پیام رافت شماره 2 حصه نثر3
شعراء اہل بیت
بقلم: سید محمد باقر نقوی
الحمد للہ رب العالمین والصلوة والسلام علی سید المرسلین وعلی آلہ الطیبین الطاھرین المعصومین اما بعد ؛
اللہ تبارک تعالی نے اس کائنات کو خلق فرمایا اور اسکی تدبیر وتنظیم کو احسن طریقے سے انجام دیا اس نے ہر مخلوق کو نرالے اعضاء وافعال عطاکیے اس لیے اس وسیع کائنات کی جس چیز کو بھی عاقل انسان دیکھتا ہے تو وہ اسے تعجب میں ڈال دیتی ہے اور وہ بے اختیار اسکے خالق ومالک کی حکمت واحسن تدبیرکی تعریف کرنے لگتاہے .
اسکی حسن صفت کی مثالوں میں سے ایک انسان اور اسکی زبان ہے اس نعمت کے متعلق ایک مفصل بحث کی جاسکتی ہے اسکے فوائد لا محدود ہیں لیکن چونکہ انسان کو مختار قرار دیا گیا ہے اس لیے اس بحث کو مختصر مقدمہ میں سمویا نہیں جاسکتااتنا نہایت واضح ہے کہ اللہ تعالی کی اس نعمت کا اصل مقصد افھام وتفہیم ہے اسی سے انسان اپنی ضروریات کو پورا کرتاہے اب زبان سے نکلنے والے کلمات کو جملوں میں ترتیب دیا جاتاہے اسکی دو قسمیں ہیں .
(١)نثر(٢) نظم
دونوں میں چونکہ فرق واضح ہے اولی الذکر میں فصاحت و بلاغت کا قطعاً انکار نہیں لیکن ماہرین ادب کے بقول ثانی الذکر کی فصاحت و بلاغت میں ایک چیز موجود ہے جادوئی تاثیر سے بھی تعبیر کیا جاتاہے .
جیساکہ بنی اکرمۖ سے امالی شیخ صدوق بلکہ اھل سنت کے کئی مدارک میں منقول ہے کہ ؛ انّ من البیان لحکمة ً وانّ من الشعر لسحراً .
یعنی شعروں کے وزن و قافیے اور اسکی مواد تخییل کی وجہ سے اسکی زیادہ تاثیر ہے .ہر دور میں شعر وشعراء کی عظمت کو ماناگیا ہے.قوم عرب زمانہ جاہلیت میں اپنے شعراء کو نہایت عظمت و عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے . اسلام نے بھی شعراء صالحین کو یقینا بے عظمت و بے قیمت قرار نہیں دیا بلکہ شعراء کی تقسیم کردی جو شعراء ظلم و جور کی تائید کرنے میں اپنے اشعار پیش کرتے تھے اور جوشہرت انگیز گھٹیا مقاصد کیلیے اشعار کہتے تھے انکو مذموم قرار دیا گیا بلکہ اپنے شعراء کے اشعار کو گندگی سے تعبیر کیا .
مگر جو شعراء ظالم و جابر حکمرانوں کے افعال پر نکتہ چینی کرتے تھے اور اعلی اخلاق کی تعلیمات و معارف کو اپنے اشعار میں پیش کرتے تھے اور مظلوم و حقدار افراد کی مظلومیت کو منظوم کرتے تھے خصوصا ً اھل بیت کے مناقب وفضائل کو اشعار میں بند کرتے تھے انکی ہر گز مذمت نہیں کی گئی بلکہ انکو تائید الہی اور توفیق خداوندی کے علاوہ معصومین کی تعریف و ثناء شامل حال رہی ہے.
میںنے اپنے اس مقالہ میں کوشش کی ہے کہ جید شعراء اھل البیت کے متعلق مستند اور معتبر روایات معصومین اور تاریخی حوالہ جات کے ذریعے مختصر بیانات پیش کیے جائیں . اور امید رکھتا ہوں کہ خداوند متعال میری اس کو شش کو شرف قبولیت بخشے اور لغزش قلم سے بچائے۔
فرزدق شاعر بیباک
فرزدق کے حالات زندگی:
فرزدق کا اصل نام : ھما م بن غالب بن صعصہ تھا ۔ ولادت ٠٣٨ ھ وفات ١١٠ھ
یہاں ہم اعیان الشیعہ سے ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس میں اما م علی نے فرزدق کے باپ سے پوچھا تو کون ہے تو اس نے عرض کی غالب بن صعصہ مجاشعی۔
امام نے پوچھا تیرے پاس بہت زیادہ اونٹ ہیں ؟ اس نے عرض کی جی ہاں .
امام نے پوچھا تو نے اپنے اونٹوں کو کیا کیا ؟ اس نے عرض کی مصیبتوں نے انکو لے لیا اور حقوق انکو کھاگئے امام نے فرمایا یہ انکے لیے بہترین راہ خرچ ہے.
پھر امام نے پوچھا کہ اے ابو الخطل یہ جوان کون ہے اس نے عرض کی یہ میرا بیٹا فرزدق ہے جو شاعر ہے
امام نے فرمایا :علّمہ القران فانّہ خیر لہ من الشعر ۔
اسے قرآن پڑھائو کہ یہ اس کیلیے شعروں سے بہتر ہے تو فرزدق نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور قسم اٹھائی کہ جب تک قرآن حفظ نہ کر لے ان قیود سے رہا نہ ہو گا .
حوالہ: اعیان الشیعہ ج ١٠ ص ٢٦٧ طبع دار التعارف بیروت ١٩٨٦ ْ١٤٠٦ ۔
فرزدق کا گھرانہ بنی تمیم میں شریف ترین گھرانہ تھا اسکا والد غالب سخی اور شریف تھا اسکے دادا صعصہ نے نبی اکرم ۖ کے پاس آکر اسلام قبول کیا تھا اور اس نے زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے سے منع کیا ہوا تھا اور بنی تمیم میں سے کسی لڑکی کو زندہ دفن نہیں کرنے دیتے تھے اور فرزدق کے والد کی کنیت ابو الاخطل تھی اور انکی قبر کا ظمیہ میں زیارت گاہ ہے خوفزدہ لوگ وہاں جائیں تو امان پاتے ہیں اور پناہ ڈھونڈنے والوں کو پناہ ملتی ہے ( حوالہ سابق )
فرزدق ہشام بن عبدالملک اور جریر کا ہم عصر تھا اور اس نے معصومین کی مدح کو اپنا دین سمجھا ہوا تھا وہ ایک فاضل انسان تھا وہ حافظ قرآن اور اسکے معانی پر گہری نگاہ رکھتا تھا .
کشی بسند خود محمد بن عایشہ سے روایت کرتے ہیں ھشام بن عبدالملک نے نے عبدالملک اور ولید کے زمانہ خلافت میں حج کیا اس نے خانہ خدا کا طواف تو کر لیا مگر جب حجر اسود کا بوسہ لینے لگا تو لوگوں کے ہجوم کیوجہ سے قریب نہ جا سکا پھر اسکے لیے منبر لگا یا گیا وہ اس پر بیٹھ گیا اور اھل شام اس کے گرد کھڑ ے ہو گئے اسوقت اما م علی بن الحسین زین العابدین تشریف لا ئے خوبصورت نورانی چہرہ میٹھی میٹھی خوشبواور کثرت سجود کے نشانات آپ نے خانہ خدا کاطواف کیا جب حجر اسود کے مقام پر پہنچے تمام لوگ آپکے رعب اور احترام کیوجہ سے پیچھے ہٹ گئے یہ منظر دیکھ کر ہشام کو بہت غصہ آیا تو ایک شامی نے پوچھا کہ اے ہشام یہ کون شخص ہے جسکی ھیبت نے لوگوں کے ہجوم کو منتشر کردیا اور وہ حجر اسود سے دور ہو گئے تو ہشام نے کہا میں اسے نہیں جانتا اسکی وجہ یہ تھی کہ کہیں اھل شام انکی طرف رغبت نہ کریں اس مقام پر فرزدق موجود تھا اس نے کہا میں انہیں جانتا ہوں تو اس شامی نے کہا کہ اے ابو فراس یہ کو ن ہیں . ؛ تو انہوں نے کہا :
(١) ھذا الذی تعرف البطحاء وکانہ والبیت تعرفہ والحل ّ والحرم
یہ وہ شخصیت ہیں جنکے نشان و قدم کو وادی بطحا جانتی ہے اور خانہ خدا اور حرم و حرم سے باہر بسنے والی مخلوقات انہیں جانتی ہیں .
