دوسرا واقعہ:

جب سے رسول خدا نے شہادت حسین علیہ السلام کی خبر جناب زہرا  سلام اللہ علیہا کو دی ۔ تواس وقت سے جناب زہرا سلام اللہ علیہا جب بھی حسین علیہ السلام کو دیکھتی تھیں تو گریہ کرتی تھیں۔ اور بہت روتی تھیں۔کبھی یوں کہتی ہوئی روتی تھیں کہ اے میرے غریب حسین ! اے میرے مظلوم حسین ! ........ لیکن تاریخ میں یہ بھی ملتاہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کبھی کبھی حسین علیہ السلام کو دیکھ کر حسین  کی شہادت کو سوچ کر اس طرح شعر کہتی ہوئی روتی تھیں ۔

واحسینا ذبیحا من قفا               واحسینا قتیلا بالدمائ

اور آج تک جنّت میں اسی شعر کو پڑھتے ہوئے حسین علیہ السلام پر گریہ کررہی ہیں جس کی تائید مختلف قابل اعتماد علماء کے خواب اور دوسری روایتیں ہیں۔(منتہی الآمال ص٥٩٤)

اب فیصلہ آپ قارئیں پر ہی چھوڑتا ہوں کہ آپ میری تحریر کی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے جناب جبرئل کو پہلا شاعر قرار دیں یا عظمت وعصمت وطہارت اور ہر امر میں سبقت لینے کے ہنر کو ملحوظ نظر کررکھتے ہوئے جناب زہرا سلام اللہ علیہا کو پہلی شاعرہ قرار دیں۔

اس طرح جناب جبرئیل امین علیہ السلام اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا نے امام حسین علیہ السلام کی شان میں مدح سرائی اور مرثیہ گوئی کا آغاز کیا۔

 یہ عصمت کی زندگی ہے مگر غیر معصومین کی زندگی میں تاریخ کے صفحات میں ڈھونڈیں تو ہمیں شعراء اس ترتیب سے ملتے ہیں۔

مدح امام حسین علیہ السلام میں شعر گوئی کا آغاز غیر معصومین کی شاعری میں یہاں سے شروع ہوتا نظر آرہا ہے کہ:

عرب کے ایک دیہات سے ایک مرد مدینہ میں آیا اور پوچھا کہ کریم ترین آدمی کون ہے ؟

لوگوں نے اسے امام حسین علیہ السلام کا حوالہ دیا ۔ تو وہ مسجد میں داخل ہوا اور آپ علیہ السلام نماز میں مصروف تھے ۔ وہ اعرابی امام علیہ السلام کے پیچھے کھڑا ہوا اور یوں شعر کہنا شروع کیا   

لم یخب الآن من رجاک ومن                    حرّک من د ون بابک الحلقہ

انت جواد وانت معتمد                  ابوک قد کان قاتل السفقة

لولا الذی کان من اوئلکم              کانت علینا الجحیم منطبقہ

جب امام علیہ السلام نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اے قنبر! کیا مال حجاز سے کچھ بچا ہوا ہے ؟ تو قنبر نے جواب دیا ، جی میرے آقا! چار ہزار درہم بچے ہوے ہیں ۔ فرمایا: ان کو لے آو ہم سے زیادہ اس رقم کا مستحق فرد پیدا ہوا ہے ۔جب ان کو لایا گیا تو آپ نے اپنے بدن مطہر سے چادر کو اتارا جو بُرد کی بنی ہوئی تھی اور ان دنانیر کو اس چادرمیں لپیٹ کر دروازے کے پیچھے تشریف فرماہوئے ۔ چونکہ امام علیہ السلام ان دراہم کو اس اعرابی کے حضور پیش کرنے سے احساس حیا کرتے تھے جب وہ آیا تو امام نے دروازے کے پیچھے سے اپنے ہاتھوں کو نکال کر رقم اعرابی کے ہاتھ میں دے دی اور اس رقم کی کمی پر اعرابی سے معذرت خواہی کرتے ہوئے چند شعر انشاء فرمائے   

خذھا فانی الیک معتذر      واعلم بانّی علیک ذوشفقة

لو کان فی سیرنا الغداة عصا    امست سمانا علیک منذ فقة

لکن ریب الزمان ذو غیر    والکف منی قلیلة النفقة   (منتہی الآمال ص٣٧١)

 

پس اس طرح امام کی مدح سرائی کا شعری آغاز میرے مطالعے کے مطابق اس اعرابی نے کیا اور مرثیہ گوئی کا آغاز غیر معصومین میں سے جس شاعر نے کیا اس کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے وہ ''عتبہ بن عمرو'' ہے جس نے واقعہ کربلا کے ساتھ ہی کربلا میں آکر امام کے بارے میں یوں مرثیہ پڑھا 

مررت علی قبرالحسین  بکربلا               فقاضت علیہ  من دموعی غزیرھا

بکیت من بعد الحسین  عصائبا                اطاعت بہ من جانبیہ قبورھا

 کربلا اور امام حسین  کے اشعارکی خصوصیات

تاریخ میں جتنے بھی اشعار آئے ہیں ان سب میں واقعی انقلاب آور شعر شعر عاشورائی ہیں۔کیونکہ یہ عاشورا ہی ایک انقلاب ہے لہٰذا اس انقلاب کا اثر شعروں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ عاشورا کربلاا ور امام حسین  کے بارے میں موجودہ اشعار عظیم المر تبت اشعار ہیں۔جو لوگوں کے دلوں کے اندر جا کر ایک تحریک پیدا کرتے ہیں۔اور لوگوں کوحق و باطل کی تمیز کرنے کے لیے فکر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

یہ اشعار اہلبیت اطہا ر کی مظلومیت کے بارے میں ایک فریاد جانگداز کے طور پر کام کرتا ہے اور لوگوں کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ اہلبیت کی عظمت اور ان کے دشمنوں کی پستی کے بارے میں فکر کرے اور اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ ان دشمنوں نے اہلبیت  پر اس حد تک ظلم و جبر کیوں کیا؟

یہ اشعار لوگوں کے لیے حق و باطل کے درمیان فرق پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کو حسین و اہل بیت کی حقانیت کی دلیل پیش کرتے ہیں اور ظالم و جابر حکمرانوںکے پیروی سے لوگوں کو بچائے رکھتے ہیں ۔

یہ اشعار شعور بشر کو وسعت دیتے ہیں تاکہ وہ فہم و عقل کی معراج پر جا سکے۔

یہ اشعار اہلبیت  کی اہمیت اورا لٰہی نمائندہ ہونے کو ثابت کرتے ہیں۔

یہ اشعار اس بات کو واضح کرتے ہیںکہ کائنات میں جو ظلم و زیادتیاں ہوئی ہیں اور ہوتی رہی ہیں ان سب میں جو ظلم حسین  علیہ السلام اور خاندان پیمبرۖ پر ہوا اور کسی پر نہیں ہوا۔

