بسم اللہ الرحمن الرحیم

زیر سر پرستی حضرت بقیة اللہ الاعظم صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف

مجلس ادارت

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا الفت حسین جویاصاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا تحریر علی  نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا حسن عسکری نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط محمد رضوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا فیروز رضا نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا محمد حسین بہشتی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانانیر عباس رضوی صاحب

کمپوزنگ و ڈزائننگ:  ادارہ

نوٹ:  بزم رأفت ایک ایسا ادارہ ہے جو مفت خدمت کرنے پر فخر کرتا ہے لہذا کوئی صاحب بھی اس ادارہ کے نام پر کسی کے ساتھ بھی مالی تعاون نہ فرمائیں۔

پیام رأفت

سال ٣ ۔ شمارہ ٤ـ٥

محرم  الحرام سے شعبان المعظم تک  ١٤٣١ھ

صاحب امتیاز:

بزم رأفت

انجمن شعر و ادب اردو زبان

مدیر

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولاناسبط حیدر زیدی صاحب

معاونین

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانامجاہد حسین نقوی صاحب

حجة الاسلام  جناب مولانااکبر حسین جعفری صاحب

حجة الاسلام  جناب مولاناجابر علی انصاری  صاحب

حجة الاسلام  جناب مولاناعارف حسین صاحب

جناب مولاناسیدسجاد حسین اطہرکاظمی صاحب

جناب مولاناحافظ غضنفر عباس صاحب

Web: www.urdu.blogfa.com  E-mail : alhaq110@yahoo.co.in 

Tel : 0098-511-2563085 Mob: 09359750753

فہرست مطالب

ردیف                         اثر                                                 صاحب اثر                       صفحہ

١                             - اداریہ           ( مصداق ذبح عظیم           ( مدیر                          ٣

٢ - دشت کربلا کا عظیم ترین سیاح                        جناب سبط حیدر زید ی صاحب           ٨

٣ - آئینہ شعرو ادب ،عکس کربلا وحسین             جناب سجاد اطہر کاظمی صاحب           ٣٤

٤ -تاریخ مجالس حضرت امام حسین                  جناب حسن عسکری نقوی صاحب         ٨١

٥ -  حصہ نظم                                بزم رأفت کی محافل سے اقتباس                          ١١٣

٦ – جشن غدیر                                                شعراء  بزم رأفت                               ١١٤

٧-  جشن نورین                                               شعراء  بزم رأفت                               ١٢٤

٨ - جشن میلاد کوثر                                        شعراء  بزم رأفت                                ١٢٨

٩ - جشن مولود کعبہ                                       شعراء  بزم رأفت                                ١٣١

١٠ - جشن عشق و وفا و صبر                        شعراء  بزم رأفت                                    ١٣٤

١١ - جشن محفل نور                                    شعراء  بزم رأفت                                  ١٣٨

١٢ - ذبح عظیم سیمنار کی مختصر رپورٹ               ادارہ                                            ١٤١

١٣ -  تنویر غدیر سیمنار                                         ادارہ                                          ١٤٤

١٤ - رؤف مولا نے اپنے قدموں میں کیا سجائی ہے بزم رأفت     ادارہ                              ١٤٥

١٥ - بزم رأفت تصویر کے آئینہ میں                                        ادارہ                              ١٤٧

 

باسم رب الشہدائ

اداریہ

مصداق ذبح عظیم

وفدیناہ بذبح عظیم وترکنا علیہ فی الآخرین  (صافات ، آیت١٠٦ـ١٠٧)

ذبح بکسر ذال، ذبح بفتح ذال کا حاصل مصدرہے کہ جو ذبیح و مذبوح جیسے قتیل و مقتول کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی عظیم قربانی ۔