(٢)ھذا ابن خیر عباد اللہ کلھم ھذ االتقی النقی الطاھرالعلم
یہ تمام بندگان خدا میں سے بہتر ین فرد ہیں اور یہ متقی و پرھیز گار پاک و پاکیزہ اور نشان ھدایت ہیں
(٣) ھذا علی رسول اللہ والدہ امت بنور ھداہ تھتدی الظلم
یہ علی ( زین العابدین ) ہیں جنکے والد گرامی رسول اکرم ۖ ہیں جنکے نور ہدایت سے تاریکیاں چھٹ گئیں ؛
(٤) اذا راتہ قریش قال قائلھا الی مکارم ھذا انتھی الکرم
جب قریش انہیں دیکھتے ہیں تو کہنے والے کہتے ہیں انکے بلند مرتبہ اخلاق پہ جو د و سخا کی انتھا ء ہوتی ہے .
(٥)ینمی الی ذروة العز الذی قصرت عن نیلھا عرب الاسلام والعجم
انہیں عزت و شرف کی وہ بلندی نصیب ہوئی ہے جسکو پانے سے عرب و عجم قاصر ہیں
(٦) یکاد یمسکہ عرفان راحتہ رکن الحطیم اذا ما جاء یستلم
رکن حطیم شاید ہی انکو انکی سخاوت سے روک سکے جب آپ حجر اسود کا بوسہ لینے آتے ہیں .
(٧)یفضی حیاء ویفضی من مھابتہ فما تکلم الاّ حین یتبسم
یہ اپنی طبیعی حیاداری اور شرافت کیوجہ سے آنکھیں جھکا ئے رکتھے ہیں اور لوگ انکے رعب ودبدبہ کیوجہ سے آنکھیں نیچی رکھتے ہیں اور ان سے صرف اسوقت بات کی جاسکتی ہے جب آپ مسکرا رہے ہوں .
(٨)ینشق نورالھدی عن نور غرتہ کا لشمس تنجاب عن اشراقھا الظلم
نو ر ھدایت انکے نور جبیں سے پھوٹتا ہے جیسے سورج کے چمکنے سے تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں .
(٩) بکفہ خیزران ریحھاعبق من کف اروع فی عرنینہ شم
انکی خیزران کی نسبت نرم و نازک ہتھیلی جس سے میٹھی میٹھی خوشبو پھوٹتی ہے اور جسکا رجحان تمہیں حیرت زدہ کرتاہے اور انکے چہرے پہ خوبصورت آنکہیں اور ناک کا قیافہ نہایت حسین ہے.
(١٠) مشتقہ من رسول اللہ نبعتہ طابت عناصر ہ والخیم والشیم
آپکی ریش مبارک رسول اکرم کے روئے مبارک کی شبیہ ہے اور آپکی طبیعت اخلاق اور افعال پاک و پاکیزہ ہیں .
(١١) حمال اثقال اقوام اذا فئہ حو حلو ا شمائل یحلو عندہ النعم
جب لوگ اپنے وزن نہیں اٹھا سکتے تو یہ انکی مدد کرتے ہی اور جب آپ سے سوال کیا جاتا ہے اور آپ ہاں میں جواب دیتے ہیں اسوقت آپکے شکل و شمائل بہت پیارے ہوتے ہیں .
(١٢) ھذا ابن فاطمہ ان کنت جاھلہ بجدہ انبیاء اللہ قد ختموہ
یہ فرزند فاطمہ ہے اگر تو انکو نہیں جانتا انکے جد امجد پر تمام انبیا ء کا اختتام ہوتاہے .
(١٣)اللہ فضّلہ قدماء شرفہ جری بذاک لہ فی لوحہ القلم
اللہ تعالی نے انہیں زمان قدیم سے فضیلت اور شرافت دی ہے اور انکی عظمت کے قصیدے لوح محفوظ میں لکھ دئیے ہیں .
(١٤) من جدہ دان فضل الانبیاء لہ و فضل امّتہ دانت لہ الامم
انکے جد امجد کی عظمت کو انبیاء کی فضیلتیں نہیں پہنچ پاتیں اور انکی امت کی عظمت کے سامنے تمام امتوں کی عظمتیں کم نظر آتی ہیں .
(١٥) عم البریہ باالاحسان وانقشت عنھا الفمایہ ولاملاق والظلم
جنکے احسن بنی نوع انسان پر چھائے ہوئے ہیں اور ان سے جھالت و فقر کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں .
(١٦)کلتایہ یہ غیاث عم ّ نفعھما یستو کفان ولا یعر وھماعدم
آپکے مبارک ہاتھوں کی باران کرم تمام لوگوں پر برستی ہے اور کبھی بھی انہیں عدم و نابود عارض نہیں ہوتی .
(١٧) سھل الخلیفة لا تخشی بوادرہ یزینہ خصلتان الخلق والکرم
آپ نرم و مزاج ہیں اور انکے غصے کا ڈر نہیں اور دو خصلتوں ( احسن خلق اور جود سخا ) نے انہیں مزین کردیا ہے .
(١٨) لا یخلف الوعد میمون نقیبتہ رحب الفناء ادیب حین یعتزم
آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے آپکی طبیعت ومزاح نہایت قابل تعریف ہے .
(١٩)من معشر حبھم دین و بغضھم کفر وقربھم منجی ومعتصم
لوگوں کا ان سے محبت کرنا عین دین ہے اور ان سے بغض وکینہ رکھنا عین کفر ہے انکا قرب ہی نجات دینے والا اور بچانے والاہے .
(٢٠)یستدفع اسور والبلوی بحبھم ویسترب بہ الاحسان و النعم
انکی محبت کے صدقہ میں بلائیں دور ، اور انکے وسیلے سے احسان خدا اور نعمات الہی کو حاصل کیا جاتاہے .
(٢١)مقدم بعد ذکر اللہ ذکرھم فی کل یوم و مختوم بہ الکلم
ذکر خدا کے بعد ہر روز انکا ذکر سب سے مقدم ہے اور انہی کے ذکر کے ساتھ کلام کا اختتام ہوتا ہے .
(٢٢)ان عدّ اھل التقی کا نوا ائمتھم او قیل بن خیر اھل الارض قیل ھم
اگر اھل تقوا کو شمار کیا جائے تو یہ متقیوں کے امام نظر آئینگے اور اگر روئے زمین پر بسنے والوں میں سے سب سے بہترین افراد کے متعلق سوال کیا جائے تو بھی سب سے بہترین ہونگے .
(٢٣) لا یستطیع جواد بعد غایتھم ولا یدانیھم قوم وان کرموا
کوئی بھی سخی انکی بلندی و عظمت کو نہیں پہنچ سکتا اور کوئی قوم جتنی بھی کریم و شریف ہوانکا مقابلہ نہیں کر سکتی
(٢٤) ھم الغیوث ماازمہ ازمت ولا سد اسد اشری والناس محتدم
جب قحط سالی کا زمانہ ہو تو انہی کے صدقے میں باران ہوتی ہے اور جب لوگوں کا ہجوم ہو تو یہ بہادر شیروں کی مانند ہوتے ہیں
(٢٥) یابی لھم ان یحل الذم ساحتھم خیم کریم واید بالندی ھضم
کریم اخلاق انکے در پر مذمت کو آنے نہیں دیتے اور انکے ہاتھوں کی سخاوتیں ہر وقت جاری ہیں .
(٢٦)لاینقص العسر بسطامن اکفھم سیان ذلک ان اثروا وان عدموا
حالات کی تنگی انکے سخا کو کم نہیں کرتی چاہے انکے پاس مال ہو یا کچھ نہ ہو انکی سخاوت کے انداز نہیں بدلتے
(٢٧)ای الخلائق لیست فی رقابھم لا وّلیّة ھذا اولہ نعم
مخلوقات میں سے کسی کا بھی احسان انکی گردن پرنہیں ہے کیونکہ انکے آباواجداد اور خود انکے احسان لوگوں کو گھیرے ہوئے ہیں .
(٢٨) من یعرف اللہ اولیة ذا فالدین من بیت ھذا نالہ الامم
جو شخص اللہ تعالی کی معرفت رکھتاہے وہ انکے آباو اجداد اور خود انکی بھی معرفت رکھتاہے دین تو انکے گھر سے لوگوں نے پایا ہے .