لا یوم کیومک یا اباعبداللہ

یہ اشعار لوگوں کے اندر اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ کاش ہم بھی حسین  کے ساتھ ہوتے۔

یہ اشعار لوگوںکے اندر صدائے ھل من ناصر ینصرنا کی تشریح بن کر داخل ہوتے ہیں اور ہر فرد انسان کو حسین  کی حمایت پرتیار کرتے ہیں۔

یہ اشعارقل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودة فی القربیٰ کی تشریح بن کر لوگوں کو اطلاع دیتے ہیں کہ اے کائنا ت کے انسانو!رسول گرامی اسلام کی رسالت کا اجر ادا کرو جو اُن کے اہلبیت  کی مودت ہے۔

یہ اشعار مودت اہلبیت کو لوگوں کے دلوں میں اضافہ کرنے کا باعث بنتے ہیںتاکہ ان سے اجر رسالت اداہو۔

یہ اشعار انقلاب کربلا کی تفسیر بن کر چھا جاتے ہیں۔

یہ اشعار ایثار حسینی کو بیان کرتے ہوئے لوگوں کے اندر عشق و ایثار کی فضا پیدا کرتے ہیں

یہ اشعارعشق حسین کو بیان کر کے عشق الٰہی سے قلوب کو تقویت دینے میں مدد فراہم کرتے ہیں ۔

یہ اشعار سکینہ  اور یتیم بچوں کی صدائوں کی شکل میں فضا میں گونج کر مظلوم کی حمایت پر آمادہ کرتے ہیں۔

یہ اشعار حر کی توبہ کو بیان کرکے گمراہ لوگوں کو نجات کی امید دلاتے ہیں۔

یہ اشعار سیدالساجدین کی سیرت بیان کر کے مظلوموں کو صبر و تحمل پر آمادہ کرتے ہیں ۔

یہ اشعار تفسیر خطبہ جناب ثانی زہرا کی شکل میں انقلاب کربلا کے حقیقی پہلو سے لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں ۔

یہ اشعار لوگوں کے اندر عدل و انصاف کی فکر پیدا کرتے ہیں۔

یہ اشعار ایک ایسے شمع کو جلا دیتے ہیں جس کے سہارے انسان ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکل کر ملأ اعلیٰ تک پہنچ سکتا ہے ۔

یہ اشعار کاروان راہ حق و پاسبان شریعت کے ایمان و عقیدے کی تقویت کا باعث بنتے ہیں

یہ اشعار ظلم واستبداد کی تاریخ کو بیان کر کے پڑھنے والے اور سننے والے سب کو مظلوموںکی حمایت میں اشکوںکے سیلاب بہانے پر آمادہ کرتے ہیں۔

یہ اشعار لوگوں کے اندر انقلاب پیدا کرکے خمینی صفت لوگ پیدا کرنے اور شاہ جیسی مذموم و ظالم حکمران کے تختہ کو گرا کر اسلام اور حسینیت کی حکومت قائم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

یہ اشعار تیر وں اور تلواروںکی شکل میں ظالموں اور جابروں کے دلوں کا کاٹ دیتے ہیں ۔

یہ اشعار حق کی ترویج اور اسلام کا پرچار کرتے ہیں اور ظالموں جابروں اور طاغوتی طاقتوں کوخاک میں ملانے کے لیے لوگوں کے اندر فکر پیدا کرتے ہیں۔

یہ اشعار لوگوں کے اندر حسین  سے محبت ودوستی میں اضافہ کرتے ہیں اور ہر فرد کو حامی حق بننے کی دعوت دیتے ہیں۔

پس آج کے شعراء کو چاہیے کہ جہاں تک ممکن ہو حق و حقیقت کو بیان کریں اور کربلا کے اصل منظر کو اپنے شعروںمیں بیان کریں،اور اس عظیم انقلاب کو اپنے خیالات اور فکر کی دنیا میں لے جا کر افسانہ کی شکل نہ دیں بلکہ یہ ایک عظیم انقلاب ہے جو آدم  سے لیکر ظہور مہدی تک جاری و ساری اور لوگوں کو حقیقت کی راہ پر ہدایت کرنے والا ہے اس انقلاب کو زندہ رکھنا اور فرہنگ عاشوراکا پر چار کرنا ہر حسینی کی ذمہ داری ہے  تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اس انقلاب کو سمجھ سکیں۔

مجالس شعرو سخن اور مجالس عزاداری کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہئے کہ شاعر اپنی شخصیت کے لیے کام کرے مقرر اپنی شخصیت کی پرچار کرنے لگے اگر ایسا ہو تو پھر نہ شعر کام کا رہے گا اور نہ ہی خطابت و ذاکری۔

ان تمام کا مقصد تحریک کربلا کو آگے بڑھانا اور شخصیت بنیان گذار دانشگاہ کربلا کے خلوص اور اس کے ایثار اور عشق کا نمونہ دنیاکو دکھانا ہے۔تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ دین الٰہی کی طرف راغب ہوں اور عشق و عبادت الٰہی میں زندگی گذارنے لگیں۔

پس ہمیں اپنی امہ داری کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور انقلاب و تحریک کربلا سیرت حسینی و کردار ابراہیمی کے فروغ کے لئے حتی الامکان کام کرنیکی ضرورت ہے تاکہ اسی راہ پر ثابت قدم رہ کر منجی عالم بشریت ،حامی دین و شریعت ،وراث حسین  و حسینیت ،مروجِ نظام عدالت،ماحی کفر بدعت،مہدی موعود،امام دو جہاں،

سرور قلوب مومنان،اما م زمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے کاروان میں شریک ہو کر زہرا  کے بچّوں کے خون کا بدلہ لینے اور ظالموں ،منافقوں اور ملحدوں کو اپنے انجام تک پہنچانے میں ہماری جانوں کی قربانی پیش کر سکیں۔

پس یقین کیجئے وہ دن دور نہیں ہے کہ اس ظلم وجور سے بھری دنیا میںعدل و انصاف کا ستار ا چمکے گا۔لا دینیت اورمنافقت کی اندھیری فضا میں کلمہ لا الہ الا اللہ محمدرسول اللہ علی ولی اللہ کی صدا گونج اٹھے گی۔اور افق عصمت و طہارت سے وارث انبیا ء و اولیا ء کا سورج طلوع کرے گا اور اس دن ظالموں کو پتہ چلے گا کہ ظلم کا انجام کیا ہوتا ہے جیسے قرآ ن نے فرمایا،وسیعلم الذین ظلموا ایّ منقلب ینقلبون۔