 ٦١ھ میں فرات کے ساحل اور کربلا کی سرزمین پر تین دن کا بھوکا پیاسا ایک قافلہ اعلائے کلمہ حق کی پاداش میں تہ پیغ کردیا گیا ، قاتل مسرور کہ ایک عظیم معرکہ سرکرلیا لیکن اس سے بے خبر کا معمار کعبہ خلیل خدا حضرت ابراہیم کے خواب نے صدیوں کے بعد وہ تعبیر آج پائی ہے کہ جس کا اشارہ قرآن کریم میں موجود ہے شاید ذبح عظیم کی سند ١٠ ذی الحجہ کو جناب اسماعیل کے نام درج ہوچکی ہوتی لیکن مشیت کو یہ منظور نہیں تھا کہ اس راہ میں پیش کی جانے والی قربانیوں میں سے کسی ایسی قربانی کو عظیم کہا جائے جس میںقدرت کا اشارہ پانے کے باوجود عمل میں پہلے شمہ برابر بھی بے یقینی کی کیفیت پائی جائے اور اس میں کسی طرح کے پس و پیش ، غور و فکر اور تردد کی گنجائش موجود رہ جائے اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ آزمائش کی کڑی گھڑیوں میں جناب ابراہیم پورے اترے انہوں نے اپنے سینے میں ایک باپ کا دردمند دل دھڑکتے رہنے کے باوجود خوشنودی معبود میں اپنے عزیز ترین فرزند جناب اسماعیل کے گلوئے مبارک پر اپنے ہاتھوں سے چھری رکھ دی ، اپنے خواب کو سچ کردکھا یا ۔

محسنین کی فہرست میں آپ کا نام نامی امتیازی حیثیت کا حامل قرار پایا ، یقینا اس امتحان سے اس استقامت کے ساتھ گذر جانا خلیل اللہ ہی کا کام تھا ، قدرت نے بھی اس عمل کی بہت قدر فرمائی اور تا قیام قیامت اس کی یاد گار کو قائم فرماکر اپنے دوست کو اجرعظیم سے نوازا ۔مگر ذبح عظیم کے لقب سے نوازنے کے لیے قدرت کو ایسے نفس مطمئنہ کا انتظار تھا جو مشیت کا اشارہ پاتے ہی بطیب خاطر کبھی اپنے بھائیوں کو تیغوں کے حوالے کردے، کبھی اپنے بھتیجوں کو قتل گاہ کی نذر کردے کبھی اپنے بھانجوں کی جان کا نذرانہ پیش کردے ، کبھی اپنے جوان فرزند کے سینے کو برچھی کی انی کے سامنے کردے اور کبھی اپنے کمسن بچے کے حلقوم کو تیر سہ شعبہ کے حوالے کردے اور اس کے بعد بھی جب جذبہ قربانی کی پیاس نہ بجھے تو اپنے گلوئے خشک کو بے رحم قاتل کے خنجر کی دھار سے ملادے ۔ نگاہ قدرت دیکھ رہی تھی کہ ایسا حوصلہ رکھنے والی شخصیت اس کے حبیب خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی کے گھر میں جلوہ گر ہونے والی ہے وہ گھرانا کہ جو تمام فضائل و کمالات کی آماجگاہ تھا ۔ اشاعت حق کے سلسلے میں انبیاء کرام کی قربانیاں بہت زیادہ ہیں تاریخ انبیاء  کا ورق ورق خونچکاں ہے ان قربانیوں میں جناب یحی کی قربانی دل خراش قربانی بھی ہے لیکن کسی قربانی کو ''ذبح عظیم '' کی سند نہیں ملی ، یہ امتیاز تو مخصوص ہو کررہ گیا تھا آخرین میں سے اس شہید اعظم کے لیے جس کی قربانی بجاطور پر'' مصداق ذبح عظیم '' تھی جو نواسہ ٔ  محمد مصطفی دلبند علی مرتضی جگر گوشہ فاطمہ زہرا تھا جسے اہل عرفان سید الشہداء کے مناسب ترین لقب سے یاد کرتے ہیں      جس سورما کا اسم گرامی حسین ہے ۔

مصداق ذبح عظیم، حسین ابن علی یہ وہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جو نہ فقط تفاسیر و احادیث بلکہ دنیائے ادب میں بھی روز روشن کی طرح واضح ہے جیسا کہ شاعر مشرق زمین یگانہ روزگار علامہ اقبال نے منظوم فرمایا ۔