یہ سنکر ہشام کو بہت غصہ آیا اس نے فرزدق کو قید کرنیکا حکم دیا تو انہیں مکہ و مدینہ کے درمیان مقام عسفان میں قید کیا گیا . جب امام علی زین العابدین کو معلوم ہو اتو آپ نے انکی طرف بارہ ہزار درھم بھیجے اور فرمایا اے ابو فراس معاف رکھنا اگر ہمارے پاس اس سے زیادہ ہوتے تو بھی تیرے پاس پہنچاتے مگر فرزدق نے وہ رقم واپس کردی اور عرض کی اے فرزند رسول وہ جو میں نے اشعار کہے تھے مجھے خدا اور اسکے رسول کیخاطر غیظ و غضب تھا میں اسکے ذریعے کچھ کمانانہیں چاہتا تھا مگر امام نے درھم پھر واپس کیے اور فرمایا اب میرے حق امامت کے واسطے انکو قبول کر لو تیری عظمت نیت کو خدا خوب جانتاہے تو فرزدق نے وہ درھم قبول کر لیے اور اس نے قید میں ہشام کی ہجو کرنا شروع کردی ان میں سے دو شعر یہ تھے
اتجسن بین المد ینہ والتی الیھا قلوب الناس لھوی منیبھا
تقلب رئاسالم یکن سید وعینالہ حولاء بادٍ عیوبھا
تو اس نے فورا انہیں رہا کردیا .
منابع و مدارک:
رجال کشی ص ١٣٣۔١٢٩ روایت ٢٠٧ ۔
اعیان الشیعہ ص ٢٦٩۔ ٢٦٨،ج١٠۔
کمیت بن زید اسدی ابو المستھل شھیدولایت
ولادت ٦٠ھ شھادت ١٢٦
ابوالمستھل کمیت درجہ اول کے شعرا میں سے تھے لغات عرب اور تاریخ عرب پر گہری نگاہ رکھتے تھے معاذ ھراء سے سب سے بڑے شاعر کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ کمیت اشعر االاولین والاخرین کمیت اولین اور آخرین میں سے سب سے بڑے شاعر ہیں .
حوالہ: آغانی جلد ١٧ صفحہ ٣٥
کمیت کا بیان ہے کہ میں نے جب اپنا پہلا قصیدہ لکھا تو اسے فرزدق کے حضور پیش کیا
طربت وما شوقاً الی البیض اطرب ولا لعبا ً منّی وذو الشیب یلعب
''میں حد سے زیادہ خوش ہوا جبکہ میری یہ خوشی سفید چہروں کے شوق سے نہیں تھی میری یہ خوشی لھو و لعب کیوجہ سے بھی نہیں تھی کیونکہ کوئی بزرگ لھو ولعب میں نہیں پڑتا ''
تو فرزدق نے کہا ارے تم تو ابھی جوان ہو تم کھیلو کو دو بتائو پھر تمھاری خوشی کیوجہ سے تھی میں نے کہا .
ولکن الی اھل الفضائل والتقی وخیر بنی حوّا والخیر یطلب
میری خوشی اھل فضائل و تقوی کی محبت کیوجہ سے ہے جو کہ اولاد آدم وحوا ء میں سے بہترین لوگ ہیں اور ایسے بہترین لوگوں کی محبت ہی رکھنی چاہیے۔ فرزدق نے کہا وہ کون ہیں تو میں نے کہا ؛
بنی ہاشم رحط التی فاننی بھم ولھم ارضی ٰ مرارً ا واغضب
وہ بنی ہاشم ہیں جو بنی اکرم ۖ کے گروہ میں سے ہیں اب میری خوشیاں اور غم انہی کیخاطر ہیں۔ تو فرزدق نے کہا خدا کی قسم تم سابقہ اور باقی تما م شعراء سے بڑے شاعر ہو .
کشی نے بسند خود امام باقر سے کمیت کے بارے میں نقل فرمایا کہ کمیت نے آپ سے شیخین کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا قیامت تک جو بھی نا حق خون بہایا جائیگا اور جتنے بھی فیصلے حکم خدا اور حکم رسول کے خلاف کیے جائینگے وہ انکی گردنوں میں پڑیں گے کمیت نے عرض کی مولا کافی ہے .
حوالہ :رجال کشی روایت نمبر ٣٦١.
امام باقر سے منقول ہے کہ آپ نے کمیت سے فرمایا اے کمیت اگر ہمارے پاس دولت کا ڈھیر ہوتا تو ہم ضرور تمہیں دیتے لیکن ہم تیرے لیے وہی کہتے ہیں جو نبی اکرم ۖ نے حسان کیلیے کہا تھا :
''لا یزال معک روح القدس ما ذببت اناّ ''
جب تک تو ہمارا دفاع کرتا رہیگا اسوقت تک روح القدس تمہاری تائید کرتا رہیگا .
حوالہ :رجا ل کشی روایت ٣٦٥۔بحار الانوار ص٣٢٢ وبعد۔
رجال کشی میں ایک روایت منقول ہے راوی کہتاہے کہ میں امام موسی کاظم کے حضور موجود تھا کہ کمیت تشریف لائے آپ نے فرمایا یہ شعر تیرا ہی ہے کہ اب میں بنی امیہ کیطرف جاتا ہوں اور امور اپنے نتائج سے پہچانے جاتے ہیں کمیت نے عرض کی مولا یہ میرا ہی شعر ہے لیکن خدا کی قسم میں نے اپنے ایمان سے نہیں پھرا لیکن میں نے یہ اشعار تقیہ کیوجہ سے کہے ہیں .
تبصرہ و تحلیل ؛
ظاہر اراوی سے اشتباہ ہوا ہے صحیح یہ ہے کہ یہ سوال و جواب حضرت امام صادق کے پاس ہوئے چونکہ کمیت حضرت امام موسی کاظم سے دو سال قبل فوت ہو چکے تھے .
بعض ماہرین کا قول ہے کمیت میں دس ایسی صفات تھیں جو کسی شاعر میں جمع نہیں تھیں وہ قبیلہ بنی اسد کے خطیب تھے . وہ قوم شیعہ کے فقیہ اور مجتہد تھے وہ قرآن مجید کے حافظ تھے . انکا حافظہ قوی تھا ،خوش نویس کاتب تھے ،انساب عرب کے ماہرین میں شمار ہوتے تھے . بہترین مناظر تھے ( بلکہ جاحظ نے تو یہ سمجھ لیا ہے کہ قوم شیعہ کے پہلے مناظر تھے لیکن اسکا جواب شیخ مفید نے یوں دیا کہ وہ قوم شیعہ کے پہلے مناظر نہیں تھے ان سے پہلے اصحاب پیامبر ۖ اور اصحاب آئمہ معصومین نے مناظر ے کیے تھے اور مذھب حقہ کی ادلہ پیش کی تھیں ) بنی اسدمیں ان سے بڑا کوئی تیر انداز نہیں تھا . نہایت بہادر اور شجاع گہوڑے سوار تھے سخی اور دین دار تھے
حوالہ: شرح شواہد معنی جلد ١ صفحہ ٣٨ ؛
(کمیت کا مشہور ومعروف قصیدہ (ہاشمیات ))
نفی عن عینک الارق الھجوعا وھم یمتری منہا الدموعا
راتوں کو جاگنے سے تیری آنکھوں سے نیند اڑگئی .
دخیل فی الفئواد یہیج سقماً وحزناً کان من جذل ٍ منوعا
غم اشک آور جس نے خوشی کو بھلادیا دل پر سوار ہے .
وتو کاف الدموع علی اکتئاب ٍ احلّ الدّھر موجعہ الضلوعا
آنسو ئوں بہتے ہیں اور غم واندوہ کی حالت طاری ہے جس سے درد مصیبت دل پر جملہ آور ہے .
تر قرق اسمحاً درئًاوسکباً یشہ سحماغرباّ ھموعاً
آنسوئوں کی بارش آنکھوں سے جاری رہتی ہے جن کے بہنے سے بڑے بڑے ظروف پر ہوجاتے ہیں .
لفقدان الخضار م من قریش وخیرا الشافعین معاً شفیعا
یہ سب دکھ درد اور اشک و آنسو قریش کے بزرگان اور بہترین مخلوق (رسول اکرمۖ ) کے فقدان کے سبب سے ہیں جو سب خدا وند رحیم و کریم کی بارگاہ میں شفاعت کرنیوالے ہیں .