آئیے دعا کریں کہ اے اللہ! تیری عظمت اور الوہیت کا واسطہ جس مہدی کا تو نے وعدہ دیا ہے اس کے ظہور میں تعجیل فرما کر ہمارے زخمی دلوںکی شفا کردے۔تاکہ مظلوموں ،غریبوں ، اور ستم رسیدہ افراد کے چہروں پر رواں اشکوں کے دریا رک جائیں ۔اور ظلم و ستم کی جو بارشیں ہو رہی ہیں وہ تھم جائیں اور ہم سب مل کر فرزند رسول کی اتباع میں کعبے کے گرد جمع ہو کر صدائے بلال میں اللہ اکبر کی آواز بلند کر سکیں ۔

اے خدا ئے ذوالجلال ،ہمارے سرپرست ،ولی امر مسلمین حضرت آیة اللہ خامنہ ای کو طول عمر عطا فرما۔تاکہ دشمنان دین کو اسلام کے خلاف مزید ہاتھ بڑھانے کی جرات نہ ہو۔اے اللہ ہم سب کو مہدی آخرالزمان  کا حقیقی منتظر اور حماسہء کربلا کا حقیقی عاشق اور درسگاہ کربلا کا حقیقی شاگرد اور حسین  و آل حسین  کا حقیقی دوستدار اور سیرت محمد آل محمد کا حقیقی پیروکار قرار دے،تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں اور تیری رحمتوں کا مستحق قرار پائیں۔

اصول و مبانی شعر و شاعری

 ازدیدہ گاہ رہبرمعظّم حضرت آیة اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای دام ظلہ العالی

شعر وشاعری کے بار ے میں دنیا کے بہت سے انسانوں نے اپنے نظریے بیان کئے ہیں لیکن انکے افکار وانظار اپنے زمانے کے مطابق تھے لیکن ہم اپنے زمانے کے بہترین اورہر دلعزیزانسان دوست، معرفت پسند

 (بلند فکر،قوی ہمت ،دنیا کے ہر محب اہل بیت کے دلوں کی دھڑکن ، راہنمائے حق و حقیقت ،صاحب صفات عالیہ،حدیث معصوم (من کان من الفقھاء صائنا لنفسہ ،حافظا لدینہ،مخالفا لھواہ ، مطیعا لامر مولاہ فللعوام ان یقلدوہ)میں ذکر شدہ تمام صفات سے مزین ہستی،اہلبیت علیہم السلام کی وفات کے بعد غیبت امام علیہ السلام کے دور میں لوگوں کو ہدایت اور دین کی طرف دعوت دینے والے، مخالفین اسلام کے ہر اعتراض کا دندان شکن جواب دینے والے ،صاحب عظمت،صاحب دیانت،صاحب صبر و حمیت، صاحب اوصاف حسنہ،پیروکار انبیائو اولیا،صاحب تقوی الٰہی،بزرگ شخصیت ، ولی امر مسلمین ،رہبر فرزانہ جہان تشیع حضرت آیة اللہ العظمیٰ حاج سید علی حسینی خامنہ ای دام ظلہ العالی کی دیدگاہ سے ایک مرتبہ شعرو شاعری کے اصول و معانی کی طرف نظر کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں اس حوالے سے آپ نے کیا فرمایا ہے ۔

حقیر نے جستجو و تلاش کر کے رہبر معظم کے کچھ فرامین جو آپ نے مداحان اہلبیت  کی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے بیان فرمائے ہیں ان میں سے کچھ مطالب کو انتخاب کرکے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں ۔

بیانات مقام معظم رہبری در جمع مدّاحان

                رہبر فرزانہ انقلاب اسلامی نے بہت عرصہ پہلے شعراء ومداحان سے ملاقاتوںمیں اسطرح بیان فرمایاہے۔

                اصل محتوی

                و یکی از چیزہائی کہ باید در اشعار ما باشد مفاہیم بلند اسلامی در باب توحید یا مثلا در باب نبوّت است و بہترین اشعار قد ما در باب توحید و نبوت……

                یعنی آپ فرماتے ہیں کہ:''شعراء کے اشعار میں جن چیزوں کا ہونا لازمی ہے ان میں سے ایک اسلام کے بلند مفاہیم ہیں ،مثلا توحیدونبوت کے باب سے ہونا چاہیے ۔

اور سابقہ شعراء کے بہترین اشعارتوحید و نبوت کے بارے میں وہی اشعارہیں جو ہمارے بزرگ شعراء نے اپنے دیوانوں اور مثنویوں کے مقدموں میں بیان کئے ہیں۔حقیقت میں انسان ان قوی اورگہرے مطالب کے ذریعے اللہ تعالیٰ،پیغمبر ،امام اور حضرت زہرا کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔البتہ اس طریقے سے تو نہیں جس طرح جاننا چاہیے۔اور ہم ان بزرگوں کوکما ہو حقہ نہیں پہچان سکتے مگر یہ ممکن ہے کہ کسی حد تک ان کو پہچان لیں۔مثلا کبھی امیر المومنین علیہ السلام کے حوالے سے ایک شعر کہا جاتا ہے تو ہم درمیانہ اور پائین طبقے کے انسان بھی سمجھ سکتے ہیں۔کہ مقام و منزلت امیرالمومنین کیا تھی۔یعنی مقام و منزلت علی کہ جن کے بارے میں ہم کم معلومات رکھتے ہیں مثلاًعبادت امیرالمومنین ،مظلومیت امیرالمومنین ،ان کے علل ، ان کے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بارے میں ،اور ان کے جہاد کے پہلوئوں کو بھی ہم پہچان سکتے ہیں۔

                جب ١٥ بیس سال پہلے ہم ان باتوں کو کہتے تھے تو بہت سے لوگ سنتے تھے مگر وہ لوگ نہیں سمجھتے تھے کہ ہم کیاکہہ رہے ہیں؟ ہم کہتے تھے کہ جناب !فقط آئمہ علیہم السلام کی خیالی تصویر کشی میں ہی لگے نہ رہیں فقط ان کے چہرے کا خیالی خدو خال کے بیان میں مصروف نہ رہیں ۔لوگ امام کی زلفیں ،ابرو اور آنکھوں کے بارے میں اشعار کہتے تھے،حالآنکہ یہ امام کی تعریف نہیں ہے۔

                 امیر المومنین کے ابرو اگر کمانی ہو یا نہ ہو ان کی شخصیت میںکیا فرق پڑتا ہے؟ان کی زلفیں لمبی اور چمک دار ہوں یا نہ ہوں کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم ان کے بارے میں اشعار کہیں؟اس زمانے میں شعراء اس طرح لکھتے اور پڑھتے تھے لیکن اِس وقت کم ہیں اور انشاء اللہ یہ چیزیں اب نہ ہوں'۔(آئین ستایشگری ص ٧٠)

رہبر معظّم دام ظلہ اپنے ان کلمات سے شعراء کو درس دے ر ہے ہیں کہ اگر حقیقی شعرا ء اہلبیت  کے زمرے میں آنا چاہتے ہیں تو ان کی حقیقت پر نظر کریں اور ان کے اوصاف حقیقی کی تعریف کرتے ہوئے شعر کہیں۔