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر

معنی  ذبح عظیم  آمد پسر

مصداق ذبح عظیم، حسین ابن علی ، معبود کی بارگاہ میں پیش کی جانے والی منفرد قربانی ہے جس کی عملی مثال کا تو کیا سوال ماضی و مستقبل میں کسی ایسی دوسری قربانی کا تصور بھی ناممکنات میں سے ہے، جب یہ ذبح عظیم تاریخ قربانی کا ایک یگانہ و یکتا کارنامہ ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ احسانات کا بہترین بدلہ دینے والی ذات احدیت نے اس قربانی کے سلسلے میں کیا کیا ؟سنت الٰہی میں تبدیلی نہیں ہوتی لہذا جب اس کی یہ سنت رہی ہے کہ اس کے لیے خلیل اللہ اگر اپنے بیٹے کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار ہوجائیں تو عید قربان کی شکل میں ان کی قربانی کی یاد کو بقا عطا کی جائے اور اس قربانی کے سلسلے میں باعتبار نسبت جس چیز کی جتنی قربت ہو اس کی یاد کو بھی اتنی ہی اہمیت کے ساتھ باقی رکھا جائے ، وہ دن جس دن جناب ابراہیم نے قربانی پیش کی ، وہ جگہ جہاں قربانی پیش کی ، ان سب کو امت مسلمہ کے لیے یادگار کی شکل دیدی گئی یہاں تک کہ اگر جناب اسماعیل کے لیے دنبہ آیا تو اس ایک قربانی کی یاد میں کروڑوں قربانیاں ہوگئیں اور ہوتی رہیں گی تو جب اس کمترین کا قربانی کا یہ صلہ ہے تو عظیم قربانی کا قدرت نے کیا صلہ دیا ؟

اگر واقعۂ کربلا قبل از نزول قرآن ہواہوتا تو اس خونین داستان کا گواہ قرآن کریم کا ہر پارہ ہوتا مگریہ واقعہ سلسلہ ٔ وحی ختم ہونے کے بعد ظہور پذیر ہوا لیکن پھر بھی رطب و یابس کا احاطہ کیے قرآن اس واقعہ کے ذکر سے خالی نہیں ، حقیقی مفسرین قرآن صاحبان عصمت نے واقعہ کربلا سے نسبت رکھنے والی آیات کی نشاندہی فرمادی ہے ، انہیں واقف رموز و اسرار الہٰی ہستیوں نے بشمولیت حضرت خاتم الانبیاء اپنی احادیث میں امام حسین  اور ان کی قربانی کو غیر معمولی اہمیت دی ہے ۔ یہاں تک کہ کربلا کے کشتگان ظلم و ستم پر رونے رلانے کے بے انتہا فضائل بیان فرمائے ہیں جن سے عظمت قربانی حسین کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بات پوشیدہ نہیں رہتی کہ معبود نے امام حسین کو کیا کچھ نہیں عنایت فرمایا۔

یہ ہم سے نہ پوچھیے بلکہ واقعہ کربلا سے لیکر اب تک کے حالات کا تجزیہ خود بتائے گا کہ حسین و حسینیت کو معبود کی کتنی زبردست پشت پناہی حاصل ہے ، دنیا میں ابھر نے والے انقلابات میں ایسے انقلاب بھی ہیں جنہیں طاقت کے بل پر اس طرح کچلا گیا کہ پھر وہ ابھر نہ سکے۔