لدی الرحمن یصدع بالمثانی وکان لہ ابو حسن ٍ قریعا
وہ پیغمبر خدا جو با آواز بلند مثالی (سورہ حمد ) کی تلاوت کرتے ابوالحسن (علی ) انکے برگز یدہ فرد تھے .
حطوطا ً فی مسرتہ و مولی الی مرضاة خالقہ سریعاً
وہ علی جو اپنی خوشیاں بھول کر خوشیاں بھول کر خوشنودی خدا کے لیے جلدی کرتے تھے .
واصفاہ النبی علی اختیار بمااعیاالرفوض لہ المذیعا
پیغمبر ۖ اکرم نے انہیں اس لیے اختیار کیا تاکہ جو لوگ آپکے ذکر سے گریزاں تھے انکو دھونڈا جائے .
ویوم الدوح دوح غدیر خم ابان لہ الولایة لو اُطیعا
غدیر خم میں ایک لمبے درخت کے نیچے نبی اکرم ۖنے ولایت کو خوب واضح کردیا کاش اسکی اطاعت کیجاتی .
ولکنّ الرجال تبایعوھا فلم ارمثلھا خطراً مبیعا
لیکن ان لوگوں نے عھد و پیمان ولایت کو توڑ دیا مجھے تو اس جیسا عظیم عھدوپیمان کوئی دوسرا نظر نہیں آیا
فلم ابلغ لعناً ولکن اساء بذاک اوّلھم صنیعا
میں ان پر لعنت تو نہیں بھیجتا مگر اس عھد و پیمان کو توڑ کر اول نے بدکاری کی .
فصار بذاک اقربہم لعدل ٍ الی جودٍ واحفظھم معنیھا
اور اس کام کے ذریعے دوسرا جو عدل و انصاف کا پاسداری تھا وہ ظالم اور ستمگر بن گیا .
اضاعو امر قائدھم فضلّوا اوقومھم لدی الحد ثان ریعا
انہوں نے اپنی پیشوا (حضرت محمد مصطفی ) کے حکم ضائع کردیا آپ ایسے آقاتھے جو حوادث روزگار میں استوار رہنے والے تھے مگر اس فرمان کو ضائع کر کے وہ گمراہی میں پڑگئے .
تناسوا حقہ و بغو علیہ بلا ترةٍ وکان لھم قریعا
انکے حق کو انہوں نے بھلا دیا حالانکہ وہ سب کیلیے باعث خوشی تھے اور انہوں نے کوئی گناہ بھی نہیں کیا مگر انہوں نے ان پر ظلم روا رکھا .
فقل لبنی امیّہ حیث حلّوا وان حفت المھند و القطیعا
بنو امیہ تجھے جہاں ملیں ان سے کہہ دے اگر چہ تو انکی شمشیر اور تازیانوں سے ڈرتا ہو .
الاافٍّ لدھرٍ کنت فیہ ھدانا طائعاًلکم مطیعا
آہ افسوس اس زمانے پر کہ جس میں خوف سے تمھاری اطاعت کیلیے میں مجبور ہوں .
اجاع اللہ من اشبعتموہ واشبع من بجوکم اجیعا
خدا اس شخص کو بھوکا و پیاسا رکھے جسکو تم سیر کیا او راس شخص کو سیراب کرے جسکو تم نے بھوکا رکھا .
ویلعن فذا امّتہ جھاداً اذا اساس البریّة والخلیعا
اللہ تمھارے پہلے بے پردہ شخص (معاویہ ) اور خلیع ( ولید بن عبدالملک ) پر لعنت کرے .
عرضی السّیاسہھاشمیٍ یکون حیاً لامّتہ ربیعا
کیونکہ انہوں نے اس ھاشمی نسب سیاستمدار کی جگہ حکومت قائم کی جس پر امت مسلمہ راضی و خوش تھی اور انکا وجود امت مسلمہ کیلیے بابرکت اور مثل موسم بہار سر سبز تھا .
ولیثاً فی المشاھد غیر نکسٍ لتقویم البریّة مستطیعا
وہ جنگ کے میدانوں میں شکست ناپذیر تھا اور لوگوں کو راہ راست پر لانے میں قدرت و طاقت رکھتاتھا .
یقیم امورھا و یذبّ عنھا ویترک جدبھا ابداء عریعا
وہ امت مسلمہ کے معاملات کو سلجھانے والا تھا اور انکا دفاع کرنے والا تھا اور خشک سالیوں کیلیے فراواں نعمتوں سے پر کرنیوالاتھا .
کمیت کی شھادت
کمیت باسعادت زندگی گزار کر امام سجاد کے دعاکے مطابق شھادت کے درجے پر فائز ہوئے اور انہیں ایک سو چھبیس ہجری میں ظلم و جو ر کے ساتھ شھید کیا گیا . خالد قسری منبر پر خطبہ دے رہا تھا ادھر سے جعفر یہ ( مغیر ہ بن سعید اور اسکے گمراہ ساتھی ) نے خروج کردیا خالد کو جب پتہ چلا تو وہ خوف زدہ ہو گیا اس نے کہا مجھے پانی دو لوگوں نے جاکر ان خروج کرنیوالوں کو گرفتار کیا اور انکو مسجد میں لا کر قتل کر کے جلا دیا خالد کے معزول ہو نیکے بعد اسکی جگہ یوسف بن عمر نے لے لی کمیت پہلے اسکی مدح کر چکے تھے اس لیے انکے پاس چند اشعار پڑھے جن مین خالد کی ہجو تھی یوسف کے پاس کھڑے ہوئے آتھ سپاہیوں کو خالد کی خاطر تعصب اور غصہ آیا
انہوں نے تلوار یں کمیت کے سینے میں پیوست کر دیں حتی کمیت اللہ کو پیارے ہو گئے انکے آخری جملے اللھم آل محمد ۖ اللھم آل محمد ۖ اللھم آل محمد ۖ
آغاغی جلد ١٧ صفحہ ٤٣ الغدیر جلد دو صفحہ ٣٠٧.
سید اسماعیل بن محمد حمیری (وفات ١٧٣ھ)
حمیری اھل بیت علیھم السلام کے مشہور شعراء میںسے ہے جو نسل بنی ھاشم میںسے نہیںتھے سید انکا لقب ہے جو کہ بچپن میںبھی انہیںسید کے لقب سے پکارا جاتا تھا . کشی نے روایت کی ہے کہ امام صادق نے جب حمیری شاعر سے ملاقات کی تو فرمایا سمّیتک اُمّک سید ا ً و وفّقت فی ذالک انت سید الشعراء .تیری ماںنے تیرا نام سید رکھا اور اس میں توفیق خدا سے نوازی گئی تو شعراء کا سردار ہے سید نے اس مناسبت سے ایک قصیدہ بھی کہا تھا سید اھل بیت کی محبت میں نہایت راسخ تھے اور دشمنان اھل بیت سے کسی قسم کاتقیہ نہیںکرتے تھے بلکہ انہیںسر عام ذلیل و رسوا کرتے تھے سید کے والدین اباضی ( خارجی ) عقیدے سے متعلق تھے سید نے انہیںبہت نصیحت کی حتی انکے چند قصائد اپنے والد کو نصیحت پر مشتمل ہیں .
سید خود ابتدا میںمیںکیسانی المذھب تھے لیکن بعد میںامام صادق کے توسل سے انہیںاس سے نجات ملی اور سید امامیہ اثناء عشری شیعہ میںداخل ہو گئے کشی نے روایت کی ہے کہ سید کا ایک مرتبہ سخت بیماری میں چہرہ سیاہ ہو گیا تھا اسوقت امام جعفر صادق کو فہ تشریف لا چکے تھے کیونکہ آپ اسی وقت ابو جعفر منصور دوانقی کے پاس سے لوٹے تھے راوی کا بیان ہے کہ میںامام کے پاس پہنچا اور عرض کی مولا میں آپ پر قربان جائوں میں سید حمیری کو اس حال میں چھوڑ آیا ہوں کہ انکا چہرہ سیاہ ہو چکا . ہے اسکی آنکھوں سے سفیدی ظاہر ہو چکی ہے اور انھیں سخت پیاس کا سامنا ہے اور وہ بول بھی نہیںسکتے اس سے پہلے وہ نشہ بھی کیاکرتے تھے امام نے سواری تیار کرنے کا حکم دیا آپ سید کے پاس پہنچے وہاں لوگوں کا ہجوم تھا امام سید کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا اے سید اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں وہ امام کی زیارت کرنے لگا مگر بات نہیں کر سکتا تھا ہم نے جان لیا کہ وہ بولنا چاہتا تھا مگر قدرت نہیںرکھتا تو ہم نے دیکھا کہ امام نے اپنے لب ھائے مبارک کو حرکت دی تو سید بولنے لگا اور عرض کی میںآپ پر قربان جائوں ھکذا ا با ولیا ء ک یفعل ھذا .