                یعنی شعراء کو چاہئے کہ جب اہلبیت علیہم السلام کی شان میں شعر کہیں توان حضرات کے معنوی اوصاف کو زیادہ اہمیت دیں تاکہ لوگ ان کے ان معنوی اوصاف کی وجہ سے ان کی طرف راغب ہوں۔

جیسے استاد شہریار نے کیا عجیب مصرع کہا ہے کہ آج تک لوگ اس مصرعہ کو پڑھ کر دنگ رہ جاتے ہیں اور سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ علی  میں واقعا یہ کیسی صفت تھی ؟  شہریار کہتا ہے ۔

                                                علی ای ھمای رحمت تو چہ آیتی خدارا

اب ہم مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس میں غور کریں کہ شہریار نے کیوں علی کی اس طرح سے صفت بیان کی ایسا کیوں نہ ہو کہ ایک عام انسان کی زبان سے جب اس طرح کا کلمہ نکلتا ہے کہ نہ موصوف کی کوئی صفت اس کلمے سے باہر ہے اور نہ ہی کوئی غلط بیانی ہوئی ہے۔پس شعراء کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ اہلبیت  کے وہ اوصاف بیان کئے جائیںجن کے ساتھ مزیّن کرکے اللہ تعالیٰ نے انہیں خلق فرمایا ہے ۔جن سے لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت میں اضافہ ہو۔اور ان کے ظاہری خدوخال کی تعریف میں محدود نہ رہیں کہ جن سے نہ انکی عظمت میںکمی آتی ہے اور نہ ہی ان کا وقار بڑھ جاتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے حقیقی اوصاف اور اہلبیت علیہم السلام کے اوصاف حمیدہ کوبیان کرکے لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرانا شعراء کرام کا ہدف اور مقصد ہونا چاہئے

اسی حوالے سے رہبر معظّم دام ظلہ فرماتے ہیں کہ ''جب ہم یہ کہتے تھے کہ فقط ظاہری سیما و خدوخال کی تعریف میںلگے نہ رہیں تو لوگ متعجبانہ کہتے تھے کہ اگر یہ نہ کہیں تو پھر ہم کیا کہیں؟ان دنوںمیں ہم بعض اوقات کہتے تھے کہ جناب امام علی علیہ السلام کی زندگی کے واقعات بیان کریں علی  کے علمی کمال کے بارے میں شعر کہیں۔مگروہ اس حوالے سے علم نہیں رکھتے تھے۔مگر الحمد للہ آج کے دور میں ہر شخص پر امام علی علیہ السلام کی زندگی روشن اور واضح ہے۔مثلا حکومت کے دوران امیر المومنین علیہ السلام کا زہدمعمولی بات نہیں ہے کہ ایک شخص حاکم ہوطاقت پردسترس رکھتا ہو ،تلوار اس کے ہاتھ میں ہو،نفوذکلمہ اس کے ہاتھ میں ہو مگر اس کی شخصی زندگی کو دیکھا جائے تو اس طرح پائیںکہ وہ خود اپنے قریبی دوستوں سے فرماتے ہیں کہ تم لوگ میری طرح زندگی نہیں گزارسکو گے۔اس قدر ان کی شخصی زندگی اور عادی زندگی دوسرے عام انسانوں کے لیے سخت تھی کہ آپ نے عثمان بن حنیف سے فرمایا:الا وانکم لا تقدرون علی ذالک (نہج البلاغہ ٤٥)(یعنی آگاہ ہوجائو کہ تم لوگ اس بات کی قدرت نہیں رکھتے)

 اس وقت ان کا کھانا اس طرح کا تھاکہ راوی جو صحابی امام تھا، قنبر خادم امام سے یوں کہتا ہے کہ کیوں یہ سخت اور سوکھی ہوئی روٹی اس پیر مرد کو کھلاتے ہو؟علی کمزور ہوگئے ہیں ۔پیر ہوگئے ہیں تو کیوں اس جو کی سخت روٹی اس ساٹھ سالہ مردکے لیے لائے ہو؟قنبر جواب میں کہتا ہے یہ کام میں نہیں کرتا ہوں بلکہ وہ خود اس روٹی کو ایک تھیلے میں رکھ دیتے ہیں اور تھیلے کے منہ کو بند کر دیتے ہیں اور کبھی اس پر مہر بھی لگا دیتے ہیں تاکہ ان کی غیر موجودگی میںکوئی اسے نہ کھولنے پائے۔اور سوکھی روٹی کو گھی کے ساتھ مخلوط نہ کرنے پائے۔اَلَا وَاِنأ اِمَامَکُمْ قَدْ اکْتَفیٰ مِنْ دُنْیَاہُ  بِطَمْرَیْہِ  وَمِنْ طِعَمِہ بِقُرْصَیْہِ (نہج البلاغہ نامہ٤٥)یعنی جان لو کہ تمہارے امام نے دنیا سے دو پرانے لباس اور دو ٹکڑے روٹیوں کا کھانا لیاہے۔ اس طرح کے پہلوئوں کو بیان کریں تا کہ امیر المومنین اور ان کے مقابل افراد کے درمیان مقایسہ ہو جائے۔پس اپنے آئمہ کے ساتھ عاطفی رشتہ جوڑیں اور اخلاقی مسائل کو حفظ کریں"۔(بیانات مقام معظّم رہبری در دیدار با مدّاحان ٦٨١٠٢٨)

پس شعراء کرام کو رہبر معظم کے ان فرامین کے مطابق وزنی اور گہرے مطالب سے اپنے شعر کے محتوی ومضمون کو پیش کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو اس بیان کرنے والی چیز یا شخص کی حقیقت اور حقانیت سے آگاہی حاصل ہوجائے۔

مضمون شعر:

مضمون شعر کے بارے میں رہبر معظّم دام ظلہ فرماتے ہیں کہ :از لحاظ مضمون باید سہ رکن در مدح …"یعنی مضمون کے لحاظ سے مدح و شعر میں تین ارکان کا وجود لازمی ہے :

رکن اول: اپنے اشعار میںاور مدّاحی میں سابقہ شعراء کی طرح غزل یا قصیدہ سے استفادہ کریں جو مسائل اخلاقی پر مبنی ہو۔اور وہ بھی مناسب روش اور اچھی آواز و انداز کے ساتھ تا کہ سامعین کے دل میں اس شعر کا اثر دوگناہو۔

دوسرا رکن:معارف اسلامی کو بیان کریں ذکر توحید ،ذکر زندگی آئمہ ،انقلابی اور مبارزات و مناظرات ا ور احتجاجات بیان کریں۔

تیسرا رکن:ذکر مصیبت ہے وہ بھی انقلابی پہلو سے بیان کیا جائے،اور حتما ذکر مصیبت کو بھی بیان کیا جائے ،کبھی کبھی روضہ خوانی میں اصلا ذکر مصیبت ہوتاہی نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ مصیبت اور اس کے متعلق واقعہ کی تشریح ہونی چاہئے"۔(اصول وروش مدّاحی ص٧٢)

