے ملتی ہے کہ حضور ۖ نے جو عمامہ حضرت علی کے سر پر لگایا تھا اس کا نام ''سحاب'' تھا۔(نور الابصار،ص٣٠ مطبوعہ بیروت١٩٧٨ئ)
تاج گذاری کے بعد آنحضرتۖ نے فرمایا:''اے علی ذرا پیچھے تو مڑو''علی نے رسول اکرمۖ کے حکم کی تعمیل کی پھر ارشاد ہوا:''اب میری طرف رخ کرلو''امامت کے چاند نے اپنا چہرہ آفتاب رسالت کی طرف موڑ لیا۔رسول اکرمۖ نے محبت بھرے انداز میں علی کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور پھر حضورۖنے خلوص سے سجے ہوئے لہجے میں فرمایا:''ھکذا تکون تیجان الملائکة''ملائکہ کے تاج بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔(کنز العمال،علی متقی ہندی، ج١٥، ص٤٨٣، ح٤١٩١٣، طبع بیروت)
لوگوں کے متفرق ہونے سے پہلے جبرئیل امین نے خدا کے پیغام کو حضورۖ کی خدمت میں پیش کردیا:
''الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی''
اس کے بعد لوگوں نے امیر المومنین حضرت علی کو مبارکباد پیش کی۔ ابو بکر وعمر،ان پہلے صحابہ میں سے تھے،جنہوں نے حضرت علی کو ان الفاظ میں مبارکباد پیش کی:''بخ ٍ بخ ٍ لک یابن ابی طالب اصبحت وامسیت مولای ومولا کل مومن ومومنةٍ''''مبارک ہو مبارک ہو اے فرزند ابو طالب آپ نے ایسی حالت میں صبح وشام کی کہ میرے اور تمام مومنین ومومنات کے مولا ہوگئے۔''
(الغدیر،ج١،ص١٠۔تفسیرمجمع البیان،ج٣،ص٢٢٣۔تفسیرالمنار،ج٦،ص٤٦٣۔تفسیردر المنثور،ج٢،ص٢٩٨ ۔تفسیرفخررازی،ج١٢،ص٤٢۔مستدرک حاکم،ج٣،ص١١٨۔الفصول المھمہ،ص٤٠ـ٤٣۔سیرۂ حلبی،ج٣،ص٣٣٦ ۔مناقب ابن مغازلی،ص١٦ـ١٧۔بدایةونہایةابن کثیر،ج٥،ص١٨٤۔ارشادمفید،ج١،ص١٧٥۔بحارالانوار، ج٣٧، ص١٨٤۔الفصول المأہ،ج٢،فصل٢٧۔)
آخر میں حافظ عبد اللہ مر زبانی(متوفی٣٧٨)مرقات الشعر میں صحابی رسول ابو سعید خدری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب سرکار دوعالم ولی عہدی کا اعلان فرما چکے تو حسان ابن ثابت نے عرض کی کہ''اے خدا کے رسول ۖمیں علی کی مدح میں چند شعر پیش کرنا چاہتا ہوں ''نبی کریمۖ نے فرمایا:''ہاں! پڑھو اجازت ہے''حسان نے شعر سنانا شروع کردیا مطلع تھا:
ینادیھم یوم الغدیر نبیھم
بخم واسمع بالرسول منادیا
شاعر دربار رسالت کی یہ برفی البدیہ نظم٣٨ مستند اور معتبر علمی ذرائع سے ہم تک پہنچی ہے اور آخر میں حسان ابن ثابت کہتے ہیں:
فقال لہ قم یا علی فاننی
رضیتک من بعدی اماما وھادیا
فمن کنت مولاہ فھذا ولیہ
فکونوالہ انصار صدق موالیا
ترجمہ:پھر رسول ۖ مقبول نے فرمایا:اے علی ! اٹھو میں نے اپنے بعد کے زمانہ کے لئے تمہیں امت کا امام اور ملت کا راہنما بنایا ہے۔لہٰذا جس کا میں حاکم ہوں یہ علی بھی اس کا فرمان روا ہے۔لوگو!تم سب علی کے سچے حامی اور تابع دار رہنا۔(کفایة الطالب محمد بن یوسف کنجی الشافعی،١٧) اور پھر آخر میں رسول خداۖ نے حسان کے حق میں دعا فرمائی کہ جب تک تم اپنی زبان سے ہماری مدح کرتے رہوگے روح القدس تمہاری مدد کرتے رہیں گے۔(ارشاد مفید،ج١،ص١٧٧۔فرائد السبطین،ج١، ص٧٣،ح٣٩٩۔امالی الصدوق مجلس٨٤،ج٣)۔
غدیر کے دن متعدد واقعات کا رونما ہونا
سال کے دنوں میں سے جو بھی دن غدیر سے مقارن ہوا اس دن عالم خلقت اور عالم تکوین وکائنات میں متعدد واقعات رونما ہوئے،جس طرح انبیاء نے بھی اس دن اپنے اہم پروگرام انجام دیئے ہیں یہ اس اہمیت کے مد نظر ہے جو حضرت امیر المومنین نے اس دن کو بخشی ہے اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تاریخ عالم میں اس سے اہم کوئی واقعہ رونما نہیں ہواہے جس وجہ سے یہ کوشش کی گئی ہے کہ تمام واقعات اس سے مقارن ہوں اور اس مبارک دن میں برکت طلب کی جائے۔