کیاآپکے دوست داروں کے ساتھ اسطرح سلوک کیا جاتا ہے تو امام نے فرمایا کہ اے سید حق کا اقرار کرلو تو خدا تعالی تیری مصیبتیںختم کر دیگا اور تجھ پر رحم فرمائیگا . اور تجھے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے گا . جسکا اس نے اپنے اولیا ء سے وعدہ کر رکھا ہے تو سید نے ایک مشہور قصید ہ کہا تھا .
تجعضرت بسم اللہ واللہ اکبر ؛ میں اللہ کے مبارک نام سے امام صاوق کا عقیدہ اپناتا ہوں راوی کہتا ہے کہ امام ابھی وہیں تشریف فرماتھے کہ سید خود بخود اٹھ بیٹھے ( تنقیح المقال ص ٣٢٢الغدیر ص ١٢٤، مجالس المومنین ص ٥٠٦، ٢ .)
سید حمیری اسکے بعد ایک طویل عرصہ زندہ رہے اور انہوںنے فضائل اھلبیت کو مفصل قصیدو ںمیں لکھا او راس واقعہ کے بعد انکے متعلق نشہ آور چیزوں سوال کرنیکا کوئی ثبوت نہیںملتا بلکہ کشی کی ایک روایت کے مطابق سید کا شمار علماء و فقھاء شیعہ میںہوتاہے سید کو اس بات پر فخر تھا کہ اس نے اھل بیت معصومین کے تمام فضائل کو اپنے منظومہ کلام میں پیش کیا ہے اس لیے انکی زندگی میں ایک واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے مجمع عام میں کہا کہ اگر کوئی ایسی فضیلت معصومین کی جو روایات میں بیان ہوئی ہو پیش کرے اورمیں نے اسکو اپنے قصائد میں ذکر نہ کیا ہو تو کا فی دیر کے بعد صرف ایک شخص نے ایک روایت کا ذکر کیا جس پر پہلے سید نے قصیدہ کہا اور پھر اس راوی کو انعام دیا سید کی علم تاریخ اور ادب میں مھارت تامہ کا اقرار انکے ہم عصر اور انکے بعد آنیوالے مشہور شعراء اور ادباء نے کیا ہے سید کے قصائد جو میمیہ کے عنوان سے مشہور تھے انکی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ابن معتز نے طبقات الشعراء میں ذکر کیا ہے کہ اس سے کئی اونٹوں کا وزن بنتا تھا . سید کی زندگی کا یہ ایک انوکھا انداز ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی ایسی محافل میںگزاری کہ جن میں ذکر آل محمد ہوتا ہو .
ابن فرزدق جو اپنے باپ کیطرح فصیح و بلیغ شاعر تھے انکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ سید ہماری محفل میںتشریف فرماتھے جب موضوع گفتگو فضائل اھل بیت سے دنیاوی موضوعات کیطف مڑاتو سید اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ میںایسی محفل میںبیٹھنا پسند نہیںکرتا جسمیںذکر آل محمد ۖ نہ ہو سید نے بہت سے
خلفاء کے دور میںزندگی گزاری جنکی مجالس میںسید کو بلند مرتبہ حاصل تھا اسکے باوجود بھی انہوںنے اھل بیت کے فضائل اور مناقب کو اشعار میںپیش کیا اور دشمنوںکی سازشوںکی کوئی پرواہ نہیںکی اس قسم کے کئی واقعات قاضی سوار کے ساتھ انکے مشہور ہیں. سید کے قصائد اور اشعار امام صادق کے سامنے پڑھے جاتے تھے بلکہ امام خود اپنے اصحاب سے اسکے اشعار پیش کرنیکا تقاضا کرتے تھے اور یہ خود سید کی عظمت کی ایک قوی دلیل ہے .
کشی نے فضیل رسان سے روایت کی ہے کہ میںنے امام کے سامنے جب سید کے مشہور اشعار :
لام ّ امرٍ بانلو یہ مربع .......... پڑھے تو امام نے پوچھایہ کس کے اشعار ہیںمیں نے کہا یہ سید حمیری کے ہیں. پھرمیںنے عرض کی مولا وہ تو نبیذ استعمال کرتے ہیںتو آپ نے فرمایا خدا اس پر رحم کرے
خدا پر یہ گران نہیںکہ ایک محب علی کو بخش دے اور ہم اس سے پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ سید اپنی وفات سے بہت عرصہ پہلے نشہ ترک کرکے تائب ہو گئے تھے.
سید کی وفات حسرت آیات کا واقعہ بھی نہایت سبق آموز واقعہ ہے . روایات میںہے کہ سید کی وفات کے وقت دوسری مرتبہ انکا چہرہ سیاہ ہوا تو سید نے بلند آواز سے کہا کہ یا امیر المومنین ؛ ھکذایفعل باولیائکم ؛ آپکے دوست داروںکے ساتھ اسطرح سلوک کیا جاتا ہے جبکہ وہاںپر موجود عثمانی اور غیر امامی سید کی وہ حالت دیکھ کر خوش ہورہے تھے تو اسی وقت سید کا چہرہ چوہویںکیے چاند کیطرح روشن ہو گیا اور سید نے جان دیے دی سید کی وفات کے بعد ستر کفن انکے عقیدت مندوںکیطرف سے پیش کیے گئے لیکن انھیں ھارون الرشید کا بھیجا ہوا کفن دیا گیا اور عزت اور احترام کے ساتھ دعائے مغفرت اور دعائے خیر کی گونجوںمیںسپرد خاک کر دیا گیا .
ابو محمد سفیان بن مصعب عبدی کوفی
ابو محمد سفیان بن مصعب کوفی پاک پیغمبر ۖکے خاندان کے شعراء میںسے تھے . اور انکے ساتھ محبت و شعر کیوجہ سے قرب حاصل کیا اور صدق نیت اور خلوص ارادت کیوجہ سے انکی درگاہ میںمقبولیت حاصل کی . شیخ
طایفہ نے اپنی کتاب رجال میںعبدی کو اصحاب امام صادق علیہ السلام میں شمار کیا ہے البتہ اسکا امام کے ساتھ ہونا فقط امام کے ساتھ آمد و رفت نہیںتھی بلکہ وہ خالص محبت و ارادت اور ایمان کہ جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک تھا ،کیوجہ سے امام کے حضور بلند منزلت رکھتے تھے .
عبدی کے بہت سارے شعر مشہور مناقب امیر المومنین ،فضائل اور آپکے خاندان پاک پر ہیں کہ بہت خوبصورت پڑھے ہیں اور مصائب اھل بیت علیہم السلام پر بھی شعر کہے ہیںاور جو مصائب کہ ان پر گزرے ہیں انکو مرثیہ کی شکل میںکہا ہے . اور ہم نے اسکے شعر غیر اھل بیت کے بارے میںنہیں دیکھے ہیں .
امام صادق کی روایت ثقة الاسلام کلینی روضہ کافی میںہے کہ عبدی سے فرمایاکی کہ اپنے شعر پڑھے کلینی باسناد خود از (ابی داود مسترق) اور وہ خود عبدی سے نقل کرتے ہیں کہ عبدی کہتاہے کہ میں ابی عبد اللہ کی خدمت میںحاضر ہو ا آپ نے فرمایا کہ ام فروہ سے کہو کہ آئے اور جو اسکے جد پر مصائب گزرے ہیں وہ سنے
ام فروہ تشریف لائیں اور پشت پردہ بیٹھ گئیں. پس امام نے کہا ہمارے لیے شعر پڑھو اور میںنے پڑھے
فرو جودی بدمعک المسکوب
خواتین نے گریہ و بکا کیا ابی عبد اللہ نے فرمایا کہ گھر کے دروازہ کو دیکھو اھل مدینہ دروازے پر جمع ہو چکے تھے امام نے کسی کو بھیجا اور کہا کہ کہو کچھ نہیں ہو ا ہمارا ایک بچہ بیہوش ہو گیا تھا جسکی وجہ سے خواتین نے آہ و بکا کی . امام صادق علیہ السلام نے ابی عمارہ جو کہ شعر پڑھتا تھا سے فرمایاکہ عبدی کے شعر پڑھو خود ابی عمارہ کہتا ہے کہ ابو عبد اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ اے ابی عمارہ وہ شعرجو عبدی نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں کہے ہیں ہمارے لیے پڑھو میںنے پڑھے اور وہ روئے پھر پڑھے وہ اور روئے دوبار میں نے پڑھے تو انہوںنے آنسو بہائے خدا کی قسم میں لگاتار پڑھتا رہا اور وہ روتے رہے حتی کہ آہ و بکا کی آواز گھر سے باہر نکل گئی . اسی لیے امام نے اپنے شیعوں کو حکم دیا کہ اپنے بچوں کو عبدی کے شعر یاد کرائو .
