ماه محرم ماه پیروزی خون بر شمشیر
'' عالم خواب میں محتشم اپنے آقا ومولا حضرت علی علیہ السلام کی زیارت کے شرف سے مشرف ہوئے تو مولا نے فرمایا :حسین علیہ السلام کے لیے مرثیہ کیوں نہیں کہتے ہو ؟
عرض کی :یا امیر المومنین ! حضرت امام حسین علیہ السلام کے مصائب بے حد ہیں اس لیے نقطئہ آغاز نہیں مل پارہا اور متحیر ہوں کہ کس مصیبت سے شروع کروں؟مولا نے فرمایا ؛ کہو
باز این چہ شورش است کہ در خلق عالم است
محتشم خواب سے بیدار ہوئے تو اسی کادوسرامصرع کہہ رہے تھے کہ
' باز این چہ نوحہ و چہ عزا و چہ ماتم است
یہ دو مصرعے ( ایک بیت ) محتشم کے بارہ بندوں پر مشتمل مرثیہ کا مطلع ٹھرے . یہ خوش قسمت شاعر اپنے آقا و مولا کی ھدایت کے مطابق اس عظیم دینی خدمت میں مشغول تھا کہ اسی تسلسل میں ایک مصرعہ کہا :
ھست از ملال گرچہ بری ذات ذوالجلال
اور پھر بیت ہونے کیلیے اس کے دوسرے مصرعے میں حیران و پریشان ہوگیا کہ ایسا کیا مصرع کہا جائے و مقام ذوالجلال کے سزاوار ہو ، حتی ٰ کہ حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف وسلام اللہ علیہ کی جانب سے دستیگیری نصیب ہوتی ہے اور خواب میں محتشم کو امر ہوتا ہے کہ اس مصرع کا ثانی یہ کہے :
''اودر دل است و ھیچ دلی نیست بی ملال ''
پس بیدار ہوئے اور بیت مکمل کرلیا .
( کشکول احمد قاضی زاھدی ص ٢٤٢)
بزم رأفت