انبیاء علیہم السلام کی تاریخ کے حساس ایام
(١)غدیر وہ دن ہے جس دن حضرت آدم کی توبہ قبول ہوئی ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢١٢)
(٢)غدیر حضرت آدم کے فرزند اور ان کے وصی حضرت شیث کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢٠٩)
(٣)غدیر حضرت ابراھیم کے لئے آتش نمرودکے گلزار بننے کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢١٢۔٢٢٢)
(٤)غدیر وہ دن ہے جس دن حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون کو اپنا جانشین معین فرمایا۔ (عوالم،ج١٥٣،ص٢١٣)
(٥)غدیر حضرت ادریس کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢٠٩)
(٦)غدیر حضرت موسیٰ کے وصی حضرت یوشع بن نون کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢١٢)
(٧)غدیر حضرت عیسیٰ کے وصی شمعون کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢٠٩۔٢١٣)
مندرجہ بالا بعض موارد میں کچھ ایام مبھم طور پر ذکر ہوئے ہیں اور اس دن کے واقعات بیان نہیں کئے گئے ہیں یہ حدیث کے پیش نظر ہے اور اس سے مراد احتمالاً ان کا مبعوث با رسالت ہونا ہے یا ان کے وصی و جانشین منسوب ہونے کا دن ہے۔اہلبیت کی ولایت کا مقام مخلوقات کے سامنے پیش کرنا جس طرح غدیر کے دن''ولایت''تمام انسانوں کے لئے پیش کی گئی اسی طرح عالم خلقت میں تمام مخلوقات پر بھی پیش کی گئی ہے۔حضرت امام رضا ایک حدیث میں غدیر کے روز ان امور کے واقع ہونے کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:ولایت کا اہل آسمان کے لئے پیش ہونا،ساتویں آسمان والوں کا اسے قبول کرنے میں سبقت کرنا اور اس کے ذریعہ عرش الٰہی کا مزین ہونا۔ ساتویں والوں کے بعد چوتھے آسمان والوں کا ولایت قبول کرنا اور اس کا بیت مامور سے سجایا جانا۔چوتھے آسمان کے بعد پہلے آسمان والوں کا ولایت قبول کرنا اور اس کا ستاروں سے سجایا جانا۔زمین کے بقعوں پر ولایت کا پیش کیا جانا اس کو قبول کرنے کے لئے مکہ کا سبقت کرنا اور اس کو کعبہ سے زینت دینا۔ مکہ کے بعد مدینہ کا ولایت قبول کرنا اور اس(مدینہ) کو پیغمبرۖ اکرم سے مزین کرنا۔ مدینہ کے بعد کوفہ کا ولایت قبول کرنا اور اس کو امیر المومنین کے وجود مبارک سے مزین کرنا۔پہاڑوں پر ولایت پیش کرنا، سب سے پہلے تین پہاڑ:عقیق ، فیروزہ اور یاقوت کا ولایت قبول کرنا،اسی لئے یہ تمام جواہرات سے افضل ہیں،عقیق، فیروزہ اور یاقوت کے بعد سونے اور چاندی کی(معادن)کان کا ولایت قبول کرنا،اور جن پہاڑوں نے ولایت قبول نہیں کی ان پر کوئی چیز نہیں اگتی ہے یعنی ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
پانی پر ولایت پیش کرنا، جس پانی نے ولایت قبول کی وہ میٹھا اور گوارا ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہ تلخ(کڑوا) اور کھارا(نمکین)ہے۔
نباتات پر ولایت پیش کرنا،جس نے قبول کی وہ میٹھا اور خوش مزہ ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہ تلخ ہے۔
پرندوں پر ولایت پیش کرنا،جس نے قبول کیا اس کی آواز بہت اچھی اور وہ فصیح بولتا ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہ الگن(اس کی زبان میں لکنت ہے،ہکلا ہے)ہے۔
اور اس کے ساتھ ساتھ ایک عجیب اتفاق یہ ہے کہ خداوند عالم کے الطاف میں سے ایک لطف عظیم ہے کہ عثمان ١٧ذی الحجہ کو قتل ہوا اور لوگوں نے خلافت غصب ہونے کے ٢٥ سال بعد حضرت علی کے ہاتھوں پر بیعت کی اور دوسری مرتبہ آپ کی ظاہری خلافت روز غدیر سے مقارن ہوتی ہے۔(اثبات الہدایت،ج٢، ص ١٩٨،بحار الانوار،ج١٣،ص٤٩٣)