عبدی آئین خدا پر ہے اسی طرح کہ کشی نے اپنی کتاب رجال میں صفحہ ٢٥٤ پر اپنی اسناد کے ساتھ سماعہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اے گروہ شیعیان عبدی کے اشعار اپنے بچوں کو سکھائو کیونکہ وہ دین خدا پر ہے کیونکہ اسکی گفتارصادق اور شیوہ شعردرست اور انکے معانی کی ہر نقص سے سالم ہیں فرمان امام ہے کہ جسکو کشی نے اپنی کتاب رجال کے صفحہ ٢٥٤ پر نقل کیا ہے عبدی سے فرمایا کہ خواتین جو
نوحے بوقت ماتم کہتی ہیں انکو شعر میں لے آئو .عبدی کا شیوہ یہ تھا کہ امام صادق علیہ السلام سے مناقب عترت طاہرہ کے بارے میں حدیثیںیا دکرتا تھا اور اسی وقت انکو نظم کی شکل میں ڈھال کر امام کی خدمت میں پیش کرتا تھا .
ابن عیاش نے ( مقتضب الاثر ) میں احمد بن زیادھمدانی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ علی بن ابراھیم بن ھاشم نے مجھے کہا میرے باپ نے حسن بن علی سجادہ سے اس نے ابان بن عمر خشن آل میثم سے حدیث کی اور کہا میں ابی عبد اللہ کی خدمت میںتھا کہ سفیان بن مصعب عبدی شرفیاب ہوا اور کہا آپ پر قربان جائوں اللہ تعالی کے اس کلام کے بارے میں کہ ؛ وعلی الاعراف رجال یعرفون کلا بسیماھم .
کیا فرماتے ہیں؟آپنے فرمایا کہ و ہ آل محمد ۖ سے اوصیا ء دوازدہ گانہ ہیں کہ جو انکو نہیںپہچانتا وہ خدا کو نہیں پہچانتا مگر یہ کہ وہ بھی اسکو پہچانتے ہوں. .تو عبدی نے کہاکہ میں آپ پر قربان جائوں'' اعراف '' کیا ہے ؟
تو آپ نے فرمایاکہ یہ مشک کے ٹیلے ہیں جن پر رسول خدا ۖاور اولیا ء خدا بیٹھے ہیں اور سب کے چہروں کو پہچانتے ہیں تو عبدی نے کہا کہ آیا اس بارے میں شعر کہوںاور اسی وقت قصید ہ کہا ؛
ایا ربعھم ھل فیک لی الیوم مربع وھل للیال ٍ کن لی فیک مر جع
اے پیشوایان دین آپ روز حشر و نشر حکمران اور روز سخت و خوفناک پناہ گاہ ہیں اور اعراف پر کہ مشک کے ٹیلے ہیں اور آپکی برکت سے خوش بو اس سے پھوٹتی ہے بیٹھے ہیں آپ میں سے آٹھ عرش پر ہیں کہ فرشتے انکو اپنے کندھوںپر اٹھائے پھر رہے ہیں اور چار زمین پر خلق خدا کی ہدایت میں مشغول ہیں . ( ترجمہ الغدیر فارسی جلد ٤ ، صفحہ ١٦٩)
دعبل بن علی زرین خزاعی شھید ولایت
(ولادت ١٤٨ شھادت ٢٤٦)
شیخ صدوق نے اپنی کتا ب عیون اخبار الرضا میں عبد السلام بن صالح ہروی سے نقل کیا ہے کہ جب دعبل بن خزاعی رحمة اللہ علیہ شھر مرو میں حضرت ابوالحسن علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا
اور اس نے امام رضا کی خدمت میں عرض کی اے فرزند رسول میں نے آپ کی شان میں ایک قصید ہ لکھا ہے او رمیں نے قسم کھائی ہے کہ یہ قصیدہ میںسوائے آپ کے کسی کو نہیں سنائوںگا تو امام رضا نے دعبل سے کہا کہ وہ قصید ہ ہمیںسنائو چنانچہ دعبل نے قصیدہ پڑھنا شروع کیا .
مدا رس آیات خلت من تلاوة ومنزل وحی مقفر العرصات
وہ مدارس اور محافل جہاں قرآن کی تلاوت ہوتی اور تفسیر کا درس دیا جاتا تھا اب خالی پڑے ہوئے ہیںاور وہ مقام جو مرکز نزول وحی تھا اس وقت بے آب وگیا ہ اور خشک صحرا کی مانند نظر آرہا ہے .
اری فیئھم وغیرھم مستقسما ً واید یھم من فیئھم صفرات
مسلمانوں کے غنائم اور بیت المال کو دیکھ رہا ہوں کہ دوسروں کے درمیان تقسیم ہورہے ہیں جبکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ان ( آل رسول ) کے ہاتھ ان ( غنائم سے خالی ہیں ) یہ شعر سننے کے بعد حضرت امام رضا نے گریہ کرتے ہوئے فرمایا کہ دعبل خزاعی واقعاً تم نے صیحیح کہا ہے اور ایسا ہی ہے . پھر جب دعبل نے یہ شعر پڑھا کہ .
اذا وتر و امدو ا الی واتر یھم اکفا عن الاوتار منقبضات
جب کبھی بھی وہ دشمنوں کے ظلم و ستم اور اذیتوں کا نشانہ بنتے ہیں تو اپنے ان ہاتھوں کو جو ہر قسم کے حربہ جنگ سے تہی اور بندھے ہوئے ہو تے ہیں اپنے دشمنوںکیطرف بڑھا دیتے ہیں .جب دعبل یہ شعر پڑھا رہا تھا حضرت امام رضا اپنے دونوںدست ہائے مبارک کو گھماتے جاتے اور فرماتے خدا کی قسم ؛ اپنے ہاتھوں کو دشمن کی اذیت و ظلم کی سزا کے لیے بروئے کا ر لانے سے بچاتے ہیں پھر جب دعبل نے یہ شعر پڑھا .
(٤) لقد خفت فی الدنیا و ایام سعیھا وانی لارجو االامن بعد وفاتی
ترجمہ؛میںچونکہ آپکی اور آپکے خاندان کی محبت رکھتا ہوں اس لیے میں نے اپنی ساری زندگی وحشت اور خوف میں گذاری ہے لیکن میری آرزو یہی ہے کہ میرے مرنے کے بعد عذاب سے امان اور نجات پاسکوں . امام رضا نے فرمایا اللہ تعالی تمھیں ''فزع اکبر '' سے نجات عطا فرمائے اسکے بعد جب دعبل نے یہ شعر پڑھا .
وقبر ببغداد لنفس زکیہ تضمنھا الرحمن فی الغرفات
ترجمہ :اور بغداد میں ْقبر ہے اس نفس زکیہ کی جس کے لیے اللہ سبحانہ و تعالی نے بہشت کے غرفوںمیں سے ایک غرفے کو اسکا مسکن قرار دیا ہے ( مراد امام موسی کاظم کی قبر ہے ) .