پس ان فرامین کی روشنی میں شعراء کو چاہئے کہ وہ اپنے اشعارکو ان تین ارکان پر مبنی قرار دیں۔یعنی اپنی شاعری میں ان تینوں ارکان پر خصوصی توجہ دی جائے کیونکہ ہر ہنر کے لئے اسکے اپنی لوازمات ہوتی ہیں اور ہنر شعر کے اہم ترین لوازمات یہی چیزیں ہیں۔مثلا ایسا نہ ہو کہ فقط فضائل پر شعر کہیں اور باقی تمام پہلوؤں کو صرف نظر کریں بلکہ شاعری کی معیار کو بہتر کر کے ان تینوں حوالوںسے شعر کہیں تو ہر مقام کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے۔یعنی کوشش ہونی چاہیے کہ ان تینوںمضامین کے مطالب پر مبنی شعر کہیں۔

اصل پیغام:

شعر فقط شعر ہی نہیںبلکہ اسلام کا پیغام ہے یعنی شاعر داعی الی اللہ ہے اور شعر اس داعی الی اللہ کا ہتھیار ہوتا ہے ۔پس اس حوالے سے رہبر معظّم دام ظلہ فرماتے ہیںکہ ''شما برادران عزیز باید پیامی را کہ آن پیام ہمیشہ مداحان اہل بیت ارزش می دادہ ہموارہ حفظ کنید……

"یعنی آپ شعراء کو چاہیے کہ جس پیغام کے سبب سے ہمیشہ مداحان اہل بیت کو مقام ومرتبہ ملا ہے اسے یاد رکھیں اور اسکی حفاظت کریں اور وہ پیام دین الٰہی کی حفاظت کا پیغام ہے اور وہ بھی ولایت اہل بیت کے سائے میں اور دشمنان اہل بیت سے مقابلہ کرتے ہوئے اور حق و حقیقت کے دشمنوں سے مبارزہ کرتے ہوئے۔اور دشمن حق وحقیقت و ہ لوگ ہیں جو طاغوتی پارٹیان اور عصیانگر گروہ ہیں جو حق کے مقابلے میں آکھڑے ہیں۔اور یہ پیغام محفوظ ہونا چاہیے"۔(اصول وروش مدّاحی ص٧٤)

پس رہبر معظم ایک شاعر کو عام نگا ہ سے نہیں دیکھتے بلکہ شاعر کو ایک مجاہد فی سبیل اللہ کی نظر سے دیکھتے ہیں پس شعراء اہلبیت  کو چاہیے کہ اپنے خیالات کے دریا میں غوطہ زن ہو کر سالک الی اللہ بن کر وہ الہام تلاش کریں کہ جس سے آج کی طاغوتی طاقتوں کا شیرازہ بکھر جائے۔

شاعر کو چاہے کہ ایسے کلام پیش کریںجس سے آج کے عصیانگر پارٹیوں کے دانت کھٹے ہوجائیں۔

رہبر معظّم تاکید فرماتے ہیں کہ  ''شعری کہ خوانید حتما پیام را رعایت کنید…اولین چیزی کہ باید مورد توجہ قرار گیرد ،پیام است وپیام باید ہم در مصیبت،ہم در مدح وہم دراخلاقیات وجودداشتہ باشد''آپ فرماتے ہیں کہ جو شعر آپ بیان کرنا چاہتے ہیں اس میں لازما پیام اسلامی کی رعایت کریں اور پہلی چیز کہ جو آپ کا مورد توجہ ہونا چاہیے پیام ِشعر ہے۔اور پیام اسلام مدح، مصیبت اور اخلاقیات پر مبنی اشعار میں حتما ہونا چاہئے''۔(آئین ستایشگری ص٧٥)

پس رہبر معظّم دام ظلہ کے ارشادکے مطابق شعراء کرام کو چاہیے کہ اپنے تمام اشعار کو انقلابی اور پیام اسلامی سے مزین فرمائیں تاکہ سننے اور پڑھنے والوںکے دلوں پراسلامی اثر مترتب ہوجائے۔حضرت ولی فقیہ دام ظلہ نے اسی پیام کی اہمیت کو یوں بیان فرمایاکہ:" وہ لوگ جنہوں نے تاریخ اسلام کے سخت ترین دور میں کندھوں کو پرچم سے سجایا،اور وہ پرچم حقیقی ولایت اسلام کا پرچم تھااور یہ بزرگ شعراء جب اس پرچم کو اٹھاتے تھے تو ان کو شدید ترین سختیاں جھیلنی پڑتی تھیں۔مسئلہ یہ نہیں تھا کہ'' کمیت فرزدق حمیری اور دعبل جیسے افراد کم تھے،اور فقط یہ بھی نہ تھا کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق ایک شعر کہہ دیتے اور بعض لوگوں کے پاس پڑھتے بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ ان کا شعر ایک پیام و رسالت پر مشتمل ہوتا تھا۔اور وہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی چیز لوگوں کو سکھائیں۔اور کمیت کے سختیو ںمیں مبتلا ہونے کا سبب اور دعبل کے یہ کہنے کا سبب (کہ میں پچاس سال سے اپنے تختہ دار کو اٹھائے پھر رہاہوں)صرف اور صرف یہی تھا کہ ان کے اشعار پیغام پر مبنی تھے"۔

 رہبر معظّم یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ شعراء کو چاہیے کہ اپنے اشعار میں اسلام کا پیغام دیں۔ اگر اس طرح شعر کہیںاور دنیا کو دین کی دعوت دیں تو ممکن ہے عقوبتوں اور پریشانیوں کا سامنا بھی کرنا پڑے ۔لہذا رہبر معظّم دام ظلہ دوسرے شعراء کی مثال دیکر یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ شعراء کو چاہیے کہ دعبل و کمیت کی طرح حریم اہلبیت علیہم السلام کا دفاع کریںاور اس حوالے سے ظالموں کی طرف سے ہونے والے مظالم اور پریشانیوںکو برداشت کرنے کے لیے بھی تیار رہیں۔

اگر خدانخواستہ ایسی نوبت آئے تو ان کی طرح صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور پیغام اسلام پہنچانے کے اس سلسلے کو جاری وساری رکھیں۔

اصل مقابلہ:

چونکہ شعر ایک ہتھیار ہے اور ہتھیار کا استعمال وہاں ہوتا ہے جہاں مقابلہ درکار ہو۔ پس حریم اہلبیت علیہم السلام سے دفاع کا میدان مقابلہ کا میدان ہے اور شاعر اس میدان کا مجاہدہے ۔اس میدان میں شاعر اپنے شعر کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔ لیکن عام طور پر شاعر کو اس بات کا خیال نہیں رہتا کہ وہ ایک مجاہد فی سبیل اللہ ہے اور اسکا شعر اسکا ہتھیار ہے اور خود میدان مقابلہ میں ہے۔ بلکہ شاعر کو ہمیشہ یہ سوچتے رہنا چاہئے کہ میں ایک مجاہد ہوں اور میدان مقابلہ میں ہوں اور مجھے حق وباطل کے درمیان میں فاصلہ پیدا کرکے دنیا کو دکھانا ہے کہ حق کس طرف ہے اور  باطل کس طرف؟شاعر کی زندگی اثبات حق وحقیقت کے لئے صرف ہونی چاہئے اور اثبات حق کرنے میں اسے کسی طرح کا بھی خوف نہیں کھانا چاہئے  اگرچہ دشمنوں کے درمیان میں تنہا ہو۔

رہبر معظّم اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ:مگر نمی گوئیم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا باحال ناتوان بہ مسجد رفت تا حقی را احقاق کند.........