آسمانوں میں جشن غدیر
آسمانوں میں جشن غدیر متعارف ہے اور اس دن جشن منایا جاتا ہے ہم اس سلسلہ میں چار احادیث نقل کرتے ہیں۔
غدیر،عہدو معہود کا دن
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:عید غدیر کو آسمانوں میں عہد ومعہود کا دن کہا جاتا ہے۔غدیر آسمان والوں پر ولایت پیش کرنے کا دن ہے۔حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:خداوندعالم نے آسمان والوں پر غدیر کے دن ولایت پیش کی تو ساتویں آسمان والوں نے اس کے قبول کرنے میں دوسرے سے سبقت کی اسی وجہ سے خداوند عالم نے ساتویں آسمان کو اپنے عرش سے مزین فرمایا۔اس کے بعد چوتھے آسمان والوں نے غدیر کو قبول کرنے میں دوسروں سے سبقت لی تو خدا وند عالم نے اس کو بیت مامور سے مزین فرمایا۔اس کے بعد پہلے آسمان والوں نے اس کو قبول کرنے میں دوسروں سے سبقت لی تو خدا وند عالم نے اس کو ستاروں سے مزین فرمایا۔
جشن غدیر میں ملائکہ
حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:غدیر کا دن وہ دن ہے کہ جس دن خدا وند عالم جبرائیل امین کو بیت مامور کے سامنے اپنی کرامت کی تختی نصب کرنے کا حکم صادر فرماتا ہے۔اس کے بعد جبرائیل اس کے پاس جاتے ہیں اور تمام آسمانوں کے ملائکہ وہاں جمع ہوکر پیغمبرۖ اکرم کی مدح وثنا کرتے ہیں اور امیر المومنین اور ائمہ علیہم السلام اور ان کے شیعوں اور دوستداروں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔
جشن غدیر شہزادیٔ کائنات کا نچھاور
حضرت امام رضا(ع)اپنے پدر بزرگ امام موسیٰ ابن جعفر علیہم السلام سے وہ اپنے جد حضرت امام جعفر صادق سے نقل فرماتے ہیں کہ روز غدیر زمین والوں سے زیادہ آسمان والوں میں مشہور ہے۔
خداوند عالم نے جنت میں ایک قصر(محل)خلق فرمایا ہے جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ہے،جس میں ایک لاکھ کمرے سرخ رنگ کے اور ایک لاکھ خیمہ سبز رنگ کے ہیں اور اس کی خاک مشک وعنبر سے ہے اس محل میں چار نہریں جاری ہیں:ایک نہر شراب کی ہے دوسری پانی کی ہے،تیسری دودھ کی ہے اور چوتھی شہد کی ہے ان نہروں کے کناروں پر مختلف قسم کے پھلوں کے درخت ہیں، ان درختوں پر وہ پرندے ہیں جن کے بدن لولو کے ہیںاور ان کے پر یاقوت کے ہیں اور مختلف آوازوں میں گاتے ہیں۔
جب غدیر کا دن آتا ہے تو آسمان والے اس قصر میں آتے ہیں تسبیح وتہلیل وتقدیس کرتے ہیںوہ پرندے بھی اڑتے ہیں اپنے کو پانی میں ڈبوتے ہیں اس کے بعد مشک وعنبر سے لوٹتے ہیں،جب ملائکہ جمع ہوتے ہیں تو وہ پرندے دوبارہ ملائکہ پر مشک وعنبر چھڑکتے ہیں ،ایک دوسرے کو ہدیہ دیتے ہیں ،غدیر کے دن فاطمہ زہراۖ کی نچھاور کے دن کا اختتام ہوتا ہے تو ندا آتی ہے اپنے اپنے درجات ومراتب پر پلٹ جاؤ کہ تم محمد وعلی علیہم السلام کے احترام کی وجہ سے اگلے سال آج کے دن تک ہر طرح کی لغزش اور خطرہ سے امان میں رہوگے۔
آخر میں خدا وند کریم سے یہ دعا کرتا ہوں کہ خدایا! ہمیں واقعہ غدیر کی صحیح معرفت عنایت فرما اور توفیق فرما کہ غدیر کے حقیقی پیغام کو دنیا میں نشر کرسکیں۔
منابع ومآخذ
١۔قرآن کریم،٢۔تفسیر المنار،٣۔تفسیر در المنثور،٤۔تفسیر فخر رازی،٥۔تفسیر قمی،٦۔بدایہ ونھایہ،٧۔معجم البلدان، ٨۔الفصول المھمہ،٩۔تذکرة الخواص،١٠۔نور الابصار،١١۔کنز العمال،١٢۔مستدرک حاکم،١٣۔سیرۂ حلبی،١٤۔مناقب ابن مغازلی،١٥۔ارشاد مفید،١٦۔بحار الانوار،١٧۔الفصول مأہ،١٨۔فرائد السبطین،١٩۔امالی الصدوق،٢٠۔عوالم۔
بزم رأفت