اس شعر کو سننے کے بعد امام رضا نے فرمایا دعبل یہاں ان دو ابیات کا میں اضافہ کردوں تاکہ یہ قصیدہ مکمل ہو جائے ؟ دعبل نے عرض کی ؛ جی ہاں ؛ اے فرزند رسول ضرور اضافہ فرمائیں چنانچہ امام رضا نے دو شعر پڑھے : و قبر بطوس یا لھا من مصیبة توقد فی الاحشاء بالحرقات
الی الحشرحتی یبعث اللہ قائماً یفرج عنا الھم و امکربات
او رایک قبر طوس میں ہے افسوس ہے اس قبر والے کی مصیبت پر کہ جسکی موت کے سانحہ کی آگ جسم کے رگ وپا اور اعضاء میںشعلہ زن رہیگی روز محشر تک ، مگر یہ خدائے متعال اس قائم (عج) کو مبعوث فرمائے گا جو ظالموں کے ظلم و ستم پر فتح و ظفر حاصل کر کے ہمارے رنج و غم کو کسی حد تک کم کرنے اور سکون کا باعث بننے کا سامان کرے گا . دعبل نے عرض کی مولا یہ تو بتائیں کہ طوس میں کس کی قبر ہو گی . امام رضا نے فرمایا وہ میری قبر ہوگی جہاں ابھی زیادہ عرصہ نہیںگزرے گا کہ وہ قبر ہمارے شیعوں اور زائرین کی آمد و رفت کا مرکز بن جائیگی اور میںاعلان کرتا ہوں کہ جو کوئی بھی عالم غربت میں میری قبر مطہر کی زیارت کرنیکے لیے طوس آئیگا اسے قیامت کے دن میرے ساتھ محشور کیا جائیگا اور اسکے تمام گناہ بخش دیے جائیںگے . دعبل جب اپنے اشعار سنا چکا حضرت امام رضا وہاں سے اٹھ کر گھر کے اندر تشریف لے گئے اور دعبل سے فرمایا کہ وہ اپنی جگہ سے اٹھے امام رضا نے گھر میںجانے کے بعد اپنے ایک غلام کو سود ینار کے سکے جن پر امام رضا کا اسم مبارک نقش تھا دیکر بھجوائے غلام نے یہ سکے دعبل کو دیئے اورکہا کہ مولا نے فرمایا ہے کہ ان سکوں کو اپنے اخراجات کیلیے رکھ لو دعبل نے کہا کہ خدا کی قسم میں مال دنیا کے حصول کیلیے نہیں آیا تھا میںنے یہ قصید ہ اس لیے نہیں کہا کہ امام رضا مجھے اسکا صلہ عطا فرمائیںلہذا یہ سکے مولا کو واپس کر دو اور اسکی جگہ بطور تبرک امام اگر اپنا لباس مجھے عنایت فرمائیں تو یہ بات میرے لیے باعث شرف افتخار ہو گی غلام نے واپس جاکر امام کو دعبل کو پیغام پہنچایا امام رضا نے اپنا ایک پیراہن ان سکوں کے ہمراہ دوبارہ بھجوادیا اور غلام سے کہا کہ دعبل سے کہو واپس نہ کرے جلد تمہیںانکی ضرورت پڑے گی .
چنانچہ دعبل امام رضا کا پیراہن اور وہ سکے لینے کے بعد مرو سے اپنے قافلے کے ہمراہ واپس روانہ ہو گیا ابھی قافلہ مرو اور قوھان کے درمیان پہنچاتھا کہ وہاںڈاکووں کے ایک گروہ نے قافلے پر حملہ کردیا اور قافلے والوں کو گرفتا ر کرلیا اور انکا تمام مال و اسباب لوٹ لیا جن افراد کوگرفتار کرکے رسیوں سے باندھا گیا ان میں دعبل بھی شامل تھا جب ڈاکووں نے لوٹا ہوا مال اپنے درمیان تقسیم کرنا شروع کیا تو ان میںسے ایک نے ضرب المثل کے طور پر دعبل کا شعر پڑھا .
اری فیئھم فی غیر ھم مستقسماً وایدیھم من فیئھم صفرات
دعبل نے جب یہ شعر سنا تو اس نے ڈاکووں سے کہا تمہیںمعلوم ہے کہ یہ شعر کس کا ہے؟
جس شخص نے یہ شعر پڑھا تھا اس نے کہا کہ یہ شعرقبیلہ خزاعی سے تعلق رکھنے والے دعبل بن علی نامی شاعر نے کہا ہے . دعبل نے اسے کہا کہ وہ دعبل خزاعی میںہوں اور یہ میرے کہے ہوئے قصیدہ کا شعر ہے وہ شخص دعبل کی بات سننے کے بعد اپنے سرگروہ کے پاس گیا جو کہ شیعوں میں سے تھا . اور اسے بتایا کہ گرفتار ہونے والوںمیں دعبل خزاعی بھی شامل ہے .ڈاکووںکے سرگروہ کو جب یہ خبر ملی تو اس نے خود آکر دعبل سے پوچھا واقعا ً یہ شعر تمہارے قصیدہ کا ہے دعبل نے کہا ہاںیہ میرے قصیدے کا ہے اس نے دعبل سے پورا قصیدہ سنانے کو کہا جب دعبل نے اسے پورا قصیدہ سنایا تو اس نے اپنے ساتھیوںسے کہا کہ دعبل اور اسکے تمام ساتھیوںکی رسیاں کھول دو پھر اس نے تمام لوٹا ہوا مال بھی واپس کردیا جسکے بعد دعبل اپنے قافلے کے ہمراہ جب قم پہنچا تو اھل قم نے اس سے یہی قصیدہ سنانے کی درخواست کی . دعبل نے جواب میں کہا سب لوگ قم کی جامع مسجد میںجمع ہو جائیںجب لوگ مسجد میں جمع ہوگئے تو دعبل نے منبر پر جاکر لوگوں کو یہ قصیدہ سنایا جسے سننے کے بعد اہل قم نے نقد مال کے علاوہ قیمتی خلعتو ں سے بھی دعبل کو نوازا اہل قم کو جب پتا چلا کہ حضرت امام رضا نے دعبل کو ایک پیراہن عطا فرمایا تو قم کے لوگوںنے دعبل سے کہا کہ وہ پیراہن ایک ہزار درہم کے بدلے فروخت کردے مگر دعبل نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اسکے بعد دعبل جب قم سے روانہ ہوا تو رات کی تاریکی میںکچھ عرب نوجوانوں نے اس پر حملہ کردیا اور اس سے حضرت امام رضا کا پیراھن چھین کر بھاگ گئے چنانچہ دعبل دوبارہ قم واپس آیا جہاں اس نے پیراہن کی واپسی کیلیے کوشش کی مگر اسے جواب دیا
گیا کہ وہ پیراہن اسے نہیںمل سکتا ہاں البتہ ایک ہزار دینار کی رقم واپس نہیں ہو سکتی دعبل نے ان لوگوںسے یہ تقاضا کیا کہ وہ اسے اس پیراھن کا کچھ حصہ ہی واپس کردیں جوانوںنے اسکی بات مان لی اور اسے پیراہن کا ایک حصہ واپس کردیا اور ساتھ ہی اسے ایک ہزار دینار بھی دے دیے اسکے بعد دعبل وطن روانہ ہوا جب وہ اپنے گھر پہنچا تو اسے پتا چلا کہ ڈاکووں نے اسکی عدم موجودگی میںاسکے گھر کا صفایا کردیا ہے اس صورتحال کے پیش نظر دعبل نے امام رضا کے عطا کردہ ایک سو دینا روالے سکے امام کے شیعوںکے ہاتھ فروخت کردیے دعبل نے ایک دینار سودینا ر کے عوض فروخت کیا
( کیونکہ اس پر حضرت امام رضا کا ااسم مبارک نقش تھا ).اور اس طرح اسے ایک سو دینار کے دس ہزار دینار مل گئے اس موقع پر دعبل کو یاد آیا کہ امام نے کیوں فرمایاکہ یہ سکے واپس مت کرو جلد تمھیںانکی ضرورت پڑ جائیگی کہتے ہیں دعبل کی ایک کنیز تھی جسے وہ بہت زیادہ چاہتا تھا اس کنیز کو کافی عرصے سے مرض چشم کا عارضہ لا حق تھا طبیبوں نے اسکی آنکھوںکا معاینہ کرنے کے بعد بتایا تھا کہ اس کی دائیں آنکھ قطعی طور پر لاعلاج ہے البتہ بائیں آنکھ کا علاج ہو سکتا ہے . اس خبر کی وجہ سے دعبل کافی مغموم تھا کہ اچانک اسے خیال آیا کہ حضرت امام رضا نے اسے جو پیراہن عطا کیا تھا اسکا ایک حصہ اسے واپس مل گیا تھا کیوں نہ اس مبارک پیراھن کو کنیز کی آنکھوں پر لگا کر شفالے لی جائے؟یہ خیال آتے ہی دعبل نے اس پیراھن کے ایک حصے میں سے رومال کے برابرکا ٹکڑا لیااور اسے کنیز کی دونوںآنکھوںپر ملا جسکی وجہ سے کنیز کی دونوں آنکھیںصیحیح ہو گئیں
ایک اور روایت میں شیخ صدوق نے نقل کیا ہے کہ احمد بن زیااد بن جعفر ھمدانی نے بتایا ہے کہ ہم نے علی ابن ابراہیم بن ھاشم اور اس نے اپنے جد سے اور انہوں نے عبد السلام صالح ہروی سے یہ روایت نقل کی ہے کہ میں نے دعبل بن خزاعی کو یہ کہتے سنا کہ میں حضرت اما م رضا کی شان میں ایک قصیدہ کہا جسکا پہلامصرعہ یہ ہے .