یعنی''مگر ہم نہیں کہتے؟ کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے ضعف البدنی اور ناتوانی کے باوجود مسجد میں گئیں تاکہ احقاق حق فرمائیں۔ہمیں بھی چاہئے کہ کسی سے نہ ڈریں ، مگر ہم یہ نہیں کہتے کہ تنہا اپنے زمانے کے بزرگ جامعہ کے مقابل میں کھڑی ہوگئیں ؟ ہمیں بھی جس طرح انکے شوہر معظّم ومقدّس نے فرمایا(لا تستوحشوا فی طریق الھدیٰ لقلّة اھلہ(نہج البلاغہ خطبہ ٢٠١) سچائی اور ہدایت کی راہ میں تعداد کی کمی سے خوف نہ کھائیں ) ۔ ہمیں بھی دنیاء ظلم واستکبار کے مقابل میں اپنی تعداد کے کم ہونے کی وجہ سے نہیں ڈرنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئے کہ احقاق حق کا کام ہم سے انجام پائے''۔ (آئین ستایشگری ص ٧٨)

پس رہبر معظم کے اس فرمان کے مطابق شعراء کو چاہئے کہ ہمیشہ احقاق حق کی فکر کے ساتھ رہیں۔

 اور جس جگہ بھی موقع ملے حق کی اثبات کے لئے کوشش کریں، یہ نہیں کہ اپنے وہم وخیال میں جو بات آئے لکھیں اور پڑھیں بلکہ شعر دلیل حق ہونا چاہئے ،خواہشات اور وہم و گمان پر مبنی نہیں ہونا چاہئے بلکہ مفہوم احادیث وآیات کے ضمن میں شعر پیش کرنا چاہئے۔اور تاریخ کے پہلو کو بھی مدّنظر رکھتے ہوئے شعر لکھنا چاہئے تاکہ وہ شعر اثبات حق کا باعث بنے ۔ اور اس کام کے انجام دینے کے لئے ہمیشہ شرح صدر کے ساتھ رہتے ہوئے کسی قسم کا بھی خوف نہیں کھانا چاہئے ۔ اور اس خوف کو اپنے ذہن سے نکالنے کے لئے ،شعراء متقدمین کی زندگی کامطالعہ کرنا چاہئے کہ اس زمانے کے شعراء نے خوف قتل کے باوجود کس طرح احقاق حق کے لئے کام کیا ہے۔مثلاً دعبل خزاعی کا دس سال در بدری کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ اسی طرح دوسرے شعراء اہلبیت علیہم السلام پر جو مظالم ڈھائے گئے وہ کوئی عام سی بات نہیں ہے بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ کیوں ان پر یہ ستم روا رکھے گئے ؟ تو جواب صرف یہی ہے کہ وہ لوگ احقاق حق کے لئے اپنے ہنر شعر کے ذریعے حریم اہلبیت عصمت وطہارت صلوات اللہ علیہم اجمعین کے دفاع کرنے میں مصروف رہتے تھے ۔پس اگر آج کے شعراء کا مقصد بھی احقاق حق ودفاع از حریم معصومین علیہم السلام ہے تو انہیں بھی اس طرح کی مشکلات سے سامنا کرنے کے لئے آمادہ رہنا چاہئے اور خوف خدا کے سوا غیر خدا کا خوف دل سے نکال دینا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اہلبیت علیہم السلام کے حق کو احقاق کرنے اور ان کی سیرت طیبہ کو حتی الامکان دنیا والوں تک پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔

اصل محبت:

بحمداللہ جان مردم و وجود شان بہ عشق و محبت اہل بیت آمیختہ است و برای شما……

آپ فرماتے ہیں کہ:''خدا کا شکر ہے کہ لوگوں کی جان اور ان کا وجود عشق و محبت اہل بیت کے ساتھ آمیختہ ہے اور آپ شعراء و بلبلان گلزار اہلبیت کے لیے یہ موقع حاصل ہے کہ آپ ان کے احساسات اور عواطف کو سیراب کریں''۔

پس شعراء کو ان بیانات کے ضمن میںچاہیے کہ لوگوںکے قلوب کو اہلبیت کے معارف بیان کر کے سیراب کریں وہ پیاسے ہیں ۔  بقول اقبال:

                                                ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

یعنی شعراء کو اپنے بیان شعر کے ذریعے اس زرخیز زمین کو سیراب کرنا چاہیے تاکہ اس سے بہتر فصل حاصل ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی خلش باقی رہ جائے اور جو بیج اس زمین کے اندر ہے وہ سوکھ جائے۔

اسی ضمن میں آپ فرماتے ہیں کہ :تشیع آئین محبت است،خصوصیت محبت خصوصیت تشیع است……"یعنی تشیع ایک محبت کا آئین ہے اور اس کی خصوصیت محبت ہے اور محبت خصوصی طور پر تشیع کی خصوصیت ہے ۔کیا دنیاکے کسی اور مکتب فکر میں ایسی محبت پائی جاتی ہے جو تشیع کے یہاں ہے؟اور آج تک اس مکتب کے ساتھ ہونے والے مخالفتوں اور دشمنیوں کے باوجود فکر تشیّع زندہ رہنے کی وجہ یہی ہے کہ اسکا ریشہ محبت کے زلال میں ہے ۔ تشیع دین تولّا وتبرّا ست، یعنی تشیع ایک ایسا دین ہے جس میں تولا وتبرّا بھی ہے۔تشیع دوستی ودشمنی کا آئین ہے اور اس میں عاطفہ فکر کے ساتھ ہم آھنگ اور ساتھ ساتھ ہے اور یہ بہت ہی اہم ہے (کہ عاطفہ و فکر ہم آھنگ ہو)۔اگر تشیع کے اندر محبت نامی چیز نہ ہوتی تو آج تک اسکے ساتھ انجام پانے والی مخالفتوں کے ذریعے (دشمن) اسے مٹاسکتے تھے۔