 اور حسینی انقلاب کے خلاف جس قدر طاقت کا استعمال ہوا اتنا کسی انقلاب کے خلاف نہیں ہوا ، بعد قتل حسین دربارکوفہ وشام میں جس اعلی پیمانہ پر جشن منایاگیا وہ اس بات کی علامت تھا کہ ظالم اپنے کارنامے سے مطمئن ہوگیا ہے ، کسے خبر تھی کہ اب کوئی امام کا حامی سر اٹھاسکے گا یا عالم میں دین محمدی کا چرچا ہوسکے گا ۔ لیکن خون حسینی جب رنگ لایا تو عالم کو رنگین بنادیا انتقام خون حسین کا دریا چڑھا اور یزید کا فلک بوس محل اس میں غرق ہوگیا ، مظلوم کے ماتم پر پابندی لگی لیکن آہستہ آہستہ پوری دنیا پر سوگواری کے بادل چھاگئے ، زائرین قبر حسین کو قتل کیا گیا اور ان کے اعضا ء کاٹے گئے لیکن ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا ۔ اور آج حسینیت کا ماہ درخشان اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ تابندہ ہے یہ سب کیا بغیر تائیدالٰہی کے ہوگیا ؟ نہیں ہر گز نہیں یہ انعام خدا وندی ہے کہ جس سرزمین پر نواسہ رسول نے جان دی اس زمین کو ہر زمین سے فضیلت دیدی جن اصحاب نے حسین پر جان دی ان کے سروں پر بے انتہا فضیلتوں کا تاج رکھ دیا ۔ انصار حسین کو جو انعام ملا یہ اس کا ایک نمونہ ہے کہ

     معصوم پر فدا ہوئے ممتاز بن گئے               سر خدا سے مل گئے خود راز بن گئے

سجدے کیے کچھ ایسے سرافراز بن گے              مٹی میں مل کے سجدہ گہ ناز بن گئے

  قدر  آپ  ان  کی سید مظلوم کرتے تھے

                       سجدے خود ان کی خاک پر معصوم کرتے تھے   (جناب ضیاء فیض آبادی (

اس راہ میں بے انتہا اخلاص سے پیش کی جانے والی قربانی کا یہ صلہ ہے کہ جو مظلوم کربلا کا حامی ہوا اسے بھی فراموش نہیں کیا گیا اور جو ان کی مظلومی پر گریہ کرے اسے بے انتہا اجرو ثواب کا مستحق قرار دیا گیا ۔ ہم اپنے پروردگار کے تہ دل سے شکرگزار ہیں کہ اس نے ہمیں قوم گریہ کناں قرار دیا تاکہ غم حسین میں بہنے والے آنسوؤں کو ہم رومال سیدہ تک پہنچانے کا شرف حاصل کرسکیں ۔ مصداق ذبح عظیم کی عظیم المرتبت سرکار میں روح کی گہرائیوں سے ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے رحیم وکریم پالنے والے کی بارگاہ میںعاجزانہ گزارش پیش کرتے ہیں۔

 کہ جب حسین بن علی کے تصد ق میں وہ ہمیں ان انعامات سے سرفراز فرمارہا ہے جو ہم چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے مظلوم آقا کے ایسے غلام بننے کی توفیق مرحمت فرمائے جیسے وہ چاہتے ہیں کہ جب منتقم خون حسین حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی معیت میں ہم دشمنان حسین سے مصروف جہاد ہوں تو معصیت کے دھبے ہمیں خجالت میں مبتلا نہ کریں ۔

بزم رأفت (انجمن شعر وادب اردو زبان )مشہد مقدس اسی یادگا رکو تازہ کرنے کی خاطر اور اپنا وظیفہ بندگی نبھانے کے لیے اہل بیت علیہم السلام کی بارگاہ میں ناچیز نذرانہ عقیدت پیش کرتی رہتی ہے کہ ان میں سے ایک نمونہ بین الاقوامی سیمینار بعنوان'' ذبح عظیم'' بھی تھا جو بہت ہی عظیم الشأن پیمانے پر منعقد ہوا جس میں مختلف ممالک کے طلاب عزیز وعلماء کرام نے شرکت فرمائی جس کی مکمل رپورٹ آخرمجلہ میں مرقوم ہے یہ مجلہ چونکہ ماہ محرم سے ماہ شعبان المعظم تک کے عرصہ سے مربوط ہے لہذا اس میں جشن غدیر سے لیکرآخرشعبان المعظم کے تمام پروگرامزکے مختصر گوشے پیش کیے جائیں گے اس امید کے ساتھ کہ انشاء اللہ خدمت دین و مسلمین انجام دیتے ہوئے بارگاہ احدیت میں شرف قبولیت عطا ہو اور حضرات معصومین علیہم السلام کے حضور سرخرو ہوسکیں ۔آمین

و السلام

سیدسبط حیدر زیدی 

مدیر

بزم رأفت

انجمن شعر و ادب اردو زبان