مدارس آیات خلت من تلاوة یقوم علی اسم اللہ والبرکات
اسکے بعد اس نے باقی قصیدہ سنایا او رجب وہ یہ اشعار پڑھ چکا کہ ؛
خروج امام لا محالہ خارج یقوم علی اسم اللہ والبرکات
یمیز فینا کل حق و باطل ویجزی علی النعماء و النقمات
یقینی طور پر اس امام کا ظہور ہو گا جوظاہر ہو کر قیام کرنے پر ناچار ہے وہ اللہ کے نام کے ساتھ تمام برکات اپنے ہمراہ لیکر آئیگا اور ہمارے درمیان حق کو باطل سے علیحدہ کرنے کے علاوہ ہر نیکی و بدی کی جزا و سزا دیگا جس نے بھی نیکی کی ہو گی اسے جزا گی اور جس نے بدی کی ہو گی اسے سزا دی جائیگی .
یہ اشعار سنکر حضرت امام رضا شدت سے گریہ فرمانے لگے پھر امام نے اپنا سر مبارک بلند فرما کر مجھے کہا کہ اے دعبل روح القدس نے تیری زبان سے دو ابیات کو جاری کرایا اور تم نے یہ بات کہہ دی۔
کیا تمھیں معلوم کہ وہ امام (عج ) جو ظہور فرمائیگا کو ن ہے اور کس زمانے میں وہ قیام فرمائے گا ؟خزاعی کہتا ہے کہ میں نے عرض کی مولا مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں سوائے اسکے کہ میں نے یہ بات سن رکھی ہے کہ آپ اہلبیت کے گھرانے سے ایک امام کا ظہور ہو گا جو روئے زمین پر چھا جانے والے فتنہ و فساد کا خاتمہ کر کے ارض خداوندی میں عدل و انصاف کا بول بالا کریگا . امام رضا نے فرمایا کہ اے دعبل وہ امام (عج ) میری اولاد میں سے ہو گا میرے بعد میرا بیٹا محمدتقی امام ہو گا اسکے بعد اسکا بیٹا علی ابن محمد النقی امام ہو گا اسکے بعد اسکا فرزند حسن عسکری امام ہوگا . اور حسن کے فرزند کا نام ( محمد ) ہو گا جو حجت قائم ( عج ) کے نام سے مشہور ہو گا اسکی غیبت کے زمانہ میں اسکا انتظار کیا جائیگا اور جب وہ ظہور فرمائیگا تو دو جہانوں پر اسکی اطاعت و فرمانبرداری واجب ہو گی اگر کائنات کے ختم ہونے میں صرف ایک دن باقی ہو کہ اللہ تعالی اس ایک دن کو اتناطویل فرمائے گا کہ وہ ظہور فرمانے کے بعد روئے زمین پر عدل و انصاف کو اسطرح غلبہ دلا سکے جس طرح ظلم و جور سے دنیا بھر چکی ہو گی . لیکن یہ واقعہ ظہور کس وقت رونما ہو گا ؟ یہ ویسا ہی سوال ہے کہ جیسا یہ پوچھا جائے کہ قیامت کب آئیگی ؟ اور میرے پدر بزرگوار نے اپنے آباء و اجداد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جناب رسولخداۖ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ آپ کی ذریت میں سے قائم آل محمد (عج ) کب ظہور فرمائیںگے تو آنحضور ۖ نے جواب میں فرمایا تھا کہ اسکی کی مثال یوم قیامت کی مانند ہے کہ جو کسی پر بھی آشکار انہیں سوائے اللہ تعالی کے کسی کو اس بارے میں علم نہیں یعنی جس طرح قیامت کا وقت کسی کو معلوم نہیں اسی طرح ظہور قائم (عج ) کا بھی کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کس وقت ظاہر ہونگے البتہ یہ حتمی امر ہے کہ وہ ضرور آئیںگے .
دعبل اپنے دور کے مشہور شاعر تھے جنکی شاعری کا ڈنکا چار سو بجتا تھا . وہ علم تاریخ اور انساب عرب میں بھی
مہارت تا مہ رکھتے تھے دعبل نے کمیت کے جواب میں بہت سے قصیدے لکھے مگر بعد میں معصومین کے روکنے کیوجہ سے اس سلسلے کو مزید آگے نہ بڑھایا دعبل نے اپنے دور کے عباسی حکام کی ہجو میں شعر کہے تھے جو آخر کا ر انکی شہادت کا سبب بنے .
دعبل کی شہادت
دعبل ستانوے سال اور چند ماہ کی عمر پا کر ظلم و ستم کا نشانہ بن گئے انہیں جابر حکمرانوں نے دو سو چھیالیس ہجری میں شھید کردیا بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے مالک بن طوق کی ہجو میں شعر کہے تھے جب اسکو علم ہوا تو اس نے دعبل کو طلب کیا دعبل وہاںسے بھاگ کر بصرہ آگئے بصرہ کے فرمانروا اسحاق بن عباس عباسی دعبل کی قبیلہ نزاد کی ہجو کو جانتا تھا اس نے انہیں گرفتار کر کے قتل کرنا چاہا مگر دعبل نے کہا میں نے یہ ہجو نہیں کی میرے دشمنوں نے میری خاطر یہ سازش کی ہے اس نے کہا اگر تجھے قتل نہ کروں تو رسوا ضرور کروں گا پھر انکو عصا سے اتنامارا کہ عصا ٹوٹ گیا پھر بے ادبی کرتا رہادعبل رہائی کے بعد اھواز کیطرف بھاگ گئے مالک بن طوق نے ایک زیرک شخص کو انکے قتل کی خاطر انکے پیچھے لگا دیا جسے اس نے دس ہزار درھم دیئے اس نے دعبل کو سوس کے قریبی گائوں میں نماز عشاء کے بعد پکڑ اا اور زھر آلود عصا سے انکی پشت پر مارا جسکی تاب نہ لا کر دعبل دوسرے دن چل بسے اور انہیں وہیں دفن کردیا گیا ( اغانی ص ٢٠٠۔ ٢٠، الغدیر ص ٢)
مصادر و ماخذتحقیق
(!) رجال کشی مصنف ابو عمر و محمد بن عمر بن عبد العزیز کشی طبع جامع مشھد ١٣٤٨
(٢)ترجمہ عیون اخبارالرضا مصنف شیخ صدوق محمدبن علی بن بابویہ قمی ترجمہ سید شبر رضا کاظمی منیر الحسن جعفری . طبع مکتبہ الرضا لاہور .
(٣) الغدیر مصنف علامہ عبد الحسین امینی طبع مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ ١٤١٦
(٥)اغانی مصنف ابو الفرج اصفہانی طبع اولی ٤٠٧ٍ١ دار الفکر بیروت
(٦) الکافی مصنف محمد بن یعقوب کلینی طبع مئوسسہ انصاریان فمن الکتب الاربعہ تنظیم صادق بزرگر بفروعی ١٤٢٨
(٦) مجالس المئومنین جلد ٢ مصنف علامہ قاضی نو اللہ شو شستری شھید طبع مکتبہ اسلامیہ طہران ١٣٦٥
(٧)اعیان الشیعہ جلد ١ مصنف سید محسن امین عاملی طبع دار التعارف بیروت ١٤٠٦
(٨) بحار الانوار جلد ٤٧ مصنف محمد باقر بن محمد تقی مجلسی ١١١١ طبع مکتبہ اسلامیہ طہران ١٤٠٤
(٩) تنقیح المقال ج ١٠ مصنف علامہ عبد اللہ مامقانی طبع مئو سسہ آل البیت لاحیا التراث قم ١٤٢٣
(١٠) المنجد ؛
بزم رأفت