 یہ آپ(مداحان)کی اور دوسرے( مونین )لوگوں کی حسین ابن علی علیہم السلام کے ساتھ پائی جانے والی محبّت کا رشتہ ہے جو اسلام کی بقاء اور حیات کا ضامن ہے اور یہی محبت امام امّت رحمة اللہ علیہ کے اس فرمان کا معنیٰ ہے کہ (عاشوراء اسلام را زندہ نگہہ داشتہ است) یعنی اسلام کو عاشوراء نے زندہ رکھا ہے ۔ ایّام فاطمیہ بھی اسی طرح ہے ، ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولادت اور شہادت کے ایّام بھی اسی طرح ہے۔ پس آپ شعراء ومدّاحان کو چاہئے کہ اپنے اس ہنر کے ذریعے اس محبّت کو لوگوں کے دلوں کی گہرائی میں اتاریں اور اس محبت کو ہمیشہ تازہ رکھیں "۔

(دیدار رہبر معظّم دام ظلہ با مداحان تہران ،قم و کرج بہ مناسبت ولادت حضرت زہرا)

رہبر معظّم دام ظلہ کے ان فرامین کی روشنی میں یہ بات ہمارے ذہن میں آجاتی ہے کہ :

آئین عشق ومحبت آئین تشیع ہے ۔ (اس مکتب میں جو قوانین اور اصول وضوابط پائے جاتے ہیں ان میں سے تولّاوتبرّا بھی ہے جس پر ہمارا عقیدہ ہے) جس کا مقصد دوستی اور دشمنی ہے اور دوستی و دشمنی کا مقصد بھی ہمارے بزرگان ورہبران دین امامان معصومین علیہم الصلواة والسلام نے خود بیان فرمایا ہے تاکہ لوگ معیار دوستی ودشمنی سے آگاہ ہوجائیں اور اس دوستی و دشمنی کے معیار کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بے راہ روی اور گمراہی کا شکار نہ ہوجائیں ۔ ائمہ علیہم السلام فرماتے ہیں، الحبّ للہ والبغض للہ، یعنی انسان اگر دوستی کرنا چاہتاہے تو اس دوستی کا معیار بھی اللہ کی ذات ہونا چاہئے اور اگر کسی سے دشمنی کرے تو بھی اس کا معیار اللہ کی ذات ہونا چاہئے چونکہ دنیا اور آئین دین میں جو کچھ ہے اسی ذات کی رضا کے لئے ہے جس نے کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے ہوئے نبی کو بھی عبدیّت کے دائرے میں رکھ کر عزّت بخشی ہے تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ساری عزّتیں نبوت اور رسالت کی وجہ سے ہیں۔ اور بس اسی لئے نماز میں اس باعزّت اور مقرب خدا شخصیت کے حوالے سے واجب ہوا ہے کہ بندہ خدا ہونے کی گواہی پہلے دیں پھر اس کی رسالت کا اقرار کریں جیسا کہ تشہد میں واجب ہے کہ جملات اس طرح سے ادا ہوں ۔ اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشہد انّ محمداً عبدُ ہ ورسولہ۔ یعنی میں اللہ کی وحدانیت کی گواہی کے بعد گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا عبد اور بندہ ہے جسکو اس نے رسالت پر مبعوث فرمایا ہے ۔

پس انسان کی زندگی کا ہر پہلو رضایت الٰہی ہے اور دین رضایت الٰہی حاصل کرنے کا قانون اور راستہ ہے ۔ جس کا آئین رسول گرامی اسلام اور اس کے حقیقی جانشینوں کے ذریعے بندوں تک پہنچا ہے ۔ اور اس رسول کے حقیقی جانشینوں کو رسول گرامی اسلام کی زبان سے امام مبین کا لقب دیا گیا ہے جو کتاب مبین کی تفسیر وتاویل کی ذمہ داری انجام دینے والے ہیں تاکہ بشر کلا م الٰہی کے حقیقی مفہوم سے آگاہ ہو ۔ اور ہمارے عقیدے کے مطابق امام جو کچھ بھی فرماتے ہیں تفسیر کتاب و سیرت رسول گرامی اسلام کے مطابق فرماتے ہیں ۔پس ائمہ علیہم السلام نے محبت اور نفرت (تولّا وتبرّا) کے معیار ومناط اور محور کو اللہ کی ذات قرار دیاہے ۔

پس اس مکتب میں جو فضائے محبّت اور دشمنی پائی جاتی ہے وہ اللہ کی رضا کی خاطرہے ۔ چونکہ اللہ کے رسول ان برگزیدہ افراد سے دوستی رکھتے ہیں اور اللہ اس کے رسول سے دوستی کو پسند کرتا ہے پس دوست کا دوست بھی دوست ہوتا ہے پس اللہ کے یہاں اس کا بھی مقام ومرتبہ ہے جس کو اسکی طرف سے محبت ملتی ہے پس اہلبیت علیہم السلام تو بطریق اولیٰ محبت الٰہی کا مرکز ہیں۔اسی طرح دشمنی اور نفرت کا معیار بھی یہی ہے کہ جن افراد کو اللہ کا نبی ورسول نے دشمن گردانا ہے وہ اللہ کے بھی دشمن ہیں پس ہمیں بھی ان سے دشمنی رکھنا چاہئے تاکہ دوست کا دشمن دشمن ہے پس جو ہمارے دوستوں سے دشمنی کرتے ہیں ہم ان سے دشمنی کرتے ہیں تاکہ دوست کی رضایت حاصل ہوجائے اور زیادہ سے زیادہ اس کے قریب ہوجائیں۔

(یہ ایک تفصیل طلب اور گستردہ موضوع ہے جس پر بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں لیکن آج تک بحث تکمیل کو نہیں پہنچی اور میں یہاں اس موضوع سے بحث کرنے کے موقع میں نہیں ہوں لہٰذا تفصیل کے لئے عقائد اور فروع دین کے بیان پر مبنی کتابوں اور کتب احادیث کی طرف مراجعہ فرمائیں)۔

 پس انکی محبت اللہ کی محبت ہے اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی حمایت اور ان کے فرامین پر ہمیشہ سر تسلیم خم رہے ۔ اور جہاں ان کے دشمن زبان کھولیں وہاں زبان و فکروقلم انکے مقابل میں تلوار کی طرح نیام سے نکالیں۔ پس شعراء اہلبیت کو چاہئے کہ اپنے افکار کے ذریعے اور قلم وزبان کے ذریعے ان کی محبت کو دنیا والوں کے دلوں تک پہنچائیں اور جو قلوب اس محبت کی نمی سے خشکیدہ ہیں ان کو معارف اہلبیت علیہم السلام کے ذریعے آبیاری کرکے سرسبز وشاداب بنائیں۔ تاکہ حق شاعری وحق محبت حتی الامکان ادا ہوسکے۔

واقعیت و تعقل:

رہبر معظّم دام ظلہ فرماتے ہیںکہ:توجہ داشتہ باشید آن چیزی را بخوانید کہ معقول باشد……"شعراء کو اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ جو کلام وہ پیش کررہے ہیں یا جو شعر وہ لکھ رہے ہیں وہ معقول ہو۔ البتہ یہ بھی نہیں کہ اپنے عقل کے زاویے کے مطابق ہر وہ چیز بیان کر یں جوخود چاہیں۔بلکہ اس معقول چیز کو قواعد اسلام ،روایات و احادیث و تاریخ سے موازنہ کیا جائے۔

تاکہ اس کی واقعیت ثابت ہو۔ہاں اگر کسی حدیث کو بیان کر رہے ہو ںجو ہنری ہو اور اس کے ساتھ کوئی پیر ایہ موجود ہو تو اس کے بیان میں کوئی مشکل نہیں ہے۔مگر ا س شرط کے ساتھ کہ وہ پیرایہ اصل (شعر وکلام) قرار نہ پائے ۔ ضروری ہے کہ اصل شعر کو واقعیت اور حقیقت سے لیا جائے اور اس حقیقت کو اپنے ہنر شاعری کے سانچے میں ڈھالا جائے"۔(اصول وروش مدّاحی ص ٨٣)

ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں انسان کو ہر وہ بات بیان کرنے کی اجازت نہیں ہے جو اس کی اپنی عقل کے مطابق ہو ۔ بلکہ اس عقل کوشریعت کی تائید ہونی چاہیے۔اگر ایسا نہ ہو احادیث اور روایات سے دور کوئی عقل ہو تو قابل قبول نہیں۔پس شعراء کو چاہیے کہ اپنی عقل کو روایات و آیات کے زاویئے میں پرکھیں اور اس سے حاصل شدہ نتیجہ کو شعر میںبیان کریں۔

ذکر مصیبت:

اب اس حوالے سے رہبر معظم فرماتے ہیں کہ:ذکر مصیبت یک چیز قھری است کہ حتما باید انجام شود…" ذکر مصیبت حتما شعر وں میں بیان ہونا چاہئے۔مگر ہم دیکھتے ہیںکہ کبھی کبھار کربلا کے واقعات کو شاعر اپنے لب و لہجے میں اور کبھی کربلا میں موجود بزرگواروں کے لہجے میں بیان کرتے ہیں۔اور وہ احساسات پر مبنی ہوتے ہیں یہ ذکر مصیبت نہیں ہے بلکہ جو کربلا میں گزرا ہے وہی بیان کیا جائے تاکہ یہ واقعہ و حماسہ زندہ رہے اور بھولنے نہ پائیں۔واقعہ کربلا کو نکتہ بہ نکتہ بیان کیا جائے۔جس مناسبت سے مجلس ہو اسی مناسبت سے تمام حالات کو بیان کیا جائے۔چاہے وہ شعری زبان میں ہو یا نثری زبان میں"۔

پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شعراء کو چاہیے کہ کربلا کی تاریخ اور واقعہ عاشورا کا نکتہ نکتہ اپنے اشعار میں بیان کیا جائے اور اپنی طرف سے بنی بنائی باتیں نہ کریں اور حقیقت گوئی سے گریز نہ کریں بلکہ واقعے کی حقیقت کو جہاں تک ہو سکے بیان کریں اور ہاں فکری اور تخیل کے طور پر بیان کرنا ہے تو بھی اس بات کا خیال رکھیں کہ کہیں تخیل حقیقت سے دوری کا باعث نہ ہو انسان حقیقت کو ہی تخیلات کی روشنی میں بیان کرسکتا ہے۔اور شعراء کو اس کا زیادہ خیال رکھنا چاہئے تاکہ واقعہ کربلا کا ہر لمحہ بطور حقیقت زندہ رہے۔

اصل تفہیم:

تفہیم شعر و محتوی کے حوالے سے مقام معظم رہبری فرماتے ہیں کہ :یکی از اصو ل مھم در مداحی اصل تفہیم است……شما باید این را بفہمانیدیعنی'' مداحی میں ایک اہم پہلو تفہیم یعنی سمجھانے کا پہلو ہے۔ہر سرود اور ہر دُھن آپ کو فائدہ نہیں دیتی ۔اس کے لیے ایک خاص روش اپنانی چاہیے۔ لوگ زبان شعر کو زیادہ چاہتے ہیں لیکن نثرکی طرح ان کے سمجھ میں نہیں آتی آپ کو چاہیے کہ شعر لوگوں کو سمجھائیں ۔ اور سمجھا نا صرف یہ نہیں کہ آدمی ایک خوبصورت آواز وخوش الحانی سے پڑھے اور مستمع (سننے والا) یہ نہ سمجھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ بلکہ شعراء کو اس انداز میں اشعار کے مطالب بیان کرنا چاہئے کہ لوگ سمجھیں (کہ وہ کیا کہہ رہا ہے)اور اگر آواز میں سُر نہ ہو اور سمجھانے کا ہنر رکھتا ہو تو اس شاعر کے کلام کو لوگ اسی عام لہجے میں ہی پسند کریں گے ۔ اور اگر لوگوں کی سمجھ میں (شعر کا مطلب) نہ آئے تو سُر کے ساتھ پڑھنے سے بھی لوگ پسند نہیں کریں گے کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ جو اس کے سمجھ میں نہیں آتا اسے پسند نہیں کرتاہے ''۔

پس رہبر معظّم دام ظلہ یہاں امام علی علیہ السلام کے اس فرمان کی روشنی میں ہدایت دے رہے ہیں کہ مولا نے فرمایا تھا ''کلم الناس علی قدر عقولہم''اس فرمان کی روشنی میں شعراء کو چاہیے کہ لوگوں کے مزاج کے مطابق ان کے قوت فہم کے مطابق شعر کہیں اور عام لوگوں میں سخت اشعار نہ کہیں ،خصوصا مصیبت کے اشعار عام فہم ہونا چاہیئں تاکہ لوگ واقعے کو سمجھ سکیں ۔(آئین ستایشگری ص٤٨)

پس یہ تھے وہ اہم فرامین جن کی طرف توجہ اور عمل ہر معاصر شاعر کے لئے ضروری ہے ۔ چونکہ ہمیں ایک خطرناک دور میں اسلام کو زندہ رکھنا ہے اور اگر کوئی شخص ہنر شعر کے ذریعے شعراء ماسلف کا وارث اور دین حق کا علمبردار بننا چاہتا ہو تو اس کے لئے ان تمام نکات کا خیال رکھنا لازمی ہے ۔

دعا ہے اے اللہ ہمیںبھی تیرے اولیا کے معیار کے تحت اشعار پیش کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔اور رہبر فرزانہ اسلام آیة اللہ خامنہ ای کو طول عمر عنایت کر اور ہمیں ان کے کلمات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق دے۔                        آمین!!!